Sagar Kinaray by Faryal Khan NovelR50709 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 09
Rate this Novel
Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 01 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 02 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 03 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 04,05 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 06 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 07 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 08 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 09 (Watching)Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 10 Sagar Kinaray by Faryal Khan Last Episode
Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 09
بنا بتائے ایسے اچانک آنے کیلئے بہت معذرت بہن ، پر ہم نے یہ سوچ کر اطلاع نہیں دی کہ کہیں آپ لوگ کسی تکلف میں نہ پڑجائیں”۔آسیہ بی بی(عمار کی والدہ) نے کہا۔آسیہ بی بی اس وقت وردہ کے ساتھ شاہ ہاؤس کے ڈرائینگ روم میں موجود تھیں۔اور انکے ساتھ وہاں شمع بیگم ، نوشین اور رفعت بھی موجود تھیں۔
“ارے نہیں بہن ، معذرت کیسی ، گھر جیسی بات ہے ، آپ لوگ کبھی بھی آئیں”۔شمع بیگم نے کہا۔
“شکریہ بہن ، دراصل آج ہم لوگ یہاں کسی خاص مقصد سے آئیں ہیں”۔آسیہ بی بی نے کہا۔
“کیسا مقصد؟۔شمع بیگم نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“دراصل بہن میرے بچوں سے تو آپ لوگ مل ہی چکے ہیں ، آپکی پوری فیملی کو بھی ہم اچھے سے جانتے ہیں ، تو میں چاہ رہی تھی کہ کیوں ناں ان تعلقات کو تھوڑا اور مظبوط کرلیا جائے ، میں آپکی پوتی دعا کو اپنے عماد کی دلہن بنانا چاہتی ہوں”۔آسیہ بی بی نے اپنے آنے کا مقصد بتایا۔
“ویسے تو آپ لوگ ہمیں جانتے ہی ہیں ، پر پھر بھی بیٹی کا معملا ہے ، اگر آپ لوگ کسی قسم کی کوئی چھان بین کروانا چاہیں تو کرواسکتے ہیں”۔آسیہ بی بی نے مزید کہا۔
“نہیں نہیں بہن ، چھان بین وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، عماد دیکھا بھالا ہی بچہ ہے ، اور ہمیں خوشی ہوئی کہ آپ نے ایسا سوچا”۔شمع بیگم نے کہا۔
“ہم ابھی تو نہیں ، باقی سب گھر والوں سے بھی بات کرکے پھر آپکو جواب دیتے ہیں”۔شمع بیگم نے مزید کہا۔
“جی ضرور ضرور ، آپ لوگ آپس میں بات چیت کرکے صلاح مشورہ کرلیں ، پھر ہمیں بتا دیجئے گا ، پر مجھے امید ہے کہ آپ لوگوں کا جواب ہاں میں ہی ہوگا”۔آسیہ بی بی نے کہا۔
“ان شاءاللّه”۔شمع بیگم نے کہا۔
***********
“ارے واہ ! یہ تو بہت اچھی خبر ہے ، ہیں ناں عامر!۔طاہر صاحب نے کہتے ہوئے عامر صاحب سے تائید چاہی۔سب لوگ اس وقت رات کے کھانے کے بعد ہال میں جمع تھے سوائے دعا کے۔کہ تب شمع بیگم نے انھیں آسیہ بی بی کی آمد کا بتایا۔
“ہاں ، خبر تو اچھی ، تم بتاؤ ساحر ، عمار تو تمہارا دوست ہے ناں ، تمہاری کیا رائے ہے؟۔عامر صاحب نے تائید کرتے ہوئے پوچھا۔
“جی چاچو ، اچھی رائے ہے ، عمار ایک عرصہ ساتھ پڑھا ہے میرے ، اور عماد سے بھی میں دو تین دفعہ ملا ہوں ، اچھا لڑکا ہے”۔ساحر نے بتایا۔
“اگر سب ٹھیک ہے ، اور کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے تو ہم انھیں ہاں کردیتے ہیں”۔رفعت نے کہا۔
“ہاں ، پر پھر بھی میرا مشورہ تو یہی ہے کہ پہلے دعا کی مرضی جان لو ، پھر بات آگے بڑھنا”۔احمد شاہ نے کہا۔
“مجھے نہیں لگتا کہ اسے کوئی اعتراض ہوگا”۔ثناء نے کہا۔
“پھر بھی ، ایک بار پوچھ لینا چاہئے”۔طاہر نے کہا۔
“ٹھیک ہے ، تو پھر دعا کی مرضی جان کر ہم کل انھیں جواب دے دیں گے”۔شمع بیگم نے کہا۔
************
وہی ہوا جو ثناء نے کہا تھا۔دعا کو بھی اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔دعا کی رضامندی ملتے ہی ان لوگوں نے آسیہ بی بی کو “ہاں” کردی تھی۔اور کچھ ہی دنوں میں آکر آسیہ بی بی نے باقاعدہ طور پر تاریخ بھی طے کردی تھی۔اور ساتھ ساتھ سعد اور ثناء کی شادی کی تاریخ بھی دعا کے ساتھ ہی طے کردی گئی تھی۔
************
“مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا ہے کہ بیٹھے بیٹھائے میری دعا کیلئے اتنا اچھا رشتہ مل گیا ، اور اتنی جلدی سب طے بھی ہوگیا”۔رفعت نے کہا۔وہ اس وقت نوشین کے ساتھ ہال میں بیٹھی ہوئی تھیں۔
“اللّه پاک بڑا غفور و رحیم ہے ، اس اچھی امید رکھنی چاہئے ، پھر سب اچھا ہی ہوتا ہے”۔نوشین نے کہا۔
“بیشک”۔رفعت نے کہا۔
“السلام و علیکم”۔ساحر نے ہال میں آتے ہوئے سلام کیا۔
“وعلیکم السلام ، کہاں سے آرہے ہو؟۔نوشین نے جواب دیتے ہوئے پوچھا۔
“ایسے ہی ایک دوست سے ملنے گیا ہوا تھا ، آپ لوگ بتائیں ، کیا میٹنگ ہورہی تھی؟۔ساحر نے نوشین کے پیر کے پاس فرش پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
“کچھ نہیں ، بس یہی بات کررہے تھے کہ ماشاءاللّه کتنی جلدی دیکھتے ہی دیکھتے سب کے رشتے طے ہوگئے ، بس اب ایک تم ہی رہ گئے ہو”۔نوشین نے کہا۔
“سعد ، ثناء اور دعا ، تینوں تم سے چھوٹے ہیں ، اور ماشاءاللّه سے تینوں ہی کی بات تم سے قبل طے ہوگئی ، اور تو اور تمہارا یونیورسیٹی کا دوست عمار ، جو تمہاری ہی عمر کا ہے ، وہ بھی شادی شدہ ہے اور ایک بیٹا بھی ہے”۔نوشین نے مزید کہا۔
“اب اسکا بیٹا ہے تو اس میں میری کیا غلطی!۔ساحر نے کہا۔
“زبان چلوا لو بس ، تم بھی اب کچھ سوچ لو شادی کے بارے میں”۔نوشین نے ساحر کے سر پر چپت لگاتے ہوئے کہا۔
“میں نے انکار ہی کب کیا ہے ممی ، آپکو ہی کوئی لڑکی پسند نہیں آرہی ہے”۔ساحر نے کہا۔
“تو تم پسند کرلو کوئی ، آخر رہنا تو تمھیں ہی ہے ناں اسکے ساتھ”۔رفعت نے کہا۔ساحر کے ذہن میں یکدم وافیہ کا چہرہ ابھرا۔
“پسند تو کرتا ہوں”۔ساحر نے کہا۔
“کیا ! کس کو ! کون ہے ؟ ہم لوگ جانتے ہیں کیا اسے؟۔نوشین نے حیرانگی سے پوچھا۔
“جی ، آپ لوگ جانتے ہیں”۔ساحر نے کہا۔
“کون ہے بتاؤ بھی”۔رفعت نے پوچھا۔
“وافیہ”۔ساحر نے بتایا۔
“کون وافیہ؟۔نوشین نے لاعلمی سے پوچھا۔
“ارے وہی وافیہ جو یہاں لاریب بن کر رہ رہی تھی ، بھول گئیں آپ!۔ساحر نے وضاحت کی۔
“اوہ! اچھا اچھا وہ ، پر وہ تو پتہ نہیں کہاں ہے؟۔نوشین نے یاد آنے پر کہا۔
“ہممم! پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے ! پر مجھے امید ہے کہ بہت جلد وہ مجھے مل جائے گی”۔ساحر نے پریقین انداز میں کہا۔
“اور اگر نہیں ملی تو ! کیا ساری زندگی کنوارے ہی گھومو گے؟۔رفعت نے پوچھا۔
“نہیں ، ان شاءاللّه وہ مجھے ضرور ملے گی”۔ساحر نے مسکراکر پرامید لہجے میں کہا۔
***********
“ہاں تو پھر کیا طے ہوا ؟ کون جارہا ہے اسلام آباد؟۔احمد شاہ نے پوچھا۔سب لوگ اس وقت کھانے کی میز پر جمع تھے۔
“کیا ! اسلام آباد کون جارہا ہے ! اور کیوں؟۔شمع بیگم نے پوچھا۔
“دراصل آفس کے کچھ کام کے سلسلے میں ہم میں سے کسی ایک کو اسلام آباد جانا ہے ، پر کون جائے گا ! اسکا فیصلہ ابھی تک ہوا نہیں ہے”۔احمد شاہ نے بتایا۔
“بھئی پچھلی دفعہ میں گیا تھا”۔عامر صاحب نے کہا۔
“اور اس سے پچھلی دفعہ میں”۔طاہر صاحب نے کہا۔
“ابا کو ڈاکٹر نے لمبے سفر سے منع کیا ہے”۔طاہر نے کہا۔
“اور سعد سے ہمیں کچھ زیادہ اچھی امید نہیں ہے”۔عامر صاحب نے کہا۔
“تو آپ لوگ صاف صاف بولیں ناں کے اس بار قرعہ میرے نام کا نکلا ہے”۔ساحر نے کہا۔
“کب جانا ہے ! اور کتنے دنوں کیلئے؟۔نوشین نے پوچھا۔
“کل شام میں روانہ ہونا ، اور دو دن بعد واپسی”۔طاہر صاحب نے بتایا۔
“اور رکے گا کہاں یہ؟۔شمع بیگم نے پوچھا۔
“ہوٹل میں”۔احمد شاہ نے کہا۔
************
“السلام و علیکم ممی”۔ساحر نے کہا۔
“وعلیکم السلام بیٹا ، پہنچ گئے خریت سے؟۔نوشین نے پوچھا۔
“جی ممی ، ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی فلائٹ لینڈ ہوئی ہے ، اور ابھی میں ائیرپورٹ پر ہی ہوں ، سوچا پہلے آپکو فون کرکے اطلاع دے دوں”۔ساحر نے بتایا۔
“اچھا کیا بیٹا ، مجھے فکر ہورہی تھی ، چلو اب تم جاؤ ، ہوٹل میں آرام وغیرہ کرو ، پھر فون کرنا”۔نوشین نے کہا۔
“جی ممی ، اللّه حافظ”۔ساحر نے کہا۔
“اللّه حافظ”۔نوشین نے کہا۔
***********
ساحر جس کام کیلئے اسلام آباد آیا تھا۔وہ پورا ہوچکا تھا۔اب کل اسے واپس کراچی کیلئے روانہ ہونا تھا۔شام کا وقت ہورہا تھا۔موسم بھی کافی اچھا تھا۔تو ساحر وقت گزاری کیلئے مارکیٹ آگیا۔اور گھر والوں کیلئے کچھ چھوٹے موٹے گفٹس دیکھنے لگا۔پر اسے کچھ خاص سمجھ میں نہیں آیا۔ساحر ابھی اِدھر اُدھر گھوم ہی رہا تھا کہ اچانک روڈ پر رش لگ گیا۔ساحر کو بھی تشویش ہوئی۔تو وہ ہجوم کے قریب آیا۔لوگوں کے بیچ راستہ بناتے ہوئے ساحر آگے آیا تو دیکھا ایک بوڑھی عورت اپنا پاؤں پکڑ کر بیٹھی ہوئی ہے۔اور اسکے آس پاس سبزی وغیرہ بکھری ہوئی تھی۔سب لوگ بس اس عورت کو کرہاتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔کسی نے بھی آگے بڑھ کر عورت کی مدد نہیں کی۔ساحر کو ان سب پر بہت غصہ آیا۔ساحر جلدی سے آگے بڑھا۔پہلے تو ساحر نے عورت کا دوپٹہ ٹھیک کرکے سر پر اوڑھا۔پھر لوگوں سے متوجہ ہوا۔
“تم لوگوں کے اندر شرم غیرت ہے یا نہیں ؟ دکھائی دے رہا ہے کہ عورت کو مدد کی ضرورت ہے ، پر تم لوگ بجائے مدد کرنے کے ، تماشا دیکھنے کھڑے ہوگئے ہو ، مدد کرنی ہے تو کرو ، ورنہ دفعہ ہو سب یہاں سے”۔ساحر نے غصے سے کہا۔پہلے تو لوگ آپس میں کھسر پھسر کرتے رہے۔پھر آہستہ آہستہ رش چھٹ گیا۔بس ایک آدمی مدد کرنے آگے آیا۔آدمی نے آس پاس پڑی چیزیں جمع کرکے ایک نئے شاپر میں ڈال کر ساحر کو پکڑا دی۔ساحر نے عورت کو سہارے سے کھڑا کیا۔
“یہ سب کیسے ہوا آنٹی؟۔ساحر نے پوچھا۔
“ایک بائیک والا مارتے ہوئے چلا گیا بیٹا”۔عورت نے بتایا۔
“آپکا گھر کہاں ہے آنٹی”۔ساحر نے پوچھا۔
“یہاں نزدیک میں ہی ہے ، تم بس سہارا دے کر مجھے وہاں تک چھوڑ دو تو مہربانی ہوگی بیٹا”۔عورت نے بتاتے ہوئے کہا۔
“بالکل آنٹی ، آپ بے فکر رہیں ، میں آپکو آپکے گھر تک چھوڑ کر آؤں گا ، پر پہلے آپ میرے ساتھ ڈاکٹر کے پاس چلیں”۔ساحر نے کہا۔
“ارے نہیں بیٹا ، اسکی ضرورت نہیں ہے ، بس ہلکی سی موچ ہے ، ٹھیک ہوجائے گی”۔عورت نے جلدی سے کہا۔پر ساحر نے اسکی بات نہیں سنی۔اور ایک ٹیکسی روک لی۔اور ٹیکسی والے سے کہا کہ انہیں کسی کلینک پر لے چلے۔کیونکہ ساحر یہاں نیا تھا۔اس لئے یہاں کہ بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتا تھا۔
***********
“آئیں آنٹی آرام سے”۔ساحر نے ٹیکسی کا دروازہ کھول کر عورت کو سہارا دیتے ہوئے کہا۔عورت ساحر کے سہارے سے ٹیکسی سے باہر آگئی۔ساحر نے ٹیکسی والے کو پیسے دیے۔اور عورت کو سہارا دے کر اسکے گھر کے گیٹ تک لے آیا۔عورت نے اپنے پرس سے چابی نکالی اور دروازہ کھولنے لگی۔دروازہ کھول کر وہ ساحر کے سہارے اندر آگئیں۔ساحر نے انھیں لاؤنچ میں رکھے صوفے پر بیٹھا دیا۔
“کچن کہاں ہے آنٹی؟۔ساحر نے پوچھا۔
“اس طرف”۔عورت نے ایک جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ساحر اس جانب چلا گیا۔واپس آیا تو اسکے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا۔
“یہ لیں آنٹی ، یہ دوائی کھالیں ، ویسے تو انجیکشن لگا دیا ہے ڈاکٹر نے ، پر جو تھوڑا بہت درد ہوگا وہ اس سے کوور ہوجائے گا”۔ساحر نے اپنی جیکٹ کی جیب سے دوائی نکال کر پانی کا گلاس اور دوائی عورت کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔عورت نے دوائی لے کر منہ میں رکھی اور پانی پی لیا۔
“بہت بہت شکریہ بیٹا تمہارا ، تم نے اتنی مدد کی میری”۔عورت نے تشکر سے کہا۔
“شکریہ مت بولیں ، بس ہوسکے تو میرے لئے دعا کیجئے گا کہ جسے میں ڈھونڈ رہا ہوں وہ مجھے مل جائے”۔ساحر نے پنجوں کے بل عورت کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا۔
“اللّه کرے جو بھی تمہاری دلی مراد ہے ، جسے بھی تم ڈھونڈ رہے ہو وہ تمھیں مل جائے ، بلکہ خود چل کر تمہارے سامنے آجائے”۔عورت نے دعا دی۔
“امین”۔ساحر نے دل کی گہرائیوں سے کہا۔کہ تب ہی دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔
“لگتا ہے میری پوتی آگئی ہے”۔عورت نے کہا۔
“السلام و علیکم دا…..!۔لڑکی نے لاؤنچ میں آتے ہوئے سلام کیا۔پر ساحر کو اپنی دادی کے پاس بیٹھا دیکھ کر چونک کے خاموش ہوگئی۔ساحر بھی اسے دیکھ کر کھڑا ہوگیا۔
“بیٹی مارکیٹ میں ایک بائیک والا مجھے زخمی کرکے فرار ہوگیا تھا ، تو اس بےچارے نیک لڑکے نے میری بہت مدد کی ، ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا ، گھر لایا ، پھر ابھی دوائی بھی دی”۔عورت نے بتایا۔
“اور بیٹا یہ ہے میری پوتی ، وافیہ ، یہ آفس گئی ہوئی تھی ، ابھی آئی ہے”۔سکینہ بی بی نے ساحر کو بتایا۔اور دونوں تو پہلے ہی ایک دوسرے کو یوں اچانک سامنے دیکھ کر دنگ رہ گئے تھے۔
“وافیہ ! کیا ہوا ، ایسی ہکابکا کیوں کھڑی ہو؟۔سکینہ بی بی نے کہا۔
“کچھ نہیں دادی ، آپ نے میری دادی کی اتنی مدد کی ، اسکے لئے شکریہ ، اب آپ جاسکتے ہیں”۔وافیہ نے سکینہ بی بی سے کہتے ہوئے ساحر سے کہا۔
“ارے یہ کیا بات ہوئی ، ایسے بات کرتے ہیں مہمان سے وافیہ!۔سکینہ بی بی نے ٹوکا۔
“یہ مہمان نہیں اجنبی ہے ، اور مجھے اجنبیوں کا اس طرح میرے گھر آنا پسند نہیں ہے”۔وافیہ نے کہا۔
“آپ موقع تو دے کر دیکھیں اس اجنبی کو آشنا بننے کا”۔ساحر نے کہا۔
“میرا مطلب ، پہلے تو سب ہی اجنبی ہوتے ہیں ، پر جان پہچان بنانے سے ہی بنتی ہے ناں”۔ساحر نے سکینہ بی بی کی موجودگی کی وجہ سے جلدی سے وضاحت کی۔
“ہاں یہ میرے لئے بھی اجنبی ہے ، پر دیکھو کتنی اپنائیت سے مدد کی ہے اس نے میری ، ویسے بیٹا میں تو تمہارا نام بھی نہیں جانتی ، کیا نام ہے تمہارا؟۔سکینہ بی بی نے وافیہ سے کہتے ہوئے ساحر سے پوچھا۔
“ساحر ، ساحر شاہ نام ہے میرا”۔ساحر نے بتایا۔
“اچھا ، بہت اچھا نام ہے”۔سکینہ بی بی نے کہا۔
“بیٹھو ناں بیٹا یہاں آرام سے صوفے پر ، کھڑے کیوں ہوگئے ، اور وافیہ ، جاؤ تم بھی منہ ہاتھ دھو لو ، پھر ساحر کیلئے چائے بناکر لے آؤ”۔سکینہ بی بی نے ساحر کو کہتے ہوئے وافیہ سے کہا۔ساحر بھی فرمابرداروں کی طرح سرہلا کر سکینہ بی بی کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا۔اور وافیہ ساحر کو گھور کر اندر چلی گئی۔
“بیٹا میری پوتی کی بات کا برا مت ماننا ، یہ دل کی بری نہیں ہے ، دراصل بہت چھوٹی تھی جب اسکے والدین کا انتقال ہوگیا ، میں نے اکیلے ہی محنت کرکے اسکو پڑھایا لکھایا ، پھر ماشاءاللّه اسکو اچھی جاب بھی مل گئی تھی ، پر پھر میری طبیعت بہت خراب رہنے لگی تھی میں بہت ٹائم ہوسپٹل میں رہی ، پہلے ہم کراچی میں رہتے تھے ، پر پھر وافیہ نے کہا کہ ڈاکٹر نے کہا ہے مجھے آب و ہوا بدلنے کی ضرورت ہے ، اس لئے یہ مجھے لے کر یہاں آگئی ، بےچاری میری وجہ سے بہت فکرمند رہتی ہے ، اور میں اکیلی نہ پڑجاؤں ، اس لئے شادی بھی نہیں کرتی ، پر میری خواہش ہے کہ میں اپنی آنکھوں سے اس اپنے گھر میں ہنستا بستا آباد دیکھوں ، پر پتہ نہیں کب پوری ہوگی میری یہ خواہش”۔سکینہ بی بی نے تفصیل بتائی۔
“آپ فکر نہ کریں آنٹی ، اور اللّه پاک سے اچھی امید رکھیں ، دیکھئے گا ایک دن ان شاءاللّه آپ اپنی پوتی کو ضرور اپنے گھر میں ہنستا بستا آباد دیکھیں گی”۔ساحر نے کہا۔
“امین ، اللّه پاک تمہاری زبان مبارک کرے”۔سکینہ بی بی نے کہا۔اتنے میں وافیہ چائے کا کپ لے کر لاؤنچ میں آگئی۔
“بڑی جلدی بن گئی چائے ، اور تم نے کپڑے وغیرہ بدلے نہیں ، سیدھی کچن میں ہی چلی گئی تھی کیا؟۔سکینہ بی بی نے وافیہ سے پوچھا۔
“جی ، سیدھی کچن میں چلی گئی تھی”۔وافیہ نے کپ میز پر رکھتے ہوئے بتایا۔
“لو بیٹا ، چائے لو”۔سکینہ بی بی نے ساحر سے کہا۔ساحر نے کپ اٹھالیا۔
“آپ لوگ نہیں پی رہے چائے؟۔ساحر نے پوچھا۔
“نہیں بیٹا ، مجھے تو ڈاکٹر نے چائے کم پینے کا کہا ہے ، اور وافیہ چائے پیتی نہیں ہے”۔سکینہ بی بی نے بتایا۔ساحر نے چائے کا ایک گھونٹ لیا۔اور چائے زبان پر لگتے ہی اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ وافیہ نے چائے بہت “پیار” سے بنائی ہے۔پر پھر بھی ساحر نے خاموشی سے چائے حلق میں اتار لی۔
“تم بتاؤ بیٹا ، تمہارے گھر میں کون کون ہے؟۔سکینہ بی بی نے پوچھا۔
“آنٹی میری فیملی میں بس میرے بڑھے والدین اور ایک چھوٹی بہن ہے ، والدین تو بوڑھاپے کی وجہ سے بیمار رہتے ہیں ، اور جہیز نہ ہونے کی وجہ سے بہن کی شادی بھی نہیں ہورہی ہے ، میں ہی اپنے گھر کا واحد کفیل ہوں ، اور یہاں اسلام آباد بھی میں نوکری کیلئے ہی آیا ہوا ہوں ، ویسے میں حیدر آباد کا رہنے والا ہوں ، یہاں اسلام آباد آئے ہوئے مجھے ایک ہفتہ ہوگیا ہے ، پر ابھی تک کوئی نوکری نہیں ملی”۔ساحر نے سارے جہاں کی مسکینیت اپنے چہرے پر سجا کر جھوٹ بولا۔اور وافیہ ہکابکا سی ساحر کو دیکھنے لگی۔
“اوہ! اللّه پاک مشکل آسان کرے تمہاری ، تو پھر ابھی تم کہاں رہ رہے ہو بیٹا؟۔سکینہ بی بی نے پوچھا۔
“یہاں ایک لوکل ہوٹل ہے ، اسی میں رکا ہوا ہوں ، بس آپ دعا کریں کہ میری جمع پونجی ختم ہونے سے قبل مجھے کوئی نوکری مل جائے”۔ساحر نے کہا۔
“ضرور ضرور بیٹا ، میں تمہارے لئے لازمی دعا کروں گی ، تو تم نوکری کے بارے میں کہہ رہے تھے اس وقت ! کہ میں تمہارے لئے دعا کروں کہ جو تم ڈھونڈ رہے ہو وہ تمھیں مل جائے؟۔سکینہ بی بی نے پوچھا۔ساحر نے مسکراکر اثبات میں سرہلادیا۔اب سکینہ بی بی کو کیا بتاتا وہ؟۔
“اللّه پاک کرم کرے گا ، مل جائے گی تمھیں نوکری ، پر جب تک یہاں ہو تو چکر لگاتے رہنا بیٹا”۔سکینہ بی بی نے کہا۔
“جی آنٹی ضرور”۔ساحر نے چائے ختم کرکے کپ میز پر رکھتے ہوئے کہا۔
“اچھا آنٹی ، اب چلتا ہوں میں ، دعاؤں میں یاد رکھیے گا”۔ساحر نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
“ہاں ہاں بیٹا ضرور ، وافیہ جاؤ ، اسے دروازے تک چھوڑ کر آؤ”۔سکینہ بی بی نے کہا۔اور نہ چاہتے ہوئے بھی وافیہ کھڑی ہوگئی۔اور ساحر کے ساتھ باہر گیٹ کی جانب آگئی۔
“یہ کیا بکواس کی ہے تم نے اندر ؟ تم اتنے بڑے بزنس مین کے بیٹے کب سے اپنے گھر کے واحد کفیل ہوگئے ، اور کیا کہا کہ جہیز نہ ہونے کی وجہ سے تمہاری بہن کی شادی نہیں ہورہی ہے”۔وافیہ نے تیکھے انداز میں پوچھا۔
“تو تم بتا دیتی سچ ، تم تو سب جانتی ہو نہ میرے بارے میں ، تم نے کچھ کیوں نہیں کہا؟۔ساحر نے وافیہ کے قریب آتے ہوئے پوچھا۔وافیہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“کیونکہ اگر تم ایسا کرتی تو تمہاری دادی کو اس ڈیل کے بارے میں سب پتہ چل جاتا تو تم نے پاپا سے کی تھی ، اور تم نہیں چاہتی کہ تمہاری دادی کو پتہ چلے کہ تم نے پیسوں کیلئے کسی کو دھوکا دیا ہے”۔ساحر نے کہا۔
“میں نے کسی کو دھوکا نہیں دیا ہے ، تمہارے پاپا نے مجھے ایسا کرنے کیلئے کہا تھا ، میں نے اپنی خوشی سے ایسا نہیں کیا تھا”۔وافیہ نے کہا۔
“اچھا ! تو پھر بتا دو اپنی دادی کو میرے بارے میں سب سچ”۔ساحر نے کہا۔
“نہیں ، جو بات دبی ہوئی ہے اسے دبا ہوا ہی رہنے دو ، میں نہیں چاہتی کہ دادی خود کو میرے لئے بوجھ سمجھیں ، اور انھیں یہ جان کر دکھ ہو کہ انکے لئے مجھے کیا کیا کرنا پڑا”۔وافیہ نے کہا۔
“ٹھیک ہے ، میں انھیں اس بارے میں کچھ نہیں بتاؤں گا ، پر تم اچانک وہاں سے چلی کیوں گئی تھی ، وہ بھی بنا کسی کو کچھ بتائے؟۔ساحر نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“کیونکہ میرا کام وہیں تک تھا ، اور تمہارے پاپا سے میری یہی ڈیل ہوئی تھی کہ جیسے ہی تمہاری طبیعت ٹھیک ہوگی میں چلی جاؤں گی”۔وافیہ نے بتایا۔
“تمھیں پتہ ہے کتنا ڈھونڈا میں نے تمھیں ، ہوسپٹل گیا ، تمہارے گھر گیا ، اسکے علاوہ بھی کوششیں جاری رکھی ، پر تم کہیں نہیں ملی”۔ساحر نے بتایا۔
“کیوں ڈھونڈ رہے تھے آپ مجھے؟۔وافیہ نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔
“کیونکہ مجھے تمھیں بتانا تھا کہ میں تم …….!۔
“وافیہ کہاں رہ گئی بیٹا ، مجھے کمرے میں تو لے چلو”۔سکینہ بی بی نے اندر سے آواز لگائی۔اور ساحر کی بات بیچ میں ہی رہ گئی۔
“آئی دادی”۔وافیہ نے آواز لگائی۔
“تم نے میری دادی کی مدد کی ، اسکے لئے تمہارا بہت شکریہ ، اب تم یہاں سے جاؤ ، اور دوبارہ مت آنا”۔وافیہ نے دونوں ہاتھ ساحر کے سینے پر رکھ کر اسکو باہر دھکیلتے ہوئے کہا۔
“اچھا ! تو اب دھکے مار کر گھر سے باہر نکالو گی”۔ساحر نے گیٹ پر رک کر کہا۔
“دیکھو ساحر ، یہ ایک مڈل کلاس محلہ ہے ، اور یہاں مڈل کلاس لوگ ہی رہتے ہیں ، تمہاری طرح ہائی کلاس کے لوگ نہیں ہیں یہ کہ ایک لڑکے اور لڑکی کا یوں بات کرنا کوئی عام سی بات ہو ، اگر ابھی کسی نے ایسے تمھیں یہاں دیکھ لیا تو بلاوجہ ہنگامہ کھڑا ہوجائے گا ، اور میرے پاس عزت کے سوا اور کچھ نہیں ہے ، اور اگر تم چاہتے ہو کہ وہ برقرار رہے ، تو پلیز یہاں سے چلے جاؤ”۔وافیہ نے منت کی۔
“ٹھیک ہے ، میں چلا جاتا ہوں ، پر میں واپس آؤں گا”۔ساحر نے کہا۔اور بنا وافیہ کا جواب سنے چلا گیا۔وافیہ وہیں کھڑی اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔
“وافیہ !۔پھر سکینہ بی بی نے پکارا۔وافیہ چونک کر ہوش میں آئی۔اور جلدی سے دروازہ بند کرکے اندر آگئی۔
“کہاں رہ گئی تھی ؟ میں کب سے بلارہی تھی ناں ! چلا گیا ساحر؟۔سکینہ بی بی نے پوچھا۔
“جی ، چلا گیا ، وہ دروازے پر برابر والی مہرو مل گئی تھی تو اس سے باتوں میں لگ گئی تھی میں”۔وافیہ نے جھوٹ بولا۔اور سہارا دے کر سکینہ بی بی کو صوفے سے اٹھا کر کمرے میں لے گئی۔
