Sagar Kinaray by Faryal Khan NovelR50709 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 04,05
Rate this Novel
Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 01 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 02 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 03 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 04,05 (Watching)Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 06 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 07 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 08 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 09 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 10 Sagar Kinaray by Faryal Khan Last Episode
Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 04,05
ڈاکٹر اب ساحر کی ذہنی حالت کیسی ہے ؟ کل بھی اچانک اسکے سر میں ٹھیس اٹھ گئی تھی ، کوئی فکر کی بات تو نہیں ہے؟۔طاہر صاحب نے پوچھا۔اس وقت وہ عامر صاحب کے ساتھ ساحر کو ہوسپٹل لے کر آئے ہوئے تھے چیک اپ کیلئے۔ساحر عامر صاحب کے ساتھ چیک اپ کے بعد باہر ویٹنگ ایریا میں بیٹھا ہوا تھا۔اور طاہر صاحب یہاں ڈاکٹر سے ساحر کے بارے میں بات چیت کررہے تھے۔
“فکر کی بات تو نہیں ہے ، پر پھر بھی ابھی آپکے بیٹے کی ذہنی حالت اتنی ٹھیک نہیں ہے ، احتیاط کی ضرورت ابھی بھی ہے”۔ڈاکٹر نے بتایا۔
“تو کچھ اندازہ ہے ڈاکٹر صاحب کے کب تک وہ پہلے جیسا ہوجائے گا؟۔طاہر صاحب نے پوچھا۔
“دیکھیں یقینی طور پر تو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ، پر آپ اللّه پر بھروسہ رکھیں ، آپکا بیٹا بہت جلد پہلے جیسا فٹ ہوجائے گا”۔ڈاکٹر نے تسلی دی۔
“امین ، اللّه کرے جلد ایسا ہوجائے”۔طاہر صاحب نے کہا۔
**********
“کھانے کے ساتھ ساتھ آپ چائے بھی بہت اچھی بنالیتی ہیں”۔سعد نے چائے کا گھونٹ لے کر وافیہ سے کہا۔سب لوگ اس وقت رات کے کھانے کے بعد ہال میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔
“تھینک یو”۔وافیہ نے کہا۔
“میں نے کہا تھا چائے بنانے کو ، میری تعریف کرو”۔ساحر نے کہا۔
“پر کمال تو ان کا ہے ناں”۔سعد نے کہا۔
“ان کا کمال نہیں ، ان کا ساحر ہے”۔ساحر نے معنی خیزی سے کہا۔اگر اس وقت وافیہ کی جگہ یہاں اصلی لاریب ہوتی تو سعد ضرور ساحر کے اس جملے پر کوئی شرارتی جملہ کستا۔پر حالت اس وقت ایسے نہیں تھے۔اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ جملہ ساحر نے وافیہ کو نہیں لاریب کو کہا ہے۔پھر بھی وافیہ جھینپ گئی۔
“کتنی بری بات ہے ویسے ساحر ، لاریب مہمان ہے ہماری ، اور تم نے اسے گھر کے کاموں میں لگایا ہوا ہے ، کبھی کھانے کی فرمائش کردیتے ہو ،کبھی چائے کی ، کیا سوچتی ہوگی لاریب بھی”۔رفعت نے موضوع بدلتے ہوئے کہا۔
“یہی سوچتی ہوں گی کہ کتنا بھوکّڑ شوہر ملنے والا ہے انکو مستقبل میں ، ہر وقت کھانے پینے کی ہی پڑی رہتی ہے انکو”۔سعد نے شرارت سے کہا۔
“ہاں تو میرے بھائی کو تو پھر بھی کھانے پینے کی پڑی رہتی ہے ، تمہارے اپنے بارے میں کیا خیال ہے”۔ثناء نے کہا۔
“ماشاءاللّه بہت اچھا خیال ہے”۔سعد نے کہا۔
“ویسے تمہارا کیا خیال ہے اپنے بارے میں ! تصور کرو مستقبل میں ثناء کی شادی ہوگئی ہے ، ثناء اپنے شوہر کے ساتھ بیٹھی ہے ، اور کہتی ہے کہ ، بات سنیں ! اگر آپ برا نہ مانیں تو کیا میں آپکے گال پر پیچکس سے سوراخ کرکے سالار سکندر جیسا ڈیمپل بنادوں”۔سعد نے باقاعدہ ثناء کی نقل اترتے ہوئے کہا۔ثناء کے علاوہ سب ہی مسکرادیے۔جبکہ ثناء غصے سے سعد کو گھورنے لگی۔
“تم ایسا کیسے کہہ سکتے ہو؟۔ثناء نے تپ کر پوچھا۔
“منہ سے”۔سعد نے مزید تپایا۔
“بھئی تم ہی تو اکثر نوولز میں سے کیا کدھر پڑھ کر ٹرائی کرنے کھڑی ہوجاتی ہو ، جیسے اس دن مجھ پر پانی پھینک دیا تھا تم نے ، یاد ہے ناں”۔سعد نے کہتے ہوئے تائید چاہی۔
“مجھے نہیں پتہ تھا کہ تم آرہے ہو ، ورنہ میں کبھی پانی نہ پھینکتی ، تم پر گر کر تو پانی بھی ناپاک ہوگیا تھا”۔ثناء نے تنک کر کہا۔
“اچھا ! اور تمہارے پکڑنے سے جو بالٹی ناپاک ہوئی تھی اسکا کیا؟۔سعد نے چڑایا۔
“بھئی دادی دیکھیں ناں ، اسکو بولیں کہ منہ بند کرے اپنا”۔ثناء نے شمع بیگم کو بیچ میں گھسیٹا۔
“ویسے آپ لوگوں کو اس طرح دیکھ کر مجھے بہت رشک آتا ہے آپ لوگوں پر”۔وافیہ نے کہا۔
“ایسے لڑتے جھگڑتے دیکھ کر رشک آتا ہے تمھیں؟۔رفعت نے پوچھا۔
“ہاں مطلب یہ تو ایسے ہی معمولی نوک جھونک ہوتی ہے ، اور اس سے آپس میں پیار بھی بڑھتا ہے ، اور ثناء اور سعد کو اس طرح لڑتے دیکھ کر مجھے بھی شدت سے احساس ہوتا ہے کہ کاش میرا بھی کوئی بھائی ہوتا ، خیر اللّه کرے نظر نہ لگے دونوں بھائی بہن کے پیار کو”۔وافیہ نے کہا۔
اور لفظ “بہن بھائی” سن کر سعد کو زور سے پھندا لگا اور اس کے منہ سے یکدم چائے باہر آگئی۔
“ارے ارے ! کیا ہوگیا ! آرام سے پیو”۔رفعت نے کہا۔
“ثناء ساحر بھائی کی بہن ہے ، میری بہن تو دعا ہے”۔سعد نے وضاحت کی۔
“ہاں تو کزن بھی تو آپس میں بھائی بہن ہوتے ہیں ناں”۔وافیہ نے کہا۔
“تو اس حساب سے تو آپ بھی ساحر بھائی کی بہن ہوئیں”۔سعد نے کہا۔
“بس کرو ، یہ کیا بیکار کی ضد بحث شروع کردی ہے ! ٹھیک ہے کزن کا بھی آپس میں بھائی بہن جیسا رشتہ ہوتا ہے ، پر انکا آپس میں نکاح جائز ہوتا ہے ، بس اب ختم کرو اس ٹوپک کو”۔نوشین نے کہا۔
“پاپا میں بھی کل آفس چلوں آپ لوگوں کے ساتھ؟۔ساحر نے موضوع بدلتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں بیٹا ، ابھی تمہاری طبیعت پوری طرح ٹھیک نہیں ہوئی ہے ، ابھی تم آرام کرو”۔احمد شاہ نے کہا۔
“ہاں پر گھر میں بیٹھے بیٹھے بور ہوگیا ہوں میں ، اچھا ایسا کرتے ہیں کہ سب مل کر باہر کہیں گھومنے چلتے ہیں”۔ساحر نے کہا۔
“پر باہر جانے کیلئے تو سب کے ویزے لگوانے پڑیں گے ، اور اس میں تو بہت ٹائم لگ جائے گا”۔سعد نے مصنوئی حیرت سے کہا۔
“ہاں یہ اچھا آئیڈیا ہے ، سب مل کر کہیں گھومنے چلتے ہیں ، مزہ آئے گا ، ویسے بھی بہت ٹائم ہوگیا ہے کہیں گئے ہوئے”۔دعا نے کہا۔
“پر جایئں گے کہاں ! کراچی میں تو گھومنے پھرنے کیلئے کوئی ڈھنگ کی جگہ ہی نہیں ہے”۔رفعت نے کہا۔
“ارے چھوڑو یہ گھومنا پھیرنا ، بعد میں سوچیں گے ، فلحال صبح بہت ضروری میٹنگ ہے آفس میں اسکا سوچو”۔طاہر صاحب نے کہا۔
*********
“ایکسکیوزمی سر”۔وافیہ نے اپنے کمرے کی جانب جاتے طاہر صاحب کو پکارا۔طاہر صاحب رک کر پلٹے۔
“جی بولو بیٹا”۔طاہر صاحب نے کہا۔
“سر وہ ایکچیلی جب سے میں یہاں آئی ہوں ، اپنی دادی سے ایک بار بھی ملنے نہیں گئی ، وہ بھی میرے بارے میں فکرمند ہوں گی ، تو اگر آپ اجازت دیں تو کیا کل جاکر میں ان سے مل لوں !۔وافیہ نے پوچھا۔
“ہاں ہاں بیٹا ضرور ، بلکہ غلطی ہماری ہے ، ہمیں بھی سوچنا چاہئے تھا ، خیر کل ویسے بھی اتوار ہے ، میں سعد سے بول دوں گا ، وہ تمھیں ملواکر لے آئے گا تمہاری دادی سے”۔طاہر صاحب نے کہا۔
“تھینک یو سو مچ سر”۔وافیہ نے خوش ہوکر کہا۔
“کوئی بات نہیں”۔طاہر صاحب نے کہا۔وافیہ جانے کیلئے پلٹی۔
“اور ہاں وافیہ بیٹی”۔طاہر صاحب نے پکارا۔
“جی سر!۔وافیہ نے رک کر پوچھا۔
خیال رکھنا کہ اب تم دوبارہ مجھے سر مت کہنا ، ساحر نے سن لیا تو گڑبڑ ہوجائے گی ، تم مجھے ماموں ہی کہنا”۔طاہر صاحب نے کہا۔
“جی سر ، اوہ سوری ، ماموں”۔وافیہ نے کہا۔
********
اور اگلے دن وعدے کے مطابق طاہر صاحب نے وافیہ کو سعد کے ساتھ اسکی دادی سے ملنے بھیج دیا۔اور اس وقت وافیہ ہوسپٹل میں اپنی دادی کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔اور سعد باہر گاڑی میں اسکا انتظار کررہا تھا۔
“یاد آگئی بوڑھی دادی کی؟۔سکینہ بی بی (دادی) نے شکوہ کیا۔
“نہیں ، یاد نہیں آئی مجھے کبھی بھی آپکی ، کیونکہ یاد تو انکو کرتے ہیں ، جنہیں بھول جاتے ہیں ، اور آپکو بھلا میں کیسے بھول سکتی ہوں ، بتایا تو تھا میں نے آپکو کہ آفس کے کام سے لاہور جانا پڑا تھا مجھے ، آج صبح ہی کراچی واپس آئے ہیں ہم ، اور دیکھیں میں سیدھا آپ سے ملنے آگئی”۔وافیہ نے بتایا۔
“ہممم! بس اب تم آگئی ہو ناں ، تو مجھے واپس گھر لے چلو ، مجھے نہیں رہنا اب یہاں”۔سکینہ بی بی نے کہا۔
“ابھی فلحال یہ ممکن نہیں ہے دادی ، کیونکہ مجھے کل پھر آفس کے کام سے سب کے ساتھ اسلام آباد جانا ہے ، اور اب آفس میں کام بڑھ گیا ہے تو یہ آنا جانا لگا رہے گا ، تو پھر ایسے میں آپ گھر میں اکیلی ہوجایئں گے ، کون دیکھ بھال کرے گا آپکی ! ابھی کم از کم مجھے بے فکری تو ہوتی ہے آپ کی جانب سے”۔وافیہ نے سمجھایا۔
“میری وجہ سے بہت پریشان ہوگئی ہو ناں!۔سکینہ بی بی نے کہا۔
“ارے نہیں دادی ، پریشانی کیسی ، آپ نے بھی تو امی ابو کے جانے کے بعد کتنی پریشانیاں اٹھائی ہیں اکیلے ، یہ تو پھر کچھ بھی نہیں ہے”۔وافیہ نے کہا۔
“ہممم! اچھا ایک بات بولوں!۔سکینہ بی بی نے پوچھا۔
“جی دادی ، بولیں”۔وافیہ نے کہا۔
“تم شادی کرلو بیٹی”۔سکینہ بی بی نے کہا۔
“میں ابھی شادی کیسے کرسکتی ہوں دادی ، اور ویسے بھی میں آپکو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی”۔وافیہ نے کہا۔
“جانا پڑتا ہے ، یہ دستور ہے ، اور تم کیوں نہیں کرسکتی شادی ! میری وجہ سے ؟ کہ پھر میں اکیلی ہوجاؤں گی!۔سکینہ بی بی نے پوچھا۔وافیہ نے ہلکے سے اثبات میں سرہلایا۔
“میرا کیا ہے بیٹی ، پوری زندگی تو گزر گئی ، بس چند دنوں کی ہی مہمان ہوں ، پر تمہارے سامنے ابھی پوری زندگی پڑی ہے ، اور ایسے تنہا زندگی کا سفر طے کرنا ناممکن ہوتا ہے ، اس سفر میں کسی ہمسفر کی ضرورت لازمی ہوتی ہے ، اور یہ اللّه پاک کا بنایا ہوا قانون ہے ، اور جو ایسا کہتا یا کہتی ہے کہ مجھے شادی نہیں کرنی ، میں شادی نہیں کروں گا یا نہیں کروں گی ، تو وہ سراسر اللّه پاک کے قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے”۔سکینہ بی بی نے سمجھایا۔
“اچھا میری ماں ، کرلوں گی شادی بھی ، پر پہلے آپ ٹھیک تو ہوجایئں ، پھر سوچیں گے ان سب کے بارے میں”۔وافیہ نے موضوع بدلا۔
“میں تو ٹھیک ہی ہوں ، بس تم ہاں کرو ، میں نے تو تمہارے لئے لڑکا بھی ڈھونڈ لیا ہے”۔سکینہ بی بی نے بتایا۔
“کیا ! کون ہے؟۔وافیہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
“یہاں اسی ہوسپٹل کا ڈاکٹر ہے ، میرا علاج وہی کررہا ہے ، اسد نام ہے ، بہت ہی پیارا لڑکا ہے ، تم کہو تو میں بات کروں اس سے؟۔سکینہ بی بی نے بتاتے ہوئے پوچھا۔
“یااللّه! دادی یہ کن کاموں میں لگ گئیں ہیں آپ ، کوئی ضرورت نہیں ہے کسی سے کوئی بھی بات کرنے کی ، اب بس جلدی سے ٹھیک ہوجائیں ، پھر کرتی رہیے گا یہ سب کام”۔وافیہ نے کہا۔
“اچھا دادی اب میں چلتی ہوں ، کل ہم لوگوں کو اسلام آباد روانہ ہونا ہے تو اسکی تیاری وغیرہ بھی کرنی ہے ، باقی میں فون پر رابطہ رکھوں گی آپ سے ، ٹھیک ہے”۔وافیہ نے کہا۔
“ہممم! ٹھیک ہے”۔سکینہ بی بی نے افسردگی سے کہا۔
“یہ اتنا روکھا پھیکا ٹھیک ہے”۔وافیہ نے کہا۔
“ہاں تو ، ایک تو اتنے دنوں بعد آئی ہو ، وہ اتنی سی دیر کیلئے ، اور اب پھر اتنے دنوں کیلئے جارہی ہو”۔سکینہ بی بی نے شکوہ کیا۔
“بس کچھ دنوں کی بات ہے دادی ، پھر ہم واپس پہلے کی طرح ہی ایک ساتھ گھر میں رہیں گے”۔وافیہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“اچھا اب میں چلتی ہوں ، جلدی سے کچھ اچھی اچھی دعائیں تو دے دیں”۔وافیہ نے کہا۔
“اللّه پاک تمہاری ساری مشکلیں آسان کرے ، تمہاری ساری جائز خواہشیں پوری کرے ، تمھیں بہت اچھا سا دولہا دے ، اور تم سمیت اللّه پاک سب بچیوں کا نصیب اچھا کرے”۔سکینہ بی بی نے کہا۔
“امین ، اچھا اللّه حافظ دادی ، میں جلد ہی آؤں گی پھر”۔وافیہ نے کھڑے اسٹول پر سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔سکینہ بی بی نے مسکرا کر سرہلادیا۔اور وافیہ کمرے سے باہر آگئی۔اور تیز تیز قدم اٹھاتی نیچے پارکنگ ایریا کی جانب جانے لگی۔جہاں سعد کار میں اسکا انتظار کررہا تھا۔پارکنگ ایریا میں پہنچ کر وافیہ کو شدید حیرت کا جھٹکا لگا۔کیونکہ سعد کی کار وہاں موجود نہیں تھی۔اور نہ سعد تھا۔وافیہ سعد کو ڈھونڈنے کیلئے یہاں وہاں نظریں دوڑانے لگی۔پر سعد کہیں نہیں دکھا۔کہ تب ہی اچانک ایک کار اسکے آگے آکر رکی۔
“ہوگئی ملاقات؟۔سعد نے کار کی کھڑکی کا شیشہ نیچے کرکے پوچھا۔
“جی”۔وافیہ نے کہا۔
“آئیں بیٹھیں”۔سعد نے کہا۔وافیہ گھوم کر آکے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔وافیہ کے بیٹھنے کے بعد سعد نے کار آگے بڑھا دی۔
“کیسی ہیں اب آپکی دادی؟۔سعد نے کار روڈ پر لاتے ہوئے پوچھا۔
“الحمدللہ اب تو بہت بہتر لگ رہی تھیں”۔وافیہ نے بتایا۔
“اچھی بات ہے ، اللّه کرے آگے بھی ایسے ہی رہیں”۔سعد نے کہا۔
“امین ، اچھا ویسے آپ کہاں چلے گئے تھے؟۔وافیہ نے پوچھا۔
“پیچھے دیکھیں”۔سعد نے کہا۔سعد کے کہنے پر وافیہ نے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا تو پچھلی نشست پر کافی سارے شاپنگ بیگز رکھے ہوئے تھے۔وافیہ نے دوبارہ ناسمجھی سے سعد کی جانب دیکھا۔
“اگر بھائی نے پوچھا کہ آپ کہاں گئیں تھیں تو کیا بولیں گی آپ؟۔سعد نے وافیہ کی سوالیہ نظروں کا جواب دینے کے بجائے الٹا اس سے سوال کیا۔
“کہہ دوں گی کہ اپنی دوست سے ملنے گئی تھی”۔وافیہ نے کہا۔
“اچھا کونسی دوست ؟ آپ تو ہوش سمبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان آئی ہیں دبئی سے ، تو یہاں کب اور کونسی دوست بن گئی آپکی؟۔سعد نے پوچھا۔وافیہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“اسی لئے جب تک آپ اپنی دادی سے ملاقات میں مصروف تھیں ، تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ کچھ شاپنگ کرلوں ، اگر بھائی نے پوچھا تو کہہ دیں گے کہ آپکو کچھ شاپنگ کرنی تھی ، اس لئے میں آپکو مارکیٹ لے کر گیا تھا”۔سعد نے بتایا۔
“اوہ ! اچھا ، ہاں مجھے تو یہ خیال آیا ہی نہیں تھا”۔وافیہ نے سمجھتے ہوئے کہا۔
“ہممم! پر مجھے آگیا تھا ، دیکھا کتنا سمجھدار ہوں میں ، اب وہ الگ بات ہے کہ کوئی مانتا نہیں ہے مجھے سمجھدار”۔سعد نے مصنوئی فخر سے کہا۔وافیہ مسکرادی۔
“ویسے آپکو شاپنگ کا تجربہ ہے ؟ میرا مطلب میں سنا ہے کہ مردوں کو شاپنگ کا کوئی خاص تجربہ نہیں ہوتا ہے”۔وافیہ نے پوچھا۔
“الحمدللہ ، بہت تجربہ ہے ، جب بھی ثناء ، دعا ، مام یا تائی کو شاپنگ پر جانا ہوتا ہے ، تو یہ قرعہ میرے ہی نام کا نکلتا ہے ، کہ سعد کو لے جاؤ ، سعد چلا جائے گا ، تو ان لوگوں کے ساتھ گھوم گھوم کر کافی تجربہ ہوگیا ہے مجھے ان چیزوں کا”۔سعد نے بتایا۔
“اچھی بات ہے ، آپکی وائف کو مستقبل میں اس حوالے سے مسلہ نہیں ہوگا”۔وافیہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“مطلب آسان لفظوں میں میری وائف بہت خوش قسمت ہوں گی؟۔سعد نے تائید چاہی۔
“جی ، ایسا بھی کہہ سکتے ہیں”۔وافیہ نے مسکراتے ہوئے تائید کی۔
*********
“السلام و علیکم ! سعد نے ہال میں داخل ہوتے ہوئے سامنے بیٹھی شمع بیگم ، نوشین اور رفعت کو سلام کیا۔
“وعلیکم السلام”۔تینوں نے یک زبان جواب دیا۔
“باقی سب کہاں ہیں ؟۔سعد نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔اور شاپنگ بیگز ایک سائیڈ پر رکھ دیے۔وافیہ بھی ایک صوفے پر بیٹھ گئی۔
“ثنا اور دعا کچن میں ہے ، ابا ، طاہر بھائی ، ساحر اور تمہارے ڈیڈ ظہر کی نماز پڑھنے گئے ہوئے ہیں ، جس کا تمھیں ذرا بھی ہوش نہیں ہے”۔رفعت نے بتایا۔
“میں نے صرف پوچھا تھا مام ، آپ تو کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ہیں طنز مارنے کا”۔سعد نے کہا۔
“تم دیتے ہو موقع طنز مارنے کا ، اور دیکھو ابھی بھی ڈھیٹوں کی طرح یہاں ہی بیٹھے ہوئے ہو ، یہ نہیں کہ جلدی سے مسجد چلے جاؤ”۔رفعت نے کہا۔
“اب تو جماعت نکل گئی ، گھر میں ہی پڑھ لوں گا”۔سعد نے ہاتھ پر بندھی ہوئی گھڑی کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“ساحر کافی بار پوچھ چکا ہے تمہارا”۔نوشین نے وافیہ سے کہا۔
“تو پھر آپ نے کیا بولا تائی؟۔سعد نے پوچھا۔
“وہی جو تم بول کر گئے تھے ، کہ شاپنگ پر گئی ہوئی ہے تمہارے ساتھ”۔نوشین نے بتایا۔
“السلام و علیکم”۔سب نے یک زبان ہال میں داخل ہوتے ہوئے سلام کیا۔
“وعلیکم السلام”۔سب نے یک زبان جواب دیا۔
“کہاں چلی گئی تھی تم؟۔ساحر نے وافیہ کے برابر صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
“وہ…وہ مجھے کچھ شاپنگ کرنی تھی…تو مارکیٹ گئی تھی”۔وافیہ نے ساحر سے تھوڑا دور کھسکتے ہوئے بتایا۔
“ارے واہ ! شاپنگ بیگز ، کون آیا ہے شاپنگ کرکے؟۔ثناء نے ہال میں آکر صوفے پر رکھے بیگز کو دیکھ کر پوچھا۔
“ہم آئے ہیں شاپنگ کرکے ، آپ نوولز کی دنیا سے باہر آئیں تو آپکو پتہ چلے ناں کہ اصلی دنیا میں کیا کیا ہورہا ہے”۔سعد نے کہا۔
“چپ رہو تم ، میں نے تم سے بات نہیں کی ، آپ بتائیں لاریب بھابھی ، میرے لئے بھی کچھ لائی ہیں کیا؟۔ثناء نے سعد کو کہتے ہوئے وافیہ سے پوچھا۔
“نہیں ، تمہارے لئے کیوں لائیں گے وہ کچھ؟۔سعد نے کہا۔
“کیوں نہیں لائیں گی ! آخر اکلوتی نند ہوں میں انکی”۔ثناء نے مصنوئی اکڑ سے کہا۔
“کیا کہا ! اکلوتی ، اور میں کہاں گئی ! کیا میں ساحر بھیا کی بہن نہیں ہوں!۔دعا نے بھی ہال میں آتے ہوئے پوچھا۔
“ارے نہیں نہیں ، تم بھی ہو ، وہ تو میں ایسے ہی کہہ رہی تھی”۔ثناء نے وضاحت کی۔
“ارے تو چھوڑ پاگل ان لوگوں کو ، دیکھنا میں تمہارے لئے تمہاری پرسنل بھابھی لے کر آؤں گا ، پھر اسکے ساتھ جانا تم شاپنگ پر”۔سعد نے دعا سے کہا۔
“نہیں بھئی ، شاپنگ پر تو مجھے صرف ثناء کے ساتھ جانے میں مزہ آتا ہے ، اور ثناء کو بھی ، ہے ناں ثناء؟۔دعا نے کہتے ہوئے تائید چاہی۔ثناء نے اثبات میں سرہلایا۔
“اچھا خیر یہ بتائیں کہ ہمارے لئے بھی کچھ لائی ہیں یا ہم جائیں؟۔ثناء نے وافیہ سے پوچھا۔
“ارے لائی ہیں ناں ، رکو میں بتاتا ہوں کہ کس کیلئے کیا ہے”۔سعد نے کہتے ہوئے بیگز اٹھالئے۔اور جس جس کیلئے اس نے جو کچھ لیا تھا وہ اسے دے دیا۔اور ساحر کی وجہ سے کہا یہ کہ سب وافیہ یعنی لاریب نے لیا ہے۔
**********
“ڈیڈ اب تو بھائی کو بھی ہوسپٹل سے ڈسچارج ہوئے دو ہفتے ہونے والے ہیں ، پر لاریب بھابھی کا اب بھی کچھ پتہ نہیں چلا ہے ، پتہ نہیں انھیں زمین کھاگئی ہے یا آسمان نگل گیا!۔سعد نے تشویش سے کہا۔تینوں اس وقت آفس میں طاہر صاحب کے روم میں بیٹھے ہوئے مزاکرات کررہے تھے۔
“ہاں ، ٹھیک کہہ رہا ہے یہ ، چلو ساحر والا معملا تو ایک طرف ، پر پھر بھی بات تشویش کی ہے کہ اچانک لاریب پاکستان آکر غائب کیسے ہوگئی؟۔طاہر صاحب نے بھی تائید کی۔
“اگر ہمیں لاریب نہیں ملی تو ہم کیا کریں گے ؟۔عامر صاحب نے پوچھا۔
“پتہ نہیں ، کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے”۔طاہر صاحب نے لاعلمی سے کہا۔
Episode 5
“ٹک ٹک ٹک”۔ساحر نے شمع بیگم کے کمرے کے دروازے پر دستک دی۔
“آجاؤ”۔شمع بیگم کی آواز آئی۔ساحر دروازہ دھکیلتا ہوا اندر داخل ہوگیا۔شمع بیگم ابھی ابھی عشاء کی نماز پڑھ کر اٹھی تھیں۔
“ڈسٹرب تو نہیں کیا دادی؟۔ساحر نے پوچھا۔
“نہیں نہیں ، تم بتاؤ کوئی کام تھا کیا؟ اور تمہارے دادا نہیں آئے تمہارے ساتھ ! ایک ساتھ ہی گئے تھے ناں تم لوگ نماز پڑھنے”۔شمع بیگم نے جائے نماز طے کرتے ہوئے پوچھا۔
“جی دادی نماز کے بعد دادا کو انکے کوئی جاننے والے مل گئے ، تو دادا ، چاچو اور پاپا انکے ساتھ باتوں میں لگ گئے ، میں اور سعد گھر آگئے”۔ساحر نے بتایا۔
“اچھا ، تو تمھیں کوئی کام تھا کیا؟۔شمع بیگم نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
“جی دادی ، آپ سے اجازت چاہئے”۔ساحر نے بھی انکے سامنے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“کیسی اجازت؟۔شمع بیگم نے پوچھا۔
“دادی جب سے میرا ایکسیڈنٹ ہوا ہے ، میں گھر میں ہی ہوں ، پاپا مجھے آفس بھی نہیں آنے دے رہے ہیں”۔ساحر نے بتایا۔
“تو ! تمھیں آفس جانے کی اجازت چاہئے؟۔شمع بیگم نے پوچھا۔
“نہیں ، وہ تو ابھی پاپا اور چاچو نہیں آنے دیں گے ، دراصل میں تھوڑی دیر لاریب کے ساتھ کہیں باہر جانا چاہ رہا ہوں ، یہی اجازت چاہئے مجھے کہ میں لاریب کو لے جاؤں؟۔ساحر نے پوچھا۔
“لاریب کو؟۔شمع بیگم نے پرسوچ انداز میں کہا۔
“جی ، لاریب کو ، صرف تھوڑی دیر کیلئے ، پکا جلدی واپس آجاؤں گا”۔ساحر نے کہا۔
“ٹھیک ہے ، لاریب سے پوچھ لو ، اگر وہ جانا چاہے تو لے جاؤ”۔شمع بیگم نے کہا۔
“تھینک یو دادی”۔ساحر نے شمع بیگم کے گلے لگتے ہوئے کہا۔
“پر جلدی آجانا ، اور گاڑی ذرا دھیان سے چلانا”۔شمع بیگم نے تاکید کی۔
“جی دادی ، آپ بالکل بے فکر رہیں”۔ساحر نے بیڈ پر سے اٹھتے ہوئے کہا۔اور باہر نکل گیا۔
*********
“ٹک ٹک ٹک”۔دروازے پر دستک ہوئی۔وافیہ ابھی ابھی نماز پڑھ کر اٹھی تھی۔وافیہ جائے نماز اپنی جگہ پر رکھتے ہوئے دروازے کی جانب آئی۔اور دروازہ کھولا
“آپ !۔وافیہ نے ساحر کو دیکھ کر کہا۔
“جی میں ، کیا کررہی تھی تم؟۔ساحر نے پوچھا۔
“کچھ خاص نہیں ، کیوں؟۔وافیہ نے بتاتے ہوئے پوچھا۔
“میرا کہیں باہر جانے کا دل چاہ رہا ہے ، چلو کہیں باہر چلتے ہیں”۔ساحر نے کہا۔
“اس وقت؟۔وافیہ نے پوچھا۔
“کیا مطلب اس وقت ! ابھی کوئی اتنی رات تھوڑی ہوئی ہے ، صرف ساڑھے نوں ہی تو بجے ہیں”۔ساحر نے کہا۔
“اچھا ، تو سب چل رہے ہیں؟۔وافیہ نے پوچھا۔
“نہیں ، ہم کوئی فیملی پکنک پر نہیں جارہے ہیں ، میں صرف ہم دونوں کی بات کررہا ہوں”۔ساحر نے کہا۔
“پر نانا نانی کیا سوچیں گے!۔وافیہ نے بہانہ بنانا چاہا۔
“کچھ نہیں سوچیں گے ، آپکی نانی سے ، اور اپنی دادی سے میں اجازت لے چکا ہوں ، اب بس آپ جلدی سے تیار ہوکر نیچے آئیں ، میں انتظار کررہا ہوں باہر گاڑی میں”۔ساحر نے کہا۔اور بنا وافیہ کا جواب سنے چلا گیا۔اور وافیہ سوچ میں پڑگئی۔
********
“ساگر کنارے”
“دل یہ پکارے”
“تو جو نہیں تو میرا”
“کوئی نہیں ہے”
روڈ پر زیادہ ٹریفک نہیں تھا۔کار مناسب رفتار سے اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔اور ہلکی آواز میں ٹیپ چل رہا تھا۔
“ہم کہاں جارہے ہیں ؟۔وافیہ نے پوچھا۔
“پتہ نہیں”۔ساحر نے کہا۔اور وافیہ حیرت سے ساحر کی جانب دیکھنے لگی۔
“اور تم سناؤ کیسی ہو؟۔ساحر نے پوچھا۔وافیہ نے حیرانگی سے پھر ساحر کی جانب دیکھا۔جیسے اسے ساحر کی ذہنی حالت پر شبہ ہو۔
“ٹھیک ہوں”۔وافیہ نے کہا۔
“لگتا تو نہیں ہے ، اتنی خاموش خاموش رہتی ہو تم”۔ساحر نے کہا۔
“جب کوئی بات ہی نہیں ہو کرنے کیلئے تو خاموش ہی رہا جاتا ہے”۔وافیہ نے کہا۔ساحر نے کچھ نہیں کہا۔پھر تھوڑی دیر میں کار سمندر کے پاس رکی۔اور وافیہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ساحر کار سے اترا اور گھوم کر آکے وافیہ کی جانب کا گیٹ کھولا۔وافیہ بھی باہر آگئی۔اور ساحر کے ساتھ چلنے لگی۔ارد گرد بس چند ہی لوگ تھے۔وہ بھی کافی فاصلے پر۔یہ وہ ہی لوگ تھے جن کی رہائش یہاں قریب ہی تھی۔آسمان پر چودہویں کا چاند اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ہر چیز چاندنی میں نہائی ہوئی تھی۔آس پاس بس صرف ہوا اور لہروں کی ہی آواز گونج رہی تھی۔
“پانی میں آپکے جوتے گیلے ہوجائیں گے”۔وافیہ نے ساحر کو سمندر کی جانب جاتے ہوئے دیکھ کر کہا۔ساحر رک گیا۔
“ہممم! کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو”۔ساحر نے تائید کی۔اور آس پاس جوتے اترنے کیلئے جگہ دیکھنے لگا۔
“ایسا کرتے ہیں ، یہاں بینچ کے پاس میں اپنے جوتے اتر دیتا ہوں ، تم بھی اپنی سینڈل یہاں ہی اتر دو”۔ساحر نے ایک بینچ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔پھر دونوں نے وہاں اپنے جوتے اور سینڈل اتاردیے۔اور ساحر سمندر کی جانب جانے لگا۔اور وافیہ کو ڈر لگنے لگا۔کیونکہ اسے سمندر کے پانی سے ڈر لگتا تھا۔وافیہ سمندر سے تھوڑے فاصلے پر ہی رک گئی۔جبکہ ساحر چلتے ہوئے سمندر کے کنارے تک آگیا۔پانی سے اسکے پیر ٹخنوں تک بھیگ گئے تھے۔
“ارے تم وہاں کیوں کھڑی ہو ! یہاں آؤ”۔ساحر نے مڑ کر وافیہ سے کہا۔
“نہیں ، میں یہاں ہی ٹھیک ہوں ، مجھے سمندر سے ڈر لگتا ہے ، اگر میں ڈوب گئی تو”۔وافیہ نے بتایا۔
“ارے پاگل ، اتنے سے پانی میں بھلا کوئی ڈوب سکتا ہے ، کچھ نہیں ہوگا ، آؤ میں ہوں ناں”۔ساحر نے ہنستے ہوئے کہا۔
“نہیں ، میں نہیں آرہی”۔وافیہ نے کہا۔ساحر واپس وافیہ کے پاس آیا۔
“چلو ، کچھ نہیں ہوگا”۔ساحر نے وافیہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔
“نہیں پلیز ، مجھے ڈر لگتا ہے”۔وافیہ نے کہا۔
“ارے میں ہوں ناں تمہارے ساتھ ، پھر ڈرنے والی کیا بات ہے؟ چلو آؤ شاباش”۔ساحر نے وافیہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی جانب کھنچتے ہوئے کہا۔اور نہ چاہتے ہوئے بھی وافیہ کو پانی میں آنا پڑا۔وافیہ نے دونوں ہاتھوں سے ساحر کا ہاتھ اتنی مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا کہ اگر اس نے ہاتھ چھوڑا تو وہ سچ مچ ڈوب جائے گی۔
“دیکھا ! کچھ نہیں ہوا ناں ، تم بلاوجہ ڈر رہی تھی”۔ساحر نے کہا۔وافیہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔بس خوفزدہ سی نظروں سے لہروں کو دیکھ رہی تھی۔
“تمھیں یاد ہے جب تم آٹھ سال کی عمر میں پھوپھا پھوپھو کے ساتھ آخری دفعہ پاکستان آئی تھی ، تو ہم سب مل کر یہاں گھومنے آئے تھے ، تب تو تم بہت پھدک پھدک کر پانی میں جارہی تھی ، سب کے روکنے پر بھی نہیں رک رہی تھی ، اور اب بلانے پر بھی نہیں آرہی تھی”۔ساحر نے کہا۔
“تب کی بات اور تھی ، تب ہم بچے تھے ، اب مجھے ڈر لگا ہے”۔وافیہ نے کہا۔
“لو ، بڑے ہونے کے بعد تو بہادر ہوجاتے ہیں ، اور تم ڈرپوک ہوگئی ہو ، الٹی گھوم رہی ہے تمہاری کیسٹ”۔ساحر نے ہنستے ہوئے کہا۔
“چلیں اب واپس ؟۔وافیہ نے پوچھا۔
“اتنی جلدی ! ابھی تو ہمیں یہاں آئے ہوئے آدھا گھنٹہ بھی نہیں ہوا”۔ساحر نے حیرانگی سے کہا۔
“اچھا تو پھر پانی سے ہٹ جاتے ہیں اب ، وہاں بینچ پر چل کے بیٹھتے ہیں ، پلیز”۔وافیہ نے منت کی۔ساحر کو وافیہ کی حالت پر ترس آگیا۔
“اچھا ٹھیک ہے ، چلو”۔ساحر نے کہا۔اور دونوں پانی سے ہٹ کر اسی بینچ پر آکر بیٹھ گئے جہاں دونوں کے جوتے اور سینڈل رکھی ہوئی تھی۔
“لاریب !۔ساحر نے کہا۔
“جی !۔وافیہ نے پوچھا۔
“تم اس رشتے سے خوش تو ہونا؟۔ساحر نے پوچھا۔
“کس رشتے سے؟۔وافیہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“ہمارے رشتے سے ، جو ہمارے بچپن میں بڑوں نے مل کر طے کیا تھا”۔ساحر نے وضاحت کی۔
“اوہ ! ہاں خوش ہوں ، پر آپ یہ کیوں پوچھ رہے ہیں؟۔وافیہ نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“ایسے ہی ، ورنہ اکثر ایسا ہوتا ہے ناں کہ بڑے بچپن میں بچوں کے رشتے طے کردیتے ہیں ، اور پھر بعد میں جب بچے بڑے ہوتے ہیں تو وہ اس رشتے کو قبول نہیں کرتے ، تم انڈیپنڈیڈ ہو ، اتنے عرصے بنا والدین صرف دادی کے ساتھ ایک انجان جگہ پر رہی ہو ، تو میں نے سوچا کہ ہوسکتا ہے تمھیں یہ رشتہ یاد ہی نہ رہا ہو ، یا پسند نہ ہو ، اور تم نے اپنے ہسبنڈ کی پوسٹ کیلئے خود اپنی مرضی سے کسی اور کو منتخب کرلیا ہو”۔ساحر نے بتایا۔
“نہیں ، ایسا کچھ نہیں ہے ، میں کسی کو بھی اس طرح سے پسند نہیں کرتی”۔وافیہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“مجھے بھی نہیں؟۔ساحر نے وافیہ کی جانب دیکھ کر پوچھا۔وافیہ نے بھی ساحر کی جانب دیکھا۔چند لمحے ایسے ہی دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔
“میرا خیال ہے کہ اب ہمیں چلنا چاہئے ، کافی دیر ہوگئی ہے”۔وافیہ نے نظریں واپس جھکاتے ہوئے کہا۔
“نہیں ، ابھی دیر نہیں ہوئی ہے”۔ساحر نے کہا۔وافیہ نے کچھ نہیں کہا۔
“اپنا ہاتھ دو”۔ساحر نے کہا۔
“کیوں ؟۔وافیہ نے حیرانگی سے ساحر کی جانب دیکھ کر پوچھا۔
“دو تو ، پھر بتاتا ہوں”۔ساحر نے کہا۔وافیہ نے اپنا دائیاں ہاتھ آگے کردیا۔
“یہ نہیں ، وہ والا”۔ساحر نے بائیں ہاتھ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔وافیہ نے اپنا بائیاں ہاتھ آگے کردیا۔ساحر نے سلور رنگ میں ایک نگ کی ڈائمنڈ رنگ وافیہ کی تیسری انگلی میں پہنا دی۔
“یہ کیوں ؟۔وافیہ نے پوچھا۔
“ایسے ہی ، دل چاہ رہا تھا میرا”۔ساحر نے کہا۔
“اب چلیں واپس”۔وافیہ نے پوچھا۔
“نہیں”۔ساحر نے کہا۔
“ساحر پلیز ، اتنی رات میں ہمارے ایسے اکیلے یہاں بیٹھا ٹھیک نہیں ہے ، اب ہمیں واپس چلنا چاہئے”۔وافیہ نے کہا۔
“ٹھیک ہے ، پر ایک شرط پر”۔ساحر نے کہا۔
“کیسی شرط؟۔وافیہ نے پوچھا۔
“پھر سے میرا نام لو”۔ساحر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“جب سے تم یہاں آئی ہوں ، آج پہلی مرتبہ تم نے میرا نام لیا ہے”۔ساحر نے بتایا۔
“ساحر پلیز ، اب واپس چلیں”۔وافیہ نے “ساحر” پر زور دیتے ہوئے اس بار تھوڑی سختی سے ایک ایک لفظ چباتے ہوئے کہا۔
“اب اتنے پیار سے بول رہی ہو تو چلنا ہی پڑے گا”۔ساحر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“تو پھر چلیں”۔وافیہ نے بینچ سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔ساحر بھی کھڑا ہوگیا۔وافیہ اپنی سینڈل پہننے لگی۔ساحر نے بھی اپنے جوتے پہنے۔پھر دونوں کار کی جانب چلے گئے۔
**********
رات کا ایک بج رہا تھا۔اور وافیہ کو ابھی تک نیند نہیں آرہی تھی۔وافیہ بیڈ پر سیدھی لیٹی ہوئی چھت کو تک رہی تھی۔اسکے ذہین میں ابھی بھی وہ تھوڑی دیر پہلے والا منظر گھوم رہا تھا۔جب وہ ساحر کے ساتھ سمندر کے کنارے تھی۔
“کتنی خوش نصیب ہے لاریب ، جو اسے ساحر جیسا شوہر ملنے والا ہے”۔وافیہ نے دل میں کہا۔
“ساحر جیسے انسان سے جھوٹ بولنا ٹھیک نہیں ہے”۔وافیہ نے سوچا۔پھر وافیہ کروٹ لے کر پیٹ کے بل لیٹ گئی۔اور دونوں ہاتھ اپنی تھوڑی کے نیچے رکھ لئے۔کہ تب ہی اسکی نظر ساحر کی پہنائی ہوئی انگوٹھی پر پڑی۔وافیہ غیرارادی طور پر اس پر انگلیاں پھیرنے لگی۔
“کاش میں لاریب ہوتی”۔وافیہ نے خودکلامی کی۔
**********
ساحر کے سوا سب آفس گئے ہوئے تھے۔باقی سب اپنے اپنے کمروں میں تھے۔اور ثناء حسب عادت ہال میں بیٹھی ہوئی کوئی ناول پڑھ رہی تھی۔جو کہ اس نے مکمل پڑھ لیا تھا۔اور اب ناول گود میں رکھے ہتھیلی پر تھوڑی ٹکائے کسی سوچ میں گم تھی۔
“کس کے خیالوں میں گم ہو لڑکی؟۔وافیہ نے ہال میں آتے ہوئے پوچھا۔ثناء چونک گئی۔
“کسی کے بھی نہیں ، بس ابھی ابھی ایک ناول ختم کیا ہے تو اسکے بارے میں ہی سوچ رہی تھی”۔ثناء نے بتایا۔
“کیا سوچ رہی تھی ؟ کیا اینڈ اچھا نہیں ہوا؟۔وافیہ نے صوفے پر ثناء کے برابر میں بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں اچھا ہوا ، بلکہ بہت اچھا ہوا ، اور میں یہی سوچ رہی تھی کہ ایسے اینڈ ہماری اصلی زندگیوں میں کیوں نہیں ہوتے ؟۔ثناء نے افسردگی سے کہا۔
“یہ کہانی کس نے لکھی تھی؟۔وافیہ نے پوچھا۔
“کوئی نیو رائیٹر ہے ، نام ہے…..!
“میرا مطلب لکھنے والا کون تھا ؟ تمہارے اور میرے جیسا ایک عام انسان ناں!۔وافیہ نے ثناء کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا۔
“جی ظاہر ہے”۔ثناء نے کہا۔
“تمھیں پتہ ہے کہ ان کہانیوں میں اور ہماری کہانیوں میں کیا فرق ہوتا ہے؟۔وافیہ نے پوچھا۔
“نہیں ، کیا فرق ہوتا ہے؟۔ثناء نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“ان کہانیوں میں جتنے بھی کردار ہوتے ہیں ، یہ سب ایک کٹھ پتلی ہوتے ہیں ، جن کی ڈور رائیٹر کے ہاتھ میں ہوتی ہے ، رائیٹر جیسے چاہتا ہے انھیں اپنے اشاروں پر چلاتا ہے ، یہ کردار اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرسکتے ، ہماری زندگی بھی ایک کہانی ہے ، ہم اسکے کردار ہیں ، اللّه پاک ہماری کہانی کا رائیٹر ہے ، پر فرق یہ ہے کہ اللّه پاک نے انسان کو اختیار دیا ہوا ہے ، اللّه پاک نے انسان کو دعا جیسی نعمت دی ہوئی ہے ، جس سے ہم اپنی کہانی میں اپنی مرضی کا رد و بدل کرواسکتے ہیں ، پر ہم ان اختیارات کو سہی سے استمعال نہیں کرتے ہیں ، ہم کسی کہانی میں تو کسی ہیرو یا ہیروئین کا کردار پڑھ کر بڑے متاثر ہوتے ہیں ، پر خود کو ویسا بنانے کی کوشش نہیں کرتے ، جبکہ ہم ایسا کرسکتے ہیں ، اس پر اکثر لوگوں کا کہنا یہ ہوگا کہ کہانی میں تو ہیرو اور ہیروئین اتنے خوبصورت ہوتے ہیں ، جیسے لمبی ہائیٹ ، دودھیا رنگت ، خوبصورت آواز یا وغیرہ وغیرہ جو کہ قدرتی خوبصورتی ہوتی ہے ، انسان کا تو اس پر اختیار نہیں ہے ، تو ہم کیسے انکے جیسے بنیں ؟ تو ٹھیک ہے کہ ان سب قدرتی چیزوں پر ہمارا اختیار نہیں ہے ، پر اپنے کردار پر تو ہمارا اختیار ہے ناں کہ ہم اسے ہیرو ہیروئین کی طرح بناتے ہیں یا ولن کی طرح ، کہانی میں ہیرو ہیروئین صرف خوبصورتی کی وجہ سے ہیرو ہیروئین نہیں ہوتے ، وہ ہیرو ہیروئین ہوتے ہیں اپنے کردار کی وجہ سے ، وہ خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ نیک ، رحم دل ، خیال رکھنے والے ، احساس کرنے والے ، محبت کرنے والے ہوتے ہیں ، اور ولن اکثر انکو بھی کہانیوں میں کافی خوبصورت بیان کیا جاتا ہے ، پر خوبصورت ہونے کے باوجود بھی وہ ولن کیوں ہوتا ہے ؟ اپنے کردار کی وجہ سے ، ولن میں اکڑ ہوتی ہے ، وہ بدی کی جانب راغب ہوتے ہیں ، بے رحم ہوتے ہیں ، کسی کا خیال نہیں رکھتے ، کسی کا احساس نہیں کرتے ، نفرت کرنے والے ہوتے ہیں ، ہمارا اختیار ان سب چیزوں پر تو ہوتا ہے ، ان پر توجہ دے کر ہم اپنا کردار اپنی کہانی میں اپنی مرضی کا رکھ سکتے ہیں ، اور اکثر لوگ کہانیاں پڑھنے کے بعد حسرت سے کہتے ہیں کہ ہائے کاش ہمارے پاس بھی ہیرو ہیروئین کے جیسا بڑا سا بنگلہ ہوتا ، کاش ہمارے پاس بھی ویسی گاڑی ہوتی ، کاش ہم بھی ویسے ہی کہیں باہر ملک میں رہتے ، وغیرہ وغیرہ ، پر کبھی کسی کو کوئی سیڈ کہانی پڑھنے کے بعد یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ کاش مجھے بھی ہیرو ہیروئین کی طرح برین ہیمبرج ہوجاتا ، ہم بھی اسکی طرح معذور ہوتے ، کاش ہم بھی ویسے بے گھر ہوتے ، کاش ہمارے گھر بھی فاقے ہوتے ، ہم کہانیوں میں دوسروں کو خود سے بہتر دیکھ کر حسرت تو کرتے ہیں ، پر دوسروں کو خود سے بدتر دیکھ کر شکر نہیں کرتے ، ناول وغیرہ میں کوئی بھی کہانی کتنی بھی اچھی کیوں نہ ہو ، ہماری کہانی سے زیادہ اچھی نہیں ہوسکتی ، کیونکہ جس نے ہماری کہانی لکھی ہے ، اسکی ذات سے غلطی جیسا کوئی لفظ منسلک نہیں ہے ، وہ سب سے بہتر تخلیق کرنے والا ہے ، اور جیسے کہ ابھی تم نے کہا کہ کہانیوں میں اینڈ کتنا اچھا ہوتا ہے ہماری زندگیوں میں ایسا کیوں نہیں ہوتا ؟ تو دھیان دو وہ کہانی کا اینڈ ہوتا ہے ، پر ہماری زندگی باقی ہوتی ہے ، اللّه پاک روز ہمیں موقع دیتا ہے ہمیں ہمارا اینڈ اچھا کرنے کا ، پر ہم دھیان ہی نہیں دیتے ، ان ساری باتوں کا نچوڑ یہ ہے کہ اپنی زندگی کو کسی بھی صورت ان فرضی کہانیوں سے مت ملاؤ ، کیونکہ ایسا کرکے تم خود کی نہیں ،بلکہ اللّه پاک کی ، کی گئی تخلیق کی بے حرمتی کرتے ہو ، ایک عام رائیٹر کی لکھی ہوئی کہانی کا ، اور اللّه پاک کی تخلیق کا کوئی مقابلہ نہیں ، لہٰذا کہانی کو کہانی کی حد تک ہی رکھو ، اگر کہانی میں کوئی سبق ہے تو بس اس سبق کو پک کرو ، باقی اسے خود پر اتا حاوی مت کرو”۔وافیہ نے اچھا خاصا لیکچر دے دیا۔
“ہممم! کہہ تو آپ بالکل ٹھیک رہی ہیں”۔ثناء نے تائید کی
“اور ایک بات ، مجھے کچھ رائیٹرز سے یہ شکایات ہے کہ وہ اپنی کہانی میں جو پیغام دینا چاہتے ہیں ، یا جو بھی ہیرو ہیروئین کی داستان عشق بیان کرنا چاہتے ہیں ، وہ بنا ہیرو ہیروئین کے حسن کے قصیدے پڑھے بھی تو ہوسکتا ہے ناں ، ایسے بہت سے لوگ احساس محرومی کا شکار ہوجاتے ہیں”۔وافیہ نے کہا۔
“ہاں ، یہ بات تو اپنے بالکل ٹھیک بولا ہے ، مجھے بھی یہی چیز سمجھ میں نہیں آتی کہ ہیرو ہیروئین کو اتنا حسن کا پیکر کیوں بنادیتے ہیں رائیٹرز ، جیسے ہم لوگ ہوتے ہیں نارمل ایسا کیوں نہیں بتاتے”۔ثناء نے کہا۔
“پتہ نہیں ، یہ تو ان رائیٹرز کو ہی پتہ ہوگا جو ایسا کرتے ہیں ، پر ایک بات اور بھی ہے کہ ہمیں محبت اس سے نہیں ہوتی جو بہت حسین ہوتا ہے ، بلکہ ہمیں جس سے محبت ہوتی ہے وہی ہمارے لئے سب سے حسین ہوتا ہے ، اور تم میری باتیں یاد رکھنا ، کہ کبھی بھی ان ناولز کو اپنی زندگی سے مت ملانا ، اور نہ کبھی انکو اپنے اوپر حاوی کرنا”۔وافیہ نے تاکید کی۔
“جو حکم میڈم”۔ثناء نے کہا۔اور دونوں مسکرادی۔
************
“السلام و علیکم خواتینز”۔سعد نے ہال میں داخل ہوتے ہوئے سلام کیا۔
“وعلیکم السلام”۔سب نے یک زبان جواب دیا۔
“السلام و علیکم اماں”۔طاہر صاحب اور عامر صاحب نے بھی ہال میں آتے ہوئے سلام کیا۔
“وعلیکم السلام ، خوش رہو”۔شمع بیگم نے کہا۔
“واہ دادی ، مجھے صرف وعلیکم السلام ، اور انھیں پلس خوش رہو، یہ اچھا انصاف ہے”۔سعد نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے مصنوئی شکوہ کیا۔تینوں ابھی ابھی آفس سے آئے تھے۔طاہر صاحب اور عامر صاحب بھی تب تک صوفے پر بیٹھ چکے تھے۔
“اچھا بھئی ، تم بھی خوش رہو”۔شمع بیگم نے کہا۔
“یہ ہوئی ناں بات”۔سعد نے خوشی سے کہا۔
“ساحر کہاں ہے؟۔طاہر صاحب نے پوچھا۔
“کہیں باہر گیا ہوا ہے”۔نوشین نے بتایا۔
“وافیہ کے ساتھ؟۔عامر صاحب نے پوچھا۔
“نہیں ، وافیہ تو کمرے میں ہے ، اکیلے ہی کہیں گیا ہے ، کہہ رہا تھا کچھ ضروری کام ہے ، جلدی آجائے گا”۔رفعت نے بتایا۔
“ارے بھئی لوفر ذرا ایک گلاس ٹھنڈا پانی تو پلا دو”۔سعد نے ملازمہ کو آواز لگائی۔
“سعد ! یہ کیا بدتمیزی ہے ، نیلوفر نام ہے ناں اسکا”۔رفعت نے ٹوکا۔
“ہاں تو مام شارٹ میں لوفر ہی ہوا ناں”۔سعد نے کہا۔
“بری بات ، کتنی دفعہ منع کیا ہے ناں تمھیں ، اب آئندہ نہیں بولنا”۔رفعت نے ٹوکا۔
“اچھا بھئی ، نہیں بولوں گا”۔سعد نے کہا۔
“یہ لیجئے صاحب”۔نیلوفر نے پانی کا گلاس سعد کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔
“جزاک اللّه”۔سعد نے کہتے ہوئے گلاس لے لیا۔
“ہم لوگ فرش ہوکر آتے ہیں ، تب تک تم ذرا اچھی سی چائے بنا دو ثناء”۔طاہر صاحب نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔عامر صاحب بھی کھڑے ہوگئے۔
“ہاں ، اچھی سی ، مطلب ، اچھی سی ، ٹھیک ہے ناں”۔سعد نے بھی کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔اور ثناء سعد کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کچن کی جانب چلی گئی۔
*********
“کہاں چلے گئے تھے بیٹا؟۔طاہر صاحب نے ساحر کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔جو ابھی ابھی ہال میں داخل ہوا تھا۔
“ایک ضروری کام سے گیا تھا پاپا”۔ساحر نے بتایا۔
“چلو سہی ٹائم پر آئے ہو ، آجاؤ چائے پی لو”۔رفعت نے کہا۔
“شکریہ چچی ، پر مجھے آپ سب کو کسی سے ملوانا ہے”۔ساحر نے کہا۔
“کس سے؟۔عامر صاحب نے پوچھا۔ساحر نے مڑ کر اپنے پیچھے دیکھا۔سب ساحر کے تعقب میں دیکھنے لگے۔کہ تب ہی ہال میں ایک لڑکا اور لڑکی داخل ہوئے۔لڑکی کو تو سب پہچان گئے تھے۔پر لڑکا ان لوگوں کیلئے انجان تھا۔اور لڑکی کو دیکھ کر سب حیران سے اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے تھے۔
“انکو تو آپ لوگ پہچان ہی گئے ہوں گے”۔ساحر نے لڑکی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“یہ ہیں لاریب نوید”۔ساحر نے بتایا۔سب ہکابکا کبھی ساحر کو تو کبھی لاریب کو دیکھ رہے تھے۔
“اور یہ ہیں وقاص انصاری ، لاریب کے ہسبنڈ”۔ساحر نے بتایا۔اور سب پر گویا بم ہی گرگیا۔تب تک وافیہ بھی اپنے کمرے سے ہال میں آچکی تھی۔اور ناسمجھی سے ان دونوں اجنبیوں کو دیکھ رہی تھی۔سب لوگ بالکل خاموش کھڑے تھے۔
