Secde - Phycological Thriller -The Dangerous Journey from Pride to Punishment readelle50003 Secde Episode 07 The Forbidden Descent
No Download Link
Rate this Novel
Secde Episode 07 The Forbidden Descent
اور پھر تقریباً دوسال بعد اسکی آزادی کا پروانہ جاری ہوا تھا…….
تیرہ سال کے یوشع نے اپنے باپ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا……
یہ فیصلہ ایک باپ نے اپنے بیٹے سے محبت میں آ کر لیا ضرور تھا ، لیکن یوشع اولاد کے مقام سے ہٹتے ہی ابراہیم کے دل سے اترا تھا۔۔۔
وہ نہیں جان پایا تھا کہ وہ ایسی نافرمانیاں کرتے ہوئے ان کی محبت اور شفقت سے دور ہوگیا تھا۔۔۔۔۔پر۔۔۔۔وہ خوش تھا۔۔۔۔۔۔
اور دوسرا جس نے یہاں سکون کا سانس لیا تھا وہ نیمل تھی۔۔۔۔۔
ایک بلا اسکے سر سے اتری تھی۔۔
٭٭٭٭
اپنی پڑھائی۔۔۔کار ڈیزائنگ اور فلز کے بعد کبھی کبھی اسے لگتا اسکی لائف خالی ہے۔۔۔
گھر والے اسکے لئے کبھی اہم تھے ہی نہیں۔۔۔۔
اب اسے کسی اور مزے کی تلاش تھی۔۔۔۔۔
اور اسی خالی پن نے شیطان کو اسکی زندگی میں داخل کیا تھا۔۔۔
وہ زیادہ تر فلز کے گھر میں ہی پایا جاتا تھا۔۔۔۔
ابھی بھی وہ ڈائیننگ ایریا میں داخل ہوا تھا کہ اس نے ڈیوڈ (فلز کی مام کا بوائے فرینڈ )کو ڈائیننگ چیئر پر بیٹھے ہوئے دیکھا۔۔۔
وہ خاموشی سے اسکے سامنے آکر بیٹھ گیا تھا پر ڈیوڈ نے اسکی آمد کو محسوس ہی نہیں کیا تھا۔۔
اسکی ساری توجہ وائن پینے پر تھی۔۔۔
وہ آدھا گلاس بھرتا اور پی لیتا۔۔۔
یوشع اشتیاق سے اسے دیکھ رہا تھا فی الحال اسے یہ منظر دلچسپ لگ رہا تھا۔۔
اپنا دوسرا گلاس ختم کرتے۔۔۔ڈیوڈ کی نظر۔۔۔یوشع پر پڑی تھی۔۔۔کتے جیسی آنکھیں سکڑی تھیں۔۔۔اسکے اندر کا شیطان سامنے بیٹھے شیطان کو پہچان رہا تھا۔۔۔۔۔۔
“Drinking less is not fun at all. Drinking more is more fun…”
(کم پینے سے مزہ آتا ہی نہیں۔۔۔زیادہ پینے سے زیادہ مزہ آتا ہے )
وہ خباثت سے مسکراتے اسے اکسا رہا تھا۔۔۔بتا رہا تھا۔..یا مطلع کر رہا تھا……
لیکن اسکا پیغام۔۔۔۔سامنے بیٹھے شیطان کو پہنچ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسکے سامنے ڈرنک کرتے کرتے مدہوش ہوا تھا اور پھر زیادتی کی وجہ سے وہیں ٹیبل پر سر گرائے بے خود ہو گیا تھا۔۔۔
وہ حیران تھا کہ “ڈرنک ایسا کیسے کرسکتی ہے کہ سارے حواسوں کو ختم کرکے وہ بے سدھ کر دے اور پی کر آخر محسوس کیا ہوتا ہوگا؟”
پھر۔۔۔اسی تجسّس میں اس نے ایک دن یہی قدم اٹھایا تھا فلز کا گھر زیادہ تر خالی رہتا تھا…..
وہ ڈرنک کی بوتل اور گلاس کو لئے ڈائننگ پر بیٹھ گیا تھا….
لاشعوری طور پر وہ کنفیوز بھی تھا……
پھر اس نے ایک گھونٹ گلاس میں ڈالا
نتھنوں کے قریب کئے اسکی سمیل کو سونگھا…..
یک دم گلاس پیچھے کیا اسکی سمیل اسے کچھ خاص پسند نہیں آئی تھی……
اس نے گلاس کو دیکھا اور اندر ہی اندر ایک اکساہٹ سی پھر پیدا ہوئی۔۔۔
شاید پینے میں بہتر ہو۔۔۔۔۔
اس نے چھوٹا سا سپ لیا اور برا سا منہ بناتے گلاس رکھ دیا۔۔۔۔۔
اسے اس کا ذائقہ بھی بے کار لگا تھا۔۔۔۔۔۔
“مجھے اسکا ٹیسٹ اچھا کیوں نہیں لگا، ڈیوڈ کو یہ اتنی کیوں پسند آرہی ہے…؟”
اور پھر اس ” کیوں” نے کام کیا تھا…!!
اس نے گلاس اٹھاتے جلدی سے گھونٹ بھرا
اب وہ انتظار میں تھا کہ کچھ ہوگا۔۔۔۔۔پرنہیں شاید تھوڑی اور پینے سے کچھ ہو..”
اور ایسا کرتے کرتے اس نے آدھا گلاس پی لیا تھا
چند لمحے بعد اسکا سر چکرایا تھا…..
“اوکے۔۔۔کچھ ہورہا ہے..” اس نے خود کلامی کی..
پر۔۔۔آگے جاننے کیلئے وہ اپنے آپ کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہا تھا……
سامنے کا منظر گھومنے لگا تھا……
سمجھ نا سمجھی میں جا رہی تھی….
اور پھر مزید۔۔۔کچھ سوچنے سے پہلے ہی ٹیبل پر دھرے اسکے بازو پر اسکا سر گرگیا تھا…..
٭٭٭٭.
اسے کوئی جھنجھوڑ رہا تھا ہلکی ہلکی کھلتی آنکھوں سے اسنے فلز کودیکھا تھا اپنے سر کو اٹھاتے اسنے اپنی بہنے والی رال کو ھاتھ سے صاف کیا۔۔۔جیسے گہری نیند سے جاگا ہو….
پھر آنکھوں کو مسلتے اس نے گھڑی میں ٹائم دیکھا وہ حیران ہوا وہ تین گھنٹے سے ایسے ہی بے سدھ پڑا تھا……
حیرت تھی اسکا سر بھاری نہیں ہورہا تھا۔
اسے یہ تجربہ برا نہیں لگا تھا……
وہ شجر ممنوعہ کے سائے تلے ایک اور مزے دار پھل کا ذائقہ چکھ چکا تھا۔۔اسکا ذائقہ بھی اسے پسند آیا تھا……..
٭٭٭٭
وقت گزر رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اس نے اپنا پہلا آئی کیو ٹیسٹ دیا تھا اپنے والدین کو بتائے بغیر۔۔۔۔۔۔۔
کامیابی اسکا مقدر بنی تھی وہ پہلے ہی اپنی زہانت اور روڈنیس کی وجہ سے نمایاں تھا۔۔۔۔۔۔
اس ٹیسٹ کے بعد وہ اپنے اسکول اور حلقہ احباب میں پاپولر ہوچکا تھا۔۔۔۔۔
ہر کوئی اسکی ذہانت کے گن گا رہا تھا۔۔۔۔۔
اور یہی وقت تھا ہر لڑکی نے اس میں دلچسپی لینا شروع کی تھی۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے گولڈن شیڈڈ بالوں کے ساتھ سحر انگیز تھا۔۔۔۔۔۔
صنف نازک کو اپنے پیچھے کیسے لگانا ہے یہ بات وہ کب بھولا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ ان سے جتنا دور ہوتا لڑکیاں اتنا ہی قریب ہوتیں۔۔۔۔۔۔
اور پھر نائٹ کلبز اور ریڈ ایریا تک اسکی رسائی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
وہ عجیب عادت کا مالک تھا وہ زندگی کا ہر مزہ لینا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔
اسکی زندگی میں کچھ بھی ختم نہیں ہونے والا تھا۔۔۔۔۔
وہ اپنی ساری ایکٹیویٹیز گھر سے باہر رکھتا تھا اس لئے ابھی تک وہ گھر والوں کی نظر میں نہیں آیا تھا۔۔۔۔۔۔
عین شباب میں اس نے ڈیریئر نام کا گینگ جوائن کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
یہ گینگ ہیومن تھریڈ کے نام سے اپنی پہچان رکھتا تھا۔۔۔۔۔۔
اور یہ گینگ پولیس سے چھپ کر بڑی ہی خاموشی سے اپنی کاروائیاں کرتا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ ڈیئر کے چیلنج کرتے جسے پورا کرنا ضروری تھا۔۔۔۔۔
اس گینگ کے لوگوں نے مردہ بن کر بھی لوگوں کو ڈرایا تھا۔۔۔۔۔۔
چند لوگ تو ہارٹ فیل ہونے کے قریب تک ہوگئے تھے ان کی حالتوں پر وہ سب پاگلوں کی طرح ہنستے تھے۔۔۔
لوگوں کو ڈرا کر مینٹلی ٹارچر دے کر پتا نہیں انہیں کیسی تسکین ملتی تھی۔۔۔
یوشع کو ایک آدھ بار سے زیادہ اس میں مزا نہیں آیا تھا۔۔۔۔
“بھلا۔۔۔اندھیرے موت لاش اور قبر کو دیکھ کر آخر لوگ اتنا ڈر کیوں جاتے تھے۔۔”اسکے نزدیک
یہ اسٹوپڈ تھا بے کار تھا……
یہاں ڈرگز کا آزادانہ استعمال ہوتا تھا……..
کچھ ڈرگز وہ بھی چکھ چکا تھا….
کاسٹن(گروہ کے لیڈر ) نے اسے ڈیتھ ایکسپلوزن کا چیلنج دیا تھا……
اب تک اس نے ایسی کسی ایکٹیویٹی میں حصہ نہیں لیا تھا یہ اس کیلئے نیا تھا……..تو۔۔۔۔۔اسے یہ پکا کرنا تھا………
فلز ہمیشہ اسکے ساتھ ہوتی تھی…….
وہ معمولی چیلنج سمجھ رہی تھی……
لیکن جب کاسٹن نے بہترین ڈرگز کی ہیوی ڈوز اسکے سامنے رکھی تبھی وہ حواس باختہ ہوئی تھی۔۔۔اور ڈرگز استعمال کرکے فل اسپیڈ میں گاڑی دوڑاتے اسے مطلوبہ مقام تک پہنچنا تھا۔۔
“نو۔۔۔۔وے یوشع۔۔۔یہ پاگل پن ہے تم ایسا کچھ نہیں کروگے….”
“لگتا ہے تمھاری گرل فرینڈ ڈر رہی ہے…” کاسٹن نے دانت نکال اسکا تمسخر اڑایا……
“ہاں میں ڈر رہی ہوں اتنی ہیوی ڈوز لے کر وہ کیسے پہنچے گا….؟اسکی جان جاسکتی ہے۔۔”
وہ جیسے پھٹی تھی….
کچھ بھی تھا یوشع اس کیلئے خاص تھا…..
“یہی توچیلنج ہے۔۔۔۔تم پر بہت پیسے لگ چکے ہیں یوجیوش بوائے…”
کاسٹن نے اسے اکساتے ہوئے جتایا تھا…..
“نو۔۔۔۔۔یوشع تم چلو یہاں سے۔۔۔”
وہ اسکا بازو پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے بولی…..
اس نے جھٹکے سے اپنا بازو اسکی گرفت سے آزاد کروایا تھا۔۔۔۔۔۔
پھر کاسٹن کی طرف دیکھا وہ سمجھ چکا تھا۔ اس نے ڈرگ اسکے آگے کی۔۔۔۔
اسکے استعمال کے بعد ہی اسکی آنکھیں سرخ ہوچکی تھیں۔۔۔
“یوشع نو۔۔۔۔تم مر جاؤ گے یا پھر پیرالائیز….”
فلز نے اسے ڈرایا…..
وہ اسے سن کب رہا تھا…..
عجیب وحشت سی پیدا ہوگئی تھی اس میں۔۔۔ تھوڑی دیر بعد ہی وہ اسے پرے کرتا ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
سب شور مچا رہے تھے وہ بیچاری الگ ٹینشن میں تھی۔۔۔
“م اگر ابھی گاڑی سے نہ اترے تو میں تمہارے ڈیڈ کو بتا دوں گی۔۔۔۔”
اس شور میں اس نے دھمکی دی تھی۔۔۔۔
اس نے صرف ایک نظر اسے دیکھا تھا اور پھر چابی گھما کر گاڑی اسٹارٹ کردی تھی۔۔
تھوڑی دیر بعد ہی نشہ اس پر ہاوی ہورہا تھا۔
اسکے ساتھ مقابلہ والی گاڑیاں کبھی آگے تو کبھی پیچھے ہورہی تھیں پر اسکی گاڑی تیزی میں تھی۔۔۔۔
اسکا دماغ ہلنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔۔
اسے اپنے آپ کو قابو میں رکھنا آتا تھا۔۔
لیکن۔۔۔نشہ میں چور ہلکی سی پلکیں ایک دوسرے میں ملیں تھیں اور اسکی گاڑی بے قابو ہوئی تھی۔۔۔
بریک پر پاؤں پڑتے ہی گاڑی جھٹکا کھا کر تین کلا بازیاں کھاتی الٹ گئی تھی یہ عام روڈ نہیں کھلی جگہ تھی۔۔۔
وہ آنکھیں کھولنا چاہتا تھا لیکن اسکا ذہن تیزی سے تاریکی میں ڈوب رہاتھا۔۔۔۔
دوسری گاڑیاں حادثے سے پہلے ہی بریک مار چکی تھیں۔۔۔۔۔۔
کون جانتا تھا اتنا بہترین ذہن رکھنے والا لڑکا کیا کرتا پھر رہا تھا۔۔۔۔۔
اسے خود نہیں پتا تھا کہ اسکا ایڈونچر اس کیلئے کیا لائے گا۔۔۔۔۔
شاید موت یا پھر عمر بھر کی معذوری۔۔۔۔۔۔
٭٭٭٭
کسی کی بدقسمتی تھی کہ وہ بچ گیا تھا اور اس کی خوش قسمتی تھی کہ وہ سیریس انجرڈ نہیں ہوا تھا……
ٹانگ پر پلستر تھا کچھ پسلیوں اور سر پر چوٹیں آئی تھیں…….
گرینی(نانی )نے اسکا ہاسپٹل کا بل پے کیا تھا۔
فلز اسکے ساتھ ہی تھی…….
آخر کار گرینی نے ابراہیم کو اسکے ایکسیڈنٹ کے بارے میں بتا دیا تھا…….
وہ دونوں پہلی فرصت میں پہنچے تھے بے حد ناراضگی کے باوجود بھی بیٹے کی محبت میں آگئے تھے……..
وہ بے حد پریشان تھے لیکن اپنی آنکھوں سے اسےدیکھ کر انہیں تھوڑی تسلی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔
اتنا خوبصورت ہونے کے باوجود بھی ابراہیم کو یوشع کا چہرہ بے رونق لگا تھا جیسے وہ کوئی ڈرگ لیتا ہو۔۔۔
“ہوسکتا ہے میرا وہم ہو ایکسیڈنٹ کی وجہ سے اسکا چہرہ ایسا ہو گیا ہو۔۔۔۔”
وہ پھر خوش فہم ہوئے تھے_لیکن ابراہیم کی یہ خوش فہمی ڈاکٹر سے بات کرتے ہی دور ہوگئی تھی۔۔۔
اسکی طبیعت کے ساتھ ڈاکٹر نے اسکے ڈرگ لینے کی بھی تصدیق کی تھی۔۔۔
وہ سن سے رہ گئے تھے۔۔۔
اسکے چہرے پر چھائی جانے والی پھٹکار اب ان کی سمجھ میں آئی تھی۔۔۔۔۔
وہ ہاسپٹل میں ہی اس پر برس پڑے تھے۔۔۔
“کیا کچھ ہے جو میں نے تمہارے لئے نہیں کیا، ہر بہترین چیز میں نے تمہیں مہیا کی، یہاں تک تم آزادی چاہتے تھے۔۔۔وہ بھی میں نے دے دی۔۔پھر کون سی بلا ہے تمہارے اندر جو تمہیں سکون نہیں لینے دیتی۔۔۔؟؟”
وہ بری طرح کلس رہے تھے۔۔وہ بناء تاثر کے سامنے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
اسکی بے توجہی پر دانت پیستے ابراہیم نے اسے دیکھا پھر جینیفر کو۔۔۔وہ ملتجی نظر آرہی تھی۔۔
ابراہیم نے ناک سے لمبی سانس کھینچی۔
پھر میکائیل ؛ زید؛ اور اپنے چھوٹے بیٹے کی مثالیں دے کر اسے شرمندہ کرنا چاہا۔۔
“میکائیل ذہین ترین ہے پر وہ ایسے نہیں کرتا، اپنے فیوچر پر فوکسڈ ہے۔۔۔
اور زید۔۔۔ابھی سے بزنس میں دلچسپی دِکھا رہا ہے۔۔۔۔اور ریان ابھی سے فیوچر پلان کررہا ہے۔۔۔۔اور تجھے اپنے مستقبل کی کوئی فکر ہی نہیں ہے۔۔۔”
وہ ٹیک لگائے خاموشی سے سن رہا تھا۔۔۔۔۔۔
“اب ذبان بھی ٹوٹ گئی ہےکیا۔۔۔۔۔؟”
ابراہیم نے اسکی خاموشی پر زچ ہوتے ہوئے۔۔۔چیخ کر کہا۔
جینیفر بھی سن سی اسے دیکھنے لگیں……
اس نے نظر اٹھا کر باپ کو دیکھا ۔۔۔
“آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ میں اپنے فیوچر پر فوکسڈ نہیں ہوں۔۔۔لیکن یہ میری زندگی ہے۔۔میں جیسے چاہے اسے گزاروں..”جواب بڑے سکون سے پیش کیا تھا کہ مقابل کو تپا گیا تھا….انکا دل چاہا کہ اسے کوئی چیز کھینچ کر مار دیں۔۔۔۔اور وہ شاید ایسا کر گزتے کہ جینیفر بول پڑی۔۔وہ ان دونوں کی باتوں سے تنگ پڑ رہی تھیں۔۔۔۔
“آپ دونوں بس کردیں۔
یوشع تمہیں زرا خیال نہیں ہے ہمارا۔۔۔اگر تمھیں کچھ ہو جاتا تو….؟” آنکھوں میں آنسو لئے وہ اسے سمجھا رہی تھی……
ابراہیم بے بس سے باہر نکل گئے تھے..
٭٭٭٭
گھر آکر ابراہیم نے اسکے کمرے کی تلاشی لی تھی۔۔۔۔۔۔الکوحل کے کینز اور ڈرگ کے ایک پیکٹ کے علاوہ انہیں ایک چیز اور ملی تھی۔
حیرانی سے انکا منہ کھل گیا یہ اسکا آئی کیو لیول کا ٹیسٹ سرٹیفیکیٹ تھا۔۔۔
وہ چپ سے بیڈ پر بیٹھ گئے تھے۔۔۔
انہیں خوش ہونا چاہیئے تھا پر وہ خوش نہیں تھے۔۔۔۔
کیونکہ اس نعمت کے باوجود بھی یوشع انہیں خوش نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔۔۔
وہ ان کے ساتھ کبھی نہیں جاتا۔۔۔ یہاں وہ رہ نہیں سکتے تھے۔۔۔۔
ابراہیم نے فوری طور پر اپنے رویے میں ترمیم کی تھی۔۔۔۔۔۔
ابراہیم نے اسے پیار سے سمجھانا شروع کیا اسکو مستقبل کے سنہرے خواب دکھائے۔۔۔۔۔۔
نیمل کے حوالے سے بھی انہوں نے اسے سمجھایا۔۔۔۔۔اسکا منہ کڑوا ہوا تھا۔۔۔۔
وہ بیچارے اسے اچھی طرح سمجھا کر دل میں ڈر لئے واپس آگئے تھے۔۔۔۔۔۔۔
٭٭٭٭
ادھر اسحاق صاحب نیمل کی تربیت بہت بہترین انداز میں کر رہے تھے۔۔۔
وہ جینیفر کے کپڑوں پر اعتراض کرتے تھے۔
لیکن اس حادثے کے بعد انہوں نے نیمل کے کپڑوں کی طرف توجہ کی تھی۔۔۔
وہ حیران تھے کہ بسما نے بھی نیمل کے لئے ویسے ہی کپڑے منتخب کئے تھے چھوٹی چھوٹی فراکس ٹائٹ شرٹس پینٹس۔۔۔۔۔۔
اسحاق نے اسکی وارڈ ڈروب چینج کی تھی۔
شلوار قمیض کے ساتھ سر پر رومال ہوتے تھے وہ اسکو قرآن خود پڑھاتے تھے۔۔۔۔
وہ اسکی اخلاقی تربیت کر رہے تھے۔۔۔۔
وہ ابراہیم کے چھوٹے چھوٹے کام جیسے چائے بنا دینا ، بڑے شوق سے کرتی تھی۔۔۔۔
روز رات سونے سے پہلے وہ ان کے کمرے میں جاتی تھی آہستہ آہستہ۔۔۔وہ دونوں اسکی محبت کے عادی ہوتے جارہے تھے۔۔۔۔
“جینیفر دیکھا تم نے اللہ نے ہمیں کتنی پیاری بیٹی دی ہے۔۔۔”
وہ اسے اپنی بانہوں میں بھر کر پیار سے کہتے۔۔۔
“ہاں بالکل۔۔۔۔۔جینیفر بھی مسکرا کر کہتی…
گھر میں وہ ایک فرماں بردار بیٹی تھی خاندان میں بھی اسکی اچھائی کے ڈنکے بجنا شروع ہوگئے تھے………
اسے اپنے ارد گرد کا ہر شخص اچھا لگتا تھا……سوائے یوشع کے۔۔۔وہ اسکے دل ودماغ سے اسی وقت اتر گیا تھا جب وہ یہاں سے گیا تھا….
اس کے نکاح کا علم نہ اسے تھا اور نہ ہی خاندان میں کسی کو پتہ تھا…….
گھر والوں کو اسحاق صاحب نے یہ بات کرنے سے منع کیا تھا……
وہ گرلز کالج جانا چاہتی تھی لیکن اسحاق صاحب نے خود اس کا داخلہ کو ایجوکیشن میں کروایا تھا وہ اسے با اعتماد دیکھنا چاہتے تھے۔۔اور وہ ہو بھی رہی تھی۔۔۔۔
اپنی پڑھائی کے سلسلے میں وہ ان سے بات بھی کرتی تھی۔۔۔
لیکن اگر کوئی لڑکا اسکے قریب آتا یا پھر بالکل پاس سے گزرتا اسکا اعتماد پل میں ختم ہوجاتا۔۔۔جیسے ابھی وہ اسے دبوچے گا اور بس کچھ غلط ہو جائے گا۔۔۔
اسے گھبراہٹ سی ہوتی۔۔۔دل زوروں سے دھڑکنے لگتا۔۔۔جیسے باہر ہی نکل جائے گا۔۔
کوشش کے باوجود بھی وہ اپنی اس کیفیت پر قابو نہیں رکھ پاتی تھی۔۔۔۔۔۔
کبھی کبھی وہ جھنجھلا سی جاتی تب وہ “اُسے” گالیوں سے نوازتی۔۔۔۔۔۔
“بظاہر ایسے خوف نظر نہیں آتے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ وجود نہیں رکھتے۔۔۔
وہ آپ کے اندر ہی چھپے آپ کے ساتھ ساتھ ہی چلتے ہیں۔۔۔۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ بچپن کا کوئی حادثہ آپکی زندگی پر اثر انداز نہ ہوتا ہو۔۔۔”
نیمل کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا وہ مرد کے معاملے میں اتنی پر اعتمادی نہیں دکھا سکتی تھی۔۔۔۔
