Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rozan e Zindaan Episode 24

ولید گرویزی کا دفتر میلبورن کے نئے ترقی یافتہ ماحولیاتی زون میں واقع تھا، اور اس کے چاروں طرف بلند و بانگ عمارتیں تھیں۔

آفس  پہنچ کر  سبرین  نے کارپوریشن کے ریسپشنسٹ کو اپنا تعارف دیا۔ ریسپشنسٹ نے اسے فوراً اوپر جانے کی اجازت دے دی۔

جب وہ اوپر جانے کے لیئے لفٹ کا انتظار کررہی تھی دوسری لفٹ سے کوئی باہر نکلا تھا۔ سبرین  نے اس کی پیٹھ دیکھی ۔اور اسے لگا وہ ایزد کی ماں ہے۔لیکن اس نے اپنا وہم جان کر سر جھٹکا۔

وہ عورت پرس ہلاتی سیدھی باہر کے طرف بڑھ گئی۔اس نے  سبرین  کی موجودگی نوٹ نہیں کی۔

اس وقت لفٹ نیچے آئی اور دروازہ آواز کے ساتھ کھلا۔تو  سبرین  کی توجہ بھی اس عورت سے ہٹ گئی۔

اپنے حواس بحال کرنے کے بعد،  سبرین  اپنے ذہن میں کئی شکوک و شبہات لئے لفٹ میں داخل ہوئی۔

اسے یاد آیا کس طرح وہ گرین ماؤنٹین والے علاقے میں ایزد درانی سے ٹکرائی تھی۔اور آج وہ ایزد کی ماں سے ٹکرائی تھی۔کیا یہ محض اتفاق تھا؟

(ویٹ۔۔۔ولید کی کاسٹ گرویزی تھی۔کیا وہ ایزد کی ماں کا رشتے دار ہوسکتا تھا؟ )

حالانکہ  سبرین  نے ایزد درانی کے منہ سے کبھی نہیں سنا کہ اس کا ولید گرویزی جیسے طاقتور شخص سے کوئی تعلق ہے۔

یہ سب سوچتے اور اندازے لگاتے اس کا سر درد سے پھٹنے لگا۔اففف

لفٹ مطلوبہ فلور پر پہنچ چکی تھی۔وہ آفس پہنچی تو ولید گرویزی ایک مہمان سے گفتگو میں مصروف تھا۔ یہ دیکھ کر وہ ایک طرف کھڑی انتظار کرنے لگی۔

جیسے ہی مہمان باہر گیا اس نے آگے بڑھ کر اسکیچ اور رینڈرنگ ولید صاحب کو پیش کی۔

“دراصل، میں نے ابھی جازب کو فون کیا تھا کہ آپ سے اسکیچ کے بارے میں پوچھے،بناء آپ کو تاکید کیئے۔لیکن مجھے بالکل توقع نہیں تھی کہ آپ نے پہلے ہی اس کو مکمل کرلیا ہے۔  سچ میں آپ انتہائی قابل ڈیزائنر ہیں۔”ولید نے مسکرا کر توسیفی کلمات کہے۔

ولید گرویزی نے اس سے اسکیچ لے لیا۔  جب اس نے اپنی نظریں اٹھا کر  سبرین  کے چہرے پر ڈالیں تو اس کی سوجی ہوئی آنکھیں اور چہرے کا پیلا پن اس سے مخفی نہیں رہا۔وہ لمحہ بھر کے لیے دنگ رہ گیا۔

“مس یزدانی، مجھے آپ کچھ بہتر نہیں لگ رہی ہیں۔  کیا اسکیچ پر کام کرتے کرتے آپ تھک گئی ہیں؟”

سبرین  اس کی بات سن کر ہکا بکا رہ گئی۔پچھلے دو دنوں سے رو رو کر اور سوچ سوچ کر وہ ذہنی اور جسمانی طور پر تھک گئی تھی۔(کیا اس کے چہرے سے راز عیاں ہورہا تھا؟ کیا وہ واقعی تھکی تھکی سی لگ رہی تھی؟)

حالانکہ گھر سے نکلنے سے پہلے اس نے اپنے چہرے پر تھوڑا سا میک اپ لگا کر اپنے چہرے کی تھکن کافی حد تک چھپانے کی کوشش کی تھی۔  اسے امید نہیں تھی کہ ولید گرویزی جیسا آدمی اس کے چہرے سے اس کی تھکن کا اندازہ لگا لے گا۔

“نہیں تو،اصل میں مجھے حال ہی میں ہلکی سی انسومینیا کی شکایت ہو گئی ہے۔”وہ بات بنا گئی۔جس پر ولید سر ہلاکر رہ گیا۔

اس کے ذاتی خیال کے مطابق وہ اسی لیئے انسومینیا کی شکار تھی، کیونکہ ایزد اور آبش شادی کرنے والے تھے۔اور وہ اس معاملے میں  سبرین  کی کوئی مدد نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن اسے  سبرین  پر دل کی گہرائیوں سے ترس آیا تھا۔کاش! وہ اس کی کوئی مدد کرسکتا!

تھوڑی دیر بعد جیسے اسے کچھ یاد آیا۔ وہ انویٹشن کارڈ تو چھپانا بھول گیا تھا۔ جو اس کی بہن  ابھی دے گئی تھی۔

لیکن اسے دیر ہوگئی تھی۔ سبرین  کی نظریں ٹیبل پر رکھے انویٹشن کارڈ پر جمی ہوئی تھیں۔سرخ رنگ کا کارڈ جس پر سنہری رنگ کے الفاظ کندہ کئے گئے تھے۔”ایزد درانی ویڈ ود آبش یزدانی”

“لگتا ہے آپ یزدانی اور درانی خاندان کو جانتے ہیں۔” سبرین  نے بغور کارڈ پر نام پڑھتے اسے مسکرا کر دیکھا۔

“اُوخ۔۔۔اُوخ،یہ بس ہمارے دور کے رشتہ دار ہوتے ہیں۔”ولید ہلکا سا کھانسا۔اور کارڈ اٹھا کر ایک سائیڈ پر رکھا۔

وہ پریشان ہوگیا تھا کہ اگر  سبرین  کو پتہ چلا کہ وہ حقیقت میں ایزد کا ماموں ہے، تو یقیناً ایک تنازعہ جنم لے گا۔

(ان سب باتوں کے باوجود ، سبرین  ایک جوان اور جذباتی سی لڑکی تھی۔اس لمحے کی تلخی کے اثر میں آکر وہ اس کا ولا ڈیزائن کرنے سے انکار بھی کرسکتی تھی۔وہ واقعی اس کے لئے دل سے افسوس محسوس کررہا تھا۔اور اس کی مدد بھی کرنا چاہ رہا تھا ۔ مگر۔۔۔ بات چھپاگیا۔)

“اوہ۔”  ولید کا جواب تقریباً ویسا ہی تھا جس کی  سبرین  کو توقع تھی۔ “میں آپ کو اس اسکیچ کی تفصیل بتاتی ہوں، مسٹر ولید۔”

اس کی بات پر ولید گرویزی نے فقط سر ہلایا۔

وہ چونکہ اس فیلڈ میں پروفیشنل بالکل نہیں تھا۔اسی لیئے اس اسکیچ کی ڈیٹئل سمجھنے کا علم بھی نہیں رکھتا تھا۔

شروع میں،  سبرین  اسکیچ کی وضاحت کرتے ہوئے آفس کی میز کے بالکل آگے کھڑی تھی۔ لیکن یہ زاویہ کافی مشکل تھا۔ کیونکہ اسکیچ اس کے زاویہ نگاہ سے الٹا تھا۔

“آپ یہاں آجائیں ۔”ولید نے اس کی مشکل دیکھتے ہوئے اپنے دائیں طرف آنے کا اشارہ کیا۔

ولید کی طرف سے اجازت ملنے پر، سبرین  میز کے پاس سے گزر کر اس کے دائیں جانب چلی آئی۔  وہ اسکیچ پر جھکی۔ پھر ایک جگہ کے طرف انگلی سے اشارہ کیا۔

“مجھے یہ ڈر تھا کہ کتابوں کو کپ بورڈ میں رکھنے کے لیے یہ  جگہ کافی نہیں ہوگی، اس لیے میں نے یہاں ایک اور قطار کا اضافہ کیا ہے۔”

ولید گرویزی نے اس کی لمبی اور پتلی انگلیوں کو دیکھا جو بانس کی ٹہنیوں کے سروں سے ملتی جلتی تھیں۔  وہ بالکل اس کے پاس کھڑی تھی۔  اگرچہ اس کا کندھا اس سے کچھ دور تھا۔ لیکن وہ اس کے بالوں سے نکلنے والی مسحور کن خوشبو کو سونگھ سکتا تھا۔

اس انڈسٹری میں برسوں کام کرتے، اس نے ہمیشہ اپنے آس پاس کی خواتین ورکرز میں سے آتی پرفیوم کی تیز خوشبو سونگھی تھی۔   سبرین  جیسی خواتین  نایاب تھیں جنہوں نے قدرتی خوشبو کو برقرار رکھا ہوا تھا، اور  سبرین  سے آتی اس قسم کی قدرتی خوشبو نے اسے اندر تک جھنجھوڑ دیا تھا۔

بناء کوئی تاثر دیئے، ولید نے ایک نظر اپنے قریب کھڑی لڑکی پر ڈالی۔جس کے بال گہرے رنگ کے صاف اور چمکدار تھے۔اس نے سردی سے بچنے کے لیئے روایتی طرز کا بند گلے کا سیاہ سویٹر پہنا ہوا تھا۔

وہ اپنی شاندار شخصیت اور روشن آنکھوں کے ساتھ کافی خوبصورت لگ رہی تھی۔

حالانکہ وہ کافی تھکی تھکی سی لگ رہی تھی۔لیکن اس کی یہ حالت بھی ولید کے اندر خواہشات ابھار رہی تھی۔اس کے اندر بے اختیار اس کی خواہش جاگی تھی۔اس کی حفاظت کی خواہش۔

“مسٹر ولید، کیا آپ اس طرح کی ارینجمنٹ سے مطمئن ہیں؟”  سبرین  کی آواز نے اسے یکایک ہوش کی دنیا میں لا پٹکا۔

“ہمممم، ییس۔۔ییس۔۔اٹ لُکس گریٹ۔۔۔رئیلی گریٹ۔”وہ چونک کر جیسے کسی خواب سے جاگا تھا۔ ایک سحر تھا جو یکایک ٹوٹ گیا تھا۔ایک فسوں تھا جو اچانک مدھم پڑگیا۔لیکن اس کا پورا وجود اس کے زیرِ اثر آگیا تھا۔

اس کے پوچھنے پر ولید گرویزی تھوڑا شرمندہ ہوا تھا۔کیونکہ وہ ابھی اس کی کہی ہوئی باتوں کو یاد رکھنے میں پوری طرح ناکام رہا۔

اس کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے  سبرین  مکمل اس سے غافل رہی تھی۔شاید اسی لیئے بھی کہ کل رات یونہی بھیگے کپڑوں میں رہنے کی وجہ سے اسے بخار ہوگیا تھا۔وہ بہت مشکل سے خود کو سنبھالے ہوئے تھی۔

اس کے بعد  سبرین  نے اگلے 20 منٹ اس اسکیچ کو تفصیل سے بیان کرنے میں صرف کیئے۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ یقیناً ولید گرویزی اس نقشے میں کسی طرح ترمیم کرنے کی درخواست کرے گا۔آفٹر آل، ایک ڈیزائنر ممکنہ طور پر اپنے کلائنٹ کی ضروریات کو 100٪ پورا نہیں کر سکتا۔

“میں بہت حد تک مطمئن ہوں۔ ایسا کچھ نہیں ہے جس میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہو۔ بس اس منصوبے کی بنیاد پر اسے کل سے شروع کر دیں۔”ولید نے استحکام سے کہہ کر جیسے مکمل رضامندی دے دی۔

“اتنی جلدی؟ آپ کو کسی تاریخ کا انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں؟ ” سبرین  حیران ہوئی۔

“میں اس قسم کی چیزوں پر یقین نہیں رکھتا۔ میری خواہش ہے کہ رینوویشن کا کام جلد مکمل ہو جائے تاکہ میں جلد از جلد وہاں شفٹ ہو سکوں۔ فی الحال، میں ایسے لوگوں کے ساتھ رہ رہا ہوں جو ہمیشہ مجھے شادی کرنے پر زور دیتے ہیں۔ اور۔۔۔مجھے یہ پسند نہیں ہے۔‘‘ ولید گرویزی نے کچھ طنزیہ اور کچھ مزاحیہ لہجے میں کہا۔

“اوہ۔۔۔آپ ابھی تک غیر شادی شدہ ہیں مسٹر گرویزی؟ ” سبرین  نے حیرت سے پوچھا۔

“کیوں؟” ولید نے ابرو اٹھا کر اس کی حیرت کو دیکھا۔”کیا میں آپ کو شادی شدہ لگتا ہوں؟ “

“آپ کی پختگی اور آپ کے کیریئر میں کامیابی کو دیکھتے ہوئے، میں نے سوچا کہ آپ شادی شدہ ہیں۔” سبرین  نے شانے اچکا کر عام سے لہجے میں کہا۔

“نہیں۔۔۔میں نہیں ہوں۔”ولید نے یہ الفاظ صاف اور پختگی سے کہے۔جیسے اسے یقین دلا رہا ہو کہ وہ ان میرڈ ہے۔

اس دوران اس نے  سبرین  کے تاثرات کو غور سے دیکھا۔ وہ پرسکون نظر آرہی تھی۔عام سی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔جس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اس میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔

ایزد کے ناقص فیصلے کے بارے میں سوچ کر اس نے ایک گہری سانس چھوڑی۔ یہ لڑکی مادہ پرست اور تنگ نظر قسم کی بالکل نہیں تھی۔اسے ایزد کی چھوٹی ذہنیت پر افسوس ہوا۔

“یہاں سے واپس جاتے ہی میں تزئین و آرائش کی ٹیم کے ساتھ اس معاملے پر بات کروں گی۔ اور ان سے کل ہی سے تزئین و آرائش کا کام شروع کرنے کو کہوں گی۔”مڑ کر واپس جانے سے پہلے  سبرین  نے ہاتھ ہلایا۔

اس کے جانے کے تھوڑی دیر بعد ایزد نے ولید کو کال کی۔

“ولید ماموں، کیا واقعی آپ نے گرین ماؤنٹین میں اپنے دوست کے ولا کی رینوویشن کے لیئے سمٹ کو چنا ہے؟ “

“یہ سب تمہاری ماں کی وجہ سے ہے۔ جس نے مجھے صبح سویرے آفس میں آکر پریشان کیا۔ تم نے وعدہ کیا تھا کہ تم مجھے آئندہ پریشان نہیں کرو گے، بدمعاش کہیں کے۔۔۔ اور تم نے اپنی ماں کو اسی لیے آگے کردیا، ہہممم؟” ولید گرویزی نے ہنستے ہوئے کہا۔

“بات سنو۔۔۔بھانجے، یہ آخری بار  ہے۔ آئندہ مجھ سے یزدانی کے خاندان کے معاملات میں مدد کرنے کو مت کہنا۔اٹس اوور۔”ولید نے تنبیہہ کی۔

“ولید ماموں، آخر آپ کو انکل یزدانی کی فیملی سے کیا مسئلہ ہے؟”

“یہ ایک بات واضح کردوں۔یزدانی فیملی کی شادی کا تعلق درانی فیملی سے ہے، مجھ سے نہیں۔”

اس نے بات ختم کرتے ہی فون ٹھک سے بند کر دیا۔ ہر بار جب جب اس نے  سبرین  کو دیکھا تھا، وہ جعفر یزدانی اور صالحہ یزدانی کے خلاف ہوتا گیا۔کتنا عجیب تھا یہ۔۔ان لوگوں کا دو بیٹیوں سے سلوک کس قدر ناروا تھا۔یہ کسی حد تک نہیں بلکہ بہت حد تک ان فیئر تھا۔ ایک طرح سے حد درجہ کی  ناانصافی تھی ۔جو  سبرین  کے ساتھ یہ لوگ کررہے تھے۔اب یہ بات وہ اچھے سے جان رہا تھا۔

٭٭٭٭

شام کے 6:00 بجے کام سے فارغ ہوکر  سبرین  پہلے کلینک گئی۔بخار کی میڈیسن لی اور تھکی تھکی سی واپس گھر میں داخل ہوئی ۔

ڈنر کے وقت بھی  شہزام  گھر نہیں آیا تھا۔

رات کے کھانے کے بعد وہ بلی کو لے کر باہر کورٹ یارڈ میں چہل قدمی کرنے لگی۔

فدی بلی واک کرتے کرتے تھک سی گئی تھی۔اس لیے وہ باڑ پر لیٹی پڑوس کے بچوں کے ایک گروپ کو باسکٹ بال کھیلتے ہوئے خاموشی سے دیکھنے لگی۔

پڑوس کی ایک عورت جو خود بھی اپنی بلی کو لے کر واک کررہی تھی۔فدی بلی کو دیکھ کر  سبرین  کے قریب آئی مسکرا کر کہنے لگی۔

“تمہاری بلی یقیناً ایک مہینے میں بچوں کو جنم دینے والی ہے۔”

سبرین  اس کی بات پر دنگ رہ گئی۔

“میم، آپ کو یقیناً  غلط فہمی ہوگئی ہے۔میری بلی بس تھوڑی سی موٹی ہوگئی ہے۔” سبرین  نے اس کی غلط فہمی دور کرنی چاہی۔

“میں نہیں سمجھتی کہ مجھے کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ایک دن اتفاق سے میں تمہارے شوہر سے ٹکرائی تھی۔اور ایسے ہی اس سے اس بارے میں پوچھ لیا تھا۔تمہارے شوہر نے یہ بات مان لی تھی کہ اس کی بلی پریگننٹ ہے۔”پڑوسن نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا۔

“میرے شوہر؟ “کیا یہ خاتون  شہزام  کی طرف اشارہ کررہی ہے؟

یقیناً ، شہزام  اکثر فدی بلی کو لے کر پارک میں واک کے لیئے آتا تھا۔جبکہ بلی پریگننٹ یقیناََ  نہیں تھی۔

“میم، مجھے یقین ہے کہ آپ نے  شہزام  کے علاوہ کسی اور آدمی کو دیکھا ہوگا۔”اس نے خاتون کی بات کو جھٹلایا۔

“اس کا امکان ہی نہیں ہے۔  میں تھوڑی دور اندیش ہوں، لیکن آپ کے شوہر کی شکل ایسی  ہے کہ پڑوس میں کوئی اور اس سے مشابہت ہی نہیں رکھتا۔  یہاں تک کہ ٹی وی پر  مشہور شخصیات بھی اس کی طرح خوبصورت نہیں ہیں۔  مزید یہ کہ میری بلی آپ کی بلی سے کافی مانوس ہے کیونکہ وہ کئی بار ایک ساتھ کھیل چکی ہیں۔”

جب وہ خاتون بول رہی تھی، اس کی بلی وہیں آ گئی۔ فدی بلی نے اس کی بلی کو دیکھ کر فوراً “میاؤں” کی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ دونوں پرانی جاننے والیاں ہوں۔

سبرین  یہ دیکھ کر کافی رنجیدہ ہوئی۔اور یہ جان کر کہ اس کی بلی پریگننٹ ہے۔اور حیرت کی بات کہ وہ ہی نہیں جانتی تھی!

اور بڑی بات یہ کہ فدی بلی حقیقت میں فیمیل تھی۔حیرت!

اللہ۔۔۔۔اور وہ یہ سمجھتی رہی کہ فدی میل بلی ہے۔

شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ فدی ہمیشہ  سبرین  کو پریشان کرتی تھی۔ اس کے علاوہ، اس کا نام بھی کچھ مردانہ لگتا تھا۔

“لگتا ہے۔۔آپ کی بصارت کافی کمزور ہے، ینگ گرل ۔ اس کے بڑھے ہوئے پیٹ سے،کوئی بھی واضح طور پر بتا سکتا ہے کہ وہ پریگننٹ ہے۔ کیا آپ کے شوہر نے  آپ کو نہیں بتایا؟” خاتون نے اس کی حیرت پر جیسے میٹھا سا طنز کیا۔

“میں۔۔۔۔”(ڈیم اٹ.)