Pari by Imama Nadeem NovelR50827 Pari by Imama Nadeem Last Episode
Rate this Novel
Pari by Imama Nadeem Last Episode
Pari by Imama Nadeem Last Episode
پری پڑھ لو صبح پیپر ہے تمہارا اور پچھلے ایک گھنٹے سے تم انگوٹھی سے کھیلے جا رہی ہو ۔ ایمان نظریں اٹھا کر دیکھتے ہوۓ بولی تو پری رونی سی شکل بنا کر بولی آپی مجھ سے نہیں پڑھا جاتا۔ اچھا جناب کیوں نہیں پڑھا جاتا ہماری پری سے ۔۔پری اپنی گود سے کتاب ایک طرف رکھتے ہوۓ بولی آپی ماموں کب آئیں گے ۔ایمان آنکھیں سکیڑ کر بولی کیوں تمہیں کیا کام ہے ماموں سے ہممم۔۔۔ پری نظریں چراتے ہوۓ بولی نہیں کچھ بھی نہیں بس ویسےہی پوچھ رہی تھی ۔ ایمان مسکراتی ہوئی پری کے پاس آکر بولی ماموں سے سالار کا تو نہیں پوچھنا ہو گا ۔۔ہے نا۔۔۔ پری اپنی انگلیوں سے کھیلتے ہوۓ بولی میں کیوں پوچھوں گی بھلا میرا کیا کام اس سے اور ویسے بھی خود ہی تو گیا ہے اور تو اور بڑا ہیرو بن کر کہا تھا اس نے انگوٹھی مت اتارنا اس انگوٹھی کا مطلب ہے منگنی ہوئی ہے۔۔اور اپ دیکھیں کتنے دن ہو گۓ خود تو فون تک نہیں کیا ۔ ۔اچھا جی تو اس کا مطلب ہے کے تمہیں انتظار تھا کے وہ فون کرۓ۔۔۔ایمان شرارتی انداز میں بولی تو پری چڑ کربولی آپی مجھے کیوں ہوگا انتظار ۔۔
اچھا تو پھر پڑھو ایمان اس کے سر پر ہلکا سا تھپڑ مارتے ہے بولی ۔۔تو پری رونا شروع ہو گئی ۔اللہ اللہ پری خدا کے لیے زرا سا ہاتھ لگایا ہے دیکھو کیسے رو رہی ہو ایمان اب پریشان ہو کر بولی اور پری کو گلے لگاتے ہوۓ بولی پاگل لڑکی تم نہ بھی بتاؤ اپنی آپی کو پھر بھی میں سمجھ رہی ہوں کے تمہیں کیا مسلہ ہے ۔پہلے تم چپ ہو پھر ایک بات بتاتی ہوں ۔پری آنسو پونچھتی ہوئی بولی کیا بات ہے بتائیں۔۔۔ وہ ماموں حیدر کی کال آئی تھی بتا رہے تھے کے سالار بھائی وہاں لندن ہیں۔۔۔ کیا؟۔۔ پری ایک دم سے بولی وہاں کیا کر رہے ہیں ایسے کیسے ۔۔۔پری نے ایمان کی سوالیہ نظروں کو دیکھ کر اپنا جملہ ادھورا ہی چھوڑ دیا اور بولی ہاں ہاں تو جائیں جہاں دل کرتا ہے جائیں مجھے کیا۔اتنا کہہ کر دوبارہ منہ بنا کر بیٹھ گئی تو ایمان بولی۔چلو پڑھو ورنہ قسم لے لو میں کرنے لگی ہوں فون ماموں کو کے بھیج دیں وہ سالار بھائی کو واپس
۔۔
شگفتہ کمرے میں داخل ہوئی جس نے دروازے سے ایمان کا آخری جملہ سنا تھا سنجیدگی سے بولی ایمان یہ کس قسم کی باتیں کر رہی ہو تم کوئی شرم ورم نہیں ہے ۔عمر کیا ہے تم لوگوں کی اور کیا یہ تربیت کی ہے میں نے کے اس طرح کے فضول مزاق کرو ایک دوسرے سے ۔۔شگفتہ دونوں کی طرف دیکھ کر بولی اب دوبارہ اس قسم کی گفتگو میں نہ سنوں سمجھی ۔
پری کی بات سن کر جیسے سدرہ اور ثناء کو سکتہ ہو گیا تھا ۔ ثناءپری کے چہرے پر آنکھیں جماۓ بولی سچی پری اتنا کچھ ہو گیا ۔اللہ کتنا فلمی سا سب ہے نا ۔۔سدرہ دونوں ہاتھ اٹھا کر آنکھیں بند کر کے بولی ہاۓ اللہ جی ہمارے لیے بھی کوئی ایسا ہی زبردست سا ہیرو بھیج دیں نا پلیز پلیز تاکہ اس پڑھائی سے تو جان چھوٹے۔۔ پری دونوں کی طرف دیکھ کر معصوم سا منہ بناتے ہوۓبولی کیسا ہیرو۔ ہیرو کوئی تھپڑ تھوڑی مارتے ہیں اور غصہ بھی نہیں کرتے ۔ وہ تو بہت سویٹ ہوتے ہیں سالار تو بلکل سویٹ نہیں تھا۔
سدرہ کمر پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولی ۔اچھا جی اس کا تھپڑ یاد ہے تو تم نے کون سا اس کی چومی لی تھی جو وہ تم پے واری واری جاتا تم نے پہلے تھپڑ مارا تھا تو اس نے بھی تو مارنا تھا۔ اور ایک بات یاد رکھنا کوئی مرد تھپڑ نہیں کھاتا۔ سدرہ پھر شرماتے ہوۓ ڈرامائی انداز میں بولی اوراوپر سے ہو بھی ہیرو نہ جی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔
ثناء اپنی گال کے نیچے ہاتھ رکھ کر بولی ہاۓ پری یار نکاح ہوتا ہوتا رہ گیا اور پھر اچانک سے ثناء پری کو گھور کر دیکھتے ہوۓ بولی پری وہ پیپر کیسے تھے جن پر تم نے سائن کئے تھے ۔ اب سدرہ اور ثناء دونوں پری کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔۔ تو پری نے کندھے اچکاتے ہو کہا مجھے نہیں پتہ میں نے دھیان نہیں کیا۔۔۔۔ کیا سدرہ اور ثناء ایک ساتھ بولیں۔۔۔ہاں اس وقت میں ڈری ہوئی تھی ۔ پر میں نے پوچھا تھا تو اس نے کہا کے مجھے جاننے کی ضرورت نہیں۔۔ اللہ پری کتنی لاپرواہ ہو تم اب کیا پتہ کے تم نے کیا سائن کیا ہے ۔سدرہ سر پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولی ۔
پری ناک چڑھاتے ہوۓ بولی اب بس کرو یار چھوڑو اس موضوع کو پہلے ہی آج کا پیپر زرہ بھی اچھا نہیں ہوا ۔
کیا ہے یار سالار مسلہ کیا ہے کیوں اتنا غصہ نکال رہے ہو ورکرز پر اتنی بڑی غلطی تو نہیں تھی۔ لگ جاتا ہے فرق تھوڑا بہت یہ لوگ بھی انسان ہیں ۔ سالار نے پانی کا گلاس اءک ہی بار میں گلے میں اتارا اورتھوڑا پرسکون ہو کر بولا تم جاؤ جا کر ہینڈل کر میں کچھ دیر ریلیکس کرنا چاہتا ہوں ۔ ولی نفی میں سر ہلاتا ہوا چلا گیا ۔۔ سالار لمبی سانس لیتے ہوۓ بولا ایسے تو کام نہیں چلے گا ۔۔حیدر چاچو اس سے تو بہتر تھا کے آپ میری جان لے لیتے ۔
شگفتہ آمنہ کو دیکھ کر مسکراتے ہوۓ اس کے گلے لگی ۔ اور اس کے پیچھے دھیان گیا تو بی جان اور بابا کو دیکھ کر آگے بڑھ کر انہیں سلام کیا سب کو ہال میں بٹھاتے ہوۓ ایمان اور پری کو آواز دی ۔ اور بولی آپ لوگ فون تو کرکے بتاتے کے آ رہے ہیں میں کچھ خاص بناتی آپ لوگوں کے لیے ۔بی جان بولی نہیں بیٹا ٹھیک ہے ۔ ایمان اور پری ہال میں آئی تو ایمان آگے بڑھ کر سب کو ملی پری نے سب کی طرف نظر دوڑائی تو اسے اتنا اندازہ ہو گیا کے کون ہیں تھوڑا ہچکچاتے ہوے آگے بڑھی تو آمنہ جلدی سے کھڑی ہو گئی اور پری کو گلے لگا لیا اسے ماتھے پر پیار کرتے ہوۓ بولی تم واقع ہی پری ہو ۔چوہدری دلاور مسکراتے ہوۓ بولا آؤ ادھر نانا سے نہیں ملو گی پری جو اب بی جان سے مل رہی تھی ۔ان کی طرف مسکرا کر دیکھتے ہوۓ بولی جی نانا ابو کیوں نہیں ۔ ملنے کے بعد چوہدری دلاور نے پری کو پاس ہی بیٹھا لیا۔۔ اور بولے اچھا تو پیپر ختم ہوۓ ۔ پری سر ہلاتے ہوۓ بولی جی نانا جی۔۔۔۔۔۔
آپ لوگ رہ جاتے شگفتہ نے کہا تو بی جان بولیں نہیں پھر سہی ابھی تو ہم بس پری سے ملنے آۓ تھے ۔ سب ملنے کے بعد باہر نکل گۓ تو آمنہ شگفتہ کا تھ پکڑ کر بولی ۔ میرے سالار کے بارے میں دل نرم کرنے کی کوشش کرنا ۔
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں چاچو ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔۔ سالار میز پر ہاتھ مارتے ہوے بولا۔ آپ نے کہا تھا مجھے اس کے پیپرز ہو جانے دوں صبر کروں ۔ اور اس بات کو بھی چھوڑیں ۔ ایک مہینے میں صرف ایک مہینے میں بڑی ہو گئی ان کی بیٹی ایسا کیسے کر سکتی ہیں پھوپھومیں پاکستان جا رہا ہوں بس بہت ہو گیا بہت مان لی میں نے آپ سب کی اب اور نہیں ۔۔سالار غصے میں باہر جانے لگا تو حیدر نے اس کا بازو پکڑ لیا اور بولا سالار پلیز ۔۔سالار حیدر کی طرف دیکھ کر سر ہلاتے ہوۓ بولا چاچو آپ نے سن بھی کیسے لی پھپھو کی بات ۔۔حیدر شرمندہ سا بولا قسم لے لو سالار جو شگفتہ نے بتایا ہو ۔۔۔وہ تو رات کواس کی کال آئی تو اس نے بتایا ۔دیکھو سالار میں کرتا ہو کچھ تم بس اپنے دادا کو ابھی کچھ مت بتانا اور ہاں میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گا پاکستان ۔۔ نہیں چاچو میں اکیلا جاؤں گا ۔کیوں کے آپ لوگوں نے مجھے پھر سے سمجھانے لگ جانا ہے ۔ حیدر اس کا چہرہ دونوں ہاتھو میں پکڑتے ہوۓ بولا سالار جلد بازی مت کرو ۔۔ سالار پیچھے ہٹتے ہوۓ بولا چاچو آپ کے کہنے پر ایک مہینہ پورا ایک مہینہ میں چپ چاپ رہا ہوں اس کا نتیجہ دیکھ لیا آپ نے فرض کریں اگر وہ آپ کو نہ بتاتیں سب کچھ کرنے کے بعد بتاتیں ۔تو تو بولیں کیا کر لیتے آپ پھر مجھے کہتے چھوڑو جانے دو ہم کچھ نہیں کر سکتے۔۔۔ ہیں نا۔۔۔۔۔ سالار نے آنکھیں بند کی اور بولا ویزہ اپ نے لگوایا تھا ان لوگوں کا ۔۔حیدر نے ہمم کہتے ہوۓ سر ہلایا۔۔ تو سالار مسکراتے ہوے بولا بس تو دو دن بس دو دن میں پری یہاں ہو گی ۔۔ چاہے اپنی مرضی سے آۓ یا میری سے۔۔ اب کوئی نہیں روک سکتا اگر روکا تو یاد رکھیے گا سالار کا مرا منہ دیکھیں گے آپ سب لوگ۔۔۔۔۔۔
امی پلیز نہیں پری رونی شکل بنا کر بولی۔۔ شگفتہ جو دو دن سے پری کو منانے کی کوشش کر رہی تھی پھٹ پڑی اور غصے میں پری کی بازو پکڑتے ہوۓ بولی ایک بات دماغ میں بٹھا لو جو فیصلہ میں نے کیا ہے وہی ہوگا سمجھی اور اب کوئی بحث نہیں سنو گی میں ۔۔جلدی سے تیار ہو جاؤ. سب مہمان آتے ہوں گے۔ تمہاری وجہ سے ایمان کے لیے بھی مسلہ ہو گا۔ اور آپنا منہ بند رکھنا کوئی فضول بات نہیں ہونی چاہئے ۔ شگفتہ بات مکمل کر کے جانے لگی تو ایمان بول پڑی امی آپ پری کے ساتھ ٹھیک نہیں کر رہی اگر اس کی مرضی نہیں ہے تو کیوں زبردستی کر رہی ہیں آپ۔۔۔ شگفتہ نے ایمان کی طرف گھور کر دیکھا اور بولی تم اپنا منہ بند رکھو جس بات کی سمجھ نہ ہو اس میں دخل نہیں دیتے۔اور بیوٹیشن کو میں اوپر بھیجنے لگی ہوں ۔ خاموشی سے تیار ہونا اس کے سامنے کوئی بات نہ ہو ۔۔ اتنا کہہ کر شگفتہ کمرے سے نکل گئی۔ پری ایمان کی طرف دیکھ کر سسک کر رونے لگی۔ اور بولی دیکھیں نا آپی امی ایسا کیسے کر سکتی ہیں مجھے نہیں کرنی شادی اس علی سے اس سے تو اچھا سالار ہے اگر شادی ہی کرانی تھی تو اسی سے کروا دیتی اور ابھی جلدی کیا ہے امی کو۔۔ یہ سب سارہ آپی کا کیا دھرا ہے ۔ کیا ضرورت تھی سعد بھائی کے کزنز کا رشتہ بھجوانے کی۔ اور اگر بجھوانا ہی تھا تو صرف آپ کا کرواتی میرا کیوں ۔ایمان پری کو گلے لگا کر بولی ۔ پری دیکھو پہلی بات یہ کے انہوں نے آپی کے نکاح پر ہی پسند کیا تھا ہم دونوں کو اپنے دونوں بیٹوں کے لیے ۔اور دوسری بات یہ کے امی نے ان لوگوں کو ہاں کر دی ہے اور ویسے بھی ابھی تو صرف نکاح ہے رخصتی تو ابھی نہیں ہو گی چھ سات ماہ بعد ہو گی اور ویسے بھی پرپیشان مت ہو دونوں بہنیں ایک ہی گھر جا رہی ہیں تو میں ہوں نا ۔پری ایمان سے پیچھے ہٹتے ہوۓ بولی آپی مجھے علی سے نہیں کرنی شادی پلیز ۔۔۔ایمان نے پری کے آنسو پونچھے اور بولی اچھا تو کس سے کرنی ہے شادی ہممم بولو ۔۔پری اپنی انگلیوں سے کھیلتے ہوۓ بولی آپی سالار اتنا برا بھی نہیں ہے آپ امی سے کہیں نا اگر کرنی ہے تو اسی سے کر دیں میری شادی ۔ اور سچی پوچھیں تو مجھے تو لگتا ہی نہیں کے ان لوگوں کو میں پسند ہوں ۔وہ تو صرف آپ کی باتیں کرتے ہیں ۔۔ایمان سر پکڑ کرچپکے سے مسکرا کر بولی اف پری تم سمجھتی کیوں نہیں اب کچھ نہیں ہو سکتا کچھ گھنٹوں میں نکاح ہے ۔ اور ہاں یہ لو انگوٹھی پہن لو پر کسی کو بتانا مت کے سالار نے دی تھی۔ ایمان مسکراتی ہوئی اٹھی اور واش روم چلی گئی
کہا تھا اکیلا آنا ہے مجھے پاکستان لیکن نہیں آپ دونوں نے لازمی آنا تھا ۔ سالار کی بات سن کر حیدر کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوۓبولا کیسے اکیلا آنے دیتے ہمیں تمہارا پتہ ہے کتنے جذباتی اور غصے والے ہو تم ۔۔۔سالار حیدر کے پاس آکر کھڑا ہوتے ہوے بولا چاچو رات سے آپ لوگوں نے مجھے روکا ہوا ہے۔ پلیز مجھے ان کا پتہ دیں جانا ہے مجھے ۔۔حیدر سالار کو دیکھتے ہوۓ بولا سالار صبر کرو تین بجے کا وقت ہے نکاح کا اور ویسے بھی تمہارے بغیرپری کا نکاح نہیں ہو سکتا مطمین رہو۔۔ سالار حیدر کو گھور کر دیکھتے ہوۓ بولا کیا مطلب۔۔حیدر ماتھا کھجاتے ہوۓ بولا وہ تمہارے پاس پری کے سائن والے پیپرز ہیں نا اس لیے اور ہم لوگ وقت پر پہنچ جائیں گے بس سب کو آ جانے دو ۔ زریاب بھائی سے ہوئی ہے میری بات ۔۔وہ سب کو لے کر آ رہے ہیں تم بس خود کو کنٹرول کرو وہاں جا کر بھی ہم لوگ کریں گے بات کیوں کے ایمان کا بھی نکاح ہے ۔ایسا نہ ہو کے تمہارے اور پری کے معاملے کا اثر اس کے رشتے پر پڑے۔۔۔ ۔سالار بھنویں اٹھا کر بولا ہاں تو ہونے دیں مسلہ میں کیا کروں اس بات کا احساس تو پھپھو کو ہونا چاہیے تھا ۔اور ویسے بھی کوئی مسلہ نہیں ہم ایمان کا نکاح ولی سے کروا دیں گے سالار کی بات سن کر ولی جو پہلے مسکرا رہا تھا ایک دم سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور اسے گھور کر بولا سالار اپنے مسلے حل کرنے کے چکر میں مجھے قربانی کا بکرا مت بناؤ سمجھے ۔اور ویسے بھی میرا ابھی کوئی پلان نہیں شادی کا ۔یہ شادی والی مصیبت مجھے نہیں مول لینی۔ یہ عشق وشق کے چکر تمہیں مبارک۔۔سالار ولی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا میں خود کو بہت تیس مار حان سمجھتا تھا اب دیکھ لو مجھے ایک دن تم بھی کسی سے پیار کرو گے تب پوچھوں گا میں ۔۔۔
ثناء انسان بنو تنگ مت کرو ۔پری اکتاہٹ سے بولی…. ہاۓ پری قسم لے لو یار کتنی پیاری لگ رہی ہو کیوں سدرہ بولو نا بتاؤ اس کو ۔۔سدرہ منہ بنا کر بولی ہممم پر یار پری مجھے تو دال میں کچھ کالا لگ رہا ہے۔ پری نے سدرہ کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو سدرہ بولی دیکھو یہ جو لڑکے والے ہیں ۔ بڑے مشکوک سے ہیں ۔میں ان کے پاس ابھی کچھ دیر بیٹھی ہوں وہ تو صرف ایمان آپی کی ہی باتیں کر رہے ہیں تمہارا تو ذکر بھی نہیں کیا۔ اور جب میں تمہاری بات کرنے لگی تو انٹی شگفتہ نے مجھے غصے سے اوپر بھیج دیا ۔پری تم مانو یا نہ مانو کچھ تو گڑ بڑ ہے ۔ ہاں ہاں ہے گڑ بڑ ۔۔پتا ہے کہاں تمہارے دماغ میں ثناء سدرہ کے سر پر ہاتھ لگاتے ہوۓ بولی تو سدرہ اس کے ہاتھ پر ٹھپڑ مار کر بولی میں سچ کہہ رہی ہوں وہ لوگ تو بار بار ایک ہی بات کہہ رہے ہیں کے چھ سات ماہ بعد رخصتی لیں گے آپی ایمان کی ۔۔۔پری کی رخصتی کا تو ذکر ہی نہیں اور تو اور وہ علی تو مجھے کہیں سے بھی دولہا نہیں لگ رہا ۔۔اور ہے بھی چھچھورا سا۔۔۔شوخہ سا ہے ۔مجھے تو زرہ پسند نہیں آیا۔ سدرہ نے برا سا منہ بنا کر کہا۔ اوووو تمہیں پسند نہیں آیا تمہاری پسند پوچھی کس نے ہے۔۔ثناء مزاق اڑاتے ہوۓبولی تو سدرہ پاؤں پٹھ کر کمرے سے نکل گئی۔۔۔
سالار تم ولی کے ساتھ ادھر اس کمرے میں بیٹھو باہر مت آنا ۔ایمان کے سسرال والے ہیں ابھی ہم لوگ مل لیں بعد میں تمہیں بلاتے ہیں ۔زریاب دونوں کو کمرے میں لے جا کر بولا۔۔سالار بالوں میں ہاتھ مارتا ہوا صوفے پر بیٹھ گیا۔اور ولی جو مسلسل فون پر مصروف تھااس کی طرف دیکھ کر بولا ولی کیا مسلہ ہے میں کافی دنوں سے دیکھ رہاہوں تم کسی مسلے میں الجھے لگتے ہو ایسا لگتا ہے جیسے کوئی پریشانی ہے ۔ولی فون جلدی سے جیب میں رکھتے ہوۓ بولا نہیں یار کچھ نہیں ۔کچھ خاص نہیں ۔۔
سدرہ کچن کے دروازے میں کام والی ماسی کے ساتھ کھڑی سب کو ملتا دیکھ کر بولی ماسی یہ لوگ تو ایسے مل رہے ہیں جیسے بڑی خوشی چڑھی ہو ۔انہیں تو دکھی ہونا چاہیے کے پری کی ان کے بیٹےکی بجاۓ کسی اور سے شادی ہو رہی ہے ۔پر نہیں جی دیکھو تو کتنے بے حس لوگ ہیں اور ادھر دیکھو ہماری پری بیچاری رو رو کر پاگل ہو گئی ہے ۔کام والی جس کی عمر تقریباً پنتالیس برس کے قریب تھی سدرہ کی طرف دیکھ کر مسکرائی اور بولی کچھ دیر انتظار کرو بیٹا تمہیں سب سوالوں کے جواب مل جائیں گے اور ہاں ایک بات بتاؤں۔اگر وعدہ کرو کے کسی کو نہیں بتاؤ گی ۔۔سدرہ نے سر ہلایا توکام والی بولی ۔۔وہ جو باہر کی طرف کمرہ ہے نا اس کمرے میں پتہ ہے کون ہے سدرہ نے سوالیہ نظروں سے کام والی کو دیکھا تو کام والی مسکرا کر بولی سالار صاحب ہیں وہاں وہ بھی آۓ ہیں
سدرہ کو تو جیسے بجلی کا جھٹکا لگا حیرت سے اچھل کر بولی قسم سے
آپ سچ کہہ رہی ہیں۔۔ اللہ اللہ کیسے لوگ ہیں اللہ معاف کرے بے حس لوگ ابھی سیدھا کرتی ہوں اس سالار کے بچے کو اتنا کہہ کر سدرہ باہر کے کمرے کی طرف بڑھی تو کام والی گھبرا کر بولی نہیں بی بی خدا کے لیے ۔پر سدرہ اس کا جملہ پورا ہونے سے پہلے ہی جا چکی تھی۔
کمرے کا دروازہ زور دار دھماکے سے کھلا تو ولی نے چونک کر دیکھا تو ایک لڑکی کالے رنگ کی فراک پہنے غصے میں اندر داخل ہوئی اور ولی کے سامنے کمر کے دونوں طرف ہاتھ رکھتے ہوۓ۔سر سے لے کر پاؤں تک دیکھ کر بولی ۔۔ہممم تو تم ہو سالار ۔۔۔۔۔ولی ایک ٹک اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا جب سدرہ نے ولی سے نظر ملائی اور بھنویں اٹھا کر دوبارہ کہا تم سالار ہو۔۔۔ ولی سدرہ کی آنکھوں میں خاموشی سے کوئی جواب دئیے بغیر دیکھ رہا تھا ۔اسی وقت واش روم سے نکلتے سالار نے جواب دیا میں ہوں سالار کیا بات ہے ۔ سدرہ سالار کی آواز سن کر جلدی سے اس کی طرف پلٹی ۔۔تو سالار چلتا ہوا ولی کے پاس آکر کھڑا ہوتے ہوۓ بولا میں سالار ہوں اور یہ میرا دوست ولی ہے۔ بولیں کیا کام ہے ۔۔ سدرہ سالار سے مخاطب ہو کر بولی ۔اچھا تو آپ جناب ہیں سالار اعظم 
ولی جو سدرہ کو ہی دیکھ رہا تھا وہ سدرہ کے الفاظ پر قہقہ لگا کر ہسااور سالار کی طرف دیکھ کر ہسی دباتے ہوۓ بولا سسالااارےےے اعظمممم واااوووو کیانام دیاہے جی
زبردست۔۔۔سدر غصے سے ولی کی طرف دیکھ کر بولی منہ بند کرو سمجھے بڑی شوخیاں چڑھ رہی ہیں تمہیں۔۔ ولی خیرت سے سدرہ کی طرف دیکھ کر بولا تمیز سے بات کرو ۔۔سدرہ طنزیہ ہستے ہوۓ بولی فِل حال اپنی تمیز کا بھاشن اپنے پاس ہی رکھو ۔مجھے تم سے نہیں ان حضرت سے بات کرنی ہے ۔اتنا کہہ کر سدرہ سالار کی طرف دیکھ کر بولی۔ تم ادھر کھڑے کیا کر رہے ہو ہممم باہر جب پری کا اس چھچھورے علی کے ساتھ نکاح ہو جاۓ گا تب باہر آ کر کیا وہ گانا گانے کا ارادہ ہے ( میرے یار کی شادی ہے۔) ہمم یہاں تمہاری مسکراہٹیں ختم نہیں ہو رہیں ۔اور دوست کے ساتھ مل کر مسخرا پن کیۓ جا رہے ہو ۔کوئی ارادہ ہے پری سے شادی کا یا نہیں ۔۔سالار سدرہ کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوے بولا کون ہو تم ۔۔سدرہ اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر بولی لو جی کتنا ٹائم ہے اس بندے کے پاس ۔۔دوست ہوں میں پری کی بس اب ان باتوں کو چھوڑو اور بتاؤ کیا کرنا ہے اس کے نکاح کا گواہ بنا ہے یا نکاح کرنا ہے اس سے۔۔ کس پروگرام میں ہو ۔سالار سدرہ کی بات سن کر ایک آبرو اٹھا کر بولا تمہیں کیا لگتا ہے مجھے کیا کرنا چاہیے۔۔ سدرہ آنکھیں پھاڑ کر دیکھتے ہوۓ بولی مطلب یہ بھی میں بتاؤں ۔سالار نے مسکرا کر سر ہالایا۔۔تو سدرہ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ ولی کی طرف ایک نظر دیکھ کر سالار سے مخاطب ہو کر بولی کوئی عقل مند دوست بناتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ۔ولی ایک دم سے چونک کر بولا کیا مطلب ہے ہاں مطلب کیا ہے تمہارا۔۔سدرہ ولی کی طرف دیکھ کر بولی وہی مطلب جو تم سمجھے ہو ۔ سالار جلدی سے ان کے درمیان آتے ہوۓ بولا ۔دیکھو لڑکی تم کیا چاہتی ہو کھل کر بات کرو ۔۔سدرہ لمبی سانس لے کر بولی پہلی بات میرا نام لڑکی نہیں سدرہ ہے اور دوسری بات تم یہ نکاح کیسے ہونے دے سکتے ہو ۔۔سالار صوفے پر بیٹھتے ہوۓ بولا ۔دیکھو بڑے سب اندر گئے ہیں بابا اور دادا جی۔۔وہ نکاح نہیں ہونے دیں گے۔۔ وہ مجھے اندر آنے سے روک کر گۓ ہیں کے سارا معاملہ وہ سنبھال لیں گے۔۔ سدرہ آنکھیں سکیڑ کر دیکھتے ہوۓ بولی مجھے تو نہیں لگتا وہ لوگ تو اندر جا کر دلہے والوں سے ایسے مل رہے ہیں جیسے میلے میں بچھڑے بہن بھائی سالوں بعد ملتے ہیں۔ سالار داڑھی کھجاتے ہوۓ بولاکیا مطلب ۔۔سدرہ اس کے پاس صوفے پر بیٹھتے ہوۓ بولی سالار بھائی سچی پوچھیں تو مجھے تو کچھ گڑ بڑ لگ رہی ہے دال میں کچھ کالا ہے۔۔نہیں نہیں بلکے پوری دال ہی کالی ہے ۔
۔سدرہ پرسوچ انداز میں بولی ۔تو سالار سدرہ کی بات پر مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولا ۔کوئی بات نہیں میری یہ بہن ہے نا اب ہم دونوں بہن بھائی مل کر دال صاف کرتے ہیں کیا کہتی ہو۔ سدرہ سالار کی بات سن کر کھلکھلا کر ہسی اور بولی آپ فکر مت کریں میں اندر جاتی ہوں اور کوئی حل نکالتی ہوں ۔۔ اور پری کو بتاتی ہوں کے اس کا ہیرو آگیا ہے ۔سدرہ اتنا کہہ کر اٹھی اور جاتے ہوۓ ولی کو دیکھ کر بولی ۔دوسروں کو تو بڑی تمیز سیکھاتے ہو خود بھی تھوڑی استعمال کر لو کے اس طرح گھور کر دیکھنا کتنی بری عادت ہے اور اس عادت کی وجہ سے اکثر دانتوں کا نقصان ہو جاتا ہے۔۔سدرہ بات مکمل ہونے تک کمرے سے باہر جا چکی تھی اور ولی ہکا بکا دروازے کی طرف دیکھ کر بولا کتنی منہ پھٹ لڑکی ہے ۔زرا ڈر نہیں اسے ۔سالار قسم سے ہر بات کا جواب ہے اس لڑکی کے پاس ۔
شگفتہ مسکراتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی اور سالار کو انگلی کے اشادے سے اپنے پاس بلایا اس کے ماتھے پر پیار کیا اور گلے سے لگا کر بولی پھپھو کی جان سالار نے خیرت سے پیچھے کھڑی بی جان کو دیکھ کر اشارہ سے پوچھنے کی کوشش کی تو بی جان نے مسکرا کر سر ہلایا۔ شگفتہ سالار کا چہرا اپنے ہاتھوں میں لے کر بولی تم نے اتنی من مانی کی تو کیا میرا حق نہیں بنتا تھا تمہیں تھوڑا تنگ کرنے کا ۔۔اتنا کہہ کر شگفتہ نے ہاتھ میں پکڑا بیگ سالار کو پکڑایا اور بولی لو یہ کپڑے پہن لو تاکہ پتہ چلے کے تم دلہا ہو۔۔سالار خیرت سے بولا کیا ۔۔شگفتہ ہستے ہوۓ بولی ہاں تمہارا اور پری کا نکاح ۔۔سالار سب کی طرف دیکھ کر دوبارہ شگفتہ کی طرف دیکھ کر بولا پھپھو آپ مان گئی۔ شگفتہ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوے بولی ۔سالار پری اور تمہارا ہی نکاح ہونا تھا ۔بس ہم لوگوں نے تم دونوں کو تھورا تنگ کیا ہے ۔۔ اب کی بار سب کھل کر ہسے تو سالار کو اندازہ ہوا کے سب ملے ہوۓ تھے ۔سالار ولی اور حیدر چاچو کی طرف دیکھ کر بولا اپ دونوں بھی جانتے تھے ۔ حیدر اور ولی نے مسکراتے ہوۓ سر ہلایا۔ اور اگے بڑھ کر باری باری گلے لگاتے ہوے بولے ۔بتا دیتے تو اتنا مزہ کیسے آتا۔اور ویسے بھی ایک ماہ کا وعدہ تھا کیسے پورا نہ کرتا
حیدر سالار کو پیار کرتے ہوۓ بولا۔
نکاح کے بعد ایمان کے سسرال والے چلے گۓ ۔ تو زریاب بولا شگفتہ اب ہمیں بھی چلنا چاہیے ۔ نہیں بھائی ابھی رکیں چاۓ بن رہی ہے پی کر جائیں۔ اتنی دیر میں بچے بھی تھوڑی بات چیت کر لیں اتنا کہہ کر شگفتہ سالار کی طرف دیکھ کر بولی ۔جاؤ بیٹا پری اور ایمان اوپر ہیں ۔ اتنا کہہ کر سیڑھیوں سے اترتی سدرہ کو دیکھ کر شگفتہ نے اسے آواز دے کر بلایا اور بولی سدرہ بیٹا سالار اور ولی کو اوپر لے جاؤ۔ سالار اور ولی اٹھ کھڑے ہوۓ ۔تو سدرہ سب کی طرف دیکھ کر بولی ویسے میری بات کا برا مت منائیے گا آپ سب لوگ ۔۔ایک بات ہے بڑا ہی ڈرامے باز خاندان ہے آپ لوگوں کا قسم سے اتنا ڈرامہ تو ڈراموں میں بھی نہیں ہوتا۔۔۔سب کے سب سدرہ کو خیرت سے دیکھنے لگے ۔تو سدرہ شرمندہ سی ہو کر بولی میں نے پہلے ہی کہا تھا برا مت منانا آپ لوگ۔۔سوری کہہ کر اس نے سیڑھیوں کا روح کیا ۔سدرہ کمرے کے باہر ہی سالار کو روک کر بولی ۔ایک بات تو بتائیں بھائی آپ نے پری سے کن پیپرز پر سائن کرواۓ تھے۔ سالار سدرہ کا تجسس دیکھ کر ہستے ہوۓ بولا تم بہت زیادہ بے صبری ہو ۔۔۔سدرہ دروازے کے آگے بازو پھیلا کر کھڑے ہوتے ہوۓ بولی بتائیں گے تو اندر جانے دوں گی ۔اچھا اندر جانے دو پھر پری کے سامنے بتاتا ہوں۔
سدرہ کچھ سوچ کر بولی ٹھیک ہے چلیں ۔۔
اللہ اللہ سالار بھائی کتنے تیز ہیں آپ اور کتنی بےوقوف ہوتم پری سوچے سمجھے بغیر ہی میرج سرٹیفکیٹ پر سائن کر دئیے۔ اس کا تو مطلب یہ ہوا کے۔۔ابھی سدرہ نے بات مکمل نہیں کی تھی کے ایمان اور ثناء اسے ایک ایک بازو سے پکڑ کر کھینچتے ہوۓ باہر ٹیرس پر لے گئی۔ تو ولی مسکراتا ہو ان کے پیچھے چل دیا۔سالار پری کے پاس بیٹھا اور اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں لے کر بولا ۔تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو ۔ مجھے پتہ نہیں تھا ورنہ تمہارے لیے کوئی گفٹ ضرور لاتا۔ اس لیے گفٹ ادھار رہا۔ پری نے نظر اٹھا کر سالار کی طرف دیکھا اور بولی آپ وقت پر آگۓ تھے بس یہ ہی بہت ہے۔ سالار نے مسکراتے ہوۓ۔ پری کو گلے سے لگایا اور بولا پاگل لڑکی آتا کیسے نہیں۔
اف ثناء کیا مسلہ ہے ۔سدرہ منہ بناتے ہوے بولی۔ مسلہ تمہاری زبان ہے جو بند ہونے کا نام نہیں لیتی اور میری ایک بات لکھ کر رکھ لو سدرہ تم اپنی زبان کی وجہ سے مرو گی۔ جو منہ میں آتا ہے بولتی چلی جاتی ہو ۔ سدرہ کا دھیان پاس کھڑے ولی پر پڑا جو اسے ہی دیکھ کر مسکراۓ جا رہا تھا ۔سدرہ انگلی اس کی طرف کرتے ہوۓ بولی تھوڑی دیر اور تم نے مجھے دیکھا تو قسم لے لو تمہاری دونوں آنکھیں نکال کر ان سے بنٹے کھیلوں گی۔ولی اپنی ناک کھجاتے ہوۓ شرارتی انداز میں بولا اچھا تو میری آنکھیں اتنی پسندآگئی ہیں ۔۔سدرہ
منہ بگاڑ کر بولی ہا پسند۔۔۔ زرہ خوش فہمیاں تو دیکھو ۔۔۔جاؤ جا کر دس بارہ دفعہ منہ دھو کر آو اتنی خوش فہمیاں ہیں جناب کو۔ اس سے آگے وہ کچھ اور کہتی اس سے پہلے اس کا فون بج پڑا تو سدرہ نے جلدی سے اٹھا کر کان کے ساتھ لگایا اور اچھا کہہ کر بند کر دیا۔ اور اٹھ کر کھڑی ہوتے ہوۓ بولی میں چلتی ہوں۔ حمزہ آگیا ہے لینے۔ اور ثناء کوئی آۓ گا لینے یا چلو ہم لوگ راستے میں ڈراپ کر دیں گے ۔ ثناء بھی اتھتے ہوۓ بولی ہاں ہاں تمہارے ساتھ ہی جانا ہے ۔۔
سالار سب جانے کے لیے بلا رہے ہیں ولی دروازے سے آواز دے کر مڑ گیا ۔سالار پری کا ہاتھ پکڑ کر کمرے سے باہر آتے ہوے بولا ۔ابھی میں جا رہا ہوں انشاء اللہ چھ ماہ بعد تمہیں ساتھ لے جانے کے لیے آؤں گا ۔ اور جب میں کال کروں میری کال اٹھا لینا۔ سالار مڑ کر پری کی طرف دیکھ کر بولا میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کے ایک مکمل خوشحال زندگی دینے کی پوری کوشش کروں گا ۔یہ وعدہ ہے میراتم سے۔۔۔
