Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rozan e Zindaan Episode 19

ایزد نے ان کے ہاتھ میں خاکہ دیکھ لیا تھا اور اس کا چھپانا بھی اس کی نظروں سے مخفی نہیں رہا تھا۔ لیکن ابھی ان باتوں پر غور کرنے کا وقت اس کے پاس نہیں تھا۔

“کیا یہ تم نے اپنی نانی ماں سے سنا ہے؟” ولید نے جاننا چاہا۔

“ہاں”

ایزد نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

“آپ کیونکہ زیادہ مصروف رہتے ہیں۔ تو کیوں نا اس مسئلے کو سمٹ پر چھوڑدیں۔ آبش ایک اچھی ڈیزائنر ہے۔۔۔۔۔ آپ اسے ایک موقع دیں ۔ “ایزد کا لہجہ اور انداز چاپلوسانہ تھا۔

اس کی بات پر ولید گرویزی نے پرسوچ انداز میں پیشانی سہلائی۔اور جب بولا تو انداز جتانے والا تھا۔

“ایزد میں سمٹ میں ڈیزائنرز کے بارے میں صرف ایک یا دو چیزیں ہی جان پایا ہوں۔ ان کے ڈیزائن اسٹائل کافی لگژری اور روایتی سے ہیں۔ اور میری ترجیحات کچھ منفرد ہیں۔۔۔۔میں کافی عرصے سے بیرون ملک رہا ہوں۔۔۔۔ اسی لئے کچھ الگ اسٹائل کو ترجیح دیتا ہوں۔”

“تو پھر ٹھیک ہے، آپ اپنی خواہشات کو سمٹ کمپنی تک پہنچائیں۔۔۔۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں۔۔۔ حال ہی میں ان کی کمپنی کی ساکھ بہت متاثر ہوئی ہے۔ انکل۔۔۔۔ کیا آپ ان کی مدد نہیں کر سکتے؟”

“نہیں۔۔۔۔”

ولید گرویزی نے ہاتھ ہوا میں لہرا کر اس کی بات مکمل رد کردی۔

“میں اس کے علاوہ اور کسی بھی چیز پر اتفاق کر سکتا ہوں۔۔۔۔میرے پاس اپنے رہائشی علاقوں کے لیے اعلیٰ معیارات ہیں۔۔۔۔میں آبش سے مل چکا ہوں۔۔۔۔اور ایمانداری کی بات ۔۔۔۔کہ اس کو بالکل بھی کوئی تجربہ نہیں ہے۔۔۔۔اور وہ بالکل بھی لیٹسٹ میٹیریلز اور ہائی ٹیک ایپلائینس کے بارے میں نہیں جانتی۔۔۔۔۔وہ تو میرا ولا تباہ کردے گی۔”

ولید گرویزی کے چہرے پر ناگواری کے ساتھ سختی کے تاثرات تھے۔

ایزد ان کی بات پر کافی شرمساری محسوس کرنے لگا۔۔۔آفٹر آل وہ اس کی منگیتر تھی جس کو وہ ڈسکس کر رہے تھے۔

“لیکن۔۔۔۔ اس نےکلچر اینڈ ٹیکنالوجی سینٹر پراجیکٹ تو بہترین کیا تھا۔۔۔۔۔”

اب کہ ایزد کا لہجہ اس کے عذر کی طرح کمزور سا تھا۔

“یہ مت بھولو۔۔۔۔ کہ وہ کس وجہ سے کامیاب ہوئی تھی۔۔۔۔۔؟”

ولید گرویزی کی آنکھوں میں جتاتی ہوئی سی چمک لہرائی۔۔اور لہجہ قدرے طنز میں ڈوبا ہوا تھا۔

“تم کو تو شکر گزار ہونا چاہیئے کہ پریزڈنٹ سرور نے ہماری اس بات کو ظاہر نہیں کیا۔۔۔۔ورنہ ہم ایک بڑی مصیبت میں پھنس جاتے۔”

ساتھ ہی ایک نا خوشگوار سا تاثر چہرے پر ابھرا تھا۔

“ٹھیک ہے۔۔۔اگر آپ راضی نہیں۔۔۔تو یہ کوئی بڑی بات نہیں۔” ایزد کا دل مایوسی سے سکڑ کر سمٹا۔

“اوہ۔۔۔رائیٹ کیا یہ اسکیچ ہے۔۔۔جو آپ نے ہاتھوں میں پکڑا ہوا تھا؟ کس ڈیزائنر نے بنایا ہے؟۔۔ میں صرف تجسس سے پوچھ رہا ہوں اور کوئی مطلب نہیں میرا؟”

ایزد نے اپنے ماموں کی آنکھوں میں اپنے سوال پوچھنے پر آئی ناگواری کو دیکھتے جلدی سے حلق تر کرکے بات سنبھالی تھی۔

“جاذب طلحہ، یہ میرا ابروڈ کا پرانا دوست ہے۔ اس نے حال ہی میں میلبورین میں اپنی فرنچائز کھولی ہے۔”

ولید گرویزی نے اسکیچ اپنے بھانجے کے طرف بڑھایا۔

“یہ نقشہ اس کی ایک ڈیزائنر نے بنایا ہے۔۔۔۔۔اس نے آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں پورے 3,000 مربع میٹر ولا کے لیے ایک اسکیچ تیار کیا۔ یہی نہیں۔۔۔ بلکہ ساتھ میں ہر ڈیٹیل کا میری ترجیحات کے مطابق ذکر کیا۔۔۔۔ میں اس سے بہت حد تک مطمئن ہوں۔” ولید کے چہرے پر اطمینان جھلکا۔

” سبرین ؟”

ایزد اپنی جگہ پر جم کر رہ گیا۔ جب اس کی نظریں اسکیچ کا تفصیلی جائزہ لیتی ہوئی نیچے کونے پر لکھے ڈیزائنر کے نام پر ٹک گئیں۔

اسے کچھ دیر قبل  سبرین  کا خود سے ٹکراؤ یاد آیا “تو وہ یہاں آئی تھی۔ اس کے انکل کے ولا کا اسکیچ بنانے کے لئے؟”

“یپ۔۔۔ یہ وہی ہے۔۔۔۔۔انکل آپ اسے ہائیر نہیں کرسکتے۔”

ایزد نے احمقانہ انداز میں کہا۔

“میں آپ کو اس کے بارے میں پہلے بھی بتاچکا ہوں۔۔یہ انکل جعفر یزدانی کی چھوٹی بیٹی ہے۔۔۔یہ مجھ سے بچپن سے منسوب تھی۔ اور اچھی دوستی بھی تھی۔۔لیکن پھر ۔۔وہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے کافی بدنام ہوگئی۔۔۔۔اس نے نہ صرف دوسرے کا کام چوری کیا۔۔۔بلکہ اپنے والدین کی ساکھ پر بھی دھبہ لگادیا ۔”

اس کی بات نے ولید گرویزی کو قدرے حیران کیا۔کوئی تعجب نہیں کہ یہ نام اسے شروع سے ہی جانا پہچانا سا لگا تھا۔

ساتھ ہی  سبرین  کے حسن اور شائستہ رویے کو یاد کر کے وہ حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔دل و ذہن نے بے اختیار ایزد کے خیالات کی نفی کردی۔

“میں نہیں سمجھتا۔۔۔ کہ اس کو دوسرے کا کام چوری کرنے کی ضرورت ہے، اس کے ٹیلنٹ کو دیکھتے ہوئے میں آج تک جتنے بھی ٹیلنٹڈ لوگوں سے مل چکا ہوں، مجھے اس لڑکی کی صلاحتیوں نے بہت متاثر کیا۔ بہت کم لوگ ایسی خداداد صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔مجھے تو لگتا ہے تم اس کے خلاف بلاوجہ کا بغض باندھے ہوئے ہو۔”

ولید گرویزی کے لہجے میں  سبرین  کے لئے بہت ستائش تھی۔

“آپ واقعی اسے نہیں سمجھے۔۔۔۔۔” ایزد جھنجھلایا۔اسے سمجھ میں نہیں آیا اپنا مافی الضمیر کس طرح بیان کرے۔

“کیا تم نے یہ بالکل نہیں سوچا۔۔۔۔ کہ یہ کچھ عجیب ہے؟ جب کچھ عرصہ پہلے۔ ۔۔ ہم میں فون پر بات ہوئی تھی۔۔۔۔تب تو تم۔۔۔ اس کی بہت تعریفیں کرتے تھے۔۔۔۔ اور اب تم۔۔۔ اس کے ذکر سے ہی بیزار لگ رہے ہو۔۔۔۔۔کیا اس نے تمہارے ساتھ کچھ برا کیا ہے۔۔۔۔۔؟ جہاں تک مجھے یاد آرہا ہے۔۔۔۔یہ تم ہی تھے۔۔۔۔ جس نے اسے دھوکہ دیا ہے۔۔۔”

ولید گرویزی ایزد کے اس طرح  سبرین  سے چڑنے،بیزار ہونے پر حیران ہونے کے ساتھ متجسس بھی ہوا تھا۔وہ واقعی حیران تھا کہ اگر یہ وہی  سبرین  تھی تو ایزد اس کے خلاف کیوں ہے؟۔۔۔ اور اس نے ایسا کیا کیا ہے جو ایزد۔۔۔ اس کا نام بھی سننا گوارا نہیں کررہا؟

ان کی بات سن کر ایزد نے بے اختیار نظریں چرالیں۔اس کے پاس اپنے ماموں کی غیر متوقع بات کی تردید کے لئے الفاظ نہیں رہے تھے۔

“اور۔۔۔۔۔اب بالکل اسی طرح۔۔۔۔۔ تم آبش یزدانی کی صلاحیتوں پر فخر کر رہے ہو۔۔لیکن مجھے تو اس لڑکی میں کوئی قابلیت نظر نہیں آئی۔۔۔۔ اگر حقیقت یہ نہ ہوتی۔۔۔۔ کہ وہ یزدانی فیملی کی جانشین ہے۔۔۔ تو میں اس جیسی لڑکی پر دوسری نظر ڈالنا بھی گوارا نہ کرتا۔”

ولید گرویزی نے اسکے ہاتھ سے اسکیچ نکالا۔اور کرسی سے اٹھ کر بناء اسے دیکھے سیدھا اپنی رہائش کے طرف بڑھ گیا۔

جب تک ایزد اپنا حوصلہ بحال کرتا۔ ولید گرویزی اس کی نظر سے اوجھل ہوچکا تھا۔پیچھے ایزد ناکام و نامراد سا ہاتھ ملتا رہ گیا۔ورنہ اسے آج یقین تھا کہ ماموں کے ولا کی تزئین و آرائش کا پروجیکٹ آبش کو دلوا کر وہ آبش کی نظروں میں اپنے نمبر ضرور بڑھاسکتا ہے۔

٭٭٭٭

آفس میں بھی  سبرین  سارا دن ایزد کی منگنی کے فکشن کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان ہوتی رہی۔

آخر کار اس کے گھر جانے کا وقت بھی آگیا۔ وہ فوراً گھر پہنچی۔ لیکن  شہزام  سوری اس وقت تک واپس نہیں آیا تھا،وہ گھر تب آتا تھا، جب تک کہ باہر مکمل اندھیرا نہیں ہو جاتا تھا۔

بالآخر ایک طویل دن کا اختتام ہو ہی گیا۔ شام ڈھلے  سبرین  کا انتظار تمام ہوا، جب  شہزام  سوری تھکا تھکا سا لاؤنج میں داخل ہوا۔ اسے دیکھتے ہی  سبرین  نے وفادار بیویوں کی طرح سکون کی گہری سانس لی۔

“مجھے لگتا ہے کہ میں نے آج تم کو گرین ماؤنٹین پر دیکھا۔”

سبرین  سے اب اور انتظار نہ ہوسکا،تبھی یکدم پوچھ بیٹھی۔

“تم آج وہاں گئی تھی کیا؟”

شہزام  نے حیرت سے ایک ابرو اٹھاکر اسے دیکھا۔

“جی ہاں۔۔۔۔ لیکن۔۔۔تم وہاں کیا کر رہے تھے؟‘‘

سبرین  کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

“شاید۔۔۔تم نے اس علاقے میں گھر خریدا ہے؟”

سبرین  نے پرجوش ہوکر اندازاً پوچھا۔

“نہیں۔”

مختصر جواب دے کر،  شہزام  نے میز سے گلاس اٹھاکر فرج سے پانی کی بوتل نکالی۔

شیث نے اسے آج وہاں ایک ولا دیکھنے کے لیے بھیجا تھا۔ کیونکہ وہ اب مستقل میلبورن میں رہنے کا ارادہ کرچکا تھا۔

فدی بلی جلد ہی تین بیبیز جنم دینے والی تھی۔ تینوں کے آنے پر یہ گھر یقیناً ان بیبیز کے لئے بہت چھوٹا پڑتا۔

تاہم اس نے محسوس کیا کہ گرین ماؤنٹین کے ولاز بہت زیادہ الگ تھلگ ویران جگہ پر ہیں۔ اس نے اس بات کا ذکر اسی لئے بھی  سبرین  سے نہیں کیا، یہ سوچ کر کہ  سبرین  اپنے پچھلے تکلیف دہ تجربے کی وجہ سے خوفزدہ نہ ہوجائے۔

شہزام  نے اس غیر معمولی مسکراہٹ کو نہیں دیکھا جو اس کے ناکافی جواب پر  سبرین  کے چہرے پر پھیل گئی تھی۔

وہ اس پر یقین کرلیتی۔۔ اگر ایزد نے واضح طور پر ذکر نہ کیا ہوتا کہ اس کے ماموں نے گرین ماؤنٹین میں ایک ولا خریدا ہے۔

سبرین  بالکل بھی سمجھ نہیں پائی کہ  شہزام  اس سے یہ بات کیوں چھپا رہا ہے؟

کیا وہ اسے ایک لالچی عورت سمجھ رہا تھا،جو اس کی دولت ہتھیا لیتی؟ یا اس کا ارادہ آبش سے اپنے ولا کی تزئین و آرائش کروانے کا تھا؟

وہ پہلا آپشن یقیناً قبول کرلیتی۔۔۔لیکن دوسرا آپشن مر کر بھی نہیں کرسکتی تھی۔

وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ یزدانی فیملی نے کس طرح  سبرین  کی جان لینے کی کوشش کی تھی۔

اور اس بات سے بھی اچھی طرح واقف تھا کہ آبش کے خلاف  سبرین  کی عداوت کس بنیاد پر چل رہی ہے۔

“کوئی بات نہیں،بھلے تم چھپالو۔ میں تم کو بالکل بھی مجبور نہیں کروں گی کہ تم مجھے ہی ولا کی رینوویشن کے لئے ہائیر کرو۔”

سبرین  نے بظاہر تو یہ بات مذاحیہ انداز میں کہی۔لیکن  شہزام  کی بھنویں تن گئیں۔

“میں پہلے سے ہی کہہ چکا ہوں کہ “نہیں”۔

شہزام  کا جواب بالکل صاف اور سیدھا تھا۔وہ  سبرین  کے طنز پر دل ہی دل میں چونکا ضرور تھا لیکن سمجھ نہیں پارہا تھا کہ وہ ایسے لہجے میں کیوں بات کررہی تھی۔

سبرین  نے سامنے رکھے کافی کے مگ پر اپنی گرفت مضبوط کرلی اور موضوع بدل دیا۔

“ٹھیک ہے تو پھر۔۔۔۔ہوسکتا ہے حال ہی میں تمہیں کوئی انوٹیشن ملی ہو۔۔۔جس میں تمہیں کسی ساتھی کی ضرورت پڑے۔”

“نہیں”مختصر لیکن سخت جواب آیا۔

میلبورین کے لوگ اس کی نظر میں نہایت کم تر حیثیت رکھتے تھے۔وہ اس کے نزدیک بالکل بھی اہم نہیں تھے۔

“امممم۔۔۔۔آل رائٹ، لیکن میں ایک دعوت اٹینڈ کروں گی، اگرچہ۔”

“تم کیا کہنا چاہ رہی ہو؟”

شہزام  نے خالی گلاس ٹیبل پر رکھا اور سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔

“میری دادی ماں اس ماہ کے لاسٹ میں 80 سال کی ہوجائے گی۔ ان کی سالگرہ ایزد اور آبش کی انگیجمنٹ پارٹی کے ساتھ ہی رکھی گئی ہے۔میرے پاس پارٹی اٹینڈ کرنے کے سوا اور کوئی حل نہیں۔”

سبرین  نے ایک ٹھنڈی سانس بھر کر خود کو کمپوز کیا۔

“میری دادی ماں مجھ سے بہت پیار کرتی تھیں۔جب میں چھوٹی سی تھی دادی ماں نے میرا بھرپور خیال رکھا تھا۔ کیا تم میرے ساتھ چلنا پسند کرو گے؟”

سبرین  نے بہت مشکل سے اپنی بات مکمل کی، پھر دونوں ہاتھ ٹھوڑی کے نیچے رکھ کر ایک آس سے اسے دیکھنے لگی۔

اس کی بات پر  شہزام  کو یزدانی فیملی کا ارادہ سمجھنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگا۔وہ اس دعوت کے پیچھے چھپی ان کی نیت اچھے سے سمجھ گیا تھا۔

“مجھے یاد ہے، میں نے اپنی شادی کے دن ہی تمہیں بتادیا تھا کہ میں تمہاری فیملی سے کبھی ملنا نہیں چاہوں گا۔”

“لیکن۔۔۔تم تو ویسے بھی اس منگنی کی دعوت میں جا رہے ہو نا۔”  سبرین  نے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا۔۔

“لیکن۔۔۔کس لیئے؟” وہ  سبرین  کی بات بالکل نہیں سمجھ پارہا تھا۔حالانکہ وہ اس کی فیملی کو جانتا تک نہیں تھا تو جانے کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا۔

“کیونکہ۔۔۔۔تم ایزد کے ماموں جو ہو۔” وہ تقریباً چیخ پڑی۔

اس کی بات پر  شہزام  نے بھنویں اچکا کر اسے ناسمجھی سے دیکھا تھا۔ اگر وہ ایسا کہہ رہی تھی تو یقیناً پردے کے پیچھے کوئی ایسی بات تھی جسے وہ بے خبر تھا۔کیا  سبرین  کسی غلط فہمی میں اس سے ٹکرائی تھی؟لیکن ابھی بات سمجھنے کے مراحل طے کرنے تھے۔ابھی کچھ گرہیں کھلی تھیں۔

“کیونکہ۔۔۔۔ میلبورین کے کافی سارے امراء اس پارٹی میں جا رہے ہیں، تو میں سمجھی تم بھی۔۔۔۔۔”

“معاف کرنا۔۔ میں بالکل بھی ایسی کمتر درجے کی پارٹیاں اٹینڈ کرنے کا شوق نہیں رکھتا۔”

شہزام  نے ناگواری سے کہا۔

اس کی قطعیت پر  سبرین  لاجواب سی ہوئی۔

‘کم تر درجے کی؟ ‘اس نے اس وجہ سے اپنے بھانجے کی انگیجمنٹ پارٹی پر جانے سے انکار کیا تھاکہ وہ کمتر درجے کی ہے۔

کس قدر متکبرانہ انداز تھا اس شخص کا۔ کیا ہر وہ آدمی، جو برسوں بیرون ملک گزار کر وطن واپس آئے ،ایسا ہی تکبرانہ روئیے کا مالک ہوتا ہے؟

وہ بناء کسی تاثر کے خاموش بیٹھی رہ گئی۔

“میں تم کو بھی یہی مشورہ دوں گا کہ وہاں جانے کی غلطی پھر سے مت دہرانا۔میں دوبارہ سے تمہیں بچانے نہیں آسکوں گا۔”

شہزام  نے گھورتے ہوئے سختی سے وارننگ دینا ضروری سمجھی۔

پہلے وہ یہی سمجھی کہ  شہزام  اس میں دلچسپی رکھتا ہے، لیکن پھر یہ خوش فہمی بھی فوراً ختم ہوگئی۔

اس آدمی کا دل یقیناً پتھر کا بنا ہوا تھا۔

سبرین  کا دل اچانک ہی ہر چیز سے اکتا گیا۔اس نے بے دلی سے اپنا سیل فون اٹھایا اور واٹس ایپ پر فریا کے ساتھ چیٹ کرنا شروع کردی۔

[تم تو کہہ رہی تھی  شہزام  مجھ میں دلچسپی لینے لگا ہے؟🤨 معاف کرنا ۔۔لیکن مجھے تو ایسا بالکل بھی محسوس نہیں ہو رہا۔ہر وہ سیکنڈ جو اس کے ساتھ گزرتا ہے۔اس سے میرا خون ہی کھولتا ہے۔]

فریا :[یار۔۔۔کوشش جاری رکھو۔دل مت ہارو۔ کیوں نہ ہم ڈنر پر چلیں، کافی وقت سے نہیں گئے۔ اس طرح تمہارا موڈ بھی بہتر ہوجائے گا۔]

سبرین :[بالکل بھی نہیں۔اگر میں رات کے وقت گھر سے باہر نکلی،تو اس آدمی کا لیکچر جو شروع ہوگا تو صبح تک چلتا رہے گا۔]

فریا: [کم آن، تم اس کے گھر کی ملازم نہیں ہو۔اور نہ ہی وہ تمہیں تنخواہ دیتا ہے۔ یار۔۔تم نے اسے بہت زیادہ بگاڑ دیا ہے۔]

سبرین  نے ایک نظر اس شخص پر ڈالی جو کھانے کے بعد برتن یونہی چھوڑے اٹھ کر اپنی اسٹڈی میں چلا گیا تھا۔

مایوسی کی ایک شدید لہر اس کے اندر دوڑ گئی۔فریا کی باتوں نے اس کا دماغ اچھا خاصا خراب کردیا۔ وہ بھی اس نہج پر  شہزام  کے خلاف سوچنے لگ گئی۔

یہ بہت تھکادینے والا عمل تھا۔۔وہ ابھی سے تھکنے لگی تھی۔وہ اس کی بیوی بننا چاہتی تھی۔ناکہ فل وقتی “ہاؤس کیپر۔ “

اب اور کوئی چارہ نہیں تھا، اس نے برتنوں کو اکٹھا کیا۔کچن میں لے کر برتن دھو کر رکھے اور بعد میں تازہ تازہ دھلے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ دوبارہ نمودار ہوئی۔

“میں تھوڑی دیر کے لیے باہر جا رہی ہوں…”

“کہاں جارہی ہو؟”

شہزام  کی نظروں میں ناگواری ہی ناگواری بھری ہوئی تھی۔ اس نے دیوارگیر کلاک پر وقت دیکھا۔گھڑی شام کے 6 بجا رہی تھی۔

“کیا تم ڈرنک کرنے باہر جا رہی ہو۔۔۔ یا یزدانی ہاؤس جا رہی ہو؟یا۔۔۔۔ پھر اپنے سینئر کے ساتھ ڈیٹ پر جا رہی ہو۔یہ مت بھولنا کہ ابھی تمہیں فدی کا ہاضمہ بھتر بنانے کے لئے اسے روٹین واک پر بھی لے جانا ہے۔”

اس کے چبھتے ہوئے لہجے اور تابڑ توڑ سوالوں پر  سبرین  کی تو سچ بولنے کی رہی سہی ہمت بھی کھوگئی۔

“و۔۔۔وہ میں۔۔۔۔ فریا کے ساتھ شاپنگ پر جا رہی ہوں۔موسم سرد ہو رہا ہےاور مجھے گرم کپڑوں کی ضرورت ہے۔”

انگلیاں مروڑتی وہ مسلسل اپنا کنفیوژن کم کرنے کی کوشش کررہی تھی۔۔اصل میں اسے  شہزام  کی گھورتی نظریں کنفیوز کررہی تھیں۔

اس کی بات پر  شہزام  نے اسے اوپر سے نیچے گھورا تھا۔

“ہمممم۔۔۔۔ تمہیں واقعی میں گرم کپڑوں کی ضرورت ہے۔سارا دن میرے سامنے اتنے کم اور باریک کپڑوں میں آنا چھوڑ دو۔”

سبرین  اپنی اتنی زبردست توہین پر اندر ہی اندر تڑپ کر رہ گئی۔وہ کب اس کے سامنے کم اور باریک کپڑوں میں آتی تھی۔

‘ٹھیک ہے وہ آئندہ سے باریک کپڑے گھر میں نہیں پہنے گی۔ویسے بھی اب سردی آنے والی ہے۔ اگر  شہزام  یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ اس طرح اسے راغب کررہی ہے۔ تو ہر طرح سے فائدے میں تو  شہزام  تھا۔”

“ٹھیک ہے۔۔ مجھے بھی کچھ گرم کپڑوں کی ضرورت ہے،میرے لئے بھی کچھ ڈریسز لانا، میں نے جو کارڈ تمہیں دیا تھا اسے استعمال کرنا۔” شہزام  نے سستی سے کہا۔

سبرین  تو جیسے اپنے ہی کہے لفظوں کے جال میں پھنس چکی تھی۔اس کا فریا کے ساتھ کھانے پر انجوائے کرنے کا سارا مزہ ہی کرکرا ہوگیا تھا۔

جب سے اس کی  شہزام  سے شادی ہوئی تھی۔اس نے ایک دن بھی مزیدار کھانا اور باربی کیو نہیں کھایا تھا۔بڑی بات کہ یہ موسم بھی سی فوڈ کا تھا۔ سبرین  اندر ہی اندر پیچ وتاب کھاکر رہ گئی۔

اب کیا کرے؟اس کا منہ دیکھنے والا تھا۔اس کے سارے پلان پر  شہزام  پانی جو پھیر چکا تھا۔

“تم اپنے کپڑے خود بھی خرید سکتے ہو۔ میں تمہاری حقیقی بیوی تو نہیں ہوں۔‘‘ یہ اور بات کہ ایسا کہتے ہوئے اس کی آواز میں لڑکھڑاہٹ صاف سنائی دے رہی تھی۔

شہزام  نے ایک ابرو اٹھائی جبکہ اس کے چہرے پر ایک پراسرار مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔

“کیا کہا؟۔۔۔۔۔۔ کیا تمہارے اس بہانے کے پیچھے کوئی اور وجہ تو نہیں چھپی ہوئی؟‘‘

وہ اس سے لفظوں میں نہیں جیت سکتی تھی۔وہ اعلی پائے کا وکیل جو ٹہرا،

سبرین  نے بالآخر ہتھیار ڈال ہی دیے۔ اس نے معصومیت سے منہ بنا کر کہا تھا۔

“ٹھیک ہے۔۔۔ٹھیک ہے۔۔میں تمہارے لئے ڈریسز لینے جاؤں گی۔تمہاری سائز کیا ہے؟”

“تو تم یہ بھی نہیں جانتی کہ میں کون سی سائز کے کپڑے پہنتا ہوں؟ تو پھر میرے قریب آنے کے خواب کس لئے دیکھتی ہو؟”

اس کے چہرے پر طنزیہ تاثرات چھاگئے۔

اب  سبرین  اتنی ہمت نہیں رکھتی تھی، جو  شہزام  کے مسلسل لاپرواہانہ روئیے کے باوجود بھی اس سے پیار کرتی؟

“مجھے افسوس ہے کہ میں نے کچھ زیادہ ہی کہہ دیا۔ ”  سبرین  کے چہرے پر مایوسی پھیل گئی۔

“تم کس قسم کی پرائس رینج میں کپڑے دیکھو گی؟” یہ کہنے سے پہلے  شہزام  نے ناگواری سے ہنکارا بھرا۔

“آپ کو کس قیمت کی رینج میں چاہیئے؟”  سبرین  نے سادگی سے کہا۔تو  شہزام  خاموش رہ گیا۔اس سے پہلے اس کے کپڑے ہمیشہ اعلیٰ معیار کے درزی تیار کرتے تھے۔لیکن یہ بات ماضی رہ گئی تھی۔

“اوکے۔۔۔کوئی بھی دیکھ لینا۔” وہ اب خاموش ہوکر اپنے مطالعے میں مشغول ہوگیا ۔۔جیسے اس کے سوا کوئی موجود ہی نہ ہو۔

دس منٹ بعد فریا نیچے کار لے کر موجود تھی۔

سبرین  کار میں بیٹھ گئی لیکن چہرے پر مایوسی چھائی ہوئی تھی۔

“پہلے مال چلو۔۔ شہزام  کے لئے کچھ ڈریسز خریدنی ہیں۔”

“ل۔۔لیکن سی فوڈ کا کیا بنے گا؟ یار۔۔میں نے اس لالچ میں ابھی کھانا ہی نہیں کھایا۔”

فریا کے پورے چہرے پہ کنفیوژن رقم تھی۔

سبرین  کے پاس کوئی اور چارہ نہیں رہا سوائے اس کو سچ بتانے کے۔

فریا نے یہ سب سن کر کافی ناگواری سے اسے گھور کر چلا پڑی۔

“تمہاری سیلف رسپیکٹ کہاں چلی گئی سبی؟اس دبنگ رویے کے بارے میں کیا خیال ہے جو تم رکھتی تھی؟“

“تم سمجھ نہیں رہی۔ وہ ہمیشہ فدی کی بیماری کو میرے خلاف استعمال کرتا ہے کہ میں نے کس طرح فدی کو بیمار کیا تھا۔”

سبرین  نے بے بسی سے پیشانی مسلتے جواب دیا۔

“اس کے علاوہ، اس نے دو بار میری جان بچائی ہے۔اور میں اس کا قرض چکانا چاہتی ہوں۔”

“سچ ہے۔۔۔کوئی دوسرا اپنے گھر کی ملازمہ کو اس قدر سختی سے کنٹرول نہیں کرسکتا۔جتنا  شہزام  بھائی کررہا ہے۔‘‘ فریا نے طنز کو تعریف کے ورق میں لپیٹ کر کہا۔

“اچھا ٹھیک ہے۔۔۔ اب بس کرو. میں پہلے سے ہی یہ بات جانتی ہوں کہ میں اس کی نوکرانی ہوں۔”

سبرین   جو پیسینجر سیٹ پر ٹیک لگائے آنکھیں موندے بیٹھی تھی، پٹ سے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔۔اس کے چہرے پر کافی مایوسی اور افسردگی دکھائی دے رہی تھی۔پھر جیسے کچھ یاد آیا تو آنکھیں چمکنے لگیں۔

“اوہ نو، تم یہ کب سوچو گی کہ میں ایزد کی مامی کی حیثیت سے اس کے سامنے کیسے کھڑی ہو سکتی ہوں؟ ان دونوں کی منگنی کی تقریب قریب آ رہی ہے۔”

سبرین  کو یہی بات کاٹ رہی تھی۔خود اس کے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔