Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Secde Episode 05

دنوں بعد نہیں اگلے ہی دن اس نے یہ حرکت دوبارہ کی تھی۔۔۔۔۔ٹیرس میں کھڑا وہ پچھلی بار سے بہتر انداز میں سگریٹ پی رہا تھا کہ آہٹ پر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا۔۔۔۔

زید اسی کو دیکھ رہا تھا اسے واقعی سمجھ نہیں آتا تھا کہ وہ کیا چیز تھا۔۔۔۔۔

وہ کیا ڈیڈ سے نہیں ڈرتا تھا۔۔۔۔۔۔؟

“تم پھر سگریٹ پی رہے ہو۔۔۔؟”

“تم نے ہی تو کہا تھا کہ میں روز پیتا ہوں…”

زید جیسے لاجوب ہوا تھا…..

تبھی زید کی نظر ٹیرس کے شروع میں کھڑی نیمل پر پڑی…..جو ان دونوں کو ہی دیکھ رہی تھی……

وہ ہلکا سا مسکرایا….

“اب تم ڈیڈ سے مار کھانے کیلئےتیار ہو جاؤ۔کیونکہ اب کے ثبوت بھی ہے۔۔۔”کہتے ہی زید نے اسکی انگلیوں میں پھنسی سگریٹ کو کھینچا۔”اور گواہ بھی ہے۔” کہتے ہی ہاتھ سے اشارہ کیا۔۔۔

یوشع نے اسکی حرکت کو اگنور کرتے اسکے اشارے کے تعاقب میں دیکھا جہاں نیمل کھڑی تھی۔۔۔۔

اس سے نظر ملتے ہی جہاں یوشع کی آنکھیں سکڑی تھیں وہیں ڈر کے مارے  نیمل۔۔۔۔۔کی پتلیاں پھیلی تھیں……

ابھی یوشع کے جسم میں حرکت ہوئی ہی تھی کہ نیمل نےجلدی سے دوڑ لگا دی۔۔۔۔۔

زید بھی قدم اٹھاتا وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔۔

یوشع کے چہرے پر کمینی سی مسکراہٹ آئی تھی۔۔۔۔جیسے وہ یہی چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔

٭٭٭٭

ابراہیم کے سامنے زید نے بات کے ساتھ سگریٹ کا ٹوٹا بطور ثبوت بھی پیش کیا تھا۔۔۔۔۔

وہ ایک بار پھر سے شاکڈ تھے۔۔۔۔۔۔

اکیلے آفس کے بکھیڑے سمیٹنا اور اب یوشع کی طرف سے مسلسل ملنے والی ٹینشنوں سے وہ ناک  تک پریشان ہوگئے تھے۔۔اب وہ تینوں ان کے سامنے تھے۔۔۔۔۔

“کیا یہ سب سچ ہے۔۔۔۔۔۔؟”

انہوں نے نیمل سے پوچھا…

اس نے ڈرتے ڈرتے پہلے یوشع کو دیکھا اور پھر ابراہیم کو۔۔۔

“جی۔۔۔۔۔”اس نے اثبات میں گردن ہلائی ۔

تبھی انہوں نے سانس کھینچ کر آنکھیں بند کی تھی..

پھر لمحے بعد یوشع کی طرف دیکھا۔۔وہ ہمیشہ کی طرح انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا تھا……

پل میں ابراہیم کا چہرہ غصے سے تمتمایا  تھا۔

تبھی زناٹے دار تھپڑ اسکے منہ پر مارا  تھا۔۔

ڈر سے نیمل کی چیخ نکل گئی تھی۔۔۔۔۔

زید بھی ڈرا تھا۔۔۔۔

“اسے لے کر  جاؤ۔۔۔”

ابراہیم کے کہتے ہی زید  اسے جلدی سے وہاں سے لے کر چلا گیا۔۔۔

ابراہیم نے اسکا چہرہ دیکھا وہ بھنویں سکیڑے اسی طرح  انہیں دیکھ رہا تھا۔۔

اسکی ڈھٹائی پر انہوں نے فوری طور پر اپنے رویےمیں تبدیلی کی۔۔۔۔۔

 وہ اس پر بناء ہاتھ اٹھائے یہ حرکت کرنے کی وجہ پوچھتے رہے۔۔۔۔۔۔

پر وہ خاموشی کے عروج پر تھا۔۔۔۔

اگلے آدھے گھنٹے تک وہ اسے سمجھاتے رہے اپنی محبت اور دی جانے والی سہولیات کو گنواتے رہے۔۔۔۔وہ خاموشی سے سب سن رہا تھا۔۔

اور پھر اسکے کمرے سے نکلتے ہی انہیں احساس ہو گیا تھا کہ وہ انکے سمجھانے میں بالکل ہی نہیں آیا تھا۔۔۔

٭٭٭٭

وہ ضدی تھا۔۔۔بدتمیز ہو رہا تھا…..

اور اب غصہ اور نفرت جیسے احساسات بھی اس کے اندر پیدا ہو رہےتھے….

نیمل کے سامنے پڑا جانے والا تھپڑ اسکی عزتِ نفس پر پڑا تھا…….

وہ ایک مختلف طبیعت رکھنے والا ذہین ترین بچہ تھا……اس کو بے حد توجہ اور خاص تربیت کی ضرورت تھی……

یہ نہیں  تھا کہہ ابراہیم یوشع کے مسئلے سے واقف نہیں تھے۔۔۔وہ جانتے تھے کہ وہ یہ سب کچھ یہاں سے جانے کیلئے کر رہا ہے۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔ ان کو اس مسئلے کا حل صحیح سے نکالنا نہیں آرہا تھا۔۔۔پہلے انکی ڈھیل تھی۔۔۔۔اب وہ سختی دکھانا شروع ہوگئے تھے۔۔۔۔۔۔

یوشع آزاد رہ کر زندگی کے ہر مزے کو ایک دفعہ ضرور ایکسپلور کرنا چاہتا تھا۔۔

وہ اپنی مرضی اور منشا کے مطابق اپنے ہی طے کردہ اصولوں پر زندگی گزارنا چاہتا تھا۔۔۔ چاہے وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں ہوتا اپنے علاوہ وہ کسی اور کی ذات میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا حالانکہ وہ خود غرض بھی نہیں تھا۔۔۔

وہ اپنے کام میں رکنے والا کب تھا۔۔۔۔

اپنے سے ایک سال بڑے زید سے تو اسکی شروع سے نہیں بنتی تھی۔۔۔

اور۔۔۔۔۔نیمل  تو اسے پہلے ہی بری لگتی تھی اور  اب تو وہ اسے زہر لگنے لگی تھی۔۔۔۔

خودبخود اب وہ اس کے ٹارگٹ پر آگئی تھی۔۔۔۔۔

نیمل کی ہاتھ لگ جانے والی چیزوں کو وہ اس صفائی سے غائب کرتا تھا کہ اس بیچاری کو کانوں کان خبر نہ ہوتی تھی۔۔۔

یہ نہیں تھا کہ وہ اسپیشل اسکے کمرے میں جاکر اسکی کوئی چیز اٹھاتا تھا۔۔۔

 بس صرف سامنے نظر آنے کی دیر ہوتی تھی۔یا تو وہ چیز غائب ہو جاتی یا پھر اپنی حالت بگڑ جانے پر ماتم کرتی۔۔۔

آہستہ آہستہ نیمل کو اس بات کا پتہ چل ہی گیا تھا۔۔۔۔۔

وہ ویسے بھی ذرا خاموش طبع اور دبی نیچر کی بچی تھی۔۔اور پھر بن ماں باپ کےاسکی شخصیت میں  مزید دباؤ سا آگیا تھا۔۔۔

اوپر سے رہی صحیح کسر یوشع  والے واقعے نے پوری کر دی تھی۔۔۔۔

اسحاق کی توجہ کے باوجود بھی وہ پر اعتماد نہیں ہو پارہی تھی۔

اور ادھر یوشع میں اعتماد کی کوئی کمی نہ تھی۔۔۔۔۔۔۔

٭٭٭٭

پڑھائی کبھی اسکے لئے مسئلہ نہیں رہی  تھی۔اس لئے اسنے کبھی کوئی اکیڈمی جوائن ہی نہیں کی تھی۔۔۔۔۔۔

زید اپنی کلاسز لینے کے لئے جاچکا تھا۔

وہ لاؤنج سے گزر رہا تھا۔۔۔

تبھی اسکی نظر صوفے پر پڑے نیمل کے بیگ پر پڑی تھی۔۔۔۔

 وہ کبھی کبھار  یہاں  بیٹھ کر ہوم ٹیوشن لیتی تھی۔۔۔۔۔۔وہ جلدی سے اسکے بیگ تک پہنچا۔

ذہن تو اسکا یہی تھا کہ وہ اس میں سے کوئی بک  غائب کر کے اسے پریشان کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔

لیکن۔۔۔۔بیگ میں ہاتھ ڈالنے کے بعد اسے مطلوبہ سے اچھی چیز مل گئی تھی۔۔۔۔یہ میتھ کا ٹیسٹ تھا۔۔۔۔

 ففٹی اوور۔۔۔۔ٹونٹی ٹو۔۔۔۔۔

“نالائق۔۔۔۔۔۔”نمبر دیکھ کر وہ مغروریت سے بڑبڑایا۔۔۔۔

اس بیچاری کی وقتی کمزوری یوشع کے لئے دیر پا  ہتھیار ثابت ہونے والی تھی۔۔

کاپیز پکڑے وہ جلدی قدم بڑھاتی لاؤنج میں آرہی تھی۔۔۔۔۔

 تبھی یوشع کو دیکھ کر وہ ٹھٹکی تھی۔۔۔۔۔

لیکن اسکے ہاتھ میں پکڑے کاغذ پر وہ جیسے فریز ہوگئی تھی۔۔۔۔۔دل ڈوب کر ابھرا تھا۔۔۔۔

“یہ ٹیسٹ دنیا میں کسی کے ہاتھ بھی لگ جاتا پر اس کے نہیں”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ سوچ کر رہ گئی

وہ سیکنڈز میں فاصلہ طے کرتا اسکے پاس آیا۔

اسکا خون اور حلق دونوں ہی خشک ہوئے…..

وہ حد سے زیادہ اسکے قریب ہوا تھا…..

اور اسی لمحے وہ اسکی  قربت سے بدحواس سی ہوئی تھی۔۔۔۔جیسے اس دن کی طرح وہ اسے دبوچے گا۔۔۔۔۔۔اور بس۔۔۔۔۔سب کچھ غلط ہوجائے گا۔۔۔۔

وہ ڈری سہمی سی اسکے پاس سے بھاگ جانا چاہتی تھی لیکن اسکے قدم مقناطیس کی طرح زمین سے چپک گئے تھے…..

وہ اسکا سہما پن محسوس کر رہا تھا….

“تم۔۔۔۔۔تو بہت نالائق ہو….!!!”وہ تمسخر سے بولا……الفاظ اور انداز ذلیل کر دینے والے تھے…….جو اسے تکلیف دے گئے تھے وہ شرمندہ سی رو دینے کو تھی……

 اس میں اتنی ہمت ہی نہیں تھی کہ وہ اس سے ٹیسٹ چھین کر اسے کجھ سنا دیتی…..گزرتے واقعات نے اسکی ہمت ختم کر دی تھی….

وہ اگلے لمحے اس سے دور ہوا تھا….اور نیمل کی سانس بحال ہوئی تھی…..

“میرا ٹیسٹ وا۔۔۔پ۔۔س کرو۔۔۔”آخر ہکلاتے وہ بول پڑی تھی…..

“یہ۔۔۔۔ٹیسٹ تو تمہیں نہیں ملے گا…..آخر نالائقی کا ثبوت  میرے پاس بھی تو ہونا چاہیے۔۔۔”وہ سفاکی سے بولا……

“مم۔۔۔میں۔۔۔نن…نالائق نہیں ہوں…..!!”

اس نے کانپتی آواز میں اسکے الزام کو رد کیا۔۔۔۔۔

“اچھا۔۔۔۔۔”ابھی وہ کچھ اورزہر افشانی کرتا کہ اسکی ٹیچر آگئی تھی۔۔

سلام کے بعد ٹیچر نے ان دونوں کے چہروں کو غور سے دیکھا……

نیمل اسے پریشان سی لگ رہی تھی…..

انہوں نے تھوڑے دنوں پہلے ہی یہاں جاب شروع کی تھی۔۔۔اس لڑکے کو انہوں نے پہلے نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔۔

“نیمل یہ کون ہے۔۔۔۔؟”

“میں اسکا ہسبینڈ ہوں…”

نہایت ہی بے شرمی سے کھٹاک سے جواب اسکی طرف سے آیا تھا…..

ٹیچر نے الجھی نگاہوں سے ان دونوں کو دیکھا تھا……وہیں نیمل کی آنکھیں اور منہ دونوں ہی کھلے تھے۔۔

وہ کیا کہہ رہا تھا؟ ۔۔۔کیوں کہہ رہا تھا۔۔۔۔

وہ لاعلم تھی۔۔۔!!!

یوشع نے ان دونوں کے حیران چہروں کو دیکھا۔۔۔۔

“کیا ہوا…؟ میں مذاق کر رہا تھا…”

وہ کندھے اچکا کر بولا…..

“مگر مجھے لگا تم سچ کہہ رہے تھے…” ٹیچر نے جواب دیا…….

لمحے میں وہ سنجیدہ ہوا تھا ، وہ حیران تھا کہ ان کو کیسے لگا کہ وہ سچ بول رہا ہے…

اسکا نچلا ہونٹ خودبخود دانتوں میں دب گیا تھا۔۔۔۔

 مطلب وہ  اپنے مذاق پر خود ہی تھوڑا  سا کنفیوز ہوا تھا۔۔۔۔

پل میں وہ وہاں سے ہٹ کر نکل گیا تھا۔۔۔۔۔

ٹیچر نے اسے جاتے دیکھا پھر نیمل کو۔۔۔۔۔جو فق چہرہ لئے کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔

ٹیچر کو کچھ ٹھیک نہیں لگا تھا۔۔۔

“نیمل ادھر بیٹھو۔۔۔۔۔”

وہ اسے لئے صوفے پر بیٹھ گئی تھیں۔۔۔۔

“کیا ہوا۔۔۔۔۔؟”

اس نے ٹیسٹ کے بارے میں بتایا….

“کوئی بات نہیں ایسا ہو جاتا ہے…”انہوں نے تسلی دی…..

“یہ آپ کا کزن ہے۔۔۔؟”

“جی۔۔۔۔۔”

“کیسا لڑکا ہے یہ۔۔۔۔۔؟”

“برا۔۔۔۔بہت ہی برا۔”

جواب سن کر وہ خاموش ہو گئی تھیں۔۔

٭٭٭٭

وہ آج خوش تھا۔۔۔۔۔

کینیڈین ڈومیسٹک ٹوائےکمپنی نے اسکے بھیجے گئے کارڈیزائن کو پسند کر لیا تھا۔۔

 یہ اسکے کافی مہینوں کی محنت تھی۔۔۔۔۔

ابراہیم کے آفس کے پتے پر اسکا چیک اور لیٹر آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے تھے۔۔

ایسے موقع پر ہر  باپ خوش ہوتا ہے۔۔۔۔لیکن وہ خوش نہیں تھے۔۔۔۔۔

وہ انہیں بااختیار ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔۔۔۔

اور اسکے بااختیار ہونے کا مطلب تھا کہ اسکو کسی بھی معاملے میں اپنے باپ کے کندھوں کی ضرورت نہیں پڑنے والی تھی۔۔۔۔

سیدھا  سیدھا وہ اب آپے سے باہر ہونے والا تھا۔۔۔

٭٭٭٭

ان سب کے تھرڈ سمسٹر کا رزلٹ آؤٹ ہوگیا تھا۔۔۔

اپنی حد درجہ مصروفیات کے باوجود بھی پرنسپل کے لیٹر کی وجہ سے انہیں اسکول آنا پڑا تھا۔۔۔۔کیونکہ یہاں پر فی الحال اسکول کے معاملات ابراہیم دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔

نیمل کا رزلٹ ٹھیک تھا۔۔۔۔۔

زید کی پرفارمنس ہمیشہ کی طرح بیسٹ تھی۔۔۔

اور یوشع۔۔۔۔۔وہ کم از کم اس معاملے میں ان کا سیروں خون بڑھاتا تھا۔۔۔۔۔۔

وہ خوش سے تعریفی کلمات  سننے کے منتظر تھے کہ اگلے ہی لمحے پرنسپل کی بات  سن کر  ان کی خوشی خاک میں مل گئی تھی۔۔۔۔ 

وہ سمسٹر میں بری طرح فیل ہوا تھا۔۔۔

وہ حق دق بے یقین سے بیٹھے تھے۔۔۔۔

“میں نے آپ کو یہی بات کرنے کیلئے بلایا ہے۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے یوشع کے ساتھ کوئی پرابلم ہے۔۔۔ایسا بریلینٹ بچہ ہمارے اسکول میں پہلے  کبھی نہیں آیا۔۔۔اس بچے نے ہائیسٹ مارکس لے کر پچھلے اسٹوڈنٹس کے تمام ریکارڈ بریک کردیئے تھے۔۔۔۔۔اور اب یہ۔۔۔۔۔۔۔آپ اس سے  پوچھیں یا سائیکاٹرسٹ سے کنسلٹنٹ کریں ہو سکتا ہے کہ اسے کوئی پرابلم ہو۔۔۔۔۔”

وہ خاموش سے ہو گئے تھے اسکے علاوہ وہ کیا کرسکتے تھے…..

وہ ہر بات پر یقین کرسکتے تھے…… پر انکے بچے خاص کر یوشع فیل ہوجائے۔۔۔وہ ہضم نہیں کر پارہے تھے……..

جینیفر خود  اسکا رزلٹ دیکھ کر پریشان ہو گئی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ انکے سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔

ان کا دل چاہ رہا تھا کہ اس سے کوئی بات نہ پوچھیں۔۔بس اسے دھنک کر رکھ دیں۔۔۔آخر دن رات کی پرواہ کئے بغیر وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے ہی اتنی محنت کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔

“یہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔؟”

انہوں نے غصے سے پوچھا……

اس نے ان کے ہاتھ کو دیکھا اور پھر انہیں۔۔۔

“رزلٹ کارڈ۔۔۔۔۔”سکون سے جواب دیا……

بکواس بند کرو میرےسامنےزیادہ اوور سمارٹ بننے کی کوشش مت کرو۔۔۔سمجھے….!! کیوں کیا ہے تم نے ایسا۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟”

“مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا۔۔”جھوٹ کی انتہا تھی….

“تمہیں سب سمجھ آتا ہے…..اور اب جو میں تمہیں کہنا چاہ رہا ہوں اسے اچھی طرح سمجھ لو تو تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے تم اپنے ہائی اسکول تک یہیں ہو۔۔۔۔۔”

یوشع کی پتلیاں پھیلی تھیں…..

“اور اب تمہارا فائنل رزلٹ پہلے ہی کی طرح ہونا چاہیئے۔۔۔ورنہ۔۔۔۔اس دفعہ میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا سیدھا بوڈنگ میں پھینکوں گا۔۔۔”

وہ گہری آنکھیں اس پر  گاڑے وارن کرنے کے انداز میں بولے…….

اس نے بھی اسی گہری نگاہوں سے باپ کو دیکھا…….

جیسے چیلنج قبول کیا ہو……..

وہ ہر بات برداشت کر سکتے تھے پر اسکا یوں دیکھنا نہیں…….

وہ باپ کا مقام سمجھتا ہی کب تھا……

اور ابراہیم اپنا مقام سمجھا ہی کب سکے تھے….

“مجھ سے نظریں نیچے رکھ کر بات کیا کرو۔”

وہ گھورتے تنبیہہ کرتے وہاں سے اٹھ گئے تھے۔۔۔۔

ادھر سے جانے کا فیصلہ تو وہ کب سے لئے ہوئے تھا۔۔۔۔۔

اب جلد اسے  اس پر عمل در آمد کرنا تھا۔۔۔۔۔۔

٭٭٭٭

بڑی خاموشی کے ساتھ اس نے اپنے فائنل امتحان میں شاندار  کامیابی سمیٹی تھی۔۔۔۔۔ پرنسپل حیران تھے وہیں ابراہیم کے آنسو نکلے تھے۔۔۔۔۔۔

“لگتا ہے وہ سمجھ گیا ہے….”

وہ ایک بار پھر سے خوش فہمی کا شکار ہوگئے تھے۔۔۔۔

٭٭٭٭