Rozan e Zindaan By Raqs e Bismil Rozan-e-Zindaan: Modern Romance A Ruthless Love Story NovelR50476 Rozan e Zindaan Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Rozan e Zindaan Episode 14
رات کے تقریباً 11 بجے تک شہزام سوری کو آفس سے فارغ ہونے کے بعد ایک بین الاقوامی مالیاتی کیس کے حوالے سے میٹنگ پر جانا پڑگیا۔
جس لمحے گھر میں داخل ہوکر اس نے تھکے تھکے سے انداز میں لائٹس آن کیں، فدی اس کی طرف دوڑتی آئی اور اس کی لمبی ٹانگ سے اپنی دم لپیٹ کر اس سے اپنا سر رگڑتے ہوئے مسلسل میاؤں میاؤں کرکے جیسے کچھ بتانے کی کوشش کررہی تھی۔
“لٹل ون، تم نے مجھے آج کچھ زیادہ ہی مس کیا ھممم؟؟”
شہزام جھکا اور اس کے سر پر پیار سے سہلایا۔۔کچھ ہی دیر بعد اسے کچھ کچھ غلط لگا۔۔جیسے فدی کے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے۔۔ادھر فدی جیسے اسے کچھ بتانا چاہ رہی تھی۔۔ مسلسل اس کے ہاتھوں سے سر رگڑاتے۔ پھر جاکر اپنے خالی پیالے کو سونگھتی اور اسے معصومیت سے دیکھ کر میاؤں۔۔ میاؤں۔۔۔ کرنے لگتی۔۔یہ عجیب تھا۔۔ کیا اسے سبرین نے فیڈ نہیں کروایا؟
فدی یقیناً بھوکی تھی۔کیا سبرین نے اسے کچھ نہ کھلایا تھا؟
وہ جلدی سے اٹھا اور کچن کیبنٹ سے کیٹ فوڈ نکال کر پیالہ بھر کر بلی کے سامنے رکھا۔۔ فدی اتنی بھوکی تھی کہ جھپٹ پڑی اور جلدی جلدی منہ مارنے لگی۔۔ اس کی اس قدر بری حالت دیکھ کر تاسف کے ساتھ غصے سے شہزام اٹھ کر گیسٹ روم کے دروازے کے پاس کھڑا ہوا۔۔ اور زور زور سے ناک کیا۔
جب کوئی جواب نہ آیا۔ تو غصے میں بھرا دروازہ دھڑام سے کھول کر اندر داخل ہوگیا۔۔ لیکن اندر داخل ہوتے ہی اس کا غصہ حیرت میں بدل گیا۔ جب پورا کمرہ بھائیں بھائیں کرتا ملا۔ سبرین کہیں بھی نہیں تھی۔اس کے چہرے کے تاثرات پل میں بدلے،اب اس کی جگہ حیرت کے ساتھ تفکر کے سائے تھے۔ کیا سبرین ابھی تک گھر واپس نہیں آئی؟ لیکن ۔۔کیوں؟ اس عورت کے ساتھ ناختم ہونے والے مسئلے ہیں۔۔ ابھی دو دن پہلے ہی وہ بری حالت میں ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہوئی تھی اور آج ہی واپس آئی تھی۔۔اور اب پھر سے گھر سے غائب تھی۔۔وہ بھی فدی کو اس حالت میں چھوڑ کر۔۔
اور ابھی تک سبرین گھر نہیں پہنچی تھی۔۔جبکہ کافی دیر ہوچکی تھی۔۔
اس نے سخت پریشانی سے پیشانی سہلائی۔۔ اور فون نکال کر اسے کال کی۔۔لیکن۔۔۔ یہ کیا؟؟ اس کا فون پاور آف تھا۔۔
کیا اس کے ساتھ پھر کچھ برا ہوا ہے؟ کسی انجانے ڈر کے زیرِ اثر اس نے فون اٹھا کر پھر سے سبرین کی لوکیشن ٹریک کی۔
یہ بھی شکر تھا کہ آج صبح فون اس کے حوالے کرنے سے پہلے اس نے اس ڈر سے لوکیشن ٹریکنگ آن کر دی تھی کہیں اس رات جیسے واقعات دوبارہ نہ رونما ہوجائیں۔
لوکیشن ٹریک کرنے کے بعد اس نے ہادی کو میسیج بھیجا۔”اس لوکیشن کو جلدی سے چیک کرکے مجھے انفارم کرو۔”
ایک منٹ بعد، ھادی نے کال کی۔
“یہ یزدانی ہاؤس ہے، جہاں مس سبرین یزدانی کے والدین رہتے ہیں۔”
“ہمممم، سمجھ گیا۔”
شہزام نے منفی سوچوں کے گھیرے میں آکر سخت غصے میں فون بند کردیا۔
یہ عورت کبھی اپنی درست جگہ نہیں پہچانے گی۔ شہزام کی طرف
سے نرمی کے مظاہرے پر اس نے (آج کی طرح کا ) فائدہ ہی اٹھالیا تھا۔بناء اسے انفارم کئے وہ یونہی اپنے گھر کے طرف نکل گئی تھی۔آخر اس کے ساتھ ایسا کیا برا ہوا ہے ؟ جو اس نے فون تک پاور آف کردیا تھا۔
کیا وہ اس امپریشن میں تھی کہ ریکارڈنگ کو سنتے ہی اس کے والدین اسے معاف کرکے گلے سے لگالیں گے؟
یہ وہ اس کے ساتھ کیا کرگئی تھی؟ اس کی اتنی ہمت کیسے ہوئی کہ انہی ہاتھوں کو کاٹے جن ہاتھوں نے اس کی مدد کی تھی؟
اب اس کے لئے بہتر تھا کہ واپس کبھی نہ آئے۔۔ شہزام سوری کو بھی اس کی پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔بھلے سے وہ کسی مصیبت میں ہی کیوں نہ پھنس جائے۔
وہ بالکل بھی سبرین سے اتنی سنگدلی کی توقع نہیں کرپارہا تھا۔تین دن گزر چکے تھے لیکن اس نے شہزام کی ایک کال کا بھی جواب نہیں دیا تھا۔
وہ اتنا پریشان تھا کہ اس نے ٹھیک سے کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔ کیونکہ اسے سبرین کے پکائے ہوئے کھانے کی عادت پڑچکی تھی۔
وہ ان تین دنوں میں کئی بار شیث کے ساتھ میلبورین کے بہتر سے بہتر ریسٹورانٹس میں بھی گیا۔۔لیکن وہ ذائقہ کسی بھی ڈش میں نہیں تھا جو سبرین کے ہاتھ میں تھا۔
بعض اوقات اسے شبہ ہوتا تھا کہ سبرین کے ساتھ کچھ برا نہ ہوا ہو۔ بہرحال جب بھی اس نے اس کا مقام چیک کرنے کے لیے اپنا فون آن کیا ، وہ ہمیشہ یزدانی فیملی کے گھر میں موجود ملی تھی۔
بھلا اسکے خونی رشتے اسے کوئی نقصان کیوں پہنچاتے ؟ وہ شہزام کو یقیناً بھول چکی ہے۔
پچھلے تین دنوں کے دوران آفس میں بھی اس کا رویہ ہر ایک
کے ساتھ آئس برگ جیسا رہا تھا۔
جب آفس ٹائم ختم ہوا تو اس نے اپنی چیزیں سمیٹیں اور گھر جانے کے ارادے سے باہر نکلا۔۔ تبھی شیث اس کے ساتھ ٹکرا گیا۔۔
“کیا تم گھر جارہے ہو؟ سبرین بھابھی ابھی تک نہیں آئیں کیا؟”
“اس عورت کا تذکرہ پھر مت کرنا شیث۔۔” سرد تاثرات کے ساتھ کہتا شہزام آگے بڑھنے لگا۔
شیث نے اس کے غصے کو دیکھ کر بےبسی سے کندھے اچکائے۔
“میرے پاس تم سے پوچھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ فاریا نے مجھے کال کرکے سبرین کا پوچھا ہے، بقول اس کے تین دن سے اس سے رابطہ نہیں ہو پا رہا۔وہ کافی پریشان لگ رہی تھی۔ اور مجھے کہا کہ تم سے معلوم کروں، کہیں اس کے ساتھ کچھ برا نہ ہوگیا ہو۔”
“وہ ابھی تک یزدانی ہاؤس میں ہی ہے۔ کیا نہیں ہے ؟” شہزام اپنی جگہ جامد کھڑا رہ گیا۔۔ یہ بات سمجھ میں آرہی تھی کہ وہ اس کے قریب نہیں تھی۔ تو اسے کال کرنے کے لائق بھی نہیں جانا۔۔ لیکن۔۔۔ فاریا تو اس کی بیسٹ فرینڈ ہے۔۔ پھر۔۔۔؟ سبرین نے اس سے رابطہ کیوں نہیں کیا؟؟
“میں اسے کال کرکے دیکھتا ہوں۔” شیث نے اپنی سی کوشش کرنی چاہی اور سیل فون نکال کر کال ملائی۔
شہزام اس کا انتظار کئے بغیر ایلیوٹر سے نیچے چلاگیا۔۔
گھر جاتے ہوئے اسے محسوس ہوا کہ چیزیں تیزی سے کچھ عجیب سی ہو رہی ہیں۔تاہم وہ اس بات سے اندر ہی اندر کہیں خوفزدہ بھی تھا کہ اوور تھنکنگ کا شکار ہوکرکہیں وہ سبرین کے معاملے میں ناک نہ گھسیڑ دے۔اسے خود کو دور رکھنا چاہیئے۔جبکہ وہ خوش تھی۔
خلافِ توقع گھر پہنچنے کے کچھ پل بعد ہی اسے شیث کی کال رسیو ہوئی۔
” ابھی فریا نے مجھے بتایا ہے کہ وہ یزدانی ہاؤس سبرین سے ملنے گئی تھی، لیکن ان لوگوں نے اسے بتایا کہ سبرین باہر ملک آرام کے لئے چلی گئی ہے۔جب اس نے اس کا نمبر مانگا تو ان لوگوں نے نہیں دیا۔۔۔ڈیم اٹ۔۔۔ اسے یقین ہے کہ سبرین کی جان خطرے میں ہے۔”
شہزام حیران ہوا۔
“مجھے نہیں لگتا۔کہ ایسا ہے۔ آفٹر آل، وہ جعفر یزدانی کی بیٹی ہے۔”
“شاید نہیں، فریا نے کہا ہے کہ یزدانی فیملی کا رویہ سبرین کے ساتھ ہمیشہ تعصبانہ رہا ہے۔”
“ٹھیک ہے۔۔۔۔ میں دیکھتا ہوں۔”
پریشان سا ہوکر اس نے ھادی کو دوبارہ کال ملائی تھی۔
” معلوم کرو، سبرین ان کے گھر سے آخری بار کس وقت نکلی تھی؟”
ایک گھنٹہ بعد ہی ھادی جو خبر لایا وہ یقیناً چونکا دینے والی تھی۔
“مس یزدانی،تین دن پہلے یزدانی ہاؤس گئی تھیں۔ان کے گھر میں داخل ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی ان کو پیننگٹن والے گھر میں کار کے ذریعے لے جایا گیا تھا۔اب وہ یقیناً وہیں ہیں۔”
“تمہارا خیال ہے کہ وہ وہاں پر قید ہوسکتی ہے؟”
“ایسا ہی لگ رہا ہے۔یزدانی فیملی وہاں سوائے عبادت کے،نہیں جاتی۔بڑی بات یہ کہ وہ جگہ مکمل الگ تھلگ ویرانے پر واقع ہے۔”ھادی کا لہجہ تفکرانہ سا تھا۔
یہ سن کر شہزام کی گرفت فون پر سخت ہوئی ۔
“آکر مجھے پک کرو،مجھے فوراً اس جگہ پر جانا ہے۔”
٭٭٭٭
شہزام ھادی کے ساتھ پورے تین گھنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد شہر سے دور ویران جگہ پر واقع پیننگٹن ہاؤس پہنچا۔۔تقریبا آدھی رات ہوچکی تھی، شہزام جب گاڑی سے باہر نکلا تب اسے اندازہ ہوا کہ یہ جگہ الگ تھلگ اور چاروں طرف سے اُونچے اُونچے خوفناک پہاڑوں میں گھِری ہوئی ہے۔جہاں ایک بلب تک روشن نہیں تھا۔ ہر طرف گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔
ویرانے میں صرف سردی سے سرسراتی یخ ہواؤں کے گھلنے کی آواز سنائی دے رہی تھی، یا گھنے درختوں کے پتوں کے جھنجھنانے کی، یا فضا میں کہیں کہیں خوفناک اور عجیب و غریب جانوروں کی آوازیں۔ جسے سن کر انسان ایک پل کو لرزتا ضرور تھا۔
شہزام نے قدم آگے بڑھائے۔
یزدانی خاندان کا یہ گھر مکمل بند انداز میں تعمیر کیا گیا تھا، یہ چند دہائیوں کا پرانا گھر تھا اور ویران اندھیرے میں ہیبت ناک منظر پیش کررہا تھا۔
شہزام نے بڑھ کر بڑا سا دروازہ کھٹکھٹایا۔۔۔جب مسلسل کھٹکھٹانے کے باوجود بھی اندر سے کوئی رسپونس نہیں ملا۔ تو شہزام نے دیوار پھلانگنے کا ارادہ کرلیا۔
جیسے ہی وہ اندر کودا، کہیں سے ٹارچ کی تیز روشنی اس کے وجود پر پڑی، ساتھ ہی کسی عورت کی گرجدار آواز۔۔۔۔
“کون ہو تم۔۔؟ اور آدھی رات کے وقت میرے گھر کی دیوار پھلانگ کر کس لئے آئے ہو؟ “
شہزام نے آواز کے تعاقب میں اپنی شیر جیسی چھبتی نگاہوں سے اسے جانچا۔
ایک بوڑھی موٹی عورت ،جس کی کمر کچھ جُھکی سی تھی، ایک ہاتھ میں ٹارچ تھامے اس کا رخ شہزام کے طرف کئے کھڑی تھی۔
“میں کسی کو ڈھونڈھ رہا ہوں، میں نے ابھی دروازہ کھٹکھٹایا تھا لیکن جب کسی نے جواب نہیں دیا تو۔۔۔میں اندر آگیا۔”
“یہاں صرف میں اکیلی رہتی ہوں۔ نکلو یہاں سے۔۔”بوڑھی عورت نے اسے باہر کی طرف دھکیلا۔
شہزام نے پلٹ کر اسے زور سے دھکا دیا۔۔۔۔۔ عورت ایک خوفناک چیخ کے ساتھ نیچے زمین پر الٹے منہ گری تھی۔
ٹارچ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گیٹ کے قریب گری۔جسے شہزام بناء دیر کئے اٹھا کر ڈبل اسٹوری گھر کے اندر تیز قدموں کے ساتھ بڑھ گیا۔
اندر داخل ہوکر اس نے چاروں طرف نظر گھمائی تو اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔
سارے دروازوں کے ساتھ کھڑکیوں تک پر لکڑی کے تختے لگا کر انہیں لوہے کی کیلوں سے ٹھونک کر بند کردیا گیا تھا۔۔ یہاں تک کہ ایک درز تک نظر نہیں آرہی تھی۔اس پل اس کا دل پریشانی و فکرمندی سے تڑپ اٹھا۔
‘اگر سبرین اندر ہوئی تو خدا کرے سلامت ہو۔
اس وقت بوڑھی عورت ڈکراتے ہوئے بے نتھے بیل کی طرح ہانپتی کانپتی آئی اور شہزام کو سختی سے دھکا دیا۔
” جلدی نکلو یہاں سے ورنہ میں پولیس کو کال کروں گی کہ تم دہشت گرد ہو۔”
“تمہارے لئے بہتر بھی یہی ہے کہ پولیس کو کال کرلو۔” شہزام نے اس کے ہاتھ روک کر خود سے دور دھکیلا۔۔۔”پولیس خود ہی تفتیش کرلے گی ،اگر تم نے کسی کو قید میں رکھا ہے۔” عورت کے رنگ بدلتے تاثرات نے جیسے شہزام کے شک پر یقین کی مہر لگادی تھی۔۔ کہ سبرین ان بند کمروں میں سے کسی ایک میں قید ہے۔
اسے نظر انداز کرتے وہ بڑے بڑے ڈگ بھرتا سامنے کے بند دروازے کے پاس پہنچ کر دیوانہ وار لاتیں مار کر اسے توڑنے کی کوشش کرنے لگا۔
لیکن دروازے پر لگی کیلیں تھوڑی سی بھی ڈھیلی نہ ہوئیں۔
شہزام نے باہر ایک درخت پر کلہاڑی لگی دیکھی تھی۔۔ یہ یاد آتے ہی وہ باہر بھاگا۔۔ اور مجنونہ انداز میں اسے نکال کر واپس اندر پلٹا۔
اندر پہنچ کر اس نے کھڑکی پر لگے تختوں پر ضربیں لگانی شروع کیں۔تھوڑی ہی دیر میں تختے نکل آئے۔
وہ دیوانہ وار اندر کود گیا۔
ایک ناگوار سی بوسیدہ بُو کمرے میں پھیلی ہوئی تھی، چونکہ گھر میں بجلی نہیں تھی اس لیے اسے سبرین کو ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک جا کر تلاش کرنا پڑا۔ آخر کار ایک کمرے میں اسے لکڑی کے بستر پر ایک کونے میں آڑا ترچھا پڑا ہوا پایا۔
وہ ابھی تک اسی ہلکے ٹاپ میں ملبوس تھی، جو اس نے چار دن پہلے دوپہر کو آفس جاتے اسے پہنے دیکھا تھا۔
شرٹ کافی باریک سے کپڑے کی تھی۔ جبکہ پچھلے دو دنوں کے دوران درجہ حرارت دس ڈگری کم ہوا تھا۔
جس بستر پر وہ ناتواں سے وجود کے ساتھ بے حس و حرکت پڑی ہوئی تھی، اس پر نہ کمبل تھا اور نہ کوئی تکیہ۔ یہاں تک کہ بیڈ پر گدا بھی نہیں تھا۔
اس کے قریب پہنچتے ہی ایک ناگوار سی بو اس کے نتھنوں سے
ٹکرائی۔
لیکن وہ اس سے بیزار نہیں ہوا۔
شہزام نے اس کے کمزور سے وجود کو اٹھا کر خوف سے اتھل پتھل ہوتے دل کے ساتھ زور سے ہلایا، لیکن اس کے جسم نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ اس کا جسم برف کی طرح ٹھنڈا تھا جبکہ اس کا چہرہ لٹھے کی چادر کی طرح سفید ۔
ایک بار تو شہزام جیسا سخت شخص بھی اپنی جگہ کانپ اٹھا اس نے پریشانی سے اپنا ہاتھ اس کی ناک کے قریب جاکر اس کی سانس محسوس کی۔۔ شکر کی ایک گہری سانس اس کے منہ سے بے اختیار خارج ہوئی۔۔ ہاں ! وہ سانس لے رہی تھی۔
وہ بناء کوئی دیر کئے اسکے ناتواں سے وجود کو بازوؤں میں اٹھا کر باہر بھاگا۔۔ سبرین کا وجود اتنا ہلکا تھا جیسے اس میں نہ ہڈی ہو نہ ماس ۔
بوڑھی عورت جو چھپ کر یہ سب دیکھ رہی تھی، جب اس نے سبرین کے بے ہوش وجود کو آدمی کے بازو میں باہر آتے دیکھا تو ڈر کر دوسرے راستے سے باہر بھاگی۔
شہزام کے پاس بالکل بھی ان باتوں پر دھیان دینے کا وقت نہیں تھا۔ اس نے اس عورت سے پھر کبھی نبٹنے کا سوچ لیا۔
ابھی اہم سبرین کو جلد سے جلد ہاسپٹل پہنچانا تھا۔۔۔اگر وہ اسے ہاسپٹل نہ پہنچا سکا تو سبرین کسی بھی وقت مرسکتی تھی۔
اس کے بیٹھتے ہی ھادی نے گاڑی ہاسپٹل کی طرف تیز اسپیڈ سے دوڑانا شروع کردی۔
پیچھے سیٹ پر سبرین کو اپنے حصار میں گرمائش پہنچانے کی ناکام کوشش کرتے شہزام پریشان سا اس کی اس قدر بری حالت پر سخت افسردہ تھا۔ وہ بے حس سی اس کی پناہوں میں جھول رہی
تھی۔
وہ گال جو چار دن پہلے اسے سیب جیسے لگتے تھے، اب پچکے ہوئے سے تھے، وہ رسیلے سے مدھ بھرے ہونٹ ، جب اس کا ایک کونہ موڑ کر چنچل سے انداز میں اسے دیکھتی تھی، جس کو دیکھ کر وہ چڑتا تھا۔ اب پپڑی زدہ سے اور سردی سے قدرے نیلے پڑ چکے تھے۔
وہ پریشان ساکبھی اس کے ہاتھوں پر اپنے گرم ہاتھوں سے رگڑ کر گرمائش پہنچانے کی ناکام کوشش کرتا، کبھی اسے اپنی جیکیٹ میں لپیٹے گرمائش پہنچانے لگتا۔
ھادی خود بھی یہ سب دیکھ کر دل سے سبرین کے لئے ہمدردی محسوس کرنے لگا۔۔
شہزام کو اس طرح سبرین کے قید ہونے پر سخت تعجب تھا، اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کوئی اپنی کوکھ سے جنی بیٹی کے ساتھ اتنا ظالم کیسے ہوسکتا ہے؟! کہ انسانیت سے ہی گر جائے۔
شہزام سبرین کے لئے دل سے ہمدردی و افسردگی محسوس کررہا تھا۔۔ ساتھ ہی وہ خود پر بھی سخت غصہ تھا کہ اس نے سبرین کو ڈھونڈھنے میں اتنی دیر کیوں کردی؟
٭٭٭٭
