Rozan e Zindaan By Raqs e Bismil Rozan-e-Zindaan: Modern Romance A Ruthless Love Story NovelR50476 Rozan e Zindaan Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Rozan e Zindaan Episode 23
“اوہ۔۔۔ابھی ٹھہرو نا۔ابھی تو محفل شروع ہوئی ہے۔” دھڑکتے دل کے ساتھ سبرین نے بات سنبھالنی چاہی۔
درحقیقت وہ یہاں ایک کیس کے سلسلے میں ہی آیا تھا۔اس بہانے دادا حضور کی سالگرہ بھی اٹینڈ کرلی۔اسے زیادہ ٹہرنا وقت کا زیاں لگ رہاتھا۔وہ کسی سے زیادہ گھلتا ملتا تو تھا نہیں اسی لیئے شہزام کو یہاں سے چلے جانا ہی بہتر لگا تھا۔
یہ سوچ کر کہ وہ چلنے پر مصر ہے۔ سبرین کے پاس اس کی بات ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔
کار میں بیٹھتے ہی سبرین نے وہ تحفہ اس کے جانب بڑھایا۔
“یہ اپنے پاس رکھو۔” شہزام نے دھیمے لہجے میں بناء اس کی طرف دیکھتے کہا۔ اور گاڑی اسٹارٹ کردی۔
“لیکن۔۔۔یہ بہت مہنگا ہے۔میں نہیں سمجھتی کہ یہ مجھے لینا چاہیئے۔”وہ الجھ گئی۔
دل میں اپنی کم مائیگی کا احساس بھی تھا۔
“ہممم۔۔۔یہ صرف تمہارے لیئے مہنگا ہے۔” شہزام پرسوچ انداز میں مسکرایا۔
اس کی مسکراہٹ دیکھ کر سبرین کو ایسا لگا جیسے وہ اس کی غربت کا مذاق اڑا رہا ہو۔
یہ تو وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔کبھی قسمت کا ستارہ عروج پر ہوتا ہے کبھی زوال پر۔زندگی کی ترازو میں، کبھی اوپر تو کبھی نیچے۔زندگی اتار چڑھاؤ کا نام ہے۔جو آج ہے وہ کل نہیں ہوگا۔جو آج کمتر ہوگا وہ کل کو برتری حاصل کرلیتا ہے۔یہی زندگی ہے۔
وہ کچھ نہ کہہ سکی سوائے سر جھکا کر نیچے دیکھنے کے۔ابھی گھر پہنچ کر اسے ایک اور طوفان سے منہ دینا تھا۔
فلیٹ پر پہنچ کر وہ دروازے میں ہی جھجھک کر کھڑی ہوگئی۔اور شہزام کو دیکھنے لگی جو اپنے کمرے میں لڑکھڑاتے قدموں سے جارہا تھا ۔ایک ہاتھ سے مسلسل پیشانی سہلائے جارہا تھا۔
سبرین کو احساسِ جرم نے لپیٹ میں لے لیا۔(کیوں کیا اس نے ایسا۔۔کیوں؟ کاش وہ فریا کی بات نہ مانتی!!!لیکن اب کیا ہوسکتا تھا۔؟ اففف۔۔۔سوری شہزام ۔مجھے معاف کردینا۔میں آئیندہ تمہارے ساتھ ایسانہیں کروں گی بس آج کی رات مجھے معاف کردینا۔)
کمرے میں پہنچ کر شہزام نے گرم شاور لیا۔ پھر اسٹڈی روم میں جاکر ویڈیو میٹنگ میں مصروف ہوگیا۔
ابھی میٹنگ کو آدھا گھنٹہ ہی ہوا تھا کہ شہزام کو اپنا پورا وجود جلتا محسوس ہوا۔جیسے کسی نے اس کے اندر آگ سی جلا دی ہو۔اس نے جلدی سے کوٹ اتارا۔لیکن گرمی تھی کہ بڑھتی ہی جا رہی تھی۔وہ کسی طرح بھی پرسکون نہیں ہو رہا تھا۔
“کیا ہوا؟ سر شہزام ؟ آپ کا چہرہ جلتا ہوا لگ رہا ہے۔طبیعت ٹھیک ہے؟”
دوسری طرف سے اس کے ماتحت نے حیرانی سے پوچھا۔اسے ویڈیو میں نظر آتے شہزام کی حالت بالکل ٹھیک نہیں لگی۔
“ہممم، میں اچھا نہیں محسوس کر رہا۔ باقی کی میٹنگ کل کریں گے۔” شہزام نے بے چینی سے کمپیوٹر آف کیا اور جلدی باتھ روم کی طرف بھاگا تاکہ ٹھنڈا شاور لے سکے۔
اسے لگا کسی نے اس کے ساتھ شرارت کردی ہے۔
جبکہ اس نے کچھ کھایا بھی نہیں تھا۔مشروب کو بھی ہاتھ نہیں لگایا تھا۔پھر۔۔۔۔؟
اسے یاد آیا کہ سوائے سبرین کے اس نے کسی کے ساتھ کچھ نہیں کھایا۔تو کیا سبرین ۔۔۔؟ اس نے دانت پیسے۔غصے سے اس کے جسم کی رگیں تن گئیں۔وہ اس سے اس طرح کی حرکت کی امید نہیں کرپا رہا تھا۔یہ بہت زیادہ تھا۔بہت زیادہ۔۔
“ڈیم اٹ۔ اس کی اتنی ہمت۔۔ !” اس نے ہاتھ کا مکا بنا کر دیوار پر زور سے دے مارا۔
باتھ روم کا دروازہ ایک زوردار آواز کے ساتھ کھلا جیسے لات مار کر دھکیلا گیا ہو۔ سبرین جو نیچے فرش پر میٹرس بچھا کر سونے کی تیاری میں تھی۔کرنٹ کھا کر اٹھ گئی۔ شہزام کو حیران نظروں سے دیکھا جو اسے ہی شعلہ بار نظروں سے گھور رہا تھا۔اس کے کپڑے سارے بھیگے ہوئے تھے ۔سر سے پانی کی بوندیں ٹپ ٹپ گر رہی تھیں۔وہ دھک سی رہ گئی.( یہ کیا؟وہ کافی خطرناک موڈ میں تھا۔اللہ۔۔اس نے دل میں بے اختیار اللہ کو پکارا۔)
اس کی حالت دیکھ کر لگ رہا تھا دوا نے اثر کر دکھایا ہے۔
“ک۔۔کیا ہوا؟۔۔۔۔ت۔۔۔تم کو ک۔۔۔کیا ہوا ہے؟ ” سبرین کے لبوں سے الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہوئے ۔وہ بہت حد تک ڈر گئی تھی۔اسے نہیں معلوم تھا کہ نشہ آور چیز کس قسم کی تھی؟ اور اس کا اثر کیسا ہوتا ہے؟ یہ سب اس کے لیئے نیا تھا۔۔بالکل عجیب ۔
“تو وہ تم تھی۔۔جس نے میرے کھانے میں دوا ڈالی؟” شہزام نے ایک جھٹکے سے اسے بازو سے کھینچ کر فرش سے گھسیٹ کر اٹھایا۔
سبرین نے خوفزدہ ہوکر آنکھیں میچ لیں۔آنسو بے اختیار موتیوں کی طرح دونوں طرف سے گال بھگونے لگے۔اس کا دل جیسے سینے سے باہر نکل رہا تھا۔اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس قدر جلدی ہوش میں آکر اس سے تفتیش کرے گا۔
“م۔۔۔مجھے نہیں پ۔۔۔پتا۔ م۔۔۔میں نہیں ج۔۔۔جانتی۔تم ک۔۔۔کیا کہہ رہے ہو؟ “وہ بری طرح گھبرا کر اس کے شکنجے میں پھڑ پھڑانے لگی۔وہ اسے پوری قوت سے جکڑے ہوئے تھا۔
“تو۔۔۔ تم اب بھی انکاری ہو۔ہنمممم؟ ” شہزام نے ایک جھٹکے سے اس کا بازو چھوڑ کر اسی ہاتھ سے، اس کی گردن شکنجے میں لے لی۔اس کی آنکھوں سے نفرت و حقارت کے شعلے نکل رہے تھے۔جیسے وہ انہیں شعلوں میں سبرین کو بھی جلا کر بھسم کردینا چاہ رہا ہو۔
“تم۔۔۔تمہارے سوا اور کسی کو موقع نہیں مل سکتا تھا۔صرف تم ہی۔۔۔صرف تم ہی نے کیا ہے۔”
سبرین کا اس کے شکنجے میں قریباً دم گھٹنے لگا۔اس نے سوچا ہی نہیں تھا کہ شہزام کا ردِعمل اس قدر خوفناک نکلے گا۔وہ بری طرح ڈر کر اس کے شکنجے میں مچلنے لگی۔اپنے دونوں ہاتھوں سے گردن چھڑانے لگی۔اس کا دم گھٹ رہا تھا۔
“یہ ۔۔م۔۔میں ہی تھی۔۔ہاں۔۔یہ میں ہی تھی۔ ج۔۔جس نے ا۔۔یسا کیا۔م۔۔مجھے م۔۔۔معاف کردو۔ سوری!!! “اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
اس کو اپنے گلے میں شدید درد ہورہا تھا۔ادھر شہزام جیسے اپنے حواسوں میں ہی نہیں تھا۔اسے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ ایک کمزور لڑکی کا گلا کس کر دبائے ہوئے ہے۔
سبرین نے اس کا یہ روپ پہلی بار دیکھا تھا۔اسے لگا جیسے وہ اپنے سامنے کسی شیطان کو دیکھ رہی ہے۔وہ بری طرح رونے لگی۔اسے دل سے افسوس تھا ۔بہت افسوس تھا اپنی حرکت پر۔کاش وہ فریا کی بات نہ مانتی۔
“تم۔۔بہت ہی کوئی دھوکے باز عورت ہو۔مجھے افسوس ہے میں نے تم جیسی چالباز عورت پر اعتبار کیا۔”وہ غصہ سے دھاڑ رہا تھا۔
نفرت سے اس کا سینہ پھٹنے لگا۔(کیوں کیا سبرین نے ایسا کیوں؟ اپنی زندگی میں جس چیز سے حد سے زیادہ نفرت کرتا تھا وہ دھوکہ تھا۔وہ دھوکے سے سخت نفرت کرتا تھا۔
جس طرح سے وہ اس کے قریب تھی ۔اس طرح کی قربت سے شہزام کے حواس جواب دیئے جا رہے تھے۔وہ جیسے اپنے آپ میں نہیں رہا۔اسے بری طرح سے بیڈ پر دھکیلا۔ اور خود دندناتا ہوا باتھ روم میں بند ہوگیا۔تاکہ پھر سے ٹھنڈے پانی سے شاور لے کر اندر کی آگ بجھا سکے۔
دروازہ زور سے بند ہوا۔اور سبرین نے پھر سے پانی گرنے کی آواز سنی۔اس کا دل افسوس سے بھر گیا۔وہ اس کی تکلیف محسوس کرسکتی تھی۔اس نے اسے واقعی دھوکہ دیا تھا۔اس کے اعتبار سے کھلواڑ کیا تھا۔ساتھ ہی اسے فریا پر سخت غصہ آیا۔
وہ خاموشی سے بستر پر لیٹی چھت کو گھورنے لگی۔کیا وہ اس قدر اس سے نفرت کرتا ہے؟ وہ اس کی بیوی تھی لیکن وہ اسے بری طرح دھتکار گیا تھا۔
یہ سچ تھا کہ وہ پہلے سے ہی یہ بات جانتی تھی کہ وہ اس میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔یہ رشتہ سوائے خانہ پری کے اور کچھ نہیں تھا۔جو بھی کچھ تھا سبرین کی طرف سے تھا۔اور یکطرفہ تھا۔
تو وہ غلط تھی!! جو یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ شہزام پر اس کی ادائیں اثر کریں گی۔وہ اس پر مرمٹے گا۔نہیں وہ غلط تھی۔
خطرناک حد تک غلط تھی۔اسے اس طرح کی حرکت نہیں کرنی چاہیئے تھی۔کوئی کسی کو زبردستی خود سے محبت کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔یہ ایک احساس ہے۔یہ ایک ایسا خودرو پودہ ہے جو خودبخود بنجر زمین پر پھوٹ نکلتا ہے۔زبردستی کوئی کسی سے محبت نہیں کرسکتا۔۔۔نہیں ۔۔وہ غلط تھی۔تقریباً غلط۔
اپنی غلطی کا احساس ہوا تو سبرین کو احساسِ جرم نے بری طرح جھکڑ لیا۔وہ بھیگی پلکوں اور متورم آنکھوں سے باتھ روم کے بند دروازے کو گھورے گئی۔
باتھ روم سے پورے ایک گھنٹے تک پانی گرنے کی آواز آتی رہی۔
لیکن وہ باہر نہیں آیا۔
وہ قدرتی طور پر پریشان ہوئی۔(پتا نہیں شہزام کس حالت میں ہے؟ ابھی تک باہر نہیں آیا۔)
وہ آہستگی سے اٹھ کر دروازے کے پاس آئی۔
ڈرتے ڈرتے دروازہ ناک کیا۔
“ک۔۔کیا تم ٹھیک ہو؟ مجھے افسوس ہے پلیز۔معاف کردو۔ ” وہ رونے لگی۔
“کیا تمہیں میری مدد کی ضرورت ہے؟ شہزام ؟… “
“بکواس بند کرو۔ میں تم جیسی گھٹیا عورت کو چھونے سے بہتر مرجانا پسند کروں گا۔”
باتھ روم کا دروازہ دھاڑ سے کھول کر وہ طیش میں باہر آیا۔
سر سے پیر تک وہ بھیگا ہوا تھا۔پانی کپڑوں سے ٹپک رہا تھا۔چہرہ شدت سے سرخ ہو رہا تھا۔وہ اپنے حواسوں میں نہیں لگ رہا تھا۔ اسے سرخ آنکھوں سے گھورنے لگا۔ سبرین بری طرح ڈر گئی۔
“کتنی ڈوز ڈالی تھی تم نے کھانے میں ۔۔۔بولو؟ “اس کا ہاتھ پکڑ کر زور سے کھینچ کر باتھ روم میں لایا۔اور برف جیسے ٹھنڈے پانی کے شاور کے نیچے دھکیلا۔وہ بری طرح بھیگ کر کپکپانے لگی۔
ادھر شہزام اسے بری طرح جکڑ کر پانی کے بیچ کھڑا کیئے ہوئے تھا۔ سبرین بری طرح سردی سے تھر تھر کانپنے لگی۔اس کے ذہن میں قید خانے کی ٹھنڈ نے بسیرا کرلیا۔وہ بری طرح حواس کھونے لگی۔اس کی سانس جیسے اکھڑ رہی تھی ۔وہ ہانپنے لگی۔
جب شہزام نے دیکھا کہ وہ بمشکل سانس لے رہی ہے اور ہوش کھونے کو ہے۔تو اسے جیسے ہوش آیا۔سختی سے دانت بھینچ کر اسے کھینچ کر پانی سے باہر لایا۔لاکر کمرے کے فرش پر دھکا دیا۔اسے یہ احساس نہیں تھا کہ سبرین زندہ ہے یا نہیں۔
دھڑام سے کپ بورڈ سے کپڑے نکال کر باتھ روم میں جاکر بدلے۔اور پھر اسے یونہی نفرت سے گھورتا باہر نکل گیا۔اس کا رخ ہاسپٹل کی طرف تھا۔
اس کے جانے کے بعد سبرین آہستہ آہستہ اپنے حواسوں میں واپس آئی۔بری طرح تھر تھر کانپتی ہوئی بری طرح سے آنسو بہاتے ہوئے۔وہ اٹھی ۔وہ سخت شرمسار تھی۔ندامت سے اس کا سر جھکا ہوا تھا۔وہ اس کے پیچھے جانا چاہتی تھی لیکن ۔۔۔اس کی ہمت جواب دے چکی تھی۔یونہی کپکپاتی ہوئی بیڈ سے ٹیک لگائے سر گرائے روئے گئی۔
٭٭٭٭
صبح کے 12:00بجے
شیث ابراہیم بھاگتا ہوا ہاسپٹل پہنچا تھا۔ جہاں شہزام بیڈ پر لیٹا آئی وی انفیوشن لے رہا تھا ۔
شیث دنگ رہ گیا۔اسے سمجھ میں نہیں آیا کہ شہزام کے اس اقدام پر اس کی تعریف کرے یا حسد کرے۔
یہ اس لڑکی سے بڑی ناانصافی تھی۔جو اس کی نصف بہتر تھی۔دونوں ایک پاک رشتے میں بندھے ہوئے تھے۔اس کے باوجود بھی شہزام ہاسپٹل میں آئی وی انفیوژن لے رہا تھا۔حیرت کی بات ہی تھی۔
“چہ چہ، تمہارا چہرہ تو ابھی تک بھیگا ہوا ہے، یار۔”شیث نے اسے تاسف سے دیکھا۔
“تم کیوں ہاسپٹل آگئے اس سے بہتر تھا اپنی بیوی کے پاس رہتے۔بھابھی کے پاس تمہارے مسئلے کا حل موجود تھا۔یار کیوں بھاگ رہے ہو اپنے رشتے سے؟”شیث کو برا لگا تھا۔
“ذرا پھر سے کہنا۔۔ تمہاری اتنی ہمت۔” شہزام اسے اپنی سرخ آنکھوں سے گھورتا اس پر ہی الٹ پڑا قریب تھا کہ سامنے پڑی دوا کی بوتل اٹھا کر اس پر کھینچ مارتا۔
“شیث صاحب، آپ کو ایسا نہیں کہنا چاہیئے۔ شہزام سر کو عورتوں کی ایسی حرکت سے سخت نفرت ہے۔”ھادی جو قریب کھڑا تھا۔ شیث کو ٹوکا۔
شیث تو یہ سن کر دنگ کھڑا رہ گیا۔اس نے حیرت سے شہزام کو دیکھا اسے شہزام دنیا کے سارے مردوں سے بالکل الگ لگا۔
اگر یہ بات اس کے باپ برہان کی نہ ہوتی جس نے شہزام کی ماں لائبہ سوری کو جھانسہ دے کر اس سے شادی کی اور شہزام کو اس دنیا میں لانے کا سبب بنا۔
تو شہزام ماں کے پیار کے بغیر پرورش نہ پاتا۔
اور شاید پھر ۔۔۔ماں کے پیار کے بناء آیاؤں کے ہاتھوں پل کر بڑے ہوئے شہزام کی زندگی اس قدر الجھی ہوئی نہ ہوتی۔
شہزام کو یقین تھا کہ یہ ایک سوچی سمجھی اسکیم تھی ۔جس وجہ سے وہ دنیا میں لایا گیا۔
شہزام اسی وجہ سے اس طرح کی اسکیم بنانے پر سبرین پر مشتعل ہوا تھا۔اسے چال چلنے والی عورتوں سے سخت نفرت تھی اور اس نفرت کا سبب اس کی ماں تھی۔لائبہ سوری۔
“اگر تم اسے اور دیکھنا نہیں چاہتے تو پھر اسے اپنی زندگی سے نکال دو۔”شیث نے ساری بات سن کر تھکی تھکی سی سانس لے کر مشورہ دیا۔
“ہاں ۔۔جیسے اس جیسی چالباز عورت میرے کہنے سے چلی جائے گی۔” شہزام نے طنز کیا۔
“اگر میں اسے باہر نکالوں تب بھی وہ نہیں جائے گی۔۔اسے بالکل پتا نہیں کہ شرم نام کی چیز کیا ہوتی ہے۔”
“تو پھر تم کیوں نہیں کہیں اور جاکر رہتے؟ میں تمہارے لیئے کہیں دوسری جگہ پر گھر دیکھتا ہوں۔” شیث نے مفت مشورہ دیا جس پر شہزام نے تپی تپی نظروں سے اسے گھورا۔
“وہ میرا گھر ہے۔میں کیوں وہاں سے جاؤں؟ ” شہزام لاشعوری طور پر سبرین سے خفا تھا۔
“مزید یہ کہ میں اسے اتنی آسانی سے تو جانے نہیں دے سکتا۔”
اچانک شیث نے سر اٹھا کر اسے دلچسپی سے دیکھا۔
“یار اتنا عرصہ تم ساتھ رہے ہو۔ پھر بھی تم بھابھی کے لیئے کوئی فیلنگز نہیں رکھتے۔”
“فیلنگز؟ ” شہزام نے طنزیہ ابرو اٹھا کر اسے دیکھا۔
“اپنے گھر میں کام کرنے والی نوکرانی کے لئے تم کیا فیلنگز رکھ سکتے ہو شیث؟ جو تمہارے گھر والوں کے لیئے کھانا پکاتی ہو۔ “
اس نے شیث کو استفہامیہ نظروں سے دیکھا۔ جس پر شیث لاجواب ہوگیا۔
“پہلے کی بات ہوتی تو شاید کچھ سوچتا۔۔لیکن اب۔۔۔ اب میں اسے معاف نہیں کرسکتا۔۔۔نیور۔”
“تو کیا کرو گے؟ ” شیث نے نظر گھما کر اسے حیرت سے دیکھا۔
“کیا سوچا؟ اسے کمرے میں بند کرو؟تاکہ اسے تمہاری تکلیف کا احساس ہوسکے۔”
شہزام نے لب بھینچ لیئے۔
“اگر میں نے ایسا کیا تو وہ یقیناً پاگل ہوکر میرے گھر کے دروازہ نہ توڑ ڈالے۔”
اس نے تھک کر سر تکیہ پر گرا لیا۔
“اس کی نیت پہلے سے مجھ پر خراب ہے۔”وہ سانس بھر کر رہ گیا۔
اس منظر کو سوچ کر شیث نے کانپ کر جھر جھری سی لی۔
“یار ۔مجھے اکیلا چھوڑ دو پلیز۔اور ایک گلاس پانی پلانا۔ گلا سوکھ رہا ہے۔” شہزام جیسے تھک گیا۔
٭٭٭٭
شام کے چار بجے اس کی ڈرپ ختم ہوئی ،ساتھ ہی جسم کا درجہ حرارت بھی نارمل ہوا۔تو وہ گھر واپس ہولیا۔
گھر میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر سبرین پر پڑی جو رات کے حلیے میں صوفے پر ٹانگیں پیٹ سے لگائے سورہی تھی۔
اس سے پہلے سبرین کا دعویٰ تھا کہ وہ تنہائی میں ڈرتی ہے۔جبکہ آج وہ اسے پرسکون نیند لیتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔جس کا مطلب یہی تھا کہ وہ سب جھوٹ تھا۔اسے کوئی ڈر ور نہیں تھا جسٹ ایکٹنگ تھی۔ شہزام کے قریب آنے کی ایک چال ۔
اسے کیا حق تھا شہزام کے ساتھ ایسی حرکت کرنے کا؟ جس وجہ سے شہزام کو ہاسپٹل میں آئی وی انفیوشن لینی پڑی تھی۔وہ ساری رات سارا دن بے آرام رہا۔ ادھر یہ تھی ۔۔۔جو آرام سے سورہی تھی۔
شہزام کے اندر سے جیسے غصے کا ابال اٹھا تھا۔اس نے یکدم پاس پڑی ٹیبل سے پانی کا جگ اٹھا کر سوئی ہوئی سبرین پر الٹ دیا۔جو بیچاری ساری رات کی روئی ہوئی ابھی کچھ دیر پہلے ہی اس کا انتظار کرتے کرتے سوئی تھی۔
یکدم ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی۔اس کا پورا وجود ٹھنڈے پانی سے بھیگ گیا۔
“جاگ جاؤ۔ “وہ دھاڑا تھا۔
جس پر سبرین شاکڈ سی اٹھ کر بیٹھ گئی۔اسے ڈرتے ڈرتے سردی سے کپکپا کر دیکھا ۔جو ساتھ پڑے صوفے پر جاکر بیٹھ گیا تھا اور اسے بری طرح غصے سے گھورے جا رہا تھا۔یوں جیسے کچا چبا جائے گا۔
“تم ۔۔۔ک۔۔۔کب آئے؟ ا۔۔۔اب کیسے ہو؟ “کپکپاتے ہوئے بمشکل وہ بول پائی۔
“صرف تمہاری وجہ سے مجھے ہاسپٹل میں پوری رات سوڈیم کلورائیڈ آئی وی انفیوشن لینی پڑی ہے۔”
شہزام نے اسے سخت نظروں سے دیکھا کل رات کا منظر نظروں میں پھرتے ہی اسے اپنی سخت بی عزتی محسوس ہوئی تھی ۔
” سبرین میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تم سے شادی کرنا ہے۔جس کا پچھتاوا مجھے ساری عمر رہے گا۔مجھے تمہیں اس وقت نہیں بچانا چاہیئے تھا جب تم پرانی حویلی کے قید خانے میں قید تھی۔”
اس کی بات سن کر سبرین پیلی پڑ گئی۔جبکہ اس کا ردِعمل سبرین کے لیئے قابلِ فہم تھا۔وہ سمجھ سکتی تھی۔اگر وہ اس کی جگہ پر ھوتی تو یقیناً ایسا ہی ردِعمل دکھاتی۔
“مجھے معاف کردو ۔۔۔آئی ایم رئیلی سوری۔۔۔۔میں آئندہ ایسا نہیں کروں گی وعدہ کرتی ہوں۔”وہ سسکنے لگی۔آنکھیں رو روکر سوج گئی تھیں۔
“آئندہ؟ ” شہزام نے اس کی ٹھوڑی سختی سے اپنی مٹھی میں جکڑی۔
“کیا تم سمجھتی ہو یہاں اب بھی کوئی ‘آئندہ ‘آئے گا؟ میں تم کو دیکھ دیکھ کر تنگ آگیا ہوں۔ تم خود کو میرے آگے پلیٹ میں سجا کر پیش کرنا چاہ رہی تھی؟ کیا تم میں کوئی حیا۔۔کوئی شرم ہے کہ نہیں؟” شہزام مشتعل سا بول رہا تھا۔اس کی بات پر سبرین شرم سے جیسے زمین میں گڑی جارہی تھی۔یہ بہت زیادہ تھا۔وہ اپنی جگہ پر بالکل درست تھا۔
“پتا ہے سبرین ۔۔۔؟تم میں اور سڑک پر کھڑی ایک آوارہ عورت میں کوئی فرق نہیں رہا۔”
اس کی برفیلی آواز سبرین کی سماعتوں میں جیسے زہر گھول رہی تھی۔وہ بری طرح رونے لگی۔احساسِ شرمندگی الگ۔اور احساسِ ذلت الگ اسے گھائل کرنے لگا۔کتنی بیوقوف تھی سبرین اس نے ایسا کس طرح کرلیا؟
“اب اس میں رونے کی کیا بات ہے؟ تم سمجھتی ہو تمہارے مگر مچھ جیسے آنسو بہانے سے میرا دل نرم ہوگا تو یہ تمہاری بھول ہے سبرین یزدانی…میں اتنا رحم دل یقیناً نہیں ہوں۔”
شہزام اس کے رونے پر سخت چڑ گیا۔
“بات سنو میری۔آئندہ سے میرے لئے کھانا پکانے کی ضرورت نہیں ہے۔نہ ہی میرے سامنے آنے کی کوشش کرنا۔ اور بھول کر بھی میرے کمرے میں قدم رکھا۔۔ تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔ سمجھی؟”
وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا اور اسے یونہی روتا بلکتا چھوڑ کر گھر سے ہی نکل گیا۔
سبرین روتے روتے تھک کر زمین پر بیٹھ گئی۔ شہزام اس کے لیئے ایک ایسی دیوار کی مانند تھا۔جس سے وہ جتنا سر ٹکراتی اتنا ہی خود کو زخمی کرتی۔
اور اس نے غلطی سے اس دیوار سے سر ٹکرایا تھا۔اب نتیجے میں سوائے نفرت اور حقارت کے کچھ نہیں ملا۔
اس کی رات والی حرکت ناقابلِ معافی تھی۔
وہ بمشکل خود کو گھسیٹتی ہوئی اپنے روم میں واپس آئی ۔کل رات سے وہ یونہی بناء کمبل کے بھیگے کپڑوں میں رہی تھی۔جس وجہ سے وہ سردی سے کانپ رہی تھی۔اب بھی شہزام کی طرف سے پانی پھینکنے کی وجہ سے وہ مکمل بھیگی ہوئی تھر تھرا رہی تھی ۔اسے سخت سردی لگ رہی تھی۔اس کے باوجود بھی اس نے کپڑے نہیں بدلے۔یہ ایک طرح سے خود کو سزا دینا تھا۔
اس کا سر چکرانے لگا۔وہ چلتی ہوئی بیڈ پر کمبل لپیٹ کر لیٹ گئی۔
کچھ ہی دیر میں اسے اونگھ آگئی تھی۔
کافی دیر بعد اس کی آنکھ فریا کی کال سے کھل گئی اس نے مُندی مُندی آنکھوں اور بھاری ہوتے پپوٹوں کو بمشکل کھول کر کال دیکھی۔اور کال پک کرلی۔
“تو سناؤ یار۔۔کیسا رہا؟ کیا تمہیں کامیابی ہوئی ؟” فریا نے تجسس سے پوچھا۔
“کیا ہوا؟”
“تم کچھ زیادہ ہی آگے کا سوچ رہی ہو۔”
ایک تلخ مسکراہٹ کے ساتھ سبرین نے رات کے ہوئے واقعے کو پورے جزیات کے ساتھ بیان کیا۔جسے سن کر فریا کو احساسِ جرم نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔(کاش وہ ایسا نہ کرتی۔یہ توقع سے بہت آگے ہوگیا تھا۔)
“معاف کرنا سبی۔میں نے اس طرح کی توقع نہیں کی تھی ۔”فریا نے احساسِ جرم سے مغلوب ہوکر دھیمے لہجے میں کہا۔
“اب جبکہ اس نے مجھے قبول نہیں کیا۔تو مجھے بھی اس کو مجبور نہیں کرنا چاہیئے فریا۔بڑی بات کہ میں اس سے ملی ہی ایزد سے بدلہ لینے کے لیئے کی تھی ۔مجھے اتنا خود غرض نہیں ہونا چاہیئے تھا فریا۔میں نے بہت زیادہ خود غرضی دکھائی ہے۔مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا۔یہ بہت زیادہ ہے۔۔۔۔بہت زیادہ۔” وہ جیسے خود سے مخاطب تھی۔
دوسری طرف سے فریا یہ سب سن کر بہت دکھی ہورہی تھی۔اسے اپنی دوست کا دکھ اندر سے کھانے لگا ۔
“تم کیا کہتی ہو۔کیا مجھے اس سے شادی نہیں کرنی چاہیئے تھی؟ ” سبرین جیسے ایک خواب سے جاگی تھی ۔جہاں اسے اپنے نفع و نقصان کا اچھی طرح اندازہ ہو رہا تھا۔
“تم اب اس مقام پر آچکی ہو جہاں سے پیچھے قدم نہیں ہٹا سکتی سبی۔اس مقام پر آکر تم اسے نہیں چھوڑ سکتی ڈیئر۔”فریا نے ایک گہری سانس بھری۔
“کیا تم آدھے راستے پر پہنچ کر اس سے طلاق لو گی؟ میرے خیال سے تمہیں یہ رشتہ نبھانا چاہیئے ۔”
اس کی بات پر سبرین کو مانو سانپ سونگھ گیا۔وہ لب بھینچ کر رہ گئی۔یہ اس نے نہیں سوچا تھا۔
“ٹھیک ہے!!! مجھے طلاق ہی لینی چاہیئے۔”وہ جیسے ایک فیصلے پر پہنچ گئی۔فریا چپ رہ گئی۔ کیا کہتی؟ شہزام سوری سے شادی کا فیصلہ بھی اس کا اپنا تھا ۔اب طلاق لینے کا فیصلہ بھی اس کا مکمل اپنا تھا۔
جہاں دل نہ ملتے ہوں وہاں ایسے رشتے زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہ سکتے۔شادی دو مختلف اذہان رکھنے والے فریقین کے مابین ایک عہد ہوتا ہے۔دو اجنبی لوگ اعتبار کی رسی سے باندھے جاتے ہیں۔اگر ایک بار اعتبار کی رسی ٹوٹ جائے تو بیچ میں ہزار گانٹھ لگاتے جاؤ۔گانٹھ ہی رہتی ہے۔جو کسی وقت بھی ایک جھٹکے سے کھول کر ایک فریق خود کو آزاد کرسکتا ہے۔
وہ آہستگی سے بیڈ سے اٹھی۔شال اٹھا کر اوڑھی۔اور کمرے سے باہر نکل آئی۔
شہزام کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔وہ آفس کب کا جاچکا تھا۔اس نے کمرے کے دروازے کو تکتے ہوئے ایک آہ بھری۔
اس واقعے کے بعد وہ ایک مختلف شخص میں بدل چکا تھا۔ایک اجنبی شخص جیسا۔اور یہ بات سبرین کو اندر سے بری طرح گھائل کرتی تھی۔
وہ آہستہ آہستہ بے دلی سے چلتی کچن میں آگئی۔اپنے لئے نوڈلز بنائے۔
جیسے ہی کھانا ختم کیا جازب کی کال آنے لگی۔اس نے بے دلی سے کال رسیو کی۔اس کا موڈ بالکل آفس جانے کا نہیں ہورہا تھا۔
” سبرین ، تم نے ولید کے ولا کا اسکیچ تیار کرلیا؟ “
“جی ہاں میں نے تیار کرلیا ہے۔”اس نے تھکی تھکی سی آواز میں جواب دیا۔
“ٹھیک ہے ۔جلدی سے اسکیچ لے کر ان کے آفس جاؤ۔وہ اسکیچ کے لیئے زور بھر رہا ہے۔جاکر اسے دکھاؤ۔”جازب نے مصروف انداز میں جواب دیا۔
“اوکے۔” مختصر جواب دے کر وہ کسلمندی سے اٹھی۔اس کی ہمت نہیں ہوئی کہ جازب کو انکار کرسکے۔
جلدی جلدی تیار ہوکر وہ ولید صاحب کی آفس کی طرف روانہ ہوئی۔
٭٭٭٭
