Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pari by Imama Nadeem Episode05

Pari by Imama Nadeem Episode05

🥀
‏حیدر بھائی آپ فکر مت کریں ۔ سب ٹھیک ہے ۔۔ حیدر پریشانی کے عالم میں بولا شگفتہ سچ پوچھو تو مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا ایسے کیسے معاف کر دیا بابا نے ۔۔حیدر نے لمبی سانس لی اور بولا چوہدی دلاور اپنی بیٹی کی اتنی بڑی نافرمانی اتنی آسانی سے معاف کر دے میں نہیں مانتا ۔ ۔۔۔۔( sunny zubairi😜)۔۔۔
‏اور تم زرہ مجھے یہ تو بتاؤ کہ شرط جانے بغیر تم مان کیسے گئی۔۔ شگفتہ مسکرا کر بولی بھائی زیادہ سے زیادہ کیا شرط ہو گی ۔ مجھ سے کیا کہہ سکتے ہیں بابا کچھ بھی نہیں ۔۔ بس آپ پریشان مت ہوں ۔کبھی کبھی ہمیں مسائل جتنے بڑے لگتے ہیں ۔ وہ حقیقت میں کچھ بھی نہیں ہوتے۔ اپ ریلیکس ہو جائیں۔ حیدر ماتھے کامساج کرتے ہوۓ بولا دیکھو شگفتہ میری بات دھیان سے سنو اگر بابا کوئی بھی ایسی ویسی شرط رکھیں تو مت ماننا ۔ اور ایک منٹ سے پہلے واپس آجانا۔ یا مجھے کال کرنا سمجھی ۔۔ تم اکیلی نہیں ہو بچیاں ہیں ساتھ تمہارے ۔۔ سمجھ رہی ہونا تم میری بات۔۔ جی بھائی آپ فکر مت کریں پہلی بات تو یہ کے مجھے یقین ہے ایسی کوئی بات ہو گی نہیں لیکن پھر بھی اگر ہوئی تو میں سب سے پہلے آپ کو کال کروں گی۔۔ حیدر نے اطمینان کا سانس لیا اور فون بند کر دیا۔۔
‏شگفتہ نے حیدر کو تو تسلی دے دی تھی پر اب اسے خود انجانا سا کھٹکا لگ گیا تھا کے کیا شرط ہو سکتی ہے کیوں کے اسے اتنا تو پتہ تھا کے ابھی اگراس کے باپ نے شرط نہیں بتائی۔ بعد میں سب کے سامنے بتانے کا کہا ہے تو کچھ تو ہے جو ٹھیک نہیں ۔۔واقعے ہی کچھ تو ہے جو ٹھیک نہیں اور زریاب بھائی نے بھی ابھی تک ٹھیک سے بات نہیں کی ا کھڑے اکھڑے سے ہیں ۔ شگفتہ سوچتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی اور ہال میں چلی گئی ۔ بی جان شگفتہ کو دیکھ کر بولیں ۔اچھا ہوا تم خود ہی آگئی میں بلانے ہی لگی تھی ۔شگفتہ نے ہال میں بیٹھے۔ بابا اور ماں کی طرف دیکھا اور بولی خیر تو تھی ۔۔ بابا شگفتہ کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوۓ بولے وہ سالار کا فون آیا تھا ۔کے پری کو زیادہ بخار ہے اور وہ بخار کی وجہ سے بے خوش ہو گئی تھی۔ شگفتہ گھبرا کر ہاتھ منہ پر رکھتے ہوۓ بولی اللہ خیر ۔۔۔۔۔تم پریشان مت ہوسالار اسے لے گیا ہے ۔ اور ڈاکٹر نے چیک اپ بھی کر لیا ہے پریشانی کی کوئی بات نہیں ٹھیک ہے اب وہ چوہدری دلاور کی بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کے شگفتہ پریشان سی بولی میری بات کروا دیں پری سے ۔۔۔چوہدری دلاور کچھ دیر سوچنے کے بعد بولا ۔ہممم ابھی میری بات ہوئی ہے سالار سے وہ بتا رہا تھا کے دوائی کے اثر کی وجہ سے ابھی پری نیند میں ہے ۔۔ اب کی بار چوہدری دلاور شگفتہ سے نظر چرا کر بولا ۔جب اٹھے گی تو بات کروا دوں گا ۔۔ اتنا کہہ کر چوہدری دلاور اٹھا اور جانے لگا پر روک کر بولا ۔وہ لوگ آج نہیں آئیں گے پری کی طبعیت ٹھیک ہو لے پھر آئیں گے ۔۔ اتنا کہہ کر وہ تیزی سے باہر چلا گیا۔۔۔ شگفتہ نے پاس بیٹھی بی جان کی طرف دیکھا اور بولی امی پری اکیلی ہے۔۔ بی جان شگفتہ کی طرف دیکھ کر بولیں۔ دیکھو شگفتہ اتنا بخار ہے کے بچی بے خوش ہو گئی تھی ۔اب تم ہی بتاؤ کے اس حالت میں وہ چار پانچ گھنٹے کا سفر کیسے کر سکتی ہے ۔اور پریشان مت ہو سالار ہے نا۔۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
‏پری نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں تو اس کی انکھیں جیسے دماغ کی طرف گھوم گئیں۔ اس نے سر کو دائیں بائیں حاکت دی جیسے خود کو ہوش میں لانے کی کوشش کر رہی ہو۔ اتنے میں اسے کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی تو وہ آنکھیں بند کئے ہی بولی امی امی یار میرا سر درد سے پھٹ رہاہے ۔اتنا کہہ کر وہ رونے لگی۔۔سالار اسے روتا دیکھ کر آگے بڑھا اور اس کے سر پر ہاتھ کھا اور اس کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گیا۔ اور اس کا سر دباتے ہوۓ بولا۔۔ اٹھو ۔۔۔ ابھی سالار کے منہ سے اتنا لفظ ہی نکلا تھا کے پری جیسے بجلی کی تیزی سے اچھلی اور اس سے دور ہوئی اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسے دیکھتے ہوۓ بولی تم اور اس کے بعد پری نے جب نظر گھما کر کمرے کو دیکھا تو اس کے تو حواس ہی اڑ گئے۔۔ اور بیڈ کے دوسری طرف کھسکتے ہۓ بیڈ سے اتر کر رونی سی آوازمیں بولی کہاں ں ہوں ں مم میں او اور کک کون ہوتت تم۔ سالار بیڈ سے اٹھا اور دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہوۓ بولا ۔ہممم گوڈ کویسٹن پر پوچھا کافی لیٹ ہے۔۔ دوں گا جواب میں لیکن ابھی نہیں پہلے جاؤ جا کر فریش ہو جاؤ میں کھانا لاتا ہوں وہ کھاؤ ۔ پھر سردرد کی گولی کھا لینا بخار تو تمہیں اب نہیں ہے۔ پری کچھ بولنے لگی تو سالار نے شہادت کی انگلی اپنے ہونٹوں پر رکھتے ہوۓ پری کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔۔ پری حیران سی اسے جاتا دیکھتی رہی۔
‏پری نے دو تین دفعہ زور زور سے آنکھیں جھپکیں اور دروازے کی طرف دیکھتے ہوۓ ہلکی سی آواز میں بولی اس نے مجھے اغواء کر لیا ہے۔۔😲 اب پری دوڑ کر دروازے کی طرف گئی اور ہینڈل کو گھمایا تو دروازہ کھولا تھا ۔ اس نے دروازے سے سر نکال کر دیکھا تو باہر کوئی نہیں تھا۔ پری آہستہ آہستہ قدم لیتی تھوڑی آگے بڑھی تو سامنے ہال تھا ۔ اب وہ دبے قدموں ہال تک آئی تو ایک طرف کچن میں سے سالار باہر آرہاتھا ۔اسے دیکھتے ساتھ پری نے باہر کے دروازے کی طرف دوڑ لگا دی سالار نے آرام سے کھانے کی ٹرۓ کھانے کی میز پر رکھی اور خود کرسی کھینچ کر اس پر بیٹھ گیا ۔ اور اپنی بھنوں کو اوپر کی طرف اٹھا تے ہوۓ سنجیدگی سے دروازے کے ہینڈل کے ساتھ جنگ کرتی پری کی دیکھ کر بولا اب شرافت سے ادھر آ کر کھانا کھاؤ اس سے پہلے کے میری برداشت ختم ہو جاۓ۔ سالار کی بات سن کر پری ہینڈل کو چھوڑ کر اس کی طرف دیکھتے ہوۓ بولی نہیں کھا نا مجھے کھانا تم دروازہ کھولومجھے گھر جانا ہے ۔ ورنہ اتنا شور مچاؤں گی کے۔۔۔ ابھی پری نے اتنا ہی کہا تھا کے سالار اٹھا اور تیزی سے پری کی طرف غضب ناک انداز میں آیا اسے آتا دیکھ کر پری کے باقی لفظ اس کے گلے میں ہی روک گۓ۔ سالار نے اسے بازو سے پکڑا اور کھینچتا ہوا میز تک لے گیا ۔۔ اب عزت سے بیٹھ کر کھانا کھاؤ ورنہ اگر میں نے آپنے طریقے سے کھلایا تو یقین مانو تمہیں میرا طریقہ بلکل پسند نہیں آۓ گا۔ سالار نے پری کے لیے کرسی کھینچی اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔اور ساتھ ہی بولا۔۔۔ اور چیحنے کی تکلیف مت کرنا کیوں کے میرا اپارٹمنٹ ساؤنڈ پروف ہے۔ اب پری ڈر گئی اور کرسی پر بیٹھ گئی ۔سالار سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔۔ اور پلیٹ میں کچھ کھانا ڈالا اور پلیٹ پری کے سامنے رکھتے ہوۓ بولا میرا کھانا ختم ہونے سے پہلے تمہاری پلیٹ صاف ہونی چاہیے۔ ورنہ میرے ہاتھ سے کھانا کھانے میں تمہیں ہی پریشانی ہو گی مجھے تو کوئی مسلہ نہیں ہو گا۔ سالار نے آنکھ مارتے ہوۓ کہا پری پلیٹ سے چمچ اٹھاتے ہوۓ دانت پیستے ہوۓ سرگوشی میں بولی بے شرم۔۔۔ سالار نے کھانا چباتے ہوۓ آنکھیں سکیڑی اور بولا کیا کہا زرہ دوبارہ کہو ۔پری نے نفی میں سر ہلاتے ہوۓ سر نیچے جھکا دیا اور کھانا کھانا شروع کر دیا۔ پری نے پلیٹ میں موجود سارا کھانا ختم کر دیا ۔ اور سارے کھانے کے دوران دوبارہ سالار کی طرف ایک دفعہ بھی نہیں دیکھا جب کے وہ کھاتے ہوۓمسلسل اسی کو دیکھ رہا تھا ۔ اب جب پری نے کھانا کھا کر سر اوپر اٹھایا تو سالار اسی کو دیکھ رہا تھا۔ پری اسے گھورتے ہوۓ بولی کون ہو تم ۔ سالار کرسی سے اٹھا اور برتن اٹھاتے ہے بولا جا کر سامنے صوفے پر بیٹھو میں برتن رکھ کر آتا ہوں۔ اتنا کہ کر وہ کچن میں چلا گیا اور پری زخمی شیرنی کی طرح ادھر ہی بیٹھی رہی۔ سالار واپس آیا تو اسے وہی بیٹھا دیکھ کر اس کی طرف بڑھا اور اس کو بازو سے پکڑا اور بولا تمہیں ایک دفعہ کہی بات سمجھ میں نہیں آتی ۔اور وہ اسے کھینچتا ہوا صوفے تک لے گیا پری مسلسل اپنی بازو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی ۔ جب سالار نے اسے صوفے پر دھکا دے کر گرایا اور بولا اب خاموشی سے اوردھیان سے میری بات سننی ہے ۔پری غصے سے بولی اب اگر تم نے مجھے ہاتھ لگایا تو منہ توڑ دوں گی تمہارا۔۔سالار غصے سے صوفے پر جھکا اور پری کا منہ جبڑے سے پکڑ کر بولا آپ۔ ۔۔آآآپ۔۔۔۔۔اب اگر مجھے تم کہہ کر پکارا تو زبان حلق سے کھینچ لوں گا میں تمہاری۔۔۔۔اور اگر میرے ساتھ بات تمیز کے دائرے میں رہ کر نہ کی تو یقیں مانو وہ حال کرو گا کے بات کرنا بھول جاؤ گی ۔۔۔پری روتے ہوۓ بولی چھوڑیں مجھے درد ہو رہا ہے ۔۔۔سالار نے جھٹکے سے اس کا منہ چھوڑا۔۔ اور اس کے سامنے ہی پڑے ٹیبل پر بیٹھ گیا اور بولا۔۔۔
میں سالار ہوں۔ چوہدری سالار سن آف چوہدری زریاب گرینڈ سن آف چوہدری دلاور۔۔۔ سالار نے اتنا کہا تو پری آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھتے ہوۓبولی ۔ ماموں زریاب کے بیٹے ۔۔۔سالار بھائی۔۔ سالار پری کی بات سن کر ایک دم سے دانت پیستے ہوۓ بولا بکواس مت کرو۔۔کوئی بھائی شائی نہیں ہوں میں تمہارا۔۔۔اب پری کو کچھ حوصلہ ہوا کے وہ سالار کو دھمکی لگا سکتی ہے ۔۔ اس لیے جلدی سے بولی ہممم تو کزن ہو۔۔ تو پھر تو سب کو پتہ ہے کے تم مممم مطلب آپ مجھے لینے آۓ ہیں ۔۔پری مسکرا کر بولی۔۔ تو اب میں حویلی جا کر تممم مطلب آپ کی شکایت لگاؤں گی کے یہ سلوک کیا ہے میرے ساتھ ۔۔اور امی تو دیکھنا نا کیا حال کریں گی۔ خیر منا لو بچو۔ اب پری مسلسل مسکر ا رہی تھی۔ سالار اس کی معصومیت پر مسکراتے ہوۓ بولا ہمم ابھی تو جان جا رہی تھی تمہاری اور اب بڑی بہادر بن رہی ہو۔۔ پری کھلکھلا کر ہستے ہوۓ بولی جی کیوں کے صبح حویلی میں اپ کی خیر نہیں جب سب کو اپ کی حرکتیں پتا چلیں گی آخر میں پری نے لفظوں کو چبا چبا کر بولا سالار بھائی۔ بس پھر تو ایک سیکینڈ سے پہلے سالار خوفناک چہرے کے ساتھ آگے کو جھکا اور اٹھتے ہوۓ پری کے سر کے پیچھے کے بالوں کو ہاتھ میں پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے اس کی گردن کے اگلے حصے کو اور اسے اپنے ساتھ لے کر کھڑا ہوگیا اب پری کے بس پاؤں کے انگوٹھے زمین کو لگ رہے تھے۔ سالار اس کے چہرے کے قریب ہوتے ہوۓ بولا میں نے کہا تھا بکواس مت کرو ہممم کہا تھا نا کے کوئی بھائی نہیں ہوں میں تمہارا پھر دوبارہ کیوں بولا سالار نے پری کے بالوں کو زور سے کھینچتے ہوۓ کہا تو پری کی چیخ نکل گئی۔ سالار دانت پیستے ہوۓ بولا پہلے ہی میں نے تمہاری کئی غلطیاں معاف کی ہیں لیکن اس کامطلب یہ نہیں کے بار بار کروں گا پری اب رو رہی تھی اور ایک ہاتھ سے بال اور دوسرے ہاتھ سے اپنی گردن چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔ تبھی سالار اس کے کان کے پاس آ کر بولا چلو آخری دفعہ رولز دوھراتے ہیں۔۔ رول نمبر ون۔۔۔۔مجھے بدتمیزی بلکل پسند نہیں ۔۔ رول نمبر ٹو۔۔۔۔مجھے بات دوھرانا پسند نہیں۔۔۔۔ رول نمبر تھری۔۔۔ جو انگوٹھی ابھی میں تمہیں پہناؤں گا وہ اترنی نہیں چاہیے تمہاری انگلی سے۔۔ اور رول نمبر فور ۔۔۔۔ میری ہر بات ماننی ہے مجھے انکار سننا پسند نہیں۔۔۔۔آخر میں سالار نے پری کےبالوں کو ہلکا ساپیچھے کی طرف کھینچتے ہوے کہا ۔۔ سمجھی ۔۔۔ تو پری روتے ہوۓ بولی جی۔۔پر میں اپ کی شکایت لگاؤں گی نانو اور نانا جی سے۔۔
‏سالار مسکرایا اور سر نفی میں ہلاتے ہوۓ بولا تم میرا صبر آزماؤ گی ۔۔۔ اتنا کہہ کر سالار نے پری کے بال چھوڑ دئیے اور جیب سے انگوٹھی نکالی اور اپنا ہاتھ آگے کرتے ہوۓ بولا لاؤ ہاتھ دو اپنا۔۔ پری نے کانپتے ہوۓ ہاتھ آگے کر دیا۔ سالار نے انگوٹھی پہنائی ۔ اور پری کا ہاتھ پکڑے ہوۓ بولا۔۔
‏کل صبح ہمارا نکاح ہے۔۔۔۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
💖💖💖💖💖💖🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀کل صبح ہمارا نکاح ہے۔۔
‏what کیا کیا ہے پری کنفیوز ہو کر بولی ۔۔ پری سالار کے ہاتھ سے آپنا ہاتھ چھڑواتے ہوۓ بولی دماغ تو خراب نہیں ہے تمہاااآپ کا ۔۔۔ کیا مسلہ ہے کیا چاہتے ہو۔۔۔سالار پری کے خوفزدہ چہرے کو دیکھ کر مسکراتے ہوۓ تھوڑا آگے ہوا اور ( پری کے بال جو سالار کے پکڑنے کی وجہ سے بکھر گۓ تھے۔) ان کو چہرے سے ہٹاتے ہوۓ بولا۔ دیکھو پری میں چاہتا ہوں کے تم چپ چاپ جا کر سو جاؤ اور صبح مولوی صاحب کے اگے شرافت سے تین دفعہ قبول ہے بول دو۔۔
‏نہیں بلکل نہیں ۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ مجھے امی سے بات کرنی ہے ۔ دیں میرا فون۔۔ سالار پری کو بازو سے پکڑتے ہوے بولا۔ دیکھو پری میں تمہارے ساتھ سختی نہیں کرنا چاہتا اس لیے طریقے سے سمجھ جاؤ ورنہ ۔۔ پری سالار کی بات کاٹتے ہوۓ بولی کیا ورنہ ہممم کیاورنہ۔۔۔۔ سالار دانت پیستے ہوۓ بولا ورنہ تمہاری امی اور بہن اس حویلی میں پوری زندگی بند رہیں گی۔ اور تم ان سے کبھی نہیں ملو گی ۔۔ پری یہ سن کر غصے سے سالار کو ٹانگیں اور مکے مارنے لگی ۔۔ جب کچھ نہ کر سکی تو تم گھٹیا انسان ہو کہتے ہوے سالار کو تھپڑ دے مارا ۔۔ یہ سوچے بغیر کے وہ کتنی بڑی غلطی کر بیٹھی تھی۔ سالار نے غصے سے اس کی بازو چھوڑی اور ایک زور دار تھپڑ پری کے چہرے پر دے مارا ۔ پری تھپڑ کی شدت سے چکرا کر صوفے پر جا گری سالار نے تیزی سے اسے بازو سے پکڑ کر دوبارہ کھڑا کیا اور اس کے منہ کو اپنے ہاتھ میں پکڑتے ہوۓ چیخ کر بولا
‏how dare you تمہاری ہمت کیسےہوئی مجھے تھپڑ مارنے کی ۔۔ جان لے لوں گا میں تمہاری اگر دوبارہ کبھی جرات بھی کی ایساکرنے کی۔۔سالار نے پری کا منہ اپنے ہاتھ میں بھینچتے ہوۓ کہا
‏پری کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔ بے ہوش ہونے سے پہلے سالار کے یہ آخری لفظ تھےجو اس کے کانوں تک پہنچے تھے ۔۔
💖💖💖💖💖💖💖🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
‏زریاب غصے سے آگ بگولا ہوتے ہوۓبولا بابا کچھ بھی ہو میں آپ سے بلکل متفق نہیں ہوں ۔۔غلط ہے یہ۔ بلکل غلط ٹھیک ہے مجھے بھی غصہ ہے شگفتہ پر لیکن اس کی بیٹی کا کوئی قصور نہیں ۔۔ اور یہ جو آپ اور سالار مل کر کر رہے ہیں ۔۔میں اس کے حق میں بلکل نہیں ہوں ۔۔ آپ جلدی سے پہلے سالار کو اس حرکت سے روکیں ۔۔ زریاب کی بات سن کر چوہدری دلارو سر نفی میں ہلاتے ہوے بولا سالار اسے پسند کرتا ہے ۔۔اس وقت سے جب اسے پتہ بھی نہیں تھا کے وہ شگفتہ کی بیٹی ہے۔۔ اور کیسے باپ ہو تم ۔۔تم نے اس کی بے چینی نہیں دیکھی تھی جب وہ لڑکی باپ کے مرنے کے بعد غائب ہوئی تھی۔۔ وہ لڑکی ہمارے بچے کو کمزور کر رہی ہے ۔ اور وہ پہلی لڑکی ہے جس سے سالار نے خود شادی کا کہا ہے آٹھائیس سا عمر ہو گئی ہے اس کی اس کے بعد کیا مزید اتنے سال انتظار کرو گے کہ کوئی اور لڑکی پسند آۓ اسے ہممم ۔اس لیے ان دونوں کی شادی ضروری ہے ۔۔ کل جب نکاح ہو جاۓ گا تو شگفتہ کچھ نہیں کر سکے گی۔۔اسے ہر حال میں قبول کرنا پڑے گا۔زریاب اٹھ کر کھڑا ہوتے ہوۓ بولا بابا سالار کا آپ کو پتہ ہے وہ غصے کا بہت تیز ہے ۔ اور پری بہت چھوٹی ہے ۔ وہ سالار کو بلکل ہینڈل نہیں کر پاۓ گی۔بچی ہے وہ بچی زریاب باپ کے آگے بے بسی سے بولا۔۔ دیکھو زریاب ابھی صرف نکاح ہو رہا ہے بس ۔۔اور اب تم جا سکتے ہو اور جاتے ہوے دروازہ بند کر کے جانا چوہدری دلاور نے ختمی انداز میں کہا ۔۔
دروازے کے باہر کھڑی شگفتہ جو اپنے باپ کے پاس اس لیے آئی تھی کے پری سے بات کروا دیں ۔۔ اس کے تو جیسے پاؤں کے نیچے سے زمین ہی نکل گئی تھی ۔شگفتہ ابھی واپسی کے لیے قدم ہی اٹھا نے لگی تھی کے زریاب کمرے سے باہر نکلا اور شگفتہ کی اڑی اڑی رنگت دیکھ کر اندازہ لگا لیا تھا کے شگفتہ نے اس کی اور اپنے باپ کی باتیں سن لی ہیں ابھی زریاب شگفتہ سے بات کرنے کی ہمت ہی جٹا رہا تھا کے شگفتہ پھٹ پڑی ۔۔۔۔ٹھیک کہا تھا حیدر بھائی نے اتنی آسانی سے کیسے اس حویلی والے مجھے معاف کر سکتے تھے۔۔ شگفتہ انگلی اٹھاتے ہوۓ بولی لیکن ایک بات آپ لوگ سن لیکن میری بیٹیاں میرے کئے کی سزا ہر گز نہیں بھگتیں گی کبھی نہیں۔ اتنا کہہ کر شگفتہ اپنے کمرے کی طرف بھاگی زریاب اسے آوازیں دیتا رہ گیا لیکن وہ روکی نہیں ۔ کمرے میں جا کر شگفتہ نے کمرہ لاک کر لیا اور جلدی سے فون اٹھایا اور حیدر کا نمبر ملایا۔ دو رنگ کے بعد حیدر نے فون اٹھایا تو شگفتہ روتے ہوۓ بولی بھائی آپ ٹھیک کہہ رہے تھے ۔ یہ لوگ اتنی آسانی سے کیسے معاف کر سکتے تھے پلیز بھائی میری پری کو بچالو ۔۔ شگفتہ روتی جارہی تھی اور حیدر تو جیسے سکتے میں آ گیا تھا ۔۔ حیدر سنبھلتے ہوۓ بولا شگفتہ مجھے کچھ بتاؤ گی تو بات سمجھ آۓ گی ۔۔ تم رونا بند کرو اور بات بتاؤ ۔۔ شگفتہ نے آنسو پونچھے اور حیدر کو احمد کے فوت ہونے سے پہلے انگوٹھی والا واقعہ سنایا۔ تو حیدر بولا اس بات کا کیا تعلق ہے ۔ان لوگوں سے ۔۔شگفتہ روتی ہوئی بولی وہ لڑکا سالار ہے زریاب بھائی کا بیٹا سالار ۔ اور میں نے آپ کو بتایا تھا نا کے پری کو بخار تھا اس لیے اسے گھر ہی چھوڑ آئی تھی ۔ بابا نے کہا کے سالار اسے لے آۓ گا لیکن شام سے پری کا فون بند جا رہا ہے اور بابا سے پوچھا تو انہوں نے کہا کے پری ٹھیک نہیں ہے وہ صبح آۓ گی ۔اور ابھی میں بابا کے پاس جا رہی تھی کے دروازے کے باہر سے انہیں زریاب بھائی سے بات کرتے سنا کے سالار صبح پری سے نکاح کر رہا ہے ۔ اتنا کہہ کر شگفتہ پھر سے رونے لگی۔۔۔۔۔ حیدر کچھ سیکنڈ چپ رہنے کے بعد بولا ۔۔ شگفتہ کہاں ہو تم اور کیا اکیلی ہو۔۔۔ شگفتہ جلدی سے بولی جی اپنے کمرے میں ہوں ۔۔ حیدر آرام سے بولا دیکھو شگفتہ میں ابھی ارجنٹ سیٹ بک کرواتا ہوں ۔ لیکن مجھے پاکستان پہنچنے تک کافی ٹائم لگے گا ۔۔تم فکر مت کرو سالار سے میری ملاقات کافی دفعہ ہوئی ہے بزنس کے سلسے میں اور وہ میری عزت بھی کرتا ہے۔ میں اس سے کسی طرح رابطے کی کوشس کرتا ہوں ۔۔ تم باہر جاؤ اور فون زریاب بھائی کو دو۔۔ شگفتہ اٹھی اور دروازہ کھول کر باہر نکلی تو سامنے بی جان ،آمنہ اور زریاب پریشان سے اسی کی طرف آ رہے تھے۔ شگفتہ نے فون آگے بڑھ کر زریاب کی طرف کیا اور کہا بات کریں۔ زریاب نے خیرت سے فون کو کان سے لگایا۔ اور ہیلو بولا تو حیدر ایک دم سے غصے میں بولا زریاب بھائی ایک بات میری آپ لوگ کان کھول کر سن لیں اگر غلطی سے بھی آپ لوگوں نے شگفتہ یا اس کی بیٹیوں کے ساتھ کچھ بھی غلط کیا تو قسم لے لیں میں وہ کروں گا جس کا آپ کو اندازہ بھی نہیں۔ اس لیے بہتر یہ ہی ہے کے ابھی کے ابھی شگفتہ کو شہر چھوڑ کر آئیں اور پری کو بھی ۔۔۔ آپ کے پاس صرف صبح تک کا ٹائم ہے ۔ کیوں کے ابھی میں اپنے دوست کو فون کرنے لگا ہوں جو ڈی پی او ہے اس شہر کا اگر اس نے پری کو برآمد کیا تو آپ لوگوں کی جو عزت ہے ۔۔ اس کے بارے میں آپ خود ہی سؤچ لیں کیا ہو گا ۔۔ زریآب خاموشی سے حیدر کی باتیں سنتا رہا ۔اور آخر میں اتنا کہا حیدر میں نہیں جانتا تھا یہ سب ابھی کچھ دیر پہلے پتہ چلا ہے مجھے اور میں بھی اس کے خلاف ہوں تم فکر مت کرو میں ۔ کرتا ہوں کچھ ۔۔ حیدر چلا کر بولا کچھ کرتے نہیں کریں ۔ابھی اور اسی وقت ان کو لے کر نکلیں اس حویلی سے اتنا کہتےہوۓ حیدر نے فون بند کر دیا ۔۔ زریاب نے شگفتہ کی طرف دیکھا اور بولا شگفتہ قسم لے لو میں اس سب میں بلکل شامل نہیں ہوں ۔ شگفتہ جو بی جان کے ساتھ لگ کر رو رہی تھی ۔زریاب کی طرف دیکھ کر بولی بھائی میری پری بہت چھوٹی اور نا سمجھ ہے پلیز۔۔۔ اتنا کہہ کر شگفتہ پھر سے رونے لگی۔ آمنہ نے شگفتہ کی طرف دیکھا اور آبدید ہو کر بولی شگفتہ میرا سالار پسند کرتا ہے پری کو بہت زیادہ پلیز میں تمہاری منت کرتی ہوں ۔ پری تم میرے سالار کو دے دو۔۔ آمنہ کی بات سن کر شگفتہ دانت پیسے ہوۓ بولی ۔بیٹی ہے وہ میری کوئی چاکلیٹ۔ کینڈی نہیں کے سالار نے ضد کی تو اس بہلانے کے لیے دے دی۔۔ زریاب نے لمبی سانس لی اور شگفتہ سے بولا ۔تم ایمان کو تیار ہونے کا کہو ہم لوگ شہر جا رہے ہیں ابھی اور اسی وقت۔۔ تین چار بج جائیں گے ہمیں شہر پہنچنے تک اتنا کہہ کر زریاب وہاں سے چلا گیا۔
💖💖💖💖💖💖💖💖🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
‏سالار نے فون بندکیا اور سامنے بیڈ پر پڑی پری کی طرف دیکھا اور اس کے پاس آ کر بیڈ پر بیٹھ گیا ۔ اس کے چہرے کو پکڑا اور ایک سائیڈ پر کیا تو اس کے گال پر واضح انگلیوں کے نشان تھے۔ سالار پری کا گال اپنے ہاتھ کی پشت سے سہلاتے ہو بولا ۔ تمہیں پتا ہے پری بہت سی لڑکیاں میری زندگی میں آئی خوبصورت سے خوبصورت ماڈرن امیر ہر طرح کی لیکن تم واحد ہوجو بس ایک نظر میں۔۔۔ اتنا کہہ کر سالار نے سینے پر دل والی جگہ انگلی لگاتے ہوۓ کہا۔۔ اس پتھر پر نقش ہو گئی۔بی جان کہانی سناتی تھیں ۔ کے پریاں شہزاردوں کے لیے ہوتی ہیں اور شہزادوں کے دل پتھر کے نہیں ہوتے پتھر کے دل تو جنوں کے ہوتے ہیں۔اور دیکھو میں جن نکلا۔ پریاں کبھی کسی جن کی نہیں ہوتیں اڑ جاتی ہیں جن کے پاس سے۔۔۔اور مزے کی بات جانتی ہو کے کیاہے ۔۔ اتنا کہتے ہی سالار کی انکھ سے آنسو نکلا جسے اس نے جلدی سے بھی پہلے انگلی سے پونچھ لیا۔۔ اور آنکھیں بند کرتے ہوۓ بولا۔
‏تم واقع ہی پری نکلی ۔۔ 😢
‏بدمزاج بد کردار سا بندہ ہوں
‏بہت کم لوگوں کو راس آتا ہوں۔۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *