457.2K
10

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rayakar Episode 2

Rayakar by Fatima Gull

وہ اس وقت اپنے حواسوں میں نہیں تھی۔ آنسو اس کے شفاف چہرے پر بہہ رہے تھے ۔ میں نے دھوکہ نہیں دیا ۔میں ریاکار نہیں ہوں۔ وہ بڑبڑائے جارہی تھی ۔

ریاکاری سارے نیک اعمال جلا دیتی ہے۔ جس نے دکھلا وے کی نماز پڑھی، اس نے شرک کیا۔

اس کے کانوں میں الفاظ گونجنے لگے اور اسے وہ منظر دکھائی دینے لگے جب وہ بچوں کو یہ سبق پڑھا رہی تھی ۔

میں یہ کیسے کر سکتی ہوں۔اس نے اپنا نقاب اتار دیا ۔میں پردے کے لائق ہی نہیں ۔اے میرے اللّٰہ اس سے پہلے وہ کچھ بولتی اس کا پاؤں پھسلا اور وہ سڑک کے درمیان گری اور تیز رفتار گاڑی نے اس کی ٹانگوں کو کچل ڈالا اور اس کے منہ سے بے ساختہ چیخ بلند ہوئی ۔

اس کی آنکھیں بند ہو رہی تھی ۔ کوئی کہہ رہا تھا پولیس کو بلاؤ ، کوئی کہہ رہا تھا ایمبولینس کو

اور پھر اسے کسی چیز کا ہوش نہ رہا ۔

کلب میں اس وقت ایک الگ ہی سماں تھا۔مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی ۔ یہ شخص ہمیشہ ماسک کیو ں لگا کر آتا ہے۔؟ایک ویٹر نے دوسرے ویٹر سے سوالیہ پوچھا ۔

امیر لوگوں کے بھی اپنے شوق ہوتے ہیں ۔ دنیا والوں کے سامنے ان سے بڑا ہمدرد کوئی نہیں ہے لیکن رات کے اندھیروں میں ان سے بڑا بےرحم کوئی نہیں ۔سمجھے کہ نہیں سمجے۔ اس نے جواب دیتے ہوئے کہا۔

آگئ سمجھ ۔ مطلب دکھاوا۔ ان کا اصل یہ ہے ۔ انھیں ہمدردی نہیں ہوتی ۔ بس یہ اپنا وقار قائم رکھنا چاہتے ہیں ۔ اس نے گلاس میں حرام شراب لے کر جاتے ہوئے کہا ۔

اتنی دیر کہاں کردی اور یہ کیا خسر پھسر کر رہے تھے۔ اس نے غصے سے پوچھتے ہوئے کہا ۔

طلحہ عم۔۔اس سے پہلے وہ بولتا اس نےاس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی ۔ خاموش ہزار دشمن ہوتے ہیں بندے کہ آیندہ بعد میرا نام نہ لینا ۔ دفعہ ہو جاؤ یہاں سے۔ اس نے اسے دھکا دیتے ہوئے کہا جس سے گلاس گر کرچکنا چور ہو گیا اور ویٹر کے گرنے سے گلاس کی کرچیاں اس کے ہاتھوں میں کھب گئی ۔

اب پڑے کیا ہو یہاں ۔ نکلو یہاں سے۔ اس نے ویٹر کا لحاظ بھی نہ کیا اور اسے وہاں سے جانے کا حکم دیا۔