Rozan e Zindaan By Raqs e Bismil Rozan-e-Zindaan: Modern Romance A Ruthless Love Story NovelR50476 Rozan e Zindaan Episode 25
No Download Link
Rate this Novel
Rozan e Zindaan Episode 25
“آپ کی مہربانی میم، جو مجھے یاد دلایا ۔یہ ایسا ہے کہ۔۔۔۔میں پہلی بار ایک بلی پال رہی ہوں۔اسی لیئے کچھ خاص واقفیت نہیں رکھتی۔آپ کا شکریہ۔” اس نے لب بھینچ کر بات سنبھالی۔
کافی شرمندگی سے خاتون کو الوداع کہنے کے بعد،بلی کو اٹھا کر ٹیکسی لے کر وہ ایک ویٹرنری ہسپتال پہنچ گئی۔
ڈاکٹر نے بلی کا الٹراساؤنڈ کرنے کے بعد، اپنی عینک اتاری۔ اور مسکرا کر کہا۔
“آپ پرسکون رہیں، ینگ لیڈی۔ آپ کی بلی بہت جلد بیبیز جنم دینے والی ہے۔”
سبرین کے ذہن میں پچھلے عرصے کے دوران کے واقعات پھرنے لگے۔بلی کا الٹی کرنا۔ شہزام کا اس پر غصہ کرنا۔اور اسے گھر سے نکال دینا۔بعد میں کس طرح اس پر احسان کرکے فدی کی کیئر ٹیکر کے طور پر گھر میں رہنے کی اجازت دینا۔پزل کے سارے ٹکڑے جڑتے گئے۔پزل حل ہوگیا۔ سبرین جیسے چونکی تھی۔
اس سے پہلے کہ وہ مکمل طور پر یہ خبر ہضم کر پاتی کہ بلی محض پریگننٹ ہی ہے۔ کہ ایک نئی خبر نے اس کے اوسان خطا کردیئے کہ بلی جلد ہی بیبیز جنم دینے والی ہے۔
“ویسے مقررہ تاریخ میں ابھی دس دن باقی ہیں۔” ڈاکٹر نے مزید کہا۔
“ان دنوں اس پر کڑی نظر رکھئے گا۔ ویسے بھی، اس کی کھال کافی نرم اور چمکدار نظر آرہی ہے، اس لیے میں اندازہ لگا سکتا ہوں کہ وہ عام طور پر غذائیت سے بھرپور کھانا کھا رہی ہے اور کافی فٹ نظر آرہی ہے۔ اسے قدرتی طور پر بیبیز جنم دینے میں بالکل بھی دقت نہیں ہوگی۔‘‘ڈاکٹر بلی کے سر پر ہاتھ پھیرتے تعریف کرنے لگا۔
“ڈاکٹر۔۔۔ کیا میں جان سکتی ہوں کہ پریگننسی میں بلیاں الٹی کرتی ہیں؟ ” سبرین نے اپنا شک دور کرنا چاہا۔
“کچھ بلیاں الٹی کرتی ہیں۔ارلی پریگننسی کے دوران ان کی بھوک کی خواہش بھی بسا اوقات ختم ہوجاتی ہے۔”ڈاکٹر نے تفصیلی جواب دیا۔
غائب دماغی کے ساتھ سبرین ہاسپٹل سے نکل آئی۔
اس لمحے وہ یہ سوچ سوچ کر غصہ کھاتی رہی۔کہ وہ اس گھٹیا شہزام کے ہاتھوں دھوکہ کھا گئی تھی۔ (اس کی اتنی ہمت؟ )
ٹائم لائن کے مطابق، شہزام کو ہاسپٹل میں چیک اپ کے دوران ہی فدی کی پریگننسی کا پتا چل چکا تھا۔جس دن اس نے الٹی کی تھی۔
جبکہ بلی نے اس دن اسی لیئے الٹی نہیں کی تھی کہ سبرین نے اسے چپس اور گوشت کھلادیا تھا۔بلکہ اس کا آسان مفہوم یہی تھا کہ بلی پریگننٹ تھی۔
اور وہ اس سارے عرصے کے دوران خود کو ہی قصور وار سمجھتی رہی۔یا اسے قصور وار جانا گیا۔جبکہ حقیقت کچھ اور تھی۔ شہزام اس سے چال چل گیا تھا۔
جبکہ سبرین نے کچھ بھی غلط نہیں کیا تھا۔
لیکن، شہزام نے اس پر ایک ٹھپہ لگا دیا تھا جس کی وجہ سے وہ ہر بار جب بھی فدی کو دیکھتی تھی۔ خود کو انتہائی قصور وار محسوس کرتی تھی۔
(وہ دھوکا کھا گئی تھی۔
بس یہی ایک خیال تھا جو اسے کچوکے مارنے لگا۔)
شہزام نے اسے دو بار بچایا تھا۔اگر بات یہ نہ ہوتی تو وہ یقیناََ بھاگتی ہوئی اسے زور سے دو بار تھپڑ ضرور مارتی۔
اسے اخلاقی طور پر یہ حق کس نے دیا کہ وہ جب بھی گھر دیر سے آئے تو فدی بلی کو وجہ بنا کر اسے بے عزت کرے۔
(بدمعاش شہزام )
وہ تپی ہوئی گھر پہنچی تو شہزام ابھی تک گھر نہیں آیا تھا۔اس کا ارادہ اب شہزام سے دو دو ہاتھ کرنے کا تھا۔
لیکن ہوا یہ کہ دوائی لے کر وہ اس قدر غافل ہوئی کہ پتا ہی نہیں چلا شہزام کب آیا؟ اور وہ سوتی رہ گئی۔
صبح جب وہ باتھ روم میں دانت صاف کر رہی تھی تو اس نے ماسٹر روم کا دروازہ کھلنے کی آواز سنی۔ اس کے ساتھ ہی اس نے جلدی جلدی اپنا منہ صاف کیا اور فوراً باہر نکل آئی۔
“تم یہاں کیا کررہی ہو؟” شہزام کے چہرے کے تاثرات سرد ہوگئے جیسے وہ اس کے سامنے اس سے معافی مانگنے آئی ہو۔(ھممم ایسا خواب میں ہوسکتا ہے)
“تم کو پہلے سے ہی فدی کی پریگننسی کا علم تھا۔ٹھیک کہا نا۔؟” سبرین نے اپنی بات پوری کرنے کے بعد اس کے چہرے کو بغور دیکھا۔
اگرچہ اس کے تاثرات میں ہلکی سی تبدیلی آگئی تھی۔ لیکن اسے احساس ہوا کہ اس کا چہرہ ایک لمحے کے لیے سخت ہوگیا تھا۔
“اچھاااا۔یہ پریگننٹ ہے؟ ” شہزام نے سرد مہری سے اسے دیکھنے کی بجائے دوسری طرف دیکھا۔
“بننے کی کوشش مت کرو شہزام ! تم نے پڑوسن کو بتایا کہ بلی پریگننٹ ہے۔”وہ اس کے سامنے آگئی۔جس پر شہزام نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
“جب میں نے ووٹنری جاکر اس کے متعلق معلوم کیا تو مجھے بتایا گیا کہ یہ جلدی ہی بچے جنم دینے والی ہے۔
اس نے الٹی اسی لیئے کی تھی کیونکہ وہ پریگننٹ تھی ۔اس لیئے نہیں کہ میں نے اسے کچھ کھلادیا تھا۔”
وہ بولتے ہوئے تیز ہوگئی۔پھر اسے یونہی لاپرواہ بنا دیکھ کر اور زیادہ غصہ ہوئی۔
” شہزام ۔۔۔کیا تمہیں لگتا ہے کہ مجھے بیوقوف سمجھ کر دھوکہ دینے میں مزہ ہے؟ “وہ چیخی تھی۔
شہزام کا چہرہ سپاٹ ضرور تھا لیکن وہ اب قدرے شرمندہ نظر آیا۔
“دیکھو سبرین ، بہتر ہے کہ تم پر یہ بات واضح کردوں۔یہ تم ہی تھی ۔جو آگے بڑھنا چاہتی تھی، اور میں نے تو صرف تمہاری خواہش پوری کی۔تمہیں گھر میں رہنے کا موقع دیا۔”
“تو کیا مجھے اس جھوٹ بولنے کے لیے آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے؟‘‘ سبرین نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
“کیا تم اس وقت یہاں پر آکر رہنے پر خوش نہیں تھی؟ مزید یہ کہ میں نے تم کو دو بار بچایا بھی۔۔۔۔ اگر یہ میں نہ ہوتا تو کیا تم کو لگتا ہے کہ تم اب بھی یہاں مجھ سے اس طرح کھڑی ہوکر اس انداز میں بات کرنے کے قابل ہوسکتی تھی؟ بولو؟ “
( شہزام دنگ تھا۔۔۔یہ عورت نہیں جانتی تھی کہ اس کی صحیح جگہ کون سی ہے؟
جب اس کے پاس پیسے نہیں تھے۔رہنے کو جگہ نہیں تھی۔تب وہ ہی تھا جو اس پر مہربان ہوکر اسے رہنے کا ٹھکانہ دیا تھا۔اور اب۔۔۔ وہ اس سے کس طرح سے بات کررہی تھی؟ )
اس کی بات پر سبرین اپنی جگہ جیسے گڑ کر رہ گئی تھی۔احسان در احسان ہی تو کیا تھا اس شخص نے اس پر۔۔۔۔اور خود اس نے کیا کیا؟ اس نے واقعی میں اس سے برا سلوک کیا تھا! کیا وہ ایسے سلوک کا مستحق تھا؟ کہ اس کے کھانے میں نشہ آور چیز ملائی جاتی۔اس کی ہمت بھی کیسے ہوئی کہ اس پر انگلی اٹھا سکے؟ اس کو ایسا کرنے کا یہ حق کس نے دیا؟
( سبرین پریشان ہوکر سوچے گئی۔اس کے سارے الفاظ کہیں کھوگئے تھے۔واقعی اسے کیا حق تھا؟ اس پر انگلی اٹھانے کا۔جبکہ خود اس نے زیادہ برا سلوک روا رکھا تھا۔
یہ سچ تھا کہ وہ اس کا محافظ تھا۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ وہ اس کو دھوکہ دیتا؟
چلو یہ بھی مان لیا کہ سبرین ہی تھی جس نے سب سے پہلے غلط ارادے سے اس سے رشتہ بنایا۔وہ واقعی مستحق تھی کہ اس سے دھوکہ کیا جاتا۔)
مدھم پڑتی نم نظروں سے اس نے کوئی اور لفظ نہیں بولا۔بس خاموش رہ گئی۔جسے دیکھ کر شہزام اور زیادہ پراعتماد نظر آنے لگا۔جیسے اسے کمزور کرکے پرسکون ہوگیا ہو۔
” سبرین ،تم کو واقعی اپنے رویے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ اگر یہاں بات بلی کی پریگننسی کی نہ ہوتی۔ اور اسے کسی کی دیکھ بھال کی ضرورت نہ ہوتی، تو میں یہاں تم جیسی لڑکی کو کبھی برداشت نہ کرتا۔” شہزام نے اس پر اس رشتے کی حقیقت واضح کردی کہ وہ اس کے لیئے کچھ محسوس نہیں کرتا ۔وہ یہاں صرف ایک کیئر ٹیکر تھی۔اس کے سوا اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ سبرین نے مفت میں ہی بڑے بڑے خواب دیکھ لیئے تھے۔توقعات وابستہ کرلی تھیں۔اور بے بنیاد توقعات انسان کو خود ہی برباد کردیتی ہیں۔
یہ کہنا مشکل تھا کہ سبرین وہاں سے پھر کس دل سے واپس کمرے میں گئی۔اسے سچ میں چکر آرہے تھے۔
جس دن سے وہ شہزام سے ملی تھی ہر گزرتا دن اس کے شکوک میں اضافہ کرتا جا رہا تھا جیسے وہ دن بدن ننجا ٹرٹل میں تبدیل ہوتی جارہی تھی۔کیا اسے اپنی راہ بدلنے میں واقعی دیر ہوچکی تھی؟
اگر اسے پہلے معلوم ہوتا کہ سفر کتنا مشکل ہوگا، تو وہ یقیناً شہزام کے قریب نہ آتی!
٭٭٭٭
چاہے وہ کتنی ہی رنجیدہ کیوں نہ ہوئی تھی۔لیکن اس وجہ سے اپنا کام تو نہیں چھوڑ سکتی تھی۔
8:00 بجے وہ وہاں سے گاڑی دوڑاتی ہوئی ولا پہنچی۔جہاں اس نے شہزام سوری کو جاتے ہوئے دیکھا دیکھا تھا۔
وہاں پہنچ کر وہ دنگ رہ گئی ۔کیونکہ آبش یزدانی اور جمشید کو اس نے وہاں جاتے دیکھا۔
یہ تو شہزام سوری کا ولا ہے۔۔۔ پھر؟ کیا شہزام نے آبش کو رینوویشن کا کام دیا ہے؟
سبرین مکمل غائب دماغی کے ساتھ گاڑی واپس دوڑاتی پراپرٹی مینجمنٹ کمپنی پہنچی۔
پراپرٹی مینجمنٹ کے عمل سے نمٹنے کے دوران اس نے پوچھا۔
“میں نے آج رینوویشن کے ورکرز کو بلاک بی ٹو میں داخل ہوتے دیکھا ہے۔کیا وہ اس جگہ کی تزئین وآرائش کررہے؟”
“ہاں۔ تزئین و آرائش کی رقم بھی ادا کر دی گئی ہے۔” پراپرٹی مینجمنٹ کمپنی کے نمائندے نے کہا۔
“یہ کونسی رینیویشن کمپنی ہے؟” سبرین متجسس تھی۔
“سمیٹ۔”مختصر بتایا گیا۔
سبرین تو یہ سن کر سن ہوگئی۔
“سمیٹ؟ ” ہونٹوں کے اندر لفظ تھر تھرایا۔
اس لمحے، سبرین کو اپنے اندر سے ایک اور واحد سہارے کے تباہ ہوکر ڈھے جانے کی آواز آئی تھی، جس نے شہزام اور خود اس کو ایک ساتھ جوڑے رکھا تھا۔
اگرچہ ایزد نے پہلے ہی سے اس بات کا ذکر کیا تھا۔ یہ صرف اس کا تبصرہ تھا۔ اس نے جو کہا تھا اسے شمار نہیں کیا جاسکتا تھا۔ جب تک کہ شہزام اسے منظور نہ کرتا۔
(ھممم۔)اس کے باوجود سبرین کو بہت کم توقع تھی کہ شہزام واقعی میں آبش کو یہ پروجیکٹ دے گا۔
یقیناً شہزام کو اس بات پر بھی کوئی شک نہیں تھا کہ آبش نے سبرین کا ڈیزائن چوری کیا تھا یا۔۔۔ یزدانی خاندان نے اسے پرانی دور دراز ویران میں قائم حویلی میں قید کیا تھا؟
سبرین خود بھی یہ بات پہلے دن سے ہی جانتی تھی۔ کہ وہ شہزام کے دل میں کہیں بھی۔۔۔کسی بھی مقام پر نہیں ہے۔یہاں تک کہ وہ اس سے قدرے بیزار تھا۔تنگ آچکا تھا۔
(صرف یہ کہتے ہوئے،کہ وہ دونوں کافی عرصے سے ساتھ رہ رہے ہیں۔ اسی لیئے خود وہ ہی تھی جو اسکے کپڑے دھوتی تھی، کھانا پکاتی تھی، گھر صاف کرتی اور بلی کی دیکھ بھال میں مدد کرتی تھی۔ کیا واقعی شہزام نے یہ ساری باتیں اپنے دماغ سے مٹار دی تھیں؟)
مزید یہ کہ جعفر یزدانی اور آبش یزدانی جیسے بے اصول لوگ اس قابل نہیں تھے کہ انہیں برداشت کیا جاتا۔یا ان کی کسی معاملے میں حمایت کی جاتی۔نہیں تھے وہ اس قابل۔۔۔بالکل بھی نہیں۔
اور اب۔۔۔جبکہ شہزام ان کا ساتھ دے رہا تھا۔جس کا صاف مطلب یہی تھا کہ وہ خود بھی بے اصول اور ایک گھٹیا شخص ہے۔(وہ خود ہی خود سے باتیں کرتی جا رہی تھی۔احساسِ زیاں تھا کہ جا ہی نہیں رہا تھا۔زندگی میں کبھی وہ اس قدر پریشان اور رنجور نہیں ہوئی تھی۔)
ہمارا المیہ ہے کہ ہم کو صرف سامنے کی چیز ہی نظر آتی ہے۔اور دوسرا سرا اوجھل ہوتا ہے تب دل بہت ساری غلط فہمیاں پال لیتا ہے۔جب دو فریقین میں ذہنی ہم آہنگی نہ ہو تب یونہی دل میں بال آجاتا ہے۔اور سبرین کے دل میں بھی بال آچکا تھا۔جس کا موقع شہزام کی مسلسل بے رخی نے دیا تھا۔
جب سبرین پراپرٹی مینجمنٹ کمپنی سے باہر آئی۔ اس کی آنکھیں برداشت کی حدت سے سرخ ہو رہی تھیں۔اسے چکر آرہے تھے۔
کل جو اس نے بخار کی دوائی لی تھی لگتا تھا اس نے کل اثر نہیں کیا تھا۔
اور اب اتنی جلدی بخار میں اٹھ کر متحرک ہونے سے وہ بمشکل اپنا توازن قائم رکھ پا رہی تھی۔
اس کے باوجود بھی وہ خود کو گرنے سے بچانے کی پوری کوشش کررہی تھی۔کیونکہ گر جانے سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو آکر اسے تھامتا۔اسے گرنے سے بچاتا۔ایسا کوئی ہمدرد اب اس کے پاس نہیں بچا تھا۔
خرابی طبیعت کے باوجود بھی سبرین ولید گرویزی کے ولا کی رینوویشن کے کام پر آگئی۔
وہ پورا دن سائیٹ پر رہی۔دوپہر کو ولید گرویزی اپنے ہاتھوں میں کچھ تحائف تھامے چلا آیا۔یہ ایک طرح سے عملے کے کام کی تعریف کے طور پر تھا۔
قدرے موٹے لفافے کو دیکھ کر وہ حیران ہوئی۔
“گرویزی صاحب، یہ بہت زیادہ ہے۔میں یقیناً اس کی مستحق نہیں ہوسکتی۔” سبرین کا لہجہ تھکا تھکا سا اور فارمل تھا۔
“یہ محض آپ کے کام کی تعریف کے لیئے چھوٹا سا نذرانہ ہے۔”وہ اس کے چہرے کو بغور دیکھتے بولا۔
“مجھے آپ ٹھیک نہیں لگ رہی ہیں۔کیا آپ بیمار ہیں؟ “
“غالباً عام سا زکام ہے بس۔” سبرین نے سائیٹ کے کام پر نظر رکھتے لاپرواہی سے کہا۔
“آپ دو دن کام سے آف کریں۔اور گھر جاکر مکمل آرام کریں۔مجھے یقین ہے رینوویشن کا کام اپنے مقرر شیڈول پر ہی ہوجائے گا۔میں اب اتنا بھی مطلبی باس نہیں ہوں۔”ولید گرویزی کی آواز قدرے دھیمی اور نرم سی تھی۔
اس نے سرہلا کر رضامندی دے دی۔اس کے ساتھ رہنے والے اس کے شوہر سے زیادہ اس کی پرواہ ایک باہر کے پرائے آدمی کو تھی۔جبکہ اس کی پرواہ کرنے کا حق صرف شہزام کو تھا لیکن۔۔۔ شہزام نے اپنے رشتے کو محض زبردستی کا سودا کہہ کر اس سے بیزاری جتائی تھی۔اس نے مڑ کر نہیں دیکھا تھا کہ “وہ کیسی ہے؟”
(شاید وہ اب اس سے نفرت کرنے لگا تھا۔وہ کیوں کر اس کے لیئے پریشان ہوتا؟ اور۔۔۔ایک عورت کسی لاپرواہ مرد کے ساتھ خوش نہیں رہ سکتی۔)
“آپ کا شکریہ، گرویزی صاحب۔” سبرین نے شکرگزاری سے سر ہلایا اور جانے کی تیاری کرنے لگی۔
ابھی اس نے چند قدم ہی آگے بڑھائے تھے کہ اس کے ذہن پر اندھیرا چھاگیا۔وہ بے اختیار سر دونوں ہاتھوں میں تھامے لہرائی۔
اس سے پہلے کہ زمین بوس ہوجاتی۔خوش قسمتی سے ولید گرویزی اس سے کچھ قدم ہی دور تھا۔وہ یکدم بڑھا اور گرنے سے پہلے ہی دونوں بازوؤں سے تھام لیا۔
اور اسے تھامتے ہی اس کے جلتے جسم نے ولید کو حیران کردیا۔
یہ لڑکی بخار سے جل رہی تھی۔جیسے کسی نے آگ میں تاپا ہو۔
“آپ کو تو بہت تیز بخار ہے۔میں آپ کو ہاسپٹل بھیجتا ہوں۔”ولید گرویزی نے فکرمندی سے اسے دیکھا۔
سبرین نے خود کو کمزور اور کپکپاتے ہاتھوں سے چھڑایا۔
“نہیں۔میں ٹھیک ہوں۔اس کی ضرورت نہیں۔”
“ینگ لیڈی، اتنی سخت نہ بنیں۔آپ میرے لیئے کام کررہی ہیں ۔اور۔۔ اب میری ذمہ داری ہے کہ اگر کچھ غلط ہوجائے تو۔۔آپ کی صحت کا خیال رکھوں۔”اسے آرام سے جواب دے کر وہ اسے تھامے ہوئے اپنی کار تک لایا۔اور آگے بٹھادیا۔
اپنے وجود میں پھیلی کمزوری سے لڑتے لڑتے آخر کار وہ جلد ہی ناکام ہوگئی۔اور ایسی غافل ہوئی کہ اسے کچھ پتا نہیں چلا کہ کہاں ہے؟ بس اسے دھندلا سا یاد رہا کہ کوئی اسے پورے سفر میں تھامے ہوئے ہے۔
پھر اسے اپنے بازو میں کچھ چبھن محسوس ہوئی جیسے کوئی اسے زور سے تھامے ہوئے پانی پلانے کی کوشش کررہا ہو۔
جب اسے دوبارہ ہوش آیا تو خود کو ہاسپٹل کے بستر پر پایا۔اس کے ہاتھ میں ڈرپ لگی ہوئی تھی۔اور پانی قطرہ قطرہ اس کے وجود میں داخل ہورہا تھا۔
اس کے بیڈ کے پاس کرسی پر بیٹھا ولید گرویزی اس کے لیئے سیب کاٹ رہا تھا۔
“آپ کو 102 °F ہائی بخار تھا۔مجھے تقریباً آپ کو کام کا برڈن دینے کی تلافی کرنی پڑی ہے۔”اسے ہوش میں دیکھ کر ولید نے ہلکے پھلکے لہجے میں کہا۔
“آپ کو تکلیف دینے کی معافی چاہتی ہوں۔”وہ اپنے ناتواں وجود سے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔
“میری بیماری کا،کام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔مجھے کل تھوڑی سی ٹھنڈ لگی تھی۔میں سمجھی دوا لے کر بہتر ہوجاؤں گی لیکن۔۔مجھے اندازہ نہیں تھا کہ طبیعت اس قدر بگڑ جائے گی۔” وہ شرمندہ نظر آنے لگی۔جس پر ولید اسے دیکھے گیا۔
“یہ یقینی طور پر میری غفلت کی وجہ سے ہوا ہے۔آپ کو آج کام پر نہیں آنا چاہیئے تھا۔”وہ شروع سے ہی نرم مزاج رہا تھا۔اب بھی نرمی سے اسے ٹوکے گیا۔
“آئی ایم سوری فار اسٹارٹنگ دا رینوویشن ود بیڈ لک۔” شرمندگی سے سر جھکا کر کہتی وہ کافی تھکی تھکی سی لگی۔
اس کی مسلسل معصومیت بھری معذرت سن کر ولید گرویزی کے چہرے پر نرم مسکراہٹ پھیل گئی۔ “کوئی بات نہیں۔کسی کو بھی کسی بھی وقت سردی لگ سکتی ہے۔”بلب کی روشنی میں اس کاچہرہ کافی روشن اور مہربان نظر آرہا تھا۔
سبرین اس کی مہربان مسکراہٹ دیکھ کر بے اختیار شہزام کو سوچے گئی ۔(کیا ہوتا اگر شہزام بھی ولید گرویزی جیسی مہربان شخصیت رکھتا! )وہ اپنی سوچ کی اس تبدیلی پر حیران ہوئی۔
“گرویزی صاحب ،آپ کا شکریہ، آپ کو یہاں اب ٹھہرنے کی ضرورت نہیں۔میں اپنی دوست کو فون کرکے بلالیتی ہوں۔”
“مجھے بھی اپنا دوست ہی سمجھیں۔اور یہ سوچنا چھوڑ دیں کہ آپ کی وجہ سے مجھے پریشانی ہورہی ہے۔”ولید نے نرمی سے کہہ کر اس کے طرف سیب کا ٹکڑا بڑھایا۔
“گرویزی صاحب،آپ تو میری ٹانگ کھینچ رہے ہیں۔ایسا ممکن نہیں ہے۔۔۔”وہ اس کی نظروں کے زاویے سے ہل کر رہ گئی۔
(اگر سبرین پہلے جیسی امیر ہوتی تو اس کے لیئے ولید سے دوستی کرنا کوئی غیر معمولی بات نہ ہوتی۔لیکن اب۔۔۔وہ ایک عام سی ڈیزائنر رہ گئی تھی۔اس کی پہچان کچھ بھی نہیں تھی۔نہ اس کے پاس گھر تھا۔نہ دولت تھی۔کیا یہ ممکن تھا کہ اس کے باوجود بھی وہ اس میں دلچسپی رکھتا!)
جو کچھ ایزد کے بعد شہزام نے اس کے ساتھ کیا تھا۔اس کے بعد سبرین کی خود اعتمادی نچلی سطح پر آکر مکمل ختم ہوچکی تھی۔
“سب کے ساتھ ہی یکساں سلوک کرنا چاہیئے ۔مس یزدانی۔میں بھی عام لوگوں جیسا ہی ہوں جسے دوست کی ضرورت پڑسکتی ہے۔”ولید گرویزی کو اس کے لئے سخت افسوس ہو رہا تھا ۔ساتھ ہی جعفر یزدانی، آبش اور ایزد پر سخت تاؤ آ رہا تھا۔کیسے سنگدل لوگ تھے۔جنہوں نے اس پیاری سی لڑکی کے ساتھ برا سلوک کیا تھا۔
سبرین بیماری میں اس قدر ذہنی طور پر تھک گئی تھی کہ زیادہ کچھ بھی سوچنا اس کے لیئے محال تھا۔وہ پھر سے تھک کر نیم بیہوش ہوگئی۔ ٭٭٭٭
