No Download Link
Rate this Novel
Secde Episode 02
شیطان نے اسے اکسایا تھا وہ بہک کر شجر ممنوعہ کا سب سے لذیذ پھل توڑ کر کھا چکا تھا۔۔
اس پھل میں لذت ہی بہت تھی۔۔۔
اب اسے اس درخت پر لٹکے مختلف پھلوں کا ذائقہ چکھنے کے لئے شجرِممنوعہ کے سائے تلے بیٹھنا ہی تھا۔۔
پھر یہ سلسلہ رکا نہیں تھا۔۔۔۔
وہ پرفیکٹ ٹائمنگ سے کام کرتا۔۔کہ اس سے ایک سال بڑے زید کو بھی اس بات کی بھنک نہیں پڑتی تھی۔۔
ورنہ۔۔۔۔۔ وہ اپنی چغل خور طبیعت کے مطابق باپ کو ضرور بتا دیتا۔۔۔۔
٭٭٭٭
وہ۔۔۔۔۔سات سال کی بچی اس۔۔۔۔۔۔لڑکے سے بہت نالاں تھی۔۔۔کیوں۔۔۔؟
کیونکہ اس نے اس بڑے گھر کے سب سے خوبصورت کمرے یعنی اس کے ماں باپ کے کمرے پر قبضہ کرلیا تھا۔۔
اور بڑوں نے بھی کچھ نہیں کہا تھا۔۔۔۔وہ بیچاری خود بھی اسے کچھ کہہ نہیں سکتی تھی۔۔۔کیوں۔۔۔؟
کیونکہ۔۔۔وہ اس سے ڈرتی تھی۔۔۔۔۔۔
ابراہیم بڑے آرام سے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔۔۔تبھی انکی نظر اپنے ڈھائی سالہ بیٹے پر پڑی تھی۔۔۔جو انہماک سے اپنے کام میں لگا تھا۔۔۔۔
ابراہیم حیران ہوتے ہوئے۔۔۔۔
ریموٹ رکھ کر یک دم سیدھے ہوئے تھے۔۔۔۔
انہوں نے پیپر پکڑ کر حیرانی سے دیکھا ابھی کل ہی تو وہ گاڑی کا بونٹ کھول کر کھڑے تھے۔۔۔جب انکا۔۔۔۔یہی۔۔۔۔۔۔۔ بیٹا وہاں آیا تھااور پاس پڑے سٹول پر چڑھ کر بیٹھنے کے بعد اس نے یہ منظر دیکھا تھا۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔۔اب ویسا ہی ڈرا کیا تھا۔۔۔۔۔۔
“تم پہلے بھی ایسا بنا چکے ہو۔۔۔؟”ابراہیم نے دائیں آبرو اچکا کر پوچھا۔۔۔۔۔
“یس۔۔۔دکھاؤں،،،،۔؟؟؟ اسنے جوش سے کہا۔۔۔۔
انکا اشارہ ملتے ہی وہ فٹ سے بھاگا اور دو منٹ بعد ہی گولی کی رفتار سے واپس آیا۔
“یہ۔…..!!! اس نے بک آگے کی…..
ابراہیم نے بک اوپن کی جس میں گاڑیوں کے اسکیچ بھرے پڑے تھے۔۔۔۔۔
“یہ سب تم نے بنائے ہیں؟”
“یس۔۔۔”مسکرا کر جواب دیا…
ابراہیم کو یک دم ہول چھٹا تھا۔۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ اب وہ انہیں ایسے ہی ہولاتا رہے گا….
٭٭٭٭
ابراہیم نے اپنے باپ کی مرضی کو بلائے طاق رکھتے ہوئے باہر جانے کا فیصلہ کیا تھا۔۔۔۔۔
اس نے میٹرک کے بعد ہی اپنی پروفائل تیار کر کے بھیجی تھی بیسٹ ریکارڈ اچھی صحت اور مطلوبہ ڈالرز کے ہمراہ اسکی فائل تیار تھی۔۔۔۔۔
اپنا ایم۔بی۔اے مکمل ہونے تک انہیں کال آچکی تھی۔۔۔۔۔
جس ادارے میں انہوں نے جاب حاصل کی۔۔۔۔۔
یہ ایڈوائیذری کا ادارہ تھا اچھی شروعات تھی ۔
اسحاق صاحب(والد ) اسے کبھی نہ جانے دیتے لیکن پے درپے تین بچوں کی موت اور پھر چند عرصے بعد بیوی کی موت نے ذرا انہیں ڈھیلا کردیا تھا۔۔۔۔۔
ورنہ وہ اتنی آسانی سے نہ مانتے۔۔۔۔
لیکن ابراہیم منوا ہی لیتا کچھ ایسی ضدی اور اٹل طبیعت کا مالک تھا وہ۔۔۔۔
“میں ہوں نا آپکے پاس۔۔۔میں آپکو چھوڑ کر کبھی نہیں جاؤں گا۔۔۔۔۔”
انکے چھوٹے بیٹے۔۔۔۔اسماعیل نے انہیں تسلی دی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ جانتے تھے یہ تسلی نہیں ہے سچ ہے وہ انکا تابعدار بیٹا تھا۔۔۔۔۔
اسحاق صاحب کی جھولی میں یہ دو رتن ہی تھے۔۔۔۔۔
ابراہیم جو ذہین اور اٹل فیصلے والا۔۔۔!!!اسماعیل سمجھدار مگر مکمل باپ کا تابعدار۔۔۔۔۔۔۔
٭٭٭٭
سرخ سفید ، بے داغ، گوری رنگت اور متناسب قد کے ساتھ یہ جینیفر الگزینڈر تھی…
یہ اب اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی….. اب۔۔۔اس لئے کہ تقریبا تین سال پہلے اسکے چھوٹے بھائی کی روڈ ایکسیڈنٹ میں ڈیتھ ہوچکی تھی۔۔۔
اسکا بھائی بلا کا ذہین اور نڈر بچہ تھا۔۔۔
اپنے اندر رہنے والا۔۔۔پرتجسس، زندگی کے ہر راز کو جاننے کی اسے جلدی تھی۔۔۔۔۔۔
جینیفر کی ماں کہتی تھی کہ اس نے کبھی پہلے ایسی مخلوقِ نہیں دیکھی تھی۔۔۔۔۔
اسکی موت پر اسکی ماں کو صبر نہیں آیا تھا۔۔۔
اسے لگتا تھا کہ وہ ضرور اپنے ایڈونچر کے ہاتھوں مرا ہوگا۔۔۔۔۔
ابراہیم ولد اسحاق۔۔۔انہی کا پینگ گیسٹ تھا۔۔۔۔
جینیفر کو وہ حد سے زیادہ پسند آیا تھا۔۔وہ اسے اپنے ارد گرد پائے جانے والے دوسرے مردوں سے مختلف لگا تھا۔۔۔
اور جینیفر جیسی لڑکی نے اسکی توجہ نہ کھینچی ہو ایسا ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔
٭٭٭٭
اور پھر دو سال بعد ہی ابراہیم نے ساری پراپرٹی سیل کرکے اسلام آباد میں کمپنی کھولنے کا عندیہ سنایا تھا۔۔۔
“کیا۔۔۔”اسحاق حیران تھے اور پھر پریشان۔۔ “ناممکن۔۔۔” اسحاق صاحب نے دو ٹوک جواب دیا تھا۔۔۔۔۔
ابراہیم نے اسماعیل۔۔(چھوٹا بھائی )کو پورا پروگرام مرتب کرکے بتایا تھا۔۔۔
ایک ہفتہ باپ بیٹے کی گرما گرم بحث چلی تھی۔۔ اسماعیل بھی باپ کو منانے میں لگے تھے۔۔۔
“آپ کو بھائی پر بھروسہ نہیں ہے کیا۔۔۔۔۔؟؟”آخر اس نے زچ ہوتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اسکا باپ اور بڑا بھائی اپنے اپنے مئوقف پر ڈٹے ہوئےتھے۔۔۔
“تجھ پر ہے اس پر نہیں ہے۔”انہوں نے لیپ ٹاپ پر ابراہیم کی شکل دیکھتے ہوئے کہا……
وہ دور بیٹھا وہ بری طرح تلملایا۔۔۔
“کیوں یقین نہیں ہے آپکو مجھ پر۔۔جو بھی چیز لیں اپنے یا اسماعیل کے نام لیں۔۔میں فیوچر پلان کررہا ہوں۔۔”
“وہاں بیٹھ کر ہماری پلاننگ کررہا ہے۔۔”وہ طنز کئے بغیر نہ رہ سکے….
“پاپا۔۔۔یہ بات کرنا ضروری ہے۔۔۔؟”وہ بھی کہے بغیر نہ رہ سکا……
وہ اسکے چہرے پر مرجھاہٹ دیکھ رہے تھے۔
ان کا دل نرم ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔اور پھر دل نرم ہونے کا مطلب ابراہیم کے موقف کی حمایت کرنا تھا۔۔۔۔۔اور پھر تمام معاملات کو سیٹ ھوتے ایک سال لگ گیا تھا۔۔۔۔۔۔
اسحاق صاحب کے دونوں ہی بچے ذہین تھے۔
اس نئے کام میں ابراہیم اپنے بھائی کوفل سپورٹ کر رہا تھا۔۔
ان کے قدم جم رہے تھے۔۔۔۔
٭٭٭٭
“میں جینیفر سے پیار کرتا ہوں اور اسی سے ہی شادی کرنے کا پروگرام ہے…”
ابراہیم نے آرام سے اپنے چھوٹے بھائی کو اطلاع دی تھی…
یک دم اسماعیل نےآنکھیں بند کرتے لمبی سانس کھینچی۔۔۔وہ اس کے سوا کیا کر سکتا تھا….
“پاپا نہیں مانیں گے۔۔۔”لمحے بعد وہ بولا تھا۔
“تو پاپا کو بات سے آگاہ کر تجھے پتا ہے کہ ۔۔۔۔۔میں دو ٹوک بات کرتا ہوں اس لئےانہیں اچھا نہیں لگے گا….”
اور پھر اسماعیل نے باپ سے بات کی تھی وہ یک دم سر تھام کر بیٹھ گئے تھے۔۔
جینیفر کے نام پر پورا نقشہ انکی آنکھوں میں کھنچ گیا تھا۔۔۔
“تم نے قسم کھا رکھی ہے ابراہیم کہ تم ہر دو تین سال بعد میرے سر پر بم پھوڑو گے۔۔؟مجھے پتا ہے میرے منع کرنے کے بعد بھی شادی تو۔۔۔۔۔تو نے وہیں کرنی ہے…اگلی دفعہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا لینا تاکہ ھم باپ بیٹا اسے بھی سلامی دے سکیں…..”
وہ کھل کر ہنسا تھا اس طنز میں انکی ہاں تھی۔
“کمینے۔۔۔دانت مت نکال اگر تو میرے سامنے ہوتا تو تیرے دانت توڑ دیتا…”
وہ واقعی اس فیصلے سے ناخوش تھے……
وہ اسکے اثرات محسوس کر سکتے تھے..
جینیفر سے شادی کے بعد جیسے خوش قسمتی کے دروازے ان پر کھل سے گئے تھے پیسہ۔۔۔خوبصورتی۔۔۔۔۔اور ذہانت۔۔۔۔۔ ان کے گھر میں بارش کی طرح برسنے لگی۔۔۔۔۔۔
یہ تو ابراہیم نے کبھی نہیں سوچا تھا…..
اور جب سب اچھا آتا ہے تو آزمائش بھی آتی ہے۔۔
٭٭٭٭
یہ سجا سجایا برتھ ڈے کا فنکشن تھا….
بسمہ۔۔۔اسماعیل کی بیوی شادی کے بعد پہلی دفعہ کینیڈا صرف آٹھ دن کے لئے ان کے پاس آئی تھی ورنہ بات زیادہ موبائل پر ہی ہوتی تھی۔ جینیفر نے ہی بسمہ کی بچی کے لئے پارٹی کا اہتمام کیا تھا……جس میں کچھ اس کی اپنی فرینڈز اور ان کے بچے شامل تھے…..
یوشع نے بے زاری سے ایک نظر خاموش سے صوفے پر بیٹھی نیمل کو دیکھا اور پھر سجی کیک کی ٹیبل کو۔۔کوفت کی لہر اسکے اندر دوڑی تھی۔
اسنے اپنے ہاتھ میں بندھی گھڑی میں ٹائم دیکھا۔۔چلتی سوئیاں اسکا ٹائم ضائع کر رہی تھیں پھر اٹھ کر میز تک آیا…..پلیٹ پکڑی۔۔۔اور نائف سے کیک کاٹ کر پلیٹ میں رکھا۔۔۔تب تک بات کرتے کرتےجینیفر کی نظر اس پر پڑی تھی
وہ بیچاری خجالت سے اپنی فرینڈ سےایکسکیوز کرتی جب تک اسکے پاس پہنچی وہ دیگر لوازمات سے پلیٹ بھر چکا تھا۔سب کی طرح بسمہ بھی اب اس پر متوجہ ہو چکی تھی۔ جینیفر شرمندہ سی بسمہ سے معذرت کرتی اس تک پہنچتی، تب تک وہ آرام سے گلاس ونڈو کے سامنے بیٹھ چکا تھا۔
وہ غصے سے اسکی طرف آئی۔ بقول جینیفر کے وہ اس گھر کی عجیب مخلوق تھا۔اسکی ساری حرکتیں اسکے مرحوم بھائی فلپ جیسی تھیں۔۔
” یوشع ۔۔۔یہ کیا حرکت ہے۔۔۔”
“?What”
وہ سمجھ کر بھی ڈھٹائی سے بولا۔۔۔۔۔
“زیادہ انجان بننے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔تم جانتے ہو۔۔۔”وہ آنکھ سے پلیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولیں۔۔
“تمہیں پتا ہے کہ کسی کی برتھ ڈے کیک کو ایسے۔۔۔”ابھی وہ بات مکمل کرتی کہ بسمہ نے پیچھے سے آکر اسے ٹوک دیا۔۔
“اٹس اوکے بھابھی،آپ چھوڑیں مہمانوں میں جائیں۔”
“پر۔۔۔” جینیفر منمنائی۔۔
“کوئی بات نہیں جائیں۔۔۔۔”جینیفر غصے سے اس پر نظر ڈالتی چلی گئی۔۔۔۔
“سوری میں نے آپ کے بےبی کا برتھ ڈے اسپوائل کردیا۔۔۔”
یوشع نے کندھے اچکا کر نارمل انداز میں کہا۔
بسمہ مسکرائی۔۔۔
“اچھا۔۔”
تو وہ محسوس کرچکا تھا۔ یہ خوش آئند بات تھی۔۔۔
یوشع ۔۔۔بسما کو اچھا لگتا تھا کیوں۔۔؟ اسے خود نہیں پتا تھا۔
وہ اس بچے میں عجیب کشش محسوس کرتی تھی۔۔۔حالانکہ وہ اس کو براہ راست دوسری بار دیکھ رہی تھی۔
وہ ابھی بھی اسے غور سے دیکھ رہی تھی۔ فورک سے کیک منہ میں ڈالتے اسکی نظر ان پر پڑی۔۔۔انہیں مسلسل اپنی طرف دیکھتا پاکر وہ تھوڑا کنفیوزڈ ہوا۔۔۔نچلا ہونٹ منہ میں دبائے اس نے انہیں دیکھا۔
“Mrs. Ismail, you are confusing me”
وہ مسکرائی۔۔۔۔
وہ اسے اسی طرح پکارتا تھا۔۔۔آنٹی یاچاچی نہیں کہتا تھا۔۔۔۔۔
“تم کنفیوز بھی ہوتے ہو۔؟”جینیفر کے مطابق وہ مضبوط اعصاب رکھتا تھا۔۔
“یس۔۔۔” یک لفظی جواب دیا۔۔۔
“اور ابھی تم کس بات پر کنفیوز ہورہے ہو۔؟”
“آپ کے اس طرح دیکھنے پر۔۔۔”
“کیسے دیکھ رہی ہوں میں۔۔؟”بسما نے اسکی نظر کی باریک بینی سے متاثر ہوکر ذرا آئی برو اچکا کر پوچھا۔
اس نےفورک پلیٹ میں رکھ کر بسما کی طرف دیکھا۔۔۔
“سوری وہ میں نہیں بتا سکتا۔۔۔”
ابھی وہ پوچھتی کیوں۔۔۔؟ تبھی جینیفر نے اسے بلایا تھا
“چلو۔۔۔بسمہ نے گردن کے اشارےسے اسے بھی چلنے کے لیے کہا تو وہ اٹھ گیا۔۔۔۔
اب وہ اسے اپنی نظر کی کیا بات بتاتا کہ اسکی نظر کہاں کہاں۔۔۔۔۔اور کس کس جگہ جاتی ہیں تو۔۔۔۔۔وہ انکی نظر میں ضرور بیڈ بوائے بن جاتا ۔
اپنےایک ہفتے قیام کے دوران وہ اس چھ سالہ بچے سے بے حد متاثر ہو چکی تھی۔۔
٭٭٭٭
ان گزرے سترہ سالوں میں اسماعیل صاحب کے بزنس نے خوب ترقی کی تھی۔۔۔۔
اکثر اوقات بسمہ۔۔۔اسماعیل کے ساٹھ ٹریول بھی کرتی تھیں۔۔۔۔۔
“بھابھی بہت نصیب والی ہیں اللہ نے انہیں خوبصورت اور ذہین بیٹے عطا کئے ہیں۔۔۔”
“ہوں۔۔۔پر اللہ پھر سے ہم کو بھی تو خوشی دکھانے والا ہے۔۔۔” اسماعیل نے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے تسلی کے انداز میں کہا کیونکہ بسمہ کو بیٹے کی خواہش تھی۔۔
“ایک بات کہوں۔۔۔مجھے یوشع بہت پسند ہے میرا دل کرتا ہے کہ جب نیمل بڑی ہو تو اسکی شادی یوشع سے ہو۔۔۔”
“کیا کہہ رہی ہو ابھی وہ بہت چھوٹی ہے اور ان باتوں کیلئے بہت وقت ہے..”
“میں نے ایک دفعہ پاپا سے بھی اس خواہش کا اظہار کیا تھا۔۔”بسمہ نے انکی بات پر توجہ دیئے بغیر کہا۔۔
“اچھا۔۔۔حد ہوگئی تمھاری جلد بازی کی۔۔۔”
“ویسے مجھے ذاتی طور پر بھائی کابڑا بیٹا میکائل پسند ہے بہت سمجھدار ذہین بچہ ہے۔۔۔اور یوشع ۔۔۔وہ تو پتا نہیں کیا ہے ۔۔؟ وہ مجھے اتنا اچھا نہیں لگتا۔”اسماعیل نے صاف گوئی سے کہا۔۔
“ایویں ۔۔۔ذہین ترین ہے وہ۔۔۔۔کچھ مختلف ہے اس میں۔” انہیں یوشع کے بارے میں ان کی صاف گوئی زیادہ پسند نہیں آئی۔۔۔
“ہاں۔۔بدتمیز اور روڈ ہے۔۔”
“کیا بدتمیزی کی ہے اس نے تمھارے ساتھ ۔۔۔۔؟”
وہ اسکے معاملے میں اپنے شوہر کو بھی رعایت نہیں دے رہی تھی۔۔۔اس لئے تنک کر بولی ۔
“اچھا چھوڑو کچھ کھاتے ہیں۔۔۔۔ ڈرائیور اب جو ہوٹل آئے گا وہاں گاڑی روکنا۔ “
اسماعیل کا انداز بات ختم کرنے والا تھا…..
٭٭٭٭
دن کے ساڑھے تین بجے فون بجا تھا اور جوخبر انہیں ملی تھی۔۔۔وہ اسحاق کی دنیا الٹا دینے کے لئے کافی تھی۔ صدمے نے انہیں گہری کھائی میں دھکیل دیا تھا۔۔۔وہ صوفے پر ڈھے سے گئے تھے۔
معروف بزنس مین اسماعیل اسحاق کی گاڑی کو جان لیوا حادثہ پیش آیا تھا۔اسماعیل موقع پر جاں بحق ہوگئے تھے اورانکی اہلیہ بسمہ انتہائی کریٹیکل کنڈیشن میں ہسپتال میں تھیں۔ خبروں میں ٹریگر یہی چل رہے تھے۔
پل میں ایک خاندان تنکے کی طرح بکھر گیا تھا۔
٭٭٭٭
ابراہیم جیسا مضبوط انسان بھی تکلیف سے دوہرا ہوگیا تھا۔
اسوقت حواس باختہ ہونا فطری بات تھی۔
اب ان کی ایک جان اور سو بکھیڑے تھے۔
وہ ایمرجنسی فلائٹ کے ذریعے پاکستان آئے تھے۔
جینیفر دو دن بعد پہنچی تھیں۔ میکائل کے ہائی اسکول کا مسئلہ تھا۔
اس لئے اس کو وہیں چھوڑ دیا تھااور تینوں بچوں کو لے کر پاکستان آگئیں تھیں..
ابراہیم نے اپنے بھائی کا چہرہ دیکھا۔
یہ وہ چہرہ تھا جسے ابراہیم نے ہر دم مسکراتے دیکھا تھا….
” میرا فرمانبردار بھائی۔۔”شدتِ غم سے ابراہیم کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔ کنپٹیوں کی رگیں پھول گئیں تھیں۔
یوشع نے انہیں غور سے دیکھا تھا۔
“یہ اتنی رونے والی بات تو نہیں، ڈیڈ آخر اتنا کیوں رو رہے ہیں۔۔۔” اس نے حیران ہو کر سوچا۔
پھر تدفین کے بعد ابراہیم نے کیسے باپ کو سنبھالا کیسے گھر کے معاملات کو دیکھا، انہیں خود پتا نہیں چل رہا تھا۔ بس وقت کا بہاؤ انہیں آگے دھکیل رھا تھا…
بسمہ ہسپتال میں وینٹیلیٹر پر تھی۔
اس کی خبر کبھی بھی آسکتی تھی۔
یوشع کو جب بسمہ کے بارے میں پتا چلا تھا اس کو پہلی بار افسوس ہوا تھا۔
اس موقع پر سب سے بڑا غم نیمل کا تھا۔
اپنے مستقبل سے ناآشنا بڑی ترس شدہ حالت تھی اسکی……
اتنی عقل نہیں تھی اس میں لیکن اسکو اتنا پتہ تھا کہ کچھ بہت غلط ہوگیا ہے۔۔۔۔
“دادا آپ اتنا کیوں رو رہے ہیں۔۔۔؟”
“ماما کہاں ہے ؟”
آپ نے کہا تھا ماما آجائیں گی وہ آئی کیوں نہیں۔۔؟ پاپا کہا ں گئے ؟ رات کو بھی نہیں آئے۔”
دن تو جیسے تیسے گزر جاتا تھا پر رات کو وہ برداشت نہیں کرپاتی تھی بہلانے کے باوجود بھی وہ سنبھل نہیں رہی تھی۔
جینیفر جتنا مرضی پیار کرتی یہ فطری بات تھی کہ وہ اس سےاٹیچ نہیں ہوسکتی تھی۔ ایسے میں اسحاق نے کمر کس کے اسے سنبھالا تھا۔
اور کچھ دنوں بعد بسمہ کا انتقال بھی ہوگیا تھا۔۔۔غم پھر سے پڑا تھا۔۔۔اسحاق سارا وقت اسے لئے الگ تھلگ بیٹھے رہتےاور وہ ہونق زدہ ان کے ساتھ چمٹی رہتی گھر کی فضا اسے ٹھیک نہیں لگ رہی تھی اسے رونا آرہا تھا اور وہ دادا کے سینے میں گھسی ہلکا ہلکا رو بھی رہی تھی۔
اور جو یہاں سب سے زیادہ آوا زار ہورہا تھا وہ یوشع تھا۔۔۔یہ رونا دھونا۔۔۔افسوس کرنے والوں کی آمد۔۔۔اور نیمل کا دادا کے ساتھ چپک کر رہنا اور بات کو نہ سمجھتے ہوئے بھاں بھاں کرکے رونا۔۔۔۔۔
“آخر یہ بات کو انڈر سٹینڈ کیوں نہیں کر رہی اس میں اتنی عقل کیوں نہیں ہے۔”انہی باتوں پر خود سے تبصرے کرتا اب وہ بےزار سا ہونے لگا تھا۔۔
٭٭٭٭
وہ اس خاموشی میں رات کے ساڑھے دس بجے اپنا سر تھامے بیٹھے تھے۔ تبھی جینیفر انکے پاس آئی تھی۔۔۔۔۔
“ابراہم۔۔۔اب کیا ہوگا۔۔۔؟”
انہوں نے یک دم سر اٹھا کر سرخ آنکھوں سے انہیں دیکھا۔ انہیں اس سوال کے انداز اور اس میں چھپے ان کے اندیشے پر چبھن محسوس ہوئی تھی۔
تبھی وہ غصے میں آئے تھے۔
یقیناٗ۔۔۔ وہ اپنی بیوی کے منہ سے اس وقت ایسی بات سننا نہیں چاہتے تھے۔
وہ دلجوئی۔۔۔ ہمدردی۔۔۔ڈھارس ۔۔۔حوصلے۔۔۔۔جیسے الفاظ سننے کے خواہش مند تھے۔۔۔۔
“مجھے نہیں پتا کہ۔۔۔کیا ہوگا ۔۔؟ میرا بھائی ٹائی سوٹ پہن کر مرنے کے لئے نہیں گیا تھا اور نہ ہی اسکی بیوی۔” وہ دانت پیس کر بولے
وہ پل میں ابراہیم کے رویہ پر حیران رہ گئی تھیں۔۔۔
“میرا کہنے کا مطلب وہ۔۔۔۔”
“میں اچھی طرح جانتا ہوں تمھارا کیا مطلب تھا، تمھیں اس وقت میرے سے زیادہ اپنی فکر پڑی ہے کہ تم یہاں کیسے رہوگی۔ “وہ انکی بات کو کاٹ کر غصے سے دھاڑے۔۔
جینیفر آنکھیں پھاڑے انہیں دیکھ رہی تھی ۔۔۔ ابراہم کا یہ روپ تو وہ پہلی بار دیکھ رہی تھی۔
“میرا کہنے کا وہ مطلب نہیں تھا ۔۔” وہ ذرا سنبھل کر بولیں….
“تمھارا کہنے کا جو بھی مطلب ہے اسے اپنے پاس رکھو۔۔” وہ غصے سے کہتے لاؤنج سے باہر نکل گئے…
پیچھے وہ سن سی رہ گئی ابراہم۔۔۔کا یہ رویہ ان کے لئے ناقابلِ برداشت تھا۔
وہ جانتی تھی کہ یہ بزنس ابراہم نے ہی سنبھالنا ہےلیکن جینیفر کے لئے اپنا ملک، اپنی ماں،اور بنا بنایا سیٹ اپ ختم کر دینا اتنا آسان نہیں تھا….
وہ وہاں سے اٹھ کر اپنے باپ کے کمرے میں آئے تھے۔
کمرے میں مکمل اندھیرا نہیں تھا ایک لائٹ جل رہی تھی وہ ٹیک لگائے بیٹھے تھے……
“آپ اب تک سوئے نہیں پاپا ” کہتے ہوئے وہ انکے قریب بیٹھ گئے…….
ابراہیم نے انکا چہرہ دیکھا زیادہ رونے کی وجہ سے انکے پپوٹے بری طرح سوج چکے تھے اور آنکھوں کے نیچے کی جلد سرخ ہو چکی تھی.
“اب نیند کہاں آئے گی۔۔۔؟”وہ تکلیف سے کراہے۔
“صحیح کہا پاپا۔۔۔ نیندیں تو میری بھی اڑ گئی ہیں ۔۔بزنس۔۔۔جاب، بچوں کا مستقبل سب ہاتھوں سے نکلتا دکھائی دے رہا ہے۔” بائیں ہتھیلی پر شہادت کی انگلی پھیرتے وہ آزردہ سے تھے…….
“میں اپنے آپ کو بہت کمزور محسوس کر رہا ہوں پاپا۔۔۔”ابراہیم نے نگاہ اٹھاتے باپ کی طرف دیکھ کر کہا…..
اسحاق کا دل کٹا تھا انہوں نے غور سے اسے دیکھا اور اگلے ہی لمحے کھینچ کر اپنی بانہوں میں بھر لیا…..
وہ باپ کے سینے سے لگتےہی رو دیئے تھے….
” تم میرے بہت بہادر بیٹے ہو مضبوط فیصلے کرنے والے۔۔۔اب کمزور مت پڑو۔۔اللہ پر بھروسہ رکھو۔۔۔”انہوں نے پیار سے ان کی کمر تھپتھپاتے ہوئے سمجھایا……
جس محبت۔۔ڈھارس اور ہمت کے احساس کےلمس کی انھیں ضرورت تھی اسوقت اسکا باپ اسے وہی مہیا کر رہا تھا۔
آنسو صاف کرتے وہ ان سے الگ ہوئے تھے تبھی اسکی نظر انکے پاس لیٹی نیمل پر پڑی۔۔ تکلیف پھر اٹھی تھی….
” یہ آج اتنی جلدی کیسے سو گئی۔۔۔۔؟”
” تھوڑا بخار ہوگیا تھا اسے دوائی دے کر سلایا ہے۔۔۔۔۔”
“اسکی شکل اسماعیل سے ملتی ہے۔” ابراہیم نے کہا
” ہوں۔۔۔ہاں۔۔۔” اسحاق چونکے۔۔
“پتا نہیں بن ماں باپ کے اسکی پرورش کیسے ہو گی؟” وہ اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے دقت سے بولے….
” میں کہنا تو نہیں چاہتا لیکن اسماعیل کے غم نے میری کمر توڑ دی ہے….”
ابراہیم نے یک دم انکا ہاتھ تھاما۔۔۔
“آپ تو مجھے سمجھا رہے تھے اب خود ایسا کہہ رہے ہیں ، آپ فکر نہ کریں میں ہوں نا۔۔۔”
آہ۔۔۔کیا یاد آیا تھا جانے والا بھی تو ایسا ہی کہتا تھا۔
٭٭٭٭
جینیفر اور ابراہیم بہت مصروف ہونے والے تھے۔
باہر تو بچوں کے سارے معاملات وہ سنبھالتی تھی….
میکائیل کو ہاسٹل داخل کروانا تھا….
بچوں کے سرٹیفکیٹس اور بینک کے معاملات دیکھنے کے لئے انکا باہر جانا ضروری تھا…
ان کے آنے کے بعد ابراہیم نےکینڈا جاکر اپنے آفس اور گھر کے معاملات کو نمٹانا تھا……
یہاں آنے کے ایک ہفتہ بعد ہی وہ ریزائن کرچکے تھے…..
کسی حد تک تو یوشع یہ بات جانتا تھا کہ اسکا باپ یہیں رہنے کا فیصلہ کرے گا۔۔
اور یہی بات اسکے لئے پریشان کن تھی۔۔۔۔۔۔
٭٭٭٭
