Sagar Kinaray by Faryal Khan NovelR50709 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 03
Rate this Novel
Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 01 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 02 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 03 (Watching)Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 04,05 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 06 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 07 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 08 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 09 Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 10 Sagar Kinaray by Faryal Khan Last Episode
Sagar Kinaray by Faryal Khan Episode 03
اگلے دن عامر صاحب نے طاہر صاحب اور نوشین کو اپنے پلان کے بارے میں بتا دیا۔دونوں نے کچھ نہیں کہا۔انکو بھی یہ ٹھیک لگا۔پر اب مسلہ تھا لڑکی کا۔
**********
“ٹک ٹک ٹک”۔سعد آفس میں اپنے روم میں بیٹھا سوچوں میں گم تھا کہ تب ہی دروازے پر دستک ہوئی۔
“کم ان”۔سعد نے سیدھے ہوتے ہوئے کہا۔اجازت ملنے پر وافیہ دروازہ دھکیلتی ہوئی اندر آگئی۔
“گڈ مارننگ سر”۔وافیہ نے کہا۔
“گڈ مارننگ ، کہاں تھیں آپ پچھلے دو دن سے ، ابھی جاب کا پہلا ہی ہفتہ ہے آپکی اور اتنی لاپرواہی”۔سعد نے سپاٹ لہجے میں پوچھا۔
“جی سر ، اسی سلسلے میں بات کرنے آئی تھی میں”۔وافیہ نے انگلیاں مروڑتے ہوئے کہا۔
“ہممم! بیٹھیں ، اور بتائیں”۔سعد نے اپنے سامنے والی کرسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔وافیہ کرسی پر بیٹھ گئی۔
“سر وہ دراصل بات یہ ہے کہ میری دادی ہارٹ پیشنٹ ہیں ، اور ابھی کچھ دنوں سے انکی طبیعت کافی خراب ہے ، انھیں ہوسپٹل میں ایڈمٹ کروانا پڑا ، اس لئے میں آفس نہیں آسکی”۔وافیہ نے بتایا۔
“اوہ ! آپکی دادی کی طبیعت کا جان کر افسوس ہوا ، اللّه پاک انکو صحت دے ، پر نیکسٹ ٹائم آپ بنا اپلیکیشن کے چھٹی نہیں کریں گے”۔سعد نے کہا۔
“جی سر ، اور وہ…وہ ایک اور بات بھی کرنی تھی آپ سے”۔وافیہ نے انگلیاں مروڑتے ہوئے کہا۔
“جی بولیں”۔سعد نے کہا۔وافیہ کچھ کہنا چاہ رہی تھی پر اسکی ہمت نہیں ہورہی تھی۔
“وہ سر کیا مجھے میری اگلے دو ماہ کی سیلری ایڈوانس میں مل سکتی ، دراصل مجھے میری دادی کی طبیعت کی وجہ سے پیسوں کی کافی سخت ضرورت ہے”۔وافیہ نے جھجھکتے ہوئے کہا۔سعد سوچ میں پڑگیا۔
“سر پلیز”۔وافیہ نے سعد کو خاموشی سے سوچ میں گم دیکھ کر پوچھا۔
“ہممم! مس وافیہ ابھی آپ جاسکتی ہیں ، میں تھوڑی دیر میں آپکو بلاکر پھر اس بارے میں بتاتا ہوں”۔سعد نے چونک کر کہا۔وافیہ اثبات میں سرہلاکر چلی گئی۔اور سعد جلدی سے طاہر صاحب کے روم کی جانب چلا گیا۔اور عامر صاحب کو بھی وہیں بلالیا۔
*********
“پر یہ لڑکی تو ہمارے آفس کی ہے ، اگر ساحر اسے پہچان گیا تو ؟۔عامر صاحب نے خدشہ ظاہر کیا۔
“نہیں پہچانے گے ، کیونکہ بھائی اس سے کبھی ملے ہی نہیں ہیں ، جس رات بھائی کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا ، اس دن صبح ہی تو میں نے اسکا انٹرویو لے کر اسے جاب پر رکھا تھا ، اور جب سے اس نے آفس جوائن کیا ہے ، بھائی تو ہوسپٹل میں ہیں ، انھیں اسکے بارے میں کچھ نہیں پتہ”۔سعد نے بتایا۔
“پر کیا وہ لڑکی مان جائے گی؟۔طاہر صاحب نے پوچھا۔
“تایا مجبوری انسان سے بہت کچھ کروالیتی ہے ، وہ اس وقت مجبور ہے ، اسے اپنی دادی کے علاج کیلئے پیسوں کی ضرورت ہے ، ہم اس سے یہ ڈیل کرلیتے ہیں ، کہ ہم اسکی دادی کے علاج کیلئے اسے پیسے دیں گے ، اور بدلے میں اسے ہمارا یہ کام کرنا ہوگا ، اگر ہم کسی اور لڑکی کو اس کام کیلئے چنتے ہیں تو اسے بھی تو ہمیں بدلے میں کچھ نہ کچھ دینا ہوگا ، تو اسے دے دیتے ہیں ، ہمارا کام بھی ہوجائے گا ، اور اسکی بھی مدد ہو جائے گی”۔سعد نے کہا۔عامر صاحب اور طاہر صاحب سوچ میں پڑگئے۔
“ٹھیک ہے ، بلاتے ہیں اسے”۔طاہر صاحب نے کہا۔اور پیون سے وافیہ کو روم میں بلوایا۔
“ٹک ٹک ٹک”۔تھوڑی دیر میں دروازے پر دستک ہوئی۔
“آجایئں”۔طاہر صاحب نے کہا۔
وافیہ دروازہ دھکیلتی ہوئی اندر آگئی۔اور تینوں کو ایک ساتھ دیکھ کر نروس ہوگئی۔
“جی سر ، آپ نے بلایا!۔وافیہ نے سمبھل کر پوچھا۔
“جی ، آئیں ، بیٹھیں یہاں”۔طاہر صاحب نے کرسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔سعد کرسی سے اٹھ کر طاہر صاحب کے برابر میں کھڑا ہوگیا۔وافیہ آہستہ سے چل کر آکے کرسی پر بیٹھ گئی۔
“ہمیں پتہ چلا کہ آپکو پیسوں کی ضرورت ہے”۔طاہر صاحب نے بات شروع کی۔
“جی سر ، وہ اچانک ہی میری دادی کی طبیعت اتنی بگڑگئی ، ورنہ اور کوئی بات نہیں تھی”۔وافیہ نے نظریں جھکائے ہوئے ہی وضاحت کی۔
“ہممم! اللّه پاک صحت دے آپکی دادی کو ، خیر ہم نے آپکو یہاں یہ بتانے کیلئے بلایا ہے کہ ہم آپکو آپکی سیلری ایڈوانس میں نہیں دیں گے”۔طاہر صاحب نے کہا۔وافیہ نے یکدم طاہر صاحب کی جانب دیکھا۔
“پر کیوں سر ؟۔وافیہ نے گھبرا کر پوچھا۔
“آپکی دادی کے علاج پر جو بھی خرچہ آئے گا ، وہ ہم اٹھائیں گے ، الگ سے ، اسکا آپکی سیلری سے کوئی تعلق نہیں ہوگا”۔طاہر صاحب نے بتایا۔وافیہ حیران ہوگئی۔
“بہت شکریہ سر ، پر اس مہربانی کی وجہ پوچھ سکتی ہوں؟۔وافیہ نے اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے پوچھا۔
“ہممم! ہم آپکی مدد کریں گے ، بدلے میں آپکو ہمارا ایک کام کرنا ہوگا”۔طاہر صاحب نے کہا۔
“کیسا کام سر؟۔وافیہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“آپکو آفس کے لوگوں سے پتہ تو چل ہی گیا ہوگا کہ میرے بیٹے ساحر کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے ، اور وہ ہوسپٹل میں ہے!۔طاہر صاحب نے تائید چاہی۔
“جی سر ، سنا تھا میں نے ، اللّه پاک جلد صحت یاب کرے انھیں”۔وافیہ نے کہا۔
“امین ، تو ڈاکٹرز نے اسے کسی بھی قسم کے شاک سے دور رکھنے کا کہا ہے ، پر بات یہ ہے کہ…………….!۔پھر طاہر صاحب نے وافیہ کو شروع سے سب بتا دیا۔
“تو پھر سر میں کیا کرسکتی ہوں؟۔وافیہ نے سب سن کر ناسمجھی سے پوچھا۔
“آپکو کرنا یہ ہے کہ جب تک لاریب نہیں مل جاتی اور ساحر کی حالت بہتر نہیں ہوجاتی ، آپکو ساحر کے سامنے لاریب بن کر جانا ہوگا”۔طاہر صاحب نے کہا۔وافیہ دنگ رہ گئی۔
“کیا ! پر ایسا کیسے ہوسکتا ہے ، اگر انھوں نے مجھے پہچان لیا تو؟۔وافیہ نے کہا۔
“نہیں پہچانے گا ، بس ہم جو کہہ رہے ہیں آپ وہ کریں”۔طاہر صاحب نے کہا۔
“اگر میں ایسا نہ کروں تو کیا پھر آپ لوگ میری مدد نہیں کریں گے؟۔وافیہ نے پوچھا۔
“نہیں ، پھر انسانیت کے ناطے ہم آپ کیلئے اتنا کردیں گے کہ آپکو آپکی اگلی دو ماہ کی سیلری ایڈوانس میں دے دیں گے ، پر اگر آپ بھی ہماری مدد کریں گی تو زیادہ اچھا ہے ، اب آپ سوچ لیں ، اور پھر بتا دیں کہ کیا فیصلہ ہے آپکا ، آپکے پاس شام پانچ بجے تک کا وقت ہے سوچنے کیلئے ، چھٹی کے وقت جانے سے پہلے آپ ہمیں اپنا فیصلہ بتا دیجئے گا ، اب آپ جاسکتی ہیں”۔طاہر صاحب نے کہا۔اور وافیہ خاموشی سے واپس آگئی۔
“کیا لگتا ہے ! مان جائے گی یہ لڑکی؟۔عامر صاحب نے پوچھا۔
“ہممم! مان تو لینا چاہئے ، لڑکی لگ بھی سیدھی سادی رہی ہے ، اللّه کرے مان جائے”۔طاہر صاحب نے کہا۔
************
“ممی اتنے دن ہوگئے ہیں ، آپ سب یہاں مجھ سے ملنے آتے ہیں ، پر لاریب کیوں نہیں آتی ہے؟۔ساحر نے پوچھا۔نوشین ، رفعت ، اور شمع بیگم اس وقت ہوسپٹل میں ساحر کے پاس تھیں کہ تب ساحر نے نوشین سے پوچھا۔
“آجائے گی بیٹا ، بلکہ تم خود ہی جلدی سے ٹھیک ہوجاؤ ، پھر گھر جاکر ہی مل لینا اس سے”۔نوشین نے کہا۔
“آپ لوگ ہر بار یہی کہتے ہیں کہ گھر جاکر مل لینا ، اسے یہاں آنے میں کیا مسلہ ہے؟۔ساحر نے چڑ کر کہا۔
“السلام و علیکم ! کیا ہال ہیں؟۔سعد سلام کرتے ہوئے اندر داخل ہوا۔اسکے پیچھے طاہر صاحب اور عامر صاحب بھی اندر داخل ہوئے۔
“وعلیکم السلام ، ٹھیک ہیں کیا ہونا ہے”۔شمع بیگم نے کہا۔
“بھائی آپکے لئے ایسا سرپرائز ہے کہ آپ دیکھ کر خوشی سے پاگل ہوجاؤ گے”۔سعد نے جوش سے کہا۔
“کیسا سرپرائز ہے ؟۔ساحر نے پوچھا۔
“آجایئں اندر”۔سعد نے بلند آواز سے کہا۔اور دروازے کی جانب دیکھنے لگا۔باقی سب بھی سعد کے تعقب میں دیکھنے لگے۔کہ تب ہی دروازہ کھلا اور آہستہ سے چلتے ہوئے ایک لڑکی کمرے میں داخل ہوئی۔سب بغور اسے دیکھنے لگیں۔لڑکی نے ٹخنوں تک آتی براؤن کلر کی سادی سی شیفون کی فراک چوڑی دار پجامے کے ساتھ پہنی ہوئی تھی۔اور ساتھ ہم رنگ دوپٹا سلیقے سے سر پر اوڑھا ہوا تھا۔درمیانہ قد تھا۔گندمی رنگت کے ساتھ وہ بہت زیادہ حسین و جمیل لڑکی تو نہیں پر کافی حد تک پرکشش ضرور تھی۔سب کو اپنی جانب متوجہ دیکھ کر وافیہ کافی نروس ہوگئی۔
“بتائیں کون ہیں یہ؟۔سعد نے ساحر سے پوچھا۔
“پتہ نہیں ، تم بتاؤ “۔ساحر نے کہا۔
“ارے وہی ہیں جن سے ملنے کیلئے آپ کب سے تڑپ رہے تھے ، لاریب بھابھی”۔سعد نے بتایا۔سعد کے بتانے پر ساحر نے پھر چونک کر وافیہ کی جانب دیکھا۔اور پھر سعد کی جانب۔
“السلام و علیکم”۔وافیہ نے آہستہ سے سب کو سلام کیا۔
“وعلیکم السلام ، آؤ بیٹی ، بیٹھو”۔شمع بیگم نے جواب دیتے ہوئے صوفے پر اپنے برابر اشارہ کرتے ہوئے کہا۔وافیہ آہستہ سے چلتے ہوئے شمع بیگم کے برابر آکر بیٹھ گئی۔ساحر کی نظریں ہنوز وافیہ پر ہی تھیں۔جس سے وافیہ کو اور گھبراہٹ ہورہی تھی۔
“چلیں بھئی ، اب ہم سب لوگ گھر چلتے ہیں ، پھر آٹھ بجے تک میں اور نوشین آجایئں گے یہاں ، تب تک لاریب ہے ساحر کے پاس ، ٹھیک ہے ناں”۔طاہر صاحب نے کہا اور تائید چاہی۔
“ہاں ٹھیک ہے ، تم لوگ بھی آفس سے آئے ہو تھک گئے ہوگے ، چلو”۔شمع بیگم نے تائید کرتے ہوئے کہا
“جی دادی آفس سے ہم لوگ گھر گئے ، لاریب بھابھی کو پک اپ کیا اور سیدھا یہاں آگئے ،آرام کرنے کا موقع ہی نہیں ملا”۔سعد نے بتایا
“ہممم! چلو ہم لوگ آتے ہیں پھر تھوڑی دیر میں ہاں”۔نوشین نے ساحر کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔اسکے ماتھے پر بوسہ دیا۔اور پھر ایک ایک کرکے سب لوگ باہر نکل گئے۔سعد نے پہلے ہی فون کرکے ان لوگوں کو بتا دیا تھا کہ وہ لوگ وافیہ کو لاریب بنا کر لارہے ہیں۔اور وافیہ کو بھی اچھی طرح سب سمجھا دیا تھا۔کمرے میں اب صرف ساحر اور وافیہ موجود تھے۔ساحر کی نظریں وافیہ پر تھیں۔اور وافیہ کی اپنی انگلیوں پر۔جنہیں وہ مسلسل مڑوڑے جارہی تھی۔
“تم اتنے دنوں سے کیوں نہیں آرہی تھی مجھ سے ملنے؟۔ساحر نے پوچھا۔
“میں چاہ رہی تھی کہ آپ ٹھیک ہوکر گھر آجایئں پھر ملوں گی آپ سے”۔وافیہ نے بتایا۔
“میں تو تمھیں لینے ائیرپورٹ آنہیں سکا ، پھر تم گھر کیسے آئی؟۔ساحر نے پوچھا۔
“سعد آیا تھا مجھے ائیرپورٹ سے لینے”۔وافیہ نے بتایا۔
“ہممم! تم نے آنے سے پہلے کہا تھا کہ تم کوئی سرپرائز دینے آرہی ہو ، کیا تھا وہ سرپرائز؟۔ساحر نے پوچھا۔ساحر کے اس اچانک سوال پر وافیہ گھبرا گئی۔کیونکہ اس بارے میں تو سعد نے کچھ بتایا ہی نہیں تھا۔
“کچھ خاص نہیں ، بس یہی سرپرائز تھا کہ میں اتنے ٹائم بعد آرہی تھی”۔وافیہ نے بات بنانے کی کوشش کی۔
“ہممم! تم مجھ سے اتنا دور کیوں بیٹھی ہو ! کیا میں تمھیں کھا جاؤں گا !۔ساحر نے پوچھا۔
“نہیں …. نہیں تو”۔وافیہ نے کہا۔
“تو پھر یہاں آکر بیٹھو”۔ساحر نے اپنے بیڈ کے قریب رکھے اسٹول کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔وافیہ کچھ دیر تو ایسے ہی بیٹھی رہی۔پھر آہستہ سے چل کر اسٹول پر آکر بیٹھ گئی۔
“تمھیں یاد ہے ہم آخری بار کب ملے تھے؟۔ساحر نے پوچھا۔
“جب میں آٹھ سال کی عمر میں لاسٹ ٹائم امی ابو کے ساتھ یہاں آئی تھی”۔وافیہ نے کہا۔سعد نے اسے سب سمجھایا ہوا تھا۔
“ہممم! اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ تب تم بہت لڑاکا ہوا کرتی تھی ، اب کیا ہوگیا ! اب بیٹری کیوں ڈاؤن ہوگئی تمہاری؟۔ساحر نے پوچھا۔
“تب کی بات اور تھی ، تب ہم بچے تھے ، وقت کے ساتھ ساتھ بہت سے بدلاؤ آجاتے ہیں”۔وافیہ نے کہا۔
“ہممم! اچھا اتنے عرصے تمھیں کبھی ہماری یاد نہیں آئی؟۔ساحر نے پوچھا۔
“آئی تھی ، تب ہی تو میں یہاں آگئی”۔وافیہ نے کہا۔پھر کافی دیر ساحر اس سے اسی طرح کی باتیں کرتا رہا۔وہ تو نرس نے آکر ساحر کو کوئی انجیکشن لگایا اور تھوڑی میں ساحر سوگیا۔تو وافیہ نے سکون کا سانس لیا۔
*********
وافیہ کو پیسوں کی ضرورت تھی۔اور شاہ ہاؤس کو وافیہ کی۔اس لئے وافیہ ان سب کیلئے راضی ہوگئی۔اور وہاں طاہر صاحب نے وافیہ کی دادی کا علاج شروع کروادیا تھا۔کیونکہ وافیہ کو بطور لاریب ساحر کے سامنے رہنا تھا اس لئے اس نے اپنی دادی سے کہا تھا کہ وہ آفس کے کام سے کچھ عرصے کیلئے لاہور جارہی ہے۔اور پھر ہوسپٹل میں انکی دیکھ بھال بھی کافی اچھی ہورہی تھی۔اس لئے وافیہ کو انکی جانب سے کوئی فکر نہیں تھی۔پھر کچھ ہی دنوں میں ساحر کو ہوسپٹل سے ڈسچارج کردیا گیا۔پر ڈاکٹر نے ابھی بھی احتیاط کا کہا تھا۔اور دوسری جانب یہ لوگ لاریب کو بھی جتنا ممکن تھا تلاش کررہے تھے۔پر ابھی تک کامیاب نہیں ہوئے تھے۔
________
ساحر کو ہوسپٹل سے گھر آئے ہوئے ایک ہفتہ ہوگیا تھا۔اور اب اسکی حالت کافی بہتر تھی۔لاریب کا ابھی بھی کوئی پتہ نہیں تھا۔اور وافیہ لاریب بن کر یہاں شاہ ہاؤس میں ہی سب کے ساتھ رہ رہی تھی۔
*********
“جینے کے ہیں چار دن ، اوہ ہو ہو ہو”
“باقی ہیں بیکار دن ، اوہ ہو ہو ہو”
“جائے جائے ، جائے جائے”
“ایک بار جو جائے جوانی پھر نہ آئے”
سعد نے کانوں میں ہینڈفری لگائے ہوئے تھے۔اور حلق کے بل چیختے ہوئے ساتھ ساتھ گانا گا بھی رہا تھا۔جو سراسر ثناء کو تنگ کرنے کی ایک سازش تھی۔کیونکہ ثناء ہال میں صوفے پر بیٹھی ہوئی کوئی ناول پڑھ رہی تھی۔اور ناول پڑھتے ہوئے کوئی آس پاس شور کرے یہ اسے بالکل پسند نہیں تھا۔یہ بات سعد کو بھی بہت اچھے سے پتہ تھی۔اور وہ جان بوجھ کر اسے تپا رہا تھا۔
“ہے ہے ، جوانی پھر نہ آئے”
“ہو ہو ، جوانی پھر نہ آئے”
سعد ہنوز حلق پھاڑتے ہوئے ثناء کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا۔اور ثناء سے یہ سب برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا۔
“ابے یار سعد چپ ہوجاؤ”۔ثناء نے تنگ آکر کہا۔پر سعد نے سنا نہیں۔یا سن کر ان سنا کردیا۔
“سعد ! میں تم سے کہہ رہی ہوں”۔ثناء پھر زور سے ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا۔
“کچھ کہہ رہی ہو کیا؟۔سعد نے کان سے ہینڈفری ہٹاکر انجان بنتے ہوئے پوچھا۔
“ہاں ، میں ڈسٹرب ہورہی ہوں ، صرف سن لو خاموشی سے گاؤ مت ساتھ میں”۔ثناء نے کہا۔
“کیوں نہیں گاؤں ! میری مرضی میرا منہ ہے ، میں تو گاؤں گا”۔سعد نے ڈھیٹائی سے کہا۔
“یار میں ڈسٹرب ہورہی ہوں ، اگر ایسی ہی حرکتیں کرنی ہیں تو اپنے کمرے میں جاکر کرو”۔ثناء نے کہا۔
“کیوں ! میں کیوں جاؤں کمرے میں ! تم ڈسٹرب ہورہی ہو تم جاؤ ، میں تو یہاں ہی بیٹھوں گا”۔سعد نے اسی ڈھیٹائی سے کہا۔
“مما نے مجھے اسی شرط پر ناول پڑھنے کی اجازت دی ہے کہ میں یہاں ہال میں بیٹھ کر پڑھا کروں ، اگر انھوں نے مجھے کمرے میں ناول پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو میرے سارے نوولز پھینک دیں گی”۔ثناء نے بے چارگی سے بتایا۔
“اوہ ! بیچاری ، ہاں تو تم نے بھی تو نوولز کو ریسیپی بک بنالیا تھا ، جس طرح لوگ کتابوں میں ریسیپی پڑھ کر اسے ٹرائی کرتے ہیں ، ویسے ہی تم کہانیوں میں سے کچھ اوٹ پٹانگ پڑھ کر سچ میں ٹرائی کرنے کھڑی ہوجاتی ہو ، کہانی کو کہانی کی حد تک رکھا کرو ناں”۔سعد نے مشورہ دیا۔
“میں نے تم سے مشورہ نہیں مانگا ہے ، یا تو منہ بن کر کے بیٹھو یا پھر جاؤ یہاں سے”۔ثناء نے سختی سے کہا۔
“میں تو نہیں جارہا ، کرلو جو کرنا ہے ،
“جائے جائے ، جائے جائے”
“ایک بار جو جائے جوانی پھر نہ آئے”
“ہے ہے ، جوانی پھر نہ آئے”
“ہو ہو ، جوانی پھر نہ آئے”
سعد نے کہہ کر دوبارہ ہینڈفری کانوں میں لگایا اور حلق پھاڑنا شروع کردیا۔ثناء کچھ دیر بےبسی سے سعد کو دیکھتی رہی۔پھر غصے سے پیر پٹختی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی۔ثناء کے جانے کے بعد سعد نے اپنے کانوں سے ہینڈفری ہٹا دیے۔اور فون بند کرکے اپنی پینٹ کی جیب میں ڈال لیا۔مطلب اسکا مشن (ثناء کو تنگ کرنا) کامیاب ہوگیا تھا۔کہ تب ہی وافیہ ہاتھ میں چائے کے کی ٹرے لے کر سعد کی جانب آئی۔
“لیجئے چائے”۔وافیہ نے ٹرے بیچ میں رکھی ہوئی ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔
“تھینک یو ، پر میں نے تو چائے نہیں مانگی تھی اور وہ بھی اتنی ساری”۔سعد نے اتنے سارے چائے کے کپ دیکھ کر کہا۔
“میں نے کہا تھا”۔ساحر نے بھی اس جانب آتے ہوئے کہا۔وافیہ تب تک ٹرے رکھ کر صوفے پر بیٹھ چکی تھی۔
“کیا ہوگیا ! خریت تم نے ہم سب کو یہاں کیوں بلایا ساحر؟۔نوشین نے بھی ان لوگوں کے قریب آتے ہوئے پوچھا۔انکے پیچھے باقی گھر والے بھی آگئے۔اور سب کی نظروں میں یہی سوال تھا۔
“ایسے ہی ، جب سے میرا ایکسیڈنٹ ہوا ہے ،کافی ٹائم ہوگیا ہے ہم لوگوں کو ایک ساتھ چائے پیے ہوئے ، ساتھ کھانا کھائے ہوئے ، تو سوچا کیوں ناں آج کچھ دیر پھر سے ساتھ بیٹھا جائے”۔ساحر نے وافیہ کے برابر میں بیٹھتے ہوئے بتایا۔ساحر کے اتنے قریب بیٹھنے پر وافیہ گھبرا کر ساحر سے تھوڑے فاصلے پر ہوگئی۔
“اچھا کیا بیٹا ، بہت اچھا کیا ، ایسے تمہاری طبیعت بھی جلد ہی بہتر ہوجائے گی ، ورنہ ایک جگہ کمرے میں پڑے پڑے تو تم اور بیمار ہوجاؤ گے”۔احمد شاہ نے بھی بیٹھتے ہوئے کہا۔باقی سب بھی بیٹھ چکے تھے۔اور اپنے حصے کے کپ اٹھالئے تھے۔
“ہممم! اور آج رات کا کھانا بھی سب ساتھ ہی کھائیں گے”۔شمع بیگم نے بھی کہا۔
“ہاں ، اور آج میں سارا کھانا ساحر کی پسند کا بناؤں گی”۔نوشین نے کہا۔
“نہیں ممی ، میری پسند کا تو ویسے بھی پکتا رہتا ہے ، آج کھانا لاریب کی پسند کا بنائیں ، کیوں لاریب ! ٹھیک ہے ناں!۔ساحر نے کہتے ہوئے وافیہ کی جانب دیکھ کر تائید چاہی۔وافیہ ساحر کے دیکھنے پر گڑبڑا گئی۔
“نہیں نہیں ، خاص طور پر میری پسند کا بنانے کی ضرورت نہیں ہے ، آپ لوگوں کو جو ٹھیک لگے بنالیں”۔وافیہ نے کہا۔
“ارے کوئی بات نہیں بیٹی ، کھانا تو ویسے بھی بننا ہے ، اگر تمھیں کچھ پسند ہے تو بتا دو ، آج وہ بنالیں گے”۔شمع بیگم نے کہا۔
“نہیں نانی ، مجھے کچھ خاص پسند نہیں ہے”۔وافیہ نے کہا۔
“ہم غریبوں سے بھی کوئی پوچھ لے ، ہماری بھی کوئی پسند نہ پسند ہے”۔سعد نے بےچارگی سے کہا۔
“کل سارا کھانا اس غریب کی پسند کا ہی بنا تھا ، اس لئے اب تم منہ بند رکھو”۔ثناء نے کہا۔
“اچھا ایک کام کرتے ہیں ، کھانا آج میری پسند کا ہی بنے گا ، پر بنائے گی اسے لاریب ، کیوں یہ ٹھیک ہے!۔ساحر نے کہتے ہوئے پھر وافیہ سے تائید چاہی۔
“ارے نہیں ، یہ تو مہمان ہے ہماری ، اور مہمانوں سے کام تھوڑی کرواتے ہیں”۔رفعت نے کہا۔
“مہمان تھوڑی ہے چچی ، یہ تو اس گھر کی ہونے والی بہو ہے ، اور مستقبل میں یہ کام اسے ہی تو کرنے ہیں ، تو کیوں ناں ایک ٹیسٹ ہوجائے ، اچھا ہے ، اس بہانے مجھے بھی فیصلہ لینے میں آسانی ہوگی کہ میرا مستقبل کیسا ہوگا”۔ساحر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“ارے نہیں ، بری بات ، تم بتاؤ تمھیں کیا کھانا ہے ، میں بنا دوں گی”۔نوشین نے کہا۔
“بھئی ممی ، جب میں کہہ رہا ہوں کہ.. آہ ..”۔ساحر نے کہتے ہوئے اچانک اپنا پٹی بندھا سرپکڑ لیا۔جیسے اچانک اسے درد اٹھا ہو۔اور اسکی بات بیچ میں ہی رہ گئی۔
“ارے کیا ہوا؟۔طاہر صاحب فٹافٹ ساحر کی جانب آئے۔باقی سب بھی پریشان ہوگئے۔
“اچانک سے بہت زور کی ٹھیس اٹھی سر میں پاپا”۔ساحر نے بتایا۔
چلو ، کمرے میں چل کر لیٹو تم”۔عامر صاحب نے بھی ساحر کے قریب آتے ہوئے کہا۔ساحر بھی کھڑا ہوگیا۔
“پر کھانا ہم سب ساتھ ہی کھائیں گے ، اور وہ بھی لاریب کے ہاتھ کا”۔ساحر نے کہا۔
“ارے ہاں بھئی ، پہلے تم کمرے میں تو چلو ، ابھی بھی کھانے کی پڑی ہوئی ہے”۔طاہر صاحب نے کہا۔
اور ساحر کو لے کر اسکے کمرے کی جانب چلے گئے۔سعد اور نوشین بھی اسکے پیچھے چلے گئے۔
“لگتا ہے آج کھانا تمھیں ہی بنانا پڑے گا”۔رفعت نے وافیہ سے کہا۔
“کوئی بات نہیں آنٹی ، بنالوں گی ، آپ لوگ فکر مت کریں”۔وافیہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
