Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rozan e Zindaan Episode 21

شہزام  نے اپنی درد سے جلتی انگلی،یکدم  اس سے دور کی۔اس کے بے شرمانہ الفاظ سن کر، پھر اسے شرم سے سرخ ہوتا دیکھ کروہ دل میں ھنس دیا۔

وہ جو ظاہر کرتی تھی ۔کہتی اس کے الٹ تھی۔دونوں باتوں میں تفریق وہ اچھی طرح کرنا سیکھ گیا تھا۔

“یہ تم نے ہاتھ میں کیا تھاما ہوا ہے؟”

سبرین  اس کے پوچھنے پر کانپ گئی۔پھر سرگوشی سی کی۔

“تمہارے سوٹ ہیں۔معاف کرنا،میں نے اتفاق سے تمہارے سوٹ ایک ملین ڈالر میں خرید ڈالے۔”

شہزام  کی تیوری ایسے چڑھ گئی،جیسے اس نے کبھی اتنے سستے کپڑے نہ پہنے ہوں۔

سبرین  اس کے تیور دیکھ کر دہل گئی تھی۔

‘ڈیم اٹ،یہ اس بات پر یقیناً غصہ ہوا ہے۔۔۔اگر اسے یہ قیمت بہت زیادہ لگی تو۔۔۔۔۔؟’

اس کی سوچ کے برعکس  شہزام  نے سوٹ دیکھتے ہوئے حیرت سے  پوچھا۔

“یہ دونوں سوٹ ایک جیسے کیوں ہیں؟”

“ہیں۔۔ں۔۔۔ں۔؟”

وہ توقع کے برخلاف سن کر دنگ رہ گئی۔

“کیونکہ یہ محدود اسٹاک تھا۔اس قسم کے سوٹ پورے ملک میں صرف دو تھے۔سو میں نے دونوں ہی خرید لیئے،مجھے یہ اچھا نہ لگتا کہ تمہارے جیسا ڈریس کوئی اور شخص بھی پہنے۔”

سبرین  مکھن لگانے لگی۔ایک ادا سے اسے دیکھا۔

“میری نظر میں،تم ایک قسم کے، دلکش اور خوبصورت مرد ہو۔ میرے خیال میں یہ رنگ تمہارے لیے زبردست ہے۔ میں تم کو ہمیشہ اس طرح کے سوٹ پہنے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں۔ اوہ ۔۔۔معاف کرنا۔۔۔میں کچھ خود غرض بن گئی۔”

اپنی بات ختم کرتے ہوئے اس نے چور نظروں سے  شہزام  کے تاثرات ضرور جانچے۔

اس نے یہ بات بخوبی نوٹ کی تھی کہ  شہزام  مسلسل ہونٹ گھماتے اسے گھور رہا تھا۔

“گڈ جاب۔۔۔۔۔تمہارے “مکھن لگانے” کی مہارت میں بے حد بہتری آئی ہے۔”

شہزام  نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کے گال کی ہلکے سے چٹکی کاٹی۔

“جب تم مستقبل میں ڈیزائنر بننا چھوڑ دو گی، تو پھر تم میری سیکرٹری بن سکتی ہو۔  تمہارےہر روز کے “مکھن لگانے” سے شاید میری روحانی ایبلٹیز بڑھ جائیں۔”

“کیا۔۔۔ تم پاگل تو نہیں ہو؟”   سبرین  نے آنکھیں پھیلاتے ہوئے پوچھا۔

“بھلا میں کیوں پاگل ہوں گا؟”  شہزام  نے اسے ناسمجھی سے دیکھا۔

“میں تو پریشان ہورہی تھی، تمہیں یہ مہنگا نہ لگے۔کیونکہ۔۔۔۔میں نے یہ بات نوٹ کی ہے،تم  اکثر جو کپڑے پہنتے ہو، وہ زیادہ مہنگے نہیں ہوتے۔”

اس کے تاثرات بدلتے دیکھ کر  سبرین  نے زبردستی مسکرا کر بات کو سنبھالا۔

“ایکچوئلی۔۔۔اس میں کچھ غلط بھی نہیں۔۔۔۔میں تمہاری کفایت شعاری، اور کم آمدنی کو جان گئی ہوں نا۔۔۔۔ تبھی تو مجھے تم اچھے لگتے ہو۔”

سبرین  نے ڈر کر اپنی شرمساری کو زبردستی کی مسکراہٹ میں ڈھالاکہ کہیں اس بات پر اس کی مردانہ خودداری کو ٹھیس نہ پہنچ جائے۔

شہزام  تو اس کے الفاظ کی ہیر پھیر پر ساکت ہی رہ گیا۔بے ساختہ گردن جھکا کر اپنے عام طور پر پہنے ہوئے کپڑوں کو دیکھا۔جو بقول  سبرین  کے “سستے” تھے۔

اس وقت  شہزام  کی نظروں میں عجیب سی کیفیت پیدا ہو گئی۔

“یہ اشرافیہ طبقہ  اس قدر سطحی ہوتا ہے کیا؟جو کسٹمائزڈ برانڈ کے متعلق اتنا کم علم رکھتا ہے ۔”

جبکہ حقیقت میں اس کے سارے کپڑے ہر طرح سے منفرد تھے۔آرڈر پر خاص طور پر صرف  شہزام  سُوری کے لئے تیار کئے جاتے تھے۔

سبرین  اس کی بات پر بری طرح چونک گئی۔

“اٹز اوکے۔۔۔تم اس بات کو پھر کبھی جان جاؤ گی۔ابھی اپنے چھوٹے سے ذہن پر زور مت دو۔”

شہزام  ہمدردی اور نرمی سے اس کا سر تھپتھپا کر اپنے کمرے میں چلاگیا۔

سبرین  پر تو حیرانی ہی حیرانی چھا گئی۔

وہ اس کا بی ہیوئر سوچ کر ہی شاکڈ تھی، ویسے بھی اس نے اس کے گال پر کیوں چٹکی ماری؟

اور اس کے سر کو کیوں تھپکا؟

شہزام  کے اس طرح کے برتاؤ پر اسے عجیب طرح کی خجالت محسوس ہورہی تھی۔اگر دوسروں کی آنکھ سے دیکھا جاتا، تو وہ اس وقت ایک لوونگ کپل کی طرح لگ رہے تھے۔

٭٭٭٭

دوسری صبح   شہزام  سُوری،  سبرین  کا لایا سنگل بریسٹیڈ براؤن جوڑا پورے اہتمام سے پہن کر گردن فخریہ اٹھا کر اپنے کمرے سے باہر نکلا تھا۔

جب وہ تیار شیار ،خوشبو کے بھبھکے اڑاتا  سبرین  کی نظروں کی زد میں آیا۔تو  سبرین  کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔وہ واقعی مسمرائیز ہوچکی تھی۔

حلانکہ اس سے پہلے  سبرین  اسے ہر قسم کا لباس پہنے دیکھ چکی تھی۔

لیکن دل کی حالت کبھی آج جیسی نہیں ہوئی تھی۔کچھ نہ سمجھ میں آنے والے احساسات نے  سبرین  کے دل و ذہن پر اچانک سے حملہ کردیا تھا۔شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ لباس وہ خود پسند کرکے خرید لائی تھی۔وہ اس وقت کچھ بوکھلاہٹ اور مِیٹھی مِیٹھی چُبھن،جیسی مُلی جُلی کیفیت کا شِکار ہوچَلی تھی۔اُسے خود بھی اپنے احساسات پر حیرت تھی۔ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ واقعی اس کا سچ مچ شوہر ہو۔

شہزام  نے ایک تِرچھی نظر اس کے گُم سُم اور حواس باختہ چہرے پر ڈالی،اور دل ہی دل میں لب بھینچ کر مسکرایا۔ سبرین  کے یوں ٹک ٹکی باندھ کر دیکھنے نے اس کا موڈ فریش کردیا تھا۔

آج سے پہلے وہ یہ سمجھتا رہا تھا کہ نان کسٹمائزڈ لباس برانڈ غیر آرامدہ  ہوتا ہوگا۔بنسبت اس کے اپنی مرضی کے بنے برانڈڈ لباس کے۔اس کے باوجود بھی اس نے اسی لئے پہن لیا کیونکہ یہ  سبرین  کو پسند آیا تھا۔بس نہ جانے کیوں؟ وہ یہ بات خود کو سمجھا نہیں پایا تھا۔

جب وہ گھر سے باہر نکلنے لگا تب اس کے ذہن میں جیسے کچھ کلک ہوا۔وہ حیرانی سے اس کی طرف الٹے قدموں مڑا۔

“تم نے اپنے لئے کپڑے نہیں خریدے؟”

“نہیں،میں تو تمہارے لئے ہی خریدنے میں مصروف تھی۔اپنے لئے وقت ہی نہیں ملا۔” سبرین  کے چہرے پر ایک پیارا سا رنگ پھیل گیا تھا۔ اپنے خریدے گئے کپڑوں میں اسے دیکھ کر ایک میٹھی میٹھی سی دل میں چبھن ہونے لگی تھی۔

“لیکن مجھے لگتا ہے کہ تم فاریا کے ساتھ رات کا کھانا کھانے میں ہی مصروف تھی۔”   شہزام  نے اسے بے تکلفی سے بے نقاب کرتے ہوئے میٹھا سا طنز کیا۔

“آآآآ۔۔۔ تم میرے بارے میں اس طرح کیوں سوچتے ہو؟”  اپنی شرمندگی چھپانے کے لیے  سبرین  نے بڑے دل پھینک انداز میں کہا۔

اس کے دلربا انداز پر  شہزام  کو لگا جیسے اس کا گلا ٹائٹ ہوگیا ہو۔  اس نے اپنی قمیص کے گلے کے دو بٹن کھولے اور کہا۔

“اگر تمہارے پاس وقت ہے تو جا کر میرے کارڈ سے اپنے لئے کپڑے لے آنا۔  یہ کپڑے تمہارے کھانا پکانے اور صفائی ستھرائی کے عوض بطور معاوضہ ادا کیے جائیں گے۔”

بات ختم کرتے ہی بناء یہ  دیکھے آفس کے لئے نکل گیا کہ اس کے بے رحمانہ اور سنگدلانہ الفاظ پر کسی کا دل ٹکڑوں میں بٹ چکا ہے۔

٭٭٭٭

جیسے ہی ہادی  لاء فرم میں داخل ہوا۔ وہ  شہزام  سوری کا سوٹ دیکھ کر دنگ رہ گیا۔  اس نے جلدی سے کہا۔

“چھوٹے مالک آپ کا سوٹ۔۔۔۔؟”

“یہ  سبرین  نے کل سڑک سے خریدا تھا۔”

شہزام  نے سنجیدہ انداز میں ڈاکومنٹس کی ورق گردانی کرتے لاپرواہی سے جواب دیا۔

شیث جو ٹھیک اسی وقت دروازے پر پہنچا تھا۔اس نے  شہزام  کے آخری الفاظ سن لئے تھے۔

“واہ۔۔بھئی واہ، کمال ہوگیا۔۔مطلب کہ تم نے آج حقیقتاً سڑک سے خریدا گیا مال پہنا ہوا ہے؟”

اس کے شوخ لہجے پر  شہزام  نے ایک سرد نظر اس پر ڈالی۔

“ایک لاء فرم کے مالک کے طور پرتم ہمیشہ یہاں آتے ہی  گھومنے پھرنے لگ جاتے ہو۔  لگتا ہے تم بہت ہی کوئی بیکار چیز ہو۔‘‘

“میں بیکار نہیں ہوں۔  میں تو ایک دن  بھی “اگر تم کو نہ دیکھوں” تو خوف سا آتا ہے۔‘‘  شیث نے  شہزام  کے سوٹ کی طرف غصے سے دیکھا۔”یہ ڈی جی کا محدود ایڈیشن ہے۔  میں نے سوچا تھا کہ تم صرف  کسٹمائزڈ برانڈڈ کپڑے ہی پہنتے ہو۔ لیکن آج۔۔۔۔کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بھابھی  سبرین  نے تمہارے لئے خریدا ہے؟”

شہزام  نے ایک ڈاکیومنٹ اٹھا کر اس کے چہرے پر پھینکی،  اس کے پتلے ہونٹوں سے ایک دھاڑ سے “گیٹ لاسٹ” کا جملہ نکلا۔

“اچھاا اچھاا۔۔۔ پاگل مت بنو۔  میں یہاں تم کو کچھ بتانے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔  میرے دادا کل رات اپنی 80 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔  مجھ غریب کو اس فنکشن میں شریک ہونے کا اعزاز بخش دو۔”شیث نے سیز فائر کرتے ایک انویٹیشن کارڈ نکال کر ٹیبل پر رکھا۔

شہزام  کی بھنویں تعجب سے سکڑ گئیں۔کیا یہ اتفاق تھا کہ تازہ ملبورن میں کافی تعداد میں لوگ اپنی 80 ویں سالگرہ منا رہے تھے؟

“بائے دے وے، تمہارے لئے بہتر یہی ہوگا کہ اپنی ساتھی کو ساتھ لے آؤ۔میری چچا زاد ویسے بھی تم پر سالوں سے فریفتہ ہے۔دادا کی بھی یہی خواہش ہے کہ تمہاری جوڑی اپنی پوتی کے ساتھ  سیٹ کرلیں۔”

اس کی وارننگ پر  شہزام  نے بے ساختہ تذبذب سے اپنی پیشانی کھجائی تھی وہ ساتھی کے طور پر کس کو لے جائے؟ کیا  سبرین ۔۔؟

٭٭٭٭

آنے والے دو دنوں میں  سبرین ،” شہزام  کے ساتھ اپنا رشتہ کیسے بڑھانا چاہیئے؟”پر ہی غور کرتی رہی۔اس نے تو  شہزام  کے ولا کو ڈیزائن کرنے کا بھی سوچ لیا تھا۔

“ہاں۔۔۔آج رات کینڈل لائیٹ ڈنر کیسا رہے گا؟”

سبرین  مسلسل پریشانی سے  شہزام  کے متعلق ہی سوچے جا رہی تھی۔اس کی سوچ کا محور صرف اور صرف  شہزام  سوری کی ذات تھی۔اسے یہ بھی بھول گیا تھا کہ وہ اس وقت گھر میں نہیں بلکہ آفس میں بیٹھی ہے۔

انہی سوچوں کے درمیان  شہزام  نے اسے کال کی۔

“کہاں ہو تم؟” شہزام  کی گھمبیر آواز رسیور سے گونجی تھی۔

“آفس میں ہوں۔کیوں؟”

وہ دل ہی دل میں اس کے حق سے پوچھنے پر کچھ حیران ہوئی۔

“مجھے ایڈریس بھیجو، میں تم کو بیس منٹ میں پک کرنے آرہا ہوں۔” شہزام  کی مصروف آواز آئی ۔

“لیکن۔۔۔کیوں؟ ”  سبرین  نے اچھنبے سے پوچھا۔آج سے پہلے اس نے ایسی آفر بالکل نہیں کی تھی۔ اور آج ایسی کیا ضرورت پڑگئی تھی اس جیسے تند مزاج شخص کو؟ یا۔۔۔ بیوی کی حیثیت سے وہ اپنی رسپانسبلٹی جان گیا ہے؟ ..مے بی!

“تم میرے ساتھ ایک سالگرہ کی تقریب میں چل رہی ہو۔” شہزام  نے تحکم سے کہا۔

(یہاں اسے موقع مل رہا تھا۔) سبرین  کی آنکھیں کچھ سوچ کر چمکنے لگیں۔لیکن پھر کچھ یاد آتے ہی ان سے خفگی کا رنگ جھلکنے لگا۔

“تم نے میری دادی کی سالگرہ پر تو چلنے سے انکار کردیا تھا۔اب میں کیوں تمہارے ساتھ چلوں؟”

“اگر تم میرے ساتھ نہیں چلوگی،تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔میں بہرحال کسی اور کو لے کر جاسکتا ہوں”  شہزام  نے اس کے انکار کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ بلکہ سرد انداز سے کہہ کر لاپرواہی سے جیسے ہی اس نے فون کاٹنا چاہا۔ سبرین  نے جیسے ہار مان کر صورتحال کو سنبھالا۔

“رکو۔۔میں چلوں گی۔۔۔میں آرہی ہوں۔۔۔کیونکہ ۔۔۔۔محبت کے میدان میں ہمیشہ وہی شخص ہار جاتا ہے۔۔۔ جو۔۔۔۔پہلے محبت کرتا ہے۔ تو۔۔۔۔میں بھی ہار گئی ہوں۔میں۔۔۔ بدقسمتی سے۔۔۔۔ اپنا دل مکمل۔۔۔ تمہارے آگے ہار چکی ہوں۔کتنے ذہین شخص ہو تم۔۔۔۔۔کہ مجھے جھکادیا ہے۔؟”یہ کہہ کر اس نے دوسرے ہاتھ سے سامنے پڑے کافی کے مگ سے گھونٹ بھرا۔ساتھ ہی دل ہی دل میں اپنی ایکٹنگ کو داد دی۔”واہ سبی، یار۔۔کمال کی اداکارہ ہو۔”

کچھ سیکنڈ ایسے ہی گزر گئے  شہزام  کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا تھا۔ سبرین  نے اس کی خاموشی پر اچنبھے سے ریسور کو گھورا۔

ٹھیک اسی وقت  شہزام  کی آواز آئی ایسے جیسے وہ دانت پر دانت جما کر ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کررہا ہو۔

“میرا فون، بلیو ٹوتھ کے ذریعے کار سے منسلک ہے۔اور شیث ابراہیم میرے ساتھ بیٹھا ہے۔”

یہ سنتے ہی  سبرین  کے منہ سے کافی کا پیا ہوا گھونٹ ایک فوارے کی صورت میں باہر نکلا تھا۔اور سیدھا جاکر کمپیوٹر کی اسکرین پر نقش و نگار بنا دیئے تھے۔

اس کے ساتھ ہی شیث ابراہیم کی چہکتی آواز آئی۔

“ناٹ بیڈ، بھابھی۔میں بتا نہیں سکتا کہ آپ فلرٹ میں کتنی اچھی ہیں۔کوئی تعجب نہیں کہ  شہزام  ۔۔۔۔”

“میں آرہی ہوں۔”

اس نے ہڑبڑا کر ایک جھٹکے سے کال کاٹ دی ۔ سبرین  تو جیسے شرمندگی اور صدمے سے مرنے جیسی ہوگئی تھی۔”اف۔۔۔۔” بے اختیار گہرے گہرے سانس لیتی کرسی سے ٹیک لگا گئی۔اور چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپالیا۔

اپنا سامان اکٹھا کرتے ہوئے وہ مسلسل شرمساری سے خود کو کوسنے دیئے جارہی تھی۔لیکن اب کیا ہوسکتا تھا۔وہ  شہزام  کو اکیلا سمجھ کر واقعی فلرٹ ہی کررہی تھی۔اسے بالکل بھی اندازہ نہیں ہوسکا کہ وہ کسی کے ساتھ بھی تو ہوسکتا ہے۔”اف۔۔۔اف۔۔” اس نے بے اختیار اپنے گال پیٹے۔

اور شرمسار سی بیگ اٹھا کر آفس سے باہر آگئی۔سیڑھیاں اتر کر نیچے چلی گئی۔ اسی وقت اسے فریا کا فون آیا۔

“کیا چل رہا ہے میری سوہنی؟ کیا تم نے گزری رات میرے کہے پر عمل کیا؟”

“نہیں۔۔۔۔لیکن اس نے ابھی مجھ سے پوچھا ہے کہ میں اس کے ساتھ ایک برتھ ڈے پارٹی میں چل سکتی ہوں؟  ہوسکتا ہے وہاں پینے پلانے کا شغل ہو اور مجھے موقع مل جائے۔لیکن ایک بات ہے یار۔۔۔وہ جب ایسی پارٹیز میں جاتا ہے تو کوئی بھی چیز نہیں پیتا۔مطلب پینے والی چیز نہیں لیتا ۔اسی لیئے ۔۔مجھے نہیں لگتا کہ میں کامیاب ہوسکوں گی.” سبرین  نے جملہ جلدی جلدی پورا کرتے ایک گہری سانس لی۔وہ اتنا تو جان گئی تھی کہ  شہزام  بہت سینس ایبل بندہ ہے۔

“برتھ ڈے بینکوئیٹ؟ “فریا ایک لمحہ تو حیران رہ گئی۔”کیا یہ شیث ابراہیم کے دادا حضور کی 80ویں سالگرہ ہے؟پھر تو میں بھی ساتھ آرہی ہوں۔”

“میں سمجھی۔۔۔ شہزام  شیث ابراہیم کے ساتھ موج مستی کرے گا۔” سبرین  نے اندازہ لگایا۔

“یہ تو بہت اچھا رہے گا۔میں  شہزام  بھائی کے ساتھ کچھ لوگوں کو بھی پینے کے لئے جوس دوں گی۔ اور  شہزام  بھائی کے گلاس میں نشہ آور چیز ملادوں گی۔اگر اس سے بھی فرق نہیں پڑا تب پھر میڈیسن۔۔۔۔”اس کی بات پر فریا نے جوش سے کہا۔پھر شرمندگی سے اپنے ہی الفاظ پر زبان دانتوں تلے دبالی۔

“ہا ہا۔۔ اینی وے، میں کسی بھی طرح سے  شہزام  بھائی کو تمہارے ساتھ ریلیشن پر مجبور کروں گی تاکہ تم ایزد کی مامی بن سکو۔”

سبرین  نے فضا میں ایک لمبی اور گہری سانس چھوڑی۔

ہر چیز ہی اچانک سے پلانڈ ہوئی تھی سو وہ خود کو واقعی بھی کسی چیز کے لیئے تیار نہیں کرپا رہی تھی۔

تاہم فریا نے ایکسائٹمنٹ میں سب کچھ تیار کرنے میں اس کی مدد کرنا شروع کر دی تھی۔

سبرین  سڑک پر بے چینی سے  شہزام  کا انتظار کر رہی تھی۔  ڈیم، کیا اسے کچھ تیاری کرنا چاہیئےتھی؟

یہ اور بات کہ اسے اس طرح کی چیزوں کا نہ تو کوئی تجربہ تھا نا ہی کوئی آئیڈیا۔

جب وہ مدہوش ہوجائے گا تب۔۔تب وہ اس کے ساتھ تنہا۔۔ کس طرح رہ پائے گی؟  یہ مشکل تھا۔۔بہت مشکل۔۔

“بیپ۔۔۔بیپ۔”

کار کے تیز ہارن کی گونج نے اس کی سوچوں میں بری طرح خلل پیدا کردیا۔وہ جیسے نیند سے جاگی تھی۔درحقیقت اس نے اپنی سوچوں میں مسلسل ہوتے ہارن کی آواز پر دھیان نہیں دیا تھا۔

شہزام  سوری روڈ کے سائیڈ پر کھڑی اس عورت کو تکنے لگا۔جو کچھ چونک کر اس طرح پیچھے ہوئی تھی جیسے اس سے پہلے کہیں اور موجود ہو۔اور اب شرمندہ سی نظر آرہی تھی۔اور بے اختیار ہارن کی تیز آواز پر اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپایا تھا۔

شہزام  کو سمجھ میں نہیں آیا کہ ایسا کیا ہوا ہے؟  جو وہ روڈ کے ایک طرف کھڑی گم سم سی تھی۔کیا اس نے ہارن کی آواز نہیں سنی؟ وہ لاجواب سا ہوا۔

شیث نے شرارت سے اس کے طرف جھک کر سرگوشی کی۔

“شان، میں سمجھتا ہوں تمہاری بیوی تمہارے بارے میں ہی سوچ رہی تھی اسی لئے کسی اور جہان میں کھوئی ہوئی تھی۔”وہ مسکرایا۔

“تم بہرحال  سبرین  نہیں ہو۔ اسی لئے اپنے اندازے اپنے تک رکھو۔تو بہتر رہے گا۔” شہزام  نے اسے سرد نگاہ سے گھورا۔لیکن وہ خود بھی بے یقین سا تھا۔اسے  سبرین  ہر غصہ آرہا تھا۔”کیا وہ بہری تھی جو ہارن پہ ہارن نہیں سن سکی؟”

“ایمانداری کی بات ہے یار،  میں جتنا بھابھی کو دیکھتا ہوں، اتنی ہی مجھے کیوٹ لگتی ہیں۔حقیقت میں،میں بھی اسی شہر میں رہتا ہوں لیکن۔۔تم نے اسے پہلے حاصل کرلیا۔۔۔۔”اس سے پہلے کہ وہ اپنا جملہ مکمل کرپاتا۔  شہزام  نے برف سی نظر سے اسے گھورا۔

شہزام  نے اسے وارن کرتے کہا۔

“اپنے خیالات کو اپنے تک رکھو شیث ابراہیم،  وہ “کوئی چیز” نہیں ہے۔جسے تم بیوقوف بنانے کا سوچو۔”یہ کہتے ہی اسے تنبیہی نظر سے گھورتا کار سے اتر آیا۔اور  سبرین  کی طرف قدم بڑھادیئے۔

جس طرح سے وہ اپنے پریشان کُن خیالات سے نبرد آزما تھی۔اس حالتِ میں اس کا ذہن بالکل بھی کام نہیں کررہا تھا۔اسے بالکل بھی پتا نہیں چل رہا تھا کہ وہ کہاں اور کس جگہ پر اور کس حالت میں کھڑی ہے۔ اسے سب بھول گیا تھا۔کچھ پل کے لیئے اس کا ذہن بالکل ایک ہی نکتہ پر رک سا گیا تھا۔جیسے کوئی خیالات کے دائرے میں قید ھٓیوجائے۔اسے بالکل بھی سمجھ نہیں آئی تھی کہ ایسی سچویشن سے کیسے نمٹا جائے۔وہ بس کھڑی رہ گئی تھی۔ساکت جامد ۔۔جبھی اس پر کسی چیز کا سایہ سا پڑا۔تیز دھوپ میں جیسے ابر چھاجاتا ہے۔بالکل اسی طرح، اس نے بے اختیار اپنے چہرے سے ہاتھ ہٹائے۔جب اس کی نظروں کی رسائی جانے پہچانے سے مرد کے نقوش تک پہنچی۔وہ بے اختیار خوفزدہ سی ہوکر دو قدم پیچھے ہوئی تھی۔یقیناً وہ ہارن کی گونج پر وقتی طور پر حواس کھو بیٹھی تھی۔ حواس باختہ سی وہ اپنا توازن نہ سنبھال پائی۔وہیں پر اس کی اُونچی ہیل نے دغا دی اور وہ بے اختیار پیچھے کی جانب لڑکھڑائی ۔

یہ دیکھ کر کہ وہ تقریباً گر رہی ہے۔ شہزام  نے بے اختیار ہاتھ بڑھایا۔اور اسے بازو سےتھام کر کھینچ کر اپنے بازوؤں کے سہارے اس کو پیروں پر واپس کھڑا کردیا۔

اگر اس طرح کی سچویشن کسی اور دن ہوتی تو  سبرین  یقیناً  ناک چڑھا کر لاپرواہی سے آگے بڑھ جاتی۔لیکن ابھی جس طرح سے وہ  شہزام  کے متعلق سوچ رہی تھی۔اور  شہزام  نے جس طرح اسے کھینچا تھا۔ سبرین  کی ناک کی نوک اس کے سینے سے لگ چکی تھی۔اور وہ خود اس کے بازوؤں کے ہی سہارے پر کھڑی تھی۔اتنی سی قربت نے بھی اس کا چہرہ کانوں کو لوب تک چقندر جیسا سرخ کردیا تھا ۔

“کیا میں اتنا ڈراؤنا ہوں؟”  شہزام  نے ابرو کھینچ کر اسے اچھنبے سے گھورا۔

“نہیں۔۔”  سبرین  نے بے ساختہ شرمندہ ہوکر نفی میں سرہلادیا۔

“میں بس۔۔۔ ابھی ابھی باہر آئی تھی اور تمہارے آنے کی اتنی جلدی توقع نہیں تھی۔”

اس نے جلدی سے اس سے پیچھے ہوکر حد قائم کی۔

“گاڑی میں بیٹھو۔” شہزام  نے اس کے لئے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول دیا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر جاکر بیٹھا۔

سبرین  نے ریلائیز کیا کہ کوئی پسنجر سیٹ پر پہلے ہی سے بیٹھا ہوا ہے۔وہ لب بھینچ کر پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔شرمساری اتنی تھی کہ چہرہ شیث ابراہیم کی موجودگی کی وجہ سے اوپر نہیں اٹھ سکا۔سر جھکائے بیٹھی رہی۔

“ہیلو، بھابھی ۔۔۔آپ کیا سوچ رہی تھیں جو آپ نے گاڑی کے مسلسل تیز ہارن بھی نہیں سنے؟ ” شیث کے ہونٹوں پر شرارتی سی شیطانی مسکراہٹ ابھری تھی۔

“آپ کے تاثرات سے تو یہی لگ رہا تھا کہ آپ  شہزام  کے بارے میں ہی سوچ رہی تھیں۔”شیث نے بالکل درست تُکا لگایا تھا۔

“ہاں۔۔۔میں اُن کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی۔”  سبرین  نے بالکل انکار نہیں کیا بلکہ لاپرواہی سے قدرے دھیمے انداز میں بول کر یکدم سر جھکادیا ۔

“اس کی بات پر سامنے بیٹھے ہوئے  شہزام  کو اپنی کھوپڑی میں جیسے میٹھی میٹھی سی گدگدی محسوس ہوئی، اس نے بے اختیار نظریں اٹھا کر عقبی آئینے میں اس عورت کو دیکھا جس کا سر مجرم کی طرح جُھکا ہُوا تھا۔اس کے ڈارک بھورے بالوں کی اوٹ سے سُرخ کانوں کی لوب نظر آرہی تھی۔جو اسے چھو کر محسوس کرنے پر مائل کررہی تھی۔ اس لمحے وہ اسے کافی دلکش لگی تھی۔اور ساتھ ہی اس کی حالت پر  بے ساختہ لب بھینچ کر مسکرادیا تھا۔

“واہ’کیا کہنے “ایک زوردار آواز کے ساتھ کہہ کر، شیث نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر جیسے دل کو تھاما تھا۔پھر  شہزام  کو مصنوعی غصہ سے دیکھ کر کہا۔ “مجھے یہ  تو نہیں کہنا چاہیے۔ کہ تم دونوں ساتھ بہت ہی پیارے لگتے ہو، اس کے برعکس مجھے اپنے کنوارے ہونے پر بے عزتی سی محسوس ہورہی ہے۔  ویسے بھی ایک راز کی بات بتاتا چلوں بھابھی،”وہ گردن موڑ کر  سبرین  کے طرف گھوما تھا۔” شہزام  کی شخصیت بالکل بھی اتنی اچھی نہیں ہے، جتنی کہ لگتی ہے۔اور نہ ہی یہ مزاج کا پیارا بندہ ہے۔  اس کی ایسی بہت سی گندی عادتیں بھی ہیں۔جو آپ کو ابھی تک معلوم نہیں ہونگیں۔آپ کو آخر اس  میں کیا پسند آیا ہے؟”

ادھر اپنے دل کی گہرائی سے وہ شیث کی باتوں سے مکمل سہمت تھی۔لیکن اس کے باوجود بھی اس نے اپنا مان سلامت رکھا تھا۔سرگوشی میں ایسے بولی، جیسے سحرزدہ سی ہو۔

“ان سب باتوں کے باوجود بھی مجھے۔۔۔ اس سے پیار ہوگیا ہے۔مجھے اس کی خامیاں بھی  خوبیاں دیکھتی ہیں۔اس کی نسبت مجھے بظاہر شریف دکھائی دینے والے لوگوں سے ان سیکورٹی سی محسوس ہوتی ہے۔میں صرف،  شہزام  کی خوبیوں کی دلدادہ ہوں۔”دھیمے لہجے میں کہتی وہ  شہزام  کو متاثر کرنے میں لگی ہوئی تھی۔

اس کی لفاظی پر شہزام  کے ہونٹ سختی سے آپس میں باہم پیوست ہوگئے۔اس عورت کو بالکل بھی بولتے ہوئے یہ پتا نہیں چلتا کہ کوئی غیر مرد بھی وہاں موجود ہے ۔بہرحال وہ تنہا نہیں تھے۔ تیسرا فرد موجود تھا۔جو کہ  سبرین  کے لیئے قطعاً  غیر تھا۔جس کے سامنے اس قدر بے شرمی سے اپنےاحساسات بیان کرنا  شہزام  کو سخت کوفت میں مبتلا کرگیا تھا۔اس نے نظر پھیر کر شیث کو تذبذب سے دیکھا تھا۔

شہزام  کے اس طرح دیکھنے پر شیث کو عجیب محسوس ہوا۔ ابرو اچکا کر ناسمجھی سے اسے دیکھا ۔

” میرے خیال سے مجھے تم دونوں کے بیچ میں نہیں ہونا چاہیئے تھا۔رائیٹ؟ “اس نے مسخرے پن سے منہ بنایا۔

اس کے مسخرے پن پر  شہزام  نے ہونٹ سکوڑے اور نفی میں سر ہلا کر اگنور کرکے دھیان ڈرائیونگ پر لگانا ہی بہتر سمجھا۔

لیکن  سبرین  جلدی سے بول پڑی۔

” نہیں۔۔نہیں۔ آپ تو بہت ہی ہنس مُکھ  سے ہیں شیث بھائی،  آپ کی موجودگی مجھے رلیکسڈ فیل کروارہی۔” وہ جلد بازی میں الٹا بول گئی۔جس پر  شہزام  نے چونک کر آئینے سے اسے گھورا۔تو وہ دانتوں تلے لب دبا گئی۔

“تمہاری بات کا مطلب ہے جب تم میرے ساتھ تنہا ہوتی ہو تو رلیکسڈ نہیں ہوتی؟ ” شہزام  کو اس کا جملہ ہضم نہیں ہورہا تھا۔

سبرین  یکدم سیٹ پر سیدھی ہوکر بیٹھی۔

“کیا ایسا ہونا ممکن نہیں؟ جب آپ اپنے پسندیدہ شخص سے ملتے ہیں، تو آپ کو لگتا ہے، جیسے آپ کا دل زورررر سے دھڑک اٹھا ہے اور آپ۔۔۔ سچ میں بس ہار گئے ہیں۔” وہ پھر سے بے تکی ہانکنے لگی۔اس کی بات پر  شہزام  کا دل کیا اپنا سر اسٹرنگ سے ٹکرا دے یا اس  سبرین  کا۔

لیکن اس کی اسٹرئنگ وہیل کو بجاتی تیزی سے متحرک انگلیاں اس کی اندرونی حالت کی چغلی کھارہی تھیں۔

جبکہ دوسری سائیڈ پر بیٹھے شیث کی حالت  سبرین  کی فلرٹی گفتگو پر متاثر ہونے کے ساتھ جیلسی بھی ہورہی تھی۔وہ  شہزام  سے جیلسی محسوس کررہا تھا۔وہ کبھی اپنی زندگی میں ایسی لڑکی سے نہیں ملا تھا جو اپنی محبت کو لفظوں سے یوں اعلانیہ ظاہر کرے۔

سبرین  بھی اب خاموش ہوکر اپنے سیل فون سے کھیلنے لگی۔

جب اچانک ہی فریا نے اسے دو ویڈیوز بھیجیں۔

فریا اکثر اسے مستی بھرے اور فنی وڈیو کلپز شیئر کرتی تھی۔ سبرین  اس وقت بھی ایسا ہی سمجھی کہ کوئی فنی وڈیو کلپ یوگی۔تبھی اس نے بناء سوچے سمجھے سیدھا ویڈیوز پر کلک کردیا۔

اس سے پہلے کہ وہ کوئی ردعمل دکھا سکتی۔

ایک زوردار آواز گونجی تھی، جس نے کار کی خاموشی کو ہی نہیں، بلکہ آگے بیٹھے دو مضبوط مردوں کے دل بھی لرزا دیئے۔

کیونکہ ویڈیو اوپن ہوتے ہی ایک مصالحہ دار سین ظاہر ہوا تھا۔

وہ تو دنگ رہ گئی۔کاٹو تو جیسے لہو نہ ہو۔اسے فریا سے بالکل بھی ایسی حرکت کی امید نہیں تھی۔کانپ کر جلدی سے اس نے موبائل  ہی بند کردیا۔دل دھڑ دھڑ کررہا تھا۔پیشانی پر پسینہ آگیا۔جبکہ گاڑی پہلے سے ہی اس آواز کی وجہ سے رُک گئی تھی۔اب دونوں گردن موڑے اسے تعجب سے گھور رہے تھے۔

اس وقت  سبرین  کا دل شرمندگی سے ڈوب مرنے کو کررہا تھا۔ یا ۔۔۔کاش وہ کھڑکی سے چھلانگ لگا سکتی!

“اوہ۔۔۔۔لیٹ می ایکسپلین پلیززز۔میں تو۔۔۔میں تو آن لائن ا۔۔۔ایک کتاب پڑھ رہی تھی۔جب اچا۔۔نک سے ۔۔یہ ظاہر ہوئی۔”وہ ہچکچائی تھی۔

اس کی شرمندگی دیکھ کر شیث نے اپنی ناک کی نوک کھجائی۔

“کوئی بات نہیں ۔بھابھی۔میں بھی گھر پر چھپ کر، ایسی ویڈیوز دیکھ لیتا ہوں ۔مجھے پتا نہیں تھا کہ ہم دونوں کی ہابیز ملتی جلتی ہونگیں۔”

اس پر  سبرین  تو اپنی جگہ پر دنگ رہ گئی ۔۔یہ وہ اسے کیا سمجھ رہا تھا؟ اس کا مطلب وہ اسے تسلی بالکل نہیں دے رہا تھا۔

“میں تمہیں پھر سے تنبیہہ کرتا ہوں، آئندہ ایسی گندی چیزیں دیکھنے سے پرہیز کرنا۔”

شہزام  نے اپنے سخت تاثرات پر بمشکل قابو پاکر اسے جھڑکا۔

شہزام  کو رہ رہ کر شدید تاؤ آرہا تھا جب جب اس کے ذہن میں یہ گھوما،کہ کس طرح  سبرین  ویڈیو میں موجود شرٹ لیس غیر مرد کو گھورے جا رہی تھی۔کتنی بے شرم تھی! یہ بات اسے تپانے کو کافی تھی۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کیا کرجائے۔کچھ دیر پہلے کے میٹھے میٹھے احساس پر گویا برف پڑ گئی تھی۔

” یار، کول ڈاؤن۔اگر اسے دوسرے نقطہ نظر سے دیکھو تو۔۔۔یہ ایک طرح سے سیکھنے کا ذریعہ ہی ہے۔ شاید بھابھی یہ تمہارے اور اپنے رشتے کو بڑھانے کے لئے سیکھ رہی ہوں۔”شیث نے جیسے اس کا غصہ کم کرنے کے لئے دلیل دی۔ساتھ ہی  سبرین  کی گلٹ کو بھی مٹانا چاہا۔

اور اس کی بات پر  سبرین  نے   جلدی جلدی گردن ہلائی۔جیسے وہ بھی شیث ابراہیم کی بات پر ایگری ہو۔وہ  شہزام  کے غصہ سے اندر ہی ڈر گئی تھی۔

“ہمارے رشتے میں ایسی کسی چیز کی گنجائش نہیں شیث، اس کو ایسی ویڈیوز  دیکھنے کی ضرورت بالکل نہیں۔”

شہزام  نے دھیمے لہجے میں کہا۔اس کے باوجود اس کا خفا خفا سا انداز اس کی اندرونی بے چینی کی عکاسی کررہا تھا۔اگر ایسا کچھ ہوتا بھی تب بھی وہ خود پر کنٹرول رکھنا جانتا تھا۔

جبکہ  سبرین  کی سوچ اس کے برعکس تھی۔اس کے الفاظ نے سچ میں اس کا دل دکھایا تھا ۔یہ سوچ کر کہ وہ اس کے طرف مُلتفت نہیں ہے۔وہ مایوسی سے سَر جُھکا کر رہ گئی۔کسی کو زبردستی خود سے باندھنے لگو، تو وہ رسی چُھڑا کر دور بھاگنے لگتا ہے۔اسی لیئے اگر رشتے کو مضبوط کرنا ہے تو اگلے کو آزاد چھوڑ دیں۔اگر نبھانا ہوگا تو مڑ کر آئے گا۔نہیں تو پیٹھ پھیر کر چلا جائے گا۔ سبرین  کو بھی اپنے رشتے میں اسپیس دینے کی ضرورت تھی۔لیکن اس کے سر پر تو بس جلد از جلد ایزد کی مامی بننے کا بھوت سوار تھا۔وہ ایسی نفیس باتیں کہاں سے سیکھتی؟

شیث  سبرین  کو ہمدردی سے دیکھنے لگا۔”کس قدر بدقسمت اور غیر رومینٹک شخص تھا۔ جو اس قدر پیاری رفیقِ حیات کے ہوتے ہوئے بھی اس سے بےزاری دکھارہا تھا۔کچھ لوگ اتنا خوبصورت اور وفادار جیون ساتھی واقعی بھی ڈیزرو نہیں کرتے۔”وہ  شہزام  کو خاموشی سے دیکھے گیا۔جو بےزار سا گاڑی ڈرائیو کررہا تھا۔

٭٭٭٭

ایک گھنٹے بعد کار ایک جھٹکے سے رک گئی ۔

سبرین  نے سر اٹھا کر صرف یہ جاننا چاہا کہ وہ کہاں آئے ہیں؟  سامنے کی عمارت دیکھ کر وہ حیران رہ گئی۔جہاں میلبورن کے مہنگے ترین میک اپ اسٹوڈیو کی عمارت سر اٹھائے کھڑی تھی۔یہ وہ جگہ تھی، جہاں لوگ صرف ذاتی جان پہچان کے سبب ہی جاسکتے تھے۔جہاں اپائنٹمنٹ بھی ایک ماہ پہلے سے لینا پڑتا تھا۔تو۔۔۔  شہزام  اسے یہاں کیوں لایا ہے؟

حالانکہ وہ اس سے پہلے کبھی اتفاقاً بھی نہیں آئی تھی۔لیکن اتنا ضرور جانتی تھی کہ یہ میک اپ اسٹوڈیو صرف اونچی کلاس کے لوگوں کے لیئے ہی مختص ہے۔عام آدمی بنا اپائنٹمنٹ کے نہیں جاسکتا۔

شہزام  نے اس کے طرف گردن گھمائی۔

“جاؤ۔۔جاکر پہلے اپنا میک اپ کرواؤ۔میں کچھ دیر بعد پک کروں گا۔ابھی ایک جگہ جانا ہے۔”

“ہیں۔۔۔؟” سبرین  تو دنگ رہ گئی۔”شانی۔۔۔تم کو میلبورین آئے زیادہ وقت نہیں ہوا۔اسی لیئے تم نہیں جانتے کہ یہ اسٹوڈیو عام آدمی کو بناء بکنگ کے اندر آنے نہیں دیتا۔بھلے آپ کتنے بھی امیر کیوں نہ ہو۔ اس کے لئے ایک ماہ ایڈوانس اپائنٹمنٹ  لینی  پڑتی ہے۔”وہ معصومیت سے ہاتھ ملا کر بولی۔

“شانی۔۔۔؟”ہاہا۔۔ ” شیث تو اس قدر پیار سے  شہزام  کا نام لینے پر اپنا قہقہہ نہ روک سکا۔کھلکھلا کر ہنس پڑا۔جس پر  شہزام  نے دانت پیس کر اسے قتل کردینے والی گھوری دی۔

اس پر یکدم سے اس نے اپنے قہقہے کا گلا گھونٹا۔اور تاثرات سنجیدہ کرلیئے۔پھر جلدی سے تصحیح کی۔

“ہم کو بکنگ کروانے کی ضرورت نہیں بھابھی ۔آپ بے فکر ہوکر اوپر چلی جائیں۔میں نے باس کو بتادیا ہے۔”

“اوووہ۔” سبرین  نے دل ہی دل میں مطمئن ہوکر گہری سانس لی۔کوئی شک نہیں تھا کہ شیث ابراہیم میلبورین کا مشہور اور امیر شخص تھا لازماً اس کے اختیارات کا دائرہ وسیع تو ہونا ہی تھا۔

وہ جیسے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آئی۔اسٹوڈیو کی مالکہ نے دروازے پر خود اس کا استقبال کیا۔اور اسے مسکرا کر ساتھ لیتی میک اپ روم میں لائی۔اسے  سبرین  کا پرسنلی میک اپ کرنے کا آرڈر تھا۔

ایک گھنٹے بعد  شہزام  واپس آگیا۔لیکن  سبرین  کی تیاری ابھی نامکمل تھی۔تبھی وہ انتظار کرنے کے لئے ویٹنگ ایریا میں پڑے کاؤچ پر بیٹھ گیا۔

کچھ دیر بعد ہی وی آئی پی روم کا دروازہ کھلا۔اور  سبرین  چلتی ہوئی باہر آئی۔

سبرین  نے پیروں کو چھوتا سمندری رنگ کا ڈریس پہنا ہوا تھا۔جس میں نیچے تک ہیروں سے ایمبرائڈری کی گئی تھی۔نہ فقط لباس کافی چمکدار تھا،بلکہ اس نے  سبرین  کی شخصیت کو بھی نکھار دیا تھا۔اس کے خوبصورت چمکیلے بال لہریدار بنا کر آگے کو پھیلائے گئے تھے۔

وہ اس وقت 90 کی دہائی کی خوبصورت اور دلکش دوشیزہ لگ رہی تھی۔جو اس اکیسویں صدی میں فلم کے پردے سے نکل کر ظاہر ہوئی ہو۔

شہزام  بے اختیار اٹھ کھڑا ہوا،۔اس کی آنکھیں کسی ان جانے احساس کے تحت لو دینے لگیں۔وہ کافی وقت سے اس کی خوبصورتی سے اچھی طرح آگاہ تھا۔اونچے طبقات کی عام عورتوں کی طرح وہ کبھی کسی پلاسٹک سرجری سے نہیں گزری تھی۔اس کا حسن بے داغ تھا۔وہ بناء میک اپ کے بھی اتنی ہی خوبصورت لگتی تھی۔جتنی کہ میک اپ میں۔

“شانی ی ی،  کیا میں پیاری لگ رہی ہوں؟ ”  سبرین  نے اس کی نظر کی محویت کو نوٹ کرکے معصومیت سے آنکھیں پٹ پٹا کر پوچھا۔

وہ اس کے واقعی چھکے چھڑا رہی تھی۔  شہزام  نے لب بھینچ کر خود پر قابو پایا۔

جبکہ  سبرین  کے ہونٹ جیت جانے کی خوشی سے مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔

وہ اس امید پر اس کے طرف سہج سہج کر قدم بڑھانے لگی کہ ہوسکتا ہے وہ اس سے اب نظر ہٹا لے۔

شہزام  لب بھینچے خاموش کھڑا رہا نظر بالکل بھی نہیں ہٹائی۔ سبرین  اس کی نظروں سے وہ شرما سی گئی۔اس نے ادائے دلبرانہ سے اس کے سینے پر ہاتھ رکھا۔

“اوں۔۔ہوں ں ۔کیا دیکھ رہے ہو شانی ی ی؟”

اس کی دھیمی اور دلفریب آواز سے متاثر ہوکر  شہزام  کا دل کیا اسے بانہوں میں کھینچ کر بھر لے۔ قریب تھا کہ وہ ایسا کرگزرتا۔لیکن۔۔ خوش قسمتی سے اس نے خود پر قابو پالیا۔ اپنا لہجہ سخت بنا کر بولا۔

“جاؤ اور بدل کر آؤ۔”

“کیوں؟”  سبرین  اس کے بدل جانے پر سخت پریشان ہوئی تھی۔

“یہ لباس بہت بھڑکیلا ہے۔ مجھے یہ پسند نہیں آیا ہے۔بدل کر آؤ۔” حکم سناتا ،وہ پلٹا اور اس کے بعد فوراً  نیچے چلا گیا۔

غصے میں،  سبرین  نے محسوس کیا کہ اس کے سر میں جیسے ایٹم بم پھٹ رہا ہو۔ پہلے اس کی نظروں سے اس نے خوش فہم ہوکر یہ تاثر لیا تھا کہ وہ اب یقیناً اس کی طرف ملتفت ہورہا ہے۔لیکن۔۔۔

اس کے پاس موجود اسٹوڈیو کی منیجر نے مسکراتے ہوئے کہا۔

“مس  سبرین ، مسٹر سُوری آپ کا بہت خیال رکھتے ہیں۔”

سبرین  نے بے یقینی سے آنکھیں پھیلائیں اور اسٹوڈیو مینیجر کے طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں نمی کے ساتھ بے اعتباری کا احساس جھلک رہا تھا۔