Pari by Imama Nadeem NovelR50827
Last updated: 28 July 2026
No chapters found.
Pari by Imama Nadeem
نہیں آپ دونوں جھوٹ بول رہی ہیں۔جنت اب کی بار روتے ہوے بولی۔اور ساتھ ہی با با جانی کہتی ہوئ کمر سے باہر کو دوڈی۔ اور جا کرحاجی احمد کے سینے میں منہ چھپا کر بے حال رونے لگی۔
دروازے کے باہر سے آتی ہوئ دبی دبی ہسی کی آواز سے حاجی احمد سمجھ گۓ کہ ضرور ایمان اور سارہ نے پھر سے کوئ شرارت کی ہے ۔حاجی احمد نے جنت کے ماتھے پر پیار کیا اور بولے کیاان دونوں نے پھر سے میری پری کو تنگ کیا ہے کیا ۔جنت نے روتے ہوۓ سر ہلایا۔شگفتہ جو اب سارہ اور ایمان کا کان پکڑے کمرے مہں داخل ہوئ تھی بولی چلو میری جان بتاؤ کیا کہا ان نے ۔
جنت کے بولنے سے پہلے ہی ایمان بول پڑی امی قسم لےلو مینے کچھ نہیں کہا یہ تو سارہ اسے ڈرا رہی تھی کہ بابا تمہیں پری کہتے ہیں تو ایک دن ایک جن آۓ گا اور تمہے لے جاۓ گا۔ اور تھہیں کھا جاۓ گا۔ کیوں کہ پریوں کوتو جن لے جاتے ہیں۔سارہ ایمان کو آنکھیں نکال رہی تھی پر ایمان نے ساری بات بتا دی۔
شگفتہ نے دونوں کے کان چھوڑے اور فکر مند سی ہو کر اپنی تینوں بیٹیوں کو دیکھا اور پھر حاجی احمد کوجن کے چہرے پر فکر نمایا تھی ۔جنت نے اپنے باپ کو دیکھا اور بولی بابا جانی آپی سچ کہ رہی ہیں
حاجی احمد جنت کے سر پر پیار کرتے ہوۓ بولے پری تم بابا کی پری ہو اور بابا کی جان بھی اور جن پریوں کے بابا ہوتے ہیں جن کبھی بھی ان کے پاس نہیں آتے۔پھرانہوں نے اشارے سے سارہ اور ایمان کو اپنے پاس بلایا دونوں کو پیار کیا اور بولے بیٹا تم تینوں بابا کی جان ہو بابا اپنی بیٹیوں کی حفاظت کرتے ہیں اس لیے تم لوگ کبھی مت ڈرنا اور نہ ہی چھوٹی بہن کو ڈرانا ۔سارہ اور ایمان نے سر ہلایا اور جنت کو لے کر اپنے کمرے میں چلی گئ شگفتہ اور حاجی احمد ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دۓ لیکن دونوں کے ہی دل میں ایک انجانی سی بے چینی ضرور پیدا ہو گئ تھی ہلا نکہ وہ جانتے تھے کہ بچیاں ہیں۔ابھی ان کی عمر ہی کیا تھی سارہ بارہ سال کی ایمان دس سال کی اور پری آٹھ سال کی۔
