457.2K
10

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rayakar Episode 1

Rayakar by Fatima Gull

مُجھے یہاں تم نے کیوں بلایا ہے ؟اس نے بےزار ہو کر سوال پوچھا ۔

کیوں میں نہیں بلوا سکتا کیا ؟ مقابل نے بھی سیگریٹ کا دھواں اڑاتے ہوئے سوال پوچھا ۔۔طلحہ تم اب حد سے بڑھ رہے ہو۔ تمھارا مطلب پورا ہو گیا ہے اب تمھیں کیا چاہیے ؟اس نے غصے سے سوال کیا ۔

مطلب کی بات تو تم نہ کرو۔ اوپر سے کچھ اندر سے کچھ۔ اس نے بھی سرخ آنکھوں سے دیکھتے ہوئے جواب دیا ۔

اس بات سے مطلب کیا ہے تمھارا ؟ اس نے انجان بننے کی کوشش کی ۔

یہی کہ ایسے پردے کا کیا فائدہ، جو تمھیں ایک نامحرم سے بات کرنے سے نہ روک سکے؟اس نے ہنستے ہوئے کہا ۔

تمھیں اس سے کیا میں جو بھی کروں ، تمھاری طرح کسی کا دل تو نہیں توڑتی نہ، اس کا غرور ابھی بھی باقی تھا۔

جو دھوکہ دیتے ہیں ، انھیں بھی دھوکہ مل کر ہی رہتا ہے۔ اس نے سیگریٹ نیچے پھینکتے ہوئے کہا ۔

کیسا دھوکہ ، میں نے کس کو دھوکہ دیاہے؟اس نے اونچی آواز میں کہا جس سے ارد گرد کے لوگ متوجہ ہوئے ۔

معزرت چاہتا ہوں ۔اس نے لوگوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور اس کی طرف متوجہ ہوا۔

چلاؤ مت! انعم احسن ۔ ویسے تو تم اپنے علاؤہ کسی کو کچھ سمجھتی نہیں ہو۔ لوگوں کی تعریف وصولنے کے لیے تم پردہ کرتی ہو۔ اپنے والدین سے چھپ چھپ کر نامحرموں سے ملتی ہو۔ یہ دھوکہ نہیں تو کیا ہے۔ اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔ میرے والدین نہیں ہے۔

میں صرف تم سے ملی تھی۔ لیکن تم نے بھی میرے جذبات کا مذاق اڑایا ۔ اس نے اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا ۔

یاد رکھنا۔ میں طلحہ عمران ہوں، جس نے جھکنا کبھی سیکھا ہی نہیں ہے اور میں نے تمھیں بلایا اسی لیے تھا کہ تمھیں تمھاری اوقات دلا سکوں۔ میں تمھاری خواہشات پوری کرکے تھک چکا ہوں ۔ اس لیے میں آج تم سے ہر تعلق توڑتا ہوں۔ اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔

اس کا ایک ایک لفظ مقابل کہ دماغ پر ہتھوڑے کا کام کر رہا تھا لیکن غرور ابھی باقی تھا۔

میں خود بھی بہت تم سے بےزار ہوچکی ہو۔ وہ اٹھی ایک قدم چلی اور پھر مڑی میں تم جیسے سیاہ دل کو کبھی نہیں دیکھنا چاہوں گی ۔ اس نے مقابل کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔

آپ کا حکم سر آنکھوں پر ۔ اس نے یہ کہتے ہوئے قہقہ لگایا ۔وہ اپنے نقاب کو سیٹ کرتے ہوئے ریسٹورنٹ سے نکل گئ۔