Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pakeeza Mohabbat (Episode 06)

Pakeeza Mohabbat by Noor Fatima

سارے بڑے روم میں بیٹھے تھے۔ کسی کے بلانے پر ادیبہ اور حمنہ بھی پہنچ گئیں۔ دونوں سلام کرتی بیٹھ گئیں۔

”بیٹا آپ کا نام؟؟“ ادیبہ کے خالو نے حمنہ سے پوچھا۔

”جی ،جی حمنہ جہانگیر۔“

”ماشاءاللہ بہت پیارا نام ہے۔ بیٹا ہم آپ کے والد سے بعد میں بات کرلیں گے, ہم نے سوچا پہلے آپ سے پوچھ لیں۔“

”جی انکل پوچھیں۔ کیا پوچھنا ہے؟“

”بیٹا کیا آپ میرے بیٹے سے شادی کریں گی؟“ حمنہ خاموش ہو گئی کیونکہ بات ہی اتنی غیر متوقع تھی۔

”خالو جان ان کا رشتہ پہلے سے ہی فِکس ہے۔“ حنین نے کہا۔

”اچھا! بیٹا معاف کرنا ہمیں پتہ نہیں تھا آپکا رشتہ فکس ہے۔“ حمنہ حیران تھی اس کا رشتہ کب فکس ہوا۔

”انکل! کوئی بات نہیں۔“ حمنہ کہہ کر ادیبہ کے ساتھ کمرے سے باہر آگئی۔

حنین بھی اپنے روم میں آ گیا۔

”اس نے ایسا کیوں کہا تھا۔“ وہ خود ہی حیران تھا۔

حمنہ بھی حیران سی کھڑکی کی طرف منہ کر کے کھڑی تھی۔ ”اس نے ایسا کیوں کہا۔“ وہ سوچ رہی تھی۔

”سنیے!“پیچھے سے حنین کی آواز آئی۔

”ج..جی,,“ حمنہ نے بغیر مڑے کہا۔

”بہت معذرت چاہتا ہوں اس جھوٹ کیلیے۔ ہم آپ کو اپنی ذمہ داری پر یہاں لاۓ تھے۔ ہم نہیں چاہتے آپکو بلاوجہ یہاں کوئی پریشانی ہو۔“ اپنے دل کے برخلاف بول کر حنین نے اسے مطمئن کر دیا تھا اور چلا گیا۔

”اُففف! مجھے لگا کہیں یہ مجھ پر فدا تو،،،، توبہ استغفر اللہ یہ شیطانی سوچ۔“ وہ توبہ کرتی بیڈ کے پاس آئی اور اپنا فون اٹھایا۔ اس نے اپنے ابو کو کال کی مگر کسی نے فون نہیں اٹھایا۔ پھر اس نے ملازمہ کو کال کی۔ ملازمہ نے اسے بتایا کہ اس کے ابو کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔ اس لیے ہسپتال لے کر گئے ہیں۔ حمنہ گھبرا گئی۔ ادیبہ نماز پڑھ رہی تھی۔ حمنہ سلیمان صاحب کے کمرے میں گئی اور جاتے کے ساتھ ہی روتے ہوئے کہنے لگی۔

”انکل پلیز مجھے گھر جانا ہے۔ میرے ابو کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔“ وہ روتی ہوئی ان کو اپنی بیٹی لگ رہی تھی۔ انہوں نے حنین کو ٹکٹ بک کروانے کو کہا۔ حنین نے بڑی مشکل سے فوراً تین ٹکٹ کا بندوبست کیا۔ اور وہ تینوں سب سے مل کر رخصت ہو گئے۔

………………………………

ائیرپورٹ پہنچ کر وہ تینوں گاڑی میں بیٹھے اور فوراً ہسپتال آگئے۔ اپنے ابو کو بیڈ پر لیٹا دیکھ کر حمنہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ایک واحد رشتہ تو تھا اس کے پاس۔

”السلام علیکم! ابو۔“

”وعلیکم السلام! بیٹا۔ آپ یہاں؟ آپ تو لاہور گئی تھی نا۔“ جہانگیر صاحب حیران تھے کہ حمنہ کو کیسے پتہ چلا۔

”میں آپ کو چھوڑ کر گئی اور آپ بیمار ہوگئے۔ مجھے ملازمہ آنٹی نے بتایا ہے کہ آپکو ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔“ حمنہ روتے ہوۓ کہنے لگی۔

”بیٹا بس تھوڑا سا بلڈ پریشر بڑھ گیا تھا۔ یہ ملازمہ تو ایسے ہی بولتی ہے۔“

”جھوٹ نہیں بولیں آپ۔“

”بیٹا رونا تو بند کرو۔ ایسی عمر میں ہو جاتا ہے یہ سب۔“

ادیبہ اور حنین کھڑے ان کی باتیں سن رہے تھے۔

”اچھا بیٹا ان کو بٹھاؤ تو سہی۔“

”سوری! پلیز بیٹھیں نا۔“

”نہیں انکل ہم ٹھیک ہیں۔“ حنین نے کہا۔

” بیٹا آپ لوگ کیوں پریشان ہوۓ۔ میں زیادہ بیمار نہیں تھا۔ تو سوچا آپ لوگوں کو پریشان کرنا مناسب نہیں ہوگا۔“

”انکل کوئی بات نہیں۔ ویسے بھی کل تو ہمیں آنا ہی تھا۔ تو آج ہی آ گئے۔ اچھا انکل اب ہم چلتے ہیں۔“

”پھر کب آؤ گے؟“

”ان شاءاللہ کل آٶں گا۔“

”ٹھیک ہے بیٹا الله حافظ۔“

”اللہ حافظ“ حنین کہہ کر ادیبہ کو لیے گھر آگیا۔

________________________

”ڈیڈ مجھے ہوسٹل جانا ہے۔“ روحان ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا ہوا احمد رضا سے مخاطب ہوا۔

”کیا کرنا ہے تمھیں ہوسٹل جاکر؟ پڑھائی مکمل تو ہو چکی ہے تمہاری بہتر یہی رہے گا کہ اب تم میرا آفس جوائن کر لو۔“

احمد رضا نے دھیمے مگر سخت لہجے میں کہا۔

(وہ ہمیشہ روحان سے سخت لہجے میں بات کرتے تھے۔ ان کی اہلیہ صوفیہ بیگم بھی روحان سے اسی طرح بات کرتی تھیں۔ روحان کے ماں باپ کبھی اس کو وقت نہیں دیتے تھے اسی لئے اس کی تربیت بھی صحیح طریقے سے نہیں ہوئی تھی۔ تب ہی وہ اتنا بگڑا ہوا لڑکا تھا۔)

”میں آفس بعد میں جوائن کرلوں گا۔ ابھی مجھے ہاسٹل جانا ہے۔“ اس نے بھی ضد میں آکر کہا۔

”ٹھیک ہے جو تمہارے جی میں آئے وہ کرو۔“ احمد رضا غصے سے کہتے ہوئے وہاں سے اٹھ گئے۔ دونوں باپ بیٹے کی کبھی نہیں بنتی تھی۔

روحان سب سے مل کر ہاسٹل کیلیے نکل چکا تھا۔ وہ علم دین حاصل کرنے کے لیے نکلا تھا۔ تاکہ اسے ادیبہ مل جاۓ۔

”ادیبہ آپ صرف میری ہیں۔“ اس نے آنکھیں بند کیں اور مسکرانے لگا۔

”جب دل تمہارا اپنا ہو,

پر باتیں ساری اسکی ہوں۔

جب سانسیں تمہاری اپنی ہوں,

اور خوشبو آتی اسکی ہو۔

جب حد درجہ مصروف ہو تم,

وہ یاد اچانک آۓ تو۔

جب آنکھیں نیند سے بوجھل ہوں,

تم پاس اسے ہی پاٶ تو۔

پھر خود کو دھوکہ مت دینا,

اور اس سے جا کر کہہ دینا,

اس دل کو محبت ھے تم سے۔“

_____________________

اگلے دن حنین فجر کی نماز پڑھ کر جہانگیر صاحب سے ملنے چلا گیا۔ جہانگیر صاحب بیڈ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ حمنہ پرئیر روم میں نماز پڑھ رہی تھی۔

”اسلام علیکم انکل۔“ حنین نے آتے ہی مصافحہ کیا۔

”وعلیکم السلام بیٹا۔“

”انکل آپ کی طبیعت کیسی ہے اب؟“

”الحمد الله! اب کافی ٹھیک ہے۔ اچھا آپ سے ایک بات پوچھوں؟“

”جی پوچھیں۔“

”بیٹا آپ کا رشتہ وغیرہ…..“ انہوں نے بات ادھوری چھوڑدی۔

”نہیں انکل ابھی نہیں ہوا میرا رشتہ۔“ اس نے احترام سے کہا۔

”بہت غیرت آرہی ہے, ایک بیٹی کا باپ ہوتے ہوۓ۔ مگر بیٹا میری بات سنو گے؟“

”آپ بلاجھجک کہیں۔“ حنین نے انکا ہاتھ تھام کر کہا۔

”بیٹا حمنہ کی ماں اس کے پیدا ہونے کے وقت ہی ہمیں چھوڑ کر چلی گئی۔ تب سے میں نے اکیلے ہی حمنہ کو پالا ہے۔ مگر بیٹا اب میری عمر ہو گئی ہے۔ میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ آج ہوں کل نہ ہوا تو میری بچی کو کون سنبھالے گا۔ اسی لیے میں آپ سے پوچھ رہا تھا کہ کیا آپ میری بیٹی سے نکاح کرو گے؟ بیٹا آپ بہت دیندار ہو مجھے یقین ہے آپ میری بیٹی کو بہت عزت دوگے۔ میری بیٹی کو اور کچھ نہیں چاہیے۔ لیکن آخری فیصلہ آپ کا ہوگا۔“ یہ کہہ کر جہانگیر صاحب نے اپنے آنسو صاف کیے۔

”انکل ایک بار آپ ٹھیک ہو جائیں پھر میں اپنے امی ابو کو آپ کے گھر بھیج دوں گا۔“ حنین نے انھیںمطمئن کر دیا تھا۔

”شکریہ بیٹا۔“

_________________________

”السلام علیکم“ اگلے دن حنین سلیمان صاحب کے کمرے میں آیا اور ان کو سلام کیا۔

”وعلیکم السلام۔“

”ابّو آپ سے ایک بات کرنی تھی۔“ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ بات کی ابتداء کیسے کرے۔

”ہاں بولو، کیا بات کرنی ہے؟“

”ابو یہ بات صرف میرے اور آپ کے درمیان رہے گی۔ آپ کسی کو بھی نہیں بتائیں گے۔“

”ٹھیک ہے بولو۔“

حنین نے اپنے اور جہانگیر صاحب کے درمیان ہونے والی تمام باتیں سلیمان صاحب کو بتا دیں۔

”مگر تم تو کہہ رہے تھے کہ اس کا رشتہ فکس ہے۔“ اب کے حنین گڑبڑا گیا تھا۔

”وہ، وہ، ابو۔“ اس سے جواب نہ بن پایا۔

”مطلب میرے صاحب زادے بھی تھوڑے بہت اِِنوولو ہیں۔“ سلیمان صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔

”نہیں ابو آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔“

”اچھا پھر کوئی اور پسند ہے؟“

”نہیں ابو۔“

”اچھا ٹھیک ہے میں فاطمہ سے بات کرتا ہوں۔ پھر ہم چلے جائیں گے۔“

”شکریہ ابو۔“ حنین کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔

________________________

آج حمنہ یونیورسٹی سے آرہی تھی اس نے ادیبہ کے گھر کا رخ کیا۔ اسے ادیبہ سے سر درد کی کچھ دعائیں پوچھنی تھیں۔ وہ جا ہی رہی تھی کہ راستے میں کسی نے اس کے سامنے بائیک روکی۔

”کیا مسئلہ ہے؟ ہٹو سامنے سے۔“ حمنہ نے اس بائیک والے کو کہا۔

”اچھا نہیں ہٹوں تو؟“ وہ بائیک سے اترا اور حمنہ کے پاس آنے لگا۔ حمنہ ایک طرف سے جانے لگی اتنے میں اس نے حمنہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔ حمنہ اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی کہ سائیڈ سے گاڑی میں حنین گزر رہا تھا۔ اس نے حمنہ کو دیکھا تو گاڑی روکی۔ گاڑی سے اتر کر وہ انکے پاس آیا اور حمنہ کا ہاتھ بائیک والے سے چھڑوا کر بائیک والے کو پنچ مارا۔ وہ اچانک پنچ پڑنے پر نیچے گر گیا۔

”تیری ہمت کیسے ہوئی مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی۔“ وہ اٹھا اور اس نے حنین کا گریبان پکڑ لیا اور ان دونوں کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی۔

حمنہ ان کی لڑائی دیکھ کر ڈر گئی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ کیا کرے اتنے میں پولیس کار کا سائرن سنائی دیا۔ وہ بائیک والا اپنی بائیک لے کر بھاگ گیا۔ حنین اس کے پیچھے جاتا مگر حمنہ کی وجہ سے نہیں گیا۔ اس نے حمنہ کو کار میں بیٹھنے کا کہا۔ حمنہ کار کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ گھر پہنچ کر حمنہ ادیبہ کے روم میں چلی گئی اور ادیبہ کو سارا قصہ سنایا۔

”اوہ لگی تو نہیں حنین کو؟“ ادیبہ نے فکرمندی سے کہا۔

نہیں وہ بھاگ گیا تھا۔ اچھا آپی میرے سر میں بہت درد ہو رہا ہے آپ پلیز کوئی دعا بتا دیں۔“

“حمنہ یہ جو علاج میں تمھیں بتاؤں گی۔ یقیناً فائدہ مند ہے۔ میرا سر درد بھی اس سے ٹھیک ہوجاتا ہے۔ “

”پھر بتائیں۔“

”آپ تیل کو بسم اللہ پڑھ کر ہتھیلی میں لیجئے پھر سورة فاتحہ پڑھ کر پھونکیں اور پہلے دائیں طرف سے، پھر بائیں طرف سے لگائیں۔ اور پھر پورے سر میں لگائیں۔ پھر سات سات بارکنگی کریں۔ ان شاءاللہ درد چلا جائے گا۔ یہ سنت طریقہ بھی ہے۔“

“ٹھیک ہے ادیبہ آپی میں ایسا ہی کروں گی۔ شکریہ۔ اچھا اب میں چلتی ہوں۔“

”حمنہ کھانا کھا کر جائیے گا۔“

”نہیں ادیبہ آپی ابھی دیر ہو رہی ہے۔ ابو ویٹ کر رہے ہوں گے پھر کبھی۔ اللہ حافظ!“

”اللہ حافظ!“

”آپ کہیں تو میں آپ کو ڈراپ کردوں؟“ باہر حنین کھڑا تھا اس نے حمنہ کو دیکھ کر کہا۔

”جی نہیں میں چلی جاؤں گی۔ شکریہ!“ حمنہ کہہ کر وہاں سے چلی گئی۔

________________________

حمنہ اپنے روم کے باہر غیر معمولی شور سن کر آئی۔ سامنے لوگوں کو دیکھ کر اسے دھچکا لگا۔

کیونکہ سامنے فاطمہ بیگم ,سلیمان صاحب اور حنین بیٹھے تھے۔ اس نے فاطمہ بیگم اور سلیمان صاحب کو سلام کیا۔

”یہاں آٶ بیٹا۔“جہانگیر صاحب نے حمنہ کو اپنے پاس بٹھایا۔

”ہماری دو بیٹیاں ہیں جو حنین سے بڑی ہیں۔ سب سے بڑی کا نام ادیبہ ہے اس کا ابھی نکاح نہیں ہوا۔ اس سے چھوٹی حیا ہے۔ اس کا نکاح ہوگیا ہے۔ کچھ مہینوں کے بعد اس کی رخصتی ہے۔“

”جی مجھے بتایا تھا حمنہ نے۔ ادیبہ کی تو اتنی تعریفیں کرتی ہے حمنہ۔ ایک دن تو اس کی تعریف کرتے کرتے شام کر دی تھی۔“

”ہماری بیٹی ادیبہ ہے ہی ایسی۔“ سلیمان صاحب نے کہا۔

کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد فاطمہ بیگم نے حمنہ کو منگنی کی رسم کے طور پر انگوٹھی پہنائی اور وہاں سے چلی گئیں۔ حمنہ کو تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ اس کی منگنی ہوگئی ہے حنین سے۔ اس نے فوراً اپنے رب کا شکریہ ادا کیا۔

”یقین گہرا ہو تو ہر ان شاءاللہ، الحمد للہ ہو جاتا ہے۔“

________________________

سرخ جوڑے میں حمنہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ حمنہ اور ادیبہ دونوں ساتھ ساتھ تھیں۔ نکاح کا سادہ سا فنکشن ارینج کیا گیا تھا۔ کیونکہ رخصتی تو بعد میں ہونی تھی تو انہوں نے سوچا کہ رخصتی کا فنکشن اچھے سے کریں گے۔ ابھی سادگی سے نکاح ہو جائے۔

مولوی صاحب نے ان کا نکاح پڑھایا اور حمنہ جہانگیر حمنہ حنین بن گئی۔

سب نے مبارک باد دی۔ چھوٹا مگر خوبصورت فنکشن تھا۔ کچھ دیر بعد حمنہ سر درد کا بہانہ کر کے وہاں سے اٹھ کر اپنے روم میں آ گئی اور اکیلی بیٹھ کر رونے لگی۔ خوشی اور غم کی کیفیت پر اسے رونا آ رہا تھا۔ ایک طرف حنین سے نکاح ہونے کی خوشی تھی اور دوسری اپنے ابو کو چھوڑ کر جانے کا دکھ۔ رخصتی بعد میں ہونی تھی مگر اسے پھر بھی رونا آرہا تھا۔

تھوڑی دیر بعد اس کا فون بجنے لگا۔ لگاتار فون بجتے رہنے کے بعد اس نے بیزاری سے فون اٹھایا۔

”ہیلو!“ آگے سے کوئی جواب نہیں آیا۔

”ہیلو کون ہے؟ اب بول بھی لو۔ نہیں تو میں فون رکھ رہی ہوں۔“ اب کی بار حمنہ تھوڑا اونچا بولی۔

”السلام علیکم بیگم صاحبہ۔“ حنین کی آواز سنتے ہی وہ ڈر گئی۔

”کیا ہوا بولتی کیوں بند ہوگئی۔“

”و…وعلیکم السلام۔“ اس نے بمشکل جواب دیا۔

”ویسے اتنا غصے میں کیوں تھیں محترمہ؟“ اس کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کہے۔

”حنین کو میرا نمبر کہاں سے ملا؟“ وہ سوچ رہی تھی۔

”اب یہ مت سوچنا کہ مجھے آپ کا نمبر کہاں سے ملا آپ کا شوہر ہوں۔ نمبر ملنا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔“

”اس کو کیسے پتہ چلا کہ میں کیا سوچ رہی ہوں۔“ حمنہ نے کچھ کہے بغیر ہی کال کٹ کر دی۔ تھوڑی دیر بعد حنین دروازے سے اندر آیا حمنہ بالکل پسینے میں ڈوب گئی تھی۔

”میری بات مکمل نہیں ہوئی تھی۔ آئندہ کال مت کاٹنا۔“

حنین نے اس کے پاس آکر کہا۔

”اچھا سنو! آپ نے کھانا کھایا؟“

”ن..نہیں۔“

”اچھا پھر کھا لینا۔“

”ج..جی۔“

”اور یہ لیں یہ آپ کے لئے۔“ حنین نے اسے ایک باکس دیا اور اللہ حافظ کہہ کر چلا گیا۔ حمنہ نے اُٹھ کر وہ باکس الماری میں رکھ دیا اور فوراً کھانا کھانے چلے گئی اس کا کیا بھروسہ تھا کہ دوبارہ آجائے۔

________________________

سب چلے گئے تھے۔ حمنہ فارغ ہو کر اپنے روم میں آئی اور وہ باکس لے کر بیٹھ گئی اسے بہت تجسس تھا حنین کے دیے گئے تحفے کو دیکھنے کا۔ اس نے باکس کھولا تو اس میں بہت خوبصورت سا گولڈ لاکٹ اور ایک کتاب تھی۔ ساتھ میں ایک پرچی بھی تھی۔ جس پر لکھا تھا۔

”یہ لاکٹ ہمیشہ پہن کر رکھنا۔ مسز حنین رضا۔“ حمنہ نے پڑھا اور مسکرانے لگی۔ اور وہ لاکٹ پہن لیا۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ حنین بھی اتنا فرینک ہو سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *