Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pari by Imama Nadeem Episode06

Pari by Imama Nadeem Episode06

💖💖💖💖💖💖🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
‏بی جان روتے ہوۓ شگفتہ کے گلے لگئیں اور بولیں شگفتہ مت جاؤ ۔میں سالار کو خود سمجھاتی ہوں وہ میری بات مان جاۓ گا ۔ میں وعدہ کرتی ہوں کوئی زبردستی نہیں کرے گا پری کے ساتھ تم بس بچوں کو موقع دو ایک دوسرے کو سمجھنے کا شگفتہ یقین مانو دل کا برا نہیں ہے میرا سالار بس تھوڑا غصے کا تیز ہے پر ٹھیک ہو جاۓ گا پری کا ساتھ اسے ٹھیک کر دے گا . سالار بھتیجا ہے تمہارا تمہارا کتنا لاڈلا تھا وہ ۔۔۔شگفتہ ماں سے الگ ہوتےہوۓ بولی جی ماں سالار سے بہت پیار تھا وہ میرا لاڈلا بھی تھا۔۔اور آپ جانتی ہیں اسی لاڈلے نے یہاں یہاں شگفتہ اپنے سر پر انگلی رکھتے ہوۓ بولی ۔۔ریوالور رکھا تھا اور میری بیٹی کو زبردستی انگوٹھی پہنائی تھی۔ اور دوسری بات یہ کے پری ابھی صرف اٹھارہ سال کی ہے ۔بہت چھوٹی ہے ۔ابھی تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کے اس کی شادی کی بات ہو۔۔اتنا کہہ کر شگفتہ جانے کے لیے مڑی تو آمنہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اور اپنے آنسو پونچتے ہوۓ بولی پانچ منٹ مجھے اکیلے میں بات کرنی ہے تم سے بس میری بات سن لو پھر تمہیں میں بلکل نہیں روکوں گی۔۔ شگفتہ نے آمنہ کی طر ف دیکھا تو وہ آمنہ کی آنکھوں میں بھرا دکھ دیکھ سکتی تھی۔ شگفتہ سر ہلاتے ہوے بولی ٹھیک ہے آؤ۔۔۔ اور دونوں کمرے میں چلی گئی۔۔۔
‏زریاب گھڑی کی طرف دیکھتا ہوا بولا ایمان بیٹا جاؤ اپنی امی کو بلاؤ پانچ منٹ کا کہہ کر گئی ہیں اب تو آدھا گھنٹہ ہو گیا ہے۔۔ایمان جی ماموں کہتی ہوئی اٹھی ابھی دو قدم ہی اٹھاۓ تھے ۔کے سامنے سے آمنہ اور شگفتہ آ گئیں۔دونوں اب ریلیکس لگ رہیں تھی۔ زریاب نے دونوں کی طرف دیکھا اور بولا سب ٹھیک ہے۔۔ تو دونوں مسکرا کر بولیں جی سب ٹھیک ہے ۔۔ شگفتہ اگے بڑھتے ہوۓ بولی چلیں بھائی چلتے ہیں ۔۔ شگفتہ مڑ کر روتی ہوئی بی جان کی طرف دیکھتے ہوۓ بولی ماں جی فکر مت کریں ۔ملیں گے پھر۔۔۔
💖💖💖💖💖💖🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
‏سالار نے دروازہ کھولا تو وکیل نے سلام کیا تو سالار نے اسے ہاتھ سے اندر آنے کا اشارہ کیا۔۔ صوفے پر بیٹھتے ساتھ وکیل نے بیگ سے ایک فائیل نکالی اور سالار کی طرف بڑھاتے ہوۓ بولا سر جس طرح کے پیپرز آپ نے کہے تھے ویسے ہی تیار کئے ہیں آپ چیک کر لیں ۔۔سالار فائیل کھولتے ہوے بولا سوری آپ کو اس ٹائم تکلیف دی۔۔ نو سر کوئی مسلہ نہیں کچھ اور میرے لائق خدمت ہو تو میں حاضر ہوں ۔سالار نے نفی میں سر ہلایا اور بولا نہیں یہ بہت ہے جو آپ نے کیا تھینکس۔۔ وکیل نے سالار سے ہاتھ ملایا اور جانے کی اجازت لی۔ اور چلا گیا۔۔۔
‏سالار نے پوری فائیل پڑھنے کے بعد پاس ہی صوفے پر رکھی تو فون بجنے لگا فون اٹھایا کالر آئی ڈی دیکھی اور ہلکا سا مسکرایا ۔کان کے ساتھ لگا کر صرف جی بولا اگلے چار پانچ منٹ تک وہ صرف ہممم اور ٹھیک ہے۔ ہی کہتا رہا۔۔ سالار نے فون بند کیا اور ٹائم دیکھا تو ساڑھے تین بج رہے تھے۔it’s time to awake up اتنا کہتے ہوۓ سالار مسکراتا ہو اٹھا ۔اور فائیل اٹھائی اور سیدھا پری کے کمرے کی طرف چل پڑا ۔۔دروازہ کھول کر اندر آیا اور پری کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔ پری کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھیرتے ہوۓ بولا ۔اٹھو پری پھر جب دو دفعہ اس کی گال کو تھپکا تو پری نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں۔ تو سامنے بیٹھے سالار کو دیکھ کر ایک دم سے اٹھ بیٹھی۔۔ اور گبھرائی سی بولی کیا ہوا۔پھر کمرے کی طرف دیکھا تو اسے یاد آیا کے وہ تو ہال میں تھی جب سالار نے اسے تھپڑ مارا تھا۔۔ پری اس اسے پہلے کے کچھ بولتی سالار نے فائیل پری کی گود میں رکھی اور جیب سے پین نکال کر اس کے سامنے کرتے ہوۓ بولا اگر تم اپنی امی کے پاس گھر جانا چاہتی ہو تو پہلے تمہیں ان پیپرز پر سائن کرنے ہوں گے ۔۔پری نے ایک دفعہ گود میں پڑی فائیل اور دوسری دفعہ سالار کو دیکھا اور بولی کیسے پیپرز ہیں یہ اور کیوں سائن کرنے ہیں ۔۔سالار مسکراتے ہوۓ بولا یہ جاننے کی تمہیں ضرورت نہیں ہے۔ پری بھنویں اچکا کر بولی اگر میں نہ کروں تو ۔۔سالار نے قہقہہ لگایا اور بولا تو میری جان مجھے تو کوئی مسلہ نہیں لیکن پھر صبح چاہے دنیا ادھر سے اُدھر ہو جاۓ تمہارا نکاح میرے ساتھ ہو گا اور قسم لے لو تمہاری امی پوری زندگی تمہارا منہ نہیں دیکھ سکیں گی ۔ اور تم ان کا ۔اب سالار دانت پیستے ہوۓ بولا اس لیے بہتر ہو گا تم چپ چاپ سائن کر دو اور آدھے گھنٹے تک اپنی ماں کے ساتھ چلی جاؤ ۔۔ اب چوائس تمہاری ہے اب پری خوشی میں ہاتھوں سے تالی بجاتے ہوۓ بولی سچی تمم نہیں آپ سچ بول رہے ہو ۔۔ سالار پری کی معصومیت پر مسکرایا اور بولا ہممم ۔۔۔ پری نے سالار کا جواب سن کر جلدی سے پین اور فائل اٹھائی ۔۔ اور بولی کدھر کرنے ہیں سائن۔ سالار نے پیپر پرانگلی لگا کر بتایا یہاں اور یہاں۔ پری نے جلدی سے سائن کئیے تو سالار نے سیکنڈ سے پہلے پری کی گود سے فائیل اٹھائی اور ایک نظر دیکھتے ہوۓ بند کر کے ایک طرف رکھی تو پری بولی بس اب تو نکاح نہیں ہوگا سالار نے صرف ہممم کی تو پری بولی اب میں امی کے پاس جاؤں گی۔۔ پری بیڈ سے نیچے اترتے ہوۓ بولی ۔۔ تو سالار بھی اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ اور پری کو دونوں بازؤں سے پکڑتے ہوے بولا ابھی کچھ دیر تک تمہاری امی اور میرے بابا آئیں گے میرا پوچھیں تو کہنا میں چلا گیا۔اور پری میں تمہیں اڑنے کی اجازت دے رہا ہوں ۔ لیکن کب تک اور کتنا اڑنا ہے وہ میں ڈیسائیڈ کرو گا ۔ فرسٹ آف آل میں تمہیں وقت دے رہا ہوں تاکہ تم اپنا مائینڈ بنا لو کے تمہاری شادی جب بھی ہو گی صرف مجھ سے ہو گی اور کسی سے سوچنا بھی مت کیوں کے وہ صرف میرے مرنے کے بعد ہی ممکن ہے۔ اس لیے ایک بات یاد رکھنا تمہیں اڑنے کی اجازت ہے لیکن کسی اور کے ساتھ نہیں ۔ اب سالار نےپری کےبازو چھوڑے اور اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کی انگلی پر پڑی انگوٹھی پر اپنا انگوٹھا پھیرتے ہوۓ بولا اسے کبھی مت اتارنا ۔اس کا مطلب ہے کے تمہاری منگنی ہو چکی ہے۔۔ اور ایک بات یاد رکھنا میں تمہیں کسی کے ڈر کی وجہ سے نہیں جانے دے رہا بلکہ اپنی مرضی سے جانے دے رہا ہوں ۔ کیونکہ میں جہاں تمہیں ٹائم دینا چاہتا ہوں وہیں میں خود کو بھی یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کے تم میرے لیے کیا ہو کیونکہ آج مجھے کسی نے کہا کے مجھے صرف وقتی ایٹریکشن ہے جو بعد میں ختم ہو جاۓ گی ۔اور جانتی ہو مجھے ڈر ہے کے اگر یہ سچ ہوا تو میں خود کو معاف نہیں کر پاؤں گا اس لیے چلو دیکھتے ہیں ۔۔ اتناکہہ کر سالار نے پری کا ہاتھ چھوڑا اور اس سے دو قدم پیچھے ہوا اور بولا ۔۔پری سوری میں تمہیں بلکل تکلیف نہیں دینا چاہتاتھا پر میں ایسا ہی ہوں مجھے جب غصہ آتا ہے تو مجھے خود بھی اندازہ نہیں ہوتا کے میں کیا کر رہا ہوں ۔ پری بلکل سکتے میں سالار کی باتیں سن رہی تھی۔۔ اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر سالار کو دیکھ رہی تھی۔اس کے لیے سالار کا یہ بلکل نیا روپ تھا۔ سالار نے پری کی طرف مسکرا کر دیکھا اور شرارتی انداز میں بولا ایسے مت دیکھو یہ نہ ہو کے میرا ارادہ بدل جاۓ ۔ ویسے ایک اور وجہ بھی ہے ۔ کے تمہیں یہ جو سب بچی بچی بولتے ہیں تو میں نے سوچا چلو تمہیں تھوڑا بڑا ہو لینے دیا جاۓ اور ہاں یہ کھانا زرا زیادہ کھانا شورع کردو تاکے تھوڑی صحت شیحت ہو اور اگلی دفعہ میرا تھپڑ کھا کر بے ہوش نہ ہو ۔ اتنا کہہ کر سالار نے آنکھ ماری تو جیسے پری ہوش میں آئی۔اور جلدی سے نظریں جھکا لئیں۔۔ سالار اگے بڑھا اور بولا کیا میں تمہیں ایک دفعہ گلے لگا سکتا ہوں ۔۔پری نے سالار کو ایک نظر دیکھا اور سر ہلکا سا ہلایا تو سالار نے آگے بڑھ کر پری کو گلے لگایا اور بولا
‏پھر یوں ہوا کے صبر کی انگلی پکڑکے ہم
‏اتنا چلے کے راستے حیران رہ گئے۔۔۔
‏اتنا کہہ کر سالار نے پری کو گال پر پیار کیا اور ایک دم سے مڑا اور مزید کچھ کہے بغیر فائیل اٹھائی اور کمرے سے نکل گیا۔ پری بت بنی وہی کھڑی تھی ۔۔ سالار جب آنکھوں سے اوجھل ہوا تو اسے لگا جیسے اس کا دل دھڑکنا بھول گیا ہو ۔ اس کے منہ سے آہ نکلی اور وہ رونے لگی۔۔ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کے وہ کیوں رو رہی ہے ۔ بس جیسے کوئی بے چینی سی ہوئی تھی۔
💖💖💖💖💖💖💖💖🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
‏شگفتہ سالار کے اپارٹمنٹ میں داخل ہوئی ۔اور پری کو آوازیں دینا شروع ہو گئی ۔ زریاب اور ایمان بھی پیچھے ہی اندر آۓ۔ وہ پورے اپارٹمنٹ میں پری کو ڈھونڈ نے لگے ۔ شگفتہ نےایک کمرے کا دروآزہ کھولا تو پری سامنے بت بنی کھڑی تھی ۔شگفتہ بھاگ کر پری کے گلے لگ گئی اور رونے لگی ۔۔پھر پری کو پیار کرتے ہوۓ بولی تم ٹھیک تو ہو نا ااتنے میں زریاب اور ایمان بھی اند آگیۓ ۔ زریاب آگے بڑھا اور اس نے پری کو ماتھے پر پیار کیا۔ اور بولا تم ٹھیک ہو بیٹا۔۔ تو پری ماں کی طرف دیکھتے ہوۓجواب میں صرف اتنا بولی ۔ امی وہ چلے گۓ ہیں ۔۔ شگفتہ نے پری کی طرف خیرت سے دیکھا کیوں کے اسے پری کے چہرے پرجو نظر آیا تھا شاید پری خود بھی اس سے واقف نہیں تھی۔۔
💖💖💖💖💖💖💖🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
شگفتہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔ وہ پری کے گال پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولی دیکھیں بھائی کس طرح نشان پڑے ہیں انگلیوں کے میری بچی کے چہرے پر پہلے تو میں شاید سالار کو معاف کر ہی دیتی پر اب تو بلکل نہیں۔۔ اۓ وہ زرہ میرے سامنے اسی طرح اس کے منہ پے بھی انگلیوں کے نشان سب کو نظر نہ آئیں تو کہنا۔۔ زریاب نے شرمندگی سے سر نیچے کر لیا اور بولا شگفتہ میں سالار کی طرف سے معافی مانگتا ہوں اتنا کہہ کر وہ اٹھا اور بولا اب میں چلتا ہوں ۔شگفتہ نےزریاب کی طرف دیکھا اور بولی نہیں بھائی آپ معافی مت مانگیں ۔ زریاب اداس سا مسکرایا اور بولا کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتانا صرف حیدر ہی نہیں میں بھی تمہارا بھائی ہوں ۔ہاں یہ الگ بات ہے کے تمہاری شادی کے معاملے میں میں نے تمہارا ساتھ نہیں دیا تھا ۔یا یوں کہہ لو اس وقت مجھے جو ٹھیک لگا میں نے کیا۔۔ لیکن تمہارے لیے میں نے کبھی غلط نہیں چاہا۔ اور یہ صرف تمہاری بیٹیاں نہیں ہیں میری بھی ہیں ۔کاش سالار صبر سے کام لیتا ایک دفعہ بس ایک دفعہ مجھ سے مشورہ تو کرتا ۔پھر ہم لوگ خود پری کو تم سے مانگتے پر غلطی تو وہ پہلے ہی کر چکا تھا ۔اب کیا کر سکتے ہیں۔۔ لیکن میں اتنا ضرور کہوں گا کے اسے معاف کر دینا کیوں کے وہ پیچھے ہٹ گیا ہے ۔۔ یقین مانو مجھے خوداس بات پر حیرت ہے ۔خیر اپنا اور بچیوں کا خیال رکھنا میں آتا جاتا رہو گا ۔ اب تم لوگ ادھر ہی رہو ۔ یہ تمہارا ہی گھر ہے کیوں کے جائیداد میں تمہارا بھی حصہ ہے ۔ہم تم پر احسان نہیں کر رہے جو تمہارا ہے وہی تمہیں دے رہے ہیں باقی۔گارڈ باہر ہیں ۔ایک گاڑی اور ڈرائیور شام تک میں بجھوا دوں گا اور کام والی بھی حویلی سے ہی آۓ گی یہاں شہروں سے کام والی بھروسہ مند نہیں ہوتی۔ زریاب نے جیب سے ATM نکال کر شگفتہ کے پاس رکھتےہوۓپری کے سر پر ہاتھ پھیرا جو ماں کی گود میں سر رکھے سو رہی تھی۔ اور خدا خافظ کہہ کر باہر نکل گیا۔۔
ایمان کمرے میں داخل ہوئی اور ماں سے بولی امی بہت پیارا گھر ہے آپ کو پتہ ہے پیچھے بڑا پیارا گارڈن بھی ہے۔
‏وہ گھر کے بارےمیں بتاتی ہوئی ماں کے پاس بیٹھ گی ۔اور ہاں امی وہ حیدر ماموں کیا کہہ رہے تھے فون پر۔۔ایمان نے ماں کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا۔۔ وہ بیٹا نہیں آ رہے ۔ اور میں نے فیصلہ کر لیا ہے کے ہم اب یہاں ہی رہیں گے کہیں اور نہیں جائیں گے۔ پری کے کالج فون ملا کر دو میں پرنسپل سے بات کرتی ہوں کے پری کی ڈیٹ شیٹ اور رولنمبر سلپ سدرہ کو دیے دیں ۔
💖💖💖💖💖💖💖🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
‏اس احمد کی وجہ سے میری بیٹی مجھ سے دور ہو گئی اور اب اسکی بیٹی کی وجہ سے میرا اکلوتا وارث میرا اکلوتا پوتا چلا گیا۔ چوہدری دلاور غصے اور غم کے ملے جلے انداز میں بولا اور دیکھو مل کر بھی نہیں گیا۔ وہ تو ولی نہ ہوتا تو کون بتاتا۔اور صوفے پر بیٹھتے ہوۓ زریاب کی طرف دیکھ کر بولا ایک بات بتا دوں میں تم لوگوں کو وہ پیار کرتا ہے اس سے ۔۔دیکھا ہے میں نے اس کی آنکھوں میں ۔۔اور تم لوگ کیا مجھے پتھر سمجھتے ہو بولو۔ اور شگفتہ کی بھی شادی کے خلاف نہیں تھا میں ۔بس زبان دے بیٹھا تھامیں ۔۔ کیسے ہٹتا پیچھے ۔پھر بھی۔۔ اب کی بار چوہدری دلاور نے بات پر زور دیتے ہوۓ کہا پھر بھی جب وہ احمد کے ساتھ نکاح کر کے آئی تو کیا میں چاہتا تو احمد اور اسے سزا نہیں دے سکتا تھا گولی مار سکتا تھا لیکن میں نے جانے دیا کے جی لیں وہ اپنی زندگی اپنی مرضی سے ۔ چوہدری دلاور نے نفی میں سر ہلایا اور بولا مگر اب نہیں بلکل نہیں سالار کے معاملے میں تو بلکل نہیں اتنا کہ کر وہ صوفے سے اٹھا اور انگلی سب کی طرف کرتے ہوۓ بولا وہ لڑکی صرف اور صرف سالار کی ہے بتا رہا ہوں میں تم لوگوں کو اور میں یہ بھی جانتا ہوں سالار کو پیچھے ہٹنے کا کس نے کہا ہے۔ اتنا یاد رکھنا میں کسی بات سے انجان نہیں ہوں۔اور سالار کی خوشی میرے لیے تم سب لوگوں سے کہی زیادہ ہے۔ سامنے بیٹھے زریاب ،آمنہ اور بی جان بس چوہدری دلاور کی باتیں سن رہے تھے ۔اور کسی کی جرات نہیں تھی کے بولتا۔
💖💖💖💖💖💖🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀پری بیٹا اٹھ گئی ہو چلو جلد سے فریش ہو کر نیچے آؤ میں ناشتہ بناتی ہو ۔ شگفتہ پری کے سر پر پیار کرتے ہوۓ بولی تو پری نے مسکراتے ہوۓ سر ہلا دیا ۔پری فریش ہو کر نیچے ہال میں آئی تو ایمان میز پر کھانا رکھ رہی تھی ۔ پری کرسی پر بیٹھتے ہوۓ بولی امی میری ڈیٹ شیٹ کا کیا ہو گا۔ شگفتہ اس کے پاس ہی دوسری کرسی پر بیٹھتے ہوۓ بولی تم فکر مت کرو پرنسپل سے میری بات ہو گئی ہے میں نے انہیں بتایا ہے کے میں عدت میں ہوں اورتم اکیلی نہیں آسکتی تو وہ سدرہ کو دے دیں ۔ اب سدرہ سے منگوا لیں گے کل ڈرائیور بھیج کر ۔ ٹھیک ہے امی اتنا کہہ کر پری کھانے میں مصروف ہو گئی۔
💖💖💖💖💖💖💖🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
‏دیکھ لیا تم نے اپنی ضد کا نتیجہ روکتا رہ گیا تھا تمہیں لیکن نہیں جی سالار صاحب کب کسی کی سننے والے ہیں انہیں تو ہر چیز اپنی مرضی سے کرنی ہے ۔بگاڑ دیا نا سب کچھ ۔ ۔۔اور جنگلی انسان شرم تو نہیں آئی تمہیں اس چھوٹی سی لڑکی کو ٹھپڑ مارتے ہوۓ۔ ولی غصے میں آگ بھگولہ ہوتے ہوۓ بولا تھا۔۔ سالار ولی کی طرف بھنویں اٹھا کر دیکھتے ہوۓ بولا اس چھوٹی سی لڑکی نے پہلے مجھے تھپڑ مارا تھا۔ اور کوئی چھوٹی شوٹی نہیں ہے وہ تم لوگوں کی وجہ سے سب بگڑ گیا۔۔ولی طنزیہ مسکراتے ہوۓ بولااوووووو واہ جی واہ دیکھو تو ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری سب کچھ خود بگاڑ کر ہمیں کیوں الزام دے رہے ہو ۔۔ سالارابھی کچھ بولنے ہی لگا تھا کے دروازے پر دستک ہوئی اور ساتھ ہی حیدر اندر آگیا۔ حیدر کو دیکھ کر دونوں سلام کرتے ہوۓ اٹھ کھڑے ہوۓ۔ حیدر دونوں کو ملنے کے بعد صوفے پر بیٹھ گیا اور سالار کو مخاطب کرتے ہوۓ بولا میری بات ماننے کا شکریہ ۔ تم نے میرا مان رکھ لیا۔ سالار اداس سا مسکرایا اور بولا کوئی بات نہیں چاچو آپ نے پہلی دفعہ کچھ کہا کیسے نہیں مانتا ۔ لیکن آپ کو اپنا وعدہ یاد ہے نا۔ حیدر مسکراتے ہوۓ بولا ہمم یاد ہے لیکن ایک دو ماہ انتظار کرو ۔ سالار حیدر کی طرف آنکھیں سکیڑ کر دیکھتے ہوۓ بولا چاچو ایک مہینے کی بات ہوئی تھی۔ یہ دو کہاں سے ہو گۓ ۔ حیدر سالار کے انداز پر کھل کر ہستے ہوۓ بولا سالار تم پچھلے سات سال سے میرےساتھ ہو لیکن پہلے اور اب کے سالار میں بہت فرق ہے تم تو ایک مہینہ بھی نہیں رہے پاکستان اور اتنا بدلاؤ ۔۔ولی جو ان دونوں کی باتیں حیرت سے سن رہا تھا کمر پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہوتے ہوۓ بولا اب آپ دونوں مجھے کچھ بتانے کی تکلیف کریں گے ۔سالار نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر بٹھایا اور بولا بتاتا ہوں سب بتاتا ہوں
‏اتنا کہتے ہوۓ سالار اٹھا اور جا کر دراز میں سےوہ فائیل نکالی جس پر اس نے پری کے سائن لیے تھے ۔اور ولی کو پکڑاتے ہوۓ بولا تمہاری سب باتوں کا جواب اس میں ہے ۔۔ولی نے فائل کھولی ۔اور جیسے ہی وہ پڑھ چکا تو اس کے منہ سے نکلا what اب ولی خیرت سے سالار اور حیدر کی طرف دیکھتے ہوۓ بولا پری نے کیسے سائن کر دیئے اس پر تم نے یقیناً زبردستی کی ہو گی۔ سالار دونوں ہاتھ کھڑے کرتے ہوۓ بولا قسم لے لو بلکل زبردستی نہیں کی خود کیے ہیں اس نے ولی سر کھجاتے ہوۓ بولا اسی لیے تم مان بھی گۓ میں بھی سوچوں سالار اور پیچھے ہٹ جاۓسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ولی حیدر کی طرف دیکھ کر بولا بابا آپ سب جانتے تھے پھر بھی اپ نے اس کا ساتھ دیا حیدر پاس بیٹھے ولی کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولا تم دونوں جان ہو میری کچھ بھی کر سکتا ہوں تم دونوں کے لیے لیکن ۔احمد اور شگفتہ کی بیٹیاں بھی مجھے تم جتنی ہی پیاری ہیں ۔اب اس کا حل اس سے زیادہ بہتر نہیں ہو سکتا تھا ۔ اب بس ایک ماہ کی بات ہے سب ٹھیک ہو جاۓ گا میرا وعدہ ہے ۔
💖💖💖💖💖💖💖💖🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *