Rayakar by Fatima Gull NovelR50441 Rayakar Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
Rayakar Episode 6
Rayakar by Fatima Gull
اگلے دن وہ مسجد آیا تو وہاں رش دیکھ کر اسے
کسی انہونی کا احساس ہوا۔ دل کہہ رہا تھا ۔ اتنی جلدی کیسے ۔ لیکن جب امام کو کفن میں لپٹے دیکھا تو ااس کو بے ساختہ ان کے کل والے الفاظ یاد آئے ۔
وہ لڑکھڑایا لیکن پھر سنبھلا۔ وہ آگے بڑھا۔
امام کا جنازہ میں پڑھوائوں گا اور ان کی تمام ذمداریاں
میں اپنے ذمہ لینا چاہتا ہوں۔ کسی کو کوئی اعتراض ۔
اس نے یہ کہہ کر لوگوں کی طرف دیکھا جو غور سے اس کی بات سن رہے تھے۔
اور ان کی آخری خواہش بھی یہی تھی۔ یہ کہتے ہوئے ایک آنسو اس کی آنکھ سے نکلا۔
بیٹا ، یہ بہت بڑی ذمداری ہے کیا تم نبھا سکو گے؟ایک بزرگ نے سوال کیا ؟
اللّٰہ ہے نہ۔ اس نے کہا ۔
امام کے خاندان میں سے کوئی نہیں آیا ۔
اس نے سوال پوچھا ۔
نہیں ان کا کوئی نہیں سوائے ایک بیٹی کے۔
بڑی مشکل سے اسے عورتوں نے سنبھالا ہے۔
ایک نوجوان کی طرف سے جواب آیا ۔
ٹھیک ہے ۔
جنازے کی تیاری کی جائے ۔ وہ کہتے ہوئے باہر نکل گیا ۔
ہر طرف لا الہ الااللہ کی صدائیں بلند ہوئیں ۔ جنازہ اٹھاتے وقت ۔
ابو۔۔۔۔۔۔ابو۔۔۔اہہہہہ۔۔اہہہہ
وہ نازک دل کی لڑکی جو کہ عمر سے سترہ سال کی دکھائی دے رہی تھی ۔ رو رہی تھی ۔ چلا رہی تھی ۔
عورتیں اسے چپ کروا رہی تھی۔ ایک کہرام مچا ہوا تھا۔
ابو ابو۔۔ اس کا حلیہ ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ کوئی دس سال کی بچی ہو۔ وہ بچوں کی طرح رو رہی تھی ۔
وہ ایسے کیسے جاسکتے ہیں ؟ اس نے دکھی ہوتے سوال کیا ۔
اور پھر وہ بے ہوش ہوگئ۔ صدمہ ہی بہت گہرا تھا۔
اس وقت سب لوگ مسجد میں جمع تھے۔ امام کی موت کو چار دن ہو گئے تھے۔
امام کی بیٹی کا کیا کرنا ہے ؟ ایک بزرگ نے اس سے سوال پوچھا ۔
کیا کرنا ہے؟ اس نے چوکنا ہو کر سوال پوچھا ۔
میری بیوی بتا رہی تھی کہ ہر وقت روتی ہے ۔ ابو ابو کرتی رہتی ہے۔ وہ جوان ہے کل کو کوئی اونچ نیچ ہو گئ
سوال تو ہم سے پوچھا جانا ہے۔
روز محشر ہم خدا کو کیا منہ دکھائیں گے ؟ اس بوڑھے نے جذباتی ہو کر کہا ۔
امام نے پہلے کبھی اپنی بیٹی کا ذکر نہیں کیا ۔ اس نے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سوال کیا ۔
اس لیے کہ وہ ان کی سگی بیٹی نہیں ہے۔ وہ ان کو کچھ دن پہلے ملی تھی۔ اس کا دماغی توازن تھوڑا سا خراب ہے۔ امام کو دیکھتے ہی ابو ابو پکارنے لگی۔ یہ ہمارے محلے میں بھیک مانگ کر کھاتی تھی۔
امام بھی اکیلے تھے۔ ان کی بھی باپ کی شفقت جاگ اٹھی اور انھوں نے بیٹی بنا کر رکھ لیا ۔ ایک شخص نے پرجوش ہو کر جواب دیا ۔
آپ لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں ؟ اسے تھوڑی بہت سمجھ آرہی تھی لیکن پھر بھی انجان بن کر سوال پوچھا ۔
جیسا کہ امام اپنی ذمداری آپ کو سونپ کر گئے تھے ، اس طرح وہ بچی بھی آپ کی ذمداری ہوئ ۔ ایک بزرگ نے اسے اپنے الفاظ سے سب سمجھا دیا ۔
وہ زمانہ شناس تھا۔ کیسے نہ سمجھتا۔
ٹھیک ہے پھر مولوی وغیرہ کا انتظام کیا جائے ۔ یہ بولتے وقت اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوئ۔
لیکن مومن فرض کو اپنی ذاتی خواہشات پر ترجیح دیتا ہے راستے اللّٰہ بناتا ہے۔
مولوی ۔۔ ایک شخص کی حیران بھری آواز آئ
ایک نامحرم کو تو میں اپنے ساتھ رکھ نہیں سکتا ۔ہر مرد اور عورت کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ کب ارادہ بدل جائے پتا نہیں چلتا ہے۔
اور میں گناہ گار نہیں ہونا چاہتا۔ اس کا بہترین حل نکاح ہے۔ اس نے صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دیا ۔
اس کا یہ جواب سن کر ان لوگوں کی آنکھوں میں اس کے لیے ستائش تھی۔
لیکن اس لڑکی کو کیسے منانا ہے؟ ایک نے سوال کیا ۔
اس کو منانا آپ لوگوں کا کام ہے ۔ اس نے اپنے لہجے کی لڑکھڑاہٹ پر قابو پاتے ہوئے کہا اور کچھ دیر مجھے اکیلا چھوڑ دیا جائے ۔ اس نے یہ کہتے ہوئے لوگوں کی طرف دیکھا اور وہ لوگ ایک ایک کر کے نکلتے چلے گئے ۔
وہ کیوں نہیں آ ئ ؟ میں نے اس کا انتظار کیا ۔
میرے انتظار کا کوئی فائدہ نہیں تھا ۔ تم زندہ تھی۔
مجھے یہ بات معلوم ہو گئی تھی۔ انعم حسن تم اتنی بے حس کیوں تھی؟
اللّٰہ اس نے اپنے قتل کا الزام مجھ پر کیوں لگایا حالاں کہ وہ زندہ تھی۔
مجھے تھا وہ مجھ سے معافی مانگنے آئے گی۔
مجھے ڈھونڈے گی۔
میں نے لاہور چھوڑا بھی اسی کےلئے تھا اور آیا بھی اسے کے لیے تھا۔
وہ اپنے اللّٰہ کے حضور رو رہا تھا۔
لیکن بس اب میرے تمام امیدیں آپ سے وابستہ ہیں ۔
میں ہی نادان تھا جو کہ ایک انسان سے امیدیں وابستہ کر لی ۔
اب میں نے سب کچھ آپ پر چھوڑ دیا۔
یہ کہتے ہوئے اس نے اوپر کی طرف دیکھا۔ پھر اٹھا اور مسجد سے نکل گیا ۔
