Secde - Phycological Thriller -The Dangerous Journey from Pride to Punishment readelle50003 Secde Episode 08 A Marriage Without Consent
No Download Link
Rate this Novel
Secde Episode 08 A Marriage Without Consent
انہی دنوں اسحاق صاحب نے اسے اس رشتے یعنی نکاح کے بارے میں بتایا تھا۔۔۔
شاکڈ سے اسکی آنکھیں پھٹ گئیں تھیں۔۔۔
دل لمحے کیلئے بند ہوا تھا۔۔۔۔۔
تکلیف سے اپنے گرتے جبڑے کو سنبھالتے وہ ہکلائی تھی۔۔۔
“نہیں۔۔۔نہ۔۔۔ایسا نہیں ہوسکتا ہے۔۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟”وہ بے یقینی کی انتہا پر تھی….. “مطلب۔۔۔۔۔آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں ؟”وہ بری طرح دل برداشتہ ہوئی تھی……
تین دن تک وہ مسلسل روتی رہی تھی……
گھر والے اسکے اس ردِعمل کے لئے تیار تھے۔۔۔۔۔پر۔۔۔۔۔۔۔۔اتنا زیادہ۔۔؟
وہ سب ٹینشن میں آگئے تھے۔۔۔۔۔۔
اب اس حادثے میں کیا تبدیلی آتی۔۔۔۔۔۔
اس نے رو رو کر اپنا ہی حال برا کر لیا۔۔۔۔۔۔
دکھتے سر کو تھامے اسے اپنا مستقبل بھیانک نظر آرہا تھا۔۔۔۔۔۔
اکیلے میں یا پھر۔۔۔۔۔اپنی عزیز ترین دوست فاطمہ کے کندھے پر سر رکھ کر یوشع کو برا بھلا کہتے اور منہ بھر کر اس سے طلاق کی بات کرنا اور بات تھی۔۔۔۔۔
لیکن یہی بات وہ دادا سے آسانی سے نہیں کہہ سکتی تھی۔۔۔۔
اچھی تربیت اور فرماں برداری کا ٹائٹل اسکو دل کی بات کرنے سے منع کررہا تھا۔۔۔
لیکن پھر بھی اس نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ڈھکے چھپے الفاظ میں اس سے شادی نہ کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔۔
اسحاق خاموش سے ہوگئے تھے۔۔۔وہ اسکے متوقع ردِعمل اور جواب سے واقف تھے۔۔۔
“آپ کو یہ بات بتانے کا مقصد یہ نہیں تھا کہ آپ ٹینشن کا پہاڑ اپنے سر پر لاد لیں۔۔۔۔!!!بلکہ بتانا اس لئے ضروری تھا تاکہ آپ ذہنی طور پر تیار رہیں ، میں آپکے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔”
اس نے زخمی نظروں سے انہیں دیکھا……
زیادتی کرنے میں اب کسر ہی کیا رہ گئی تھی۔۔۔۔
اسکی نظروں کا مفہوم سمجھ کر انہوں نے اسے اپنے قریب کیا تھا…….
“آپ ابھی صرف اپنی پڑھائی پر توجہ دیں۔۔میں ہوں نا اللہ بہتر کرے گا….”وہ اسکا سر سہلاتے پیار سے سمجھا رہے تھے…..
پر اب اسے سکون کہاں ملنا تھا…….
دوسرا خوف بھی خاموشی کے ساتھ اسکے وجود سے جڑ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
ایک ناپسندیدہ شخص کے ساتھ رشتہ بنائے رکھنا کتنا بھیانک تھا یہ کوئی نیمل سے پوچھتا۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر اسکے اختیار میں یہ فیصلہ دے دیا جاتا وہ پل میں اس سے جان چھڑ والیتی۔۔۔
٭٭٭٭
اسحاق اندر ہی اندر نیمل کے ری ایکشن سے کافی پریشان ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔
ان کے دل کے چھپے خدشات سر اٹھا رہے تھے۔
“یا اللہ۔۔۔۔اسوقت میں نے یہ فیصلہ مستقبل کے تناظر میں کیا تھا…..وقتی طور پر بھول گیا تھا کہ مستقبل کی حفاظت کرنے والا بھی تو تو ہی ہے ….میں ناقص العقل تھا…..میرے اس فیصلے کی حفاظت کر ۔۔۔”
پروہ دونوں اس فیصلے کی حفاظت تو دور اسکی حمایت بھی نہیں کرناچاہتےتھے………
٭٭٭٭
اپنے شاندار اکیڈمک ریکارڈ اور بہترین ذہانت کی بیس پر اسے ہر جگہ نوکری مل سکتی تھی
ابراہیم اسے بزنس ایجوکیشن کی تعلیم دلوا کر اسے اپنے بزنس میں لانا چاہتے تھے۔۔۔۔۔۔
پر وہ ان کی سننا کب کا چھوڑ چکا تھا۔۔۔۔۔۔
اس نے اپنی جاب کا آغاز ایک بڑی آٹو کمپنی سے کیا تھا۔۔۔۔۔۔
اسکی پہلی ترجیح اپنی ڈیزائن کردہ کار کو مارکیٹ میں لانا تھا۔۔۔۔۔۔
کمپنی کے اونر اور بورڈ ممبرز چند مہینوں میں ہی اسکی کارکردگی سے متاثر ہو چکے تھے۔۔۔۔۔
٭٭٭٭
میکائیل کا رشتہ پکا ہوگیا تھا زید بڑی ہی خاموشی سے باپ کا دایاں بازو بن گیا تھا۔۔۔۔۔
وہ اپنے تعلیم کے دوران ہی وقت نکال کر آفس جاتا میٹنگ میں خاموشی سے بیٹھ کر اہم پوائنٹس نوٹ کرتا۔۔۔۔
وہ تیزی سے سیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
ابراہیم کے بچوں میں ایک خاص بات تھی۔۔
وہ بچپن سے ہی اپنے پروفیشن چن چکے تھے اور اسی پر قائم تھے۔۔۔۔۔
زید اب باقاعدہ باپ کے ساتھ انکے بزنس میں ہاتھ بٹا رہا تھا۔۔۔۔۔
٭٭٭٭
ابراہیم کے ہاتھ میں یوشع کا بھیجا لیٹر تھا اور ایک چیک۔۔۔
“ڈیڈ میں نے گھر خالی کروالیا ہے اب اس پورے گھر کا رینٹ میں خود پے کرونگا۔۔۔۔۔”
ابراہیم نے مختصر تحریر پڑھ کر چیک کو دیکھا۔
انہیں خوش ہونا چاہیئے تھا کہ انکا بیٹا ذمہ دار تھا لیکن وہ ایک بار پھر سے ناخوش ہوئےتھے۔۔۔۔
اسطرح اسکا چیک بھیجنا ، انہیں اپنی طبعیت پر گراں گزرا تھا۔۔۔۔
ایک چیلنج اور۔۔۔۔انہیں اسکی آنکھیں یاد آئی تھیں۔۔۔
“میں کہنا نہیں چاہتا لیکن یہی غرور کسی دن تجھے لے ڈوبے گا یوشع۔۔۔”
چیک اور لیٹر کو اپنی دراز میں رکھتے انہوں نے سوچا…….
٭٭٭٭
“یوشع۔۔۔اتنا وقت گزر گیا ہے تم کب آؤ گے۔۔۔۔؟”
جینیفر اب ہر بار اس سے یہی پوچھتی تھیں۔۔۔
“میں نہیں آسکتا آپ آجائیں۔۔۔” وہ صاف جواب دیتا…….اور وہ دل مسوس کے رہ جاتیں۔۔۔
وہ خود گھر کے معاملات میں حد درجہ مصروف ہوچکی تھیں۔۔۔۔۔۔۔
اور وہ خود بہت زیادہ مصروف رہتا تھا ڈیزائنگ کا کام آسان نہیں تھا وہ ڈیزائنگ کے ساتھ انجینرنگ کے شعبے سے بھی وابستہ تھا۔۔۔۔۔
٭٭٭٭
میکائیل کی شادی ہورہی تھی تیاری میں ہر چیز شاندار اور بہترین تھی۔۔۔۔
زویا کو جب میکائیل کے ساتھ بٹھایا گیا۔
ان دونوں کے چہروں پر چھائی خوشی نے نیمل کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔۔۔
کیسی سکون آور خوشی ہے جو وہ ایک دوسرے کی قربت میں محسوس کر رہے تھے۔۔
پل میں اسکو اپنا اور یوشع کا رشتہ یاد آیا تھا
سوائے نفرت کے کوئی احساس جاگتا ہی نہیں تھا۔۔۔۔۔
اسے زویا کی خوش نصیبی پر رشک آیا تھا۔۔۔۔۔۔
اور اپنی بد نصیبی پر رونا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنکھوں میں نمی اتری تھی۔۔۔۔۔
وہ اب شجرِ ممنوعہ کے سائے میں آگئی تھی۔۔۔
نا شکری کا پھل اس نے چکھ لیا تھا۔۔۔تبھی اسکا نفس بے صبری کا شکار ہوا تھا۔۔۔اب اس بے صبری نے اسے کب تک پریشان رکھنا تھا وہ خود نہیں جانتی تھی۔۔۔۔
سب کے بلانے کے باوجود وہ۔۔۔اس اہم شادی میں بھی نہیں آیا تھا…..
کیونکہ۔۔۔رشتوں کو اس نے کبھی اہمیت دی ہی نہیں تھی…
وہ صرف اپنے لئے اہم تھا….
٭٭٭٭
اسحاق یوشع اور نیمل کی شادی کے لئے سنجیدہ تھے۔۔۔۔۔
اسحاق نے ابراہیم سے بات کی تھی۔۔۔۔
بات سن کر ابراہیم پہلے خاموش سے ہوگئے تھے۔۔۔یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں تھا کیونکہ ان کے رشتے میں اپنائیت۔۔۔چاہت ۔۔۔انسیت ، محبت اور عزت کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔۔
یوشع اور نیمل دونوں ہی مختلف دنیاؤں میں رہنے والے لوگ تھے۔۔۔دونوں کے لائف سٹائل۔۔۔ترجیحات۔۔۔اور نظریات میں زمین آسمان کا فرق تھا اور ایسے میں یہ سب۔۔۔۔!!!
ابراہیم واقعی پریشان تھے۔۔
“پاپا اسی دن کی وجہ سے میں آپ کو منع کرتا تھا ۔۔۔۔۔ان دونوں کے حالات آپکے سامنے ہیں وہ دونوں یہ رشتہ نہیں چاہتے۔”
“تم کیا چاہتے ہو؟”اسحاق نے سنجیدگی سے پوچھا…..
“میں وہی چاہتا ہوں جو آپ چاہتے ہیں۔۔۔لیکن ہمارے چاہنے سے کیا ہوتا ہے؟اور میری تو اس وقت بھی آپ نے چلنے نہیں دی تھی۔۔۔”اتنے دنوں بعد وہ شکوہ کر ہی گئے تھے…..
“تم کیا چاہتے ہو کہ میں اس عمر میں اپنے کئے پر معافی مانگوں…..دنیا میں لاکھوں لوگوں کی شادیاں انکی مرضی اور خواہش کے خلاف ہوتی ہیں تو کیا وہ رشتہ نہیں نبھاتے…..میں بھی جینیفر سے تمھاری شادی کے خلاف تھا…..
پر وہ ہوئی نا۔۔۔ کون سا میں روک سکا
پیدائش۔۔۔نکاح۔۔۔موت۔۔۔۔تقدیر ، اولاد
یہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔
اور پھر تم ایسی بات کرکے مجھے گلٹ میں کیوں ڈالتے ہو۔۔۔؟”
ابراہیم نے یک دم معافی کے انداز میں ان کے ہاتھ کو پکڑا تھا…..
وہ فرماں بردار ہی رہنا چاہتے تھے…..
“پاپا۔۔۔۔میں معافی چاہتا ہوں میرا مقصد آپ کا دل دکھانا نہیں تھا….پر جو حقیقت ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔۔۔”
“اگر تم یوشع کی تربیت خاص طریقے سے کرتے تو آج ہم یوں پریشان نہ بیٹھے ہوتے..!!!”
ابراہیم کے دل نے تکلیف سے کروٹ لی تھی تربیت کے معاملے میں یوشع انہیں ہمیشہ کٹہرے میں کھڑا رکھتا تھا……
“بہرحال بچوں کی وجہ سے میں اس رشتے کو ختم نہیں کرسکتا…….ہر حال میں اسے نبھانا ہی ہوگا…..تم یوشع سے بات کرو میں نیمل کو دیکھ لوں گا….”
“اور نیمل کی پڑھائی؟”ابراہیم نے سوال اٹھایا۔
“کوئی مسئلہ نہیں ہے پڑھائی میں اچھی ہے ، وہاں جاکر بھی پڑھ لے گی۔۔۔۔بس اب میرا ذہن کہتا ہے کہ ان دونوں کو ساتھ رہنا چاہیے۔۔۔”
اسحاق کی بات پر وہ خاموش ہوگئے تھے…..
کر بھی کیا سکتے تھے آج بھی ان کی قسمتوں کی ڈوریاں اسحاق صاحب نے سنبھال لی تھیں..
٭٭٭٭
ابراہیم نے یوشع سے بات کی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ خاموش سا ہوگیا تھا۔۔۔۔
نیمل نام کی مصیبت اس نے اپنے گلے میں خود ڈالی تھی۔۔۔۔۔۔
“ڈیڈ میں نے اس بارے میں نہیں سوچا، میں اپنے کیریئر پر دھیان دینا چاہتا ہوں…”
لمحے کی خاموشی کے بعد اس نے جواب دیا تھا جو ان کی توقع کے مطابق تھا…..
“تمہیں اپنے کیریئر کی کب سے فکر ہونے لگی، کیا تمھیں اپنی ذہانت پر شک ہے…..؟”
ابراہیم نے اسکا جوتا اسی کے سر مارتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔
ایک پل کیلئے وہ ذرا لاجواب ہوا تھا۔
“ڈیڈ۔۔۔کیا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ میں شادی کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتا۔۔۔۔۔؟”
گویا بڑی سنجیدگی سے پوچھا تھا….
“ہاں۔۔۔۔۔۔میں یہی کہنا چاہ رہا ہوں۔۔۔۔۔”
“تو پھر ٹھیک ہے میں تیار ہوں۔۔۔۔۔”
اس نے اہم فیصلہ نہایت جلد بازی سےاور غیر ذمہ داری سے لیا تھا۔۔۔۔۔
ادھر ابراہیم اسکی عجلت پر حیران رہ گئے تھے۔
انہیں نہیں پتا تھا کہ اسکی ذہانت پر وار ہی اسکی کمزوری ہوگی……
٭٭٭٭
ادھر دادا کی بات سنتے ہی اسکا دل بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔۔
“دادا آپ ایسے کیسے کرسکتے ہیں ۔۔۔؟میری پڑھائی۔۔۔”وہ منمنائی۔۔۔۔
“تم وہاں جاکر پڑھ لینا….”صاف جواب ملا تھا…
“دادا ہم دونوں کے مزاجوں میں فرق ہے..”وہ رندھی آواز میں اپنے لہجے کو نارمل کرتے بولی….
“مزاج اجنبی ضرور ہوتے ہیں پر شادی کے بعد انڈرسٹینڈنگ ہو ہی جاتی ہے….”
اسکا دل کیا بھاگتی ہوئے جائے اور دیوار پر سر مار دے۔۔۔پر کچھ باتیں بس سوچی جاسکتی ہیں…..
“دادا وہ مجھ سے نفرت کرتا ہے….”وہ سچ نہیں کہہ پائی کہ وہ اس سے نفرت کرتی ہے۔۔۔۔
“تو تم اس سے محبت کرلینا۔۔۔بیوی کی محبت میں بہت طاقت ہوتی ہے… اور آخر میں نے تمہاری تربیت ایسے کی ہے کہ تم خودبخود اس سے محبت کروالو گی۔۔۔”
اس نے خالی نظروں سے دادا کو دیکھا۔۔۔وہ دنیا میں رہ کر پرستان کی باتیں کررہے تھے..
یہ حقیقت نہ تھی اسکادل اور آنکھیں خون کے آنسو بہانے لگے تھے….وہ خاموش سی ہوگئی۔۔۔بعض جگہ دنیا بھر کی دلیلیں بھی سامنے والے کے ارادوں کو متزلزل نہیں کر پاتیں۔۔۔۔۔
اسے روتا دیکھ کر وہ رنجیدہ ہوئے لیکن اسوقت وہ کسی بھی قسم کی طرفداری دکھا کر اپنے فیصلے پر کمزور نہیں پڑنا چاھتے تھے۔۔۔
“اور یہ ہونا ہے بیٹا۔.”پھر وہ اسے پیار سے سمجھاتے رہے…..
وہ ستے چہرے سے خاموشی سے سن تو رہی تھی۔۔۔پر سمجھ بالکل نہیں رہی تھی.
٭٭٭٭
“فاطمہ دادا سب جانتے ہیں پھر وہ میرے ساتھ ایسا کیسے کرسکتے ہیں….”
وہ رو دینے کو تھی….
“تو تم اپنے ڈیڈ سے بات کرو..”.
“کیا بات کروں کہ مجھے آپ کے بیٹے سے شادی نہیں کرنی…..کہہ سکتی ہوں کیا میں ایسا۔۔۔۔۔؟”
وہ تلخی سے چٹخی…..
“نیمل اتنے سال گزر گئے ہیں ہوسکتا ہے کہ وہ بدل گیا ہو……!!!!”
“ناممکن۔۔۔۔۔کتے کی دم اگر سو سال تک بھی نالی میں پڑی رہے نا تو وہ ٹیڑھی کی ٹیڑھی ہی رہتی ہے….”
وہ نفرت کی انتہا پر اسکا تجزیہ کر رہی تھی….
“ہاں۔۔۔۔۔جانور کی رہ سکتی ہوگی پر ہم انسان کی بات کر رہے ہیں اور انسان بدلتا رہتا ہے….”
“وہ میرے لئے جانور ہی ہے جس کو یہ نہ پتہ ہو کہ لڑکی کی عزت کیسے کی جاتی ہے اور ایسے شخص سے طلاق لینا بہتر ہے۔۔۔۔ “
“یہ بہت بڑا فیصلہ ہے نیمل۔۔اور طلاق کے بعد لڑکی کیلئے بڑے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔۔”
“کیا مسائل بڑھ جاتے ہیں ہاں۔۔۔۔۔؟س”نابل نے تنک کر پوچھا۔۔۔۔۔
“بہت سارے ہیں۔۔۔۔۔۔سینکڑوں باتیں بنتی دوسری شادی مشکل سے ہوتی ہے سب لڑکی کو ہی الزام دیتے ہیں۔۔
اور بھئی بہت ساری وجوہات ہیں۔۔۔صبر کرو برا مت کرو اپنے ساتھ ۔۔۔”
نیمل نے گھور کر اسے دیکھا۔۔۔وہ دوست اسکی تھی۔۔۔طرف دار اسکی بن رہی تھی…..
“اوکے۔۔۔۔پر وہ “،برا” اس” بدترین” سے بہتر ہوگا…..”نیمل نے ہاتھ اٹھا کر بات ختم کرنے کے انداز میں کہا۔
فاطمہ چپ سی ہوگئی تھی۔۔۔۔۔
بات کرنے کی گنجائش رہی کہاں تھی۔۔۔۔۔۔
٭٭٭٭
صبح کے تقریبا ساڑھے نو بجے تھے زید آفس جاچکا تھا نیمل کالج میں تھی اسے پروسپیکٹس لینا تھا۔۔۔۔۔۔
ابراہیم آفس کیلئے نکلنے والے تھے۔۔۔۔
ایسے میں اسکی آمد ہوئی تھی۔
اسکے ڈائننگ تک آتے ہی تیز ترین خوشبو پھیل چکی تھی وہاں موجود سب کی توجہ اس پر گئی تھی۔۔۔۔۔
مشروم کلرسوٹ میں گولڈی براؤن لیئرنگ ہیئیر کٹ میں وہ ان کے سامنے تھا۔۔۔۔۔
وہ ہمیشہ سے اپنی چیزوں کے معاملے میں آرگنائیزڈ تھا لیکن اب ڈریسنگ کے معاملے میں بھی وہ کافی کانشیس ہوگیاتھا۔۔۔۔۔۔
اسکے لک کے علاوہ ہاتھ میں بندھی مہنگی گھڑی بھی قابل ستائش تھی۔۔۔۔۔۔
سب کو وہ بدلا ہوا لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
جینیفر نے اسے بانہوں میں بھر لیا تھا ابراہیم بھی کھل اٹھے تھے۔۔۔۔۔
اور اسحاق ان کا دل شاد شاد ہوگیا تھا۔۔۔۔۔
دس سال بعد وہ اس گھر میں آیا تھا۔۔۔۔۔
ابراہیم اب آفس دیر سے جانے والے تھے۔۔۔۔۔۔
٭٭٭٭
زری انکی وہی پرانی میڈ کی بیٹی تھی وہ اس گھر کے حالات اور نیمل کے اس رشتے سے بھی واقف تھی۔۔۔
اور اس کو آتے ہی جینیفر سے پتہ چل گیا تھا کہ یہ انکا بیٹا یوشع ہے۔۔۔
“بیگم صاحب۔۔۔آپ کے بیٹے تو بہت خوبصورت ہیں بالکل انگریزوں کی طرح ۔۔۔اسکی شکل تو بالکل آپ جیسی ہے۔۔۔۔۔”
جینیفر مسکرائی۔۔۔۔۔۔۔
اسے پتا تھا کہ یہاں ہمیں ایسا ہی سمجھا جاتا ہے ۔۔
وہ اپنے کمرے میں آکر منہ ہاتھ دھوکر بیٹھی تھی کہ زری آگئی۔۔۔۔۔
آتے ہی دانت نکال کر اس نے جو خبر سنائی وہ اسکے پاؤں تلے زمین کھینچنے کےلئے کافی تھی
اسکا دل مٹھی میں بند ہوا تھا کہ۔۔۔ قسمت پھر گردش میں آنے والی تھی۔۔۔۔۔۔۔
جو بلا اتنے سالوں سے ٹلی ہوئی تھی وہ پھر سے اسکے سر پر سوار ہونے والی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ ہونٹ چبائے کچھ سوچتے موبائل کی طرف بھاگی تھی۔۔۔۔۔۔۔
ساری بات فاطمہ کو سنانے کے بعد وہ اسکے مشورے کی منتظر تھی۔۔۔۔۔۔
“ہوں۔۔۔۔پھر ایسا کرو اس سے خود بات کرو، ہوسکتا ہے کہ مسئلہ کا حل نکل آئے….”
یہ بات نیمل کو ٹھیک لگی تھی…..
گھر میں کسی بھی قسم کی بات ہونے سے پہلے اسے اپنی بات یوشع کے کانوں میں پہچانی تھی……
٭٭٭٭
وہ لاؤنج میں موبائل یر نظریں جمائے کھڑا تھا نیمل نے کیچن کی کھڑکی سے اسے دیکھا تھا۔۔۔
وہ دس سال بعد اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
دل میں کچھ نہیں جاگا تھا سوائے غصے۔۔۔اور نفرت کے۔۔۔۔
بلیک ٹی شرٹ میں اسکے جھلکتے سفید بازو پر رنگین ٹے ٹو بنا تھا۔۔۔۔۔
“غلیظ لوگوں کی یہی پہچان ہوتی ہے۔۔۔سوچتےہوئے ناگواری کی ایک لہر نیمل کے اندر دوڑی تھی…”
ابھی وہ پورا اور اسکا پوسٹ مارٹم کرتی کہ وہ ہلا تھا اور نیمل جلدی سے پیچھے ہوئی تھی۔۔۔۔۔
گہری سانس لی۔۔۔
“بات کرنے کیلئے تو سامنے ہونا ہی پڑے گا سو۔۔۔۔۔۔۔۔خود کو تیار کرتی وہ زری کے پاس آئی۔۔۔
“سنو۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔وہ”اب کیا کہہ کر بلائے اسے وہ سوچنے لگی اور زری سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی…..
“وہ جو نئے مہمان آئے ہیں انہیں بلا کر لاؤ۔۔۔۔ “
کون؟؟ یوشع صاحب “
“ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،”
زری معنی خیزی سے مسکرائی۔۔۔۔
“یوں لے کر آئی میں انہیں۔۔۔۔..”
“جلدی چلیں جی وہ آپ کو بلا رہی ہیں…”
وہ کمرے کی طرف جارہا تھا تبھی زری سر پٹ بھاگی اس کے پاس آئی تھی۔۔۔۔
“کون۔۔۔۔۔۔۔۔؟”
یوشع نے ابرو اچکا کر پوچھا…..
“وہ نیمل باجی اور کون…وہ بڑی بے چینی سے آپ کا انتظار کر رہی ہیں…وہاں کچن میں…”
وہ سمجھ گیا تھا یہ آخری بات اس نے خود کی ہے ورنہ نیمل۔۔۔اور اسکا انتظار۔۔۔۔
وہ اس پر ناگوار نظر ڈالتا پلٹ گیا وہ اسکے پیچھے ہوئی تھی۔۔۔۔۔
“مجھے کچن کا راستہ آتا ہے…” لہجے میں کرختگی تھی
وہ خجل سی واپس مڑ گئی تھی
اسکے کچن میں آتے ہی تیز خوشبو نیمل کی ناک سے ٹکرائی تھی…..
اس نے ناگواری سے ناک چڑھائی تھی جسے یوشع نے دیکھ لیاتھا۔۔۔۔۔
سادہ سے کپڑوں میں کالا دوپٹہ سر پر لئے وہ اسے آج بھی عام سی لگی تھی۔۔۔۔۔
نیمل نے اسکا چہرہ دیکھا بالوں کے بیچ جھلکتاکان کی لومیں چمکتا ڈائمنڈ اسے زہر لگا تھا…..وہ بھی اسی پر نظر جمائے ہوئے تھا۔
تبھی نیمل کی نظر اسکے کان سی ہٹتی اسکی آنکھوں سے ملی….
آنکھوں میں چھپے اسی گندے تاثر پر اس نے لمحے میں نظروں کا زاویہ بدلا تھا۔۔بہت کچھ یاد آیا تھا۔۔۔۔جو تکلیف دہ تھا…..
“مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔۔۔”وہ خود پر قابو پاتی بولی…..
“ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بولو..” یوشع نے پینٹ کی جیبوں میں انگوٹھے اڑاتے پوچھا…..
“وہ۔۔۔۔۔دادا اس رشتے کو ختم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں تم ان سے خود بات کر و….یہ رشتہ ختم کر دو، طلاق دے دو مجھے۔۔۔”
وہ اسکی بات پر حیران نہیں ہواتھا….وہ ایسی ہی بات کی توقع کررہا تھا…..
“(او۔۔۔۔ہ انکار میں کروں۔۔۔ تم اس وقت گدھے کو باپ بنارہی ہو ۔۔)”
وہ سوچ کر رہ گیا…..
“طلاق کیوں لینا چاہتی ہو ۔۔۔؟”
“ہوں۔۔۔۔۔”نیمل نے بھنویں سکیڑے ناسمجھی سے اسے دیکھا……
“مجھ سے طلاق کیوں لینا چاہتی ہو۔۔۔؟”
اس نے ہر لفظ پر ذور دیتے دوبارہ پوچھا…..
اب کہ نیمل نے اسے تیکھی نظروں سے دیکھا…
“تم وجہ سے اچھی طرح واقف ہو لیکن پھر بھی بتا دیتی ہوں۔۔۔تم مجھے ذرا اچھے نہیں لگتے….. بہت برے انسان ہو تم……”
اسنے دو جملوں میں صاف بات اسکے منہ پر دے ماری تھی……
یوشع نے گہری نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔پہلی بار کسی کی صاف گوئی اسے پسند نہیں آئی تھی۔۔۔۔۔
“ٹھیک ہے دے دوں گا اور کچھ۔۔۔۔”یوشع نے بے تاثر چہرہ لئے آرام سے کہا جیسے وہ کوئی معمولی چیز دینے کی بات کر رہا ہو۔۔۔
اس کے اتنے جلدی فیصلہ کرنے پر وہ بے یقینی سے اسے دیکھتی رہ گئی تھی۔۔۔۔
“تم سچ کہہ رہے ہو۔۔۔؟”
“جھوٹ تو میں نے کبھی بولا نہیں۔۔۔اور اس معاملے میں تو بالکل بھی نہیں۔”
وہ واقعی سنجیدہ تھا…
نیمل نے اسے جانچتی نظروں سے دیکھا۔۔
کم از کم اسوقت وہ اسے سچا ہی لگ رہا تھا
وہ مڑ کر واپس جا چکا تھا…….
“مطلب وہ بھی یہ رشتہ نہیں رکھنا چاہتا۔۔۔”وہ خود کلامی کرتے۔۔۔ تھوڑا مطمئن ہو گئی تھی۔
٭٭
