Rayakar by Fatima Gull NovelR50441 Rayakar Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
Rayakar Episode 5
Rayakar by Fatima Gull
پانچ سال بعد:
یہ ایک مسجد کا منظر تھا۔ جہاں پر شفاف چہرے والے امام منبر پر بیٹھے تھے ۔
لوگ ان سے مختلف سوال کر رہے تھے اور وہ ان کا جواب دے رہے تھے۔
جس کی قدر نہ ہو ، وہی چیز ہم سے کیوں چھین لی جاتی ہے ۔ اس سوال پر امام نے سوال کرنے والے کی طرف دیکھا ۔
جو پچھلے پانچ سال سے مسجد آرہا تھا اور ان پانچ سالوں میں پہلی دفعہ اس نے کوئی سوال پوچھا تھا۔
وہ مسکرائے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے جو جواب کے منتظر تھے ۔
اللّٰہ کسی کو آزماتا ہے مال سے ، کسی کو دولت سے ، کسی کو محبت سے ، کسی کو اولاد سے ۔
وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ میرا بندہ کتنا شکر گزار ہے؟
وہ چیز چھینی نہیں جاتی بلکہ وہ چیز اس وقت ہمارے لیے بہتر نہیں ہوتی اور بہتر وقت پر
اللّٰہ وہ چیز ہمیں خود ہی عطا کر دیتا ہے۔
یہ سن کر اس کے دل میں ایک اطمینان کی لہر دوڑ گئی ۔
آج کے لیے اتنا ہی ۔ امام کے یہ الفاظ سن کر لوگ وہاں سے جانا شروع ہوگئے ۔
آ خر میں صرف ایک شخص بچا تھا۔
طلحہ عمران ۔ اس سے پہلے وہ اٹھتا مولوی نے اسے پکارا۔
وہ ان کی پکار سن کر ادھر ہی بیٹھ گیا ۔
لگتا ہے جیسے آج ہماری آخری ملاقات ہے۔ امام نے
اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
ان کی بات سن کر ۔ وہ پریشان ہوا۔
میرا اللّٰہ مجھے کب بلا لے مجھے معلوم نہیں ،میں چاہتا ہوں میرے بعد تم لوگوں کے لیے مشعلِ راہ بنو۔
میری آخری خواہش سمجھ کر پوری کر دینا۔
انھوں نے اس کی طرف محبت سے دیکھتے ہوئے کہا ۔
اس کے جی میں آیا کہ منع کر دے لیکن سر خودبخود ہاں میں ہل گیا۔
اور اس کے بعد وہ وہاں رکا نہیں اور وہاں سے چلا گیا ۔
اللّٰہ ۔ مجھے معاف کردے نہ۔ میں ہوتی کون ہوں یہ کہنے والی کہ مجھے پردے کا کوئی حق نہیں
مجھے معاف کرے۔ یا سمیع سن لے۔ وہ گڑگڑا تے
ہوئے نماز پر بیٹھی دعا کر رہی تھی ۔
یہ ایک سادہ سا کمرہ تھا ۔
میرا تیرے علاؤہ کوئی نہیں ہے۔
میرے اللّٰہ ۔ میرے والدین کی مغفرت فرما ۔
میری سن لے۔ وہ یہ کہتے ہوئے سجدہ ریز ہوئ۔
پھر اٹھی اور کمرے سے باہر نکلی اور چلتے وقت اس کی چال میں لڑکھڑاہٹ تھی۔میں نے کہا تھا کہ میں تم جیسے سیاہ دل سے کبھی نہیں ملنا چاہوں گی اور اب میں کہتی ہوں
میں تم سے ایک دفعہ ضرور ملنا چاہوں گی طلحہ عمران ۔
