Rozan e Zindaan By Raqs e Bismil Rozan-e-Zindaan: Modern Romance A Ruthless Love Story NovelR50476 Rozan e Zindaan Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
Rozan e Zindaan Episode 26
شہزام صوفے پر غائب دماغی سے چینلز کو مسلسل بدل رہا تھا۔ ان بیس پروگراموں میں سے کسی ایک نے بھی اس کی توجہ نہیں کھینچی تھی۔
اس نے بری طرح بےچینی محسوس کرتے ہوئے ریموٹ کنٹرول ایک طرف پھینک دیا۔ ابھی رات کے تقریباً 10 بجے تھے۔
( ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، وہ انتظار کر رہا تھا۔۔۔نہیں، وہ بالکل انتظار نہیں کر رہا تھا۔وہ بھلا کیوں انتظار کرتا؟)
شہزام سوری کو کام سے واپس گھر آئے ایک گھنٹہ ہوچکا تھا۔لیکن ابھی تک سبرین کے آنے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے۔نہ ہی اسے فدی بلی کی کوئی پرواہ تھی۔اور یہ حد سے زیادہ تھا۔
“کم آن، فدی۔کم شاپنگ فار فروٹس ود می۔”
اس نے بلی کو باززؤں میں اٹھایا۔
فدی کی میاؤں میاؤں کافی دیر تک چلتی رہی۔حقیقتاً پریگننٹ بلیاں باہر جانے سے اوائیڈ کرتی ہیں۔ لیکن وہ اسے زبردستی اٹھا کر باہر لے آیا۔
اسکے پڑوس میں کافی سارے شاپس تھے۔فروٹ کے سبزی کے۔وہ چلتا ہوا ایک فروٹ شاپ میں گیا۔وہ مکمل غائب دماغی کے ساتھ کسی پل ایک فروٹ اٹھاتا۔اسے دیکھتا پھر دوسرے پل اسے واپس رکھ دیتا۔اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا خریدے؟
( سبرین ابھی تک گھر کیوں نہیں آئی؟ )
فروٹ اسٹور کی مالکن دروازے کے ساتھ کھڑی چپکے سے اس قدر غیرمعمولی خوبصورت نوجوان کی دل ہی دل میں تعریف کر رہی تھی۔
(آخر کیا مسئلہ ہے اس خوبصورت آدمی کے ساتھ؟ یہ کافی وقت سے پورے اسٹور میں چکرا رہا ہے۔لیکن ابھی تک کچھ نہیں خریدا۔)
اسٹور کی مالکن مسلسل اس کو تاڑ رہی تھی۔(کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ وہ اس میں دلچسپی لے رہا ہو۔لیکن کچھ کہنے سے شرماتا ہو؟)
اس کے چہرے پر شرمساری کی ایک لہر آکر غائب ہوئی جب اس نے اس آدمی کے چہرے پر رنگ بدلتے دیکھے غیر متوقع طور پر وہ سیدھا دروازے کی طرف بڑھا۔
وہ تو اس کے اقدام پر دنگ رہ گئی۔جب اس نے اپنی نظر اس آدمی کے زاویے پر سیٹ کی تو اس نے باہر روڈ پر کھڑی ایک رولز رائس دیکھی۔جس میں سے نہایت خوبصورت لڑکی باہر نکلی تھی۔
(واؤ۔۔اس کا مطلب تھا یہ آدمی اپنی دھوکے باز پارٹنر کو پکڑنے کی کوشش کررہا تھا۔بے عیب خوبصورتی کے باوجود بھی اسے دھوکا دیا گیا تھا۔افسوس!)
٭٭٭٭
روڈ کے دوسرے طرف جاؤ تو۔۔۔ سبرین ولید گرویزی کا شکریہ ادا کرتی پائی گئی۔
اس کا شکریہ ادا کرتے وہ جونہی مڑی۔ شہزام کو لمبے لمبے ڈگ بھرتے فدی کو بازؤں میں اٹھائے اپنی جانب آتا دیکھا ۔
آسمان سے چاند کی پیلی روشنی اس کے چہرے کے اداس تاثرات کو ظاہر کررہی تھی۔تھکی تھکی سی۔زرد پڑتا چہرہ۔۔
شہزام کو دیکھ کر اس کے قدم اپنی جگہ پر بندھ گئے۔
اس دن کے بعد وہ آدھی رات کو آرہا تھا۔لیکن آج وہ سویرے موجود تھا ۔(وہ کیوں اتنی بدقسمت تھی کہ ہمیشہ رنگیں ہاتھوں بے قصور ہی پکڑی جاتی تھی۔جب بھی کوئی آدمی اسے لفٹ دیتا تھا۔
اگر وہ یقینی طور پر نہ جانتی ہوتی کہ وہ اس میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔تو وہ یہ سمجھتی کہ وہ اس کے انتظار میں راہ دیکھ رہا ہے۔)
لیکن وہ اصل بات جانتی تھی کہ یہ آدمی اسی لیئے اس کا انتظار کرتا ہے تاکہ آڑی پوچھا کرسکے۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا۔ سبرین نے رکھائی سے اسے دیکھا۔
“میری آج طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔سو پلیز اپنا لیکچر کل دینا۔” منفی خیالات کے اثر میں سبرین نے بناء سوچے ہی غصے سے کہا۔
“مجھے نہیں لگتا کہ تم بیمار ہو۔تم سارا دن ایک اجنبی آدمی کے ساتھ گزار کر تھک گئی ہو۔درست؟ کچھ دن پہلے تمہیں ایک پورسچی نے چھوڑا تھا۔اور آج۔۔۔آج تم رولس رائس میں آئی ہو۔اور یہ سچ ہے۔کیا نہیں ہے؟”وہ تو جیسے سر سے پیر تک جل بن گیا تھا۔
“ناٹ بیڈ، سبرین بیگم۔
“تم بہت تیزی کے ساتھ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچنا چاہتی ہو کیا یہ بات وہ مرد جانتے ہیں۔کہ تم کس قدر گھٹیا کردار کی عورت ہو؟ جو کسی بھی وقت، کسی بھی مرد کے بستر پر جانے کے لیئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو؟”
وہ ابھی ہی ہاسپٹل سے ڈرپ پوری ہونے کے بعد پہنچی تھی۔وہ کچھ بہتر فیل کررہی تھی۔لیکن اب اس قدر الزامات اور رکیک جملے سن کر اس کا کمزور دماغ پھر سے درد کرنے لگا۔
(اس قدر توہین۔۔۔اس قدر غلیظ جملے۔۔وہ تھکنے لگی جیسے۔۔۔ہانپنے لگی۔اور یہ بہت زیادہ تھا۔)
وہ ذہنی طور پر تھک گئی تھی۔
یہ آدمی ماضی میں اس سے بمشکل ہی بات کرتا تھا۔اور اب اس قدر بول رہا تھا۔
“میں تم سے بالکل بھی بحث نہیں کرنا چاہتی۔”لڑائی کرنا ایک تھکا دینا والا عمل تھا۔جب بھی وہ ملتے تھے لڑائی ہی ہوتی تھی۔اور سبرین کے پاس ہمت نہیں تھی۔وہ اپنی بیماری میں تھک گئی تھی۔
اس کے علاوہ یہ جان کر کہ شہزام نے آبش کو اپنے ولا کی رینوویشن کا کام دیا ہے۔اس کی شہزام میں دلچسپی ختم ہوگئی تھی۔
سبرین نے خاموشی سے سر جھکادیا۔اور سیدھی فلیٹ کی طرف تھکے تھکے قدموں سے جانے لگی۔
اس کے غیر متزلزل رویے نے شہزام کو مزید مشتعل کردیا۔ آگے بڑھ کر اسے زور سے بازو سے پکڑ لیا۔
“کیا مطلب ہے تمہارا۔ ہاں؟تو تم اب مجھ سے بات کرنا نہیں چاہتی ۔کیونکہ تم نے اب مجھ سے زیادہ امیرمرد ڈھونڈ لیا ہے؟ تم نے سارا دن باہر گزارا۔تم سویر ے گھر واپس نہیں آئی۔یہاں تک کہ آدھی رات ہوچکی ہے۔اور کیا یہ غلط ہے کہ میں اس بات پرتم سے باز پرس کرسکوں؟”
شہزام کی گرفت اس کے نرم بازو پر سخت ہوچکی تھی جس سے اس کا بازو درد کرنے لگا۔لیکن اس میں اتنی توانائی ہی نہیں تھی کہ اس کی سخت گرفت سے اپنا بازو چھڑا سکے۔
اسے صرف مایوسی اور تھکن محسوس ہورہی تھی۔
سبرین نے تھکی تھکی سی نمناک نظریں اٹھا کر اس کی شعلہ بار آنکھوں میں دیکھا۔
“اگر۔۔۔ میں دیر سے گھر آتی ہوں تو اس کا آپ کی صحت پر کیا اثر ہوتا ہے؟ مانتی ہوں۔۔میں آپ کے گھر میں رہ رہی ہوں۔ لیکن میں آپ کے لیے کھانا پکاتی ہوں اور گھر صاف کرتی ہوں۔ اس کے باوجود بھی، آپ نے میرے لیئے جھوٹ بولا کہ میں نے فدی کا پیٹ خراب کیا ہے۔” سبرین کی آواز دھیمی تھی لیکن سخت تھی۔
“بلی اب پہلے سے بہتر ہے۔میں اس کی پریگننسی کی بالکل زمہ دار نہیں ۔نہ ہی میں نے اسے پریگننٹ کیا ہے۔”آخر میں اس کا لہجہ طنزیہ ہوا۔
“تمہاری اتنی ہمت کہ تم مجھ سے اس لہجے میں بات کرو؟ ” شہزام نے چیخ کر اسے سرد اور سخت نظروں سے گھورا۔
اس کا چہرہ غصے کی تپش سے آلودہ ہوچکا تھا۔(اس عورت نے ایک تو غلط کیا ہے۔ اس کے باوجود بھی اس سے اس طرح بحث کررہی تھی جیسے وہ معصوم ہو۔)
“یہ مت بھولو کہ تم۔۔۔۔۔۔”
“میں جانتی ہوں کہ میں تمہاری قانونی بیوی ہوں۔لیکن کیا کبھی تم نے مجھے بیوی سمجھ کر برتاؤ کیا؟ تمہاری ذاتی رائے کے مطابق میں صرف اور صرف ایک “بے شرم”عورت کے سوا کچھ نہیں ہوں۔ہر اس چیز سے کمتر جن کو تم جانتے ہو۔” سبرین طنزیہ بولی تھی۔
(بشمول آبش اور ایزد کے۔اگر ایسا ہے تو۔۔۔ تو پھر وہ کس بنیاد پر مفاہمت کرے؟ )
شہزام تو اس کے دبنگ لہجے سے غصے سے لال پیلا ہورہا تھا۔اس کی بات پر طنزیہ مسکرایا۔
“یہ تو اچھی بات ہے کہ تم یہ بات جان گئی ہو۔”
“یہ درست ہے کہ میں پہلے یہ سب نہیں جانتی تھی۔اسی لیئے سوچتی رہتی تھی کہ شاید کوئی موقع مل جائے۔”وہ پھیکا سا ہنسی۔
“فرام ناؤ آن۔جسٹ لیو میں الون۔ہم نے صرف شادی کا معاہدہ کیا تھا۔ہم نے کوئی راستہ کراس نہیں کیا۔ہم اب بھی میلوں کی وچھوٹی پر ہیں۔اگر میں یہاں رہنے پر مجبور نہ ہوتی۔تو کب کی جاچکی ہوتی۔” افسردگی سے کہتے سبرین نے اپنے لہجے کو بہت مشکل سے قابو میں رکھا ہوا تھا ورنہ دل تو دھاڑیں مار کر رونا چاہ رہا تھا۔
“اچھی بات ہے کم از کم تمہیں یاد تو ہے کہ تم نے ہی اس راہ کے لیئے مجبور کیا تھا۔”اس کا لہجہ کافی سخت تھا۔
“میرا بھی تم سے کچھ لینا دینا نہیں ہے سبرین بیگم۔میں خود کو اس گندگی سے آلودہ نہیں کرنا چاہتا جو تم کو کہیں اور سے لاحق ہوئی ہے۔”
(ھاااہ ۔۔۔گندگی۔۔۔۔وہ اس کے ریلیشن کو گندگی سے تشبیہ دے رہا تھا؟اس کے لیئے میاں بیوی کا ریلیشن محض گندگی تھا؟)
سبرین کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کا خون اُبل اُبل کر اس کے دماغ کو ہلا رہا ہو۔۔اس نے بے اختیار درد سے پھٹتے سر کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔اس کا پورا وجود کانپ رہا تھا۔
آج سے پہلے اس نے سوچا تھا جب تک بلی بچے نہیں جنتی ،وہ یہیں ٹھہرے گی۔لیکن اب۔۔۔۔۔ مشکل تھا ٹہرنا۔اب اور نہیں ٹہرنا۔۔نیور۔۔
اس کی بات پر سبرین کے زردی مائل ہونٹوں کے کُونے ہلکی سی دکھی مسکراہٹ میں مڑے۔
“آج کے بعد مسٹر شہزام سوری کا گھر میری گندی موجودگی سے آلودہ نہیں ہوگا۔میں جا رہی ہوں۔”
“کیا یہ اب تمہاری ایک نئی چال ہے؟ ” شہزام کو تو اس کی بات سن کر شدید غصہ آیا تھا۔اسے یقین نہیں تھا کہ وہ ایسا کرے گی۔کیونکہ سبرین نے شہزام کے ساتھ رشتہ آگے بڑھانے کے لیئے بہت ساری کو شش تھی۔اسی لیئے شہزام بے یقین تھا کہ وہ نہیں جائے گی۔
سبرین نے اسے مکمل نظر انداز کیا اور اس کی گرفت سے بازو جھٹکے سے چھڑاتی فلیٹ کی طرف تیز تیز قدموں سے بڑھ گئی۔
کمرے میں پہنچ کر اس نے بیگ اٹھایا۔اور جو بھی گنتی کے کپڑے تھے وہ بیگ میں ٹھونسنے لگی۔
شہزام دروازے کو دیکھنے لگا۔پھر مایوس ہوکر اپنی قمیص کے اوپری دو بٹن کھول دیئے اسے خود اپنی حالت سمجھ میں نہیں آرہی تھی کہ اسے کیا محسوس ہو رہا ہے؟(کیا اسے سبرین کو روکنا چاہیئے؟ یہ عورت اداکاری میں یقیناً بہت اچھی تھی۔اسے آج بھی اپنی غلطی نظر نہیں آئی۔اگر وہ کسی اور مرد کے ساتھ گھر نہ آتی تو وہ اسے کبھی اس طرح نہ ڈانٹتا۔لیکن۔۔۔۔)
سبرین نے سوٹ کیس بند کیا۔اور اس کا کریڈٹ کارڈ سامنے ٹیبل پر رکھ دیا۔
“میں نے اس میں سے اپنی ذات پر ایک روپیہ تک خرچ نہیں کیا۔جو بھی خرچہ کیا وہ سب گھر کے روزانہ اخراج کے لئے تھا۔”
اس کی بات پر شہزام نے دانت پیسے۔
“بہت خوب کہا سبرین بیگم ، اور وہ جو میں نے تمہارے روز کے کھانے پینے ،اور ہاسپٹل میں داخل ہونے پر خرچ کیا اس کا کیا؟ “اس نے سرد مسکراہٹ سے کہا۔
سبرین نے اس کی بات پر سر اٹھا کر اسے حیرت سے دکھ سے دیکھا۔ (یہ آدمی اتنا مطلبی کیوں ہے؟ کیا ہوتا اگر وہ اتنا مطلبی نہ ہوتا۔لیکن خوبصورت چہرے کے پیچھے چھپا ہوا ایک خود غرض شخص تھا۔)
اسے یاد آیا کہ زین سے بچاتے ہوئے شہزام نے اسے کس طرح گلے لگایا تھا۔کس طرح اس کے لیئے فکرمند نظر آیا تھا۔
کیا وہ آج سے پہلے اندھی تھی؟
ہاں، یقینی طور وہ اندھی ہوگئی تھی۔تبھی تو پہلے ایزد کے لئے فیلنگز رکھی۔اور بعد میں شہزام جیسے شخص سے محبت کر بیٹھی۔
“اس کے لیئے تم کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔مجھے کل جیسے ہی ایڈوانس پے ملے گی۔ میں تمہارا حساب بے باک کردوں گی۔” ایک سرد آہ کے ساتھ اس نے بناء اس کی طرف دیکھے سوٹ کیس گھسیٹا۔اور دروازے کی طرف قدم بڑھائے۔
اسے جاتے دیکھ کر فدی بلی مایوس سی اس کے قریب آکر میاؤں میاؤں کرنے لگی۔
سبرین نے جھک کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
“مجھے معاف کرنا فدی۔میں تمہارا اور خیال نہیں رکھ سکتی۔ اپنا خیال خود رکھنا۔”آنسو بے اختیار جھکی آنکھوں سے گر کر اس کے گال بھگونے لگے۔
وہ اٹھی اور بہتے ہوئے آنسو اپنی دائیں ہتھیلی کی پشت سے پونچھ لیئے۔
“فدی ادھر آؤ۔” پیچھے سے شہزام کی دھاڑ سنائی دی۔
(اس نے سوچا سبرین محض دکھاوا کررہی ہے۔وہ پھر واپس آ جائے گی۔)
” سبرین ،جا رہی ہو۔لیکن۔۔۔اپنے فیصلے پر افسوس مت کرنا۔ کیونکہ ایک بار جب تم یہ دہلیز پار کرلو گی۔ تو میں تم کو بالکل بھی واپس نہیں لے کر آؤں گا چاہے تم اس کے لیئے گھٹنوں کے بل گر کر بھیک مانگتی رہو۔”تپا تپا سا لہجہ چبا چبا کر الفاظ کہے گئے۔
“پریشان مت ہو۔کیونکہ میں ایسا نہیں کروں گی۔”
اس نے اپنے قدم اٹھائے۔اور بناء پیچھے دیکھے دہلیز پار کرلی۔
دروازے سے باہر نکلتے ہی اسے اپنے پیچھے کسی چیز کے ٹوٹنے کی زوردا آواز سنائی دی۔جیسے کسی نے اشتعال میں آکر کچھ اٹھا کر دیوار پر دے مارا ہو۔لیکن۔۔۔اب کیا فرق پڑنا تھا!!
٭٭٭٭
سبرین بہرحال اب ہر بوجھ سے آزاد ہوچکی تھی۔وہ سیدھی فریا کے گھر آگئی۔ رہ کر بس وہی اس کا آخری ٹھکانا بچتا تھا۔فریا نیند سے اٹھ آئی تھی۔ اس کے بال الجھے ہوئے تھے۔ اور آنکھیں کچی نیند کے خماری سے بمشکل کھل پا رہی تھیں۔اس نے جمائی پہ جمائی لیتے اسے حیرت سے دیکھا۔
“پھر سے جھگڑا کر آئی ہو؟ اب تم کتنے دنوں کے لیئے الگ ہوئی ہو؟ “
“اس بار کافی سیریس معاملہ ہے۔میں واپس نہیں جا سکتی۔” سبرین نے دروازے کے پاس بنے کپ بورڈ سے گھر کے سلیپر اٹھا کر بدلے اور اندر آگئی۔
“تم۔۔۔مذاق کررہی ہونا؟ اس شادی کے لیئے تم نے کتنی قربانی دی ہے سبی۔اب اس طرح اتنی جلدی ذہن کیسے بنالیا؟”فریا کی حیرت پر سبرین کے زرد ہونٹوں پر زبردستی مسکراہٹ آئی۔
“ضروری نہیں فریا کہ ہر ڈیل سے فائدہ ہی پہنچے۔میں بس یہی سمجھوں گی کہ میری انویسٹمنٹ ناکام گئی۔”فریا کا منہ کھل گیا۔
“کیا۔۔۔۔؟ تم سریس تو ہو؟”فریا کی آنکھیں پٹ سے کھل گئیں۔
“ہممم، بالکل۔” سبرین نے فریا سے زیادہ جیسے خود کو مطمئن کیا تھا۔اور تھکی تھکی سی صوفے پر گر گئی۔
“میں بہت بہت تھک گئی ہوں فریا،حقیقتاً۔۔۔بہت تھک گئی ہوں۔”تھکی تھکی اور رندھی ہوئی آواز میں بمشکل بول پائی۔جیسے خود سے مخاطب ہو۔
” تم کو تو بخار لگ رہا ہے۔ ” فریا حیران رہ گئی اس کی زرد پڑتی رنگت اور کمزوری اس سے مخفی نہیں رہی۔
“ہہممم۔” سبرین اپنے آنسو روکنے کی کوشش میں جیسے بے حال ہوئی۔(ہر ایک نے اس کی حالت نوٹ کی تھی۔یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص نے بھی ۔لیکن جس کو کرنی چاہیئے تھی اس نے نہیں کی تھی۔جبکہ میں صرف اس سے ہی چاہتی تھی کہ میرا خیال رکھے۔بھلے وہ ایزد کا ماموں تھا۔)
فریا اس کے پاس بیٹھ گئی اور بغور اس کے تھکے تھکے زرد چہرے کو دیکھا۔اس نے واقعی ہار مان لی تھی۔وہ دونوں بچپن کی بہترین دوستیں تھیں۔وہ کیوں نہ اس کی حالت سمجھتی؟ ایک تھکی تھکی سی آہ اس کے ہونٹوں سے نکلی۔
“بھول جاؤ اس بات کو، مجھے تمہارا فیصلہ اچھا لگا۔تم کیوں نہیں میرے ساتھ رہتی؟ میں ویسے بھی اکیلی رہ رہی ہوں۔”فریا نے اس کے ہاتھ تھامے۔
“نہیں یہ ٹھیک نہیں لگتا۔تمہارا کزن بھی رہتا ہے یہاں۔بھلے وہ کبھی کبھی آتا ہو۔لیکن ۔۔۔یہ درست نہیں لگتا۔” سبرین نے انکار کیا۔
اس کی بات پر فریا نے اپنی دوست کو گھور کر دیکھا۔
“وہ ہفتے میں دو بار ہی کمپنی کے کام سے آتا ہے۔تمہیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔”فریا نے ٹھنڈی سانس بھری۔
“تم آرام سے کچھ دن رہو۔پھر میں تمہارے لیئے کہیں کوئی جگہ دیکھتی ہوں۔کیونکہ ایزد بھی تمہارا کئی بار یہاں آکر پوچھ چکا ہے۔لیکن اب وہ نہیں آتا۔”
اس کے ذکر پر سبرین کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ آئی۔
“میں شرط لگاتی ہوں۔اب وہ صرف اور صرف آبش کے بارے میں ہی سوچتا ہے۔”
“بہت ہی کوئی اسٹوپڈ آدمی ہے یہ ایزد۔اس کی منگنی بھی کچھ دنوں میں متوقع ہے۔کیا تم واقعی میں اس کی منگنی میں جاؤ گی؟”فریا نے اسے پریشانی سے دیکھا۔
“ہاں، لیکن۔۔۔اپنی دادی ماں کو سالگرہ کی مبارک باد دے کر میں جلدی ہی واپس آجاؤں گی۔”
“مجھے ڈر ہے کہ انکل یزدانی تمہارے ساتھ پھر نہ کوئی چال چل جائیں۔ یہ شرم کی بات ہے کہ میں اس دن تمہارے ساتھ نہیں چل سکتی کیونکہ اس دن میرا ٹیسٹ ہے۔لیکن میرا کزن پرواز فنکشن اٹینڈ کرے گا۔میں اسے کہہ دوں گی تمہارے ساتھ رہے۔”فریا اپنی دوست کے لیئے سچ میں پریشان تھی۔وہ نہیں چاہتی تھی پچھلے واقعے جیسا کوئی واقعہ نہ سبرین کے ساتھ ہوجائے۔
( سبرین نے غیر معمولی طور پر خود کو پرسکون محسوس کیا۔اب کسی بات سے کوئی فرق نہیں پڑنا تھا، شہزام کو انتقامی نشان کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ اب کسی کام کا نہیں تھا۔
وہ اب ہر طرف سے سکون میں آچکی تھی۔ اس سے پہلے وہ موت کو قریب سے چھو کر زندگی کی طرف پلٹ آئی تھی۔ اس کے وقار کو بھی بری طرح سے پامال کیا گیا تھا۔ اب۔۔۔ اب کوئی چیز اسے نہیں ڈرا سکتی تھی۔
اس کے علاوہ، اب اسے شہزام کو بھی سارا حساب واپس لوٹانا تھا۔)
٭٭٭٭
