No Download Link
Rate this Novel
Secde Episode 04
وہ اسحاق کے پاس آئے تھے…….
“ٹھیک ہے یہ۔۔؟” انہوں نے نیمل کو سوتا دیکھ کر پوچھا۔۔
“ٹھیک نہیں تھی لیڈی ڈاکٹر کو گھر بلایا تھا،بس سمجھو اللہ نے خیر کردی ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ رکے۔۔۔ “بخار چڑھ گیا تھا دوا دے کر سلایا ہے…”
ابراہیم نے بھی دل میں شکر ادا کیا……
“میں شاکڈ میں ہوں ابراہیم۔۔۔یہ کیسی تربیت کی ہے تم نے۔۔۔”
انکے لئے باپ کا پہلا جملہ ہی کاٹ دار تھا….
“بس اسی دن کی وجہ سے میں جینیفر سے تمھاری شادی کے خلاف تھا….”
وہ مچلے۔۔۔
“پاپا اس میں اسکی کیا غلطی ہے…؟”
“چپ کرو زیادہ حمایت نہ لو اسکی میں اسے غلط نہیں کہہ رہا۔۔۔وہ اچھی ہے لیکن وہ بچوں کی بنیادی تربیت کرنےسے محروم ہے۔۔۔۔خیر بے دین ماحول میں رہ کر اسکی اپنی تربیت نہیں ہو پائی تو بچوں کی کیا کرتی۔۔۔۔!!!!”اور جو میں نے تمہاری تربیت کی تھی وہ بھی بے کار گئی….”
ابراہیم اس وقت سننے کا حق رکھتے تھے…….
“آج سارا دن میرا دل و دماغ پریشان رہا ہے جو ہو گیا نہیں ہونا چاہیئے تھا۔۔۔ہم جیسے شریف گھرانے کیلئے باعثِ شرم ہیں ایسی باتیں ، میں سنتا تھا۔۔لیکن کیا پتا تھا کہ یہ شیطانی عمل میرے ہی گھر میں ہو جائے گا۔۔۔۔
اس بارے میں۔۔۔میں نے کافی سوچا ہے ان بچوں کو ساتھ ہی رہنا ہے تو ان حالات میں۔۔۔۔مجھے یہی مناسب لگا ہے کہ یوشع اور نیمل کا نکاح کر دیا جائے۔۔۔۔۔”
ابراہیم جو جھکے بیٹھے تھے یک دم سیدھے ہوئے…….
“پاپا یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ابھی بچے ہیں وہ۔۔”
“پر تمہارے بیٹے نے بچوں والی حرکت نہیں کی….!!!!”
“میں مانتا ہوں کہ اس سے غلطی ہو گئی ہے۔۔۔ لیکن مسئلے کا حل یہ تو نہیں۔۔”
تو تمھارے نزدیک اس مسئلےکا کیا حل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟ کیا تم گارنٹی دیتے ہو کہ آگے جاکے ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔۔؟”
وہ کیا جواب دیتے….کم از کم وہ یوشع کے بارے میں گارنٹی نہیں دے سکتے تھے……..
“تمھاری خاموشی نے جواب دے دیا ہے۔۔۔تمھارا لڑکوں والا گھر ہے….اور اب مجھے تمھارے کسی بچے پر اعتبار نہیں ہے…..”
ابراہیم تلملائے۔۔۔یہ ان کی تربیت پر حملہ تھا…..
“پاپا یہ زیادتی ہے۔” وہ کہے بغیر نہ رہ سکے..
“تو کیا یہ زیادتی نہ ہوگی کہ تمھارےبچے۔۔۔۔بے نتھے بیلوں کی طرح اس یتیم بچی کو روندتے ہوئے گزر جائیں۔۔؟؟
میں اس بچی کا مستقبل محفوظ کر دینا چایتا ہوں۔۔۔تمہیں ذرا خیال نہیں ہے اسکا۔۔۔؟”
اسحاق کے آخری جملے نے ابراہیم کو دباؤ میں لیا تھا…….
وہ اپنے باپ کے اندیشوں کو سمجھ رہے تھے۔۔۔۔
“پاپا مجھے خیال ہے اسکا….
میرے عزیز ترین بھائی کی بیٹی ہے وہ۔۔۔اور اگر آپ کو کوئی شک ہے تو میں زید سے اسکا نکاح کرادوں گا۔۔۔۔یوشع سے نہیں، آپ نہیں جانتے وہ بہت مختلف ذہن کا بچہ ہے…..وہ نیمل کے لئے ٹھیک نہیں ہے…..”
اسحاق ٹھٹکے۔۔
“میں تم سے کہیں زیادہ بہتر جانتا ہوں کہ وہ مختلف ذہن کا بچہ ہے..پر تم کب سمجھ پاؤ گے کہ اسکی تربیت بھی مختلف طریقے سے ہی ہونی چاہیئے۔۔۔اور نیمل۔۔۔۔اس حادثے کے بعد تمہیں لگتا ہے کہ وہ کہیں اور صحیح طریقے سے رشتہ نبھا پائے گی۔۔؟
اور کل کو زید کو یہ بات پتہ چلتی ہے تب بھی مسئلہ خراب ہوسکتا ہے۔۔۔۔”
اسحاق نے خدشہ ظاہر کیا….
“ہوں۔۔۔اگر یہ بات ہے تو میکائیل سے کردیں وہ بہت سمجھ دار ہے……”
ابراہیم کی بات پر وہ سوچنے لگے…..
“ہوں۔۔۔۔میکائیل نہیں وہ نیمل سے کافی بڑا ہے اور۔۔۔۔آخر میری… بات ماننے میں کیا قباحت ہے۔ تم بات لمبی کیوں کررہے ہو۔۔۔؟”وہ مسلسل اپنی بات کے رد کئے جانے پر زرا جھنجھلا کر بولے۔
ابراہیم کو اسوقت وہ اپنا عکس لگ رہے تھے…
ابراہیم جز بز تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسوقت وہ۔۔۔نہ اپنے باپ کی نافرمانی کرکے ان کا دل دکھانا چاہ رہے تھے اور نہ ہی ان کا فیصلہ قبول کرکے نیمل کا مستقبل خراب کرنا چاہ رہے تھے۔۔۔۔۔
“پاپا۔۔۔سوچیں اگر انہوں نے بڑے ہوکر اس رشتے کو قبول نہ کیا تو۔۔۔پھر کیا مستقبل ہوگا ان کا۔۔”
“پھر تم ماں باپ بنے کیوں بیٹھے ہو۔۔۔بچوں کو صحیح بات بتانا تمھاری ذمہ داری ہے…… کیا تمھیں ہر بات کھول کھول کر سمجھانی پڑے گی۔۔۔؟”
ابراہیم آنکھیں بند کئے رہ گئے انکو اسحاق اپنے مؤقف سے ہٹتے نظر نہیں آرہے تھے……
“اور جینیفر۔۔۔پتا نہیں کیا کہے گی ۔۔؟”
“کیا کہے گی۔۔۔اپنے ارمان نکالنے کے لئے اسکے پاس تین بیٹے اور ہیں۔” اسحاق نے لا پرواہی سے کہا…”
اب کے ابراہیم خاموش ہوگئے۔۔۔
اسوقت نکاح جیسے کام کو سر انجام دینے کے لیے اسحاق کے پاس ہر سوال کا جواب تھا۔۔۔۔۔
اور پھر خاموشی سے ان کا نکاح کردیا گیا تھا۔۔۔
نیمل کا تو پتا نہیں لیکن۔۔۔۔۔ یوشع جیسا ذہین ترین بچہ چاہے اس رشتہ کی گہرائی کو نہ سمجھتا ہو لیکن وہ اس رشتے سے جڑے نام سے ضرور واقف تھا جس کا نام نیمل تھا۔۔۔اور اب وہ اسکی منکوحہ تھی۔۔۔۔
٭٭٭٭
ہر واقعہ سبق سکھاتا ہے۔۔۔۔
اور اس واقعہ سے یوشع نے دو سبق سیکھے تھے۔۔۔
ایک۔۔۔لڑکی کے پیچھے نہیں لگنا۔۔۔بلکہ اسے اپنے پیچھے لگانا ہے۔۔۔۔۔
دوسرا۔۔۔سچ نہیں بولنا۔۔۔۔۔
جینیفر کو آتے ہی اس معاملے کی خبر ہوگئی تھی۔۔۔وہ بس سن سی رہ گئی تھی اسکے علاوہ وہ کیا ری ایکٹ کرتی۔۔۔
اسحاق نے اپنی بات تو پوری کر لی تھی لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ اب یوشع سب کو کتنا زچ کرنے والا تھا۔۔
٭٭٭٭
ان تینوں کو ایک ہی اسکول میں سیکنڈ سمیسٹر سے پہلے داخل کروایا گیا تھا۔۔۔۔۔
یہاں آنے کے ٹھیک ایک ہفتے کے اندر یوشع سب ٹیچرز کی نظر میں آچکا تھا۔۔۔۔۔
وہ کسی بھی غلطی یا ہچکچاہٹ کے بغیر اپنا ورک کرتا۔۔۔
یہاں کی پڑھائی کم ازکم یوشع کے لئے حلوہ ثابت ہورہی تھی۔۔
٭٭٭٭
“میں پیچھے بیٹھوں گا…”بڑے شاہانہ انداز میں بلیک بیگ اپنے بائیں کندھے پر لٹکائے یوشع نےفتویٰ جاری کیا…….
تمھیں پتہ ہے ناں کہ ڈیڈ نے منع کیا ہے۔۔۔کہ تم پیچھے نہیں آگے بیٹھو گے اور۔۔۔۔ میں نیمل کے ساتھ پیچھے بیٹھوں گا……”
“ہاں۔۔۔یوشع بابا،،، صاحب کو پتا چلے گا تو وہ بڑے ناراض ہوں گے….اس لئے جلدی کرو دیر ہو رہی ہے..”
ڈرائیور اکرم نےبھی اکتاہٹ سے کہا….
وہ ڈھیٹ بنا کھڑا رہا جیسے سنا ہی نہ ہو…..
نیمل۔۔۔گاڑی کی دوسری طرف کھڑی حیرانی سے یہ تماشا دیکھ رہی تھی….
زید۔۔۔یوشع کی خاموشی سے جیسے چڑا تھا۔
“یوشع۔۔۔تم سن رہے ہو….بیٹھو۔۔۔۔ہمیں دیر ہورہی ہے۔۔۔”زید نے اسکے بیگ پر ہاتھ رکھتے اسے آگے کرتے کہا۔۔پر۔۔۔۔۔وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اوکے۔۔۔۔۔نیمل۔۔۔تم آگے بیٹھو۔۔۔”زید نے فیصلہ کرتےاسے حکم دیا۔۔۔
اور نیمل نےروبوٹ کی طرح قدم بڑھائے تھے۔۔
تبھی اس نے زور سے اگلے دروازے پر ہاتھ مارا تھا۔۔۔۔۔۔
“یہ۔۔۔۔میرے ساتھ پیچھے بیٹھے گی۔۔۔”یوشع نےجیسے فیصلہ سنایا…….
“نیمل۔۔۔تم آگے بیٹھو…….”
وہ بھی جیسے ڈٹ گیا…….اسے اپنے باپ کی بات کو اوپر رکھنا تھا….
یوشع نے باری باری ان دونوں کو دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔
“دفع ہو جاؤ۔۔۔۔”
وہ دھاڑتا۔۔۔۔اپنابیگ اوپن ونڈو سے اندر پھینکتا آگے کی طرف قدم بڑھا گیا۔۔۔۔۔۔
ان تینوں میں صرف ڈرائیور حواس باختہ ہوا تھا اسے آگے جواب دینا تھا۔۔۔۔۔۔
“یوشع۔۔۔رکو۔۔۔”زید ناگواری سے چلایا۔۔۔۔۔
“یوشع بابا۔۔۔۔رکیں۔۔۔صاحب ناراض ہوں گے….”
پر وہ سن کب رہا تھا..
“کیا کروں۔۔۔؟”بیچارا اکرام عجیب مصیبت میں آیا تھا….
“زید بابا۔۔۔روکیں اسے۔۔۔صاحب مجھ پر غصہ کریں گے۔۔۔انکو تو راستہ بھی نہیں آتا۔۔۔”
فکر نہ کریں۔۔۔۔اسکو جہنم تک بھی جانے کا راستہ آتا ہے۔۔۔یہ تو صرف اسکول سے گھر تک کا راستہ ہے…..آپ چلیں۔۔۔”وہ کہتا آرام سے گاڑی میں بیٹھ گیا…اسے کوئی ٹینشن نہیں تھی۔۔۔۔
اسکے بیٹھتے ہی نیمل بھی سکون سے بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔
گھر آکر زید نے ساری روداد ماں کو سنا دی تھی۔۔۔اب ٹینشن لینے کی باری ان کی تھی۔۔۔
تقریبا دو گھنٹے خود کو تسلی دیئےوہ اسکا انتظار کرتی رہیں۔۔۔۔
تیسرا گھنٹہ ہونے کے قریب جینیفر کی حالت پتلی ہونا شروع ہوگئی تھی انکے ہاتھ پاؤں کانپنا شروع ہو گئے تھے اور دل بے وزن ہورہا تھا۔۔۔تبھی انہوں نے ابراہیم کو فون کیا تھا۔
پوری بات سننے کے بعد اب پریشانی ابراہیم کے سر جا چکی تھی۔۔۔
“تھوڑا انتظار کرو۔۔۔۔”
ابراہیم نے تنے اعصاب سے مشورہ دیا..
فی الحال وہ ماں باپ بہت بری طرح ذہنی دباؤ میں آگئے تھے۔۔۔۔ان دونوں کو ہی اپنے دل کٹتے محسوس ہورہے تھے اور وہ انہیں دانتوں تک پریشان کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔۔۔۔۔
ادھر جینیفر۔۔۔۔۔اکرام کو اچھا خاصا سنا چکی تھیں۔
زید کو بھی رگڑے میں لے لیا تھا۔۔
نیمل لا تعلق سی کھڑی تھی تو اسحاق پریشان زدہ چہرہ لئے صوفے پر بیٹھے تھے۔۔۔۔۔۔
“مام۔۔۔۔مجھے کچھ نہ کہیں وہ بچہ نہیں ہے جسے میں گود میں اٹھا کر لے آتا۔۔۔”زید
نے تنک کر کہا….
ادھر ابراہیم کی پریشانی بڑھتی جا رہی تھی۔
وہ جانتے تھے کہ اسے راستہ آتا ہے پیدل چلنے کے باوجود بھی اسے کافی دیر پہلے گھر پہنچ جانا چاہیئے تھا…….
“وہ کہیں اور تو نہیں نکل گیا۔۔؟؟”
خیال آتے ہی انکا دل باہر نکلا تھا…..
ساڑھے پانچ گھنٹے گزر گئے تھے جینیفر کا رو رو کر برا حال ہو گیا تھا….ساڑھے چھ گھنٹے بعد بلآخر ابراہیم نے اپنی دکھتی ابھری کنپٹی کو انگلی سے مسلتے پولیس کو کال کرنے کا فیصلہ کیا تھا…..
تبھی جینیفر کی کال آئی تھی کہ یوشع گھر واپس آگیا ہے۔۔۔۔۔
وہ سر تھامے رہ گئے تھے۔۔۔
بلڈ پریشر کی سوئیوں کی طرح انکی ٹینشن نیچے آئی تھی۔۔۔۔
انکو آج احساس ہوا تھا کہ جب وہ خود ایسی حرکت کرتے ہونگے تو اسحاق پر کیا گزرتی ہوگی۔۔۔۔۔
انکی نظر میں باپ کا مقام بڑھا تھا۔۔۔اور اپنے بیٹے کا مقام گرا تھا۔۔۔۔۔
٭٭٭٭
ابراہیم اس سے آج اسکی اس حرکت کے بارے میں باز پرس کررہے تھے۔۔۔۔
پر وہ لاپرواہ سا خاموش کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔
ابراہیم اسکی خاموشی پر تاؤ کھا کر رہ گئے تھے۔
ڈانٹ اور مار اس کیلئے ٹافی کی طرح تھی۔۔۔
انہیں صاف محسوس ہوا تھا کہ اس نے یہ حرکت جان بوجھ کر کی ہے۔۔مگر وہ خوش تھا۔۔۔
انکو وہ غصہ دلانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔۔۔
٭٭٭٭
اس واقعہ کے ٹھیک تین دن بعد اس نے ایک حرکت اور کی تھی۔۔۔
اپنا سامان سمیٹ کر وہ اسماعیل کے کمرے میں شفٹ ہوگیا تھا۔۔۔
نہایت ہی غیر مناسب اور تکلیف دینے والی حرکت کی تھی اس نے۔۔۔۔
جینیفر نے اسے فوراً منع کیا تھا ، اسے خود اسکی یہ حرکت پسند نہیں آئی تھی۔۔۔۔۔۔
“کیا مسئلہ ہے تم زید کے ساتھ رہ تو رہے ہو۔۔۔۔!!”
جینیفر بولی تھیں۔۔۔۔۔۔
“اب سے میں یہاں رہ رہا ہوں۔۔۔۔۔”
جتانے والے انداز میں کہہ کر وہ اپنے کام میں لگ گیا۔۔۔۔
جینیفر کو یک دم اپنا بھائی یاد آیا تھا۔۔۔۔وہ بھی ایسا ہی تھا۔۔۔۔۔۔ہاں یہ اس پر چلا گیا تھا۔۔۔۔
دلگرفتگی سے وہ سوچتی باہر نکل گئی۔۔۔۔
اور یہ بات سب سے پہلے زید نے ہی باپ کو بتائی تھی۔۔۔۔نا محسوس انداز میں زید میں چغل خوری جھوٹ اورحسد جیسی عادت پیدا ہوتی جارہی تھی۔۔۔۔۔
اور یہ بات ابراہیم کے ذہن میں آ ہی نہیں رہی تھی بلکہ وہ اسی کی فراہم کردہ رپورٹ پر آگے بات کرتے تھے۔۔۔
نا محسوس انداز میں اکثر والدین اس احساس سے بے پرواہ ہوتے ہیں۔۔۔
بہن بھائیوں کی آپس کی چغل خوریاں کافی مسائل پیدا کرتی ہیں۔۔۔
اپنے بچوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ جس بات سے آپکے بہن بھائیوں کو نقصان پہنچنے کا ڈر ہو وہ بات ضرور والدین کو بتائیں ، مگر غیر ضروری چغل خوریوں سے پرہیز کریں۔۔اور والدین بھی ان چغل خوریوں کو بنیاد بنا کرکبھی بھی اپنے ایک بچے کے سامنے دوسرے بچے کی انسلٹ نہ کریں ایسے میں بچوں کے دلوں میں رقابت ، حسد اور بدلے جیسے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔۔
اور زید باپ کی اسی شے پر آدھے سچ میں آدھا جھوٹ ملا کر پیش کرتا تھا۔۔۔۔
اور یوشع کو جب ڈانٹ پڑتی۔۔۔۔اسکو عجیب سی خوشی ملتی وہ اسے اپنا بھائی نہیں حریف سمجھ رہا تھا۔۔۔
ابراہیم یہ بات سن کر غصے میں آئے تھے۔پر انکو اس سے بات کرنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔۔۔۔۔
ایسے میں اسحاق سے انکی مڈ بھیڑ ہوگئی تھی۔
“پاپا۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں یوشع کی اس حرکت پر بہت شرمندہ ہوں….”وہ باپ کے کچھ پوچھنے سے پہلے ہی بول پڑے۔۔۔۔۔
“کون۔۔۔۔۔سی حرکت۔۔۔۔؟اسماعیل کے کمرے میں شفٹ ہونے والی۔۔۔۔۔۔؟؟”
اسحاق نے چائے کی پیالی سے نظر ہٹا کر کہا…..
“جی۔۔۔۔۔۔”وہ ہولے سے بولے ۔
“اس نے اچھا کیا ایک غیر آباد جگہ کو آباد کر دیا……” اسحاق نے آرام سے جواب دیا……
“پاپا۔۔۔۔۔!!! یہ غیر اخلاقی حرکت ہے اس کمرے پر نیمل کا حق تھا…..اور وہ بچی چھوٹی ہے کچھ کہتی نہیں ، پر محسوس تو اس نے کیا ہوگا۔۔۔۔”ابراہیم واقعی اس بات سے اپ سیٹ ہوئے تھے۔۔۔
“یوشع جہاں جائے گا نیمل کا حق بھی وہیں ہوگا۔۔۔۔”اسحاق نے گویا بات ہی ختم کر دی تھی…..
ابراہیم نے صحیح سمجھا تھا۔۔۔۔۔نیمل نے بھر پور طریقے سے اس بات کو محسوس کیا تھا…..وہ اسکو ویسے ہی زہر لگتا تھا اب وہ اسکے لئے قابلِ نفرت تھا کہ اس نے اس خوبصورت گھر کے سب سے خوبصورت کمرے۔۔۔یعنی اسکے ماں باپ کے کمرے کو چھینا تھا…….
چھوٹا سا دل ٹوٹا تھا کہ آنکھ سے آنسو رواں ہوئے تھے۔۔۔۔۔کہ گھر میں کسی بڑے نے اسے کچھ نہیں کہا تھا…….
کہہ تو وہ بھی اسے کچھ نہیں سکتی تھی۔
کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔؟
کیونکہ وہ اس سے ڈرتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکے دل نے نفرت کی بڑی بری کروٹ لی تھی۔۔۔۔
٭٭٭٭
وہ اکرام کے کوارٹر کی بیرونی دیوار کے ساتھ کھڑا سگریٹ کا کش لگا رہا تھا۔۔
اسکی سرخ ہوتی آنکھوں اور کھانستے وجود سے محسوس ہورہا تھا کہ اسنے یہ مشغلہ نیانیا شروع کیا ہے۔۔۔
“تم سگریٹ پی رہے ہو۔۔۔؟؟؟”زید نے چھاپا مار کر حیرت کے مارے باقاعدہ چیختے ہوئےکہا۔۔۔۔
وہ اپنا راز افشاں ہونے پر ذرا نہیں گڑ بڑایا تھا۔۔
“نہیں۔۔۔۔۔۔میں گھاس کاٹ رہا ہوں۔۔۔۔”سکون سے جواب دے کر پھر سے کش لگایا……
زید آج واقعی حیران رہ گیا تھا وہ کیسے پی رہا تھا……
“یہ تمھارے پاس کہاں سے آئی۔۔۔؟”
یوشع نے نظر اٹھا کر اسے ایسے دیکھا جیسے یہ بچکانہ سوال وہی کر سکتا تھا…..
“نہ بتاؤ۔۔۔۔۔اب تو میں ڈیڈ کو بتاؤں گا۔۔۔۔۔تُو تو گیا بیٹا۔۔۔۔۔۔”
زید اسے ڈراتے ہوئے بولا…..
وہ پرسکون تھا۔۔۔۔دھمکی ملنے پر بھی…..
٭٭٭٭
وہ اپنا آفس بیگ لئے بچوں کے ساتھ ہی باہر نکل رہے تھے تبھی زید نے باپ کو اسکی سگریٹ کی بات بتائی تھی……
انکے چلتے قدم یک دم تھمے تھے بھنویں سوال زدہ تھیں…..
انہوں نے یوشع کی طرف دیکھا جو سپاٹ چہرہ لئے کھڑا تھا……
“کیا یہ سچ ہے۔۔۔۔۔۔۔؟”
“یہ جھوٹ بول رہا ہے…” آرام سے جواب دیا…
تبھی ابراہیم نے زید کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ڈیڈ میں سچ کہ رہا ہوں ، میں نے اسکو کافی دفعہ سگریٹ پیتے دیکھا ہے ، میں نے اسے منع بھی کیا تھا۔۔۔۔۔۔”
اس نے ہمیشہ کی طرح کم سچ میں زیادہ جھوٹ ملا کر پیش کیا…….
انھوں نے غصے سے یوشع کی طرف دیکھا….
“ڈیڈ کیا ثبوت ہے اسکے پاس۔۔۔۔۔۔؟ایسے میں بھی اس پر الزام لگا سکتا ہوںپر اس کیلئے ثبوت چاہیئے…..”
“شٹ اپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زیادہ وکیل بننے کی ضرورت نہیں ہے…..اگر یہ بات میں نے دوبارہ سنی نا تو تمھارے حق میں اچھا نہیں ہوگا…”
وہ انگلی اٹھا کر اسے تنبیہہ کرتے آگے بڑھ گئےکیونکہ صبح ہی صبح وہ اپنا ٹائم اس پر ضائع نہیں کرسکتے تھے۔۔۔۔۔۔
آگے بڑھتے زید نے اسے الٹے انگوٹھے کا اشارہ دکھایا تھا۔۔۔۔۔۔
٭٭٭٭
