Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pari by Imama Nadeem Episode02

Pari by Imama Nadeem Episode02

جنت خدا کے لیے بس کر دو گیارہ بج رہے ہیں ۔اور اگر سونا ہی ہے تو کمرے میں جا کر سو۔لیوینگ روم کی صفائی کرنی ہے ۔ یار اتوار کا مطلب یہ تو نہیں کہ پورا دن سو کے گزارو۔ایمان جنت کو کندھے سے ہلاتے ہوے بولی مگر مجال تھی کہ جنت ٹس سے مس بھی ہوئی ہو۔ شگفتہ لیوینگ روم میں آتے ہوئے بولی ایمان چھوڑ دو بیٹا سونے دواسے تم نے جھاڑو فرش سے لگانا ہے صوفے سے نہیں۔میں چھت پرسارہ کے ساتھ کپڑے دلوانے جا رہی ہوں۔ اور ہاں دروازے کا خیال رکھنا تمہارے ابو آتے ہوں گے ۔بیل بجے تو کھولنا اور ہاں وہ تمہارے ابو کے کوئی دوست آنے ہیں اگر وہ آئیں تو انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھانا۔ اور مجھے آواز دے دینا۔ ٹھیک ہے۔ جی امی ٹھیک ہے۔ ایمان صفائی کرتے ہوئے بولی ۔
💖💖💖💖💖💖🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
ولی یہ سکیورٹی گارڈ کس لیے ۔سالار نے بھنویں اٹھاتے ہوئے پوچھا ۔ولی گاڑی میں بیٹھتے ہوۓ بولا سالار صاحب جس علاقے میں ہم جا رہے ہیں ہاں کسی کے گھر بن بلاۓ جاؤ اور جاکر مسلہ کرو تو محلہ اکٹھا ہو جاتا ہے۔اور جو کچھ تم کرنے جا رہے ہو وہ اپنے آپ میں سب سے بڑا مسلہ ہے۔باقی اللہ خیر ہی کرے۔ولی نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے نظر ترچھی کر کے سالار کو دیکھا۔ جو سنجیدہ انداز میں اسی کو گھور رہا تھا۔کیا مسلہ کس بات کا مسلہ ہاں بولوسالار نے اپنی دونوں بھنوں کو ملاتے ہوۓ کہا۔
ہاں ہاں کوئی مسلہ نہیں جاؤ جاؤمرضی کرو اپنی ۔ اب کی بار ولی نے سالار کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا۔ اور خاموش ہو گیا ۔کیونکہ اسے معلوم تھا کہ سالار سے بحث کا کوئی فائدہ نہیں تھا ۔
💖💖💖💖💖💖💖💖🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
جنت اٹھو دروازہ کھولو ۔کب سے بیل بج رہی ہے ۔ابو ہوں گے۔ ایمان نے واش روم سے سر نکال کر جنت کو کہا۔ جنت غصے سے آنکھیں ملتی ہوئی بڑبڑاتی اٹھی یہ بابا جانی نہیں ہو سکتے ۔بابا ایسے جاہلوں کی طرح بیل پر ہاتھ نہیں رکھ لیتے ۔اور یہ جو بھی ہے اس کا توجوہاتھ بیل پر ہے کاٹ کر اسی کے دوسرے ہاتھ میں پکڑاؤں گی میں۔ اتنا کہتے ہوئے جنت نے غصے میں دروازہ کھولا ۔اور نا آؤ دیکھا نہ تاؤ اور سامنے کھڑے سالار اور ولی پر برس پڑی تم لوگوں کو کوئی تمیز شمیز نہیں ہے۔اور تمیز کو چھوڑو عقل بھی نہیں ہے۔ کہ بیل ایک دفعہ دو دفعہ اور بہت ہی آگ لگی ہو تو تین دفعہ بجاتے ہیں اور پھر صبر کرتے ہیں۔صبر نہیں ہو تو وہاں سے دفعہ ہو جاتے ہیں۔ جنت نے سارا غصہ ایک ہی سانس میں نکالتے ہوئے کہا تو ولی منہ پر ہاتھ رکھ کر ہسنے لگا۔اور سالار مسکراتے ہوئے جنت کو سر سے پاؤں تک دیکھتا ایک قدم آگے کو لیتے ہوئے بولا تمہارا دوپٹہ کہاں ہے۔ سالار کو ایک قدم آگے ہوتا دیکھ کر جنت دو قدم پیچھے ہوئی ۔اور ابھی وہ کچھ بولنے ہی لگی کہ سالار ایک قدم اور بڑھا کر اندر آتے ہوئے بولا اور تمہاری تمیز کہاں گئی پوچھے بغیراس حالت میں دروازہ کیوں کھولا ۔ سالار جنت کی حالت دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ وہ سوئی اٹھ کر آئی ہے۔جنت ایک دفعہ ولی اور دوسری دفعہ سالار کو آنکھیں سکیڑ کر دیکھتے ہوئے اور شہادت کی انگلی ان دونوں کے آگے لہراتے ہوۓ بولی اوووو ہیلو کدھر گھسے آ رہے ہو اور چلو نکلو نکلو اب وہ ہاتھ کے اشارے سے انہیں باہر جانے کو کہہ رہی تھی تبھی سالار نے اس کے اسی ہاتھ کی کلائی کو پکڑ کر غصے سے آپنی طرف کھینچا تو جنت لڑکھڑاتی ہوئی اس کے سینے سے ٹکرائی اور سیکینڈ سے پہلے سنبھلتی ہوئی آپنے دوسرے ہاتھ سے اس کے سینے پر مرتے ہوئے غصے سے بولی چھوڑو میرا ہاتھ ورنہ منہ توڑ دوں گی تمہارا ۔سالار جس سے کبھی کسی کی جرات نہیں تھی کہ آنکھ اٹھا کر بات کرۓ اور یہاں یہ چھوٹی سی لڑکی مسلسل بدتمیزی کئے جا رہی تھی۔ولی جلدی سے آگے بڑھا اور بولا سالار چھوڑو اسے۔ سالار نے کھا جانے والی نظروں سے ولی کو دیکھا اور کہا تم درمیان میں مت بولو ۔ولی نفی میں سر ہلاتا ہوا پیچھے ہو گیا۔ سیڑھیوں سے اتر تی ہوئی سارہ اور شگفتہ نے سامنے جو سین دیکھا تو ان کے تو جیسے پاؤں کے نیچے سے زمین ہی نکل گئی ۔شگفتہ بھاگتی ہوئی آئی اور سالار کو دھکا دیتے ہوئے جنت کا ہاتھ سالار کے ہاتھ سے چھڑواتے ہوئے بولی کون ہو تم تمہاری جرت کیسے ہوئی میری بیٹی کا ہاتھ پکڑنے کی ۔نکلو میرے گھر سے اس سے پہلے کہ میں پولیس کو فون کروں ۔اب سالار نے غصے سے اپنی ویسکوٹ کے نیچے ہولسٹر سے ریوالور نکال کر شگفتہ کے ماتھے پر ٹکاتے ہوئے کہا میں جس کام سے آیا ہوں وہ کر کے جاؤں گا ۔ریوالور دیکھ کر سارہ اور جنت کے منہ سے چیخ نکل گئی ۔ولی سالار کو روکنے کے لیےجلدی سے آگے بڑھنے لگا تو سالار نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔ جبکہ جنت اب ڈر کے شگفتہ کے پیچھےچھپ گئی اور سارہ سیڑھیوں کے پاس ہی منہ پر ہاتھ رکھ کر سکتے میں ہو گئی۔ ایمان جو ابھی ابھی کپڑے بدل کر باہر نکلی ماں کے سر پر ریوالور دیکھ کر اس کے منہ سے چیخ نکل گئی ۔اور پاس ہی کھڑی سارہ کا خوف سے ہاتھ پکڑ لیا۔شگفتہ نے سالار کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کیا چاہتے ہو تم ۔تو سالار مسکرا کر بولا بتاتا ہوں اور ولی کو اشارے سےپاس بلا کر ریوالور پکڑاتے ہوئے شگفتہ کی طرف آنکھ سے اشارہ کرتے ہوۓبولا سنبھالو انہیں اور آگے بڑھ کر ماں کے پیچھے چھپی جنت کو بازو سے پکڑ کر آپنی طرف کھینچا اور غصے سے بولا ہاتھ سامنے کرو جنت جو پہلے ہی ریوالور دیکھ کر خوف سے کانپ رہی تھی اب سسکیاں لے کر رونے لگئ۔ پلیز میری امی کو کچھ مت کہنا وہ خوف سے کانپ رہی تھی ۔سالار دانت بیچتے ہوۓ بولا میں نے کہا ہاتھ آگے کرو ۔سالار کا غصہ دیکھ کر جنت نے کانپتا ہو ہاتھ آگے کو بڑھایا ۔ سالار نے جیب سے انگوٹھی نکالی اور جنت کا ہاتھ پکڑ تے ہوئے اس کی انگلی پر پہنا دی جو اس کی انگلی پر فٹ آئی۔اب سالار نے جنت کو بازو سے پکڑ کراپنے قریب کیا اور اس کے کان کے پاس جا کر بولا ۔نمبر ون۔مجھے بدتمیزی بلکل پسند نہیں ۔ نمبر ٹو۔ مجھے بات دھرانا پسند نہیں ۔ نمبر تھری ۔یہ انگوٹھی غلطی سے بھی تمہاری انگلی سے اترنی نہیں چاہیے اگر اتری تو یاد رکھنا میں تمہاری انگلی کاٹ دوں گا سمجھی ۔جنت نے خوف سے سر ہلایا۔ تو سالار بولا کیوں زبان کوئی کاٹ کر لے گیا ہے۔ابھی تو تھوڑی دیر پہلے بڑی چل رہی تھی۔تو جنت کانپتی ہوئی آواز میں بولی ج ج جی۔سالار نے ایک لمبی سانس لی اور اس کی خوشبو سانسوں میں اتارتے ہوئے پیچھے کو ہٹا اور شگفتہ کی طرف دیکھتے ہوۓ بولا میں اگلی دفعہ اپنے گھر والوں کے ساتھ آؤں گا۔ اتنا کہہ کر اس نے ایک آخری نظر جنت پر ڈالی اور ولی کو چلنے کا اشارہ کرتے ہوئے باہر نکل گیا۔ ولی نے ریوالور نیچے کیا اور سر کو جھکا کر سوری بولتا ہوا گھر سے نکل گیا ۔ شگفتہ وہی فرش پر گھٹنوں کے بل گر پڑی اور رونے لگی تینوں لڑکیاں بھاگ کر ماں کے پاس آئیں اور سسکیاں لے کر رونے لگیں ۔شگفتہ نے جنت کی طرف دیکھ کر پوچھا کون تھا یہ۔جنت نے معصومیت سے ماں کی طرف دیکھتے ہوۓ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ کہا مجھے نہیں پتا امی۔ شگفتہ نے بیٹی کا خوفزدہ چہرہ دیکھا اور آپنی آنکھیں زور سے بھینچ لی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس کی بیٹی سچ بول رہی ہے۔ابھی شگفتہ کچھ بولنے ہی لگی تھی کہ دس بارہ سال کا بچا بھاگتا ہوا اندر آیا اور لمبی لمبی سانس لیتے ہوۓ بولا خالہ خالہ وہ وہ چاچا احمد کو پتا نہیں کیا ہو گیا ہے جلدی آئیں۔
💖💖💖💖💖💖💖💖🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
ولی گاڑی میں بیٹھتے ہی پھٹ پڑا یہ کیا طریقہ تھا سالار۔ سالار کسی گہری سوچ میں ڈوباگاڑی چلا رہا تھا اور ولی آگ بھگولہ ہورہا تھا۔ سالار نے ولی کی طرف دیکھا اور بولا یار ولی جنت کی ماں شگفتہ انٹی ان کو میں نے کہیں دیکھا ہے پہلے کہاں دیکھا ہے یاد نہیں آرہا۔ولی ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ غضب ناک انداز میں بولا ہاں ہاں ہزاروں کی تعداد میں تو گرل فرینڈز رہی ہیں جناب کی ہو سکتا ہے انہی میں سے ہو کوئی سالار نے ولی کو دیکھے بغیر سنجیدگی سے کہا بکواس بند کرو ۔ولی نے گاڑی چلاتے سالار کا کالر پکڑتے ہوۓ کہا تم نے یہ جو حرکت کی ہے انتہائی غلط تھی ۔مجھے پتہ ہوتا تو قسم لے لو میں کبھی تمہارے ساتھ نہ جاتا بلکہ بی جان کو فون کر کے پہلے ہی سب بتا دیتا۔ سالار نے بی جان کا نام سن کر ولی کی طرف دیکھا اور بولا حویلی جا رہے ہیں ہم۔ میں خود بی جان کو خوشخبری دوں گا۔ولی سالار کی بات سن کر دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر رہ گیا۔🌹🌹
💖💖💖💖💖💖💖💖💖🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
ایمرجنسی روم کے باہر سعد. ایمان اور جنت کو ساتھ لگاۓ چپ کروانے کی کوشش کر رہا تھا اور تعظیم , شگفتہ اور اپنی بہو سارہ کو تسلی دے رہی تھی۔ ایمرجنسی روم کا دروازہ کھولا تو سب بھاگ کر ڈاکٹر کے پاس پہنچے تو شگفتہ جلدی سے بولی ۔ڈاکٹر صاحب کیسے ہیں ۔احمد ڈاکٹر نے شگفتہ کو دیکھتے ہوے پوچھا کیا رشتہ ہے آپ کا مریض سے تو وہ ایک دم سے بولی بیوی ہوں میں ان کی۔ سعد کی طرف دیکھ کر ڈاکٹر نے پوچھا آپ کیا لگتے ہیں مریض کے ۔توسعد بولا ۔داماد ہوں میں ۔ٹھیک ہے آپ دونوں میرے ساتھ آئیں ۔ڈاکٹر یہ کہتا ہوااپنے کیبن کی طرف چل پڑا ۔شگفتہ پر تو جیسے کوئی پہاڑ گر گیا تھا ڈاکٹر کی بات سن کر۔وہ روتے ہوۓ بولی ڈاکٹر صاحب اس کے علاوہ اور کوئی تو حل ہو گا ۔دیکھیں بی بی سرجری کے علاوہ اور کوئی حل نہیں ہے اگر جلد از جلد مریض کے دل کی سرجری نہ ہوئی تو ان کی زندگی کی کوئی گارنٹی نہیں۔ اب کی بار سعد بولا ڈاکٹر صاحب سرجری میں کوئی ریسک تو نہیں ہے ۔ڈاکٹر دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولا دیکھیں میں اپ سے کوئی بات نہیں چھپاؤں گا ۔صاف صاف بات یہ ہے کہ سرجری میں فیفٹی فیفٹی چانس ہیں ۔مریض کے سروائیو کرنے کے۔یہ سن کر شگفتہ دونوں ہاتھ سینے پر رکھ کر سسک کر رونے لگی سعد شگفتہ کو بازوں میں بھر کر ساتھ لگاتے ہوۓ بولا امی مت روئیں۔ اللہ سب خیر کرے گا۔شگفتہ آنسو پونچھتے ہوۓ بولی سعد ان تینوں کو مت بتانا بیٹا۔ سعد سر ہلاتے ہوۓ بولا جی اچھا اور ڈاکٹر سے مخاطب ہوتے ہوۓ بولا سر ہم مشورہ کر کے بتاتے ہیں۔ ٹھیک ہے۔آپ مشورہ کر لیں لیکن جلدی ۔
💖💖💖💖💖💖💖🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
حویلی کےگیٹ پر کھڑے گارڈ نے سالار گی گاڑی آتی دیکھ کر بھاگ کر گیٹ کھولا اور جھک کر اشارے سے سلام کیا۔ سالار اور ولی نے جواب میں گردن ہلائی۔ سالار نے گاڑی کار پورچ میں کھڑی کی اور ولی کی طرف مسکراتے ہوۓ دیکھ کر بولا یار ولی اب بس بھی کرو۔ اتنا غصہ تو جنت اور اس کے گھر والوں کو نہیں ہو گا۔ جتنا کل سے تم کئے جا رہے ہو۔ ولی کوئی جواب دئیے بغیر گاڑی سے نکلا تو سالار بھاگ کر اس کے سامنے کھڑا ہوتے ہوئے بولا ۔کیا مسلہ ہے یار سالار نے اپنے دونوں ہاتھ ولی کے کندھوں پر رکھے اور بولا تمہیں تو خوش ہونا چاہیۓ ۔تم ہی سب لوگ پیچھے پڑے تھے کہ شادی کرو ۔اب اگر کرنے کا سوچا ہے تو شکل دیکھو کل سے ایسے بنائی ہے جیسے کوئی مر گیا ہو۔ولی نے سالار کے ہاتھ اپنے کندھوں سے ہٹاۓ اور بولا سالار ایسے انسان سے بات کرنا فضول ہے جس کو اپنی غلطی کا احساس نہ ہو۔ اور تم یہ ہی کر رہے ہو تمہیں اپنی غلطی محسوس ہی نہیں ہو رہی۔ اور مجھے چھوڑو میرا کیا ہے اندر چلو ۔ولی نے سر اٹھا کر ساری حویلی کو دیکھا اور بولا اس حویلی میں تمہیں شاباشی دینے والے بہت ہیں ۔جاؤ بتاؤ ان کو کہ ان کا شیر بہت بڑا کارنامہ سر انجام دے کر آیا ہے۔ لیکن ایک بات میں بتاؤ ۔بہت مشکل بنا لی ہے تم نے اپنے لیے تمہیں بہت آسان لگ رہا ہے نا کہ انگوٹھی پہنا لی بس لڑکی تمہاری تو ایک بات دماغ میں بٹھا لو اب وہ لوگ اپنی بیٹی کی شادی ہر گز تم سے نہیں کریں گے ۔کیونکہ غنڈوں کی طرح سر پر ریوالور رکھ کر منگنی کرنے والے داماد کوئی نہیں بناتا ۔سالار نے غصے سے ولی کو کالر سے پکڑ ا اور بولا وہ کیا ان کے فرشتے بھی دیں گے اپنی بیٹی اور اگر نہیں تو اٹھا کر لے آؤ گا سمجھے اور تم اپنا منہ بند رکھو ۔ولی سالار کو غصے سے دھکا دیتے ہے بولا ہاں تو چپ ہی تھا کل سے تم نے ہی بلایا ہے۔ اور ہاں ایک بات یاد رکھنا جہاں جہاں تم غلط کرو گے میں ضرور ٹوکوں گا چاہے تمہیں اچھا لگے یا برا۔ ولی غصے میں اندر چلا گیا ۔سالار نے تیوری چڑھائی اور اس کے پیچھے ہی اندر چل پڑا.ولی اور سالار کو آتا دیکھ کر آمنہ خوشی سے پاگل ہو تی ہوئی بولی میرے شیر اور پہلے ولی کا چہرہ چوما اور پھر سالار کا۔ آمنہ نے دونوں کو غور سے دیکھا اور بولی کیا ہوا تم دونوں کو ولی نے بے زار سی نظروں سے سالار کو دیکھا اور بولا کچھ نہیں اپنے لاڈلے سے پوچھیں ۔ آمنہ نے سالار کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو سالار بولا کچھ نہیں ماں جی اس کا دماغ خراب ہے ۔آپ بتائںیں بی جان اور بابا کدھر ہیں ۔وہ لوگ مرزا صاحب کے بیٹے کی شادی پر گئے ہیں۔ وہ دو تین دن بعد آئیں گے۔اور دادا جی سالار نے اداس سے چہرہ بناتے ہوےپوچھا۔ آمنہ نے ہاتھ سے اشارہ کر تے ہوۓ کہا اوپر اپنے کمرے میں ہیں۔
لیکن تم دونوں ادھر میرے پاس بیٹھو اور بتاؤ کیا مسلہ ہے ۔سالار ولی کو ہاتھ سے کھینچ کر صوفے پر بٹھاتے ہوئے بولا کچھ نہیں ماں جی بس تھوڑا سا ناراض ہے میں راضی کر لوں گا۔ سالار نے ولی کو اپنی بازوں میں لیتے ہوۓ کہا ۔آمنہ سنجیدگی سے بولی ولی اور ناراض وہ بھی تم سے یہ نہیں ہو سکتا بچپن سے آج تک میں نے تم لوگوں کو ناراض ہوتے نہیں دیکھا ۔تو اب ایسا کیا ہوا ۔آمنہ نے اب دونوں کے کان پکڑتے ہوۓپوچھا ۔نہیں ماں جی کچھ نہیں سالار نے کچھ نہیں کہا بس لگتا ہے میں اور میری سوچ اتنے سالوں میں بھی اس حویلی والوں کی طرح نہیں ہو سکے بس یہ ہی اختلاف ہوا ہے میرے اور سالار کے درمیان پر فکر مت کریں آپ سب کے اصولوں کے مطابق اس نے جو کیا ہے ٹھیک کیا ہے۔ ولی نے افسردہ سی مسکراھٹ سے آمنہ اور سالار کو دیکھا اور اٹھا اور بولا ماں جی میں کمرے میں جا رہا ہوں ۔فریش ہو لوں۔ اور جلدی سے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا ۔سالار تم کچھ بتاؤ گے آمنہ نے سنجیدگی سے پوچھا ۔اوو ماں جی کچھ نہیں بس ایک سرپرائز ہے ۔بابااور بی جان کو آ لینے دیں پھر سب کو اکٹھا بتاؤں گا ۔سالار اتنا کہہ کر اٹھنے لگا تو آمنہ نے بازو سے پکڑ لیا اور بولی تمہیں لگتا ہے کہ بات جانے بغیر میں تمہیں یہاں سے ہلنے بھی دوں گی ۔سالار نے سر پر ہاتھ رکھتے ہے کہا ہاں آخر ماں کس کی ہیں آپ چوہدری سالار
کی اچھا چلیں بتاتا ہوں ۔اممممم وہ سالار نے گردن کے پیچھے کھجاتے ہے کہا۔وہ ماں جی امممم میں نے لڑکی پسند کی ہے ۔شادی کرنی ہے۔کیا آمنہ نے چیخنے کے انداز میں کہا اور سالار کو گلے سے لگا لیا۔ اووو میرا بچہ اللہ اللہ سالار تمہیں نہیں پتہ تم نے اپنی ماں کو کتنی بڑی خوشی دی ہے آمنہ کبھی سالار کی ایک گال چومتی تو کبھی دوسری اور کبھی ماتھاچوم رہی تھی کہ سالار کی نظر دادا جی پر پڑی جو سیڑھیوں کے پاس کھڑے مسکرا رہے تھے۔ سالار جلدی سے آمنہ کو چھوڑ کر دادا جی کے پاس آیا اور سلام کرتے ہوۓ جھک گیا دادا جی نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کا کان پکڑتے ہوۓکہا اتنی بڑی خوش خبری دے رہے ہو وہ بھی دادا کو گلے لگاۓ بغیر چل میرا شیر لگ اپنے دادا کے گلے۔ سالار نے دادا کو زور سے گلے لگا لیا ۔
💖💖💖💖💖💖🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
شگفتہ احمد کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھی تھی جنت دوسرا اور سارہ اور ایمان ایک ایک پاؤں کے پاس ۔ احمد بولے شگفتہ میں سارہ کی شادی سے پہلے بلکل سرجری نہیں کرواؤں گا اور میرا یہ آخری فیصلہ ہے ۔احمد کی بات سن کر پاس ہی کرسی پر بیٹھی سعد کی امی تعظیم بولیں ٹھیک ہے بھائی صاحب ایسا ہی کر لیتے ہیں ۔سعد اور شگفتہ نے خیرت سے تعظیم کو دیکھا توہاتھ کے اشارے سے انہیں چپ رہنے کا کہہ کر تعظیم بولی نکاح تو پہلے ہی ہو چکا ہے بس رخصتی رہ گئی تھی ۔تو ٹھیک ہے ۔چپ چاپ رخصتی کر لیتے ہیں ۔کیوں سعد کیا کہتے ہو سعد ایک دم سے بولا جی جی ماما جیسا آپ کہیں۔احمد شگفتہ کی طرف دیکھتے ہوۓ بولا پر بہن ہم نے تو ابھی کوئی تیاری ہی نہیں کی اور سعد آپ کا اکلوتا بیٹا ہے ۔آپ کے بھی کوئی ارمان ہوں گے ۔ایسے کیسے ہم۔۔ تعظیم احمد کی بات کاٹتے ہوۓ بولی ۔دیکھیں شگفتہ بہن اور بھائی صاحب اس وقت سب سے اہم بات آپ کی صحت ہے ۔اور جہاں تک رہی اپنے ارمان نکالنے کی بات تو وہ بعد میں لندن جا کر سارے فنگشن کر لیں گے ہم ۔آپ لوگوں کے ساتھ ۔۔کیوں کہ سعد نے لندن میں اپنے ایک دوست سے بات کی ہے ۔اس کا دوست ڈاکٹر ہے۔ آپ کی سرجری ہم وہیں کروائیں گے ۔ایسا کرتے ہیں ۔کہ ھم کل ہی رخصتی کر لیتے ہیں ۔ اور سعد تم کل یا ایک دن آگے کی سیٹیں بک کروا لو ۔ہم لوگ پہلے جا کر ڈاکٹروں سے مشورہ کر لیتے ہیں۔ ٹائم وغیرہ سیٹ کرتے ہیں ۔اتنی دیر میں اپ لوگ سارہ اور ایمان کے پاسپورٹ بنوا لیں ۔ احمد نفی میں سر ہلاتے ہوے بولا نہیں بہن ایک میں اپنی بیٹی کو حالی ہاتھ رخصت کرؤں اور اوپر سے داماد سے۔۔۔ ابھی احمد کی بات ابھی مکمل ہی نہیں ہوئی تھی کہ سعد بولا آپ ہی نے مجھے کہا تھا کہ اپ کو بابا بولا کروں سارہ کی طرح۔ اور اب خود ہی داماد کہہ رہے ہیں ۔اور جہاں تک بات رہی خالی ہاتھ کی تو سارہ آپ کی بہت سی دعائیں لے کر جاۓ گی جو دنیا کا سب سے بڑا خزانہ ہیں ۔احمد مسکراتے ہوے بولا سعد فخر ہے مجھے تم پر اللہ تمہیں خوش رکھے بیٹا۔ تو سعد مسکراتے ہوے بولا تو ٹھیک ہے ۔کل یا ایک دن بعد کی جو بھی سیٹ بک ہوتی ہے میں کروا لیتا ہوں ہماری اور سارہ کی ۔اجازت ہے آپ کی ۔احمد نے شگفتہ کی طرف دیکھا تو اس نے سر ہلا کر اپنی رضامندی دی۔ شگفتہ نے سعد کی طرف دیکھ کر پوچھا سعد ڈاکٹر نے کیا کہا ہے کب ڈسچارج کریں گے ۔وہ انہوں نے کہا ہے کہ لے جا سکتے ہیں ہم انہیں گھر اور اگر طبیعیت خراب ہو تو جلد از جلد ہاسپٹل لے آئیں۔ دوائیاں دے دی ہیں ۔گاڑی باہر ہی ہے ۔ڈرائیور آپ کو گھر اتار دے گا میں اور ماما گھر جائیں گے پیکینگ کرنی ہے اور سیٹ بھی بک کروانی ہے ۔آئیں میں انکل کو گاڈی تک لے جاتا ہوں ۔سعد نے اگے بڑھ کر احمد کو سہارہ دیا اور تعظیم بولی سارہ بیٹا تم بھی اج ہی پیکینگ کر لو کیوں کہ اگر کل کی سیٹ ہو جائے تو تمہاری تیاری ہو۔
💖💖💖💖💖💖💖🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
سالار ڈائینگ ہال میں داخل ہو تو دادا جی اور ماں جی کو پیار کرتے ہوۓ بولا یہ ولی کہاں ہے۔کل کاجب سے آیا ہے غائب ہے ۔وہ آ رہا ہے ابھی اسی کو ناشتے کے لیے بلا کر آئی ہوں۔آمنہ نے کھانا کھاتے ہوۓ جواب دیا۔ پتہ نہیں کب تک ناراض رہے گا۔ سالار نے کافی کا گھونٹ لیتے ہے کہا تو دادا جی بول پڑے آیا تھا میرے پاس ملنے اور پوچھا تھا میں نے کہ کیوں ناراض ہے ۔دادا جی سالار کی طرف دیکھتے ہوۓ بولے۔۔ڈرپوک ہے یہ رہنے دو اسے ناراض۔ بس ٹھیک ہے پسند آئی لڑکی اور انگوٹھی پہنا آئے ۔ہم لوگ جائیں گے ۔اور ریوالور والی بات بھی کلیر کر آئیں گے کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے یہ ۔۔ہاں ہاں انہیں تو خوش ہونا چاہئے کہ اتنے بڑے خاندان کی بہو بنے گی ان کی بیٹی آمنہ نے مغرور انداز میں گردن اکڑاتے ہوۓ کہااب بس بی جان اور تمہارے بابا آ جائیں تو چلتے ہیں ۔ اپنی بہو کے گھر آمنہ نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔تو سالار مسکرانے لگا اور آنکھیں بند کر کے سر کرسی کے ساتھ ٹکا لیا تو جنت کا چہرہ بند آنکھوں میں لہرا گیا۔ سالار نے ایک دم سے آنکھیں کھول لیں۔ اس کے چہرے پر عجیب سی خیرانی تھی کیوں کہ پہلی بار ایسا ہوا تھا جس دن سے اس نے جنت کو دیکھا تھا ۔اس کے ساتھ یہ ہی ہو رہا تھا کہ آنکھیں بند کرتا تو اس کا چہرہ سامنے آجاتا اسے دیکھنے کی خواہش ہوتی ۔سالار کے لیے یہ احساس بلکل نیا تھا ۔اور وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔کہ اس کے ساتھ ایسا کیوں ہے ۔وہ جلدی سے اٹھا اور سیدھا ولی کے کمرے کی طرف گیا ۔کمرے میں داخل ہوا تو ولی واش روم سے نکل رہا تھا۔ سالار کو دیکھ کر اس نے منہ دوسری طرف پیھر لیا ۔سالار آگے بڑھ کر بولا ولی یار میری کچھ عجیب سی فیلنگ ہے سمجھ نہیں آ رہی ۔ولی نے صوفے پر بیٹھتے ہوۓ سالار کو دیکھا اورلفظوں کو چبا چبا کر بولا اچھا ۔۔کیا ۔۔فیلینگ ہے جو سمجھ نہیں آ رہی۔اور سالار کے پاس ہی بیٹھ گیا کیوں کہ اسے پتہ تھا کہ وہ سالار کے اور سالار اس کے بغیر نہیں رہ سکتے ۔اور وہ سالار کا چہرہ دیکھ کر بتا سکتا تھا کہ وہ واقعہ ہی کسی الجھن میں تھا۔سالار ولی کی طرف دیکھتے ہے بولا یار بے چینی ہے آنکھیں بند کرتا ہوں تو ۔۔تو وہ۔۔۔ سالار نے سر دونوں ہاتھوں میں پکڑتے ہوے اٹک اٹک کر کہاوہ ۔۔۔وہ ہے نا ۔اتنا کہہ کر سالار کھڑا ہو گیا اور ہاتھ منہ پر پھیرتے ہوے بولا جنت ۔۔پری وہ سامنے آ جاتی ہے ۔ تو ولی نے پہلے خیرت اور پھر مسکراتے ہوۓ منہ پر ہاتھ رکھ لیا ۔ولی میں نے کوئی لطیفہ نہیں سنایا جو تم مسکرا رہے ہو۔سالار بھنویں اٹھاتے ہے بولا ۔تو ولی نے ہستے ہوۓ سالار کو گلے سے لگا لیا اور بولا مبارک ہو سالار ۔۔سالار نے خیرت سے پوچھا کس بات کی ۔۔تو ولی نے گال پکڑتے ہوے کہا منگنی کی اور کس کی۔۔ سالار آنکھیں سکیڑتا ہوا بولا اچھا بڑی جلدی یاد آئی ہے ۔ولی کہکہہ لگا کر بولا کیوں کہ اب مجھے تسلی ہو گئی ہے۔ اتنا کہہ کر ولی نے سالار کا ہاتھ پکڑا اور بولا چلو یار ناشتہ کریں ۔مجھے بہت بھول لگی ہے ۔ولی اسے ساتھ لیے کمرے سے نکلا اب اسے تسلی تھی کہ جنت سالار کے دل اور دماغ تک پہنچ چکی ہے اب سالار ضرور بدلے گا۔ جنت اسے بدل دے گی اپنی محبت سے ۔مگر ولی یہ نہیں جانتا تھا کہ سالار کو بدلنا شاید اتنا بھی آسان نہیں تھا۔اس سب کے لیے جنت کوکس کس عزیت سے گزرنا پڑے گا اس کا کسی کو اندازہ ہی نہیں تھا ولی کو بھی نہیں۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖🥀🥀🥀🥀🥀🥀

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *