Pari by Imama Nadeem NovelR50827 Pari by Imama Nadeem Episode04
Rate this Novel
Pari by Imama Nadeem Episode04
Pari by Imama Nadeem Episode04
اف امی دیکھیں نا پری کا بخار تو کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ ایمان نےپری کے ماتھے پر ہاتھ لگاتے ہوۓ کہا۔ تو شگفتہ نے آگے بڑھ کر پری کو ہاتھ لگا کر چیک کیا اور بولی پری بیٹا جب تک تم ٹھیک نہیں ہوتی ہم تمہارے نانا کی طرف نہیں جائیں گے۔ پری نےاٹھ کر بیٹھتے ہو ماں کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور آہستہ سے بولی امی آپ اور ایمان آپی جائیں ۔ جا کر نانا ابو سے مل کر آئیں ۔ میں گھر پر ہی ٹھیک ہوں۔ پری کی بات سن کر شگفتہ سنجیدہ لہجے میں بولی پاگل ہو تم اتنا بخار ہے تمہیں اور ہم لوگ تمہیں اکیلا چھوڑ جائیں ۔ بلکل نہیں۔ پری ماں کے ہاتھ پر پیار کرتے ہوۓ بولی امی میں دوائی کھاؤں گی اور کچھ دیر نیند لوں گی تو ٹھیک ہو جاؤں گی۔ اور ویسے بھی اکیلی کہاں ہوں ۔کام والی رات تک رہتی ہے اور باہر گارڈ بھی ہے ۔ اور شام تک ویسے بھی آپ لوگ آ ہی جائیں گی۔ شگفتہ لمبی سانس لیتے ہوۓ بولی اچھا تو ٹھیک ہے پھر ایمان بھی نہیں جاے گی ۔ میں اکیلی جاؤں گی۔ پری جلدی سے سر نفی میں ہلاتے ہوۓ بولی نہیں بلکل نہیں اکیلے نہیں جائیں گی آپ پہلے ہی آپ کا بی پی ٹھیک نہیں ہوتا اکیلے تو آپ نہیں جائیں گی ۔شگفتہ پری کو پیار کرتے ہوۓ بولی اچھا ٹھیک ہے ۔پر تم وعدہ کرو بستر سے نیچے نہیں اترو گی ہمارے آنے تک اور آرام کرو گی۔ پری نے مسکراتے ہوۓ کہا پکا وعدہ۔۔۔شگفتہ اٹھتے ہوۓ بولی نو بج گئے ہیں ہم لوگ آدھے گھنٹے تک نکلے گے ۔اور میں جاتے ہوۓ کام والی کو سمجھا جاتی ہوں۔ وہ ہمارے آنے تک تمہارا خیال رکھے گی۔ ابھی میں کچھ کھانے کے لیے بھیجتی ہوں کھا لینا ۔پری نے جی کہتے ہوۓ سر ہلایا۔ تو شگفتہ ایمان سے مخاطب ہوتے ہوۓ بولی بیٹا تم جلد سے تیار ہو جاؤ جلد جائیں گے تو ہی جلدی آئیں گے۔ شگفتہ یہ کہتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئی۔
آمنہ بی جان کے پاس بیٹھتے ہوۓمنہ بنا کر بولی دیکھیں نا بی جان ابا جی نے سالار کو بھیج دیا ۔ بی جان مسکرائی اور بولی آمنہ کیوں پریشان ہوتی ہو آ جاۓ گا رات تک کسی کام سے گیا ہے ۔ اور لندن بھی تو وہ رہتا ہے ۔ کئی کئی مہینے بعد آتا ہے ۔وہ کون سا پہلی دفعہ گھر سے باہرگیا ہے۔آمنہ چاۓ کا کپ اٹھاتے ہوۓ بولی وہ تو آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں پر ابھی تو وہ پریشان تھا اس لیے میں کہہ رہی تھی ۔کہ وہ ابھی گھر پر ہی رہتا۔ دیکھو آ منہ مردو کو ہر طرح کے معاملات سے نمٹانا آنا چاہیے۔اگر مرد پریشان ہو کر منہ چھپا کر بیٹھ جائیں گے تو سارے کام ہو چکے۔ بی جان نے آمنہ کو سمجھانے کے انداز میں کہا۔ تو آمنہ کچھ سوچتی ہوئی چاۓ پینے لگی۔
سکینہ ماسی جس کی عمر تقریباً پچاس پچپن برس تھی بھاگتی ہوئی ہال میں بیٹھی بی جان اور آمنہ کے پاس آئی اور بولی بی بی جی بڑی بی بی جی کہتی ہوئی لمبے لمبے سانس لینےلگی۔ تو آمنہ اور بی جان اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ۔ ایک ساتھ بولی اللہ خیر ۔ آمنہ کھڑے ہوتے ہوۓ گھبرا کر بولی کیا ہوا سکینہ ماسی خیر تو ہے۔ سکینہ بی جان کی طرف دیکھتے ہوے بولی بی جان وہ وہ آ گئی ہیں ۔ بی جان پریشان ہو کر اٹھ کھڑی ہوئیں اور بولیں کون کون آگئی ہے۔ ابھی سکینہ نے جواب نہیں دیا تھا کہ اس کے پیچھے سے آواز آئی اسلام و علیکم امی جی ۔ ۔ بی جان نے سانس روکتے ہوۓ سکینہ کے پیچھے دیکھا تو جیسے سکتے میں آگئیں۔ اب آمنہ اور بی جان اک ٹک سامنے کھڑی شگفتہ کو دیکھے جا رہی تھیں ۔شگفتہ کی آنکھوں سے آنسو بارش کی طرح برس رہے تھے وہ آگے بڑھی اور بی جان کے گلے لگ کر دھاڑیں مار کر رونے لگی ماں میں اجڑ گئی دیکھو نا ماں جی احمد مجھے اکیلا چھوڑ گئے۔
بی جان شگفتہ کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگی ۔اور سسک کر رونے لگیں۔ماں جی احمد نہیں رہے شگفتہ نے سسکتے ہوۓکہا۔ بی جان کو اب جہاں بیٹی کے بیوہ ہونے کا دکھ ہو رہا تھا وہیں احمد کا بھی دکھ تھا اور کیوں نہ ہوتا احمد آخر ان کے بھائی کا بیٹا تھا ۔(دادا جی نے سب گھر والوں کو صرف اتنا بتایا تھا کہ پری شگفتہ کی بیٹی ہے ۔پر یہ نہیں بتایا تھا کہ احمد مر گیا ہے کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ ان کی بیوی یعنی بی جان کو دکھ ہو گا۔ ) آمنہ نے آگے بڑھ کر ایمان کو پیار کیا اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بولی میرا نام آمنہ ہے تمہارے ماموں چوہدری زریاب کی بیوی ہوں۔ کیا نام ہے تمہارا بیٹا ایمان نے جواب دیا ایمان احمد۔ آمنہ نے دروازے کی طرف دیکھا اور بولی تمہارے اور کوئی بہن بھائی ۔( آمنہ جانتی تو سب کچھ تھی کیوں کہ دادا جی نے بتایا تھا کہ شگفتہ کی تین بیٹیاں ہیں اور سالار کو سب سے چھوٹی والی پسند ہے۔ آمنہ صرف اپنے بیٹے کی بےچینی کی وجہ یعنی پری کو دیکھنا چاہتی تھی۔ ) آمنہ کی بات سن کر ایمان بولی جی مامی ہم لوگ تین بہنیں ہیں بڑی سارہ آپی ان کی شادی ہو گئی ہے وہ لندن ہوتی ہیں ۔پھر میں اور مجھ سے چھوٹی جنت ۔ آمنہ بے چین سے انداز میں بولی تو جنت کہاں ہے وہ نہیں آئی تم لوگوں کے ساتھ ۔نہیں مامی اس کو بہت زیادہ بخار تھا رات سے۔۔ اسے نہیں لے کر آۓ۔آمنہ نے مڑ کر شگفتہ اور بی جان کی طرف دیکھا جو ابھی تک گلے لگ کر رو رہی تھیں ۔ آمنہ آگے بڑھی اور شگفتہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولی کیوں مجھے نہیں ملو گی بھول گئی مجھے شگفتہ جلدی سے اپنی ماں سے الگ ہوئی اور آمنہ کی طرف دیکھا تو اسے زور سے گلے لگا لیا ۔ آمنہ میری بہن شگفتہ پیار بھرے لہجےمیں بولی۔تو آمنہ مصنوعی غصے سے شگفتہ کو پیچھے کرتے ہوۓ بولی کوئی نہیں ہوں میں تمہاری بہن شہن اگر ہوتی تو اتنے سالوں میں ایک دفعہ تو رابطہ کرتی۔ میں تمہاری صرف بھابی ہی تو نہیں تھی چچا کی بیٹی بھی تھی اور اس سے بھی زیادہ ہم دوست بھی تو تھے۔ جاؤ میں نہیں بولتی تم سے۔ آمنہ منہ بناتے ہوۓ بولی تو شگفتہ مسکرا اٹھی اور بولی آمنہ بلکل نہیں بدلی تم بلکل ویسے کی ویسی ہو اور ایک مزے کی بات بتاؤں میرے پاس ایک سیمپل ہے بلکل تمہاری طرح کا آمنہ نے شگفتہ کی بات سنی تو آنکھوں کے اشارے سے پوچھا کون تو شگفتہ آمنہ کا گال پکڑتے ہوۓ بولی میری چھوٹی بیٹی پری ۔شگفتہ ایک دم سے جیسے خوش میں آتے ہوۓ بولی اور ہاں وہ سالار کدھر ہے ۔کیسا ہے وہ اب تو وہ بہت بڑا ہو گیا ہو گا اس وقت وہ پانچ چھ سال کا تھا ۔۔اس کی شادی کر دی کیا۔ آمنہ بیٹے کا نام سن کر مسکرا اٹھی اور بولی ہاں بڑا تو ہو گیا ہے پر شادی نہیں کی ابھی۔۔۔ اب تم آگئی ہو نا تم کروانا اپنے لاڈلے کی شادی شگفتہ مسکرا کر بولی ہاں کیوں نہیں ۔ اتنا کہہ کر شگفتہ ماں سےمخاطب ہوئی جو اب ایمان سے مل رہی تھیں ۔ ماں بابا کہاں ہیں ۔ بی جان ایمان کے ساتھ صوفے پر بیٹھتے ہوۓ بولیں ۔اوپر سٹیڈی روم میں۔ شگفتہ نے سر اٹھا کر اوپر والی منزل کی طرف دیکھا ۔اور بولی مجھے ملنا ہے بابا سے بی جان دوبارہ سے اٹھی اور شگفتہ کے پاس آ کر بولیں۔ دیکھو بیٹا جاؤ لیکن ایک بات یاد رکھنا اگر تمہارے بابا غصہ کریں تو برا مت منانا ۔ وہ تمہیں معاف ضرور کر دیں گے مگر کچھ وقت لگے گا ۔کیوں کہ تم نے جو کیا انہیں اس کی تکلیف ہے ۔تم جانتی ہو وہ تمہیں اپنی جان سے زیارہ عزیز رکھتے تھے ۔ اور جس دن سے تم اس حویلی سے گئی ہو تمہارے بابا جان نے کبھی ڈائینگ ٹیبل پر سب کے ساتھ کھانا نہیں کھایا ۔وہ کہیں یا نہ کہیں لیکن آج بھی وہ تم سے پیار کرتے ہیں ۔اور تم جانتی ہو تمہارے ایک فیصلے نے ان سے ان کی دو لاڈلی اولادیں دور کی تھیں ایک تم اور دوسرا حیدر۔۔۔ بی جان نے حیدر کا نام لیا تو ان کے منہ سے بے اختیار آہ نکل گئی کیوں کہ حیدر کو ملے بائیس برس بیت گۓ تھے۔ ۔بی جان آنسو پونچتے ہوۓ بولیں
اور یہ تکلیف تمہارے بابا کو آج تک ہے۔ شگفتہ ماں کی بات سن کر سر ہلاتی ہوئی سیڑھیاں چڑھ گئی۔
سالار یار مجھے تو یقین نہیں آ رہا ۔کہ پری پھپو شگفتہ کی بیٹی ہے۔ یار دادا اور تمہارے بابا مان کیسے گئے اس سے تمہاری شادی کے لیے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یار مجھے نہیں لگتا پھپو مانیں انہوں نے تمہیں دیکھتے ساتھ ہی انکار کر دینا ہے ۔ فون کے دوسری طرف ولی نے بے چینی سے کہا تو سالار نے قہقہہ لگایا اور بولا ولی وہ مانے یا نہ مانے ان کی بیٹی خود کہے گی اس شادی کا میں کہلواؤں گا ۔تم بس دیکھتے جاؤ۔ سالار کی بات سن کر ولی جھنجھلا کر بولا سالار دیکھو کوئی غلط حرکت مت کرنا سمجھے۔میں تمہیں بتا رہا ہوں دیکھو وہ بہت چھوٹی ہے ڈر جاے گی یار ۔۔اور ویسے بھی زور زبردستی سے شادی کرنا کوئی اچھی بات نہیں۔ تھوڑا وقت دو اس معاملےکو اب۔۔ ویسے بھی گھر کی بات ہے ۔ کہیں نہیں جاۓ گی اب وہ ۔سالار نے ولی کی بات سن کر دانت پیستے ہوۓ کہا۔جانے تو اب میں اسے کہیں دوں گا بھی نہیں ۔اور ولی تم مجھے سبق مت سکھاؤ ۔اور تم کیاچاہتے ہو کہ میں واپس آؤ یا یہی پر ان چکروں میں پڑا رہوں ۔اف سالار میرا کام تھا تمہیں مشورہ دینا ۔چاہے تم مانو یا نہ مانو کل کو یہ تو نہیں کہو گے نا کہ میں نے سمجھایا نہیں تھا۔ باقی کرنی تو تم نے اپنی ہی مرضی ہے۔چلو ٹھیک ہے میں فون رکھتا ہوں تھوڑا کام ہے پھر بات ہوتی ہے اللہ حافظ کہہ کر ولی نے فون بند کر دیا۔ ۔تو سالار نے صوفے کو ٹیک لگائی اور مسکراتے ہوۓ بولا ۔تیار ہو جاؤ مس پری اب میں تمہیں سبق سکھاؤں گا کہ کیسے آئندہ کے بعد میری بات ماننی ہے اور میری بات نہ ماننے کی کیا سزا ہے ۔ بہت ضروری ہے تمہارے لیے میرے ساتھ رہنے کے اصول سیکھنا ۔ اور ان پر عمل کرنا ۔
شگفتہ نے سٹڈی روم کے دروازے پر دستک دی تو چوہدری دلاور نے آجاؤ کہا چوہدری دلاور کو اس کے جاسوس نے پہلے ہی شگفتہ کے حویلی کی طرف آنے کی اطلاع دے دی تھی ۔اس لیے وہ اسے دیکھ کر بلکل بھی حیران نہیں تھا۔ شگفتہ کو اندر آۓ دو منٹ ہو گۓ تھے اور ابھی تک چوہدری دلاور کچھ نہیں بولا تھا۔ سیدھا ہو کر بیٹھتے ہوۓ اس نے شگفتہ کی طرف سنجیدگی سے دیکھا ۔جو ہونٹوں کو دبا کر اپنی سسکیاں روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔ دل ہی دل میں چوہدری دلاور خون کے آنسو رو رہا تھا اپنی بیٹی کی حالت دیکھ کر ۔۔۔وہ اسے دل میں معاف تو بہت پہلے ہی کر چکا تھا مگر اناء اور ناک اسے یہ ماننے نہیں دے رہی تھیں۔۔ چوہدری دلاور نے آنسو پیتے ہوۓ کہا ۔آ گئی یاد ماں باپ کی ۔۔ جب سر پر چھت نہیں رہا۔ ابھی بھی اگر وہ احمد نہ مرتا تو کہاں آنا تھا ۔تم نے ۔ہمممم بولو ٹھیک کہہ رہاہوں میں شگفتہ خاموش کھڑی آنسو بہا رہی تھی ۔ اسے اس بات کی بلکل بھی خیرت نہیں تھی کہ انہیں احمد کی موت کا پہلے سے پتہ ہے۔ وہ جانتی تھی کسی کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرنا۔ اس کے بابا کے لیے کوئی مشکل نہیں تھا۔ کیا جواب دیتی باپ کو کیوں کہ کہہ تو وہ ٹھیک رہے تھے۔ چوہدری دلاور کرسی سے اٹھا اور چلتا ہوا شگفتہ کے پاس آ کر رکا اور بولا ۔کہو کیا چاہتی ہو ۔شگفتہ نے آنسوؤں سے بھری آنکھیں اٹھا کر اپنے باپ کی طرف دیکھا اور بولی بابا معاف کر دیں ۔معافی چاہیے ۔بس ایک دفعہ معاف کر دیں ۔ چوہدری دلاور منہ پھیر کر بولے ۔ کہاں رہ رہی ہو ۔ شگفتہ بولی بابا حیدر بھائی کے دوست کا گھر خالی پڑا ہے وہاں۔۔ چوہدری دلاور طنزیہ مسکرا کر بولے واہ کیا بات ہے یہ وقت بھی آنا تھا جس چوہدری دلاور کے گھروں اور حویلیوں کی گنتی نہیں کی جا سکتی اس کی آپنی اولادیں لوگوں کے گھروں میں رہ رہی ہیں۔۔ شگفتہ مرجھائی سی آواز میں بولی بابا میں یہاں رہ لوں کہاں جاؤں گی میں دو بیٹیاں لے کر۔۔ چوہدری دلاور جو ابھی تک اسی بات کا انتظار کر رہا تھا کہ شگفتہ خود حویلی میں رہنے کی بات کرۓ۔ مڑا اور بولا۔ ہاں رہ سکتی ہو مگر میری ایک شرط ہو گی ۔شگفتہ باپ کے مان جانے پرخوشی سے سوچے سمجھے بغیر ہی بولی جی بابا آپ کی ہر شرط منظور ہے مجھے بس آپ معاف کر دیں۔ چوہدری دلاور نے شگفتہ کی طرف دیکھا اور بولے اور اگر شرط تمہیں منظور نہ ہوئی تو ۔شگفتہ اپنا چہرہ صاف کرتے ہوۓ بولی بابا آپ شرط بتائیں ۔ اپ اگر میری جان بھی مانگیں گے تو اللہ کی قسم ایک سیکنڈ کے لیے نہیں سوچون گی وہ بھی دے دوں گی۔ چوہدری دلاور نفی میں سر ہلاتے ہوے بولے ابھی نہیں سب گھر والوں کے سامنے بتاؤں گا ۔ اتنے میں سٹڈی روم کے دروازے پر دستک ہوئی اور بی جان ایمان کو لے کر اندر آئی۔ اور بولی چوہدری جی یہ ایمان ہے آپ کی نواسی ۔ایمان نے آگے بڑھ کر چوہدری دلاور کے آگے سر کیا ۔تو انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا بی جان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو بی جان سمجھ گئیں کہ وہ پری کا پوچھنا چاہ رہے ہیں ۔بی جان جلدی سے بولیں ۔تین نواسیاں ہیں آپ کی۔۔۔ بڑی سارہ کی شادی ہو چکی ہے اس سے چھوٹی آپ کے سامنے ہے اور سب سے چھوٹی جنت جسے پیار سے پری کہتے ہیں وہ نہیں آئی۔ بیمار ہے۔چوہدری دلاور یہ سن کر شگفتہ کی طرف دیکھ کر بولے ۔پتہ دو جہاں تم لوگ رہ رہی ہو سالار شہر ہی ہے ۔آنا ہے اسے حویلی آتے ہوۓ جنت کو لے آۓ گا۔ اور اگر کوئی سامان لانا ہے تو وہ بھی منگوا لو کیوں کے عدت ختم ہونے تک تم گھرسے باہر نہیں جاؤ گی ۔شگفتہ صرف جی بابا ہی کہہ سکی۔
















دیکھو پری ڈرنے کی بات نہیں ہے ۔سالار تمہارے ماموں کا بیٹا ہے بھائی ہے ۔ شگفتہ اب کی بار چڑھ کر بولی تھی ۔ کیوں کہ فون کے دوسری طرف پری بس ایک ہی بات کہے جا رہی تھی مجھے نہیں آنا کسی سالار شار کے ساتھ آپ نے کہا تھا کہ شام تک آپ لوگ آ جائیں گی ۔پری میری جان دیکھو تمہارے نانا جان مان گۓ ہیں ۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم لوگ حویلی میں رہیں گے اور انہی نے تمہیں سالار کے ساتھ آنے کا کہا ہے ۔ اب اگر تم ضد کرو گی تو وہ کیا سوچیں گے کے کتنی بدتمیزی ہیں میری بیٹیاں بڑوں کی بات نہیں مانتی۔ چلو میری پیاری بیٹی تیار ہو جاؤ۔ کام والی سے میری بات ہو گئی ہے ۔گھر کی چابی اسے دینی ہے پہلے بھی اسی کے پاس تھی۔ اور جو چیزیں بتائی ہیں۔ سب لے آنا ۔ اور ہاں ایک اور بات زرہ منہ بند رکھنا زیادہ باتیں مت کرنا یہ نہ ہو کہ سالار کے کان کھا جاؤ۔ اور ادھر آ کر بھی تھوڑی تمیز میں ہی رہنا۔ ماں کی بات سن کر پری ناراضگی کے انداز میں بولی کیا مطلب ہے آپ کا میں بد تمیز ہوں۔ اور باتونی ہوں۔ جو کان کھاؤں گئی کسی عیرے غیرے کے
۔۔۔اف پری اللہ کا واسطہ ہے سوچ کر بولا کرو ۔اور سالار کوئی عیرہ غیرہ نہیں ہے ماموں کا بیٹا ہے تمہارا ۔۔اللہ اللہ یہ لوگ سن لیں تو کتنا برا لگے انہیں ۔ ۔ہاں ہاں تو لگتارہے برا۔۔۔ امی ایک بات بتا دوں میں مجھے نہیں رہنا حویلی میں ۔ویسے بھی سدرہ کی کال آئی تھی ڈیٹ شیٹ آ گئی ہے میری پیپر سٹارٹ ہو رہے ہیں میرے ۔صبح جا کر وہ بھی لینی تھی۔اگر میں آج آ گئی توکیسے لوں گی بعد میں کالج والے نہیں دیں گے۔ میں تو پہلے چپ تھی کہ ماموں حیدر نے وعدہ کیا تھا کہ وہ وہاں مجھے ایڈمیشن لے کر دیں گے۔ اور جہاں تک یہ جو آپ کے حویلی والے رشتے داروں کی بات ہیں ۔ مجھے نہیں لگتا وہ مجھے آکر پیپر بھی دینے دیں ۔ بس امی آپ لوگ وآپس آئیں جلدی۔ پری اب کی بار رونے والی آواز میں بولی آپ تو صرف ملنے گئیں تھیں۔ اب شگفتہ نے سر پکڑ لیا اور فون کو ہاتھ میں زور سے پکڑتے ہوے بولی پری میں آخری دفعہ کہہ رہی ہوں سوچ سمجھ کر بولا کرو کسی دن آپنی زبان کی وجہ سے بڑی پچھتاوا گی۔ اب شگفتہ دو ٹوک بولی ۔جلدی سے تیار ہو جاؤ۔ اب اور بحث نہیں ۔ اتنا کہہ کر شگفتہ نے لمبی سانس کھینچنے فون بند کر دیا۔
سالار نےداڑھی میں ہاتھ پھیرا اور فون کو ایک کان سے دوسرے پر لگاتے ہوۓ بولا دادا جی یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔
اس طرح مسلہ ہو جاۓ گا۔ چوہدری دلاور فون کے دوسری طرف قہقہہ لگا کر ہسا اور بولا اووو میرا شیر ڈر گیا کیا۔ دادا کی بات سن کر سالار ایک دم سے بولا دادا جی آپ جانتے ہیں کہ میں کسی سے نہیں ڈرتا۔
۔ چوہدری دلاور کچھ دیر روک کر بولا ۔ دیکھو سالار یہ معاملہ تمہیں حویلی آنے سے پہلے حل کرنا ہو گا ۔ورنہ تھوڑی مشکل ہو سکتی ہے۔ ۔آپ فکر مت کریں میں سب سنبھال لوں گا ۔ ٹھیک ہے کہہ کر دادا نے فون بند کر دیا۔
سالار نے کار کی چابی اٹھائی ۔اور جیب میں ہاتھ ڈال کر انگوٹھی نکالی اور اسے دیکھتے ہوۓ بولا ۔چلو پہلے تمہیں تو تمہاری نا فرمان مالکن تک پہنچاؤں۔ اور اس پری کے تھوڑے پر بھی کاٹوں تاکہ وہ دوبارہ کہیں اڑے نہ۔۔۔
پری صوفے پر نیم دراز تھی۔ اور ایک ہاتھ سے اپنے ماتھے کا مساج کر رہی تھی۔ اور ساتھ ساتھ اکیلے ہی بڑبڑا رہی تھی ۔جب سالار اندر آیا پری کو اکیلے باتیں کرتے دیکھ کر وہ وہیں دروازے میں ہی روک گیا۔ اتنے میں کام والی چاۓ کا کپ پری کے سامنے رکھتے ہوے بولی ۔کیا بات ہے بیٹا ۔پری تو جیسے انتظار میں تھی ۔کہ کوئی پوچھے۔ اٹھ کر سیدھی ہو کر بیٹھتے ساتھ بولی دیکھیں نا آنٹی۔۔ ہے کوئی فکر امی اور ایمان کو میری وہ وہاں صرف ملنے گئیں تھیں ان لوگوں سے اور وہاں جا کر ڈیرے ڈال کر بیٹھ گئیں ہیں ۔پتہ بھی تھا ان کو میری طبیعت ٹھیک نہیں پھر بھی۔۔ اور اس بات کو بھی چھوڑیں کیا ضرورت تھی وہاں رہنے کی ان لوگوں کو تو کبھی یاد نہیں آئی امی کی۔ اور امی کو دیکھو ان لوگوں نے کہا اور امی مان گئیں ۔۔اور مجھے تو بلکل نہیں رہنا وہاں حویلی میں۔ اب کی بار پری نے برا سا منہ بنا کر کہا تھا۔ جو سالار کو تپ چڑھانے کے لیے کافی تھا۔ لیکن پھر بھی وہ وہیں کھڑا رہا کیوں کہ ابھی وہ پری کےکچھ اور حیالات سننا چارہاتھا۔ اب کی بار کام والی سینے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولی۔ بیٹا سچ کہوں تو مجھے بھی لگتا ہے کے آپ لوگوں کو نہیں رہنا چاہئے وہاں پتہ ہے یہ ان علاقوں میں حویلیوں والے لوگ بہت ظالم ہوتے ہیں کام والی نے خوفناک ساچہرہ بناتے ہوۓ کہا تو پری اور تجسس سے بولی اچھا۔۔کام والی سر ہلاتے ہوۓ بولی قسم لے لو میں نے سنا ہے۔ ان کی جو عورتیں ان لوگوں کی بات نہیں مانتیں یہ لوگ ان عورتوں کو مار کر اپنی حویلیوں میں ہی دفن کر دیتے ہیں ۔یہ بات سن کر پری نے حوف سے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا آپ سچ کہہ رہی ہیں آنٹی۔ ۔تو کام والی نے ڈرامائی انداز میں سر ہلایا اور بولی یہ تو کچھ بھی نہیں ہے ۔ان کی حویلیوں میں باقاعدہ جیلیں بھی ہوتی ہیں۔ جس کسی کو انہوں نے مارنا نہیں ہوتا ۔ بس سزا دینی ہوتی ہے ۔اسے ان جیلوں میں رکھتے ہیں۔ اب پری پوری طرح خوفزدہ تھی ۔اور کسی بھی سیکینڈ بس رونے ہی والی تھی۔ اور ادھر سالار کا پارہ ان کی باتوں سے ساتویں آسمان تک پہنچ چکا تھا۔ وہ اگے بڑھا اور گرجتی آواز میں بولا کیا ہو رہا ہے ۔ بس پھر کیا تھا پری جو پہلے ہی حوفزدہ تھی
ایک دم سے نامعلوم آواز سن کر اچھل کر صوفے سے نیچے جاء گری اور آنکھیں بند کر لیں۔۔ سالار نے غصے سے کام والی کو دیکھا۔اور پھر پری کو
۔۔۔۔پری نے اپنی کمر کو ملتے ہوۓ آنکھیں کھولیں تو سامنے کھڑے سالار کو دیکھ کر اس کی آنکھیں تو جیسے باہر ہی آنے لگی۔ جلدی سے اٹھی اور اسے دیکھتے ہوۓ اس کے سامنے کھڑی ہوتے ہوۓ بولی ۔اووو ہیلو مسٹر کدھر ۔۔۔۔۔تمہیں کیا لائسنس ملا ہوا ہے لوگوں کے گھروں میں منہ اٹھا کر گھسنے کا۔ کہ جدھر منہ کیا چل پڑے۔۔ نکلو یہاں سے اس سے پہلے کے گارڈ کو بلا کر بینڈ باجا بارات کے ساتھ نکلواؤں۔ ابھی پری کی بات مکمل ہی ہوئی تھی کہ سالار نےاپنے ایک ہاتھ سے پری کی گردن کے پچھلے حصے سے پکڑا اور جھٹکے سے قریب کرتے ہوۓ غضب ناک لہجے میں بولا تم سے میں بعد میں نمٹتا ہوں ۔ اور تہیں بتاتا ہوں کےمیرے پاس کون کون سا لائسنس ہے۔اور بینڈ باجا بارات کے ساتھ کون جاۓ گا۔۔اتنا کہہ کر سالار نے کام والی کی طرف دیکھتے ہوے کہا پہلے میں اس سے نمٹ لوں اتنا کہہ کر سالار نے پری کی گردن چھوڑی تو وہ صوفے پر جا گری ۔ سالار مڑ کر کام والی سے مخاطب ہو کر بولا اب تم یہاں سے جاؤ گی یا تمہیں حویلی لے جا کر وہاں دفن کروں یا اسی جیل میں ڈالوں جس کا ذکر ابھی تم کر رہی تھی۔ بس اتنا سننا تھا ۔کام والی کانپتے ہوۓ وہاں سے بھاگ نکلی ۔ کام والی کو بھاگتے دیکھ کر پری آرام سے اٹھی اور بھاگنے میں ہی اپنی بہتری جانی پر ابھی اس نے ایک قدم ہی آٹھایا تھا کے سالار نے بازو سے پکڑ لیا ۔ تم کہاں بھاگ رہی ہو ہمممم ۔ پری اپنی بازو چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوۓ ۔ڈری سی آواز میں بولی میں بتا رہی ہوں مجھے چھوڑو ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔ سالار پری کے اور قریب ہوتے ہوۓ بولا کیا اچھا نہیں ہو گا بولو ۔پری اپنے دونوں ہاتھوں اس کے سینے پر رکھ کر اسے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہوۓ بولی دیکھو پیچھے رہو اور چھوڑو مجھے ۔ انگوٹھی کہاں ہے ۔سالار نے سنجیدہ لہجے میں پوچھا تو پری نےسر اٹھا کر اس کی طرف پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھا ۔ اور کوئی جواب دیۓ بغیر گھبرا کر سر نیچا کر لیا۔سالار نے دانت پیستے ہوے پری کو اب دونوں بازؤں سے پکڑ کر جھنجھوڑتےہوۓ کہا میں نے کچھ پوچھا ہے۔ جواب دو۔ کہاں ہے انگوٹھی۔۔۔۔۔پری کوئی جواب دئیے بغیر اس کی گرفت میں زور زور سے کسی پرندے کی طرح پھڑ پھڑانے لگی ۔ چھوڑیں مجھے درد ہو رہا ہے پری نے روتے ہوۓ کہا۔
میں نے تمہیں کچھ رولز بتاۓ تھے لیکن لگتا ہے تم نے میری بات کو اہم نہیں سمجھا ہمممم ۔۔۔۔۔پری اب حوف سے ہچکیاں لے کر رونے لگی۔ کہا تھا میں نے کے انگلی کاٹ دوں گا اگر انگوٹھی اتاری ہممم کہا تھا نا پھر کیا سوچ کر تم نے اتاری اب کی بار سالار چیخ کر بولا تو پری پوری کی پوری کانپ اٹھی اور دوسرے ہی لمہے بے ہوش ہو کر سالار کے ہاتھوں میں جھول گئی سالار نے جلد سے اسے اپنی بازوں میں لے لیا۔اور پاس ہی صوفے پر لٹا تے ہے زور زور سے آوازیں دینے لگا ۔ کام والی جو باہر گاڈ کے پاس بھاگ کر گئی تھی اور اسے گارڈ نے بتایا تھا کہ سالار حیدر صاحب کا بھتیجا ہے اور پری کو لینے آیا ہے۔ ۔۔جب ان دونوں کو سالار کی بلانے کی آواز آئی تو دونوں بھاگ کر اندر آۓ۔تو پری کو صوفے پر پڑے دیکھ کر گبھرا کر بولی کیا ہوا اسے۔۔۔ سالار جو اب پری کے ماتھے پر ہاتھ لگا رہا تھا کام والی کی طرف دیکھ کر بولا اسے تو بخار ہے ۔جی صاحب رات سے ہے ۔ ابھی تو کچھ بہتر ہوگیا ہے ۔سالار پریشانی سے بولا کوئی دوائی لی اس نے ۔ کام والی نے سر ہلا دیا ۔ سالار نے گارڈ سے سامان کار میں رکھنے کا کہا اور پری کو آپنی بازوں میں اٹھایا اور باہر کی طرف چل پڑا۔
