Pakeeza Mohabbat by Noor Fatima NovelR50576 Pakeeza Mohabbat (Last Episode)
Rate this Novel
Pakeeza Mohabbat (Last Episode)
Pakeeza Mohabbat by Noor Fatima
آج روحان آفس میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ کیسے احمد رضا کے خلاف ثبوت اکٹھے کرے, تو اسے خیال آیا کہ رامو کاکا کو کچھ پتہ ہو گا, کیونکہ وہ بہت پرانے ملازم تھے۔ جو اسکے سگے باپ کے زندہ ہونے کے وقت سے آفس میں کام کر رہے تھے۔
”رامو کاکا کو بھیجو۔“ روحان نے وہاں پر کام کرنے والے ملازم سے کہا۔
”جی روحان بیٹا۔ آپ نے بلایا؟“ رامو کاکا نے آکر کہا۔
”جی کاکا بیٹھیں مجھے آپ سے کچھ کام تھا۔“
”جی بیٹا بولو کیا کام تھا؟“ رامو کاکا کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہنے لگے۔
”مجھے آپ سے یہ پوچھنا تھا کہ میرے ابو کی ڈیتھ کیسے ہوئی تھی؟ کیا آپ کو پتہ ہے انہیں کس نے قتل کیا تھا اور کیوں؟ کیا وجہ تھی قتل کرنے کی؟“
”بیٹا اتنے سالوں بعد کیوں پوچھ رہے ہو؟“ رامو کاکا حیران تھے کہ اتنے سالوں پرانی بات روحان کیوں پوچھ رہا ہے؟
”کیونکہ مجھے شک ہے میرے باپ کا قاتل اور کوئی نہیں بلکہ میرا سوتیلا باپ احمد رضا ہے۔ کیا یہ سچ ہے؟ پلیز کاکا مجھے سب سچ بتائیں۔ مجھے یقین ہے آپ کو پتہ ہو گا۔“
”بیٹا ہاں یہ بات سچ ہے کہ احمد رضا نے ہی سکندر اعلم کا قتل کروایا ہے۔ تمہاری ماں اور احمد رضا ملے ہوئے تھے۔ ایک دن احمد رضا آفس آیا تھا سکندر اعلم سے ملنے کے لئے۔ ان کا کسی بات پر جھگڑا ہو رہا تھا۔ تو میں دروازے کے باہر کھڑا ہو کر سننے لگ گیا۔
احمد رضا سکندر اعلم کو دھمکی دے رہا تھا کہ اگر تم نے اپنی پراپرٹی میرے نام نہیں کی تو میں تمہارے بیوی بچے کو مار دوں گا۔ تو سکندر اعلم نے پراپرٹی کے کاغذات پر سائن کر کے پراپرٹی اس کے نام کر دی۔ اگلے دن ہی سکندر اعلم کی موت ہوگئی تھی۔ کچھ وقت بعد احمد رضا نے سکندر اعلم کی بیوی سے شادی کرلی اور آفس آنے لگا۔ ایک دن تمہاری ماں بھی اس کے ساتھ آفس آئی تھی۔ میں اندر کچھ کام سے جارہا تھا کہ کمرے سے ہنسنے کی آوازیں آنے لگیں۔ وہ دونوں میاں بیوی ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے۔ احمد رضا نے کہا بیچارہ سکندر اعلم کتنی دردناک موت مرا۔ میں نے جب یہ سنا تو اپنا فون نکال کر ریکارڈنگ کرنے لگا۔ اس ریکارڈنگ میں احمد رضا نے خود اپنے جرم کا اقرار کیا ہے۔ میں یہ ریکارڈنگ لے کر پولیس کے پاس گیا۔ پولیس آفیسر نے احمد رضا کو گرفتار بھی کروا لیا تھا۔ مگر احمد رضا نے اپنے ساتھیوں کے ذریعے اس پولیس والے کو مروادیا اور جیل سے رہا ہو گیا۔ اس کے بعد سے میں نے آج تک کبھی کسی کو سچ نہیں بتایا۔ میں ڈرتا تھا کہ کہیں وہ میرے گھر والوں کے ساتھ کچھ غلط نہ کردے اس لیے میں نے یہ راز ,راز ہی رہنے دیا۔“
”کیا وہ ریکارڈنگ ابھی بھی آپ کے پاس ہے؟“
”ہاں بیٹا وہ ریکارڈنگ میں نے سنبھال کر رکھی ہے۔ میں نے سوچا کہ کبھی تو احمد رضا کو سزا دلواٶں گا۔ اس نے میری جان سے زیادہ عزیز دوست سکندر اعلم کا قتل کروایا تھا۔“ رامو کاکا نے اپنے موبائل سے ریکارڈنگ نکال کر روحان کو سنائی۔
” شکریہ رامو کاکا اب دیکھنا میں کیسے اس کو اندر کرواتا ہوں۔“
روحان وہ ریکارڈنگ لے کر پولیس اسٹیشن پہنچا اور احمد رضا کو گرفتار کروادیا۔
کورٹ نے احمد رضا کو دو دو قتل کرنے کے جرم میں پھانسی کی سزا سنائی اور صوفیہ بیگم کو پانچ سال قید کی سزا ملی۔
________________________
آج ادیبہ بہت خوش تھی کیونکہ اس کی جان سے پیارے بھائی کو آج انصاف ملا تھا۔
”تھینک یو سو مچ روحان۔“ روحان کمرے میں آیا تو ادیبہ فوراً اس کے گلے لگ گئی۔
”وہ کس خوشی میں؟“
”آپ نے میرے بھائی کے قاتل کو سزا دلوا دی, اس خوشی میں۔“
”اچھا جی میں تو سمجھ رہا تھا ایسے ہی بول رہی ہو۔“
روحان نے ادیبہ کے گرد بازوؤں کا حصار باندھ لیا۔
”آئی لو یو, ادیبہ۔“
”آئی لو یو ٹو ,روحان۔“
________________________
ایک سال بعد….
آج ادیبہ کی نارمل ڈیلیوری تھی۔ روحان نے ہاسپٹل میں بھی ادیبہ کے پردے کا خیال رکھا تھا۔
روحان کھڑا ہوا رو رہا تھا۔
”بیٹا تم کیسے رو سکتے ہو؟ یہ وقت تو ہر عورت پر آتا ہے۔“ فاطمہ بیگم نے روحان کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا۔ روحان کچھ کہے بغیر ہی خاموشی سے باہر نکل گیا اور رونے لگا۔
”یا اللہ پاک اتنی تکلیف کیوں دے رہے ہو میری جان کو؟ میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے کیوں ہے؟ آج سمجھ آگیا کہ کیوں جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔“ ادیبہ کا تڑپتا ہوا چہرہ اور سوجی ہوٸ آنکھیں روحان کو پریشان کر رہی تھی۔
اگلے آدھے گھنٹے بعد اس کو بیٹی کے ہونے کی خوشخبری ملی تھی۔ اس کا چہرہ بالکل ادیبہ جیسا تھا۔ ادیبہ نے اس کا نام ریحانہ فاطمہ رکھا تھا۔ روحان سے ملتا جلتا نام تھا۔
روحان ان دونوں کو لئے گھر آ گیا۔
”تھینک یو سو مچ میری جان! مجھے اتنی پیاری سی باربی ڈول دینے کے لئے۔“ روحان نے ادیبہ کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔
”آئی لو یو سو مچ ادیبہ۔“ روحان کی آنکھیں بھیگنے لگیں تھیں۔
”آئی لو یو ٹو روحان۔“ ادیبہ نے روحان کی بھیگی آنکھیں صاف کی اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
روحان نے اپنی پاکیزہ محبت کو پاکیزہ رکھا بھی تھا۔ باہر آسمان پر چمکتا ہوا چاند ان کی پاکیزہ محبت کی گواہی دے رہا تھا۔
کسی سے محبت رکھو,
تو اسے پاکیزہ رکھو۔
تاکہ خدا بھی دیکھ کر,
کن فیکون کہہ دے۔![]()
