Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pakeeza Mohabbat by Noor Fatima

اگلے دن حمنہ نے حنین کو دیکھا تو بس اس کو دیکھتی ہی رہ گئی۔
”اُفف یار, یہ نظریں جھکا کر چلتا ہوا کتنا پیارا لگتا ہے۔“ حمنہ سارہ سے کہ رہی تھی۔
”چل آجا اس کے پیچھے چلتے ہیں۔“
”تو جا مجھے کوئی شوق نہیں ہے بےعزتی کروانے کا۔“
”مر تُو تو, میں جاتی ہوں۔“
حمنہ حنین کے پیچھے چلی گٸ۔
حنین کسی کو کال ملا رہا تھا۔ پیچھے سے کسی کی باریک نسوانی آواز آئی۔
”اسلام علیکم۔“
وہ مڑا اور ایک نظر اُس کو دیکھا۔ اور سوچنے لگ گیا کہ اس کو کہاں دیکھا ہے۔ ”ہاں یہ تو وہی ہے جو کل ٹکرائی تھی۔“ حنین نے سوچا۔
”وعلیکم السلام۔“ حنین نے جواب دے کر دوسری طرف رخ کر لیا۔
”کیسے ہیں آپ؟“ حمنہ نے اُس سے بات کرنا چاہتی تھی۔
”ٹھیک۔“ حنین نے ایک لفظی جواب کے بعد کال پر بات کرنا شروع کر دی۔
(انداز صاف ایسا تھا کہ اب آپ جا سکتی ہیں۔)
”السلام علیکم ادیبہ آپی, میں نے کارڈس کی پک سینڈ کر دی ہے آپ کے نمبر پر آپ امی سے پوچھ لیجئے گا۔ اوکے میری پیاری آپی, اللہ حافظ۔“
”مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے کیا؟“ حمنہ نے حنین سے کہا۔
”جی نہیں ,آپ کیوں پریشان ہو رہی ہیں اور جہاں تک میرا خیال پڑتا ہے میں نے آپ کو پہلی یا دوسری مرتبہ دیکھا ہے تو پھر, اور پلیز اس طرح کسی غیر لڑکوں سے بات کرنا اچھی لڑکیوں کو زیب نہیں دیتا۔“ حنین کے لہجے میں بلا کی سنجیدگی تھی, وہ کہہ کر رکا نہیں بلکہ چلا گیا۔
”کیا ہوا حمنہ۔۔۔ چلو چلیں مجھے پتہ تھا وہ یہی بولیں گے, میں نے تمہیں بتایا بھی تھا کہ دینی گھر سے ان کا تعلق ہے ,وہ غیر لڑکیوں سے فالتو بات نہیں کرتے۔“ سارہ نے حمنہ کے پاس آکر کہا۔
”سارہ ادیبہ کون ہے؟“ حمنہ کو حنین کے چہرے کی چمک یاد آئی جو ادیبہ سے بات کرتے وقت اس کے چہرے پر تھی۔
”ادیبہ ان کی بڑی بہن ہے جن کا میں نے تمہیں بتایا تھا کہ انہوں نے عالمہ کا کورس کیا ہوا ہے۔ حنین رضا ان کا بہت احترام کرتے ہیں ان ہی کی وجہ سے یہ کافی سدھرے ہوئے ہیں۔“
”سارہ مجھے ملنا ہے ادیبہ آپی سے۔“
”یار تجھے کیا ہوا ہے؟ آجا کینٹین چل کر بات کرتے ہیں۔“
”ایک حنین بھائی ہیں جو اپنی ادیبہ آپی کے دیوانے ہیں اور ایک میری دوست ہے جو اُن کی دیوانی ہے۔“ سارہ دل میں سوچ کر رہ گئی۔
”سنو حمنہ صرف ایک طریقہ ہے حنین بھائی کو پانے کا۔“
”ہاں بتا نا یار۔“
”میں تجھے ملواؤنگی ادیبہ آپی سے مگر تجھے خود کو بدلنا پڑے گا ,میرا مطلب ایسے کپڑے پہن کر تو وہاں نہیں جائے گی ان سے ملنے۔“ سارہ نے اس کے کپڑوں کو دیکھ کر کہا۔
”اچھا ٹھیک ہے میں کوئی عبایا وغیرہ پہن لوں گی۔“
”ادیبہ آپی کی چھوٹی بہن حیا آپی یہاں پڑھتی ہیں۔ آجا اُن سے بات کرتے ہیں وہ ملوا دیں گی ہمیں ادیبہ آپی سے۔“
وہ دونوں حیا کے ڈیپارٹمنٹ گئی اور حیا کو ڈھونڈنے لگیں۔ اُنھیں حیا ایک سیٹ پر بیٹھی ہوئی نظر آئی, تو دونوں اس کے پاس چلی گئیں۔
”اسلام علیکم حیا آپی۔“ سارہ نے سلام کیا۔
”وعلیکم السلام ,سارہ کیسی ہو؟“
”الحمد لله میں بالکل ٹھیک ہوں, آپ کیسی ہیں؟“ سائرہ نے کہا۔
”میں بھی اللہ کا شکر ہے ٹھیک ہوں۔“
”حیا آپی ہمیں آپ سے کچھ کام تھا۔“
”ہمم بولو کیا کام تھا؟“
”وہ دراصل یہ میری دوست حمنہ ہے اسے ادیبہ آپی سے ملنا ہے, اسکو دین سیکھنے کا بہت شوق ہے۔ آپ پلیز ادیبہ آپی سے پوچھ کر بتا دیں کہ کیا وہ اسے دین سکھا دیں گی۔“
(حمنہ سارہ کو گھور کر رہ گئی کیونکہ اسے دین سیکھنے کا کوئی شوق نہیں تھا۔)
”جی کیوں نہیں, میں آج ہی ادیبہ آپی سے پوچھ لوں گی اور آپ کو کل بتا دوں گی۔“
”شکریہ آپی۔الله حافظ“
”الله حافظ!“
اور وہ دونوں وہاں سے چلی گئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *