Sagar Kinaray by Faryal Khan NovelR50709 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 01
Rate this Novel
Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 01 (Watching)Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 02 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 03 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 04,05 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 06 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 07 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 08 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 09 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 10 Sagar Kinaray by Faryal Khan Last Episode
Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 01
رات کے ساڑھے تین بج رہے تھے۔ٹھیک آدھے گھنٹے بعد چار بج کر دس منٹ پر دبئی سے آنے والی فلائٹ کراچی ائیرپورٹ پر لینڈ کرنے والی تھی۔اور اس فلائٹ میں جو آنے والا تھا۔اسے پک اپ کرنے ہی ساحر ائیرپورٹ جارہا تھا۔کیونکہ رات کا وقت تھا روڈ پر ٹریفک نہیں تھا۔اس لئے ساحر بہت فاسٹ ڈرائیونگ کررہا تھا۔اور ساتھ ساتھ اسکا ذہن بھی ایک ساتھ کئی سوچوں میں مصروف تھا۔ساحر ہنوز کار بہت تیزی سے چلا رہا تھا۔کہ اسی تیزی سے رونگ سائیڈ سے ایک ٹرک ساحر کی جانب آیا۔اس سے پہلے کے ساحر کار سائیڈ میں کرتا یا بریک لگاتا۔ٹرک نے کار کو ٹکر مار دی۔ٹکر لگنے سے ساحر کی کار بری طرح قلابازی کھاتے ہوئے ایک پول سے جاٹکرائی۔ٹرک والا تو اسی تیزی سے فرار ہوچکا تھا۔ساحر روڈ پر الٹی پڑی کار میں دھنسا ہوا تھا۔اسکے سر سے بہت خون نکل رہا تھا۔اور تھوڑی ہی دیر میں اسکی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھاگیا۔
********
ساحر شاہ کا تعلق ایک ہائی کلاس گھرانے سے تھا۔اسکی فیملی میں سب سے بڑے اور گھر کے سربراہ تھے اسکے دادا احمد شاہ اور دادی شمع احمد۔پھر تھے ساحر کے والد طاہر شاہ اور ساحر کی والدہ نوشین طاہر۔انکے دو بچے تھے۔بڑا بیٹا ساحر اور ساحر سے چھوٹی تھی ثناء۔پھر تھے ساحر کے چاچو عامر شاہ اور ساحر کی چچی رفعت عامر۔انکے بھی دو بچے تھے۔ایک بیٹی دعا۔اور ایک بیٹا تھا سعد۔دونوں لڑکیاں یونیورسیٹی میں زیر تعلیم تھیں۔سعد اور ساحر احمد شاہ ، عامر صاحب اور طاہر صاحب کے ساتھ اپنا بزنس سمبھالتے تھے۔ساحر کی ایک پھوپھو بھی تھیں۔لبنیٰ جو اپنی پسند سے شادی کرکے دبئی چلی گئی تھیں۔پھر جب گھر والوں کی یاد ستانے لگی تو پانچ سال بعد وہ اپنے شوہر اور ایک چار سالہ بیٹی کے ساتھ اپنے گھر والوں سے ملنے آگئیں۔گھر والوں نے بھی پرانی باتیں بھُلا کر داماد اور نواسی کو قبول کرلیا۔سب نے انھیں کہا کہ یہاں ہی رہ جاؤ پر نوید (انکے شوہر) کی دبئی میں جاب کا مسلہ ہوجاتا۔ابھی بھی وہ لوگ چھٹی پر ہی پاکستان آئے تھے۔اس لئے پھر دوبارہ آنے کے وعدے پر وہ لوگ واپس دبئی چلے گئے۔پر شمع بیگم کو ڈر تھا کہ کہیں پھر سے اپنی بیٹی کو کھو نہ دیں۔اس لئے انکے دبئی واپس جانے سے پہلے شمع نے چار سالہ لاریب سے آٹھ سالہ ساحر کی بات طے کر کے لاریب کو ساحر سے منسوب کردیا۔پھر دوبارہ جب لبنیٰ پاکستان آئی تو لاریب آٹھ سال کی تھی۔اور ساحر بارہ سال کا تھا۔شمع بیگم تو اس بار نکاح ہی کرنا چاہ رہی تھیں دونوں کا۔پر لبنیٰ اور نوید اس پر راضی نہیں ہوئے۔تو شمع بیگم خاموش ہوگئیں۔پر اب جب لبنیٰ گئی۔تو پھر کبھی واپس نہیں آئی۔لبنیٰ اور نوید کا دبئی میں ایکسیڈینٹ ہوگیا۔اور موقے پر ہی دونوں کا انتقال ہوگیا۔ایکسیڈینٹ کے وقت لاریب گھر میں اپنی دادی کے پاس تھی اس لئے وہ بچ گئی۔جب لبنیٰ اور نوید کے انتقال کی خبر یہاں پہنچی تو شمع بیگم اور احمد شاہ فوراً طاہر اور نوشین کے ساتھ دبئی کیلئے روانہ ہوگئے۔وہاں ان دونوں کی آخری رسومات میں شریک ہوکر وہ لوگ لاریب کو اپنے ساتھ پاکستان لانا چاہ رہے تھے۔پر اسکی دادی نے اسے لے جانے نہیں دیا۔وہ لوگ زیادہ مزاہمت نہیں کرسکے۔اس لئے واپس آگئے۔بس لاریب کی دادی نے اتنی مہربانی کی تھی کہ وہ اکثر لاریب کی فون پر ان لوگوں سے بات کروادیتی تھیں۔وقت گزرتا گیا۔ساحر کے ذہن میں یہ بات بیٹھا دی گئی تھی کہ اسکی بیوی لاریب ہی بنے گی۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لاریب کا پاکستان رابطہ کم سے کم ہوگیا۔اور پھر نہ ہونے کے برابر ہی رہ گیا۔اور پھر اچانک کئی سالوں بعد ان لوگوں کو لاریب نے فون کیا اور بتایا کہ وہ پاکستان آرہی ہے ان لوگوں کو ایک سرپرائز دینے۔اس خبر کا ملنا تھا۔بس پھر سب کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں رہا۔
********
“یا اللّه ! مجھ سے تو صبر ہی نہیں ہورہا ہے ، کب ہوگا کل ، کب آئے گی میری بیٹی پاکستان!۔شمع بیگم نے بے تابی سے کہا۔سب گھر والے اس وقت ہال میں بیٹھے ہوئے تھے۔
“کیا کہا دادی ! آپکی بیٹی اب پاکستان کیسے آسکتی ہے ! انھیں تو قبرستان گئے ہوئے سالوں ہوگئے ہیں”۔سعد نے کہا۔
“میں لاریب کی بات کررہی ہوں کمبخت”۔شمع بیگم نے کہا۔
“تو نواسی بولیں ناں دادی ، بیٹی کیوں کہہ رہی ہیں!۔سعد نے کہا۔
“چپ کرو تم ، ویسے اتنے سالوں میں ہم نے لاریب باجی کو تو کبھی دیکھا ہی نہیں ہے ،تو ہم انھیں پہچانے گے کیسے ! ہمارے پاس تو انکی کوئی فوٹو بھی نہیں ہے ، بس ایک دفعہ ہی ویڈیو کال پر بات ہوئی تھی ، اس پر بھی انکا فیس سہی سے دکھائی نہیں دے رہا تھا”۔ثناء نے کہا۔
“نہیں نہیں ، ساحر بھیا کے پاس تو فوٹو ہوگی ، ہیں ناں بھیا؟۔دعا نے شرارت سے کہا۔
“جی نہیں ، میری تو اس سے ٹھیک سے بات بھی نہیں ہوتی ، فوٹو تو بہت دور کی بات ہے”۔ساحر نے کہا۔
“ارے بات میں وزن ہے کہ ہم اتنے سالوں بعد لاریب کو پہچانے گے کیسے؟۔نوشین نے کہا۔
“ارے فوٹو بھیجی ہے اس نے اپنی”۔عامر صاحب نے بتایا۔
“کیا ! ڈیڈ آپکے پاس لاریب باجی کم بھابھی کی فوٹو ہے ، اور آپ نے ہمیں بتایا بھی نہیں”۔سعد نے حیرانگی سے کہا۔
“ارے آج صبح ہی تو بھیجی ہے اس نے فوٹو شناخت کیلئے”۔عامر صاحب نے بتایا۔
“دیکھائیں ناں ڈیڈ فوٹو پلیز”۔دعا نے کہا۔
“بھئی کل آئے گی تو فیس ٹو فیس ہی مل لینا”۔عامر صاحب نے کہا۔
“چاچو پلیز دیکھا دیں ناں فوٹو ، اچھا صرف ہمیں دیکھا دیں ، ساحر بھیا کو مت دیکھائیں ، یہ کل فیس ٹو فیس مل لیں گے”۔دعا نے کہا۔
“ارے دیکھا دو ناں بچوں کو تصویر ، بلکہ لاؤ مجھے بھی دکھاؤ میری بچی کی تصویر”۔شمع بیگم نے بھی کہا۔
“اچھا بھئی دیکھاتا ہوں”۔عامر صاحب نے کہا۔اور اپنے موبائل میں لاریب کی فوٹو ڈھونڈنے لگے۔
“یہ دیکھیں ، یہ ہے”۔عامر صاحب نے موبائل شمع بیگم کی جانب کرتے ہوئے کہا۔اور سب ہی جلدی سے شمع بیگم کے دائیں بائیں آگئے۔پر ساحر اپنی جگہ پر ہی بیٹھا رہا۔
“ارے واہ ! کتنی پیاری ہوگئی ہے بڑی ہوکر”۔شمع بیگم نے کہا۔
“ہممم! پر لبنیٰ سے کتنی مختلف ہے”۔نوشین نے کہا۔
“بھیا دیکھیں فوٹو”۔دعا نے کہا۔
“مجھے نہیں دیکھنی ، تم لوگ ہی دیکھو”۔ساحر نے اپنے فون پر گیم کھیلتے ہوئے لاپرواہی سے کہا۔
“ارے دیکھ لو”۔عامر صاحب نے موبائل کا رخ ساحر کی جانب کرتے ہوئے کہا۔
“نہیں چاچو ، کل فیس ٹو فیس ہی مل لوں گا”۔ساحر نے ہنوز گیم کھیلتے ہوئے کہا۔اور نظریں اپنے فون پر سے نہیں ہٹائی۔
“ارے دیکھ لو یار ، اب ہم سے کیا شرمانا”۔سعد نے شرارت سے کہا۔
“میں نہیں دیکھوں گا”۔ساحر نے ہنسی روکتے ہوئے کہا۔
“مرضی ہے بھئی”۔عامر صاحب نے کاندھے اچکا کر فون واپس رکھتے ہوئے کہا۔
“اچھا کل لاریب کو ائیرپورٹ سے پک اپ کون کرے گا ؟۔رفعت نے پوچھا۔
“سب چلیں گے ناں مما”۔دعا نے کہا۔
“کوئی ضرورت نہیں ہے پوری برات کو جانے کی ، ساحر جاکر لے آئے گا اسے ائیرپورٹ سے”۔احمد شاہ نے کہا۔جو ابھی تک خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔
“ہاں ، کوئی ضرورت نہیں ہے پوری برات کو جانے کی ، دولہا اکیلے ہی جاکر اسے لے آئے گا”۔سعد نے شرارت سے کہا۔
“پر بھیا نے تو بھابھی کی فوٹو دیکھی ہی نہیں ، یہ کل ائیرپورٹ پر بھابھی کو پہچانے گے کیسے؟۔ثناء نے پوچھا۔
“لاریب کو ساحر کی فوٹو دے دی تھی میں نے ، وہ پہچان لے گی اسے”۔عامر صاحب نے بتایا۔
“ویسے اچانک لاریب باجی ہمیں کیا سرپرائز دینے آرہی ہوں گی ! کچھ آئیڈیا ہے کسی کو؟۔دعا نے پوچھا۔
“اب یہ تو اسکے آنے کے بعد ہی پتہ چلے گا”۔شمع بیگم نے کہا۔
“لاریب کل صبح چار بجے کی فلائٹ سے آرہی ہے ، آج صبح نہیں ، جو سب لوگ رتجگے کررہے ہیں”۔طاہر صاحب نے کہا۔
“ہاں ، چلو بچوں ،رات کے گیارہ بج گئے ہیں ، اب جاکر سو سب لوگ”۔شمع بیگم نے بھی کہا۔اور سب لوگ اپنے اپنے کمروں میں جانے کیلئے کھڑے ہوگئے۔
**********
ہممم! وافیہ خان ، تو اس سے قبل کہیں جاب کرنے کا تجربہ ہے آپکو ؟۔سعد نے اپنے سامنے بیٹھی ہوئی لڑکی کی سی۔وی دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں سر ، ابھی ہال ہی میں ، میں نے اپنی پڑھائی مکمل کی ہے ، اور اب جاب کی تلاش میں ہوں”۔وافیہ نے بتایا۔
“ہممم! آپکی سی۔وی دیکھ کر تو آپ اس جاب کیلئے معقول لگ رہی ہیں”۔سعد نے پرسوچ انداز میں کہا۔
“ٹھیک ہے ڈن ، کل سے آپ جوائن کرسکتی ہیں”۔سعد نے کہا۔
“ریئلی سر!۔وافیہ نے بےیقینی سے پوچھا۔
“میں کوئی آپکا بچپن کا دوست ہوں جو آپ سے اس معملے میں مذاق کروں گا!۔سعد نے کہا۔
“سوری ، آئی مین ، مجھے یقین ہی نہیں آرہا کہ…!۔خوشی کے مارے وافیہ سے بولا بھی نہیں جارہا تھا۔
“انسان کو اپنی قابلیت پر پورا یقین ہونا چاہئے”۔سعد نے کہا۔
“جی سر بالکل ، تو پھر میں کل سے جوائن کرلوں!۔وافیہ نے تائید چاہی۔
“جی بالکل”۔ سعد نے کہا۔
“تھینک یو ، تھینک یو سو مچ سر”۔وافیہ نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔اور اپنی فائل لے کر باہر نکل گئی۔سعد نے دوسری فائل کھول لی۔
**********
وافیہ کا تعلق ایک مڈل کلاس طبقے سے تھا۔اسکے ماں باپ کا اسکے بچپن میں ہی ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں انتقال ہوگیا تھا۔وہ اپنی دادی کے ساتھ رہتی تھی۔اور اسکول میں ٹیچنگ کرتی تھی۔اور ساتھ ہی ساتھ پڑھ بھی رہی تھی۔اور اب پڑھائی مکمل ہونے کے بعد وہ کسی معقول جاب کی تلاش میں تھی۔جو کہ اسے مل گئی تھی۔
**********
“یار دعا ! آج میں نے ایک ناول پڑھا”۔ثناء نے کہا۔
“اس میں کونسی نئی بات ہے ، وہ تو تم ہروقت ہی پڑھتی رہتی ہو”۔دعا نے لاپرواہی سے کہا۔اور گود میں رکھی پلیٹ سے سیب کا پیس اٹھا کر کھانے لگی۔دونوں اس وقت لان میں کرسیوں پر آمنے سامنے بیٹھی ہوئی تھیں۔
“ارے یار پوری بات تو سنو”۔ثناء نے کہا۔
“سناؤ”۔دعا نے کہا۔
“تو اس ناول میں ہیروئین پودوں کو پانی ڈال رہی ہوتی ہے ، کہ تب ہی اچانک ہیرو آتا ہے ، ہیروئین کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہیرو پیچھے کھڑا ہے اور وہ بے دھیانی میں پودوں کے ساتھ ساتھ ہیرو کو بھی پائپ سے نہلا دیتی ہے ، پر جب اسے اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے تو وہ پائپ پھینک کر اندر بھاگ جاتی ہے ، ہیرو پتہ نہیں کب سے نہیں نہایا ہوا تھا ، ہیروئین کے نہلانے جیسے عظیم احسان کے بدلے میں وہ اپنا رشتہ ہیروئین کے گھر بھیج دیتا ہے ، اور دونوں کی شادی ہوجاتی ہے ، کیا حقیقی زندگی میں بھی ایسا ہوتا ہوگا ؟۔ثناء نے بتاتے ہوئے آخر میں پوچھا۔
“پتہ نہیں ، پانی پھینک کر دیکھ لو کسی پر ، پتہ چل جائے گا”۔دعا نے لاپرواہی سے کہا۔
“ہممم! پر کس پر پھینکوں ! ہمارے گھر تو کوئی آتا جاتا بھی نہیں ہے”۔ثناء نے مایوسی سے کہا۔
“گلی میں کسی پر پھینکیں ؟۔ثناء نے یکدم جوش میں پوچھا۔
“دماغ خراب ہے ، اگر کوئی لڑنے آگیا تو ؟۔دعا نے ڈرایا۔
“ارے ہم پانی پھینک کر فٹافٹ چھپ جایئں گے ، یا کہہ دیں گے کہ غلطی سے گرگیا آپ پر ، چل ناں ٹرائی کرتے ہیں ، بڑا مزہ آئے گا”۔ثناء نے کہا۔
“اس لئے کہتے ہیں کہ لڑکیوں کو ہر وقت یہ الٹے سیدھے ناول نہیں پڑھنے چاہئے ، دیکھا ہوگئی ناں تم پاگل”۔دعا نے کہا۔
“یار تُو چل تو”۔ثناء نے کرسی سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔اور دعا کو بھی ہاتھ پکڑ کر کرسی سے اٹھالیا۔ثناء ایک چھوٹی سی بالٹی بھر کر لے آئی۔
“یار میں اس فضول حرکت میں تمہارا ساتھ نہیں دوں گی”۔دعا نے کہا۔
“پلیز یار ، بہن نہیں ہے میری”۔ثناء نے منت کی۔
“نہیں “۔دعا نے کہا۔
“چل ناں یار”۔ثناء نے کہا۔اور دعا کا ہاتھ پکڑ کر اسے مین گیٹ پر لے آئی۔
“دیکھو ! تم دروازہ کھولنا میں باہر دیکھتی ہوں ، جیسے ہی کوئی گلی سے گزرے گا ، میں فوراً اس پر یہ پانی اچھل کر جلدی سے پیچھے ہوجاؤں گی ، اور تم فٹافٹ دروازہ بند کردینا ، پھر دونوں اندر بھاگ جایئں گے ، ٹھیک ہے”۔ثناء نے کہا۔
“نہیں ، بالکل بکواس ہے”۔دعا نے کہا۔
“چلو تم گیٹ کھولو ، میں دیکھتی ہوں کہ کوئی آرہا ہے کیا ؟ ثناء نے دعا کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔اور دعا نے منہ بنا کر گیٹ کھول دیا۔ثناء آس پاس کا جائزہ لینے لگی۔گلی میں سناٹا ہورہا تھا۔کوئی بھی نہیں تھا۔کہ تب ہی ثناء کو ایک جانب سے ایک سایہ اس طرف آتا ہوا نظر آیا۔
“دعا کوئی آرہا ہے”۔ثناء نے بتایا۔
“تو پھر پانی پھینکو اور بھاگو “۔دعا نے کہا۔
“ارے قریب تو آنے دے”۔ثناء نے کہا۔جیسے ہی وہ سایہ انکے گیٹ کے پاس آیا۔ثناء نے فوراً اس پر پانی اچھل دیا۔اور جلدی سے اندر ہوگئی۔دعا نے فٹافٹ گیٹ بند کیا۔ثناء بالٹی لان میں ہی پھینک کر دعا کے ساتھ اندر بھاگ گئی۔
“ارے ارے کیا ہوگیا ! ایسے بھاگتی دوڑتی کیوں آرہی ہو؟۔ہال میں بیٹھی نوشین نے پوچھا۔
“کچھ نہیں مما ایسے ہی کھیل رہے تھے ہم”۔ثناء نے اپنا پھولتا ہوا سانس قابو میں کرتے ہوئے کہا۔
“ٹینگ ٹونگ”۔دوڑ بیل بجی۔ثناء اور دعا ایک دوسرے کو دیکھنے لگی۔
“جاؤ دیکھو ، کون آیا ہے؟۔نوشین نے ثناء سے کہا۔
“کہیں وہی تو نہیں ہے جس پر ہم ابھی “حملہ” کرکے آرہے ہیں!۔دعا نے ثناء کے کان میں سرگوشی کی۔
“ٹینگ ٹونگ ، ٹینگ ٹونگ”۔دوبارہ بیل بجی۔
“نیلوفر ! ذرا دیکھو تو دروازے پر کون ہے ، یہ دونوں تو جاہی نہیں رہی ہیں”۔نوشین نے ملازمہ کو آواز لگائی۔ملازمہ دروازہ کھولنے چلی گئی۔اور دونوں کے دل کی دھڑکننیں تیز ہوگئیں۔
“ارے یہ کیا ہوگیا تمھیں ! کہاں سے بھیگ کر آرہے ہو”۔نوشین نے کہا۔ثناء اور دعا کا منہ نوشین کی جانب تھا۔اور پشست آنے والے کی جانب۔نوشین کے کہنے پر دونوں نے پلٹ کر دیکھا تو پیچھے سعد بھیگا ہوا کھڑا تھا۔اور ان دونوں کو ہی گھور رہا تھا۔
“کیسے ہوا یہ سب ! کچھ بتاؤ بھی”۔نوشین نے سعد سے پوچھا۔
“یہ ان دونوں کی حرکت ہے تائی”۔سعد نے دونوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“کیا ! ان دونوں کی ! یہ کیا حرکت ہے ثناء ؟۔نوشین نے کہا۔
“نہیں مما ، ہم نے نہیں کیا”۔ثناء نے جھوٹ بولا۔
“نہیں تائی ، یہ ان دونوں نے ہی کیا ہے ، میں نے خود دیکھا ہے ، یہ دونوں مجھ پر پانی پھینک کر یہاں اندر بھاگ آئی”۔سعد نے بتایا۔
“نہیں تائی ، یہ ثناء کا آئیڈیا تھا ، میں تو منع کررہی تھی اسے”۔دعا نے کہا۔ثناء نے دعا کو کونی ماری۔
“اس نے کسی ناول میں پڑھا تھا اسی طرح کا سین ، تو سچ مچ میں ٹرائی کرنے کھڑی ہوگئی”۔دعا نے مزید بتایا۔
“ایک تو تمہارے یہ ناول ، ابھی پھینکواتی ہوں میں انہیں ، نیلوفر !۔نوشین نے کہتے ہوئے پھر ملازمہ کو آواز دی۔
“مما نہیں پلیز ، اچھا آئندہ نہیں کروں گی ، پلیز انھیں پھینکیں نہیں پلیز”۔ثناء نے منت کی۔
“جی بیگم صاحبہ!۔ملازمہ نے آکر پوچھا۔
“ثناء کے کمرے میں جتنے بھی ناول رکھے ہوئے ہیں سب لے کر آؤ”۔نوشین نے کہا۔اور ملازمہ سر ہلاکر چلی گئی۔
“مما نہیں پلیز ، ایسا مت کریں ، میں وعدہ کرتی ہوں کہ اب ایسا کچھ نہیں کروں گی ، پلیز پلیز”۔ثناء نے التجا کی۔
“سعد جاؤ جاکر کپڑے بدلو تم”۔نوشین نے ثناء کو نظر انداز کرکے کہا۔
“تائی رہنے دیں ، اتنی سی بات کیلئے بھلا ناول کیوں پھینکوا رہی ہیں”۔سعد نے کہا۔اسے ترس آگیا ثناء پر۔
“ارے یہ بن برسات کہاں سے بھیگ کر آرہے ہو تم؟۔رفعت نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
“مام ثناء نے پانی پھینکا ہے بھائی پر”۔دعا نے بتایا۔
“چلو اچھا ہوا ، اس بہانے کم از کم صاف تو ہوگیا گندا ، ہفتے ہفتے میں تو نہاتا ہے”۔رفعت نے ہنستے ہوئے کہا۔اور نوشین کے برابر میں صوفے پر بیٹھ گئیں۔
“جی نہیں مام، میں روز نہاتا ہوں “۔سعد نے کہا۔
“اچھا اکیلے آئے ہو ، باقی تینوں کہاں ہیں؟۔رفعت نے پوچھا۔
“ڈیڈ ، تایا اور ساحر بھائی آفس کے سلسلے میں کسی سے ملنے گئے ہیں ، میرا کوئی خاص کام نہیں تھا وہاں اس لئے مجھے یہاں کونے پر ہی ڈراپ کرتے ہوئے گئے ہیں”۔سعد نے بتایا۔
“یہ لیں بیگم صاحبہ”۔نیلوفر نے پانچ چھے ناول نوشین کے سامنے میز پر رکھتے ہوئے کہا۔
“اب انہیں لان میں لے جاؤ ، اور آگ لگا دو”۔نوشین نے کہا۔
“ارے بھابھی کیا ہوگیا ، کیوں بلاوجہ کتابوں کو آگ لگوا رہی ہیں؟۔رفعت نے حیرت سے پوچھا۔
“اسکا بہت دماغ خراب ہوگیا ہے اسکی وجہ سے”۔نوشین نے کہا۔
“ارے بھابھی جانے دیں بچی ہے ، یہی تو دن ہوتے ہیں موج مستی کے ، پھر باقی ساری زندگی تو زمیداریاں نبھانے میں ہی گزر جانی ہے”۔رفعت نے کہا۔
“ہاں پر اسے بالکل بھی احساس نہیں ہے زمیداری کا ، بس ہر وقت اسی میں گھسی رہتی ہے”۔نوشین نے کہا۔
“ارے جب زمیداری پڑے گی تو احساس بھی ہوجائے گا ، ابھی جانے دیں ، ثناء اٹھاؤ یہ کتابیں اور کمرے میں جاؤ اپنے ، اور سعد تم بھی جاکر کپڑے بدلو جلدی”۔رفعت نے نوشین کو کہتے ہوئے ثناء اور سعد سے کہا۔ثناء نے خاموشی سے کتابیں اٹھائی۔اور اپنے کمرے کی جانب چلی گئی۔دعا بھی اسکے پیچھے چلی گئی۔اور سعد بھی اپنے کمرے میں چلا گیا۔
“بھابھی! اماں کہہ رہی تھیں کہ چنے کی دال کا حلوہ بنانا ہے ، لاریب آرہی ہے ناں ، لبنیٰ کو بہت پسند تھا حلوہ ، تو ہوسکتا ہے لاریب کو بھی پسند ہو”۔رفعت نے کہا۔
*********
“یار اتنی دیر ہوگئی ہے ، اب تک تو فلائٹ بھی لینڈ ہوگئی ہوگی ائیرپورٹ پر ، یہ ساحر بھائی ابھی تک آئے کیوں نہیں لاریب باجی کو لے کر!۔دعا نے بے چینی سے ہال میں ٹہلتے ہوئے کہا۔سب لوگ ہال میں جمع تھے۔اور ساحر کا انتظار کر رہے تھے کہ کب وہ لاریب کو لے کر آئے۔پر اسکا کچھ پتہ ہی نہیں تھا۔
“طاہر ! فون کرو ساحر کو ، پوچھو کہ کہاں رہ گیا ہے؟۔احمد شاہ نے کہا۔
“ابا فون کیا تھا ، پر فون بند ہے اسکا”۔طاہر صاحب نے بتایا۔
“اللّه کرے سب خیر ہو”۔شمع بیگم نے کہا۔تب ہی طاہر صاحب کا فون بجا۔اور سب انکی جانب متوجہ ہوگئے۔
“ہیلو ساحر ! کہاں ہو بیٹا تم ، ہم سب کب سے انتظار کررہے ہیں”۔طاہر صاحب نے فون اٹھاتے ہی کہا۔
“جی ہوں ، پر آپ کون؟۔طاہر صاحب نے پوچھا۔اور سب سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
“کیا ! پر کیسے ؟ کونسے ہوسپٹل میں ہے ؟۔طاہر صاحب نے حیرانگی سے کہا۔اور سب کو کسی انہونی کا خدشہ ہوا۔
“ٹھیک ہے ، ہم ابھی آتے ہیں ، بہت شکریہ”۔طاہر صاحب نے کہا۔اور لائن کاٹ دی۔
“کیا ہوا طاہر؟۔نوشین نے تشویش سے پوچھا۔
“ساحر کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے ، کچھ لوگوں کو وہ روڈ پر کار میں زخمی حالت میں ملا تھا ، تو وہ لوگ اسے ہوسپٹل لے گئے”۔طاہر صاحب نے جلدی سے کھڑے ہوتے ہوئے بتایا۔
“یا اللّه خیر”۔شمع بیگم نے بے اختیار کہا۔اور باقی سب بھی پریشان ہوگئے۔
“چلیں بھائی صاحب ، جلدی ہوسپٹل چلیں”۔عامر صاحب نے بھی کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
“میں بھی چلوں گی آپ لوگوں کے ساتھ”۔نوشین نے بھی کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
“پاگل مت بنو نوشین ، پتہ نہیں وہاں کیا حالت ہوں ، ہم جارہے ہیں ناں ، پھر تمھیں بھی بلالیں گے”۔طاہر صاحب نے کہا۔
“بیٹی طاہر ٹھیک کہہ رہا ہے ، صبر رکھو ، سب ٹھیک ہوگا”۔احمد شاہ نے کہا۔دونوں جلدی سے ہوسپٹل کیلئے روانہ ہوگئے۔اور باقی سب فکر مندی سے ساحر کی سلامتی کی دعا کرنے لگے۔
