Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sagar Kinaray by Faryal Khan Last Episode

سورج اپنی مخصوس شان سے آسمان پر براجمان تھا۔اور معملاتِ زندگی معمول کی طرح رواں دواں تھے۔
“وافیہ ! جاؤ جاکر ساحر کو بھی بلا کر آؤ ناشتے کیلئے”۔سکینہ بی بی نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔وافیہ چائے کی ٹرے ٹیبل پر رکھ کر ساحر کے کمرے کی جانب آئی۔اور دروازے پر دستک دی۔پر کوئی جواب نہیں آیا۔وافیہ نے پھر دستک دی۔اب بھی کوئی حرکت نہیں ہوئی۔وافیہ کو تشویش ہوئی۔وافیہ نے دروازے کا ہینڈل گھومایا تو دروازہ کھل گیا۔دروازہ لاک نہیں تھا۔وافیہ کمرے میں آئی تو کمرے میں ساحر نہیں تھا۔واشروم کا گیٹ بھی کھلا ہوا تھا۔وافیہ نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی۔پر ساحر کا بیگ بھی کہیں نظر نہیں آیا۔جس میں وہ اپنا سامان لے کر آیا تھا۔وافیہ سمجھ گئی کہ ساحر جاچکا ہے۔وافیہ کمرے سے باہر آگئی۔
“کیا ہوا ؟ ساحر کہاں ہے؟۔سکینہ بی بی نے وافیہ کو اکیلے واپس آتا دیکھ کر پوچھا۔
“چلا گیا وہ”۔وافیہ نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے بتایا۔سکینہ بی بی وافیہ کو دیکھنے لگی۔
************
“السلام و علیکم”۔ساحر نے ہال میں داخل ہوتے ہوئے سلام کیا
“وعلیکم السلام ، آگیا میرا بچہ ، اتنی دیر لگا دی”۔شمع بیگم نے کہا
“جی دادی ، بس وہ کچھ کام سے رک گیا تھا”۔ساحر نے اپنا بیگ ایک سائیڈ پر رکھ کر صوفے پر بیٹھتے ہوئے بتایا۔
“تو پھر ہوگیا تمہارا کام؟۔نوشین نے پوچھا۔ساحر نے نفی میں سرہلایا۔
“کیا ہوگیا بیٹا ، طبیعت تو ٹھیک ہے ناں ! یہاں سے تو ٹھیک گئے تھے تم؟۔شمع بیگم نے پوچھا۔
“جی دادی ، بس تھک گیا ہوں ، فرش ہوکر سونے جارہا ہوں ، پلیز کوئی مجھے جگائے ناں جب تک میں خود نہ جاگوں”۔ساحر نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
“ٹھیک ہے بیٹا ، جاؤ تم آرام کرو”۔شمع بیگم نے کہا۔ساحر اپنا بیگ لے کر اپنے کمرے کی جانب چلا گیا۔شمع بیگم اور نوشین ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں۔
***********
ساحر وافیہ کے گھر سے صبح ہی صبح واپس ہوٹل چلا گیا تھا۔ہوٹل جاکر اس نے واپسی کے ٹکٹ بک کیے۔اسے اگلے دن کی فلائٹ کے ٹکٹ ملے تھے۔اور اگلے دن صبح کی فلائٹ سے ساحر واپس کراچی آگیا تھا۔ساحر نہاکر آکے اپنے بستر پر ہی لیٹا ہوا تھا۔اور اس ظالم کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا۔ساحر کا دل وافیہ کی جانب سے بہت بری طرح دکھا تھا۔ساحر کو اندازہ نہیں تھا کہ وافیہ محض ایک بیکار سے خدشے کو اتنا سنجیدہ لے لےگی۔ساحر تو سب مذاق ہی سمجھ رہا تھا۔پر جتنے سخت لہجے میں وافیہ نے انکار کیا تھا۔وہ ساحر کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔
“تیری تلاش میں نکلوں بھی تو کیا فائد”
“تو بدل گیا ہے ، کھویا ہوتا تو اور بات تھی”
**********
وافیہ کے بارے میں سوچتے ہوئے کب ساحر کو نیند آگئی۔اسے پتہ ہی نہیں چلا۔اور کسی نے بھی اسے نہیں جگایا تھا۔جب ساحر آیا تھا تب عصر ہورہی تھی۔اور اب عشاء ہوچکی تھی۔ساحر ابھی تک سورہا تھا۔
“ساحر ! کسی نے ساحر کو پکارا۔پر ساحر نے کوئی حرکت نہیں کی۔
“ساحر ! اب کی بار پکارنے والے نے اسے کاندھے سے ہلایا بھی۔ساحر نے کسمساکر آنکھیں کھولی۔اور جگانے والے کی جانب دیکھنے لگا۔ایک پل کیلئے ساحر کو لگا کہ وہ خواب دیکھ رہا ہے۔یا پھر اسے وہم ہوا ہے۔ساحر ہڑبڑا کر اٹھا۔
“تم ! یہاں !۔ساحر نے بےیقینی سے پوچھا۔
“ہاں میں ، یہاں”۔وافیہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“تم کب آئی؟۔ساحر نے پوچھا۔
“پچیس سال پہلے”۔وافیہ نے کہا۔
“یہاں کب آئی؟۔ساحر نے پوچھا۔
“جب تم سو رہے تھے”۔وافیہ نے کہا۔
“پر تم اتنی جلدی اسلام آباد سے کراچی کیسے آگئی ! کہیں میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا!۔ساحر نے حیرت سے کہا۔
“آہ”۔ساحر نے کہتے ہوئے اپنا بازو سہلایا۔
“اب یقین آگیا بھائی ! کہ یہ حقیقت ہے”۔سعد نے ساحر کو چٹکی کاٹ کر اس کے برابر بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔ساحر حیرانگی سے کبھی وافیہ کو تو کبھی سعد کو دیکھ رہا تھا۔
“تم یہاں کب آئے؟۔ساحر نے پوچھا۔
“جب یہ آئیں تھیں ، پر آپ انکو ہی دیکھ کر اتنے شاک میں آگئے کہ میری جانب آپکا دھیان ہی نہیں گیا”۔سعد نے بتایا۔
“تمھیں کیا لگا تھا ، سرپرائز دینا صرف تمھیں ہی آتا ہے؟۔طاہر صاحب نے بھی کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔
“تو پھر کیسا لگا ہمارا سرپرائز ؟۔ثناء نے بھی کمرے میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔باقی سب بھی کمرے میں آچکے تھے۔
“بس کردو ، بچہ پریشان ہورہا ہے”۔سکینہ بی بی نے کہا۔اور ساحر تو حیرانگی سے بےہوش ہونے کے قریب تھا۔
“کوئی مجھے بتائے گا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے؟۔ساحر نے کہا۔
“ٹھیک ہے ، تو شروع سے شروع کرتے ہیں”۔سعد نے کہا۔
“دراصل وافیہ جی کے بارے میں تو آپ مجھے بتا ہی چکے تھے ، پر پھر اچانک سے یہ لاپتہ ہوگئیں ، ہم نے انہیں ڈھونڈا پر یہ ملی نہیں ، ہم لوگوں کیلئے تو بات آئی گئی ہوگئی ، پر آپ مسلسل انکے لئے پریشان تھے ، اور انکی تلاش میں تھے ، وقت تیزی سے گزر گیا ، پر ان انکا کچھ پتہ نہ چلا ، پر یاد ہے جب پچھلی دفعہ ڈیڈ آفس کے کام سے اسلام آباد گئے تھے تو اتفاقاً وہاں انھیں وافیہ جی مل گئیں تھیں ، کیونکہ ڈیڈ کو تو آپکے بارے میں پتہ نہیں تھا ، اس بارے میں تو صرف میں جانتا تھا ، اس لئے وہ اپنا کام پورا کرکے واپس آگئے ، پر ایک دن باتوں کے دوران ڈیڈ نے مجھے وافیہ جی سے ملاقات کے بارے میں بتایا ، اور تب ہی میں نے ڈیڈ اور تایا کو آپکے بارے میں بتا دیا کہ آپ کب سے اور کیوں وافیہ جی کو ڈھونڈ رہے تھے ، پھر ہم لوگوں نے باقاعدہ طور پر پلان بناکر آپکو اسلام آباد بھیجا ، پر مسلہ یہ تھا کہ پتہ نہیں آپ وافیہ جی سے مل پائیں گے بھی یا نہیں ، اس لئے آپکے پیچھے میں بھی اسلام آباد آگیا تھا ، اور وافیہ جی کی دادی جی سے مل کر انھیں سب بتا دیا ، اور انھیں بھی اپنے پلان میں شامل کرلیا ، وافیہ جی کو بھی تب تک ان سب کے بارے میں کچھ نہیں پتہ تھا ، پھر اس دن مارکیٹ میں آنٹی کو جس بائیک والے نے ٹکر ماری تھی ، وہ میں ہی تھا ، اور وہ سب ایک ڈرامہ تھا ، آپکو متوجہ کرنے کیلئے ، پھر پلان کے مطابق آپ انکے گھر گئے اور وافیہ جی سے ملے ، وافیہ جی کی بھی وہی حالت تھی جو آپکی اچانک انکو سامنے دیکھ کر ہوئی تھی ، کیونکہ تب تک یہ بھی ہمارے پلان سے بےخبر تھیں ، پھر آپکے جانے کے بعد میں انکے گھر آیا ، اور انہیں سب بتایا ، اور کہا کہ جب آپ ان کو اپنے ساتھ چلنے کی پیشکش کریں ، تو اس طرح کا بہانہ بنا کر یہ آپکو انکار کردیں ، اور وہی ہوا ، اور آپ دکھی دل کے ساتھ واپس ہوٹل چلے گئے ، اور وہاں میں آنٹی اور وافیہ جی کو لے کر کراچی کیلئے روانہ ہوگیا ، تا کہ آپکو سرپرائز دے سکیں ، اور ہم نے سرپرائز دے دیا ، تو پھر ! کیسا لگا؟۔سعد نے ساری تفصیل بتاتے ہوئے آخر میں پوچھا۔ساحر خاموشی سے بنا کسی تاثر کے سعد کی باتیں سن رہا تھا۔
“مانا کے میں نے لاریب والے معملے کے بارے میں آپ لوگوں کو کچھ نہیں بتایا تھا ، پر میں نے کسی کے جذبات کے ساتھ بھی کوئی مذاق نہیں کیا تھا ، اتنا بڑا مذاق کرنے سے پہلے آپ لوگوں نے ایک بار بھی نہیں سوچا کہ مجھے کتنا دکھ ہوگا”۔ساحر نے کہا۔سب حیرانگی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔سب کا خیال تھا کہ ساحر خوش ہوجائے گا۔اور یہاں تو پوری بازی ہی پلٹ گئی تھی
“پر بیٹا یہ سب ایک مذاق ہی تو تھا ، حقیقت میں تو سب ٹھیک ہے ، جیسا تم چاہتے ہو سب ویسا ہی تو ہوا ہے ، وافیہ واپس آگئی ہے ، اور بہت جلد ثناء اور سعد کے ساتھ ہم تم دونوں کا بھی نکاح کردیں گے”۔نوشین نے کہا۔
“مجھے آپ لوگوں سے کوئی شکایات نہیں ہے ، مجھے شکایات…….!۔ساحر نے آدھی بات کہہ کر وافیہ کی جانب دیکھا۔وافیہ حیرانگی سے ساحر کو ہی دیکھ رہی تھی۔
“مجھے کسی سے کوئی شکایات نہیں ہے ، آپ لوگوں کو جو ٹھیک لگے کرلیں ، مجھ سے کچھ پوچھنے کی یا مجھے کچھ بتانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، ایکسکیوزمی”۔ ساحر نے بیڈ سے اترتے ہوئے کہا۔اور بنا کسی کی جانب دیکھے۔کمرے سے باہر چلا گیا۔سب لوگ ہکابکا سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔
“کیا سوچا تھا ، کیا ہوگیا”۔دعا نے کہا۔
“ہمیں تو لگا تھا کہ بھائی بہت خوش ہوجائیں گے ، انھیں بہت خوشگوار حیرت ہوگی”۔ثناء نے کہا۔
“پر وہ تو ہمیں ہی سوگوارحیرت میں ڈال کر چلے گئے ہیں”۔سعد نے کہا۔
“دیکھا ! منع کیا تھا میں نے ، کہ اس پاگل کی باتوں میں مت آئیں آپ لوگ ، اور سیدھی طرح جاکر وافیہ کو لے آئیں ، ہوگئی ناں ساری محنت ضائع”۔عامر صاحب نے سعد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“مجھے کیا پتہ تھا ڈیڈ کہ ایسا ہوجائے گا”۔سعد نے کہا۔وافیہ بھی بنا کچھ بولے کمرے سے باہر چلی گئی۔
**********
“بھائی ! کچن کے بورڈ میں کرنٹ آرہا ہے ، ذرا اسے ٹھیک کردیں”۔دعا نے سعد کے کمرے میں آکر کہا۔سعد اپنے بیڈ پر لیٹا کسی سوچ میں گم تھا۔دعا کے کہنے پر ٹیسٹر اور پیچکس لے کر کچن میں آگیا۔ثناء پہلے ہی کچن میں چائے بنا رہی تھی۔
“پاپا کیلئے چائے بنا رہی ہوں ، تم پیو گے؟۔ثناء نے پوچھا۔
“نہیں”۔سعد نے مختصر جواب دیا۔اور بورڈ سے چھیڑ چھاڑ جاری رکھی۔ثناء کو سعد کافی خاموش خاموش لگ رہا تھا۔
“تایا پوچھ رہے ہیں بن گئی چائے؟۔دعا نے کچن میں آکر پوچھا۔
“ہاں بن گئی ، لو دے آؤ انھیں”۔ثناء نے کپ دعا کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔دعا کپ لے کر چلی گئی۔سعد بھی بورڈ ٹھیک کرچکا تھا۔اور آپ فریج سے پانی کی بوتل نکال کر منہ سے لگانے والا تھا۔
“بیٹھ کر گلاس میں پیتے ہیں پانی”۔ثناء نے ٹوکا۔سعد کچن میں رکھی چھوٹی سی میز کے گرد کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔اور گلاس میں پانی نکالنے لگا۔ثناء بھی کرسی کھینچ کر وہیں بیٹھ گئی۔
“کیا ہوا ؟۔ثناء نے پوچھا۔
“کس کو؟۔سعد نے پانی پے کر پوچھا۔
“تمھیں”۔ثناء نے کہا۔
“کچھ بھی تو نہیں”۔سعد نے کہا۔
“اتنے خاموش خاموش ہو کب سے”۔ثناء نے کہا۔سعد نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“ساحر بھائی آگئے؟۔سعد نے پوچھا۔
“نہیں ، تب سے ہی گئے ہوئے ہیں”۔ثناء نے بتایا۔
“ڈیڈ سہی کہتے ہیں ، سب میری ہی غلطی ہے ، سب میری وجہ سے ہوا ہے ، نہ میں وافیہ جی کو ایسا کرنے کا کہتا ، اور نہ بھائی ناراض ہوتے”۔سعد نے خود کو ملامت کی۔
“جو ہوا ، اس میں کسی کی بھی کوئی غلطی نہیں ہے ، تم نے تو اچھا سوچ کر ہی سب کیا تھا ناں ، اور بھائی کی ناراضگی بھی بس وقتی ہے ، دیکھنا ، کچھ دنوں میں ٹھیک ہوجائیں گے”۔ثناء نے تسلی دی۔
“اچھا بات سنے!۔ثناء نے کہا۔اور ثناء کے اتنی عزت سے پکارنے پر سعد حیرانگی سے ثناء کو دیکھنے لگا۔
“میں بور ہورہی ہوں ، اگر آپ برا نہ مانیں تو کیا میں پیچکس سے آپکے گال پر سالار سکندر جیسا ڈمپل بنادوں”۔ثناء نے ٹیبل پر پڑا پیچکس اٹھا کر سعد کے گال پر ہلکے سے چبھوتے ہوئے شرارت سے کہا۔اور نہ چاہتے ہوئے بھی سعد مسکرادیا۔
“اب لگ رہے ہو ناں سعد”۔ثناء نے کہا۔
“اچھا تمھیں تو ، فارس غازی سالار سکندر ، جہاں سکندر جیسے لوگ پسند تھے ، تو پھر تم نے مجھ جیسے عام انسان سے شادی کیلئے ہاں کیوں کی؟۔سعد نے پوچھا۔
“کیونکہ وہ سب تو بس افسانے تھے ، تم زندہ ایک حقیقت ہو ، اور یہ عام سا انسان میرے لئے اُن سب سے زیادہ خاص ہے”۔ثناء نے کہا۔
“اف ! کہیں میں صدمے سے بیہوش ہی نہ ہوجاؤں ، کہیں تمہارے سر پر چوٹ وغیرہ تو نہیں لگ گئی”۔سعد نے مصنوئی حیرت سے کہا۔
“آگئے ناں اپنی اوقات پر”۔ثناء نے کہا۔
“اب ایسا ہی ہوں ، اگر گزارا کرسکتی ہو تو بولو ، ورنہ سوچ لو اب بھی وقت ہے”۔سعد نے کہا۔
“سوچ لیا ، اور تم ایسے ہی رہنا ، خبردار جو اکثر ناولز کے سڑیل مزاج ہیرو کی طرح سنجیدہ ہوئے تو”۔ثناء نے وارننگ دی۔
“جو حکم میری آقی”۔سعد نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
**********
رات کے گیارہ بج گئے تھے۔ساحر تو تب سے ہی باہر گیا ہوا تھا۔باقی سب گھر والے اپنے اپنے کمروں میں تھے۔اور وافیہ لان کی جانب کھلنے والے دروازے کی چوکھٹ پر بیٹھی ہوئی تھی۔
“آج چاند بھی نہیں ہے ، اور سمندر بھی نہیں ہے”۔ساحر نے کہا۔وافیہ نے چونک کر دیکھا تو ساحر اسکے برابر میں بیٹھا ہوا تھا۔
“ساحر ! سچ میں یہ سب سعد اور باقی گھر والوں کا پلان تھا ، مجھے تو ان سب کے بارے میں بہت بعد میں بتایا گیا تھا ، اور بس اتنا کہا گیا تھا کہ تمہارے ساتھ تھوڑا سخت برتاؤ کروں ، اور جب تم مجھ سے اظہار کرو تو میں انکار کردوں ، اور پھر خاموشی سے یہاں آکر تمھیں سرپرائز دوں ، بس ، پر قسم سے مجھے نہیں پتہ تھا کہ بات اتنی بڑھ جائے گی یا تمھیں اتنا برا لگے گا”۔وافیہ نے جلدی سے وضاحت کی۔کہ کہیں ساحر پھر چلا نہ جائے۔
“اس دن جب تم دادی کے ساتھ گھر آئے تھے ، تو میں تمھیں دیکھ کر حیران ہوگئی تھی ، میں حیران تھی کہ جو دعا کبھی میں نے کھل کر نہیں مانگی ، شاید خود سے بھی چھپ چھپ کر مانگتی تھی ، وہ قبول ہوگئی تھی ، اس دن سچ میں ، میں نے صرف اس لئے تمھیں وہاں سے جانے کا کہا تھا کہ کوئی دیکھ لیتا تو طرح طرح کی باتیں بنتی ، ورنہ دل تو میرا بھی یہی چاہ رہا تھا کہ تمھیں جانے نہ دوں ، تمھیں سب بتاؤں کہ ان دو سالوں میں میں نے کیا کیا ! میرے ساتھ کیا ہوا ؟ پر اس وقت میں ایسا نہیں کرسکتی تھی ، اور پھر تمہارے جانے کے بعد سعد نے آکر یہ سب کرنے کو کہا ، اور میں یہ سوچ کر راضی ہوگئی کہ کچھ دنوں کی تو بات ہے ، پر مجھے نہیں اندازہ تھا کہ بات اتنی بڑھ جائے گی”۔وافیہ نے مزید وضاحت کی۔
“چلو مان لیتے ہیں کہ یہ سب تم نے سعد کے کہنے پر کیا ، پر جب تم مجھے انکار کررہی تھی ، تب تمھیں اندازہ ہے کہ تمہارا لہجہ کتنا جان لیوا تھا ، میں نے جب تم سے پوچھا کہ کیا تم مجھ سے پیار نہیں کرتی ؟ کیا تم نے کبھی مجھے یاد نہیں کیا ؟ تو تم نے کتنی سفاکی سے انکار کیا تھا ، جیسے تم سچ بول رہی ہو”۔ساحر نے شکوہ کیا۔
“میں نے سچ ہی کہا تھا ، یہ سچ ہے کہ میں تم سے پیار نہیں کرتی ، کیونکہ مجھے تم سے عشق ہوگیا ہے ، یہ بھی سچ ہے کہ مجھے کبھی تمہاری یاد نہیں آئی ، کیونکہ میں تمھیں ایک لمحے کیلئے بھی نہیں بھولی”۔وافیہ نے کہا۔اور بہت ضبط کے باوجود ایک آنسو اسکی آنکھ سے نکل کر گال پر بہہ گیا۔
“میں بھی ، ایم سوری”۔ساحر نے وافیہ کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر انگوٹھے سے اسکا آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔
“جس طرح اس دن تم نے انکار کیا تھا ، ویسے میں بھی جھوٹ بولنے کی کوشش کررہا تھا ، پر میں تمہاری طرح سنگدل نہیں ہوں”۔ساحر نے ہاتھ ہٹاتے ہوئے بتایا۔
“مطلب تم مجھ سے ناراض نہیں ہو؟۔وافیہ نے ایک امید سے پوچھا۔
“بالکل بھی نہیں”۔ساحر نے کہا۔
“تو پھر وہ سب کیا تھا اس وقت؟۔وافیہ نے پوچھا۔
“سرپرائز”۔ساحر نے آنکھ مارتے ہوئے کہا۔
“بہت ہی جان لیوا تھا”۔وافیہ نے کہا۔
“پر تمہارے سے تھوڑا کم”۔ساحر نے کہا۔
“اچھا یہی بات جب کل میں گھر والوں کو بتاؤں گا کہ وہ سب ایک ناٹک تھا ، اور جواب میں اگر ان لوگوں نے میری کچھ سروس کردی ، اور میرے چہرے پر نیل وغیرہ پڑگئے ، تو کیا پھر بھی تم مجھ سے شادی کرلوگی؟۔ساحر نے پوچھا۔
“ہاں”۔وافیہ نے کہا۔
“تو لاؤ پھر اسی خوشی میں اپنا ہاتھ آگے کرو”۔ساحر نے کہا۔وافیہ نے اپنا بائیاں ہاتھ آگے کردیا۔کیونکہ اسے پتہ تھا ساحر کیا کرنے والا ہے۔ساحر نے وافیہ کی تیسری انگلی میں وہی ڈائمنڈ رنگ پہنادی۔
“اب یہ اترنی نہیں چاہئے”۔ساحر نے وارننگ دی۔وافیہ نے مسکرا کر اثبات میں گردن ہلادی۔
“آج نہ چاند ہے ، اور نہ ہی سمندر”۔ساحر نے کہا۔
“پر جو اس عام سے چاند اور سمندر کو خاص بناتے ہیں وہ تو ہیں ناں ، ہم”۔وافیہ نے کہا۔
“ہممم! اچھا میں تو کتنی دفعہ کہہ چکا ہوں ، پر تم نے نہیں کہا”۔ساحر نے وافیہ کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا۔
“ابھی تو کہا تھا”۔وافیہ نے کہا۔
“ویسے نہیں ، کسی اور طریقے سے کہو”۔ساحر نے کہا۔وافیہ ساحر کے کان کے قریب آئی۔
“ق س م کھا کر کہتی ہوں”
ع ش ق ہے تم سے”
وافیہ نے ساحر کے کان میں سرگوشی کی۔اور بنا اسکا جواب سنے اٹھ کر اندر کی جانب بھاگ گئی۔ساحر نے بھی اسے نہیں روکا۔کیونکہ اب وہ کہیں نہیں جانے والی تھی۔
ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *