Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 02

کیا ہوا ڈیڈ ! بھائی کیسے ہیں ؟ سب پریشان ہورہے ہیں یہاں؟۔سعد نے پوچھا۔طاہر اور عامر کو ہوسپٹل گئے ہوئے کافی دیر ہوگئی تھی۔تو احمد شاہ کے کہنے پر سعد نے عامر کو فون کیا۔
“ابھی تو ساحر اپریشن تھیٹر میں ہے ، ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اسے کافی سخت چوٹیں آئیں ہیں ، اور ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا ، ہم بس دعا کریں”۔عامر نے بتایا۔
“اللّه کرم کرے”۔سعد نے کہا۔
“امین ، اچھا سعد ! جن لوگوں نے ساحر کو ہوسپٹل پہنچایا ہے ، انکا کہنا ہے کہ ساحر کا ایکسیڈنٹ ائیرپورٹ جانے والے روڈ پر ہوا ہے ، اور لاریب بھی ساحر کے ساتھ نہیں تھی ، اسکا مطلب کہ ساحر ائیرپورٹ پہنچ ہی نہیں پایا ہے ، اور ہوسکتا ہے کہ لاریب ائیرپورٹ پر انتظار کررہی ہو ، تم جاکر اسے لے آؤ بیٹا”۔عامر صاحب نے کہا۔
“جی ڈیڈ ، ابھی جاتا ہوں میں ، آپ بس وقفے وقفے سے بھائی کی خریت دیتے رہیے گا”۔سعد نے کہا۔اور لائن کاٹ دی۔
“کیا ہوا ؟ کیسا ہے ساحر؟۔نوشین نے بے تابی سے پوچھا۔
“تائی بھائی ابھی اپریشن تھیٹر میں ہیں ، اور ڈاکٹرز نے کہا ہے کہ ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے بس ہم بھائی کیلئے دعا کریں”۔سعد نے بتایا۔
“اور لاریب بھی ساتھ تھی کیا ساحر کے؟۔شمع بیگم نے پوچھا۔
“نہیں دادی ، بھائی ائیرپورٹ پہنچے ہی نہیں ، اور میں ائیرپورٹ ہی جارہا ہوں ، لاریب بھابھی کو لینے ، ڈیڈ نے کہا ہے”۔سعد نے بتایا۔
“اللّه کرم کرے ، اور تم بھی ذرا دیکھ بھال کر جانا”۔رفعت نے کہا۔
“جی امی ، اچھا میں آتا ہوں”۔سعد نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
“اللّه حافظ”۔رفعت نے کہا۔
********
“کیا ہوا ڈاکٹر صاحب ؟ میرا بیٹا کیسا ہے؟۔طاہر صاحب نے پوچھا۔ڈاکٹر ابھی ابھی اپریشن تھیٹر سے باہر آئے تھے۔
“دیکھیں ،ہم نے اپریشن تو کردیا ہے ، پر پیشنٹ کی حالت بہت نازک ہے ، انکے سر پر بہت گہری چوٹیں آئیں ہیں ، اگلے چوبیس گھنٹوں تک کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا ، آپ لوگ بس دعا کریں کہ انکو چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر ہوش آجائے ، ورنہ…..ایم سوری”۔ڈاکٹر نے بتایا۔
“ایکسکیوزمی !۔ڈاکٹر کہتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔
“اللّه پر بھروسہ رکھیں بھائی صاحب ، سب ٹھیک ہوگا ان شااللّه ، کچھ نہیں ہوگا ہمارے ساحر کو”۔عامر صاحب نے طاہر صاحب کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی۔طاہر صاحب نے کچھ نہیں کہا۔
********
عامر صاحب نے گھر فون کرکے بتا دیا تھا کہ اگلے چوبیس گھنٹے ساحر کیلئے بہت بھاری ہیں۔نوشین تو سب سے بے خبر بس اپنے کمرے میں جائے نماز پر بیٹھی مسلسل اپنے بیٹے کی سلامتی کی دعا کررہی تھیں۔باقی سب بھی فکر مند تھے۔
“سعد بھائی آگئے”۔دعا نے ہال میں آکر بتایا۔تھوڑی دیر میں سعد ہال میں داخل ہوا۔سب اسکو اکیلے دیکھ کر حیران رہ گئے۔
“سعد تم اکیلے آئے ہو ! لاریب کہاں ہے؟۔رفعت نے پوچھا۔
“مما بہت ڈھونڈا میں نے انھیں ائیرپورٹ پر ، لیکن وہ ملی ہی نہیں ، شاید وہ ائیرپورٹ سے جاچکی تھیں ، یا پھر ہوسکتا ہے کہ وہ اس فلائٹ سے آئی ہی نہ ہوں”۔سعد نے بتایا۔
“ایسا کیسے ہوسکتا ہے ! اس نے تو کہا تھا کہ وہ آج کی فلائٹ سے ہی آرہی ہے ، اور وہ تو یہاں کسی کو جانتی بھی نہیں ہے ، تو پھر وہ کہاں چلی گئی؟۔شمع بیگم نے حیرانگی سے کہا۔
“پتہ نہیں دادی ، میں نے تو بہت ڈھونڈا ، پر وہ وہاں ملی ہی نہیں”۔سعد نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“یااللّه ! اب یہ ایک اور نئی پریشانی کہ پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے وہ”۔شمع بیگم نے کہا۔
“ایسا کرو ، اسکی دادی کو فون کرو ، اور پوچھو کہ لاریب آج کی فلائٹ سے آئی ہے یا نہیں؟۔احمد شاہ نے کہا۔
“پر میرے پاس انکا نمبر نہیں ہے”۔سعد نے کہا۔
“عامر کے پاس ہے ، انھوں نے اپنی ڈائری میں لکھا ہوا ہے ، دعا جاؤ جلدی سے اپنے ڈیڈ کی ڈائری لے کر آؤ”۔رفعت نے کہا۔اور دعا سرہلا کر جلدی سے عامر صاحب کے کمرے کی جانب گئی۔اور ایک ڈائری لے کر آئی۔سعد نے نمبر ڈھونڈ کر ڈائل کرکے فون کا سپیکر ان کرکے فون احمد شاہ کو دے دیا۔بیل جارہی تھی۔تھوڑی دیر میں ہی فون ریسو کرلیا گیا۔
“ہیلو ! کون!۔دوسری جانب سے ایک نسوانی آواز ابھری۔
“السلام و علیکم ، میں پاکستان سے احمد شاہ بول رہا ہوں ، لاریب کا نانا”۔احمد شاہ نے کہا۔
“وعلیکم السلام ، جی بولیں ، کیوں فون کیا؟۔دوسری جانب سے بیزاری سے پوچھا گیا۔
“جی وہ دراصل ہمیں یہ جاننا تھا کہ لاریب آج کی فلائٹ سے پاکستان آنے کیلئے روانہ ہوگئی تھی کیا؟۔احمد شاہ نے پوچھا۔
“کیا ! لاریب پاکستان آرہی تھی !۔ دوسری جانب سے حیرانگی سے پوچھا گیا۔
“جی ، کیوں آپکو نہیں پتہ کیا؟۔احمد شاہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
“نہیں ، تو اسی لئے وہ گھر سے غائب ہے ، اور میں یہاں پریشان ہورہی تھی ، اب اسکو بولنا کہ وہیں رہے ، کوئی ضرورت نہیں ہے یہاں واپس آنے کی ، احسان فراموش کہیں کی”۔دوسری جانب سے کافی غصے میں جواب آیا۔اور لائن کاٹ دی گئی۔اور سب ہکابکا سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔سب کو ایک کے بعد ایک حیرانگی کی جھٹکے لگ رہے تھے۔
“لاریب اپنی دادی کو بنا بتائے پاکستان آرہی تھی”۔شمع بیگم نے کہا۔
“اور اگر آرہی تھی تو آئی کیوں نہیں ! اور اگر آگئی ہے تو کہاں گئی؟۔رفعت نے کہا۔سب کے ذہنوں میں ڈھیروں سوال سر اٹھا رہے تھے۔
“یااللّه ! یہ سب کیا ہورہا ہے؟۔شمع بیگم نے کہا۔
_______
ساحر کا اپریشن ہوئے چوبیس گھنٹے ہوچکے تھے۔لاریب کا بھی ابھی تک کچھ پتہ نہیں چلا تھا۔اور سب گھر والے ہی ہوسپٹل آگئے تھے۔اور ویٹنگ ایریا میں ساحر کے ہوش میں آنے کا انتظار اور دعا کررہے تھے۔
“آپ میں سے مسٹر ساحر شاہ کے والد کون ہیں؟۔نرس نے آکر پوچھا۔
“جی میں ہوں ، کیوں؟۔طاہر صاحب نے بتاتے ہوئے پوچھا۔
“آپکو ڈاکٹر عمیر نے اپنے روم میں بلایا ہے”۔نرس نے بتایا۔نرس کے بتانے پر طاہر صاحب عامر صاحب کے ساتھ ڈاکٹر سے ملنے چلے گئے۔اور باقی سب تشویش سے انتظار کرنے لگے کہ پتہ نہیں ڈاکٹر نے کیا کہنے کیلئے ہے۔تقریباً آدھے گھنٹے بعد دونوں ڈاکٹر کے روم سے واپس آئے۔
“کیا ہوا طاہر ؟ کیا کہہ رہے تھے ڈاکٹر ؟۔احمد شاہ نے پوچھا۔
“ابا ! ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ کچھ ہی دیر میں ساحر کو ہوش تو آجائے گا ، پر اسکی ذہنی حالت کافی نازک ہے ، اسے کسی بھی قسم کے شاک سے دور رکھنا ہے”۔طاہر صاحب نے بتایا۔
“مطلب کس قسم کا شاک؟۔سعد نے پوچھا۔
“ہر قسم کا ، اور لاریب کے بارے میں بھی اسے خاص طور پر کچھ مت بتانا ، کہ وہ لاپتہ ہے”۔عامر صاحب نے بتایا۔
“ایکسکیوزمی ! مسٹر ساحر شاہ کو ہوش آگیا ہے ، آپ لوگ ان سے مل سکتے ہیں”۔نرس نے آکر بتایا۔سب کے چہروں پر یکدم خوشی کی لہر دوڑ گئی۔اور سب جلدی سے روم کی جانب بڑھے۔ساحر کے دائیں ہاتھ اور سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔دائیں ہاتھ پر ڈرپ لگی ہوئی تھی۔منہ پر مصنوئی آکسیجن کا ماسک لگا ہوا تھا۔اور آنکھیں بند تھیں۔سب لوگ ساحر کے دائیں بائیں کھڑے ہوگئے۔
“ساحر ! آنکھیں کھولو بیٹا”۔نوشین نے آہستہ سے ساحر کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ساحر نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولی۔اور باری باری سب کو دیکھنے لگا۔
“لا…لا..ری….ب…”۔ساحر کچھ کہنا چاہ رہا تھا۔پران لوگوں کے سمجھ میں نہیں آیا۔
“ایکسکیوزمی سسٹر ! انکے منہ سے یہ ماسک ہٹا دیں ، ان سے بولا نہیں جارہا ہے اور ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ہے”۔سعد نے کہا۔نرس نے ماسک ہٹا دیا۔
“اب بولو بھائی ، کیا بول رہے تھے؟۔سعد نے کہا۔
“لا..لا..ریب…کا…بول…رہا…تھا”۔ساحر نے رک رک کر کہا۔
اور سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
“ہاں بھائی ، لاریب بھابھی کی فکر مت کریں آپ ، میں انھیں لے آیا تھا ائیرپورٹ سے ، وہ گھر پر ہیں”۔سعد نے جلدی سے کہا۔اور سب حیرانگی سے سعد کی جانب دیکھنے لگے۔
“کب…کب..لائے؟۔ساحر نے پوچھا۔
“کل ہی جب آپ بے ہوش تھے ، میں لے آیا تھا انھیں جاکر ائیرپورٹ سے ، بہت پریشان ہیں وہ بھی آپکے لئے”۔سعد نے مزید جھوٹ بولا۔
“یہاں…کیوں…نہیں..آئی…وہ؟۔ساحر نے پوچھا۔
وہ آئی تھی بیٹا ، پر تم بیہوش تھے ، اس پر سفر کی تھکن بھی تھی اسکو ، تو ہم نے کہا تم گھر پر آرام کرو ، ساحر جب گھر آئے گا تو تب ہو مل لینا اس سے”۔رفعت نے بھی جھوٹ بولا۔اور عامر صاحب غصے سے رفعت اور سعد کو گھورنے لگے۔
“بیٹا تم چھوڑو یہ سب باتیں ، بس آرام کرو ، اپنے ذہین پر زیادہ زور مت ڈالو”۔احمد شاہ نے موضوع بدلتے ہوئے کہا۔
********
“تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے ؟ کیا ضرورت تھی ساحر کو جھوٹ بولنے کی ! کہ لاریب گھر پر ہے؟۔عامر صاحب نے غصے سے کہا۔ساحر دوائیوں کو زیر اثر سو گیا تھا اس لئے سب لوگ روم سے باہر آگئے تھے اور اب سعد کی شامت آئی ہوئی تھی۔
“تو ڈیڈ آپ نے ہی تو کہا تھا کہ بھائی کو ہر قسم کے شاک سے دور رکھنا ہے”۔سعد نے وضاحت کی۔
“ہاں پر میں نے یہ کب کہا تھا کہ اسکے سامنے جھوٹ کے پل باندھ دینا؟۔عامر صاحب نے ہنوز غصے سے کہا۔
“ارے تو کیا ہوگیا ! ساحر کونسا آج ہی گھر آرہا ہے ! ابھی اسے ہوسپٹل سے ڈسچارج ہونے میں بھی ٹائم لگے گا ، تب تک ڈھونڈ لیں گے ہم لاریب کو”۔رفعت نے کہا۔
“بیگم آپ تو رہنے ہی دیں ، آپ نے بھی اندر کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی”۔عامر صاحب نے کہا۔
“اور ساحر کو زیادہ سے زیادہ دو ڈھائی ہفتے ہوسپٹل میں رکھیں گے ، اور اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ دو ڈھائی ہفتے کے اندر اندر لاریب مل جائے گی؟۔طاہر صاحب نے بھی کہا۔
“بیٹا تمہیں ایسے بنا سوچے سمجھے ساحر کے سامنے نہیں بولنا چاہئے تھا”۔احمد شاہ نے کہا۔
“دادا جی میں نے تو یہ سوچ کر کہہ دیا کہ بھائی کو شاک سے دور رکھنا ہے تو انھیں کوئی خوشی کی خبر دے دوں”۔سعد نے بتایا۔
“ساحر کو شاک سے دور رکھنے کا کہا تھا ، اس نے ہمیں ہی شاک میں ڈال دیا”۔عامر صاحب نے کرسی پر بیٹھ کر دونوں ہاتھوں سے سر تھامتے ہوئے کہا۔
“اللّه مالک ہے ، کیا پتہ ساحر کے گھر آنے سے قبل لاریب مل جائے”۔شمع بیگم نے کہا۔
“اللّه کرے ایسا ہی ہو ، پر اگر ایسا نہ ہوا تو!۔نوشین نے خدشہ ظاہر کیا۔
“پر ہم لاریب باجی کو ڈھونڈیں گے کہاں اور کیسے ؟۔دعا نے کہا۔
“پوچھو اپنے بھائی جان سے ، جو اندر شوشہ چھوڑ کر آئیں ہیں”۔عامر صاحب نے طنزیہ لہجے میں کہا۔سعد نے کچھ نہیں کہا۔
********
احمد شاہ ، طاہر صاحب ، عامر صاحب اور سعد نے اپنے دن رات ایک کرکے رکھ دیے تھے لاریب کی تلاش میں ، پر اسکا کہیں کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔ادھر ساحر جب بھی لاریب کے بارے میں پوچھتا تو یہ لوگ ٹال دیتے تھے کہ اب تم سیدھا گھر جاکر ہی لاریب سے ملنا۔ایک ہفتہ ہوگیا تھا۔پر یہ لوگ ابھی تک لاریب کی تلاش میں کامیاب نہیں ہو پائے تھے۔
********
“یااللّه ! ایک ہفتہ ہوگیا ہے ، پر لاریب کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں چلا ہے ، اور ایک ہفتے بعد ساحر ڈسچارج ہوکر گھر آرہا ہے ہم کیا جواب دیں گے اسے ؟۔عامر صاحب نے پریشانی سے کہا۔تینوں اس وقت آفس میں طاہر صاحب کے روم میں موجود تھے۔
“فکر نہیں کریں ڈیڈ ، سب ٹھیک ہوجائے گا”۔سعد نے کہا۔
“اچھا ! کونسا علادین کا چراغ ہاتھ آگیا ہے آپکے ! جسکی بنا پر آپ کہہ رہے ہیں کہ سب ٹھیک ہوجائے گا؟۔عامر صاحب نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
“ڈیڈ سوری بول تو چکا ہوں میں ، اب آپ ہی بتائیں کہ اگر اس دن بھائی کو میں یہ نہ کہتا تو اور کوئی جواب تھا ہمارے پاس؟۔سعد نے پوچھا۔
“ہاں ! کہہ دیتے کہ لاریب پاکستان آئی ہی نہیں ہے”۔عامر صاحب نے کہا۔
“تو یہ بات ہم اب بھی بتا سکتے ہیں ساحر کو”۔طاہر صاحب نے کہا۔
“کیا مطلب بھائی صاحب؟۔عامر صاحب نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“مطلب ہم ساحر کو کہہ دے دیتے ہیں کہ لاریب پاکستان آئی ہی نہیں ہے”۔طاہر صاحب نے کہا۔
“پر ساحر پوچھے گا نہیں کہ ہم نے تو کہا تھا کہ لاریب گھر پر ہے؟۔عامر صاحب نے کہا۔
“ہاں تو ہم اسے کہہ دیں گے کہ ہم نے جھوٹ بولا تھا ، تا کہ تم پریشان نہ ہو ، ساحر کو اس بات سے ٹینشن ہوگی ناں کہ لاریب پاکستان آکر لاپتہ ہوئی ہے ، اس میں تو کوئی ٹینشن والی بات نہیں ہے کہ لاریب کسی وجہ سے پاکستان آئی ہی نہیں ہے”۔طاہر صاحب نے بتایا۔
“ہممم! بات تو آپکی ٹھیک ہے بھائی صاحب”۔عامر صاحب نے تائید کی۔
“نہیں تایا ، ہم ایسا نہیں کہہ سکتے”۔سعد نے کہا۔
“پر کیوں ؟۔طاہر صاحب نے پوچھا۔
“کیونکہ آپ لوگ بھول گئے ، کہ اس رات فلائٹ میں بیٹھنے سے پہلے لاریب بھابھی نے خود یہاں فون کرکے اطلاع دی تھی کہ میں دبئی ائیرپورٹ پر ہوں ، بورڈنگ پاس کرچکی ہوں ، اور فلائٹ کا ٹائم بتایا تھا ، تو ساحر بھائی کے ذہین میں یہ بات تو کنفارم ہے کہ لاریب بھابھی دبئی سے روانہ ہوئی ہیں ، اب ایسے میں یہ کہنا کہ وہ پاکستان نہیں آئیں ، تشویش کی بات ہوگی”۔سعد نے کہا۔دونوں سوچ میں پڑگئے۔کہ تب ہی طاہر صاحب کا فون بجا۔
“ہیلو ! ۔….کیا….اچھا…..ہم ابھی آتے ہیں”۔طاہر صاحب نے کہہ کر جلدی سے فون رکھا۔
“کیا ہوا بھائی صاحب ؟ عامر صاحب نے تشویش سے پوچھا۔
“نوشین کا فون تھا ، کہہ رہی تھی کہ ساحر کی طبیعت خراب ہورہی ہے ، چلیں ہوسپٹل چلتے ہیں جلدی”۔طاہر صاحب نے کھڑے ہوتے ہوئے بتایا۔اور تینوں عجلت میں ہوسپٹل کیلئے روانہ ہوگئے۔
**********
“یہ لاریب کون ہیں مسٹر طاہر؟۔ڈاکٹر عمیر نے پوچھا۔طاہر صاحب اور عامر صاحب اس وقت ڈاکٹر کے روم میں بیٹھے ہوئے تھے۔ساحر کی حالت اب سمبھال چکی تھی۔
“لاریب میرے بیٹے کی منگیتر ہے ، پر آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟۔طاہر صاحب نے بتاتے ہوئے پوچھا۔
“دراصل مسٹر ساحر بار بار کسی لاریب سے ملنے کا اصرار کررہے ہیں ، تو آپ مس لاریب کو ان سے ملوا کیوں نہیں دیتے؟۔ڈاکٹر نے پوچھا۔
“وہ دراصل لاریب یہاں ہے نہیں”۔طاہر صاحب نے بتایا۔
“تو پھر مسٹر ساحر بار بار ان سے ملنے کا اصرار کیوں کررہے ہیں؟۔ڈاکٹر نے پوچھا۔طاہر صاحب نے عامر صاحب کی جانب دیکھا۔اور پھر ڈاکٹر کو سب بتایا دیا کہ کیسے لاریب پاکستان آکر لاپتہ ہوگئی ہے۔اور ان لوگوں نے ساحر سے جھوٹ بولا ہوا ہے۔
“اب آپ ہی بتایں ڈاکٹر صاحب کہ ہم کیا کریں ؟ کیا ساحر کو سب سچ بتا دیں؟۔طاہر صاحب نے پوچھا۔
“نہیں ، سچ نہ بتائیں ، کیونکہ بات تو سچ میں تشویش کی ہے ، اور ابھی جیسی انکی حالت ہے انکے لئے یہ بات بہت خطرناک ثابت ہوسکتی ہے ، آپ مس لاریب کو ڈھونڈنے کی کوشش کریں”۔ڈاکٹر صاحب نے کہا۔
“وہ تو ٹھیک ہے ڈاکٹر صاحب ، پر ساحر بار بار لاریب کا بھی تو پوچھ رہا ہے ناں ، تو کیا جواب دیں؟۔عامر صاحب نے پوچھا۔
“دیکھیں ابھی فلحال سب ایسے ہی چلنے دیں ، جیسے ہی مسٹر ساحر کی ذہنی حالت میں سدھار آتا ہے ، آپ انھیں سب بتا دیجئے گا ، بس ابھی کچھ عرصے اس بات کو دبا کر ہی رکھیں”۔ڈاکٹر نے کہا۔
********
ڈاکٹر کے کہنے کے مطابق ان لوگوں نے ساحر کو لاریب کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔اور ساحر کی ابھی بھی وہی ضد تھی کہ لاریب سے ملنا ہے۔کافی مشکل سے ساحر کو سمجھایا تھا۔ساحر کے پاس ہوسپٹل میں نوشین اور طاہر صاحب رکے ہوئے تھے۔باقی سب لوگ گھر آگئے تھے۔اور ہال میں بیٹھے ہوئے سوچ بچار کررہے تھے۔
“سمجھ سے باہر ہے کہ لاریب آخر کہاں غائب ہوگئی ہے؟۔رفعت نے کہا۔
“ہممم! اور مزید ساحر سے سب چھپانا مشکل ہوتا جارہا ہے”۔عامر صاحب نے تائید کی۔
“میرے پاس ایک پلان ہے”۔سعد نے کہا۔
“تم تو چپ ہی رہو ، یہ سارا فساد تمہارا ہی کھڑا کیا ہوا ہے ، نہ تم اس دن وہ جھوٹ بولتے اور نہ یہ سب ہوتا”۔عامر صاحب نے پہلے ہی ٹوکا۔
“سن تو لو آخر کیا کہہ رہا ہے وہ ، بولو تم سعد”۔شمع بیگم نے عامر صاحب کو کہتے ہوئے سعد سے کہا۔
“دیکھیں لاریب بھابھی پاکستان آکر لاپتہ ہوئی ہیں یہ بات صرف ہم جانتے ہیں ، اور بھائی سے ہمیں یہ بات چھپانی ہے ، وہ بھی صرف کچھ عرصے کیلئے ، پر تب تک لاریب بھابھی کا ملنا ممکن نہیں ہے ، اور بھائی بضد ہیں کہ انھیں لاریب بھابھی سے ملنا ہے ، تو کیوں نہ ہم کسی اور لڑکی کو لاریب بنا کر بھائی سے ملوا دیں ، کیونکہ بھائی نے تو لاریب بھابھی کو دیکھا ہی نہیں ہے ، تو ابھی فلحال ہم کسی اور کو بھائی کے سامنے لاریب بنا کر لے جاتے ہیں ، کیسا ؟۔سعد نے بتاتے ہوئے آخر میں تائید چاہی۔
“کیا پتہ بھیا نے بھابھی کو دیکھا ہوا ہو پھر ؟۔ثناء نے خدشہ ظاہر کیا۔
“ارے نہیں دیکھا ہوگا ، کیونکہ ایک تو لاریب بھابھی کا اتنے سالوں سے ہم سے کوئی رابطہ نہیں تھا ، پھر دوسرا یہ کہ لاریب بھابھی نے اپنی شناخت کیلئے جو فوٹو بھیجی تھی وہ صرف ہم لوگوں نے دیکھی تھی ، ساحر بھائی نے نہیں ، تو انھیں نہیں پتہ چلے گا کہ وہ لڑکی لاریب نہیں کوئی اور ہے”۔سعد نے کہا۔سب سوچ میں پڑگئے۔
“دیکھیں ابھی فلحال اسکے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے”۔سعد نے سب کو سوچ میں گم دیکھ کر کہا۔
“ہممم! بات تو تمہاری ٹھیک ہے ، پر اب مسلہ یہ ہے کہ ایسی لڑکی لائیں کہاں سے؟۔احمد شاہ نے کہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *