Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Secde

NovelR50003

Phycological Thriller

Secde Phycological Thriller

یہ کہانی ہے یوشع نامی ایک ذہین مگر نظر انداز کیے گئے بچے کی، جس کے ماں باپ، ایک کرسچن ماں اور مسلم باپ، اپنی اپنی دنیا میں گم رہتے ہیں۔ وہ اپنے کیریئر میں اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ بچے کی دینی، اخلاقی اور جذباتی تربیت کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً، یوشع نہ کسی دین کا پیروکار بنتا ہے، نہ کسی اصول کو مانتا ہے۔ کم عمری میں ہی باہر کے آزاد معاشرے میں پلنے بڑھنے کے باعث وہ غلط اور صحیح کا فرق بھول جاتا ہے۔

ایک المناک واقعے میں وہ اپنی چھ سالہ کزن کے ساتھ ایک انتہائی ناپسندیدہ حرکت کی کوشش کرتا ہے، جو اُس کے لیے ایک "عام" بات بن چکی ہوتی ہے۔ اس پر اُس کے والد کی سخت مار اور ناراضگی آتی ہے، مگر وہ پھر بھی نہیں سمجھتا کہ اس نے کیا غلط کیا۔ والدین اُس سے تنگ آ کر اُسے واپس بیرونِ ملک بھیج دیتے ہیں، جہاں وہ مکمل طور پر دین اور خدا کا انکار کر دیتا ہے۔ یوشع شہرت، دولت اور کامیابی کی بلند چوٹیوں تک پہنچتا ہے۔ مگر یہ کامیابی اُسے اور زیادہ غرور، بے حسی اور ظلم کی راہ پر ڈال دیتی ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی بیوی کو بھی ذلیل کرتا ہے۔ لیکن اُس کی بیوی کی ایک آخری بات، ایک نوٹ، اُس کی زندگی میں زوال کا آغاز بن جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ وہ سب کچھ کھو دیتا ہے—عزت، مال، رشتے، سکون۔ اسی بکھراؤ میں اُسے رب یاد آتا ہے۔ وہ جو کل تک خدا کا منکر تھا، آج نادم، شرمندہ اور سجدہ ریز ہے۔ وہ توبہ کرتا ہے، دین کی طرف رجوع کرتا ہے اور ایک دن حافظِ قرآن بن کر ایک روشن مثال بن جاتا ہے کہ:

عروج کا نشہ جتنا بلند ہو، زوال اتنا ہی گہرا ہوتا ہے—اور رب جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں، مگر جب تھامتا ہے تو گرنے نہیں دیتا۔

 Sneak Phycological Thriller

" آپ نے خود ریزائن کیا ہے یا آپکو فارغ کیا گیا ہے ؟"

یوشع کی بھنویں سکڑیں

آخر اس بکواس سوال کا کیا مطلب تھا پر وہ جلد جواب نہیں دے پایا تھا

آئیزک نے گہری سانس کھینچی یوشع کو اس فیلڈ میں ایک ہی سال ہوا تھا یہ پہلا موقع تھا اپنی پہچان بنانے کا لیکن وہ پہلے مرحلے میں ہی گر گیا تھا

"سوری یوشع۔۔۔۔ہمارے ہاں ویکینسی خالی نہیں ہے۔۔۔۔میں آپکی کوئی مدد نہیں کرپاؤں گا" صاف صاف انکار تھا اسے پھر سے یقین نہیں آیا تھا

لگتا ہے سب لوگوں کی عقلیں گھاس کھانے نکل گئی ہیں۔۔۔جو اتنے ذہین اور بہترین اکیڈمک ریکارڈ رکھنے والے کو جاب نہیں دے رہے تھے

پل میں سب اسے عقل سے پیدل لگے تھے فی الحال تو  اللہ اسے عقل سے پیدل کر رہا تھا وہ ابھی بھی اپنی ذہانت پر زعم لئے ہوئے تھا

اسے جاب آسانی سے مل سکتی تھی لیکن نہیں ملی تھی۔۔۔کیوں۔۔۔؟

کیونکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ نہیں چاہتا تھا اللہ نے ہر مراعات دے کر اسے زمین پر اتارا تھا ۔۔۔تب اس نے کون سا کارنامہ سر  انجام دے دیا تھا اب سب کچھ اس سے  لے کر اسے آزمائے جانے کا وقت تھا۔

 اس اندھیرے میں وہ بے یقین سا ادھر اُدھر پھر رہا تھا ہار اسنے کبھی دیکھی نہیں تھی وہ مزے کا خواہشمند  بڑے عجیب مزے میں پھنسا تھا

ایسا کیسے ہوگیا کہ ایک ہی دن میں کسی کو اُسکی ضرورت نہیں رہی

یہ پہلی بار ہوا تھا اس ایک بات کے علاوہ اُسکے   زہن میں کچھ نہیں تھا تین دن سے اُسے تذلیل اور بے رُخی۔۔۔دھتکار کے علاوہ کچھ نہیں مل رہا تھا

جبڑے تن رہے تھے اور غصہ کنپٹیوں کو ابال رہا تھا آج بھی تقریباً رات کے ڈیڑھ بجے وہ بنا لاک کئے دھاڑ سے دروازہ بند کرتا اندر آیا تھا گھر میں اندھیرا تھا۔۔۔کیوں۔۔۔؟

اسنے نہیں سوچاتھا

زور سے سوئچ بورڈ پر ہاتھ مارتے لائٹ آن کی تھی کمرے میں جاکر باتھ روم میں منہ ہاتھ دھوکر باہر آیا تھا پہلی دفعہ ہوا تھا وہ صبح سے بھوکا تھا اس نے فرائ پین پٹخ کر نوڈلز بنائے تھے

فرج میں سے پانی نکال کر دھاڑ سے دروازہ بند کیا تھاکہ پورا فرج ہل گیا تھا وہ بےجان چیزوں پر اپنا غصہ اتار رہا تھا

نوڈلز کو بال میں ڈال کر وہ ڈائیننگ پر آگیا تھا

فوک میں نوڈلز لپیٹتے اسکی نظر سائیڈ میں دھرے کاغذ پر پڑی

اسنے اٹھا کر دیکھا

"میں جارہی ہوں "تین لفظوں کا نہایت مختصر نوٹ تھا اسنے بے ساختہ پیچھے مڑ کر اسکے کمرے کی طرف دیکھا

دروازہ بند تھا اٹھ کر اس نے دروازہ کھول کر لائٹ آن کی کمرا خالی تھا پھر اپنے کمرے میں آکر الماری کھول کر اسنے  اسکے کپڑے چیک کئے۔۔۔نہیں تھے پتا نہیں وہ تصدیق کیوں کر رہا تھا غصہ پھر سے عود کر آیا تھا بیٹھنےکے بعداسنے نوڈل سے بھرے بول کو دیکھا پھر اگلے ہی لمحے  غصے سے بول کو ہاتھ مار کر نیچے پھینکتے ہوئے چلایا

"مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا تمھارے جانے سے سناتم نے" وہ اس صفحے پر نظریں گاڑے چلا یا پھر اس نے اٹھ کر فرج میں سے اکٹھی تین شیمپینز کی بوتلیں نکالیں جس میں تیز ترین وائن بھی شامل تھی وائٹ وائن وہ کھول کر پینا شروع کرچکا تھا

لاؤنج میں چکر لگاتے اور اپنے کمرے میں آنے تک وہ آدھی سے زیادہ بوتل پی چکا تھا۔۔۔وہ فل ڈپریشن میں تھا اس لئے وہ جلد سے جلد نشے میں جانا چاہتا تھا پوری بوتل چڑھا کر وہ بیڈ  پربیٹھ گیا تھا

"کیوں؟نہیں ہورہا نشہ"

عام لوگوں کی طرح وہ جلد مدہوش نہیں ہوتا تھا وہ جھنجھلا رہا تھا

اس نے دوسری بوتل کھول کر پینی شروع کر دی تھی اب اسکا سر بھاری ہونا شروع ہوگیا تھا

"ہو۔۔۔رہا۔۔۔ہے" وہ مسکرایا

تبھی شراب کا گھونٹ بھرتے اسکی نظر سامنے پڑی تھی آنکھوں کو سکیڑے ہلکی لڑ کھڑاہٹ کے ساتھ وہ سامنے والی دیوار  تک پہنچا اس دیوار  پر کاغذ چپکا تھا

اسنے کاغذ کھینچا پھر بمشکل آنکھوں کو کھولتے پڑھا

اور تو جسے چاہے بادشاہی عطا کرے اور جسے چاہے فقیری اور تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے زلت دے  تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں  بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے

 سورت آل عمران آیت26

 وہ سن سا ہوا تھا

 اسے لگا اسوقت یہ بات اسی کے لئے کی گئی ہے پچھلے تین دن سے وہ اسی ذلت کا مزہ لے رہا تھا

 ذلت کا مزہ۔۔۔۔آج تک لئے جانے والے مزوں میں یہ مزہ تکلیف دہ تھا  یہ کون رکھ کر گیا تھا؟ وہ جانتا تھا وہ کیوں رکھ کر گئی تھی ؟ فلحال یہ جاننا اس کیلئے اہم نہیں تھا

وہ اسے سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر بیڈ پر بیٹھ کر پینے لگا اسکےحواس آہست آہستہ آندھیرے میں ڈوب رہے تھے اور پھر!وہ پیچھے کی طرف ڈھے گیا تھابوتل اسکے ہاتھ سے رڑک کر بستر پر گر گئی تھی

Romantic Urdu Novels parhne ke liye yahan visit karein:
https://novelistan.pk/category/romantic-urdu-novel/