Sagar Kinaray by Faryal Khan NovelR50709 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 06
Rate this Novel
Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 01 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 02 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 03 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 04,05 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 06 (Watching)Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 07 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 08 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 09 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 10 Sagar Kinaray by Faryal Khan Last Episode
Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 06
“اور یہ ہیں وقاص انصاری ، لاریب کے ہسبنڈ”۔ساحر نے بتایا۔اور سب پر گویا بم ہی گرگیا۔تب تک وافیہ بھی اپنے کمرے سے ہال میں آچکی تھی۔اور ناسمجھی سے ان دونوں اجنبیوں کو دیکھ رہی تھی۔سب لوگ بالکل خاموش کھڑے تھے۔
“السلام و علیکم”۔لاریب نے خاموشی کو توڑتے ہوئے سلام کیا۔سب لوگ اتنے حیران تھے کہ کسی کو جواب دینے کا بھی ہوش نہیں رہا۔
“یہ….یہ…سب کیا…کیسے؟۔رفعت نے ناسمجھی سے رک رک کر پوچھا۔
“بیٹھ کر بات کرتے ہیں ، بیٹھ جائیں آپ سب ، لاریب ، وقاص ، آپ لوگ بھی بیٹھ جائیں”۔ساحر نے کہا۔سب لوگ واپس اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔لاریب اور وقاص بھی ایک صوفے پر آکر بیٹھ گئے۔
“تم بھی بیٹھ جاؤ وافیہ”۔ساحر نے وافیہ سے کہا۔اور ساحر کو منہ سے اپنا اصلی نام سن کر وافیہ دنگ رہ گئی۔
“بیٹھ جاؤ وافیہ”۔ساحر نے پھر کہا۔اور وافیہ حیران حیران سی ایک صوفے پر بیٹھ گئی۔ساحر بھی بیٹھ گیا۔
“تو شروع سے شروع کرتے ہیں ، آج سے قریب ایک ماہ پہلے اچانک لاریب نے ہم سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ پاکستان آرہی ہے ، ہم سب کو کافی خوشگوار حیرت ہوئی ، پھر اسکے دوسرے دن ہی یعنی اتوار کو دوپہر میں ہمارے گھر کا پی۔ٹی۔سی۔ایل فون بجا ، پر کیونکہ ہال میں کوئی موجود نہیں تھا اس لئے کسی نے فون ریسیو نہیں کیا ، میں اتفاق سے کچن میں پانی پی رہا تھا تو میں نے آکر فون اٹھالیا ، دوسری جانب لائن پر لاریب تھی ، لاریب مجھے کچھ پریشان لگی ، پھر لاریب نے کہا کہ اچھا ہوا تم نے ہی فون اٹھایا ، مجھے تم سے ہی بات کرنی تھی ، مجھے اپنا پرسنل فون نمبر دے دو ، میں نے اسے اپنا نمبر دیا اور فون رکھ دیا ، اور غیرارادی طور پر میں لاریب کے فون کا ذکر گھر میں کسی سے کرنا بھول گیا ، خیر پھر اسی روز رات میں لاریب نے مجھے ویڈیو کال کی ، اور اس نے مجھے بتایا کہ ہم دونوں کا جو رشتہ بڑوں نے ہمارے بچپن میں طے کردیا تھا ، میں اسے نہیں مانتی ، اور میں یہاں ہی اپنے ایک دوست وقاص کو پسند کرتی ہوں ، تو میں نے پوچھا پھر بتاؤ اس میں ، میں کیا کرسکتا ہوں تمہارے لئے ، تو لاریب نے کہا کہ میں وقاص کے ساتھ یہاں پاکستان آرہی ہوں ، اور میں گھر والوں یعنی آپ لوگوں کو اس رشتے سے انکار کردوں ، میں نے کہا کہ تو پھر تم نے سب کو فون کرکے یہ کیوں کہا کہ تم پاکستان آکر ہمیں کوئی سرپرائز دینے والی ہو ، تو لاریب نے کہا کہ یہ سرپرائز ہی تو ہے ، کیونکہ میں وقاص سے نکاح کرچکی ہوں ، وقاص یہاں پاکسان کا ہی رہنے والا ہے ، اور وہ دبئی جاب کیلئے آیا ہوا تھا ، کہ تب ہی میری اس سے ملاقات ہوگئی ، پر میری دادی اس رشتے کیلئے راضی نہیں ہیں ، اس لئے میں وقاص کے ساتھ ہمیشہ کیلئے پاکستان آرہی ہوں ، اور تمھیں یہ سب پہلے سے بتانے کا مقصد یہ ہے کہ تم گھر والوں کو پہلے سے ہی ان سب کیلئے ذہنی طور پر تیار کرلو ، اب جب لاریب ہی اس رشتے کیلئے راضی نہیں تھی تو میں نے بھی کوئی ضد بحث نہیں کی ، اور یہ سوچنے لگا کہ آپ لوگوں کو اس بارے میں کیسے بتاؤں ؟ ، پر قدرتی طور پر مجھے آپ لوگوں سے بات کرنے کا موقع نہیں ملا ، اور لاریب کے آنے کا وقت ہوگیا ، میں نے بھی پھر یہ سوچ کر آپ لوگوں کو بتانے کا ارادہ ملتوی کردیا کہ جب لاریب آئے گی ، تو خود ہی آپ لوگوں سے بات کر لے گی ، اور خاموشی سے لاریب کو لینے ائیرپورٹ روانہ ہوگیا ، پر میں ائیرپورٹ پہنچ ہی نہیں پایا ، پھر جب سعد لاریب کو لینے ائیرپورٹ پہنچا تو وہ وقاص کے ساتھ وہاں سے جاچکی تھی ، پھر جب مجھے ہوش آیا تو لاریب والے معملے کا خیال آیا ، میرا خیال تھا کہ سعد میرے بدلے جاکر لاریب کو لے آیا ہوگا ، اور لاریب کی شادی کا سن کر آپ لوگوں کا کیا ردعمل تھا مجھے وہ جاننے کی بے تابی ہورہی تھی ، پر جب میں نے آپ لوگوں سے لاریب کے بارے میں پوچھا تو سب نے نارمل ری ایکٹ کیا ، وقاص کا بھی کسی نے کوئی ذکر نہیں کیا ، تو مجھے لگا کہ کہیں لاریب نے اپنا پلان چینج تو نہیں کردیا ، اس لئے میں خاموش رہا ، اور بار بار لاریب سے ملنے کی ضد اس لئے کررہا تھا تا کہ اس سے پوچھ سکوں اس بارے میں ، پر لاریب سے آپ لوگ ملوا ہی نہیں رہے تھے ، اور پھر اچانک ایک انجان لڑکی کو آپ لوگ میرے سامنے لاریب بناکر لے آئے ، مجھے بہت حیرت ہوئی ، کیونکہ لاریب کو تو آپ سب نے دیکھا ہوا تھا ، ہاں پر میں بھی لاریب کو دیکھ چکا تھا یہ بات آپ لوگوں کو نہیں معلوم تھی ، خیر میں خاموش رہا یہ دیکھنے کیلئے کہ آپ لوگ ایک انجان لڑکی کو لاریب بنا کر پیش کیوں کررہے ہیں ؟ اور اصلی لاریب کہاں ہے ؟ گھر آکر جب میری طبیعت کچھ بہتر ہوئی تو پھر میں نے لاریب سے رابطہ کیا ، لاریب نے بتایا کہ اس دن ائیرپورٹ پر دونوں نے کافی دیر میرا انتظار کیا ، پر جب میں نہیں آیا تو انہیں لگا کہ گھر میں لاریب کے رشتے سے انکار کا سن کر سب ان سے ناراض ہوگئے ہیں ، اس لئے یہ دونوں وقاص کے گھر چلے گئے تھے ، پھر ان سے رابطہ کرکے میں انہیں یہاں لے آیا ، اور اب یہ دونوں آپکے سامنے ہیں”۔ساحر نے شروع سے ساری تفصیل بتائی۔سب لوگ بالکل خاموشی سے ساحر کی باتیں سن رہے تھے۔اور ساحر کے خاموش ہونے کے بعد ہال میں خاموشی چھاگئی تھی۔
“تم نے اتنا بڑا قدم اٹھالیا ، وہ بھی بنا کسی کو بتائے!۔شمع بیگم نے خاموشی کو توڑتے ہوئے پوچھا۔
“نانی ، کس کو بتاتی میں ! امی ابو ہیں نہیں ، دادی ایسی ایسی ہیں نہیں کہ انکو کچھ بتاتی ، آپ لوگ یہاں اتنے دور ، دادی مجھے آپ لوگوں سے رابطہ ہی نہیں کرنے دیتی تھیں ، اور جو میں نے آپ لوگوں کو اپنے پاکستان آنے کی اطلاع دی تھی ، وہ بھی وقاص نے مجھے دادی سے چھپا کر ایک فون لا کر دیا تھا ، تو اس سے دادی سے چھپ کر دی تھی ، ورنہ دادی نے تو مجھے فون رکھنے کی بھی اجازت نہیں دی تھی ، بس کالج کی پڑھائی ختم ہوتے ہی انہیں نے وہاں مجھے ایک کمپنی میں زبردستی جاب پر لگوادیا تھا ، یوں سمجھ لیں میں انکے لئے پیسا کمانے والی مشین تھی ، اس گھٹن زدہ زندگی میں صرف وقاص ہی میرے لئے امید کی ایک کرن تھا ، اور مجھے اس قید سے نکالنے میں وقاص نے ہی میری مدد کی تھی ، پھر جب میں نے ساحر سے رابطہ کیا تو مجھے اور حوصلہ ہوا کہ ساحر کو میرے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں تھا ، ہاں پر آپ لوگوں کی جانب سے ہم تھوڑے فکرمند تھے ، کہ پتہ نہیں آپ لوگوں کا ردعمل کیا ہو ، پھر جب اس دن کافی دیر انتظار کرنے کے بعد بھی کوئی نہیں آیا ، تو ہمیں لگا کہ شاید آپ لوگ ہم سے ناراض ہیں ، اس لئے بنا اور وقت ضائع کیے ، ہم وقاص کے گھر چلے گئے ، کیونکہ ساحر پہلے بتا چکا ہے آپ لوگوں کو کہ وقاص یہاں پاکستان کا ہی رہنے والا ہے ، پھر اب جب ساحر نے ہم سے رابطہ کیا تو ہمیں پتہ چلا کہ یہاں کیا ہوا تھا”۔لاریب نے بھی ساری تفصیل بتائی۔
“حیرت ہے ، سگی دادی ہوتے ہوئے پوتی کے ساتھ ایسا سلوک”۔رفعت نے حیرانگی سے کہا۔
“دراصل دادی کو شروع سے ہی ابو کا پسند سے شادی کرنا اچھا نہیں لگا تھا آنٹی، انکا روایہ امی کے ساتھ بھی اچھا نہیں تھا ، پر امی ابو کی وجہ سے خاموش رہتی تھیں ، اور اب انھوں نے میرے ساتھ بھی ایسا ہی برتاؤ رکھا ہوا تھا”۔لاریب نے بتایا۔
“آئے ہائے ! آنٹی نہیں ، مامی ہے یہ تمہاری”۔شمع بیگم نے ٹوکا۔
“وہ دراصل اتنے سالوں بعد سب سے مل رہی ہوں ناں ، بہت چھوٹے میں اب سب کو دیکھا تھا ، اب تو ٹھیک سے کچھ یاد بھی نہیں ہے”۔لاریب نے جھینپ کر کہا۔
“کوئی بات نہیں ، آہستہ آہستہ گھل مل جاؤ گی”۔رفعت نے کہا۔
“آپ لوگ مجھ سے ناراض تو نہیں ہیں ناں ! کہ میں نے آپ لوگوں کے طے کردہ رشتے کو توڑ کر اپنی مرضی کرلی؟۔لاریب نے پوچھا۔
“نہیں بیٹی ، اب جو ہوگیا سو ہوگیا ، اب اگر ہم لوگ گزری باتوں کو لے کر بیٹھ جاتے ہیں ، تو بلاوجہ آپس میں نااتفاقی پیدا ہوگی ، دل دکھے گا ، اور ویسے بھی یہ رشتہ طے کرنے والا فیصلہ تو میرا ہی تھا ، رشتہ کیا طے کرنا تھا ، بس ایک بہانہ تھا اپنی بیٹی کو دوبارہ اپنے قریب کرنے کا ، اب جب وہ ہی نہیں رہی تو کیا کرسکتے ہیں”۔شمع بیگم بات کو درگزر کرتے ہوئے افسردگی سے کہا۔
“امی نہیں رہی تو کیا ہوا ! کیا میں آپکی بیٹی نہیں ہوں ، اور آپس میں رشتہ قائم رکھنے کیلئے ضروری تو نہیں ہے کہ اسی طرح کا رشتہ جوڑا جائے ، آپ لوگوں سے ویسے بھی میرا بہت مضبوط خون کا رشتہ ہے”۔لاریب نے کہا۔
“ہاں ہاں بالکل ، تم ہماری بیٹی ہو ، اور اپنی بیٹی کی خوشی میں ہم سب خوش ہیں”۔طاہر صاحب نے کہا۔
“نانا آپ بھی تو کچھ بولیں ، کیا آپ مجھ سے ناراض ہیں؟۔لاریب نے اب تک خاموش بیٹھے احمد شاہ سے پوچھا۔
“سب فیصلے تو تم اپنی مرضی سے لے ہی چکی ہو ، اس لئے ایک فیصلہ اب میری مرضی سے ہوگا”۔احمد شاہ نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
“کیسا فیصلہ نانا؟۔لاریب نے زور زور سے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا۔
“تم اب یہاں سے نہیں جاؤ گی ، یہاں ہی رہو گی”۔احمد شاہ نے سنجیدہ انداز میں کہا۔اور سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
“پر کیوں نانا ؟ میں شادی کرچکی ہوں ، اور شادی کے بعد لڑکی اپنے شوہر کے گھر میں ہی تو رہتی ہے”۔لاریب نے کہا۔احمد شاہ اٹھ کر چلتے ہوئے لاریب کے قریب آکر کھڑے ہوگئے۔
“پر شادی سے قبل لڑکی اپنے ماں باپ کے گھر سے عزت سے رخصت ہوتی ہے ، اور میں چاہتا ہوں کہ ہم اپنی بیٹی کو اپنے گھر سے عزت کے ساتھ رخصت کریں”۔احمد شاہ نے لاریب کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مسکرا کر کہا۔لاریب اور وقاص کا رکا ہوا سانس بھال ہوا۔اور باقی سب بھی مسکرادیے۔
“آپ نے تو ڈرا ہی دیا تھا نانا”۔لاریب نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“کیوں ! تمھیں کیا لگتا ہے کہ سرپرائز صرف تم لوگ ہی دے سکتے ہو!۔احمد شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“اگر سارے بڑوں کی سوچ آپ لوگوں کی طرح ہوجائے ، سب بڑوں میں آپ لوگوں جیسا بڑاپن آجائے تو کبھی ہم چھوٹوں کو غلط راستے یا طریقے کا سہارا نہ لینا پڑے”۔وقاص نے کہا۔
“ارے ! آپ بولتے بھی ہیں”۔سعد نے ماحول بدلنے کیلئے شرارت سے کہا۔
“ویسے ابھی اتنی دیر سے جو لاریب پٹر پٹر کررہی تھی ، اسکو دیکھ کر تو یہی لگ رہا تھا کہ بےچارے کو کم ہی بولنے کا موقع ملتا ہوگا”۔ساحر نے بھی کہا۔
“جی نہیں ، میں اتنا نہیں بولتی ، ہیں ناں وقاص!۔لاریب نے کہتے ہوئے تائید چاہی۔
“یہ بےچارے کیا بولیں گے ، انکو آپ پہلے ہی سبق پڑھا کر آئی ہوں گی کہ میری ہاں میں ہاں ملانا”۔سعد نے کہا۔
“بیٹا وقاص ، ابھی تم لاریب کو یہاں ہی چھوڑ دو ، اور کل اپنے والدین کے ساتھ آنا ، پھر ہم ان سے بات کرکے لاریب کو عزت سے یہاں سے رخصت کریں گے ، کیونکہ ظاہر ہے کہ انکے بھی تمہاری شادی کے حوالے سے کچھ ارمان ہوں گے”۔احمد شاہ نے کہا۔
“جی انکل ضرور ، ابو تو میرے حیات نہیں ہیں ، بس امی اور ایک چھوٹی بہن ہے ، میں انھیں لے آؤں گا کل اپنے ساتھ”۔وقاص نے بتایا۔
“میرا تعارف تو کروادو سب سے ساحر”۔لاریب نے کہا۔
“ارے ہاں ، یہ ہیں طاہر شاہ ، میرے پاپا اور تمہارے بڑے ماموں ، یہ انکی بیگم نوشین ، میری ممی ، اور تمہاری بڑی مامی ، یہ ہیں عامر شاہ ، میرے چاچو اور تمہارے چھوٹے ماموں ، یہ ہیں رفعت انکی بیگم ، میری چچی اور تمہاری چھوٹی مامی ، یہ ہے ثناء ، میری بہن اور تمہاری کزن ، یہ ہے سعد ، عامر چاچو کا بیٹا ،اور تمہارا کزن ، یہ ہے دعا سعد کی چھوٹی بہن اور تمہاری کزن ، اور دادا دادی کو تو تم جانتی ہی ہو ، تمہارے نانا نانی ہیں ، اور یہ ہیں…!۔ساحر نے سب کا تعارف کرایا پر وافیہ کی جانب اشارہ کرکے بات ادھوری چھوڑ دی۔
“اور میں ہوں وافیہ خان ، جو اب تک یہاں لاریب بن کر رہ رہی تھی”۔وافیہ نے خود ہی بتایا۔
“کیوں ! تم لاریب بن کر کیوں رہ رہی تھی؟۔لاریب نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“کیونکہ ڈاکٹر نے بھائی کے ایکسیڈنٹ کے بعد ہمیں کہا تھا کہ انکی ذہنی حالت بہت نازک ہے ، اور انھیں ہر قسم کے شاک اور پریشانی سے دور رکھنا ہے ، اب اگر ایسے میں ہم انھیں کہتے کہ آپ لاپتہ ہیں تو بھائی ٹینشن میں آجاتے ، اس لئے ہم نے یہ سوچ کر ان سے جھوٹ بول دیا کہ آپ گھر پر ہی ہیں ، اور آپکی تلاش جاری رکھی ، پر جب آپ کہیں نہیں ملی اور بھائی کا اصرار مسلسل بڑھتا رہا تو ہم وافیہ جی کو لاریب بنا کر بھائی کے سامنے لے آئے ، پر ہمیں نہیں پتہ تھا کہ انکا دماغ بالکل ٹھیک کام کررہا ہے”۔سعد نے بتایا۔
“ارے یہ ڈاکٹرز تو کرتے ہی یہی ہیں ، کہ پیشنٹ کے حوالے سے گھر والوں کو ڈرا دیتے ہیں ، حالت اتنی خراب ہوتی نہیں ہے ، جتنی بتاتے ہیں”۔لاریب نے کہا۔
“پر جو بھی ہے ، اس بے چاری بچی نے بھی بہت ساتھ دیا ہمارا”۔شمع بیگم نے کہا۔
“ڈھونڈ کر تو میں لایا تھا ناں اس بےچاری بچی کو”۔سعد نے مصنوئی فخر سے کہا۔
“اچھا نانی ، آپکے پاس امی کی تصویریں ہیں کیا ؟ میرے پاس انکی کوئی تصویر نہیں ہے”۔لاریب نے کہا۔
“ہاں ہاں ہیں ، بہت ہیں ، سب دکھاؤں گی تمھیں”۔شمع بیگم نے کہا۔
“اچھا تو پھر میں چلتا ہوں ، کل ان شاءاللّه اپنی امی اور بہن کے ساتھ آؤں گا”۔وقاص نے کہا۔
“ارے ابھی سے کہاں چلتا ہوں ، رکو مغرب ہونے والی ہے ، پھر اسکے بعد کھانا وغیرہ کھاکر جانا”۔احمد شاہ نے کہا۔
“نہیں انکل شکریہ”۔وقاص نے کہا۔
“پہلی بات تو یہ کہ یہ تمہارے انکل نہیں ہیں ، جو رشتہ لاریب کا ہم سب سے ہے وہی اب تمہارا بھی ہم سے ہے ، اور دوسری بات یہ ہے کہ تم داماد ہو اس گھر کے اور پہلی مرتبہ یہاں آئے ہو ، تو ایسے تو ہم تمھیں چھوڑیں گے نہیں”۔ساحر نے کہا۔
“جب سب اتنا کہہ رہے ہیں تو رک جاؤ ناں وقاص”۔لاریب نے بھی کہا۔
“اچھا ، ٹھیک ہے اگر آپ لوگ کہہ رہے ہیں تو”۔وقاص نے ہار مانتے ہوئے کہا۔
**********
رات کے گیارہ بج رہے تھے۔وقاص تو کھانا وغیرہ کھا کر کل کے وعدے پر واپس چلا گیا تھا۔لاریب یہاں ہی تھی۔اور اس وقت سب کے ساتھ شمع بیگم کے کمرے میں تھی۔وافیہ کو اپنا آپ ان سب کے بیچ کچھ غیر ضروری سا لگ رہا تھا اس لئے وہ اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔اور ساحر اپنے کمرے کی ٹیرس پر گرل سے کمر ٹیکائے اور دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر کھڑا کسی سوچ میں گم تھا۔
“کیا ہوا بھائی ، یہاں کیوں آگئے؟۔سعد نے ٹیرس میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔
“ایسے ہی ، کافی دیر بیٹھا ہوا تو تھا میں”۔ساحر نے کہا۔سعد بھی گرل سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا۔
“تم بتاؤ تم کیوں آگئے؟۔ساحر نے پوچھا۔
“دادا ، تایا اور ڈیڈ کو آفس کے کچھ معملات ڈسکس کرنے تھے ، تو وہ لوگ لائبریری میں چلے گئے ، آپ پہلے ہی یہاں آگئے تھے ، تو ایسے میں صرف میں ہی بچا تھا سب لیڈیز کے بیچ میں ، تو میں بھی یہاں آگیا”۔سعد نے بتایا۔
“ویسے بھائی آپکو دکھ نہیں ہے کہ لاریب باجی نے اتنا پرانا رشتہ ختم کرکے اپنی مرضی سے کسی اور سے شادی کرلی؟۔سعد نے پوچھا۔
“نہیں ، یہ رشتہ جب طے ہوا تھا نہ تو اس میں میری مرضی شامل تھی اور نہ اسکی مرضی ، بلکہ ہمیں تو پتہ بھی نہیں تھا کہ یہ سب کیا ہوا تھا ، اور اس طرح کے رشتے اگر دس فیصد بھی ہوتے ہیں ، تو ان میں سے سات فیصد کا انجام یہی ہوتا ہے ، کہ بڑے ہونے کے بعد یا تو لڑکے کو کوئی اور پسند آجاتا ہے ، یا لڑکی کو ، اور میرے خیال میں اگر والدین یا بڑوں کا ایسا کوئی ارادہ ہوتا بھی ہے تو انھیں چاہئے کہ اسے بس اپنے تک ہی محدود رکھیں ، بچوں کے کچے ذہنوں میں ایسی باتیں نہیں ڈالنی چاہئے ، بعد میں جب بچے بڑے ہوجائیں تو انکو بتا دیں کہ ہمارا ایسا ارادہ ہے ، اگر لڑکا اور لڑکی کہیں اور اپنی دلچسپی ظاہر نہیں کرتے ہیں ، تو پھر بات آگے بڑھالیں ، کیونکہ شادی کے معملے میں تو اسلام بھی یہی کہتا ہے کہ اگر کوئی لڑکا یا لڑکی کہیں اپنی پسندیدگی کا اظہار کریں تو اسے بدتمیزی یا بے حیائی مت سمجھو ، ضروری معلومات حاصل کرکے وہاں رشتہ کردو ، یا اگر لڑکا اور لڑکی میں سے کوئی کسی رشتے کیلئے راضی نہیں ہے تو اسکے ساتھ زبردستی مت کرو ، پر یہاں تو اکثر زبردستی مار پیٹ کر شادی کروادی جاتی ہے ، اور کہتے ہیں کہ زبان دے چکے ہیں ہم ، ارے تو کوئی ان سے پوچھے کہ جب لڑکا یا لڑکی کی مرضی تھی ہی نہیں تو زبان کیوں دی ؟ جب ایک لڑکے اور لڑکی کو اسلام خود اپنی مرضی کا شریک حیات چنے کی اجازت دیتا ہے ، تو پھر یہ لوگ کون ہوتے ہیں پابندی لگانے والے ؟ مانا کہ ماں باپ کا اولاد پر حق ہے ، وہ کبھی اسکا برا نہیں سوچتے ، پر تھوڑا بہت تو اولاد کی خوشی کے بارے میں بھی سوچ لینا چاہئے”۔ساحر نے کہا۔
“ہممم! ٹھیک کہہ رہے ہو بھائی ، میں بھی اپنے بچوں کی شادیاں انکی مرضی سے کرواؤں گا”۔سعد نے کہا۔
“اور اگر تمہاری بیوی نے نہیں کرنے دی تو؟۔ساحر نے پوچھا۔
“کیسے نہیں کرنے دے گی؟ اور ویسے بھی مجھے پتہ ہے ثناء کی سوچ ایسی نہیں……..!۔سعد بولتے ہوئے بے دھیانی میں ثناء کا نام لے گیا۔پر جب تک اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا بہت دیر ہوچکی تھی۔
“کیا کہا ! ثناء !۔ساحر نے سیدھے ہوتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں بھائی…وہ..میرا مطلب…”۔سعد کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا بولے؟۔
“سچ سچ بتا کب سے چل رہا ہے یہ سب؟۔ساحر نے ائبرو اُچکا کر پوچھا۔
“یار بھائی کچھ نہیں چل رہا…..وہ تو بس ایسے ہی میرا خیال تھا یہ…..ثناء کو تو اس بارے میں کچھ نہیں پتہ…..اور پتہ نہیں وہ مانے گی بھی یا نہیں”۔سعد نے رک رک کر کہا۔
“تمھیں شرم نہیں آرہی مجھ سے میری بہن کے بارے میں ایسی باتیں کرتے ہوئے؟۔ساحر نے پوچھا۔
“کیوں ! شرم کی کیا بات ، میں دوست سمجھ کر بتا رہا ہوں ، اور میں نے کوئی الٹی سیدھی بات تھوڑی کی ہے”۔سعد نے کہا۔
“اچھا ، تو پھر یہی بات جاکر چاچو اور چچی سے بھی کرو”۔ساحر نے کہا۔
“ان سے تو بات کرلوں گا ، وہ ٹینشن نہیں ہے ، وہ لوگ تو راضی بھی ہوجائیں گے ، پر ٹینشن مجھے ثناء کی جانب سے ہے ، پتہ نہیں اسکا کیا رد عمل ہوگا”۔سعد نے بتایا۔
“تو بات کرکے دیکھ لو اس سے ، اس میں ٹینشن لینے والی کونسی بات ہے؟۔ساحر نے کہا۔
“اگر ایسا ہوجاتا ہے تو آپکو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا؟۔سعد نے پوچھا۔
“ہوگا ، بالکل ہوگا ، بلکہ میں تو یہ شادی ہونے بھی نہیں دوں گا”۔ساحر نے کہا۔
“یار بھائی مذاق نہیں کرو ، سچی بتاؤ”۔سعد نے کہا۔
“نہیں ہوگا پاگل ، بلکہ بہت خوشی ہوگی ، کہ دو پاگل ایک ساتھ”۔ساحر نے سعد کے بازو پر ہلکے سے مکا مارتے ہوئے کہا۔
“مجھے آپ سے یہی امید تھی ، اچھا ویسے بھائی آپ نے اب تک ہم سب کو بتایا کیوں نہیں تھا کہ آپکو پتہ ہے کہ وافیہ جی لاریب نہیں ہیں؟۔سعد نے پوچھا۔
“پہلے تو میں نے اس لئے نہیں بتایا کیونکہ میرے خود بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں؟۔ساحر نے بتایا۔
“اور پھر بعد میں بھی کیوں نہیں بتایا؟۔سعد نے پوچھا۔
“کیونکہ مجھے وافیہ کا یہاں رہنا اچھا لگنے لگا تھا”۔ساحر نے مسکراتے ہوئے بتایا۔
“اوہ ہو!۔سعد نے زور سے کہا۔
“تو بات یہاں تک پہنچ گئی ہے ، ویسے بتایا آپ نے انکو؟۔سعد نے پوچھا۔
“نہیں ، میں تو اسکے بارے میں کچھ جانتا بھی نہیں ہوں بس ایک دفعہ پاپا کو اس سے بات کرتے ہوئے سن لیا تھا تو اسکا نام پتہ چل گیا تھا ، ویسے ہے کون وہ ، اور کہاں ملی تمھیں؟۔ساحر نے پوچھا۔
“جس رات آپکا ایکسیڈنٹ ہوا تھا ، اسی روز صبح وہ ہمارے آفس میں جاب انٹرویو کیلئے آئی تھیں ، مجھے سب کچھ ٹھیک لگا تو میں نے انہیں اوکے کردیا تھا ، پھر آپکا والا مسلہ ہوگیا ، اتفاق سے اس وقت انہیں اپنی دادی کے علاج کیلئے پیسوں کی ضرورت تھی ، اور ہمیں نقلی لاریب کی ، تو بس ایسے یہ ڈیل ہوئی تھی”۔سعد نے بتایا۔
“ہممم! اور اسکی فیملی میں اور کون کون ہے؟۔ساحر نے پوچھا۔
“کوئی نہیں ، انکے والدین کا تو انکے بچپن میں ہی انتقال ہوگیا تھا ، بس وہ اپنی دادی کے ساتھ رہتی ہیں”۔سعد نے مزید بتایا۔
“تو پھر بتا دو ناں بھائی جلدی سے انھیں اس بارے میں”۔سعد نے کہا۔
“اور اگر اس نے انکار کردیا تو؟۔ساحر نے خدشہ ظاہر کیا۔
“کیوں کریں گی ؟ اور ایسے اپنی طرف سے تکے مت لگاؤ بھائی ، بلکہ ان سے پہلی فرصت میں بات کرو”۔سعد نے کہا۔
“ٹھیک ہے ، کل بات کرتا ہوں”۔ساحر نے کہا۔
“بھیا ! آپ دونوں کو دادی کے کمرے میں بلارہے ہیں ، دادی نے لبنیٰ پھوپھو کی سالگرہ کی ویڈیو لگائی ہوئی ہے ، سب وہی دیکھ رہے ہیں ، آپ دونوں بھی آجائیں”۔دعا نے آکر بتایا۔
