Pari by Imama Nadeem NovelR50827 Pari by Imama Nadeem Episode03
Rate this Novel
Pari by Imama Nadeem Episode03
Pari by Imama Nadeem Episode03
کمرے میں آوازیں سن کر جنت کی آنکھ کھل گئی اس نے ایک نظر سارہ اور ایمان کی طرف دیکھا جو آپس میں باتیں کرتے ہوۓ سوٹ کیس بند کر رہی تھیں ۔جنت نے سر اٹھا کر پوچھا آپی کیا کر رہی ہیں آپ لوگ وہ بھی اتنی صبح صبح۔۔ جنت کی بات سن کر سارہ اس کے پاس آ کر بیٹھتے ہوۓ بولی ۔جنت سعد کا رات کو فون آیا تھا سیٹ بک ہو گئی ہیں ۔جنت جلدی سے اٹھ کر بیٹھتے ہوۓ رونی شکل بنا کر بولی آپی آپ سچ میں ہمیں چھوڑ کر چلی جائیں گی۔ سارہ نے مسکراتے ہوۓ جنت کو گلے لگا تے ہوۓ کہا نہیں پاگل تم لوگ بھی کچھ دنوں میں میرے پاس ہو گے سعد نے وعدہ کیا ہے کہ وہ جلد از جلد تم بس کو بلائیں گے۔
جنت نے سارہ کے کندھے پر سر رکھا اور بولی آپی مجھے بہت ڈر لگ ہر ہے ۔تو سارہ جنت کے گال پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولی میری پرئ کو کس بات سے ڈر لگ رہا ہے ۔جنت اپنی انگلی پر پڑی انگوٹھی جسے وہ پچھلے دو دن سے بھولی ہوئی تھی ۔دیکھ کر کچھ کہنے ہی لگی تھی کہ شگفتہ کمرے میں آتے ہوۓ بولی ۔تم لوگ کیا کر رہی ہو جلدی کرو ۔ابھی ناستہ بھی کرنا ہے اور سعد لوگ بھی دس بجے ادھر ہوں گے ۔چار بجے کی فلائیٹ ہے سارہ اور تم وقت ضائع کر رہی ہو اٹھو جلدی سے ۔اور تم جنت جلدی کرو ہاتھ منہ دھو کر ناشتے کی ٹیبل پہ پہنچو ۔اتنا کہہ کر شگفتہ ۔ایمان اور سارہ کو ساتھ لے کر کمرے سے چلی گئی اور جنت ایک بار پھر سے سب کچھ بھول کر واش روم چلی گئ۔
سارہ کو سعد اور اس کی امی کے ساتھ رخصت کر کے سب لیوینگ روم میں بٹھ گئے جنت اپنے باپ کے گلے لگ کر روتے ہوۓ بولی بابا جانی آپی چلی گئیں ۔تو حاجی احمد نے اس کے آنسو پونچھے اور دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوۓ بولے پری بابا کی جان اپنی آپی کے لیے دعا کرو کہ وہ ہمیشہ خوش رہے وہ اپنے شوہر کے ساتھ اپنے گھر گئی ہے ۔اور سب بیٹیوں نے ایک نہ ایک دن جا نا ہی ہوتا ہے ۔ایک دن آۓ گا جب ایمان اور پھر تم بھی اپنے شوہروں کے ساتھ چلی جاؤ گی ۔اب کی بار حاجی احمد رنجیدہ ہوتے ہوۓ بولے۔ تو ان کی نظر جنت کی انگلی پر پڑی تو حیرت سے بولے پری یہ انگوٹھی کتنی پیاری ہے ۔کہاں سے لی۔ پری نے گھبرا کر ماں کی طرف دیکھا تو شگفتہ ایک دم سے اپنے اپ کو سنبھالتے ہوۓ بولی یہ اس کی دوست سدرہ نے دی ہے اسے ۔ حاجی احمد نے جنت کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا پری بیٹا سدرہ کو یہ واپس کر دینا کیوں کہ یہ انگوٹھی کافی مہنگی لگتی ہے ۔ جنت ترچھی نظر سے ماں کودیکھتے ہوۓ بولی جی بابا جانی۔
اچھا بابا کی جان جاؤ اپنے بابا کے لیے مزے کی چاۓ بنا کر لاؤ ۔پری باپ کا گال چومتے ہے بولی ابھی لائی بابا ۔ اور اٹھ کر کچن میں چلی گئی۔حاجی احمد شگفتہ سے مخاطب ہوتے ہوۓ بولے شگفتہ زرہ کمرے میں آؤ مجھے ضروری بات کرنی ہے ۔ شگفتہ اٹھ کر حاجی احمد کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئی شوہر کو بیٹھتے دیکھ کر اسی کے پاس جا بیٹھی اور بولی جئ احمد کیا بات ہے۔ احمد نے شگفتہ کا ہاتھ پکڑا اور بولا۔ شگفتہ وہ میں نے رات کو حیدر کو فو ن کیا۔ یہ سنتے ساتھ ہی شگفتہ احمد سے ہاتھ چھڑواتے ہے کھڑی ہو گئی اور خیرت اور پریشانی سے بولی احمد کیوں کیوں کیا آپ نے اسے فون ۔احمد نے دوبارہ سے شگفتہ کو ہاتھ سے پکر کر بٹھا تے ہوۓ کیا دیکھو شگفتہ میری بات غور اور صبر سے سنو ۔ مجھے اگر کچھ ہو جاتا ہے تو شگفتہ بات کاٹتے ہوۓ بولی اللہ نہ کرے احمد آپ کو کچھ ہو ایسی بات مت کریں ۔ اگر آپ کو کچھ ہو گیا تو میں اور ہماری بیٹیاں کیا کریں گی۔شگفتہ نے سسکتے ہو کہا تو احمد بولے ہاں یہی تو میں کہہ رہا ہوں اور اسی لیے تو حیدر کو فون کیا ہے اور میری کوئی جمع پونجھی تو ہے نہیں جو تم میرے بعد اس پر گزارہ کرو ۔ اور سعد ہمارا داماد ہے پہلے ہی اس کا ہم پر بڑا احسان ہے جو اس نے خالی ہاتھ ہی ہماری بیٹی کو اپنا لیا ہے ۔اس سے زیادہ میں اس کا احسان کیسے لے سکتا ہوں ۔دیکھو حیدر پاکستان پہنچ گیا ہے ۔ اس کا میسج آیا ہے وہ شام کےوقت آۓ گا ۔ہم لوگ اس کے ساتھ چل رہے ہیں ۔ فل حال ہم لوگ یہئ شہر کے باہر اس کا گھر ہے وہاں جائیں گے بعد میں ایمان اور پری کا پاسپورٹ بنے کے بعد اس کے ساتھ لندن چلیں گے ۔اور وہی سارہ اور سعد کو بھی حیدر کے بارے میں بتائیں گے ۔شگفتہ سر دونوں ہاتھوں میں پکڑ تے ہوۓ بولی ۔احمد کیا بتائیں گے کیسے بتائیں گے ۔ہم نے کبھی ان کو کچھ نہیں بتایا۔ احمد نے بیوی کو بازوں میں بھرتے ہوے کہا سمجھ جائیں گی سمجھ دار ہیں ہماری بیٹیاں۔تم جاؤ جا کر ان کی پیکینگ کرو میں اپنی اور تمہاری پیکینگ کرتا ہوں۔
سالار ایک ہفتے سے زیادہ ہو گیا ہے ہمیں پاکستان آۓ ہم لوگ صرف پانچ دن کے لیۓ آئے تھے ۔تم یہاں ڈیرے ڈال کر بیٹھ گئے ہو کیا کرنا ہے وآپسی کا ایسے لاپرواہی سے تم بزنس تباہ کر دو گے ۔سالار لمبی سانس لیتے ہوۓ بولا ہاں احساس ہے مجھے بس پرسوں بابا لوگ آ جائیں ۔تو ان سے مل کر تمہاری بھابی والا معاملہ حل کر لیں ۔پھر چلتے ہیں۔ اب کی بار سالار نے ولی کو آنکھ مارتے ہوۓ کہا ۔تمہاری بھابی کو ساتھ لے کر۔ولی سالار کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوے بولا ۔سالار مجھے ایک بات سمجھ میں نہیں آئی کہ تم تو میڈل کلاس لوگوں سے چڑ کھاتے ہو ۔پھر ایک ہی نظر میں کیا دیکھا تم نے پری میں کے آپنی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ کر لیا۔ولی کی بات سن کر سالار کھل کر ہستے ہوے بولا ۔ہاں یار بس اچھی لگی وہ اک نظر میں ہی اور اس کی ہسی سنی تو لگا کہ شائد وہ ہسی پوری زندگی بھی سنی جاۓ تو بھی دل نہ بھرے اور زندگی بھر اسے ساتھ رکھنے کے لیے شادی ضروری ہے ۔بس اسی لیے۔۔ ۔میں دعا کرتا ہوں کہ یہ معاملہ اتنا ہی سیدھا اور آسان ہو جتنا تم سمجھ رہے ہوولی نے ہاتھ سے اپنی آنکھیں مسلتے ہوۓ کہا۔ اپنے دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈالتے ہوۓ سالار بولا کچھ بھی مشکل نہیں ہے ولی تم دیکھنا ۔وہ لوگ ہسی خوشی اپنی مرضی سے بیٹی دیں گے جب انہیں ہمارے خاندان اور اسٹیٹس کا پتہ چلے گا۔ اور ویسے بھی یہ مڈل کلاس لوگ آپنی بیٹیوں کے لیے اونچے گھروں کے رشتوں کی تلاش میں ہوتے ہیں۔اور رہی بات پری کی تو اس نے خواب میں بھی ایسی عالیشان زندگی نہیں سوچی ہو گی ۔ دنیا جہاں کی ہر نعمت اس کے قدموں میں ڈال دوں گا میں۔ ولی نے سالار کی انکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوے کہا سالار زندگی میں سب کچھ پیسہ نہیں ہوتا۔ شادی میں لڑکی کی بھی مرضی ہونی چاہیے میرے خیال سے پری کی مرضی۔۔۔۔ابھی ولی کی بات ادھوری ہی تھی کہ سالار اپنی شہادت کی انگلی اس کے سامنے کرتے ہے بولا ولی بس اس سے آگے نہیں ۔تمہیں لگتا ہے کہ مجھے پروا ہے پری کی مرضی کی ایک بات کان کھول کر سن لو کیوں کہ میں آخری بار کہوں گا پری کی مرضی My foot سمجھے اس کی شادی ہو گی تو مجھ سے اس کی مرضی سے ہو یا مرضی کے بغیر مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اس بات سے سالار اپنی بات مکمل کر کے جانےکے لیے مڑا تو ولی بولا اگر وہ کسی اور کو مطلب کسی اور سے اتنی بات سن کر سالار ایک دم سے مڑا اورسنجیدگی سے بولا۔ تو اسے اور اس کے اس کسی اور کو اپنے ہاتھوں سے مار کر قبر میں اتاروں گا اور تم یہ بات لکھ کر رکھ لو ۔
















شگفتہ فون بند کرتے ہوۓ کچن سے ہی ایمان کو آواز دیتے ہوے بولی ایمان ۔۔۔ایمان۔۔ جی امی ۔۔ ایمان بیٹا دیکھو تمہارے بابا جاگ رہے ہیں یا سو گئے۔ اگر جاگ رہے ہیں تو بتاؤ انہیں کہ سارہ لوگ جہاز میں بیٹھ گئے ہیں۔ ابھی فون آیا ہے۔ شگفتہ کی بات سن کر ایمان باپ کے کمرے کی طرف گئی اور جنت ٹی وی کا ریمورٹ رکھ کر ماں کے پاس بھاگ کر آئی اور بولی امی میری بات کروائیں نا آپی سے پلیز۔ شگفتہ کھانا پکاتے ہوۓ بولی بیٹا اس نے بتا کر فون بند کر دیا ہے اب وہ وہاں پہنچ کر فون آن کرے گی ۔پھر کر لینا بات ۔تم یہ بتاؤ پیکینگ مکمل ہے تم دونوں کی ۔تمہارے ماموں آتے ہوں گے۔ ابھی اس نے بات مکمل ہی کی تھی کہ ایمان کے چیخنے کی آواز آئی ۔شگفتہ اور پری بھاگ کر کمرے میں پہنچی تو سامنے کا منظر دیکھ کر دونوں کی چیخیں نکل گئی ۔شگفتہ نے بھاگ کر فرش پر گرے احمد کا سر اٹھا کر روتے ہے گود میں رکھا اور اسے جھنجوڑنے لگئ احمد احمد خدا کے لیے آنکھیں کھولیں شگفتہ نے باپ کے پاس بیٹھی روتی پری اور ایمان کی طرف دیکھا اور بولی جاؤ جاکر ہمسائے سے بلقیس خالہ اور سہیل چاچو کو بلاؤ ۔ایمان روتی ہوئی بھاگی۔
پورے گھر میں چیخو پکار کی آوازیں گونج رہی تھیں ۔ایمان اور پری کا برا حال تھا رو رو رو کر ۔حیدر جب احمد کے گھر کے سامنے آیا تو اس کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی ۔کانپتے کدموں سے وہ جب گھر کے اندر داخل ہو تو صفے ماتم بچھی تھی ۔اس کی نظر سیدھی شگفتہ پر جا کر روکی جو سکتے کے عالم میں سامنے پڑی چارپائی کو گھور رہی تھی۔ شگفتہ نے ایک دم سے نظر اٹھا کر دروازے کی طرف دیکھا تو چیخ مار کر بھاگی اور آ کر حیدر کے گلے لگ گئی ۔ حیدر بھائی دیکھو نا یہ کیا ہو گیا ۔احمد ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔ شگفتہ دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی۔ اور حیدر کی آنکھوں سے آنسو کسی خاموش ندی کی طرح بہہ رہے تھے۔اس نے چارپائی پر پڑے بے جان احمد کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا احمد یہ تم نے اچھا نہیں کیا۔ کم از کم میرا انتظار تو کرتے ۔ بائیس سال بعد مل رہے تھے ہم تم سے تھوڑا انتظار بھی نہ ہوا
احمد کا جنازہ ہو گیا ۔پری صوفے پر نڈھال پڑی تھی۔ ایمان حیدر اور شگفتہ کے لیے چاۓ بنا کر لائی ۔ حیدر شگفتہ کی طرف مخاطب ہوتے ہوۓبولا شگفتہ دیکھو کوئی حل نہیں تھا ہم سارہ کا انتظار نہیں کر سکتے تھے ۔ وہ لوگ اتنی جلدی کیسے آ سکتے تھے اور میت کو اتنی دیر رکھنا مناسب نہیں تھا ۔ اور ویسے بھی کچھ دنوں کی بات ہے ہم لوگ اس کے پاس ہو گے۔
















چوہدری زریاب نے سالار کو زور سے گلے لگایا اور بولا ہممم تو میرے شیر نے فیصلہ کر لیا۔ جیتے رہو ۔ سالار نے مسکرا کر باپ کو دیکھا اور پھر سامنے بیٹھی بی جان کی طرف بڑھا۔ اور ان کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور ان کے دونوں ہاتھوں کو چوم کر بولا بی جان کیسی ہیں بی جان نے سالار کا ماتھا چوما اور بولی میری چھوڑو یہ بتاؤ کب جانا ہے ہمیں ۔اپنی بہو کے گھر۔ سالار نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا جب آپ حکم کریں۔ تو بس ٹھیک ہے صبح ہم لوگ جائیں گے بی جان نے سالار کو ساتھ لگاتے ہوۓ کہا۔تو آمنہ بول پڑی پر بی جان ایسے کیسے پہلے کچھ تخفے تحائف تو لے لیں ۔کیا ہم اپنی بہو کے گھر حالی ہاتھ جائیں گے۔ بی جان مسکر کر بولی ۔آمنہ اس کے دادا نے مجھے فون پر بتا دیا تھا اس لیے میں کچھ چیزیں لے آئی ہوں دیکھ لو اور اگر کچھ کم ہیں تو کل جاتے ہوے لے جائیں گے۔ بس سب تیاری کرو صبح جانے کی۔سالار بولا بی جان میں اور ولی آج ہی نکل جائیں گے ۔اپ لوگ کل پہلے میرے اپارٹمنٹ آئیےگا وہاں سے اکٹھے جائیں گے ۔
رات کے آٹھ بج رہے تھے ۔جب ولی پریشان سا اپارٹمنٹ میں داخل ہوا تو سالار کی طرف دیکھا جو کچھ سوچ کر اکیلے ہی مسکرا رہا تھا۔ کچھ دیر وہ سالار کو دیکھتا رہا۔ پھر اسے مخاطب کرتے ہوۓ بولا سالار ایک مسلہ ہو گیا ہے سالار نے مڑکر ولی کے پریشان چہرےکی طرف دیکھا۔ تو اٹھ کھڑا ہوا کیا ہوا ولی وہ اسکی طرف دیکھتے ہوے بولا کیا ہوا۔ اپنے بالوں میں بے چینی سے ہاتھ مارتے ہوۓولی بولا سالار وہ پری کے بابا کی دو دن پہلے ڈیتھ ہو گئی ہے سالار بھویں اچکا کر بولا اووو چلو جو اللہ کی مرضی ۔کیا کئیا جا سکتا ہے ۔ چلو صبح سب جا کر افسوس بھی کر لیں گے۔ ۔سالار مسلہ یہ ہے کہ ایک دن پہلے پری لوگ گھر چھوڑ کر کہیں چلے گئے ہیں ۔ کہاں گۓ ہیں آس پڑوس والوں کو کچھ خبر نہیں ۔اور تو اور جاتے ہوۓ وہ پڑوس والی انٹی کو باقائدہ تمہارا اور میرا حولیہ بتا کر گئے ہیں ۔ اس انٹی نے دیکھتے ہی پوچھا کہ کیا میں وہ ہی انگوٹھی والا لڑکا ہوں۔ انہوں نے یہ انگوٹھی مجھے دی ہے ۔ اس انٹی نے یہ کہا کہ شگفتہ انٹی نے وآپس کرنے کو کہا تھا۔ سالار نے ولی کی ہتھیلی پر پڑی انگوٹھی کو دیکھا ۔تو اس کا خون کھول اٹھا۔ اور غصے مےکانپتے ہوۓ بولا ۔
How۔۔۔۔ dare۔۔۔۔ you۔۔۔۔ pari
How dare you۔
غصے سے چیختے ہوۓ سالار نے پاس پڑے شیشے کے میز کو پاؤں مارا جو ٹوٹ کر سارے فرش پر بکھر گیا۔ ولی آگے بڑھنے لگا تو سالار سے چیحتے ہوۓ غصے میں کہا ہمت کیسے ہوئی اس لڑکی کی انگوٹھی اتارنے کی وارننگ دی تھی مینے اسے ڈھونڈھو اسے ولی جلد سے جلد کیوں کہہ جتنی دیر سے وہ میرے سامنے آۓ گی اس کی سزا بھی اتنی زیادہ ہو گی۔ ولی میں تمہیں بتا رہا ہوں ۔ میں چھوڑوں گا نہیں اسے ایک دفعہ بس ایک دفعہ مل جانے دو اسے ٹانگے توڑ دوں گا اس کی پھر کبھی کہی جانے کے لائق نہیں رہے گی۔ سالار عضے میں پاگل ہو رہا تھا ۔ آگے بڑھ کر اس نے ولی کو آستین سے پکڑ تے ہوۓ کہا ولی اسے پتا نہیں کہ اس نے کس کی بات ٹالی ہے ۔آگ سے کھیلی ہے یہ لڑکی اب میں اسے بتاؤں گا کہ سالار کی بات نہ مانے کا کیا نتیجہ ہوتا ہے ۔
باپ کی موت نے جہاں جنت اور ایمان کو توڑ کر رکھ دیا تھا۔ وہاں پچھلے ایک ہفتے سے بستر سے لگی ماں کو دیکھ دیکھ کر دونوں نڈھال ہو رہی تھیں ۔ دونوں ماں کے ایک ایک کندھے سے لگی بیٹھی تھیں ۔ شگفتہ کا بی پی تھا کہ نیچے آنے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔ حیدر شگفتہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولا شگفتہ خود کو سنبھالو اگر تم ایسے حوصلہ ہار جاؤ گی تو بچیوں کا کیا بنے گا دیکھو کیا حالت ہو گئی ہے ان کی ۔اور ہاں میں شام کی فلائٹ سے جا رہا ہوں ۔کچھ ارجنٹ کام آ پڑا ہے آفس میں ۔۔اور ایک دو دن میں تم لوگوں کا ویزہ پروسیجر بھی مکمل ہو جائے گا ۔ شگفتہ نے حیدر کی بات سنی تو شگفتہ نے پری اور ایمان کو باھر جانے کا کہا کہ اسے ان کے ماموں سے ضروری بات کرنی ہے ۔جب لڑکیاں باھر چلی گئی تو شگفتہ مایوس چہرے اور ویران آنکھوں سے حیدر کو دیکھتے ہوۓ بولی ۔نہیں حیدر بھائی مجھے کہیں اور جانا ہے۔حیدر ایک دم سے پیچھے ہٹتے ہوۓ بولا تمہارا دماغ خراب ہے پاگل ہو گئی ہو تم وہاں نہیں جا سکتی تم۔۔۔بھول گئی سب کچھ ۔تمہیں لگتا ہے کہ وہ لوگ تمہیں قبول کر لیں گے ۔سوال ہی نہیں پیدا ہوتا شگفتہ ۔کہ وہ ہمیں معاف کر دیں ۔کبھی نہیں وہاں نہ تم جاؤ گی نہ میں کبھی نہیں ۔۔حیدر نے حتمی انداز میں کہا تو شگفتہ نے سسکتے ہوۓ اپنا سر حیدر کے کندھے پر رکھ دیا اور بولی حیدر بھائی۔۔۔ نہ کریں معاف وہ مجھے میں بس ایک دفعہ بس ایک دفعہ اپنے بابا اور ماں کو دیکھنا چاہتی ہوں شگفتہ نے منت کرتے ہوۓ حیدر کو کہا۔ ۔تو حیدر شگفتہ کے سر پر پیار کرتے ہوۓ بولا۔ وہ لوگ نہیں معاف کریں گے تکلیف ہو گی تمہیں وہاں جا کر مان جاؤ میری بات۔ شگفتہ نے حیدر کے کندھے سے سر اٹھایا اور اس کی طرف دیکھتے ہوۓ بولی حیدر بھائی بس ماں بابا کو دیکھنا ہے اپنا دکھ سنانا ہے بتانا ہے کہ ان کی بیٹی اجڑ گئی۔ اتنا کہہ کر شگفتہ پھر سے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ تو حیدر نے تسلی دیتے ہوۓ کہا ٹھیک ہے کل ڈرائیور لے جاۓ گا ۔تم لوگوں کو ۔ مگر وعدہ کرو ۔وہاں سے نکل کر وآپس ادھر ہی آؤ گی۔ تمہارا یہ بھائی ہمیشہ تمہارے ساتھ تھا اور رہے گا۔ اتنا کہہ کر حیدر کمرے سے باہر نکل گیا۔
کچھ دیر بعد ایمان اور پری کمرے میں آئی تو شگفتہ نے انہیں اشارہ کرتے ہوۓ اپنے پاس بلایا۔ اور بولی آج میں تم لوگوں کو کچھ بتنا چاہتی ہوں ۔اپنے اور تمہارے ابو کے بارے میں ۔ پھر پری کی طرف دیکھ کر بولی اور جب میں بات کر رہی ہوں تو چپ کر کے سننا ہے درمیان میں بولنا بلکل نہیں ۔شگفتہ کو پتہ تھا کہ پری درمیان میں بولے بغیر نہیں رہے گی اور سوالوں کی لائین لگا دے گی ۔جی امی پری نے سر ہلاتے ہوۓ کہا۔ شگفتہ نے ایک لمبی سانس کھینچی اور بولی۔
چوہدری دلاور اور چوہدری مشتاق دونوں بہت اچھے دوست تھے ۔اتنے کہ ایک دوسرے پر جان دیتے تھے۔ دونوں نے یہ فیصلہ کیا کہ دوستی کو رشتے داری میں بدلہ جاۓ چوہدری دلاور کےدو بیٹے اور ایک بیٹی تھی جبکہ چوہدری مشتاق کا ایک بیٹا جس کے لیے اس نےچوہدری دلاور سے اس کی بیٹی کا رشتہ مانگا چوہدری دلاور نے بیٹی سے پوچھے بغیر دوست کو ہاں کر دی ۔ پری ایک دم سے بات کاٹتے ہوے بولی امی وہ لڑکی آپ تھی ۔ شگفتہ نے پری کی طرف دیکھا اور بولی ہاں میں تھی۔ تو پھر وہ لڑکا بابا جانی تھے پری نے سوچتے ہوۓ کہا ۔شگفتہ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولی نہیں وہ تمہارے بابا نہیں تھے۔ اتنا کہہ کر شگفتہ نے پری کو ڈانٹتے ہوے کہا اب درمیان میں مت بولنا پہلے سن لو سب باتوں کے جواب مل جائیں گے تمہیں ۔
شگفتہ نے اداس ہوتے ہوے کہا ۔میرے بابا نے ہاں کر دی مگر میں تمہارے بابا کو چاہتی تھی ۔احمد میرے ماموں کے بیٹے تھے ۔ وہ بھی پسند کرتے تھے۔ گھر میں شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں ۔میں نے بابا سے کہا کہ مجھے احمد سے شادی کرنی ہے تو انہوں نے صاف منع کر دیا بڑے بھائی نے بھی ڈانٹ کر چپ کروا دیا کہ زبان دی ہے بابا نے اب وہ پیچھے نہیں ہٹ سکتے ۔پھر میں نے تمہارے چھوٹے ماموں حیدر سے کہا ۔حیدر نے سب کو بہت منانے کی کوشیش کی پر کوئی نہ مانا تو حیدر نے چھپ کر میرا نکاح تمہارے بابا سے کروا دیا ۔ جب ہم نکاح کر کے واپس آے تو تمہارے نانا نے ہمیں گھر اور اپنی زندگی سے نکال دیا یہ کہہ کر کہ میں اور حیدر ان کے لیے اور وہ ہمارے لیے مر گئے ۔ شگفتہ بات سناتے ہوۓ اپنی سسکیاں دبا کر رو بھی رہی تھی۔ اور پھر ہم لوگ تمہارے ددیال گۓ تو انہوں نے بھی وہی سلوک کیا ۔ پھر تمہارے بابا مجھے لے کر وہاں سے دور آگۓ۔اور تمہارے حیدر ماموں واپس لندن چلے گئے کیوں کے وہ وہاں پڑھ رہے تھے ۔وہ میری شادی کے لیے پاکستان آۓ تھے ۔ اس سب کے بعد پھر کبھی ہم لوگ واپس نہیں گۓ نہ ہی پھر تمہارے حیدر ماموں کبھی پاکستان آۓ ۔ اب بھی تمہارے بابا نے کال کر کے بلوایا تھا ۔ پری اچھلتے ہوۓ بولی اللہ امی ہمارے اتنے زیادہ رشتے دار ہیں اور اپ نے کبھی بتایا ہی نہیں ۔ شگفتہ پری کی بات سنی ان سنی کرتے ہوۓ بولی ۔۔ کل ہم لوگ تمہارے نانا لوگوں سے ملنے جائیں گے ۔ پری یہ سنتے ساتھ ہی ماں کے گلے لگ گئی اور بولی امی اپ فکر مت کریں میں نانا ابو کو منا لوں گی چٹکی بجا کر ۔ شگفتہ نے پری کی کسی بات کا جواب نہیں دیا کیوں کہ وہ یقین اور بے یقینی کے درمیان تیر رہی تھی اسے خود نہیں پتہ تھا کہ کل کیا ہو گا۔ ۔۔۔
آمنہ کمرے میں آئی تو پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا آگے بڑھ کر اس نے لائیٹ آن کی تو بیڈ پر آوندھے منہ پڑے سالار کو دیکھ کر اس کے منہ سے آہ نکل گئی اگے بڑھ کر اس کے پاس بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ بولی سالار میرے شیر یہ کیا حالت بنا رکھی ہے ایسا مت کرو تمہاری یہ حالت دیکھ کر میرا دل گھبراتا ہے ۔چلو اٹھو جلدی کرو ۔تمہارے دادا بلا رہے ہیں تمہیں ۔وہ جس بندے کو انہوں نے تلاش کے لیے لگایا تھا وہ آیا تھا ۔مجھے لگتا ہے۔کچھ پتہ چلا ہے اس لڑکی کے بارے میں۔ ماں کی بات سن کر سالار جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گیا اور بولا کیا واقعہ ہی۔اس نے سوالیہ نظروں سے مان کو دیکھا تو آمنہ نے سر ہلا دیا۔ کہاں ہیں دادا اس نے جلد سے اٹھتے ہوۓ پوچھا۔ تو آمنہ نے کہا اسٹڈی روم میں ۔ سالار سنتے ساتھ ہی کمرے سے ہڑبڑاہٹ میں نکلا اور سیدھا اسٹڈی روم کے باہر جا کر رکا ۔اور دروازے پر دستک دی تو اندر سے دادا نے کہا آجاؤ۔ سالار اندر گیا تو بولا دادا کیا اطلاع ہے کچھ پتا چلا۔ دادا نے اپنا منہ دونوں ہاتھوں میں چھپاتے ہوۓ صرف ہممم کیا ۔تو سالار بےچینی سے دادا کے پاس بیٹھتے ہے بولا تو بتائیں نا۔ دادا نے پاس پڑی فائیل سالار کو تھماتے ہوۓ کہا اس میں ساری معلومات ہیں ان کے دادا پر دادا تک ۔تو ولی خیرانی سے بولا مگر دادا جان ان کا تو کوئی رشتے دار نہیں ہے۔ دادا افسردہ سے مسکراۓ اورآہ بھر کر بولے ۔تم دیکھ لو اور زیادہ خیران ہونے کی ضرورت نہیں ۔ اور ہاں ابھی پتہ نہیں چلا کہ کہاں گئی ہیں کل تک وہ بھی پتہ چل جاۓ گا دادا کی بات سن کر سالار فائیل پاس پڑی میز پر رکھتے ہوۓ بولا دادا مجھے اس کے دادا پر دادا سے کوئی مطلب نہیں ہے مجھے بس اس کا پتہ چاہیے۔دادا سالار کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے پہلے فائیل کھولو ۔سالار نے دانت پیستے ہوے فائیل اٹھائی اور کھول کر اسے پڑھنے لگا سالار جیسے جیسے فائیل میں موجود انفارمیشن دیکھتا تو ایک دفعہ دادا کی طرف اور ایک دفعہ فائیل کی طرف دیکھتا۔
فائیل بند کرتے ہۓ سالار بولا اسی لیے میں بھی کہوں کہیں دیکھی دیکھی لگتی ہے اس کی امی ۔۔سالار نے لمبی سانس لی اور سولیہ نظروں سے دادا کو دیکھتے ہوۓ بولا دادا جان اب ؟۔دادا مسکراۓ اور بولے مجھے اندازہ ہے کہ وہ کس کے ساتھ ہوں گی ماں بیٹیاں۔۔۔ بس کل تک کا انتظار کرو کل اطلاع مل جاے گی ۔دادا نے سالار کا چہرہ چوما اور بولے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میرا پوتا کوئی خواہش کرۓ اور وہ پوری نہ ہو ہمم۔ چلو جاؤ اور جا کر اپنی حالت ٹھیک کرو۔ اور ولی کو کال کرو اسے پہلے ہی تم نے اکیلا واپس بھیج دیا ہے ۔وہ اکیلا وہاں آفس سنبھال رہا ہے ۔بات کرو اس سے کام ہے اسے ۔ جاؤ۔ اور ہاں باقی سب گھر والوں کو بھیجو مجھے ان سے بات کرنی ہے ۔
