457.2K
10

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rayakar Episode 7 (Last Episode Part 1)

Rayakar by Fatima Gull

انعم ہم تمھارا نکاح کروا رہے ہیں ۔ اسے ایک عورت نے کہا ۔

اس کی آنکھیں رونے کی وجہ سے سوجی ہوئی تھی ۔

اب یہ کیا ہوتا ہے۔ ایک دفعہ ابو نے کہا تو تھا کہ

میں تمھارا نکاح کرواؤں گا۔ کیا پتا اچھی چیز ہو۔ اس نے دل میں سوچا۔

تم کیا کہتی ہو۔ اس عورت کی آواز نے اسے خیالوں سے نکالا ۔

جی ٹھیک ہے۔ اس نے فرمانبرداری سے جواب دیا ۔

لیکن اس سے پہلے وہ کچھ بولتی اس عورت نے جلدی سے بڑھ کر اس کا منہ چوم لیا ۔ ہائے میری

بچی دل خوش کر دیا۔

میں سب کو خوشخبری سنا کر آتی ہوں ۔ وہ یہ کہتے ہوئے وہاں سے چلی گئ۔

نکاح ہو چکا تھا ۔ ہر طرف خوشی کا سماں تھا۔

اس کی دلہن کو کمرے میں بٹھا دیا گیا تھا۔

وہ جو ادھر ادھر کمرے کی ہر چیز دیکھنے میں

مگن تھی۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر متوجہ ہوئی ۔

اس عورت نے اسے سب سمجھا دیا تھا۔ شوہر کے حقوق و فرائض ۔

وہ الگ بات ہے اسے سمجھ نہیں آئی تھی ۔

السلام علیکم! اس نے سلام کیا۔ لیکن جب سلام کا جواب نہ ملا تو ایک چھوٹی سی لڑکی کو خود کی طرف دیکھتے پایا ۔

آہ ۔ میں عمر تو پوچھنا بھول گیا تھا ۔ یہ تو مجھ سے دس سال چھوٹی ہوگی۔ اس نے دل میں سوچا۔

آپ کون؟ اس نے سوال پوچھا ۔یہ سوال سن کر اس کا دماغ چکرا گیا ۔

اب یہ اپنے شوہر کو نہیں جانتی۔ یہ تو سچ میں دماغ سے کھسکی ہوئی ہے ۔ بے چاری۔ اس نے دل میں سوچا۔

میں آپ کا شوہر ۔ اس نے جواب دیا ۔

اچھا آپ میرے شوہر ہیں ۔ ادھر کیا کھڑے ہیں ادھر بیٹھے نہ ۔ اس نے اسے بازو سے پکڑ کر زبردستی بیڈ پر بٹھا دیا ۔

چلے میرا سر دبا دیں ۔ اس نے حکمیہ انداز میں کہا ۔

اتنی بھی کھسکی ہوئی نہیں ہے۔ اس سے پہلے وہ کچھ سوچتا۔

آپ کا نام کیا ہے؟ ویسے میرا نام انعم عمران ہے۔اس نے اس کا نام پوچھتے اس سے سوال کیا ۔

انعم ..یہ نام اسے کیا کیا یاد دلا گیا تھا۔

لیکن اس نے خود کو قابو میں رکھا۔

میرا نام تو طلحہ عمران ہے اس لحاظ سے تمھارا نام انعم طلحہ ہونا چاہیے تھا ناکہ انعم عمران۔

اس نے سوالیہ پوچھا ۔

عمران تو میرے ابو کا نام تھا۔ اس نے جواب دیتے ہوئے کہا ۔

اس نے بے ساختہ اس کے پھولے ہوئے گال کھینچ ڈالے کیوں وہ جواب دیتے ہوئے نہایت معصوم لگ رہی تھی۔