Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rozan e Zindaan Episode 22

“آپ کو پتا ہے، ایک مرد واقعی میں کسی عورت کی پرواہ تب کرتا ہے،جب وہ اس پر اپنا حق ملکیت سمجھتا ہو۔ وہ بالکل بھی نہیں چاہے گا کہ اس کی عورت ایسا کوئی اشتعال انگیز لباس پہنے۔جس سے دوسرے مرد متوجہ ہوں۔اس کو اس طرح کے لباس میں دیکھنے کا حق صرف اسی کا ہے۔کسی غیر کو نہیں۔ وہ نہیں چاہے گا اس کی ملکیت میں آئی ہوئی عورت کو دوسرے بھی اس نظر سے دیکھیں۔جس طرح سے دیکھنے کا حق صرف اس کا ہے۔”

اسٹوڈیو مینیجر نے مسکرائی۔ “یہاں برسوں سے کام کرنے کے بعد میں لاتعداد مردوں سے ملی ہوں۔ تبھی میں کردار کو اچھی طرح جج کرسکتی ہوں۔”

اس کی باتیں سن کر  سبرین  کے دل میں امید کا شعلہ سا بھڑکا تھا۔ کیا واقعی۔۔۔ شہزام  نہیں چاہتا تھا کہ دوسرے لوگ اسے اس طرح کے بھڑکتے لباس میں دیکھیں؟

‘ایسا واقعی ممکن تھا؟’

سبرین  کی سوچ بدلی تو ایک پیاری سی دل میں گدگدی سی ہونے لگی۔چہرہ مسرت سے چمکنے لگا۔

پھر اس نے ایک سفید رنگ کی خوبصورت اور پروقار پیروں کو چُھوتی ہوئی میکسی پہن لی۔جس نے اس کی دودھیا رنگت پر رَج کر نِکھار پیدا کردیا۔وہ جَچ رہی تھی۔پریوں جیسا حُسن رکھنے والی  سبرین  آج سُفید لباس میں بِجلیاں گِرانے کو تیار تھی۔لیکن اسے تو بس ایک ہی دل کو ہرانا تھا۔ایک ہی شخص کو فتح کرنا تھا۔ایک ہی کے دل پر راج کرنا تھا۔اسے بس اس کی پرواہ تھی۔

وہ میکسی کو دھیرے سے ہاتھ سے اٹھائے باہر آئی۔غیر متوقع طور پر  شہزام  سُوری سیڑھیوں کی ریلنگ سے ٹیک لگائے سگریٹ کے کش پہ کش لگائے جارہا تھا۔ اس کی پیشانی پر تفکرات کے جالے تھے۔ اور چہرے پر الجھن صاف نظر آرہی تھی۔

سبرین  نے اس سے پہلے کبھی اسے سگریٹ پیتے نہیں دیکھا تھا۔لیکن یہ الگ بات کہ اس کا سگریٹ پینا  اسے بالکل بھی برا نہیں لگا۔بلکہ اسے یہ بھی اس کی “خوبی” لگ رہی تھی۔وہ بے اختیار اپنی سوچوں سے چونکی ۔”خوبی؟” “تو کیا وہ اس سے واقعی بھی محبت کر بیٹھی ہے؟اسے سچ میں دل دے بیٹھی ہے؟” کوئی کسی کو اس قدر پیارا تب ہی لگتا ہے جب آپ اس سے محبت کرتے ہوں۔اور محبت کرنے والوں کو کسی کی خوبیوں یا خامیوں سے مطلب نہیں ہوتا۔محبت ان سب چیزوں سے ماورا ہوتی ہے۔محبت کو بس وہ ایک شخص ہی چاہیئے ہوتا ہے ۔وہی ایک شخص جو اس کی پوری زندگی بن چکا ہوتا ہے۔جس سے روح کا رشتہ بندھ چکا ہوتا ہے۔جس کو دیکھ کر بس سانس کی ردھم چلتی ہے۔وہی ایک شخص۔

وہ آہستہ آہستہ میکسی اٹھاتی، خود کو الجھ کر گرنے سے بچاتی اس کے پاس آئی۔

“شامی ی، کیا یہ ڈریس ٹھیک ہے؟ “دھیرے سے اس کی آستین کھینچی۔

شہزام  بے اختیار اس کی رسیلی آواز پر مُڑا۔ سگریٹ اس کی انگلیوں سے گر گیا۔نظروں کا ارتکاز اس کا مکمل وجود تھا۔نگاہیں چہرے کے خوبصورت نقوش سے ہوتی ہوئیں اس کے سفید پریوں جیسے لباس میں اٹک گئیں۔تھم گئیں۔۔وہ اسے پہلے سے زیادہ حسین لگی۔یہ لباس اس پر پہلے سے زیادہ سج رہا تھا۔ شہزام  کا دل خوبصورت احساسات سے بھر گیا۔وہیں اب اسے باہر لانے پر افسوس ہونے لگا۔اب اس کا دل چاہ رہا تھا، اسے ساری دنیا سے چھپا کر رکھ لے۔

“چلو۔۔۔”  شہزام  نے سگریٹ کی ڈبی واپس پینٹ کی جیب میں ڈالی، اور سیڑھیاں اترنے لگا۔

پیچھے سے اپنا ڈریس انگلیوں میں اٹھاتی  سبرین  نے بھی اس کے قدم سے قدم ملائے۔ شہزام  نے بے اختیار گردن موڑ کر اس کو ڈریس پکڑے چلتے دیکھا۔ جو الجھنے سے بچنے کے لئے کچھ پریشان سی تھی۔ وہ قریب آیا۔اور بناء اس کے سمجھنے سے پہلے دونوں بازوؤں میں اٹھالیا۔ سبرین  تو دھک سی رہ گئی یہ اس کی توقع سے زیادہ تھا ۔۔بہت زیادہ ۔۔وہ لاشعوری طور پر اس کی گردن میں بازو ڈال گئی۔نظریں اس کی خوبصورت شیوڈ ٹھوڑی پر جم گئیں۔وہ اس کی خوبصورتی دیکھ کر بن پیئے بہک رہی تھی۔شرم کی لالی سے اس کے رخسار دہک اٹھے تھے۔ شہزام  نے یہ منظر دلچسپی سے دیکھا۔ اور مسکراتا اسے یونہی اٹھائے سیڑھیاں اترنے لگا۔

“تم نے مجھے وہ ایکوا ڈریس کیوں نہیں پہننے دیا؟ “یونہی اس کے بازوؤں  میں   سبرین  نے ادا سے کہا۔”اسی لیئے کہ تم نہیں چاہتے تھے کہ میں وہ بھڑکیلا لباس پہنوں۔تم مجھ سے محبت کرتے ہو،تمہیں میرا خیال ہے؟ “دھیمے لہجے میں مان سا تھا۔ایک امید سی تھی۔

لیکن دوسرے طرف ایک جامد خاموشی سی طاری ہوگئی تھی۔

شہزام  نے اپنا سر جھکا کر اپنی گہری آنکھوں سے اس کی چمکتی آنکھوں میں جھانکا۔اور صرف ہولے سے مسکرادیا۔

” تم دن میں ہی بن پیے بہک گئی ہو کیا۔ہممم؟”

سبرین  نے دانتوں تلے زبان داب لی۔شاید وہ اسے دیکھ کر واقعی میں بہک گئی تھی۔

سیڑھیاں اتر کر وہ اسے سیدھا گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بٹھا گیا۔

“ان سب باتوں کے باوجود تکنیکی طور پر تم میری “بیوی”ہو۔میں بالکل نہیں چاہوں گا کہ تم ایسا بے حیائی والا لباس پہن کر میرا لوگوں میں مذاق بنواؤ۔”اس نے طنز سے مسکراتے اسے دیکھا۔

اس کے جملوں پر  سبرین  کے چہرے کا رنگ سفید پڑ گیا۔کچھ دیر پہلے کے احساسات  پر برف پڑ گئی۔ چہرے کی چمک ماند پڑگئی تھی۔اس کا دل بالکل نہیں چاہا کہ اس بات پر اس سے بحث کرے۔وہ خاموش رہ گئی۔

٭٭٭٭

گاڑی ابراہیم مینشن کے وسیع، و عریض کار پارکنگ میں رکی ۔جہاں شہر کے امیر طبقات کی قیمتی گاڑیاں پارک تھیں۔

سبرین  وہاں پر جعفر یزدانی اور ایزد کی گاڑیاں نہ دیکھ کر کچھ مایوس ہوئی۔وہ چاہ رہی تھی۔ایزد اس کو اپنے ماموں کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر آتا دیکھے۔لیکن اس کی معصوم خواہش پوری نہیں ہوئی تھی۔

وہ  شہزام  کے بازو میں بازو ڈالے انٹرنس کی طرف بڑھی۔

جبھی  شہزام  کی گرم سانسیں اس کا گال جھلسانے لگیں۔کانوں میں سرگوشی سی ابھری۔

“لوگوں میں ایسا ظاہر کرنا جیسے تم میری گرل فرینڈ ہو۔یاد رکھنا یہ بات۔” ساتھ ہی تنبیہی گھوری دے کر یاد دہانی کروائی گئی۔

سبرین  کی آنکھیں اتنی سی بات پر بھی چمک اٹھیں۔جب دوسرے ہی پل  شہزام  بھیگا کمبل بنا۔

“زیادہ خوش فہم مت ہو۔ میں نہیں چاہتا، دادا ابراہیم مجھ پر شادی کے لئے زور بھرے۔”

تو اس معاملے میں وہ فقط ایک “ڈھال”تھی؟ وہ لاجواب سی ہوگئی۔کوئی تعجب کی بات نہیں تھی کہ وہ اسے زندگی میں پہلی بار اپنے ساتھ باہر لایا تھا۔

“ٹھیک ہے۔۔۔میں تمہاری ہر مشکل سے بچنے میں مدد کروں گی۔قطع نظر اس کے کہ۔۔۔۔۔”اس سے پہلے کہ وہ اپنی پرفارمنس پوری کرتی۔ایک لڑکی سرخ رنگ کا بھڑکتا گاؤن پہنے تفخرانہ چال چلتی مسکراتی ہوئی  شہزام  کے طرف آئی۔

“اوہ شامی،کتنے عرصے کے بعد آپ کو دیکھ رہی ہوں۔”

‘شامی۔۔؟” سبرین  تو اس قدر بے تکلفی سے اندازِ تخاطب پر حیران رہ گئی۔وہ زیادہ دیر اپنے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجا نہ سکی۔

یہ لڑکی ابراہیم خاندان کی چھوٹی پرنس عدیلہ ابراہیم تھی۔ابراہیم مینشن کے وارث شیث ابراہیم کی چھوٹی بہن ۔

سبرین  نے اسے ایک بار کسی دعوت میں دور سے دیکھ رکھا تھا۔

اس کے اس قدر کُھلے کُھلے پیار کے اظہار پر  سبرین  چونک اٹھی۔اسے لگا کوئی دوسری عورت اس کے مدِ مقابل آگئی ہو۔

“شامی، دادی کیسی ہیں؟  کتنا عرصہ ہوگیا ہے میں نے ان کو نہیں دیکھا۔مجھے دادی کی بہت یاد آتی ہے۔”وہ ایک ادا سے مسکرا کر بولی۔

“وہ ٹھیک ہیں۔” شہزام  نے بناء اسے دیکھے لاپرواہی سے کہا۔

اس پر عدیلہ نے منہ بنایا۔

“شامی، کتنی مضحکہ خیز بات ہے۔آپ اتنے عرصہ سے میلبورن میں موجود ہیں لیکن کبھی مجھ سے ملنے کی کوشش نہیں کی۔کیا آپ کو یاد ہے آپ نے میری وائلن کی پرفارمنس دیکھنے کا وعدہ کیا تھا؟ لیکن آج تک اپنا وعدہ نہیں نبھایا۔”یہ کہتے ہی ایک ادا سے مصنوعی غصے سے اسے گھورا۔

سبرین  کو حسد نے حصار میں لے لیا۔وہ اندر سے بھڑ بھڑ جلنے لگی۔دل ہی دل میں اس کی اداؤں پر دانت پیستی رہی۔وہ بھی ساتھ کھڑی تھی۔لیکن اس نخریلی حسینہ نے جیسے اسے ان دیکھا وجود سمجھ لیا تھا۔

“کف۔۔۔کف ۔ شہزام ، کیا تم اس کا مجھ سے تعارف نہیں کرواؤ گے؟ کیا یہ۔۔۔ ؟”

سبرین  نے بے اختیار کھانس کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔

پھر  شہزام  کا بازو پیار سے اور حق سے تھام کر مسکرا کر ایک ادا سے اس نخریلی حسینہ کو دیکھا۔

شہزام    سبرین  کے لہجے میں جلن محسوس کرکے دل میں مسکرادیا۔

“یہ شیث ابراہیم کی چھوٹی بہن ہے۔عدیلہ ابراہیم ۔”

“یہ کون ہے اور اس طرح حق سے آپ سے کیوں بات کررہی ہے؟” عدیلہ ابراہیم کے چہرے پر  سبرین  کے لئے تحقیر تھی۔

“ہائے۔ مس عدیلہ ابراہیم۔میں ان کی دوست ہوں۔آج سے پہلے آپ نے مجھے یقیناً نہیں دیکھاہو گا۔لیکن۔۔میرا نام ضرور سنا ہوگا۔میں  سبرین  یزدانی ہوں میلبورن کی  سب سے حسین لڑکی۔” سبرین  نے اپنے گلابی لپ گلو سے سجے خوبصورت ہونٹ ایک ادا سے سکوڑتے ہوئے اس نخریلی حسینہ کو مسکراتی نظروں سے دیکھا۔

اس کے شیم لیس ریمارکس پر  شہزام  بس دانت پیس کر رہ گیا۔یہ عورت نہ جگہ دیکھتی ہے اور نہ موقع جو کے اس طرح کے تعارف کے لیئے بالکل بھی موزوں نہیں تھا۔

“اوہ۔۔۔۔۔”عدیلہ ابراہیم کی آنکھیں حیرت اور طنز سے پھیل گئیں۔

“معاف کرنا۔۔۔میں نے خوبصورت عورتوں میں تو تمہارا نام نہیں سنا، البتہ۔۔۔ حال ہی میں، جعفر یزدانی کی  بیٹی ” سبرین  یزدانی” کی حماقت کا ضرور سنا ہے۔”

یہ کہہ کر اسے حقارت سے نیچے سے اوپر تک دیکھا۔

“تو تم ہو وہ ۔۔۔؟ جس نے اپنی ولیج سے آئی ہوئی بہن،جوشاید۔۔۔بچپن میں اغوا ہوئی تھی،سے حسد کی وجہ سے اس کام چوری کیا تھا۔جس بناء پر انکل یزدانی نے تمہیں گھر سے نکال دیا۔ ہے نا ؟”پھر  شہزام  کو تعجب سے دیکھا۔

“مجھے تو حیرت ہے شامی  کی اس ٹائپ کی دوست ہوسکتی ہے؟”

اس کے حقارت آمیز جملوں سے  سبرین  کو لگا جیسے کسی نے شیشے کے ٹکڑے سے اس کا دل چیر دیا ہو۔اس کا رنگ پھیکا پڑگیا ۔آنکھوں کی چمک مدھم ہوگئی۔اس نے سر جھکا دیا۔اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔جس سے اس لڑکی کا منہ بند کرسکتی۔

“عدی۔۔۔” شہزام  نے تنبیہی گھوری دی۔”سوچ سمجھ کر بولا کرو۔یہ میری دوست ہے۔”

“ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ ” عدیلا کا رنگ فق ہوگیا۔اس کے ہونٹ پھڑپھڑائے۔(یہ عورت  شہزام  کی دوستی کے فریم میں فٹ نہیں بیٹھتی تھی۔وہ صرف خود کو ہی اس مسند کا حقدار سمجھ رہی تھی۔)

“یہ ۔۔۔یہ کسی طرح بھی آپ کے اعلیٰ اسٹیٹس سے میچ نہیں کرتی۔”

“کیوں؟”  سبرین  نے سر اٹھا کر اسے استفہامیہ انداز سے دیکھا۔نم آنکھوں میں برقی سی کوندی تھی۔

“میں کیوں اس کے اسٹیٹس سے میل نہیں کھاتی؟ کیا میں خوبصورت نہیں ہوں؟ ہم دونوں ساتھ کھڑے ایک پرفیکٹ کپل نظر آتے ہیں۔اور ہمارے فیوچر میں آنے والے بچے بھی ہماری طرح پرفیکٹ دکھائی دیں گے۔” سبرین  نے جیسے اسے جلادیا۔

عدیلہ کے ہونٹ اس بات پر ناگواری سے آپس میں پیوست ہوگئے۔

دونوں کو اس طرح بحث کرتے دیکھ کر  شہزام  کا سر دکھنے لگا تھا۔اس نے اپنی پیشانی زور سے مسلی۔اور دوسرے ہاتھ سے  سبرین  کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے ساتھ کھینچا۔

“عدیلہ تم کو مہمانوں سے اپنا برتاؤ سیکھنا چاہیئے۔” پھر  سبرین  کو دیکھ کر کہا۔

“ہمیں دادا کو برتھ ڈے وش کرنا چاہیئے،ہم چلتے ہیں۔”بات ختم کرتے ہی، بناء عدیلہ کے جواب کا انتظار کیئے وہ  سبرین  کو کھینچتا آگے بڑھا۔

سبرین  نے تاسف سے گال پھلا کر ہوا باہر نکالی۔پھر سر نفی میں ہلادیا۔لیکن کوئی بات نہیں کی۔

صحت مند غذا اور پراپر آرام سے اس کے پچکے ہوئے گال اب بھر گئے تھے۔ان میں سرخی سی جھلکتی تھی۔جو اسے اور زیادہ کیوٹ بنارہی تھی۔

شہزام   اس کے گال کھینچنے سے خود کو نہ روک سکا۔

“عدی ابھی بچی ہے۔بچپن سے ہی وہ سب کی لاڈلی رہی ہے۔تم خود کو اپنے معیار سے نہ گراؤ۔”

اس کی بات پر  سبرین  کا دل سخت خراب ہوا۔(کیا مطلب ہے اس بات کا؟ وہ اس لڑکی کی تعریف کررہا تھا؟)

“ڈونٹ وری،میرا ارادہ بالکل بھی خود کو عدی کے معیار سے گرانا نہیں تھا۔”

“کیا مطلب؟  کیا تم خود کو اس کے معیار سے نہیں گرارہی تھی؟” شہزام  نے ابرو اٹھا کر کہا۔

“جب تم اس سے اتنے قریب رہے ہو تو اسے اپنی گرل فرینڈ کیوں نہیں بناسکے؟آفٹر آل تم پیار سے اسے “عدی”بلا رہے تھے۔میں تو صرف۔۔۔ ایک بلی کی کیئر ٹیکر ہوں۔یا کوئی اور۔۔جسے ” سبی”یا  “رین” تک نہیں بلایا جاسکتا ۔”وہ نا چاہتے بھی جلن سے شکوہ کرگئی۔

شہزام  بس دیکھ کر رہ گیا۔وہ اس کی جلن صاف محسوس کررہا تھا۔

“تو۔۔۔۔۔یہ سب اسی لیئے تھا۔۔۔کہ میں نے اسے عدی کہہ کر بلایا اور تمہیں ” سبی”نہیں بلایا؟”اس نے  سبرین  کے چہرے پر نظریں گاڑ دیں۔

“آف کورس، بالکل نہیں۔کیا میں تمہیں اتنی چھوٹی سوچ کی لگتی ہوں؟ ” وہ مصنوعی مسکراہٹ سے بات گھماگئی۔

شہزام  نے خود کو بالکل بے بس محسوس کیا۔

“دیکھو سبی۔عدی،میرے اور شیث کے ساتھ بچپن سے ہی اس بڑی سی جاگیر میں کھیل کود کر بڑی ہوئی ہے۔وہ میرے لیئے چھوٹی بہنوں جیسی ہے۔”

سبرین   دنگ نظروں سے اسے دیکھے گئی۔(کیا وہ اسے وضاحت دینے کی کوشش کررہا تھا؟ )

دونوں باتوں کرتے سیڑھیاں چڑھ کر دادا کے کمرے میں  پہنچ چکے تھے۔جو اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلا کر پاس بلارہے تھے۔

“شامی بچے، اتنے عرصے سے میلبورن میں رہتے ہوئے بھی اپنے بوڑھے دادا کی یاد نہیں آئی؟ بڑے بے مروت ہو یار۔۔۔کیا اسی لیئے کہ میں بوڑھا ہوگیا ہوں؟ “

“بالکل بھی نہیں دادا حضور، آپ تو انکل ابراز (شیث کے فادر)سے بھی جوان ہیں۔” شہزام  نے پیار سے ان کے بوڑھے ہاتھ تھامے۔۔اور گفٹ پیش کیا۔

دادا نے اپنی نظریں  سبرین  پر فوکس کیں۔جس پر  شہزام  نے تعارف کروایا۔

“دادا حضور۔یہ میری دوست ہے”

“اوھ۔۔۔تو بالآخر تم نے خود ہی اپنا پارٹنر تلاش کرلیا۔بڑے دکھ کی بات ہے ۔۔۔ورنہ آج میں تمہاری جوڑی تلاش کرتا۔یہاں آج میلبورن کی بڑی بڑی فیملیز آئی ہیں۔”

یہ کہتے ہی ہاتھ میں تھاما گفٹ  سبرین  کی طرف بڑھایا۔

“بیٹا ۔تم سے پہلی بار ملا ہوں، تو بوڑھے دادا کی طرف سے یہ گفٹ قبول کرو۔اور۔۔۔میرے  شہزام  کا خیال رکھنا۔اس نے اپنی زندگی میں کوئی خوشی نہیں دیکھی۔”

سبرین  نے ہچکچا کر  شہزام  کو دیکھا۔(آیا اسے قبول کرے یا نہیں؟)

شہزام  نے نظروں سے اسے اشارہ کیا کہ (“قبول کرو”)

جس پر،  سبرین  نے لب بھینچ کر ہلکی مسکراہٹ سے گفٹ تھام لیا۔

شہزام  نے اس کے شانوں پر تھپکا۔

“تم لابی میں میرا انتظار کرو، میں آتا ہوں۔”

سبرین  نے اثبات میں سر ہلایا اور دادا کو سر خم کرکے مسکرا کر دیکھتی باہر نکل گئی۔

جبھی سیڑھیاں اترتے پھر سے عدیلہ سے جا ٹکرائی۔

“کیا تم جان بوجھ کر یہاں میرا انتظار کررہی تھی مس عدیلہ ابراہیم؟ ” سبرین  نے اچنبھے سے پوچھا۔

لیکن۔۔۔حیرت کی بات کہ عدیلہ ابراہیم کے ہونٹ مسکرارہے تھے۔

٭٭٭٭٭٭

“یہ تو بہت اچھا ہوا کہ تم جان گئی۔اور۔۔ مجھے بات گھمانا بالکل پسند نہیں۔ٹو دا پوائنٹ بات کروں گی۔”

عدیلا ابراہیم نےتکبرانہ انداز سے ٹھوڑی اٹھائی۔

“تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ۔۔۔  شہزام  سے دور رہو۔وہ کوئی چیز نہیں ہے جسے تم آسانی سے حاصل کرسکو۔”

“اچھااا۔تو کیا ہوگا، اگر میں اس سے دور نہیں ہوئی؟” سبرین  نے ایک ابرو اٹھا کر اس نک چڑھی حسینہ کو تجسس سے دیکھا۔”لگتا ہے، تم اس میں انٹرسٹڈ ہولیکن۔۔۔وہ تم کو چھوٹی بہن کی طرح ہی ٹریٹ کرتا ہے۔”اس کی بات پر عدیلا اندر سے جل بھن گئی۔

“تو کیا ہوا؟ معزز خاندانوں میں شادی سے پہلے اس طرح سے سمجھنا عام بات ہے۔ شہزام  کے خاندان میں اسٹیٹس کو بہت اہمیت حاصل ہے۔وہ تم جیسی لڑکی کو قبول نہیں کریں گے۔کیونکہ تم کسی طرح سے بھی ان کے اسٹیٹس سے میچ نہیں کرتی۔وہ تمہارے ساتھ جسٹ ٹائم پاس کر رہا ہے۔”اس نے اسے اوپر سے نیچے حقارت سے دیکھ کر طنز کیا۔پھر گردن اٹھا کر چلی گئی۔

سبرین  اس کی باتیں سن کر دھک سی رہ گئی تھی۔اس نے اپنے رشتے کو اس نہج پر بالکل نہیں سوچا تھا کہ اس کے گھر والوں کا کیا ردِعمل ہوگا۔حالانکہ اس کے پاس سب سے بڑا ثبوت نکاح نامہ کی صورت میں موجود تھا۔

ابھی وہ فکرمند سی یہی سوچ رہی تھی۔کہ فریا اسے ڈھونڈھتی ہوئی آگئی۔

“اففف یار۔۔کہاں گُم تھی؟  تھکا دیا تم نے۔۔کب سے ڈھونڈھ رہی تھی۔”

فریا نے اسے دیکھ کر سکون کی سانس لی۔وہ اپنے منگیتر کے ساتھ آئی تھی۔

سبرین  کی طرف سے جواب نہ پاکر فریا نے اسے بازو سے تھام کر ہلکا سا جھنجھوڑا۔

“یار۔۔ کہاں گم ہو؟  اور یہ تمہارے چہرے کا رنگ کیوں پھیکا پڑگیا ہے، عدیلا نے کچھ کہا ہے کیا؟ “

“نہیں ۔اٹس اوکے۔ فریا تم کب آئی؟ ”  سبرین  نے چونک کر خود کو سنبھال کر بات بدل گئی۔

“یہ  شہزام  بھائی کے کھانے میں ملانا۔بہت مشکل سے حاصل کی ہے۔” فریا نے اسے ایک شیشی دی جس میں نشہ آور چیز تھی۔جو اسے کھانے میں ملانی تھی۔

“اگر پینے کی چیز میں نہ ملاسکو تو کھانے کی چیز میں ملا دینا۔یاد رکھنا کہ اس کا اثر دو گھنٹے بعد ہوتا ہے۔”

“اس کا کوئی سائیڈ افیکٹ تو نہیں ہوگا نا؟ ”  سبرین  شیشی ہاتھ میں لیتے جھجھک گئی۔

“یار، جب میں کسی طریقے سے ہی سہی چیز ہینڈل کررہی ہوں، تو تم کیوں اتنی پریشان ہورہی ہو؟ کچھ نہیں ہوگا بالکل بھی صحت کو نقصان نہیں ہوگا۔”

“اگر اسے پتا چل گیا کہ میں نے کھانے میں کچھ ملایا ہے تو ۔۔۔وہ تو مجھ پر بہت غصہ ہوگا فریا۔”  سبرین  اندر ہی اندر سے بہت ڈر رہی تھی۔  شہزام  کا ردِعمل سوچ کر ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے۔

“وہ کیوں غصہ ہوگا بھلا ؟ اگر میں مرد ہوتی نا ،جو صبح آنکھ کھلتے ہی اپنے قریب ایک خوبصورت وجود کو دیکھتی تو یقیناً بہت سکون محسوس کرتی۔وہ بھی ایک عام مرد ہی ہے۔اور تم اس کی بیوی ہو۔کھا نہیں جائے گا تمہیں۔” فریا نے اسے آنکھ دکھائی ۔

سبرین  اس کے الفاظ پر جھوم گئی۔دل میں کہیں میٹھی میٹھی سی گدگدی ہونے لگی۔

تھوڑی دیر بعد ہی  شہزام  بھی واپس آگیا۔

راستے میں وہ کچھ مہمانوں سے اتفاقاً ٹکرایا تھا جنہوں نے اسے پینے کی آفر کی تھی لیکن  شہزام  مسکرا کر بڑی خوبصورتی سے ان کو منع کرگیا کہ “وہ محفلوں میں نہیں پیتا ۔”

یہ سب فریا دور بیٹھی دیکھ رہی تھی اور سچ میں دانت پیس رہی تھی۔اس کا منصوبہ کام نہیں کر رہا تھا۔

“ڈیم اٹ۔  کاروبار کے لحاظ سے،تمہارا شوہر ایک ایسا سنکی انسان ہے۔ جو مہمانوں کا بھی احترام نہیں کرتا۔  اس نے اب تک ایک بھی گلاس نہیں پیا۔  کتنا غرور ہے اس آدمی کو، اففف جو لوگ اسے نہیں جانتے وہ سمجھیں گے کہ وہ آسٹریلیا کے سب سے امیر خاندان سے ہے۔”

سبرین  بھی یہی سوچ رہی تھی کہ  شہزام  کافی مغرور ہے۔اس کے کردار کو دیکھتے وہ حیران ہورہی تھی کہ وہ بین الاقوامی کارپوریشن کی مدد کرنے میں کیسے کامیاب  ہوا؟ اپنی ظاہری شخصیت کی بناء پر یا اپنے ٹیلنٹ کی  بناء پر؟ وہ اس کی کتنی تعریف کرتی؟ یہ شخص دن بدن اپنی صلاحیتوں اور اپنے کردار کی پختگی کے لحاظ سے اسے متاثر کرتا جا رہا تھا۔

“ویل۔۔۔۔اب صرف تم خود کی صلاحیت پر ہی بھروسہ کرسکتی ہو۔”فریا نے اسے ہلکا سا آگے دھکیلا۔

شہزام  نے جلدی ہی  سبرین  کو دیکھ لیا۔جو خاموش سی اس کے پاس آ رہی تھی۔

وہ اس انتظار میں تھی کہ کس طرح  شہزام  دوسروں سے گھل مل جائے۔تاکہ وہ آسانی سے اس کے پینے کی چیز میں دوا ملاسکے۔

“کیا تم ان لوگوں سے نہیں ملو گے؟ میں فنانشل انڈسٹری کے کئی ٹائیکون دیکھ رہی ہوں ۔”

وہ اسے ان سے ملنے کے لیئے راضی کرنے لگی۔

“نہیں ۔۔مجھے ان سے ملنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔” شہزام  نے بے دلی سے کہا۔اور خود اسے ساتھ لے کر ایک ٹیبل پر آگیا۔ایک کرسی پر کھینچ کر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا۔

اس کی بات پر  سبرین  نے آنکھیں موند لیں۔

“کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے لیے کچھ مشروب لاؤں؟  لگتا ہے یہاں ہر طرح کے مشروبات ہیں۔”

“اگر تم پینا چاہ رہی تو جاؤ۔لیکن پھر گھر تمہیں اپنی انہیں ٹانگوں سے چل کر جانا پڑے گا۔اگر پی کر حواس کھو بیٹھی تو مجھے مت کہنا۔” شہزام  نے گھور کر وارننگ دی۔

اس کی بات پر  سبرین  ہچکچا کر رہ گئی۔کیا ہوتا اگر وہ اسے چھوڑ جاتا تو۔۔۔؟

کچھ دیر خاموش بیٹھے رہنے کے بعد  سبرین  نے اسے مسکرا کر یوں دیکھا جیسے کچھ یاد آگیا ہو۔

“اوہ۔۔ہاں۔۔کیا میں تمہارے لیئے کچھ کھانے کو لاؤں؟تم نے کب سے کچھ نہیں کھایا۔”

“ضرورت نہیں ہے۔” شہزام  نے ٹھپ جواب دیا تھا۔خود ایک بیرے سے کافی کا نگ لے کر سپ بھرنے لگا۔اسے بالکل بھی دوسری جگہ پر کھانے میں دلچسپی نہیں رہی تھی۔سوائے اس کھانے کے جسے  سبرین  پکاتی۔

جس پر  سبرین  ایک ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئی۔

“کیوں ضرورت نہیں؟  کھانا تو انسان کا ایندھن ہوتا ہے۔اگر تم کھانا نہیں کھانا چاہتے تو میں فروٹ لے آتی ہوں۔”یہ کہتے ہی اٹھ کر کھانے والی ٹیبل پر آگئی۔

اس نے چھپ چھپا کر کانپتے دل سے فروٹ میں دوا ڈال دی۔

واپس آکر کھانا  شہزام  کے سامنے ٹیبل پر رکھ دیا۔

پھر ایک  پیس اٹھا کر اس کے منہ کے قریب کیا۔

اس طرح کا برا کام وہ زندگی میں پہلی بار کررہی تھی۔ اسی لئے اندر سے بے سکون بھی ہورہی تھی۔

اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔خاص کر جب  شہزام  کی گہری نظریں اس کے چہرے پر فکس ہوئیں۔

سبرین  نے دل ہی دل میں قسم کھالی کہ کچھ بھی ہوجائے وہ  شہزام  کے ہزار انکار کے باوجود بھی یہ اسے کھلا کر دم لے گی۔

ایک لمحہ بعد، شہزام  نے سر جھکا کر اس کے ہاتھ سے پیس کھایا۔جو  سبرین  اس کے منہ کے آگے تھامے ہوئے تھی۔

” کھلاتی رہو۔”

سبرین  تو جیسے حیران ہوگئی۔وہ اس کے ہاتھ سے کھانا چاہ رہا تھا۔اور نظریں اس کے جازب نظر چہرے پہ جمی ہوئی تھیں۔(آں۔۔۔کیا اس کے اپنے ہاتھ نہیں ہیں؟ جو وہ اسے کھلانے کا حکم دے رہا تھا؟ وہ شش و پنج سے سوچے گئی)

اس کے باوجود بھی وہ اسے کھلانے پر مجبور تھی۔حالانکہ دل دھڑ دھڑ کررہا تھا۔آگے کا ردِعمل سوچ کر ہی اس کو ٹھنڈے پسینے آرہے تھے۔وہ خود کو مجرم محسوس کرنے لگی۔

فروٹ ختم ہوتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

“چلو اب گھر چلیں۔”

“ہم اس طرح ہی چلیں؟” سبرین  سے کوئی جواب نہ بن پڑا تو جھجھک  کر کہا۔جس پر  شہزام  نے چونک کر اسے عجیب جانچتی ہوئی نظروں سے دیکھا۔(کیا مطلب؟ )

ابھی صرف آٹھ بجے تھے۔اگر وہ اتنی جلدی اٹھ کر جاتے تو  سبرین  کو یقین تھا اس کا پول کھل جائے گا۔