Pari by Imama Nadeem NovelR50827 Pari by Imama Nadeem Episode01
Rate this Novel
Pari by Imama Nadeem Episode01
Pari by Imama Nadeem Episode01
نہیں آپ دونوں جھوٹ بول رہی ہیں۔جنت اب کی بار روتے ہوے بولی۔اور ساتھ ہی با با جانی کہتی ہوئ کمر سے باہر کو دوڈی۔ اور جا کرحاجی احمد کے سینے میں منہ چھپا کر بے حال رونے لگی۔
دروازے کے باہر سے آتی ہوئ دبی دبی ہسی کی آواز سے حاجی احمد سمجھ گۓ کہ ضرور ایمان اور سارہ نے پھر سے کوئ شرارت کی ہے ۔حاجی احمد نے جنت کے ماتھے پر پیار کیا اور بولے کیاان دونوں نے پھر سے میری پری کو تنگ کیا ہے کیا ۔جنت نے روتے ہوۓ سر ہلایا۔شگفتہ جو اب سارہ اور ایمان کا کان پکڑے کمرے مہں داخل ہوئ تھی بولی چلو میری جان بتاؤ کیا کہا ان نے ۔
جنت کے بولنے سے پہلے ہی ایمان بول پڑی امی قسم لےلو مینے کچھ نہیں کہا یہ تو سارہ اسے ڈرا رہی تھی کہ بابا تمہیں پری کہتے ہیں تو ایک دن ایک جن آۓ گا اور تمہے لے جاۓ گا۔ اور تھہیں کھا جاۓ گا۔ کیوں کہ پریوں کوتو جن لے جاتے ہیں۔سارہ ایمان کو آنکھیں نکال رہی تھی پر ایمان نے ساری بات بتا دی۔
شگفتہ نے دونوں کے کان چھوڑے اور فکر مند سی ہو کر اپنی تینوں بیٹیوں کو دیکھا اور پھر حاجی احمد کوجن کے چہرے پر فکر نمایا تھی ۔جنت نے اپنے باپ کو دیکھا اور بولی بابا جانی آپی سچ کہ رہی ہیں
حاجی احمد جنت کے سر پر پیار کرتے ہوۓ بولے پری تم بابا کی پری ہو اور بابا کی جان بھی اور جن پریوں کے بابا ہوتے ہیں جن کبھی بھی ان کے پاس نہیں آتے۔پھرانہوں نے اشارے سے سارہ اور ایمان کو اپنے پاس بلایا دونوں کو پیار کیا اور بولے بیٹا تم تینوں بابا کی جان ہو بابا اپنی بیٹیوں کی حفاظت کرتے ہیں اس لیے تم لوگ کبھی مت ڈرنا اور نہ ہی چھوٹی بہن کو ڈرانا ۔سارہ اور ایمان نے سر ہلایا اور جنت کو لے کر اپنے کمرے میں چلی گئ شگفتہ اور حاجی احمد ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دۓ لیکن دونوں کے ہی دل میں ایک انجانی سی بے چینی ضرور پیدا ہو گئ تھی ہلا نکہ وہ جانتے تھے کہ بچیاں ہیں۔ابھی ان کی عمر ہی کیا تھی سارہ بارہ سال کی ایمان دس سال کی اور پری آٹھ سال کی۔















چوہدری زریاب نے سالار کے کندہے پر ہاتھ رکھا اور بولے سالار مجھے تم پر بھروسہ ہے-لیکن باپ ہونے کی حیثیت سے اج تمہاری اٹھارہویں سالگرہ پر ایک نصیحت ضرور کروں گا ۔کہ عورت کوئ بھی ہو چاہے تمہارے دشمن کی ہو اس کی عزت کرو ۔لیکن کبھی بھی کسی عورت کو آپنی کمزوری مت بنے دو ۔تمہیں جب کبھی زندگی میں لگا کہ کوئ عورت تمہارے دماغ پر یا دل پر سوار ہو رہی ہے تو اسے نکاح کرو عزت بناو کمزوری نہیں اسے سب دو محبت پیار سب لیکن ساتھ ساتھ اسے اس کی حد ضرور بتاؤ محبت کا مطلب یہ نہیں کہ وہ تمہارے سرا پر چڑھ کر ناچنے لگے ۔ عورت کو عورت ہی لگنا چاہیے۔اور اسے پتا ہونا چاہیے کے شوہر اسکا حاکم ہے ۔ تم سمجھ رہے ہو نہ چوہدری زریاب مسکراتے ہوے سالار کو دیکھ کر بولے۔ سالار جو غصے کا تیز اور کسی کو خاطر میں نہ لانے والا
اپنے باپ کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوۓ بولا
جی بابا ۔لیکن آپ فکر مت کریں میں چوہدی سالار ہوں ۔کس کی جرت نہیں کہ کوئی آپ کے بیٹے کے دل یا دماغ پر سوار ہو اور آپ کے سالار کو کمزور کرے ۔
دس سال بعد۔
پری بیٹا ضد نہیں کرتے میری جان کالج جاو شاباش تمہارے پیپر ہونے والے ہیں۔ شگفتہ نے کوئی دسوئی بار کہا تھا ۔نہیں جانا اب کی با پری نے چڑے سے انداز سے کہا ۔اف اف پری کیا کروں میں تمہارا کوئ بات تو مان جایا کرو بس اپنی ہی منواتی ہو ۔دیکھو دو تین دن بعد شاپنگ شروع کر نی ہے اور وہ بھی پہلے سارہ کی کرنی ہے دلہن کی ہو گی بعد میں باقی سب کی چلو وعدہ کرتی ہوں ساری شاپنگ میں تمہیں ساتھ لے کر جاؤں گی ۔
پکا امئ پری تو خوشی سے پاگل ہو گی ٹھیک ہے امی دو تین نہیں ایک ہفتے کے لیے روک جائیں کیوں کہ ہفتے بعد کالج والے فری کر رہے ہیں۔پھر کریں گے شاپنگ کیوں آپی اس نے خوش ہوتے ہوے سارہ کو بازوں میں بھرتے ہوۓ کہا
ہاں ہاں کالج والے اسی لیے تو فری کر رہے ہیں کہ پری صاحبہ شاپنگے کریں پیپرو کا کیا ہے وہ تو ہوتے رہیں گے ایمان پری کی پونی کھینچتے ہوۓ بولی تو سارہ پری کی گال کھینچتے ہوے بولی پری کے بغیر تو شاپنگ میں کروں گی نہیں۔ اور رہی بات تیاری کی وہ میں کروا دوں گی اپنی پیاری سی بہن کی پر ابھ اٹھو اور بھاگو کالج گاڑی والا انے والا ہے ۔
ولی نے گاڑی روکی تو سالار نے موبائل سے نظر ہٹائ اور بے زار سا ہو کر ولی کو دیکھا ۔تو وہ گھور کر دیکھتےہوے بولا۔ قربان چاچا کا گھر اندر مہلے میں ہے گاڑی وہاں نہیں جا سکتی ۔سالار کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر ولی نفی میں سر ہلاتے ہوے بولا سالار قربان چاچا غریب بندہ تھا ۔اس کا گھر ایسے ہی علاقے میں ہونا تھا نا ۔تم کیا سوچ رہے تھے کہ وہ بحریہ ٹاؤن میں رہتا ہے۔چلو ٹھیک ہے تم چیک مجھے دو میں دے آتا ہوں اس کے گھر تم نہ جاؤ۔سالار سے چیک لے کر ولی مسکراتاہوا گاڑی سے یہ کہتے ہوۓ نکلا سالار صاحب ان علاقوں میں رہنے والے غریب بھی انسان ہیں۔ تھوڑی دیربعد سالار گاڑی سے باہر نکا اور گاڑی کو ٹیک لگا کر آگے پیچھے دیکنے لگا۔اچانک اسے کسی کے ہسنے کی آواز آئئ تو بے اختیار اس نے مڑ کر دیکھا بس پھر تو جیسے سالار آنکھیں جھپکنا ہی بھول گیا اس کے سامنے ایک نازک سی لڑکی کھڑی معلوم نہیں کس بات پر دو اور لڑکیوں کے ساتھ ہسے جا رہی تھی ۔ سالار نے اس سر سے پاؤں تک دیکھا اور اسے ایسا لگا جیسے اس کے دل کی دھڑکن رک کر چلی ہو ۔وہ کالج کے سفید یونیفارم میں سادہ سی لڑکی کتنی خوب صورت لگی تھی اسے ۔
او ہیلو مسٹرسالار ولی نے سالار کے سامنے ہاتھ ہلاتے ہوے اسے مخاطب کیا تو سالار کو جیسے خوش سا آیا۔تو ولی نے ایک دفعہ سامنے کچھ فاصلے پر کھڑی لڑکیؤں کو دیکھا اور پھ سالار کو دیکھ کر پوچھا کیا ہوا۔سالار ولی کی طرف دیکھے بغیر بولا ۔ یہ جو سامنے لڑکیاں ہیں ان میں وہ گلابی بیگ والی مجھے اس کی ساری معلومات چاہیے۔ پھر مڑا اور مزید کچھ کہے بغیر گاڑی لے کر یہ جا وہ جا اور ولی خیرت سے ایک بار دور جاتی گاڑی کو اور ایک بار اس لڑکی کو دیکھ کر خیران کھڑا تھا۔ 







کالج سے تینوں ایسے نکلی جیسے قیدےبامشعقت کاٹ کر آئی ہوں ۔اف انکل جلدی کریں ۔گاڑی چلائیں۔ بہت گرمی ہے ۔جان جا رہی ہے۔بس اتنا کہنا تھا سدرہ کا۔شاہد تو پھٹ پڑا ۔ہاں ہاں گاڑی چلائیں۔گرمی ہے ۔تم لوگوں کو گھر پہنچاؤں باقی سب کو چھوڑ جا تا ہوں ہےنا۔
جنت اور ثناء کہکہہ لگا کر ہنسنے لگی اور ایک ساتھ بولیں اووووووو بےعزتیاں آج تو بےعزتیاں ہی بےعزتیاں دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسے جا رہی تھیں اور سدرہ غصے میں لال پیلی ہو رہی تھی ۔۔ہاں ہاں اڑا لو مزاق مزا آرہا ہے نا۔تم جیسی دوستوں کے ہوتے ہوۓ بھلا دشمنوں کی کیا ضرورت اور ویسے بھی ٹیچر نے اکیلی میری بےعزتی نہیں کی تم لوگوں کو بھی سنائی تھیں ۔اوووووو اچھا جی اب کی بار وہ پھر سے جب ہسی تو سدرہ نے منہ پھیر لیا۔
سب لڑکیاں جب آگئی تو شاہد نے گاڑی سٹارٹ کی تو سدرہ بولی انکل راستے میں کتابوں کی دکان کے پاس روکنا میں نے کی بک لینی ہے ۔شاہد نے ناگواری سے مڑ کر سدرہ کی طرف دیکھا۔تو جنت اور ثناء تو پاگلوں کی طرح ہسنے لگی ۔تم دونوں کی اتنی ہسی کیوں نکل رہی ہے اب کی بار شاہد جنت اور ثناء سے غصے میں بولا تو سدرہ بھی ہسنے لگی۔پاگل ہو تم تینوں شاہد اتنا کہہ کر خود بھی ان کے بچپنےپر مسکرانے لگا۔
گاڑی بک شاپ کے سامنے رکی تو شاہد نے کہا تم لوگ ادھر ہی بیٹھومجھے دو پیسے اور کتاب کا نام بتاؤ میں لے آتا ہوں.دکان پہ رش بہت ہے۔شاہد کے جاتے ہی تینوں کیری سے باہر نکل کر کھڑی ہو گئیں۔ابھی تک ان کی ہنسی کو بریک نہیں لگ رہی تھی ۔جنت تو ہس ہس کے پاگل ہو رہی تھی ۔اس بات سے انجان کہ کچھ فاصلے پر کھڑا سالار اسے دیکھ رہا ہے۔ہنستے ہنستے ثناء کی نظر ان کی طرف دیکھتے ہوۓسالار پر پڑی اور جنت اور سدرہ کا کندھا ہلاتے ہوۓ بولی دیکھو یار کتنا ہینڈسم بندہ ہے ۔جتنی دیر میں دونوں دیکھتی وہ مڑ رہا تھا۔ کہاں سے ہینڈسم ہے۔ یہ تو کوئی دہشتگرد لگتا ہے بڑے بڑے بال اور داڑھی مونچھیں زرہ دیکھو جنت منہ بناتے ہے بولی۔سدرہ اور ثنأء دونوں جنت کا خیرت سے منہ دیکھ کر بولی اچھا تو ذرہ بتاؤ کیسے ہوتے ہیں ہینڈسم ثناء نے حیرت سے پوچھا تو جنت مسکراتے ہوئے بولی میرے بابا جانی کی طرح کے 


اب ثناء اور سدرہ ہستے ہوئے بولیں ہاں ہاں بلکل بلکل تمہارےبابا جانی کی طرح ٹھیک ۔دونوں نے ہسی دباتے ہے کہا۔
سالار کن چکروں میں پڑ گیے ہو اور اوپر سے بتاتے بھی نہیں کی مسلہ کیا ہے کیوں چاہیے انفارمیشن اس لڑکی کی
جہاں تک میں تمہیں جانتا ھوں یہ تمہارا سٹائل نہیں ہے۔ کہاں لڑکیاں تمہاری ایک نظر کو ترستی ہیں۔اور تم کسی کو گھاس تک نہیں ڈالتے اور کہا تم کل اس لڑکی سے نظر نہیں ہٹا رہے تھے۔ یار مجھے تو کچھ دال میں کالا لگ رہا ہے ۔دیکھو سالار حویلی چلو اس طرح بغیر سکیورٹی کے ادھر رہنا ٹھیک نہیں ۔اور ویسے بھی ہم یہاں قربان چاچا کے گھر افسوس کے لیے آئے تھے۔ وہاں تو تم گئے نہیں۔بلکہ اور ہی چکرون میں پڑ گئے ہو ۔
سالار آپنی بھنویں اٹھا کر ولی کے سینے پر اپنی انگلی لگاتے ہوۓ بولا میں اس وقت تک یہاں سے نہیں جاؤں گا ولی جب تک اس لڑکی کی ساری انفارمیشن تم مجھے نہیں لا کر دیتے سمجھے۔ اللہ اللہ سالار وہ لڑکی تو تمہارے دماغ پر سوار ہو گئی ہے۔
خبردار ولی آج یہ کہہ دیا تم نے دوبارہ مت کہنا۔سمجھے اور ایک بات دماغ میں بٹھا لو اس دنیا میں کوئی عورت یہ جرت نہیں رکھتی کہ سالار کے دل و دماغ پر سوار ہو اب کی بار سالار غصے میں بھڑک کر بولا ۔اور اٹھ کر کمرے میں چلا گیا۔ ولی ہکا بکا رہ گیا
حاجی احمد دفتر سےواپس آۓ شگفتہ جلدی سے پانی کا گلاس لے آئی۔ لیں پانی پئیے احمد وہ پانی کا گلاس دے کر پاس ہی بیٹھتے ہوۓ بولی احمد کیا بات ہے کچھ پریشان لگ رہے ہیں ۔نہیں پریشان نہیں ہوں بس تھکاوٹ ہے تم بتاؤ۔ آئےتھے سارہ کے سسرال والے کیا بات ہوئی ۔شگفتہ لمبی سانس لیتے ہوئے بولی جی آئے تھے۔بتا رہے تھے ان کی تیاری تو مکمل ہو گئی ہے ۔احمد صرف ایک مہینہ ہے اور ہم نے ابھی کچھ تیاری نہیں کی ۔جو پیسے ہیں ان میں تو بس کپڑے ہی آئیں گے ۔
گیا تھا بینک انہوں نےکہا دس بارہ دن اور انتظار کریں۔حاجی احمد نے دھیمے سے سر جھکاتے ہوۓ کہا شگفتہ جو حاجی احمد کےمایوس چہرے کو دیکھ رہی تھی دل ہی دل میں اپنے شوہر کی پریشانی پر دکھی تھی۔احمد اٹھیں فریش ہو جائیں جا کر اور آرام کریں۔ پریشان مت ہوں اللہ سب خیر کرے گا ۔بچیاں کہاں ہیں نظر نھیں آرہی حاجی احمد نے اٹھتے ہوۓ پوچھا ۔وہ ساتھ بلقیس باجی کے گھر گئیں ہیں انہوں نے قرآن کا ختم شریف کر وانا تھا ۔بس آنے والی ہوں گی
لڑکی کا نام جنت پیار سے سب پری کہتے ہیں ۔عمر اٹھارہ سال ۔ایف ایس سی سٹوڈنٹ ۔باپ کا نام حاجی احمد پروفیسر ہیں ۔ماں کا نام شگفتہ۔دو بہنیں سارہ اور ایمان ۔بائیس تئیس سال سے کریم پورہ کے علاقے میں رہ رہے ہیں ۔اور سب سے زیادہ خیرت کی بات کہ کوئی رشتے دار نہیں نہ ماں کی طرف سے نہ باپ کی طرف سے علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ کوئی پوچھے بھی تو ٹال مٹول جاتے ہیں ۔دونوں میاں بیوی ۔اور ہاں بڑی بیٹی کی شادی کر رہے ہیں لندن سے آئی ہے فیملی اور شادی کے لیے بینک سے لون لے رہے ہیں بس یہ ہی انفارمیشن کافی ہے یا ان کے تین ٹائم کے کھانے کا مینیو بھی پتا کروں اب کی بار ولی مسکراتے ہوۓ بولا تو سالار نے ولی کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولا ۔گھر جانا ہے ان کے ۔ وجہ وجہ بتاؤ پہلے مجھے اس سارے ڈرامے کی وجہ بتاؤ ولی سالار کا ہاتھ جھٹکتے ہوۓ غصے سے بولا۔تو سالار ولی کو گلے لگاتے ہوے بولا یار تیری بھابی اور اس کے گھر والوں سے اپنا تعارف کروانے.ولی جو پہلے سے ہی سالار کی حرکتوں سے پریشان تھا ۔ بات سنتے ہی جھٹکے سے اس سے الگ ہوا اور بولا تم پاگل تو نہیں ہو سالار اس نے اپنے لفظوں پر ذور دیتے ہے کہا وہ وہ جنت یعنی پری وہ بھابی دماغ خراب ہے تمہارا کیا وہ بچی ہے نازک سی سچ مچ کسی پری کی طرح اور خود کو دیکھو ۔سالار ولی کو گھور کر کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا کیا مطلب خود کو دیکھوں بولو۔
یار میرا وہ مطلب نہیں ہے ولی نے سر نفی میں ہلاتے ہوے جواب دیا ۔دیکھو سالار وہ نازک سی ہے تم سے نہیں سنمبھالی جائے گی۔رحم کرو یار اس پر ۔سالار صوفے پر نیم دراز ہوتے ہوےمسکرا کر بولا رحم ہی کر رہا ہوں اس پر عزت دے رہا ہوں ۔اس کے گھر جاؤ گا۔ اور تم اپنے مشورے اپنے پاس رکھو نہیں جانا مت جاؤ میں اکیلا چلا جاؤں گا۔سالار نے ولی کو خبر درا انداز میں دیکھا اور آنکھیں بندکر لی ۔ولی کچھ دیر کھڑا سالار کو دیکھتا رہا وہ جانتا تھا کہ سالار کو اب روکنا ممکن نہیں ۔ٹھیک ہے کب جا نا ہے اور کیا کہو گے جا کر ولی نے سنجیدہ انداز میں پوچھا۔ تو سالار نے آنکھیں کھولی ولی کی طرف دیکھا اور بولا صبح جائیں گے اور کیا بات کرنی ہے وہ تم ساتھ ہی ہو گے سن لینا۔اتنا کہ کر سالار نے دوبارہ آنکھیں بند کر لیں
