Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 07

سورج اپنی پوری آب و تاب سے آسمان پر براجمان ہوچکا تھا۔اور ہر طرف اپنی چمکیلی روشنی بکھیری ہوئی تھی۔سب لوگ ناشتے کی میز پر جمع ہورہے تھے۔اور سب سے آخر میں ساحر آکر بیٹھا تھا۔
“السلام و علیکم”۔ساحر نے کرسی کھنچ کر بیٹھتے ہوئے سلام کیا۔
“وعلیکم السلام”۔شمع بیگم نے جواب دیا۔
“کیسی طبیعت ہے اب تمہاری؟۔احمد شاہ نے پوچھا۔
“الحمدللہ اب تو میں بالکل ٹھیک ہوگیا ہوں”۔ساحر نے گلاس میں جوس ڈالتے ہوئے بتایا۔
“اور آج میں آپ لوگوں کے ساتھ آفس بھی چلوں گا ، تھک گیا ہوں میں گھر میں بیٹھے بیٹھے”۔ساحر نے مزید کہا۔
“ٹھیک ہے ، چلے چلنا”۔احمد شاہ نے کہا۔
“وافیہ کہاں ہے؟۔ساحر نے پوچھا۔اور جوس پینے لگا۔
“شاید کمرے میں ہوگی اپنے”۔رفعت نے کہا۔
“نیلوفر !۔شمع بیگم نے ملازمہ کو آواز دی۔
“جی بیگم صاحبہ!۔نیلوفر نے آکر پوچھا۔
“جاؤ جاکر وافیہ کو بلا کر لاؤ اسکے کمرے سے”۔شمع بیگم نے کہا۔
“وہ جی وافیہ باجی تو گھر پر نہیں ہیں”۔نیلوفر نے بتایا۔
“کیا ! گھر پر نہیں ہے تو کہاں گئی؟۔نوشین نے پوچھا۔
“وہ جی فجر کے فوراً بعد وہ گھر سے نکلی تھیں ، میں نے پوچھا کہ کہاں جارہی ہیں تو کہنے لگی کہ اپنی دادی سے ملنے جارہی ہوں ، اور واپس آنے میں دیر ہوجائے گی ، جب آپ لوگ اٹھ جائیں تو آپ لوگوں کو بتا دوں”۔نیلوفر نے بتایا۔
“تو تم نے بتاتا کیوں نہیں؟۔رفعت نے پوچھا۔
“وہ جی میں بھول گئی تھی”۔نیلوفر نے کہا۔
“اچھا ٹھیک ہے ، جاؤ تم”۔شمع بیگم نے کہا۔اور سب دوبارہ ناشتے کی جانب متوجہ ہوگئے۔
***********
عصر کی اذان ہوچکی تھی۔سورج کی گرم گرم دھوپ اب نرم ہوگئی تھی۔سارے مرد حضرت ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی آفس سے واپس آئے تھے۔اور اس وقت سب ہال میں بیٹھے ہوئے تھے۔
“وافیہ آگئی کیا؟۔ساحر نے پوچھا۔
“نہیں ، ابھی تک نہیں آئیں”۔دعا نے بتایا۔
“حیرت ہے ، صبح سے یہ وقت ہوگیا ہے ، اور ابھی تک اسکا کچھ پتہ نہیں ہے”۔ساحر نے تشویش سے کہا۔
“آجائے گی ، تمھیں اتنی فکر کیوں ہورہی ہے”۔نوشین نے کہا۔
“پھر بھی ممی ، ہوسپٹل جاکے کسی سے ملنے میں اتنا وقت تو نہیں لگتا”۔ساحر نے کہا۔
“نانی ! وقاص آگیا ہے اپنی امی اور بہن کے ساتھ”۔لاریب نے ہال میں آتے ہوئے بتایا۔
“اچھا ، چلو ڈرائینگ روم میں چلتے ہیں”۔شمع بیگم نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔اور ساحر کے علاوہ سب ڈرائینگ روم کی جانب چلے گئے۔ساحر کو ہنوز وافیہ کی فکر ہورہی تھی۔
**********
عشاء کی اذان بھی ہوچکی تھی۔وقاص اور اسکی فیملی ساری بات چیت طے کرکے ، کھانا وغیرہ کھا کر اب واپس جاچکے تھے۔پر وافیہ کا اب بھی کچھ پتہ نہیں تھا۔
“سعد ! تمہارے پاس وافیہ کا کوئی کونٹیکٹ نمبر ہے؟۔ساحر نے سعد کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔سعد بیڈ پر لیٹا ہوا فون میں گیم کھیل رہا تھا۔
“ہاں بھائی ہے ، کیوں خریت؟۔سعد نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
“خریت نہیں ہے یار ، فجر سے عشاء ہوگئی ہے ، پر وافیہ کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں ہے ، تو فون کر اسے ، پوچھ کہاں ہے وہ”۔ساحر نے بےچینی سے سعد کے برابر میں بیٹھتے ہوئے کہا۔
“اچھا بھائی ، کرتا ہوں فون”۔سعد نے کہا۔اور نمبر ڈائل کرنے لگا۔
“فون تو بند ہے بھائی”۔سعد نے فون کان سے لگا کر کہا۔
“کوئی اور نمبر نہیں ہے؟۔ساحر نے پوچھا۔
“نہیں ، بس یہی نمبر ہے”۔سعد نے کہا۔
“اسکا گھر معلوم ہے تمھیں”۔ساحر نے پوچھا۔
“نہیں بھائی”۔سعد نے لاعلمی سے کاندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
“ہاں پر جہاں انکی دادی ایڈمٹ ہیں اس ہوسپٹل کا پتہ ہے مجھے”۔سعد نے اچانک جوش میں آکر کہا۔
“چل جلدی میرے ساتھ پھر”۔ساحر نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
اور دونوں جلدی سے باہر نکلے۔
“ارے اتنی جلدی میں کہاں جارہے ہو تم دونوں؟۔رفعت نے دونوں کو عجلت میں باہر کی جانب جاتے ہوئے دیکھ کر پوچھا۔
“ضروری کام سے جارہے ہیں چچی ، ابھی تھوڑی دیر میں آتے ہیں”۔ساحر نے کہا۔اور دونوں جلدی سے باہر نکل گئے۔رفعت کاندھے اچکا کر اندر چلی گئیں
_____
“یار سمجھ نہیں آرہا یہ وافیہ اچانک اپنی دادی سمیت کہاں غائب ہوگئی ہے؟۔ساحر نے واپس پارکنگ ایریا میں آتے ہوئے سعد سے کہا۔
“ہممم! ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ وافیہ جی صبح قریب نوں دس بجے اپنی دادی کو ہوسپٹل سے ڈسچارج کرواکر لے گئیں ہیں ، تو پھر باقی پورا دن وہ کہاں ہوں گی؟ کہیں واپس اپنے گھر تو نہیں چلی گئیں وہ”۔سعد نے کار سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوتے ہوئے خیال ظاہر کیا۔
“ہممم! پر تمھیں اسکا گھر بھی تو نہیں معلوم ہے”۔ساحر نے بھی کار سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا۔
“آفس سے شاید ایڈریس مل جائے”۔سعد نے اچانک جوش سے کہا۔
“تمھیں بھی سارے کام کے آئیڈیے دیر سے ہی آتے ہیں ، چلو آفس چلتے ہیں”۔ساحر نے جلدی سے کہا۔
“کیا ہوگیا بھائی ! ٹائم تو دیکھو ، رات کے پونے دس بج رہے ہیں ، اس وقت آفس جاؤ گے!۔سعد نے حیرت سے ہاتھ پر بندھی گھڑی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“تو کیا ہوا ، ہمارے باپ دادا کا آفس ہے ، ہم کبھی بھی جاسکتے ہیں”۔ساحر نے کہا۔
“چل ٹائم ضائع نہیں کر ، جلدی گاڑی میں بیٹھ”۔ساحر نے ڈرائیونگ سیٹ کی جانب جاتے ہوئے سعد سے کہا۔سعد منہ بناتے ہوئے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر بیٹھ گیا۔اور ساحر نے جلدی سے گاڑی آگے بڑھا دی۔
*********
“لو ، کھودا پہاڑ ، اور نکلا تالا”۔سعد نے گیٹ پر لگے تالے کو دیکھ کر کہا۔دونوں اس وقت وافیہ کے گھر کے باہر کھڑے ہوئے تھے۔اور دروازے پر تالا لگا ہوا تھا۔
“ایڈریس تو یہی تھا”۔ساحر نے کہا۔
“آس پاس کسی سے پوچھتے ہیں ، ایسا کر یہ برابر والا دروازہ بجا”۔ساحر نے سعد سے کہا۔
“میں صرف بجاؤں گا ، باقی پوچھنا خود”۔سعد نے کہا۔اور برابر والوں کا کے گھر کا گیٹ بجا کر پیچھے ہوگیا۔
“جی ، کس سے ملنا ہے؟۔ایک ادھیڑ عمر کی عورت نے دروازہ کھول کر پوچھا۔
“السلام و علیکم آنٹی ، وہ دراصل یہاں برابر میں وافیہ نام کی ایک لڑکی رہتی تھی اپنی دادی کے ساتھ ، کیا آپ بتاسکتی ہیں کہ وہ کہاں گئی ہوئی ہے؟۔ساحر نے آگے آتے ہوئے مہذب انداز میں پوچھا۔
“ہاں ، یہ میرا ہی گھر ہے ، میں نے کرائے پر دیا ہوا تھا وافیہ اور اسکی دادی کو ، کافی دنوں سے تو دونوں دادی پوتی گھر میں تھیں ہی نہیں ، آج اچانک صبح وافیہ آئی تھی ، مجھے چابی ، اور اس مہینے کا کرایا دے کر چلی گئی ، کہہ رہی تھی کہ وہ اپنی دادی کے ساتھ اب اپنے کسی رشتے دار کے گھر جارہی ہے ، اب وہ لوگ یہاں نہیں رہیں گے ، پر تم لوگ کون ہو ، اور کیوں پوچھ گچھ کر رہے ہو اسکے بارے میں”۔عورت نے بتاتے ہوئے آخر میں تیکھے تیوروں سے ان دونوں کو دیکھ کر پوچھا۔
“وہ دراصل ہم وافیہ کے کالج کے دوست ہیں ، وافیہ سے ملے ہوئے کافی ٹائم ہوگیا تھا تو اس لئے اس سے ملنے آئے تھے ، پر وہ یہاں ہے ہی نہیں ، آپکو پتہ ہے کیا کہ وہ کس رشتے دار کے گھر کہاں گئی ہے؟۔ساحر نے جھوٹ بولتے ہوئے آخر میں پوچھا۔
“نہیں ، مجھے یہ سب نہیں پتہ”۔عورت نے لاعلمی سے کہا۔
“اچھا تو سامان جیسے فرنیچر وغیرہ وہ سب بھی لے کر گئی ہیں وہ؟۔سعد نے پوچھا۔
“نہیں ، فرنیچر کے پیسے اس نے کرائے میں کاٹ لئے تھے ، اور مجھے کہا تھا کہ میں یہ فرنیچر بیچ دوں ، اسے ان سب سامان کی ضرورت نہیں ہے ، بس اپنی کچھ ضرورت کی چیزیں لے کر گئی ہے”۔عورت نے بتایا۔
“بتانے کیلئے بہت شکریہ ، اور ہم نے آپکو ڈسٹرب کیا اسکے لئے بہت معذرت”۔ساحر نے کہا۔عورت نے بنا کوئی جواب دیے دروازہ بند کردیا۔
“سمجھ نہیں آرہا کہ یہ وافیہ جی کیا چاہ رہی ہیں؟۔سعد نے الجھ کر کہا۔ساحر نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“چلو ، گھر چلتے ہیں”۔ساحر نے کہا۔اور کار کی جانب بڑھ گیا۔سعد بھی اسکے پیچھے ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھ گیا۔اور ساحر نے گاڑی آگے بڑھا دی۔
*********
رات کے ڈیڑھ بج رہے تھے۔سب لوگ اپنے اپنے کمروں میں تھے۔ساحر بھی اپنے کمرے میں بیڈ پر دونوں ہاتھوں کو سر کے نیچے رکھ کر لیٹا ہوا تھا۔اور کچھ سوچتے ہوئے مسلسل چھت کو تکے جارہا تھا۔سعد اور ساحر نے گھر آکر سب کو وافیہ کی گمشدگی کی بارے میں بتایا تھا۔پر سب کا یہی کہنا تھا کہ اب یہاں اسکا کام ختم ہوگیا تھا اس لئے وہ چلی گئی ہوگی۔کسی نے بھی اس بات کو اتنا سیریس نہیں لیا۔پر ساحر کو وافیہ کے ایسے اچانک چلے جانے سے بہت دکھ ہوا تھا۔اتنا دکھ تو اسے لاریب سے اپنا اتنا پرانا رشتہ ٹوٹنے پر بھی نہیں ہوا تھا۔
“وہ ایک دفعہ تو میری محبت کو آزماتا ، مجھے بتاتا”
“کسی بہانے انا کی دیوار کو گراتا ، مجھے بتاتا”
“اس نے ستم کیا ہے کہ شہر چھوڑا ہے خاموشی سے”
“میں اس کے خاطر ساری دنیا ہی چھوڑ جاتا، وہ مجھے بتاتا”
*********
سورج آج بھی اپنے معمول کی طرح اپنی جگہ پر موجود روشنی لٹا رہا تھا۔سب لوگ معمول کی طرح ناشتے کی میز پر جمع تھے۔سب کچھ ہی معمول کے مطابق ہی تھا۔پر ساحر کو سب کچھ بہت خالی خالی ، ادھورا ادھورا سا لگ رہا تھا۔
“ساحر ! کیا سوچ رہے ہو ! چائے پیو ، ٹھنڈی ہوجائے گی”۔نوشین نے ساحر کو کسی سوچ میں گم دیکھ کر ٹوکا۔ساحر یکدم چونک گیا۔اور سارے خیالات جھٹک کر ناشتے کی جانب متوجہ ہوگیا۔
“ویسے وقاص کی امی اور بہن کافی اچھی طبیعت کی ہیں ، کل کافی خوش اخلاقی سے ملی ناں سب سے”۔رفعت نے کہا۔
“ہممم! مجھے بھی کافی اچھے لگے وہ لوگ”۔نوشین نے بھی تائید کی۔
“تو پھر کیا ڈیسائڈ ہوا مام؟۔دعا نے پوچھا۔
“ایک ہفتے بعد اپنے گھر میں ہی چھوٹی سی تقریب رکھ رہے ہیں ہم ، اسی میں لاریب کو وقاص کے ساتھ رخصت کردیں گے”۔رفعت نے بتایا۔
“واہ بھئی ، بہت بہت مبارک ہو آپکو”۔دعا نے لاریب سے کہا۔
“تھینک یو”۔لاریب نے مسکرا کر کہا۔
“چلیں بچوں آفس؟۔احمد شاہ نے نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہا۔
“جی ابا”۔طاہر صاحب نے کہا۔اور سب آفس جانے کیلئے کھڑے ہوگئے۔
**********
“ٹک ٹک ٹک”۔دروازے پر دستک ہوئی۔
“کم ان”۔ساحر نے کہا۔
“گڈ مارننگ سر ، آپ نے بلایا؟۔منیجر نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا۔
“گڈ مارننگ ، جی شرجیل صاحب میں نے آپکو بلایا تھا ، بیٹھیں”۔ساحر نے کہا۔شرجیل صاحب کرسی پر بیٹھ گئے۔
“ایک لڑکی نے ابھی حال ہی میں ہمارا آفس جوائن کیا تھا ، وافیہ خان نام تھا انکا ، کیا آپکو پتہ ہے کہ وہ آفس کیوں نہیں آئی ہیں ؟۔ساحر نے پوچھا۔
“جی سر ، جانتا ہوں ، وافیہ خان کو ، بلکہ آج ہی تو انھوں نے ہمیں اپنا ریذیگنیشن لیٹر میل کیا ہے”۔شرجیل صاحب نے بتایا۔
“کیا ! ریذیگنیشن لیٹر ! پر اس نے اچانک یہ جاب کیوں چھوڑ دی؟۔ساحر پر گویا بم گرگیا تھا۔
“پتہ نہیں سر ، پر لیٹر میں انکا کہنا تھا کہ اب انھیں اس جاب کی ضرورت نہیں ہے ، لہٰذا یہ جاب کسی اور کو دے دی جائے ، بس ، اس سے زیادہ مجھے کچھ نہیں پتہ”۔شرجیل صاحب نے بتایا۔
“ٹھیک ہے ، آپ جاسکتے ہیں ، شکریہ”۔ساحر نے کہا۔شرجیل صاحب سرہلاکر روم سے باہر چلے گئے۔اور ساحر حیران سا بس سوچتا رہا کہ یہ کیا کِیا وافیہ نے؟
**********
رات کے ساڑھے نوں بج رہے تھے۔ساحر اپنے کمرے میں صوفے پر بیٹھے ہوئے دونوں پاؤں میز پر رکھے ہوئے لیپ ٹاپ گود میں رکھے آفس کا کوئی کام کر رہا تھا۔
“بھائی یہ دیکھیں ، لاریب باجی کی رخصتی میں پہننے کیلئے میں نے یہ ڈریس لیا ہے ، کیسا ہے”۔دعا نے کمرے میں آتے ہوئے پوچھا۔دعا نے اپنے اوپر زمین کو چھوتی پنک کلر کی فراک لگائی ہوئی تھی۔اور ساحر سے اسکے متعلق رائے مانگ رہی تھی۔
“ہممم! بہت اچھی لگ رہی ہے”۔ساحر نے مسکرا کر کہا۔
“اور میری ڈریس کیسی لگ رہی ہے؟۔پیچھے سے ثناء نے بھی کمرے میں آتے ہوئے پوچھا۔اس نے بھی اپنے اوپر فیروزی رنگ کی زمین کو چھوتی فراک لگائی ہوئی تھی۔
“تمہاری ڈریس بھی بہت اچھی ہے ، اور تم دونوں پر ہی بہت اچھی لگ رہی ہے”۔ساحر نے کہا۔
“اور میری ڈریس کیسی ہے؟۔پیچھے سے سعد نے بھی آتے ہوئے پوچھا۔سعد نے فیروزی رنگ کا دوپٹہ اپنی کمر کے گرد ساڑھی کی طرح لاپیٹا ہوا تھا۔اور لڑکیوں کی طرح ادائیں مار کر ساحر سے پوچھ رہا تھا۔
“تم تو ان دونوں سے بھی زیادہ اچھے لگ رہے ہو”۔ساحر نے کہا۔
“مجھے پتہ تھا ، بس کبھی غرور نہیں کیا اپنے حسن پر”۔سعد نے ایک ادا سے سر جھٹکتے ہوئے کہا۔
“یہ میرے سوٹ کا دوپٹہ ہے ، کس خوشی میں اوڑھا ہوا ہے تم نے؟۔ثناء نے دوپٹہ کھنچتے ہوئے پوچھا۔
“لو بھئی پکڑو تمہارا دوپٹہ”۔سعد نے دوپٹہ اتر کر ثناء کی جانب اچھالتے ہوئے کہا۔
“چلو دعا ہم چلتے ہیں”۔ثناء نے دعا سے کہا۔اور دونوں کمرے سے باہر نکل گئیں۔
“بھائی آپکو دادی بلارہی ہیں اپنے کمرے میں”۔سعد نے بتایا۔
“کیوں ! خریت!۔ساحر نے پوچھا۔
“پتہ نہیں ، آپ خود ہی جاکر پوچھ لیں”۔سعد نے کاندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
“ٹھیک ہے ، تم چلو میں آتا ہوں”۔ساحر نے کہا۔سعد چلا گیا۔اور ساحر لیپ ٹاپ آف کرنے لگا۔
**********
“ٹک ٹک ٹک”۔ساحر نے دروازے پر دستک دی۔
“آجاؤ”۔شمع بیگم کی آواز آئی۔ساحر دروازہ دھکیلتے ہوئے اندر داخل ہوگیا۔شمع بیگم اپنی ایزی چیئر پر بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں۔
“آپ نے بلایا دادی؟۔ساحر نے پوچھا۔
“ہممم! آؤ بیٹھو”۔شمع بیگم نے کہا۔ساحر شمع بیگم کے پیروں کے پاس نیچے فرش پر بیٹھ گیا۔
“میں کل سے دیکھ رہی ہوں کہ تم کچھ خاموش اور الجھے ہوئے لگ رہے ہو ، کوئی مسلہ ہے کیا؟۔شمع بیگم نے پوچھا۔
“نہیں دادی ، ایسا تو کچھ بھی نہیں ہے ، آپکو کوئی وہم ہوا ہوگا”۔ساحر نے کہا۔
“کہیں لاریب کی وجہ سے تو؟۔شمع بیگم نے دانستہ طور پر بات ادھوری چھوڑ دی۔
“ارے نہیں دادی ، ایسا کچھ نہیں ہے ، آپ بلاوجہ وہم پال رہی ہیں”۔ساحر نے بات ٹالنے کی کوشش کی۔
“خیر مجھے بھی آپ سے ایک بات کرنی تھی”۔ساحر نے کہا۔
“ہممم! بولو ، کیا بات کرنی ہے؟۔شمع بیگم نے پوچھا۔
“سعد ناں کسی کو پسند کرتا ہے”۔ساحر نے رازداری سے کہا۔
“کس کو پسند کرتا ہے؟۔شمع بیگم نے پوچھا۔
“آپ جانتی ہیں اسے ، لڑکی ہمارے گھر کی ہی ہے”۔ساحر نے معنی خیزی سے کہا۔
“کون ! ثناء ؟۔شمع بیگم نے تکا لگایا۔
“جی ، ثناء”۔ساحر نے کہا۔
“ہائے ! سچ کہہ رہا ہے تو ، پر وہ دونوں تو ہر وقت لڑتے رہتے ہیں”۔شمع بیگم نے کہا۔
“دادی آپ ہی تو کہتی ہیں کہ جہاں پیار ہوتا ہے ، وہاں لڑائی بھی ہوتی ہے”۔ساحر نے کہا۔
“ہاں پر تمھیں یہ کس نے بتایا؟۔شمع بیگم نے پوچھا۔
“خود سعد نے بتایا ہے”۔ساحر نے بتایا۔
“تو کیا ثناء بھی اسے پسند کرتی ہے؟۔شمع بیگم نے پوچھا۔
“پتہ نہیں ، اب بس یہی معلوم کرنا ہے ، اگر اس طرف سے بھی ہاں ہوگئی تو آپ دونوں کی بات باقاعدہ طور پر طے کردیجئے گا”۔ساحر نے کہا۔
“اور اگر ثناء نے انکار کردیا تو؟۔شمع بیگم نے خدشہ ظاہر کیا۔
“مجھے نہیں لگتا کہ وہ انکار کرے گی ، اور اگر انکار کر بھی دیا تو اس بات کو یہاں ہی ختم کردیں گے”۔ساحر نے کہا۔
“ٹھیک ہے ، میں آج ہی طاہر ، عامر ، نوشین اور رفعت سے اس بارے میں بات کرتی ہوں”۔شمع بیگم نے کہا۔
********
“کیا ہوا ممی ؟ دادا دادی نے آپ چاروں کو یوں کمرے میں کیوں بلایا تھا ؟ کوئی خاص بات تھی کیا؟۔ثناء نے نوشین کے کمرے میں داخل ہونے پر ان سے پوچھا
“ہممم! ضروری بات کرنی تھی انھیں کچھ ، اور مجھے بھی تم سے ضروری بات کرنی ہے؟۔نوشین نے ثناء کے سامنے بیڈ پر بیٹھے ہوئے کہا۔
“کیا ضروری بات؟۔ثناء نے تشویش سے پوچھا
“دراصل اماں اور ابا چاہتے ہیں کہ وہ تمہاری اور سعد کی بات طے کردیں ، یہی کہنے کیلئے انھوں نے ہمیں بلایا تھا ، عامر اور رفعت تو اس رشتے کیلئے راضی ہیں ، اور خود سعد کی مرضی بھی شامل ہے اس میں ، اب بس تمہاری مرضی جاننا باقی ہے ، اگر تمھیں کوئی اعتراض نہیں ہے تو بتا تو ، پھر ہم لاریب کی رخصتی والے دن ہی تمہاری اور سعد کی منگنی کردیں گے”۔نوشین نے ساری تفصیل بتائی۔اور ثناء خاموشی سے انکی باتیں سن رہی تھی۔
“اب بتاؤ بیٹا ، کیا مرضی ہے تمہاری ؟ کیا تمھیں منظور ہے یہ رشتہ؟۔نوشین نے پوچھا
*********
آج لاریب کی رخصتی تھی۔گھر کے لان میں ہی ایک چھوٹی سی تقریب رکھی گئی تھی۔اور لان کو کافی اچھے سے سجایا ہوا تھا۔اور اس تقریب میں بس کچھ ہی قریب کے لوگ شریک تھے۔زیادہ لوگوں کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔مغرب کے بعد لان میں ایک شاندار ڈنر تھا۔اور اسکے بعد لاریب کو وقاص کے ساتھ رخصت کرنا تھا۔سب مہمان تقریباً آچکے تھے۔
“نوشین ، رفعت ، جاؤ جاکر لاریب کو لے آؤ”۔شمع بیگم نے کہا۔اور دونوں سرہلاکر اندر لاریب کو لینے چلی گئیں۔پھر تھوڑی دیر میں لاریب کے ساتھ باہر آئیں۔لاریب نے لال رنگ کی ٹخنوں تک آتی قمیض فلاپر کے ساتھ پہنی ہوئی تھی۔اسی رنگ کا دوپٹہ کاندھے پر ڈالا ہوا تھا۔اور اپنے کاندھے تک آتے اسٹیپ کٹینگ بالوں کو کھلا ہوا تھا۔لاریب کو لاکر وقاص کے ساتھ بیٹھا دیا گیا۔ایک جگہ پر دونوں کے بیٹھنے کیلئے تھوڑا الگ سے اہتمام کیا گیا تھا۔لاریب کے چہرے سے ہی خوشی جھلک رہی تھی۔اس سے پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی کہ وہ خوش ہے یا نہیں؟۔لاریب کو بیٹھانے کی دیر تھی کہ سب کا سیلفی لینے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
“ارے کیا سارا ٹائم سب نے تصویریں ہی کھینچنی ہے؟۔شمع بیگم نے کہا۔
“ارے ہاں دادی ، سہی کہہ رہی ہیں آپ ، چلیں سب کھانا کھاتے ہیں”۔ساحر نے کہا۔
“کھانے کی بات نہیں کررہی ہوں میں”۔شمع بیگم نے کہا۔پھر سب لوگ ثناء اور سعد کے ارد گرد کھڑے ہوگئے۔اور زوردار تالییوں کی گونج میں دونوں نے ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنا دی۔سعد کو ثناء کو انگوٹھی پہناتا دیکھ کر ساحر کے ذہن میں اچانک ایک منظر تازہ ہوگیا۔چاندنی رات میں ڈوبا ہوا۔ساگر کنارے۔دو سائے
“بھائی ! کیا ہوگیا ! تایا بلارہے ہیں آپکو”۔سعد نے ساحر کو کاندھے سے ہلاتے ہوئے کہا۔ساحر یکدم خیالوں کی دنیا سے چونک کر ہوش میں آیا۔سب لوگ منگنی کی رسم کے بعد واپس اپنی اپنی جگہ پر جاچکے تھے۔ساحر بھی سعد کے بتانے پر طاہر صاحب کی جانب چلا گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *