Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rozan e Zindaan Episode 16

رات کو ایک بجے  سبرین  ڈراؤنے خواب سے ڈر کر اٹھ بیٹھی، وہ ابھی تک خود کو لاشعوری طور پر اس خوفناک خالی کمرے میں محسوس کررہی تھی، جب یہ یقین ہوا کہ وہ اپنے روم میں اپنے بستر پر موجود ہے اور وہ فقط ایک خواب تھا۔۔ پھر بھی خوف نے پورے وجود کو اپنے خوفناک پنجوں میں جکڑ لیا تھا۔۔سانس رک رک کر آرہی تھی۔۔ دل خوف سے اتنے زور سے دھک دھک کررہا تھا جیسے ابھی پسلیاں توڑ کر باہر آجائے گا۔۔۔پیشانی پر پسینے کی بوندیں نمودار ہوچکی تھیں۔۔۔ اس نے بے اختیار ہاتھ اٹھا کر پیشانی سے پسینہ پونچھا۔۔۔ اور گہری گہری سانس لے کر خود کو خوف سے نکالنے کی سعی کی۔۔ لیکن ۔۔۔اب اسے اس خالی کمرے سے خوف آنے لگا تھا ۔۔ وہ ابھی کچھ دن پہلے ہی اس خوفناک حادثے سے نکلی تھی، اور ابھی تک اس خوف کے اثر میں تھی، وہ ڈر جو اس کے اندر کنڈلی مار کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔ اتنی جلدی اس سے چھٹکارا پانا مشکل تھا۔۔ ابھی اسے کسی کے ساتھ کی ضرورت تھی۔۔ کسی اپنے کی ۔۔ جس کے قریب ہوکر وہ اپنے خوف پر قابو پاسکتی۔۔ وہ جلدی سے اٹھی اور لائٹ جلادی۔کمرہ روشن ہوتے ہی اس کے اندر سکون اتر آیا۔۔وہ اندھیرے سے خوفزدہ ہورہی تھی۔۔

اس نے خواب دیکھا تھا کہ وہ اس تاریک گھر کے اندر دوبارہ سے بند ہو گئی ہے۔ اور مدد کے لئے چیخ رہی ہے۔وہ جگہ رات کے وقت ہر قسم کے خوفناک جانوروں کے شور سے بھری ہوئی ہے۔

لائٹ جلتی ہی چھوڑ کر کانپتی گھبراتی واپس بستر پر خود کو اپنے بازو کے حصار میں لے کر کمبل سختی سے گرد اوڑھ کر بیٹھ گئی۔۔لیکن آنکھیں خوف سے پھٹی ہوئی تھیں۔۔ اب اس کے لیے تنہا سو جانا ایک مسئلہ بن گیا تھا۔

کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ اٹھی اور کمبل میں خود کو لپیٹ کر باہر آئی اور  شہزام  کے دروازے پر کھڑی کچھ پل ہچکچاتی رہی ۔۔ بالآخر اس نے آہستہ سے ناک کیا۔

“کون ہے باہر؟”

شہزام  جو آدھی رات کے اس پہر جاگا تھا، غصہ بھری ناگوار آواز میں دھاڑ کر پوچھا ۔

“اٹز می۔”  سبرین  اس کے غصے سے ڈر کر منمنائی۔

ایک منٹ مکمل خاموشی سے گزر گیا۔ ابھی جب وہ تھک کر مایوس ہوکر واپس پلٹنے والی تھی کہ دروازہ اندر سے اچانک کھل گیا۔

سامنے وہ کھڑا تھا، بکھرے سے بالوں اور نیند بھری آنکھوں کے ساتھ، چہرے پر ناگواری کے تاثرات لئے۔۔

“اب تمہارے پاس آدھی رات کو یہاں آنے کا کوئی نیا بہانا ہوگا۔۔۔ ہے نا۔”

طنز کے تیر برسانا تو کوئی  شہزام  سے سیکھتا۔

سبرین  نے پلک جھپک جھپک کر معصومیت سے اس کی شرٹ کے اوپری کھلے ہوئے بٹنوں کو دیکھا۔۔ اور شرمندگی سے نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبا کر نظریں زمین پر گاڑ دیں۔ یقیناً وہ جلدی جلدی میں شرٹ چڑھا کر آیا تھا۔ اور اوپری بٹن بند کرنا بھول گیا تھا۔

“وہ۔۔وہ میں ڈرگئی تھی۔۔۔۔۔”

سبرین  نے دھیرے سے آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔۔ خوف کی وجہ سے اس کے چہرے کا رنگ اتر گیا تھا۔۔وہ زرد پڑی ہوئی تھی ۔ تاہم ، وہ اس کمبل پر حیران تھا جو اس نے اپنے ہاتھوں میں

پکڑا ہوا تھا۔

“کیا مجھے رجھانے کی یہ تمہاری کوئی دوسری چال ہے ؟”

شہزام  نے دل سے یہ اعتراف کیا کہ وہ ابھی بہت کمزور لگ رہی ہے۔۔ اس کا خوف سے زرد پڑتا چہرہ اور لرزتا کانپتا وجود جو بمشکل اپنا وزن سنبھالے ہوئے کھڑا تھا،  شہزام  نے صاف محسوس کیا تھا۔۔

تاہم وہ سارے دن کا تھکا ہوا تھا اور اب بھی اسے کل عدالت کے ایک مقدمے کے لیے جلدی اٹھنے کی ضرورت تھی۔

” کافی دیر ہوچکی ہے. مجھے سونے کی ضرورت ہے ، اگر تمہیں کوئی کام ہے تو بتاؤ،نہیں تو تم جاسکتی ہو۔”نہ چاہتے ہوئے بھی ،وہ سختی سے بولا تھا ۔

“یہ بات نہیں ہے۔۔”

سبرین  کو بھی کوئی شوق نہیں چڑھا تھا اس جیسے خر دماغ آدمی کے روم میں اکیلے سونے کا، لیکن۔۔۔اب اپنے خوف کا کیا کرتی؟ اس نے بے بسی سے اس کی قمیص کا بازو تھام کر اسے پلٹنے سے روکا ۔” اس اندھیرے گھر میں قید ہونے کے بعد اب مجھ میں ہمت نہیں ہے کہ اکیلی سوسکوں ، میں خواب میں ڈررہی ہوں۔مجھے لگتا ہے میں ان خوفناک خوابوں سے ڈر کر مرجاؤں گی۔ پلیز۔ مجھے اپنے روم میں سونے دو۔۔ ” سبرین  کا لہجہ بے بسی لئے ہوئے تھا۔ “میں نیچے فرش پر سوجاؤں گی۔۔پلیز۔۔۔ “

“کیا اس سے پہلے تم ہاسپٹل میں تنہا نہیں سوئی تھی۔”  شہزام  کا لہجہ شکوک سے بھرا ہوا تھا۔

“وہاں تو میرے ساتھ کیئر ٹیکر تھی۔”  سبرین  کی پلکیں لرزنے لگیں۔۔ ہونٹ کپکپا رہے تھے۔۔ اور وہ مسلسل انہیں دانتوں سے کاٹ رہی تھی۔ اس شخص کو صفائی دینا دنیا کا مشکل کام تھا انتہائی

مشکل۔۔

شہزام  اس کو ہونٹ کاٹتا اور لرزتا ہوا اچھی طرح محسوس کررہا تھا اور اس کی زیرک نگاہوں سے یہ چھپا نہیں تھا کہ سامنے کھڑی لڑکی جو رشتے میں اس کی بیوی کے رتبے پر فائض تھی۔۔ جھوٹ نہیں بول رہی۔۔

وہ ہی تھا جس نے اس اندھیرے خوفناک گھر سے اسے نکالا تھا۔۔ اور وہ بھی یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ گھر اطراف سے گھنے خوفناک جنگل اور خطرناک پہاڑیوں میں گھِرا آبادی سے میلوں دور تھا۔۔۔جہاں وہ نازک سی لڑکی تین دن سے اس اندھیرے گھر میں بناء پانی اور کھانے کے قید رہی تھی۔۔

سبرین  نے اس کی ہچکچاہٹ کو دیکھا تو جلدی سے وعدہ کیا۔

“میں قسم کھاتی ہوں کہ میں تمہیں پریشان نہیں کروں گی۔”

“اپنا وعدہ یاد رکھنا۔”  شہزام  لب بھینچ کر واپس اپنے بستر پر لوٹ گیا۔

اس کی طرف سے اجازت ملتے ہی  سبرین  جلدی سے کمرے میں داخل ہوگئی اور اس کے بیڈ کے پاس نیچے فرش پر بچھے کارپٹ پر لیٹ کر کمبل اوڑھ لیا۔

شہزام  کچھ دیر تو کسی کی موجودگی سے ڈسٹرب رہا لیکن جلد ہی اس کی آنکھ لگ گئی۔

لیکن کچھ دیر بعد ہی اس کی آنکھ کسی عورت کے رونے کی آواز سے کھل گئی۔

“دروازہ کھولو۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔دروازہ کھولو۔۔۔۔ یہاں ب۔۔۔بہت۔۔ سردی۔۔ہے۔۔۔ب۔۔۔بہت۔۔ اندھیرا ہے ۔ ۔۔۔۔م۔۔۔مجھے ڈ۔۔ڈر لگ رہا۔۔۔ڈ۔۔ ڈر لگ رہا۔۔۔ کھ۔۔۔۔کھولو۔۔۔۔ دروازہ ہ ہ ہ ۔کھولوووو۔۔ “

وہ بستر پر سیدھا ہوکر بیٹھا۔ کھڑکی سے آنے والی چاندنی نے زمین پر لیٹے وجود کو روشن کردیا تھا۔ وہ عورت جو کمبل میں دبکی ہوئی تھی اپنے کانوں کو مضبوطی سے ڈھانپ کر بڑبڑا رہی تھی۔ آنکھیں مسلسل بند تھیں، یقیناً وہ خواب میں ڈر رہی تھی اس کا پورا وجود خوف سے کانپ رہا تھا۔

” سبرین ، جاگ جاؤ۔۔۔۔ یہ صرف ایک خواب ہے۔”  شہزام  بستر سے نکل کر اس کے قریب آیا اور اس کے دونوں ہاتھ الگ کئے۔

تاہم وہ اس خوفناک خواب میں مکمل طور پر ڈوبی ہوئی تھی۔ اس کا خوفزدہ چہرہ چادر کی طرح زرد تھا۔

شہزام  کے پاس کوئی دوسرا حل نہیں تھا، سوائے اس کے کہ اسے اس خوف کے آسیب سے نکالے، وہ آہستہ سے اس کی پیٹھ تھپتھپانے لگا۔

“سب ٹھیک ہے۔۔۔ تم اب محفوظ ہو۔۔۔۔”

شہزام  کی بھاری اور نرم آواز نے جادو جیسا اثر کیا۔۔  سبرین  کے تنے ہوئے اعصاب آہستہ آہستہ ڈھیلے ہوئے ۔

سبرین  کا چھوٹا سا خوبصورت معصوم چہرہ  شہزام  کے بازو پر دھرا تھا۔۔ اس کے لمبے ،چمکیلے اور گھنے ریشمی بال اس کی کمر پر بکھرے ہوئے تھے، کچھ بالوں کی آوارہ لٹیں اس کے چہرے پر چپکی ہوئی تھیں۔جس سے اس کا معصوم حسن اس خوابیدہ ماحول میں ایک فسوں سا بکھیر رہا تھا۔اس کے وجود سے آتی مسحور کن خوشبو نے  شہزام  جیسے مضبوط شخص کو پل میں لرزا دیا تھا۔۔

یہ کسی پرفیوم کی خوشبو نہیں تھی۔یہ بھینی بھینی سی مسحور کن خوشبو  سبرین  کے بالوں کی تھی۔ اس کے وجود کی تھی۔آج سے پہلے  شہزام  کو بالکل بھی اندازہ نہ ہوپایا کہ کسی عورت کے وجود

سے آتی خوشبو اتنی فسوں خیز ہوسکتی ہے ۔

اس خوشبو نے آہستہ آہستہ  شہزام  کو اپنے حصار میں لے لیا تھا۔

اس نے سوچا تھاکہ وہ اسے جگا دے گا جب وہ پرسکون ہوجاتی، لیکن ۔۔۔ آہستہ آہستہ اسے تھپکی دیتے دیتے، تھکاوٹ سے خود اس کی آنکھ بھی لگ گئی۔۔ اور صبح بجنے والے الارم کی چنگھاڑ سے کھلی تھی۔

سبرین  کے چہرے پر بہت پیاری سی مسکان کھل رہی تھی جیسے وہ ساری رات بہت سکون سے سوئی ہو۔۔۔

سچی بات کہ  شہزام  کو بھی زندگی میں پہلی بار یہ ناگوار نہیں لگا، اس کی بجائے اس کے اندر ایک نیا احساس جاگا تھا جیسے وہ دونوں نیا شادی شدہ جوڑا ہوں ۔

وہ کچھ پل تو غائب دماغی کے ساتھ  سبرین  کے سندر مکھڑے کو دیکھتا رہا۔۔پھر احتیاط سے کمبل اٹھا کر  سبرین  کا بازو ہٹا کر قریب رکھا۔۔۔۔ٹھیک اسی وقت  سبرین  کی نیند سے گلابی پڑتی بڑی بڑی آنکھیں بھی کھل گئیں۔

دونوں کی نظریں ملی تھیں اور حیرت سے پھیل گئی تھیں۔

سبرین  کے منہ سے بے اختیار چیخ نکلی تھی، جب اسے محسوس ہوا کہ وہ اس کے بازو پر سوئی ہوئی تھی، اس کی آنکھیں حیرت و صدمے سے پھٹ گئیں۔وہ اچھل کر اٹھ کھڑی ہوئی اور اس سے فاصلہ بنالیا۔

“ت۔۔۔تم ۔۔۔۔تم کیوں ؟ ۔۔۔۔کیوں؟”

شہزام  تو اس کے انداز پر غش کھاگیا۔

“رات ڈراؤنے خواب سے ڈر کرتم خود ہی روتے ہوئے مجھ سے زبردستی لپٹ گئی تھی۔ میں نے بس اپنی نرم دلی سے مجبور ہوکر تمہیں کمفرٹ کیا۔۔۔۔ ” شہزام  کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیسے

اسے سمجھائے۔

“کیاااااا؟۔۔۔ تم نے مجھے کمفرٹ کیا ؟”  سبرین  کو اس جیسے سخت مزاج شخص کی بات پر یقین نہیں آیا۔

“کیا مطلب ہے تمہاری اس بات کا؟” شہزام  نے اس کے شکی انداز پر دانت پیسے، سارے خوشگوار احساسات گئے بھاڑ میں ،الٹا وہ اسکی ہمدردی کو غلط رنگ دے رہی تھی ۔”صاف بات کرو، کیا تم رات جان بوجھ کر میری توجہ حاصل کرنے کو ادھر آئی تھی۔ ہے نا !؟”

“میں کچھ نہیں جانتی، میں تو بہت پرسکون نیند سوئی تھی۔”

سبرین  نے یاد کرنے کی کوشش کی،لیکن ۔۔۔۔ اسے بس دھندھلا سا یاد آرہا تھا کہ وہ خواب دیکھ کر چیخ رہی ہے، اچانک اس کے کانوں میں کسی کی نرم کمفرٹ آواز نے اسے ڈراؤنے خواب سے نکال کر پھولوں بھرے باغ میں کھینچ لیا تھا۔۔

‘اوہ۔۔۔۔ ٹہرو۔۔۔کیا وہ نرم آواز  شہزام  کی تھی؟’  سبرین  دل ہی دل میں خود سے سوال کررہی تھی۔۔اور خود ہی اس کے جواب بھی دے رہی تھی۔

وہ اسے چھینپی چھینپی نظروں سے دیکھ کر دانتوں تلے نچلا ہونٹ بے اختیار کاٹے جا رہی تھی۔

شہزام  کی نظروں کا رنگ اسے دیکھ کر گہرا ہوا۔۔ اسے نظر انداز کرتا وہ پلٹا تھا۔۔ لیکن پلٹتے پلٹتے اسے شرمندہ کرگیا۔۔

“اپنی بات آگے جاری رکھنے سے پہلے ذرا ایک نظر خودپر ڈال لینا۔”

اس کی بات پر  سبرین  نے چونک کر بے اختیار خود پر نظر گئی۔۔اور شرم سے دل چاہا گڑھا کھود کر اس میں چھپ جائے۔۔

شہزام  اس کی حرکت پر طنزیہ مسکرایا۔۔

“بہت خوب، اداکاری اچھی کرلیتی ہو۔۔ مان گیا بھئی۔میں یقین سے کہہ سکتا ہوں تم نے جان بوجھ کر اپنی قمیص کے بٹن توڑے ہیں،تاکہ مجھے مائل کرسکو۔”

“یقین کرو، میرا اس میں کوئی دوش نہیں، میں نہیں جانتی کہ بٹن کیسے کھل گئے؟ اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔۔ میرا بالکل بھی تمہیں بہکانے کا ارادہ نہیں تھا۔”  سبرین  کا دل چاہا اس الزام پر شرم سے ڈوب مرے۔

شہزام  کو سمجھ میں نہیں آیا کہ اس کی بات کا کیا جواب دینا چاہیئے۔۔

“مردوں کو بہکانے کے یہ تم عورتوں کے پرانے ہتھکنڈے ہیں۔”  شہزام  نے تاک کر وار کیا تھا کہ  سبرین ،اس الزام پر ٹھیک ٹھاک بلبلا اٹھی۔

“شانی۔۔۔ یہ بہت ہوگیا۔۔ تم مجھ پر بھلے اٹیک کرو، لیکن سب عورتوں پر نہیں۔۔”

“تو کیا کرو گی۔۔۔ اگر میں کروں؟” شہزام  نے اسے چڑایا۔

اس پر  سبرین  نے آگے بڑھ کر اس کے گلے میں بانہیں حمائل کردیں۔۔

یہ دیکھ کر  شہزام  حیران ہوا۔۔اس کی بھنویں اچھنبے سے تن گئیں۔

‘آخر یہ کیا کرنا چاہ رہی ہے؟؟اتنی ہمت۔۔؟’ وہ لمحے کے لئے ہچکچایا تھا۔۔پھر غصے سے بھر گیا۔۔

” سبرین ، تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟ یہ مت سمجھنا کہ میں تمہیں اس کی سزا نہیں دے سکتا؟” وہ اسے گھورتا دھاڑا۔

آدمی کی آنکھیں لال انگارہ بنی ہوئی تھیں۔

“امممم، میں تم کو سمجھاتی ہوں نا۔۔ یہ اسی لئے کہ میں تم سے

بہت محبت کرتی ہوں۔۔کیا تم نے فلموں میں نہیں دیکھا؟”  سبرین  نے ادائے دلبرانہ سے کہا۔

شہزام  دانت پیستا۔۔ اس کی طرف کچھ قدم بڑھا۔۔

“کیا تم نے مجھے بیوقوف سمجھ رکھا ہے۔۔۔ ہاں؟”

“ٹھ ۔۔۔۔ٹھیک ہے…سوری۔”

شہزام  کی زندگی میں کبھی ایسا موڑ نہیں آیا تھا جب اسے اس قسم کی سچویشن کا سامنا کرنا پڑا ہو۔

‘کیا وہ سچ میں یہ سمجھ رہی تھی کہ  شہزام  اسے ایسے ہی جانے دے گا؟’

شہزام  نے غصے سے اس کا سر دونوں ہاتھوں میں دبایا۔۔۔وہ غصے سے پاگل ہو رہا تھا۔۔

“اووئچچچ!” وہ شدید درد سے کراہی۔

اس کی چیخ سے  شہزام  ہوش میں آیا اور یکدم اس سے دور بھی ساتھ ہی اسے دھکیلا۔۔  سبرین  کی آنکھوں میں تکلیف سے آنسو جھلملانے لگے۔۔لیکن ہونٹوں پر پیاری سی مسکان کھلکھلا رہی تھی۔ اس کے گال سرخ ہوگئے تھے۔۔۔

“یہ سزا ہر وقت یاد رکھنا۔”  شہزام  نے انگلی اٹھا کر وارننگ دی ۔

ادھر  سبرین  اپنا درد بھلائے شرمانے کی اداکاری کرنے لگی تھی، مسکرا کر پلک جھپک جھپک کر کہنے لگی۔

” نہیں۔۔۔۔ یہ سزا مجھے یاد دلاتی رہے گی کہ تم مجھ سے کتنی شدید محبت کرتے ہو۔”

“خواب ہی دیکھتی رہنا۔”  شہزام  طنزیہ ہنسا اور مڑ کر باتھ روم میں گھس گیا ساتھ ہی زور دار آواز سے دروازہ بند کیا تھا یہ اس کے غصے کا اظہار تھا کہ “اس عورت کو رتی بھر بھی شرم نہیں تھی ۔۔بھلا کوئی اتنا بھی بے شرم ہوسکتا ہے ؟!”

باتھ روم کے آئینے میں خود کو دیکھ کر اس کا دل شدت سے چاہا کہ دروازے کے اس پار کھڑی عورت کو ٹکڑوں میں بانٹ دے۔

“ڈیم اٹ۔”

یقیناً آج اسے ماسک پہننا پڑے گا۔ورنہ لوگوں میں اس کا اچھا خاصا مذاق بن جائے گا۔

کورٹ میں کوئی بھی اٹارنی ماسک پہنے نظر نہیں آتا۔۔افففف آج کا دن ہی اس کے لئے برا تھا۔

چڑچڑاہٹ اور بیزاری سے اس نے ناشتے کے دو چار لقمے زہر مار کیئے اور  سبرین  کو آنکھوں ہی آنکھوں میں “کچا چبادینے” والی نظروں سے گھورتاکورٹ روانہ ہوگیا۔

پیچھےمیز پر پڑا سارا ناشتہ جوں کا توں پڑا دیکھ کر  سبرین  نے گہری سانس لی۔۔۔

“اوہ نو۔۔۔ اس نے ڈیول کو پھر سے غصہ دلا دیا تھا۔ ویسے بھی وہ اتنا غصہ کیوں تھا”؟اسے سمجھ میں نہیں آیا!

٭٭٭٭