Sagar Kinaray by Faryal Khan NovelR50709 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 08
Rate this Novel
Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 01 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 02 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 03 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 04,05 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 06 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 07 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 08 (Watching)Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 09 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 10 Sagar Kinaray by Faryal Khan Last Episode
Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 08
لاریب کی رخصتی ہوچکی تھی۔سب مہمان جاچکے تھے۔اور سب گھر والے تھک ہار کر اپنے اپنے کمروں میں آرام فرما رہے تھے۔سعد ابھی ابھی چینج کرکے آیا تھا۔پانی پینے کیلئے جگ اٹھایا تو وہ خالی تھا۔تو پانی پینے کے ارادے سے باہر آیا۔اور ہال عبور کرتے ہوئے کچن میں آگیا۔جب سعد پانی پی کر واپس جانے لگا تو لان کی جانب کھلنے والے دروازے کی چوکھٹ پر اسے کوئی بیٹھا ہوا نظر آیا۔
“کون ہے؟۔سعد پوچھتے ہوئے قریب آیا۔
“ثناء ! تم اس وقت یہاں کیا کررہی ہو؟۔سعد نے ثناء کے قریب کھڑے ہوکر پوچھا
“تارے گن رہی ہوں”۔ثناء نے کہا
“کتنے گن لئے پھر اب تک؟۔سعد نے بھی ثناء کے برابر میں بیٹھتے ہوئے پوچھا۔ثناء نے کوئی جواب نہیں دیا
“تم اس رشتے سے خوش تو ہو ناں؟۔سعد نے ثناء کی جانب دیکھ کر پوچھا
“نہیں ، بالکل بھی خوش نہیں ہوں”۔ثناء نے کہا۔سعد حیران ہوگیا
“کیوں ؟ اور اگر خوش نہیں ہو تو ہاں کیوں کی تھی تم نے؟۔سعد نے حیرانگی سے پوچھا
“کیونکہ سب فیصلہ کرچکے تھے ، سب راضی بھی تھے ، تو بڑوں کا فیصلہ مان لیا میں نے”۔ثنا نے بتایا
“تو کیا ضرورت تھی زبردستی ہاں کرنے کی ؟ تم انکار کردیتی”۔سعد نے دکھ سے کہا۔
“اب تو بہت دیر ہوگئی ہے”۔ثنا نے اپنی نیل پالش کھرچتے ہوئے کہا۔
“نہیں ، ابھی اتنی دیر نہیں ہوئی ہے ، بلکہ اگر تم کہو تو میں انکار کردیتا ہوں اپنی جانب سے ، ویسے تم اس رشتے سے خوش کیوں نہیں ہو؟۔سعد نے کہتے ہوئے آخر میں پوچھا۔
“کیونکہ میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں”۔ثنا نے آہستگی سے کہا۔اور سعد کو اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں آرہا تھا۔ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے کسی نے اسے بہت بلندی سے نیچے گرادیا ہو۔
“کیا ؟ کسی….اور….کو؟۔سعد نے بامشکل حیرانگی سے پوچھا
“ہاں”۔ثنا نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے کہا۔
“ک…کون…ہے…وہ؟۔سعد نے بامشکل خود کو نارمل رکھتے ہوئے پوچھا۔
“میرے پاس تصویر ہے اسکی ، دیکھو گے؟۔ثنا نے بتاتے ہوئے پوچھا۔سعد نے بامشکل اثبات میں سرہلایا۔
“تم یہاں ہی رکو ، میں لے کر آتی ہوں”۔ثنا نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔اور اندر کی جانب چلی گئی۔اور سعد وہیں بیٹھا اپنی دنیا بسنے سے قبل ہی اجڑنے کا دل ہی دل میں ماتم منانے لگا۔پر سعد نے دل میں فیصلہ کرلیا تھا کہ اگر ثنا اس رشتے سے خوش نہیں ہے۔تو وہ اسکے ساتھ زبردستی نہیں کرے گا۔اور خود ہی خاموشی سے اسکے راستے سے ہٹ جائے گا۔کیونکہ اسکے لئے اپنی خوشی سے زیادہ ثنا کی خوشی اہم تھی۔ابھی سعد یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ ثنا کے قدموں کی آواز سنائی دی۔
“یہ ہے اسکی تصویر”۔ثنا نے سعد کے برابر میں بیٹھتے ہوئے کہا۔
“اور تمھیں پتہ ہے میں نے آج تک کبھی اسے بتایا ہی نہیں کہ مجھے یہ اچھا لگتا ہے”۔ثنا نے سعد کو لفافہ دیتے ہوئے کہا۔
“لو اب دیکھو”۔ثنا نے لفافہ سعد کی جانب بڑھا کر کہا۔سعد نے ناچاہتے ہوئے بھی لفافہ تھام لیا۔
“پکڑ کر کیا بیٹھ گئے ، کھول کہ تو دیکھو کہ میری پسند کیسی ہے؟۔ثنا نے کہا۔سعد دھڑکتے دل سے لفافہ کھولنے لگا۔لفافہ کھول کر سعد نے تصویر نکالی۔تصویر الٹی تھی۔سعد نے تصویر اپنی جانب موڑی۔تصویر سعد کی ہی تھی۔پہلے تو چند لمحے اسے کچھ سمجھ ہی نہیں آیا۔پھر اچانک ثنا ہنستے ہوئے اندر کی جانب بھاگی۔
“ثنا کی بچی ، میں گل دبا دوں گا تیرا”۔سعد بھی ثنا کی شرارت سمجھ کر کہتا ہوا اسکے پیچھے بھاگا۔
********
“دو سال بعد”
آسمان پر چودہویں کا چاند اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ہر چیز چاندنی میں نہائی ہوئی تھی۔آس پاس بس صرف ہوا اور لہروں کی ہی آواز گونج رہی تھی۔اور ارد گرد بس چند ہی لوگ تھے۔وہ بھی کافی فاصلے پر۔یہ وہ ہی لوگ تھے جن کی رہائش یہاں قریب ہی تھی۔ساحر کار سے اتر کر آہستہ آہستہ چلتے ہوئے سمندر کے کنارے جانے لگا۔
“پانی میں آپکے جوتے گیلے ہوجائیں گے”۔ساحر کے ذہن میں ایک مانوس سی آواز گونجی۔ساحر جوتوں سمیت ہی سمندر میں چلا گیا۔پانی سے اسکے پیر ٹخنوں تک بھیگ گئے تھے۔
“نہیں ، میں یہاں ہی ٹھیک ہوں ، مجھے سمندر سے ڈر لگتا ہے ، اگر میں ڈوب گئی تو”۔ساحر کے ذہن میں پھر وہی مانوس سی آواز گونجی۔ان دو سالوں میں کوئی چودہویں کی رات ایسی نہیں گزری تھی۔جب ساحر اس ساگر کنارے نہ آیا ہو۔ایسا نہیں تھا کہ ساحر وافیہ کی محبت میں روگی مجنوں بن گیا تھا۔وہ جیسا وافیہ کے آنے سے قبل تھا اب بھی ویسا ہی تھا۔پر دوسروں کیلئے۔اندر ہی اندر ساحر کو کچھ خالی خالی سا لگتا تھا۔وافیہ کے ساتھ وہ بامشکل دو تین ہفتے رہا تھا۔اور وہ بھی بہت عام سی ملاقاتیں تھیں۔پر پھر بھی پتہ نہیں کیوں وہ اسکے جانے سے اتنا ہل گیا تھا؟ ان دو سالوں میں نوشین نے ساحر کیلئے کچھ رشتے بھی پسند کیے۔پر پھر خود ہی انھیں مسترد کردیا۔ساحر نے کبھی ایسا نہیں کہا کہ وہ شادی وغیرہ نہیں کرے گا۔وہ بالکل نارمل تھا۔سب ٹھیک تھا۔پر اندر کچھ ٹھیک نہیں تھا
“زندگی آدھی ہے ، ادھوری ہے”
“تیرا آنا بہت ضروری ہے”
کوئی منطق ، کوئی دلیل نہیں”
“تو ضروری ، بس تو ضروری ہے”
“جیسے قسمت پر اختیار نہیں”
“یہ محبت بھی لاشعوری ہے”
“ایک بس تو رہا میری حسرت”
“باقی ہر آرزو تو پوری ہے”
**********
“ساحر تم فارغ ہو؟۔رفعت نے ہال میں آتے ہوئے پوچھا۔ساحر صوفے پے لیٹا ہوا فون چلا رہا تھا۔
“جی چچی ، بولیں کوئی کام ہے؟۔ساحر نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
“ہاں بیٹا ، تمھیں تو پتہ ہے کہ رات میں عزیر (لاریب کے بیٹے) کے عقیقے میں جانا ہے ، تو عزیر کو دینے کیلئے میں نے ایک انگوٹھی کا آرڈر دیا تھا ، اور آج جاکر وہ انگوٹھی لے کر آنی ہے ،پر پتہ نہیں یہ سعد اور تمہارے چاچو ، دونوں کہاں چلے گئے ہیں ، تو بیٹا ذرا تم جیولر سے جاکر انگوٹھی لے آؤ”۔رفعت نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔
“بس اتنی سی بات چچی ، ابھی چلا جاتا ہوں”۔ساحر نے کہا۔
“بہت شکریہ میرے بچے”۔رفعت نے کہا۔اور ساحر کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے واپس چلی گئیں۔ساحر بھی فون جیب میں ڈال کر جانے کیلئے کھڑا ہوگیا
********
ساحر اس وقت جیولری شاپ پر موجود تھا۔جیولر ساحر کا آرڈر پیک کررہا تھا۔ساحر وقت گزاری کیلئے اِدھر اُدھر نظریں دوڑانے لگا۔کہ تب ہی اسکی نظر شوکیس میں سجی سلور کلر کی ایک نگ کی رنگ پر پڑی۔ساحر کو اچانک سے پھر وہی ساگر کنارے والا منظر یاد آگیا۔اور ساتھ ساگر کنارے بیٹھے وہ دو سائے۔
“سر ، آپکا آرڈر”۔شاپ کیپر نے کہا۔ساحر اسکی آواز پر چونک کے ہوش کی دنیا میں واپس آیا۔اور اسے بل ادا کرنے لگا۔بل ادا کرکے جیسے ہی ساحر جانے کیلئے پلٹا پیچھے آنے والے سے ٹکرا گیا۔
“اوہ ! سوری سوری ، میں نے دیکھا نہیں آپکو”۔ساحر نے جلدی سے معذرت کی۔
“ابے تو اب دیکھ لے یار ، میں برا نہیں مانوں گا”۔ٹکرانے والے نے شرارت سے کہا۔
“ابے عمار تو !۔ساحر نے خوشگوار حیرت سے کہا۔
“نہیں ، میرا بھوت آیا ہے شاپنگ کرنے”۔عمار نے کہا۔
“تو خود بھی کسی جن بھوت سے کم نہیں ہے ، ویسے کہاں غائب تھے تم ؟ یونیورسیٹی کے بعد تو ایسے غائب ہوئے تم کہ پتہ ہی نہیں چلا تمہارا”۔ساحر نے کہا۔
“بس یار یونیورسیٹی فارغ ہوتے ہی میں دبئی چلا گیا تھا ، پھر مصروفیت اتنی بڑھی کہ کسی دوست سے رابطہ نہیں رہا”۔عمار نے بتایا۔
“ہممم! چل ناں کہیں بیٹھ کر آرام سے بات کرتے ہیں”۔ساحر نے کہا۔
“نہیں یار ، ابھی تو میں تھوڑی جلدی میں ہوں ، پھر کبھی ملیں گے فرصت سے”۔عمار نے کیچین گھوماتے ہوئے کہا۔کہ تب ہی کیچین اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گرگیا۔ساحر جھک کر کیچین اٹھانے لگا۔
“یہ عمار “W” سے کب سے آنے لگا ، عمار تو “A” سے آتا ہے”۔ساحر نے عمار کا کیچین دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“جی ، عمار ابھی بھی “A” سے ہی آتا ہے ، “W” سے تو آپکی بھابھی کا نام آتا ہے”۔عمار نے کیچین لیتے ہوئے بتایا۔
“میرا تو کوئی بھائی ہی نہیں ہے ، تو بھابھی کہاں سے آگئی؟۔ساحر نے کہا۔
“اچھا ! میں تیرا بھائی نہیں ہوں؟۔عمار نے پوچھا۔
“ابے ! تو نے شادی بھی کرلی!۔ساحر نے حیرانگی سے پوچھا۔
“ہاں ، اور ہمارا ایک بیٹا بھی ہے ایک سال کا ، اور ابھی میں اپنی ویڈنگ اینیورسری پر تمہاری بھابھی کو دینے کیلئے کوئی گفٹ لینے آیا ہوں یہاں”۔عمار نے بتایا۔
“تو تم اپنی ویڈنگ اینیورسری پر میری بھابھی کو گفٹ کیوں دو گے ؟ اپنی وائف کو دو گفٹ”۔ساحر نے کہا۔
“نہیں ، میں تو تیری بھابھی کو ہی دوں گا”۔عمار نے کہا۔
“ویسے کتنے سال ہوگئے ہیں یس عظیم حادثے کو؟۔ساحر نے پوچھا۔
“کل دو سال ہوجائیں گے”۔عمار نے بتایا۔
“چلو اللّه پاک تمھیں اور بھابھی کو ایسی بہت سی خوشیاں نصیب کرے”۔ساحر نے کہا۔
“امین ، اچھا تم اپنا فون نمبر دے دو ، اور میرا بھی لے لو ، تا کہ رابطہ کرنے میں آسانی ہو ،میں تمہیں اپنا ایڈریس دے دوں گا، پھر کل انا تم میرے گھر ، میں تمھیں تمہاری بھابھی سے بھی ملواؤں گا”۔عمار نے کہا۔
“ہاں ضرور ، پر کل نہیں ، کل تم دونوں انجونے کرو ، ہم پرسوں ملتے ہیں”۔ساحر نے کہا۔
“چلو ، جیسی تمہاری مرضی”۔عمار نے کہا۔پھر نمبرز کے تبادلے کے بعد ساحر شاپ سے باہر نکل گیا۔اور عمار اپنی وائف کیلئے کوئی گفٹ پسند کرنے لگا۔
*********
“یااللّه ! بہت تھک گئی میں”۔ثنا نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔باقی سب بھی ہال میں رکھے دوسرے صوفوں پر بیٹھ گئے۔
“ایسے کون سے پہاڑ توڑ کر آئی ہیں آپ جو تھک گئیں ہیں؟۔سعد نے پوچھا۔
“ارے ہر تھوڑی دیر میں کسی نہ کسی کو ، کوئی نہ کوئی کام یاد آرہا تھا”۔ثنا نے کہا۔
“ویسے عزیر کتنا پیارا ہوتا جارہا ہے ناں”۔دعا نے کہا۔
“ہممم! بالکل ماموں پر گیا ہے”۔سعد نے مصنوئی اکڑ سے کہا۔
“پوری بات بولو ،بڑے ماموں پر گیا ہے”۔ساحر نے کہا۔
“ویسے لاریب بھی کتنی بیوقوف ہے ، ابھی کچھ عرصے بعد ہی تو عزیر کی پہلی سالگرہ بھی آرہی ہے ، اس پر ہی عقیقہ رکھ لیتی”۔رفعت نے کہا۔
“اب انکا بچہ ہے ، انکی مرضی”۔عامر صاحب نے کہا۔
“چلو یار ، چل کر لیٹتے ہیں اب ، صبح آفس بھی جانا ہے”۔طاہر صاحب نے کہا۔
“اللّه کا شکر ہے ہماری تو پڑھائی پوری ہوئی ، اب ہمیں صبح صبح کہیں جانے کی فکر نہیں ہے ، ہے ناں دعا”۔ثنا نے کہتے ہوئے تائید چاہی۔
“ہمیں تو جانا ہے ، اس لئے ہم تو جارہے ہیں سونے”۔طاہر صاحب نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔باقی سب بھی انکی پیروی میں کھڑے ہوگئے۔اور اپنے اپنے کمروں کی جانب جانے لگے۔
“یار ثنا اچھی سی چائے تو پلادو”۔سعد نے کہا۔سب لوگ جاچکے تھے۔اب ہال میں صرف ثنا اور سعد تھے۔
“دماغ ٹھیک ہے ! میں نہیں بنارہی اس ٹائم چائے”۔ثنا نے کہا۔
“یار بنا دو ، قسم سے بہت شدت سے طلب ہورہی ہے چائے کی ، اور وہ بھی تمہارے ہاتھ کی بنی”۔سعد نے پھر منت کی۔
“سوری ، میں نہیں بنارہی ، اور تم بھی سو اب جاکر”۔ثنا نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔اور بنا سعد کی کوئی اور بات سنے اندر کی جانب چلی گئی۔سعد کچھ دیر تو ایسے ہی بیٹھا رہا۔پھر وہ بھی اٹھ کر اپنے کمرے میں آگیا۔اور سیدھا نہانے چلا گیا۔کیونکہ کہیں سے آکر اسے نہائے بنا چین نہیں آتا تھا۔تھوڑی دیر بعد سعد اچھی طرح سے فرش ہوکر واشروم سے باہر آیا۔سعد تولیے سے سر صاف کرتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آیا۔کہ تب ہی اسکی نظر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے چائے کے کپ پر پڑی۔سعد کپ دیکھ کر مسکرادیا۔
_______
شام کے سات بج رہے تھے۔اور ساحر اس وقت وعدے کے مطابق عمار کے گھر پر موجود تھا۔ملازمہ اسے ڈرائینگ روم میں بیٹھا کر عمار کو بلانے گئی تھی۔ساحر وقت گزاری کیلئے ڈرائینگ روم کا جائزہ لینے لگا۔
“السلام و علیکم ، کیا ہال ہے؟۔عمار نے ڈرائینگ روم میں داخل ہوتے ہوئے پرجوش انداز میں کہا۔
“وعلیکم السلام ، وہی ہڈی اور وہی کھال ہے”۔ساحر نے بھی کھڑے ہوکر گلے ملتے ہوئے کہا۔
“اکیلے ہی آئے ہو ! پوری فیملی کے ساتھ آتے ناں”۔عمار نے ساحر کے سامنے والے صوفے پر بیٹھتے کہا۔ساحر بھی واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔
“گھر والے کیا کرتے یار یہاں آکر ، بلکہ ہم دونوں کے بیچ بور ہی ہوجاتے”۔ساحر نے کہا۔
“ہاں یہ بھی ہے ، یہ پھول کس لئے؟۔عمار نے ٹیبل پر رکھے ہوئے گلدستے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
“کل تمہاری ویڈنگ اینیورسیری بھی تھی ، اور دوسرا میں پہلی مرتبہ تمہارے گھر آیا ہوں ، تو خالی ہاتھ آنا اچھا نہیں لگ رہا تھا”۔ساحر نے بتایا۔
“اچھا ! تو لاکر ٹیبل پر رکھ دیا ، مجھے دیا ہی نہیں”۔عمار نے کہا۔
“یہ میں آپکے نہیں ، بھابھی کے ہاتھ میں دوں گا”۔ساحر نے کہا۔
“اچھا ! زبردستی ہے کیا”۔عمار نے کہا۔
“ہاں ہے ، تو!۔ساحر نے کہا۔
“تو کچھ نہیں ، ابھی بلاتے ہیں انھیں”۔عمار نے کہا۔
“چندا ! عمار نے آواز لگائی۔
“جی صاحب ! ملازمہ نے آکر پوچھا۔
“بیگم صاحبہ کو بلا کر لاؤ”۔عمار نے کہا۔ملازمہ سرہلاکر چلی گئی۔
“اور آنٹی کی طبیعت ٹھیک ہے”۔ساحر نے پوچھا۔
“ہاں ٹھیک ہے ، پر تمھیں پتہ تو ہے کہ بڑھاپے میں کوئی نہ کوئی مسلہ رہتا ہی ہے ، اتنا کہا ہم نے امی سے کہ یہاں ہمارے ساتھ آکر رہ لیں ، پر وہ اپنا آبائی گاؤں چھوڑنے کو تیار ہی نہیں ہیں ، کہتی ہیں یہاں ہی پیدا ہوئی تھی ، یہاں ہی مروں گی”۔عمار نے بتایا۔
“ہوتا ہے ، کچھ لوگوں کو اپنی آبائی جگہ سے کافی انسییات ہوتی ہے ، اور وہ کہاں ہے تمہارا چھوٹا بھائی ، عماد؟۔ساحر نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“ابھی حال ہی میں عماد کی پڑھائی مکمل ہوئی ہے ، تو وہ امی کے پاس کچھ عرصے کیلئے گاؤں گیا ہوا ہے”۔عمار نے بتایا۔
ہممم! اور تمہارا بیٹا کہاں ہے؟۔ساحر نے پوچھا۔
“وہ سو رہا ہے ، طبیعت ٹھیک نہیں ہے اسکی”۔عمار نے بتایا۔
“آپ نے بلایا مجھے عمار؟۔ساحر کو اپنے عقب سے ایک نسوانی آواز سنائی دی۔
“جی ، میں نے بلایا ، یہ آپکے زبردستی کے دیور آپ سے ملنا چاہ رہے تھے”۔عمار نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔ساحر بھی کھڑا ہوگیا۔
“یہ ہے میرا یونیورسیٹی کے ٹائم کا بہت ہی اچھا دوست ، ساحر شاہ ، اور ساحر یہ ہیں میری وائف مسز وردہ عمار”۔عمار نے دونوں کا تعارف کرایا۔
“السلام و علیکم بھابھی”۔ساحر نے سلام کیا۔
“وعلیکم السلام”۔وردہ نے جواب دیا۔
“یہ آپ دونوں کیلئے”۔ساحر نے ٹیبل پر سے گلدستہ اٹھا کر وردہ کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔
“ارے اسکی کیا ضرورت تھی بھائی”۔وردہ نے گلدستہ لیتے ہوئے کہا۔
“کل آپ لوگوں کی ویڈنگ اینیورسری تھی اس لئے”۔ساحر نے کہا۔
“تھینک یو سو مچ ، بیٹھیں ناں”۔وردہ نے کہا۔ساحر واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔اور وردہ عمار کے برابر میں بیٹھ گئی۔
“ویسے اکثر میں نے عمار سے کسی ساحر کا ذکر سنا تو تھا ، تو آپ تھے وہ”۔وردہ نے کہا۔
“بتاؤ عمار ، میں تھا وہ!۔ساحر نے کہا۔
“ہاں ظاہر ہے”۔عمار نے کہا۔
“آپ اکیلے آئے ، اپنی فیملی کو بھی ساتھ لے آتے ، میرا مطلب وائف بچے وغیرہ”۔وردہ نے کہا۔
“لگتا ہے عمار نے آپکو میرے بارے میں بتایا نہیں ہے”۔ساحر نے کہا۔
“کیا مطلب ؟۔وردہ نے ناسمجھی سے پوچھا
“مطلب اگر بتایا ہوتا تو آپ کو پتہ ہوتا کہ میں ابھی اٙن میریڈ ہوں”۔ساحر نے کہا۔
“اوہ! اچھا ، جی ویسے عمار اکثر مجھے آپ لوگوں کے یونیورسیٹی کے قصے کہانیاں سناتے رہتے تھے ، فیملی کے بارے میں کبھی کوئی ذکر نہیں کیا”۔وردہ نے بتایا۔
“کوئی بات نہیں ، اب میں آپ لوگوں کو دعوت دے رہا ہوں ، آپ عمار کے ساتھ آئیے گا میرے گھر ، پھر فیملی سے بھی ملاقات ہوجائے گی”۔ساحر نے کہا۔
“جی ضرور”۔وردہ نے کہا۔
“کیا ایسے باتیں ہی کرتے رہیں گے ، کوئی کھانے پینے کا انتظام کریں بیگم”عمار نے کہا۔
“ارے نہیں ، میں کھانا وغیرہ نہیں کھاؤں گا ، میں تو بس ایسے ہی آپ لوگوں سے ملنے آگیا تھا”۔ساحر نے جلدی سے کہا۔
“کیوں نہیں کھاؤں گا ، ہم ایسے جانے ہی نہیں دیں گے تمھیں”۔عمار نے کہا۔
“یار سمجھا کر ، دراصل آج میں نے گھر میں فرمائش کرکے سارا کھانا اپنی پسند کا بنوایا ہے ، اب اگر ایسے میں ، میں باہر سے کھانا کھا کر گھر جاؤں گا تو میری خیر نہیں ، اس لئے کہہ رہا ہوں یہ ڈنر وغیرہ پھر کبھی سہی”۔ساحر نے وضاحت کی۔
“اچھا چلو چائے تو پی لو”۔عمار نے کہا۔
“ہاں چائے پی لوں گا”۔ساحر نے کہا۔
“میں ابھی آتی ہوں چندا کو چائے کا بول کر”۔وردہ نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔اور ڈرائینگ روم سے باہر چلی گئی۔
“اور سناؤ یار ، اپنے یونیورسیٹی کے کسی اور دوست سے رابطہ ہے تمہارا؟۔عمار نے پوچھا۔
**********
کچھ ہی عرصے میں عمار کی فیملی کا شاہ ہاؤس میں کافی آنا جانا شروع ہوگیا تھا۔سب کو ہی عمار کی فیملی کافی پسند آئی تھی۔اور خاص طور پر عماد تو سب کو کچھ زیادہ ہی پسند آگیا تھا۔
