Sagar Kinaray by Faryal Khan NovelR50709 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 10
Rate this Novel
Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 01 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 02 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 03 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 04,05 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 06 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 07 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 08 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 09 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 10 (Watching)Sagar Kinaray by Faryal Khan Last Episode
Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 10
“بڑا دشوار ہوتا ہے”
“ذرا سا فیصلہ کرنا”
“کہ جیون کی کہانی کو”
“کہاں سے یاد رکھنا ہے”
“کہاں سے بھول جانا ہے”
“اسے کتنا بتانا ہے”
“اسے کتنا چھپانا ہے”
کہاں رو رو کے ہنسنا ہے”
“کہاں ہنس ہنس کے رونا ہے”
“کہاں آواز دینا ہے”
“کہاں خاموش رہنا ہے”
“کہاں راستہ بدلنا ہے”
“کہاں سے لوٹ آنا ہے”
“بڑا دشوار ہوتا ہے”
“ذرا سا فیصلہ کرنا”
رات کے دو بج رہے تھے۔سکینہ بی بی سو چکی تھیں۔پر وافیہ کو نیند نہیں آرہی تھی۔اس نے ایک نظر اپنے برابر میں سوئی سکینہ بی بی پر ڈالی۔انکا کمبل ٹھیک کیا۔اور خود اٹھ کر کھڑکی کے پاس آگئی۔اور آہستہ سے کھڑکی کھول دی۔آسمان پر چاند تھا تو۔پر اسے بادلوں نے گھیرا ہوا تھا۔ان دو سالوں میں وافیہ نے کتنی محنت کی تھی اسے بھلانے کیلئے۔یہ وہی جانتی تھی۔پر اب وہ اچانک سے پھر اسکے سامنے آکر کھڑا ہوگیا تھا۔وافیہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے ؟ ساحر اس سے اب کیا چاہتا ہے ؟ وافیہ نے وہ شہر بھی اس لئے چھوڑا تھا۔کیونکہ اسے پتہ تھا کہ ساحر اسکی دسترس سے بہت دور ہے۔اگر وہ وہاں رہی تو ساحر سے اسکا بار بار سامنا ہوگا۔اور وہ خود پر قابو نہیں رکھ پائے گی۔ یہ تو طے تھا کہ ان دو سالوں میں خود وافیہ بھی اسے ایک لمحے کیلئے بھی نہیں بھولی تھی۔اور خود سے ہی چپکے چپکے کتنی دفعہ دل میں دعا مانگی تھی کہ کاش ایک بار کہیں اسے ساحر دوبارہ مل جائے۔اور اب جب اسکی دعا قبول ہوگئی تھی۔تو وہ خود اس سے دور بھاگ رہی تھی۔وافیہ کی کفیت خود اسکی اپنی سمجھ سے بھی باہر تھی۔
“وافیہ ! اتنی رات کو کھڑکی پر کیا کررہی ہو؟۔سکینہ بی بی کی نیند میں ڈوبی آواز آئی۔وافیہ یکدم خیالوں سے چونکی۔اور جلدی سے کھڑکی بند کردی۔
“کچھ نہیں دادی ، ایسے ہی نیند نہیں آرہی تھی”۔وافیہ نے واپس بیڈ کی جانب آتے ہوئے کہا۔
“لیٹ جاؤ ، آجائے گی نیند”۔سکینہ بی بی نے کہا۔اور وافیہ دوبارہ بستر پر لیٹ کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔
***********
“آج کھانے میں کیا پکاؤں دادی؟۔وافیہ نے لاؤنچ میں رکھے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔سکینہ بی بی کی حالت کے پیش نظر وافیہ نے آج آفس سے چھوٹی کرلی تھی۔
“کچھ بھی پکالو ، نہ میں اتنا کچھ شوق سے کھاتی ہوں ، اور نہ تم ، بس پیٹ بھرنا ہوتا ہے ہمیں تو”۔سکینہ بی بی نے کہا۔
“ٹینگ ٹونگ”۔ڈور بیل بجی۔
“میں دیکھتی ہوں کہ کون آیا ہے”۔وافیہ نے کہا۔اور اٹھ کر باہر کی جانب آئی۔اور دروازہ کھولا۔
“تم پھر آگئے؟۔وافیہ نے ساحر کو بمع سازو سامان سامنے پاکر حیرانگی سے کہا۔
“جی ، میں پھر آگیا”۔ساحر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“کون آیا ہے وافیہ؟۔سکینہ بی بی نے آواز لگا کر پوچھا۔
“میں آیا ہوں آنٹی ، ساحر”۔ساحر نے وافیہ کو دھکیلتے ہوئے اندر آکر کہا۔اور سیدھا لاؤنچ میں سکینہ بی بی کے پاس آگیا۔وافیہ بھی جلدی سے دروازہ بند کرکے اسکے پیچھے آئی۔
“السلام و علیکم آنٹی”۔ساحر نے سکینہ بی بی کے آگے جھک کر سلام کیا۔
“وعلیکم السلام ، خوش رہو”۔سکینہ بی بی نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
“بیٹھو بیٹا ، ویسے تم اچانک ، سب خریت تو ہے؟۔سکینہ بی بی نے صوفے کی جانب اشارہ کرکے پوچھا۔
“نہیں آنٹی ، خریت نہیں ہے ، جس ہوٹل میں ، میں رہ رہا تھا ، وہاں کہ منیجر نے مجھے ہوٹل سے نکال دیا ہے”۔ساحر نے افسردگی سے بتایا۔
“ہیں ! پر کیوں؟۔سکینہ بی بی نے حیرانگی سے پوچھا۔
“کیونکہ….کیونکہ میرے پاس ہوٹل کا بل ادا کرنے کیلئے پیسے نہیں تھے”۔ساحر نے سرجھکا کر آہستہ سے کہا۔
اوہ! تو پھر بیٹا اب تم کیا کرو گے؟۔سکینہ بی بی نے تاسف سے پوچھا۔
“کچھ نہیں آنٹی ، جاب کی تلاش تو ابھی بھی جاری ہے ، بس اب رہنے کیلئے اس انجان شہر میں کوئی ٹھکانہ نہیں ہے ، اگر ہوسکے تو کیا آپ مجھ پر صرف اتنا احسان کرسکتی ہیں کیا کہ مجھے جب تک کوئی دوسرا ٹھکانہ نہیں مل جاتا آپ مجھے یہاں رہنے کی اجازت دے دیں”۔ساحر نے اپنے اوپر مسکینیت طاری کرتے ہوئے کہا۔
“ہاں ہاں بیٹا ، تم جب تک چاہو یہاں رہ سکتے ہو”۔سکینہ بی بی نے کہا۔
“یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں دادی ، جب لوگ اس طرح ایک اجنبی لڑکے کو ہمارے گھر میں دیکھیں گے تو کیا کہیں گے؟۔وافیہ نے جلدی سے کہا۔
“ہاں یہ بات بھی ہے”۔سکینہ بی بی نے پرسوچ انداز میں کہا۔
“آنٹی آپ بول دیجئے گا ناں کہ میں آپکا رشتے دار ہوں ، بلکہ یہ کہہ دیجئے گا کہ میں آپکا بھانجا ہوں ، اور کراچی سے یہاں آفس کے کام کے سلسلے میں آیا ہوا ہوں”۔ساحر نے تجویز پیش کی۔
“نہیں ، یہاں سب جانتے ہیں کہ ہمارا اس طرح کا کوئی رشتے دار نہیں ہے”۔وافیہ نے کہا۔
“محلے والوں کو بڑی معلومات دی ہوئی ہے اپنے بارے میں”۔ساحر نے طنز مارا۔
“اچھا تو پھر مجھے بطور کرائے دار رکھ لیں آپ لوگ ، یہ تو ٹھیک ہے ناں!۔ساحر نے دوسری تجویز پیش کی۔
“ہم خود یہاں کرائے دار ہیں ، اور تمھیں کرائے دار رکھ کر ہم قبضے کے کیس میں جیل نہیں جانا چاہتے ، اس لئے اپنا بوریا بستر اٹھاؤ ، اور چلتے بنو یہاں سے”۔وافیہ نے سختی سے کہا۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے وافیہ ! تم اتنی بدتمیز تو نہیں تھی ، ایسے بات کرتے ہیں گھر آئے مہمان سے!۔سکینہ بی بی نے ٹوکا۔
“تو دادی آپ مہمان کی حرکتیں بھی تو دیکھیں ، ایسے بنا بتائے ، بنا بلائے کوئی کسی کے گھر میں آتا ہے کیا؟۔وافیہ نے کہا۔
“لوگ تو بنا بتائے ، بنا بلائے دل تک میں آجاتے ہیں ، میں تو پھر بھی صرف گھر میں آیا ہوں”۔ساحر نے وافیہ کی جانب دیکھ کر کہا۔وافیہ نے گھبرا کر نظریں پھیرلی۔
“خیر ، غلطی میری ہی ہے ، مجھے لگا تھا کہ شاید یہاں مجھے کوئی مدد مل جائے گی ، پر خیر ہے ، آپ لوگ بھی اپنی جگہ ٹھیک ہیں ، اچھا میں چلتا ہوں آنٹی ، پریشان کرنے کیلئے معذرت”۔ساحر نے مظلومیت کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے کہا۔اور جانے کیلئے کھڑا ہوگیا۔
“رکو بیٹا ، بیٹھو”۔سکینہ بی بی نے کہا۔اور ساحر بنا ایک لمحہ ضائع کیے دوبارہ بیٹھ گیا۔
“تمھیں جب تک کوئی دوسرا ٹھکانہ نہیں ملتا ، تم یہاں رہ سکتے ہو ، کوئی پوچھے گا تو میں کہہ دوں گی کہ میرا بھانجا آفس کے کام کی وجہ سے یہاں آیا ہوا ہے”۔سکینہ بی بی نے کہا۔
“سچی آنٹی ، بہت بہت شکریہ”۔ساحر نے خوش ہوکر کہا۔
“پر دادی…..!۔”بس ، میں نے کہا ناں ، اب جاؤ جاکر ساحر کیلئے کونے والا کمرہ صاف کرو”۔سکینہ بی بی نے وافیہ کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔وافیہ نے ایک نظر ساحر کو دیکھا۔اور پیر پٹختی ہوئی اندر چلی گئی۔
***********
“السلام و علیکم پاپا”۔ساحر نے سلام کیا۔ساحر بیڈ پر پیر لٹکا کر لیٹا ہوا فون پر طاہر صاحب سے بات کررہا تھا۔
“وعلیکم السلام ، اور کب کی فلائٹ ہے تمہاری؟۔طاہر صاحب نے جواب دیتے ہوئے پوچھا۔
“پاپا میں آج نہیں آرہا ہوں”۔ساحر نے بتایا۔
“کیوں ! پر تم تو آج آنے والے تھے ناں ! اور جس کام کے سلسلے میں تم گئے تھے وہ بھی مکمل ہوگیا ہے ، تو پھر کیوں نہیں آرہے؟۔طاہر صاحب نے حیرانگی سے پوچھا۔
“دراصل پاپا میں بہت ٹائم سے اپنے ایک دوست کو ڈھونڈ رہا تھا ، اور اتفاق سے وہ مجھے یہاں مل گیا ہے ، تو اب میں کچھ دنوں میں اسکو ساتھ لے کر ہی گھر آؤں گا”۔ساحر نے بتایا۔
“اچھا ! پر تمہارا ایسا کونسا دوست آگیا اچانک”۔طاہر صاحب نے کہا۔
“ایک ہے پاپا ، جب ساتھ لاؤں گا تو آپ پہچان لیں گے ، اچھا ممی کہاں ہیں؟۔ساحر نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“تمہاری ممی ، رفعت ، اماں ، دعا اور ثناء ، سب لاریب کے گھر گئے ہوئے ہیں”۔طاہر صاحب نے بتایا۔
“اچھا ، آئیں تو مجھے فون کرلیجئے گا ، باقی کچھ دنوں تک آتا ہوں میں واپس”۔ساحر نے کہا۔
“ٹھیک ہے ، اپنا خیال رکھنا ، اللّه حافظ”۔طاہر صاحب نے کہا۔
“جی پاپا ، اللّه حافظ”۔ساحر نے بھی کہا۔اور لائن کاٹ دی۔کچھ دیر ساحر ایسے ہی لیٹا رہا۔پھر باہر جانے کے ارادے سے اٹھ گیا۔کیونکہ سکینہ بی بی کو تو یہی کہا تھا ناں کہ وہ جاب کی تلاش میں ہے۔اب اگر وہ ایسے ہی گھر میں لیٹا رہتا تو انھیں شک ہوجاتا۔اس لئے وہ گھر سے باہر چلا گیا۔اور وقت گزاری کیلئے اِدھر اُدھر گھومتا رہا۔
**********
ساحر جب گھر سے نکلا تھا تو اس وقت ظہر کی اذان ہوئی تھی۔اور اب عصر ہوچکی تھی۔بلاوجہ سڑکوں کی خاک چھان کر اب ساحر گھر آگیا تھا۔
“السلام و علیکم آنٹی”۔ساحر نے لاؤنچ میں بیٹھی سکینہ بی بی کو سلام کیا۔سکینہ بی بی زیادہ تر لاؤنچ میں ہی رہتی تھیں۔
“وعلیکم السلام ، کہاں تھے دوپہر سے؟۔سکینہ بی بی نے پوچھا۔
“وہی آنٹی ، نوکری کی تلاش”۔ساحر نے انکے سامنے والے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بتایا۔
“اچھا ! تو ہوئی پھر کچھ کامیابی؟۔سکینہ بی بی نے پوچھا۔
“نہیں آنٹی ، وہی خواری ہوئی”۔ساحر نے کہا۔
“ہممم! یہ تو ہے ، اتنا آسان نہیں ہوتا یہ سب”۔سکینہ بی بی نے کہا۔وافیہ کہیں نظر نہیں آرہی تھی۔ساحر نے سوچا کہ سکینہ بی بی سے پوچھ لے۔پر پھر خاموش ہی رہا۔
“آپکے پیر کا درد ٹھیک ہے اب؟۔ساحر نے پوچھا۔
“ہاں ہاں ، اب تو الحمدللہ بہت بہتر ہے”۔سکینہ بی بی نے کہا۔کہ تب ہی ساحر کا فون بجا۔نوشین کا فون تھا۔
“میں ابھی آیا آنٹی”۔ساحر کہتا ہوا صوفے سے کھڑا ہوگیا۔اور اپنے کمرے کی جانب چلا گیا۔
“السلام و علیکم ممی”۔ساحر نے کمرے میں آکر فون ریسو کیا۔
“ممی کے بچے ، تم آج واپس آنے والے تھے ناں ! تو یہ میں کیا سن رہی ہوں کہ تم آج رہے آرہے ہو؟۔نوشین نے بنا جواب دیے پوچھا۔
************
“کھانا تو بہت اچھا بنایا ہے آنٹی آپ نے؟۔ساحر نے کہا۔تینوں اس وقت ڈائنینگ ٹیبل پر موجود ڈنر کررہے تھے۔
“بیٹا کھانا میں نے نہیں ، وافیہ نے بنایا ہے ، مجھ سے اس عمر میں کہاں یہ سب ہوگا”۔سکینہ بی بی نے کہا۔
“اوہ ! اچھا ، بہت اچھا بنا ہے کھانا ، وافیہ جی”۔ساحر نے کہا۔وافیہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ساحر کو پتہ تھا کہ کھانا وافیہ نے ہی بنایا ہے۔پر بات کرنے کیلئے اسے کوئی موضوع بھی تو چاہئے تھا ناں۔
“میری وافیہ ہمیشہ ہی کھانا بہت اچھا بناتی ہے”۔سکینہ بی بی نے کہا۔
“ارے کیا ہوا؟۔سکینہ بی بی نے وافیہ کو کرسی سے اٹھتے ہوئے دیکھ کر پوچھا۔
“بس ، کھاچکی میں کھانا”۔وافیہ نے کہا۔اور ایکسٹرا برتن سمٹ کر کچن میں چلی گئی۔پھر تھوڑی دیر میں ساحر اور سکینہ بی بی بھی کھانا کھا کر اٹھ گئے۔
***********
رات کے ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔سکینہ بی بی دوائی کھا کر بےخبر سو رہی تھیں۔اور وافیہ کی آنکھوں سے اب بھی نیند کوسوں دور تھی۔وافیہ نے سکینہ بی بی پر کمبل ٹھیک کیا۔اور خاموشی سے دوپٹہ اوڑھتے ہوئے کمرے سے باہر نکل آئی۔اور صحن کی جانب کھلنے والے دروازے کے پاس آکر دروازے کی چوکھٹ پر بیٹھ گئی۔آج چودہویں کی رات تھی۔چاند پوری شان سے آسمان پر چمک رہا تھا۔اور اسکی چاندنی میں پورا صحن نہایا ہوا تھا۔وافیہ کو بےاختیار ایک ایسی ہی چودہویں کی رات یاد آگئی۔جب دو سائے ساگر کنارے موجود تھے۔ان دو سالوں میں کوئی چودہویں کی رات ایسی نہیں تھی کہ جب وافیہ کو وہ ساگر کنارے والی رات یاد نہ آئی ہو۔
“بس سمندر کی کمی ہے ، باقی سب تو ویسا ہی ہے”۔ساحر نے کہا۔وافیہ نے چونک کر ساحر کی جانب دیکھا۔ساحر وافیہ کے برابر میں ہی چوکھٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔
“تم کب آئے؟۔وافیہ نے پوچھا۔
“اٹھائس سال پہلے”۔ساحر نے کہا۔
“دنیا میں نہیں ، یہاں کب آئے؟۔وافیہ نے وضاحت کی۔
“جب آپ کسی کے خیالوں میں گم تھیں”۔ساحر نے کہا۔
“کیوں آئے ہو؟۔وافیہ نے صحن میں رکھے پودوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“تمھیں اپنے ساتھ لے جانے کیلئے”۔ساحر نے کہا۔
“کس حیثیت سے؟۔وافیہ نے پوچھا۔
“اپنی بیوی کی حیثیت سے”۔ساحر نے کہا۔
“اور آپ مجھے اپنی بیوی کیوں بنانا چاہتے ہیں؟۔وافیہ نے پوچھا۔
“کیونکہ میں تم سے پیار کرتا ہوں”۔ساحر نے کہا۔
“پر میں نہیں کرتی”۔وافیہ نے ہنوز پودوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“تم مجھ سے پیار نہیں کرتی؟۔ساحر نے پوچھا۔
“نہیں”۔وافیہ نے کہا۔
“ان دو سالوں میں کبھی تمھیں میری یاد آئی”۔ساحر نے پوچھا۔
“نہیں”۔وافیہ نے کہا۔
“تو پھر اب تک میری دی ہوئی انگوٹھی کو اپنے پاس کیوں رکھا ہوا ہے؟۔ساحر نے پوچھا۔وافیہ نے بےاختیار اپنے بائیں ہاتھ کی جانب دیکھا۔جس کی تیسری انگلی میں ایک ڈائمنڈ رنگ چمک رہی تھی۔
“تم چاہتی تو اسے اتار کر پھینک سکتی تھی ، اور کچھ نہیں تو اسے بیچ دیتی ، کافی اچھی قیمت میں جاتی ، تو پھر ابھی تک اسے اپنے پاس کیوں رکھا ہوا ہے؟۔ساحر نے کہتے ہوئے پوچھا۔
“میری چھوڑو ، تم اپنی بتاؤ ، تم تو کہتے ہو تم مجھ سے پیار کرتے ہو ، تو جب تم نے مجھے یہ انگوٹھی دے تھی ، تب میں تمہاری نظروں میں لاریب تھی ، تم نے یہ انگوٹھی وافیہ کو نہیں لاریب کو پہنائی تھی ، تم وافیہ سے نہیں ، لاریب سے پیار کرتے ہو”۔وافیہ نے کہا۔”
“نہیں ، میں پہلے دن سے ہی جانتا تھا کہ تم لاریب نہیں ہو ، اس لئے میں نے یہ انگوٹھی اس رات لاریب کو نہیں ، وافیہ کو پہنائی تھی ، میں لاریب سے نہیں ، وافیہ سے پیار کرتا ہوں”۔ساحر نے کہا۔
“مجھے کچھ نہیں پتہ ، بس تم یہاں سے جاؤ”۔وافیہ نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
“کیوں ! آخر تمہارے ساتھ مسلہ کیا ہے ؟ میں جتنا تمہارے پاس آنے کی کوشش کرتا ہوں، تم اتنا ہی مجھ سے دور کیوں بھاگتی ہو ، آخر ایسی کیا برائی ہے مجھ میں ؟ ایسی کونسی غلطی کردی میں نے ؟۔ساحر نے بھی کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا۔
“تم میں کوئی برائی نہیں ہے ، تم بہت اچھے ہو ، اتنے اچھے ہو کہ تم مجھ سے کئی گنا زیادہ اچھی لڑکی کے مستحق ہو ، اس لئے میرے پیچھے اپنا وقت برباد مت کرو ، اور جاؤ یہاں سے”۔وافیہ نے کہا۔
“نہیں چاہئے مجھے کوئی اچھی لڑکی ، مجھے یہی بری لڑکی چاہئے”۔ساحر نے وافیہ کو بازؤں سے پکڑتے ہوئے کہا۔
“نہیں ساحر ، سمجھنے کی کوشش کرو ، میرا اور تمہارا کوئی جوڑ نہیں ہے ، تمہارے اور میرے اسٹیٹس میں زمین آسان کا فرق ہے ، اگر میں تمہاری بات مان کر تمہارے ساتھ چلتی ہوں تو لوگ کیا کہیں گے ؟ تمہارے گھر والے کیا سوچیں گے ؟ کہ میں نے تمھیں تمہاری دولت کی وجہ سے پھانسا ہے”۔وافیہ نے ساحر کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا۔
“تم صرف اس وجہ سے انکار کررہی ہو کے ہمارے اسٹیٹس میں فرق ہے ، لوگ کیا کہیں گے؟۔ساحر نے پوچھا۔وافیہ نے ہلکے سے اثبات میں سرہلایا۔
“اوہ میرے خدایا !۔ساحر نے سر پکڑ کر واپس چوکھٹ پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“اب تمھیں کیا ہوا؟۔وافیہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“تم پاگل واگل تو نہیں ہو ؟ یہ بھی بھلا کوئی وجہ ہے انکار کی ؟ اور میں کب سے یہ سوچ سوچ کر پاگل ہورہا تھا کہ تم مجھ سے دور کیوں بھاگ رہی ہو ؟ میں نہیں مانتا اس بیکار سی وجہ کو”۔ساحر نے کہا۔
“تمہارے ماننے یا نہ ماننے سے کچھ نہیں ہوگا ، یہ سچ ہے ، اگر میں تم سے شادی کر بھی لیتی ہوں تو لوگ ہمارا جینا مشکل کردیں گے ، تمہارے گھر والے کبھی بھی مجھے وہ مقام نہیں دے سکیں گے جس کی ایک بہو مستحق ہوتی ہے”۔وافیہ نے بھی دوبارہ چوکھٹ پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“تم سے کس نے کی ہے یہ بکواس؟۔ساحر نے پوچھا۔
“کسی نے نہیں ، میں نے خود دیکھا ہے”۔وافیہ نے کہا۔
“کہاں دیکھا ہے؟۔ساحر نے پوچھا۔
“فلموں اور ڈراموں میں”۔وافیہ نے بتایا۔اور ساحر کا دل چاہ رہا تھا کہ اپنے بال نوچ لے۔
“وافیہ ! وافیہ ! پلیز تم کیوں خود پر اور مجھ پر اتنا ظلم کررہی ہو؟۔ساحر نے کہا۔
“میں کسی پر کوئی ظلم نہیں کررہی ، یہ حقیقت ہے ، اور میرا آخری فیصلہ بھی ، میں شادی اپنی حیثیت کے ہی کسی انسان سے کروں گی ، اور تم ابھی ایسا کہہ رہے ہو ، دیکھنا آہستہ آہستہ تم بھی وقت کے ساتھ سب کچھ بھول جاؤ گے ، اور اپنے ہی اسٹیٹس کی کسی لڑکی سے شادی کرکے اپنی زندگی میں مگن ہوجاؤ گے”۔وافیہ نے کہا
“پر وافیہ…..!۔”بس ساحر ، بہت ہوگیا ، ہر انسان نے اپنی زندگی میں کچھ اصول بنائے ہوتے ہیں ، ہر انسان کی زندگی میں کوئی نہ کوئی قیمتی چیز ضرور ہوتی ہے ، اور میرے لئے میری خودداری سے بڑھ کر کوئی چیز قیمتی نہیں ہے ، میں نہیں چاہتی کہ میں تم سے شادی کروں ، اور دن رات اپنی آنکھوں سے اپنی سیلفریسپیکٹ پر چوٹ لگتے دیکھوں ، اس لئے مہربانی کرکے ، کل صبح یہاں سے چلے جانا ، مجھے دوبارہ کہنا نہ پڑے ، اب تم اسے میری اکڑ سمجھو ، غرور یا مجبوری ، وہ تمہاری مرضی ہے”۔وافیہ نے ساحر کی بات کاٹتے ہوئے سختی سے کہا۔ساحر دکھ اور حیرت سے وافیہ کو دیکھ رہا تھا۔
“تمہاری نظر میں میری محبت کی کوئی قیمت نہیں ہے؟ تمہارے لئے میری محبت سے زیادہ تمہاری سیلفریسپیکٹ اہم ہے؟۔ساحر نے دکھ و بےیقینی سے پوچھا۔
“ہاں”۔وافیہ نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
“تم یہی چاہتی جو نہ کہ میں یہاں سے چلا جاؤں؟۔ساحر نے پوچھا۔
“ہاں”۔وافیہ نے کہا۔
“ٹھیک ہے”۔ساحر نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔اور اندر کی جانب جانے لگا۔
“سنو !۔وافیہ نے بھی کھڑے ہوتے ہوئے پکارا۔ساحر رک کر پلٹا۔
“یہ بھی لیتے جاؤ ،اب مجھے تمہاری کوئی نشانی نہیں چاہئے”۔وافیہ نے اپنی انگلی سے انگوٹھی اتار کر ساحر کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔ساحر نے ایک نظر انگوٹھی کو دیکھا۔پھر وافیہ کو دیکھا۔جسکے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔ساحر نے انگوٹھی لے لی۔اور بنا کچھ کہے اندر چلاگیا۔جبکہ وافیہ وہیں کھڑی رہی۔
“وہ ہیں کہ جانے کو کھڑے ہیں”
“دل ہے کہ بیٹھا جارہا ہے”
