Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pakeeza Mohabbat (Episode 07)

Pakeeza Mohabbat by Noor Fatima

دو سال بعد….

حمنہ اور حیا دونوں کی پچھلے سال رخصتی ہو گئی تھی۔ حمنہ اور حنین دبئی شفٹ ہوگئے تھے۔ کیونکہ حنین کی جاب دبئی میں لگ گئی تھی۔

حمنہ کے والد حمنہ کی رخصتی کے کچھ وقت بعد ہی وفات پاگئے تھے۔

ازلان اور حیا کی ایک سال پہلے بیٹی ہوئی تھی۔ جس کا نام حیا نے ضد کرکے ادیبہ سے رکھوایا تھا۔ ادیبہ نے اس کا نام عروبہ فاطمہ رکھا تھا۔

روحان نے بھی ان دو سالوں میں کافی علمِ دین حاصل کر لیا تھا۔

آج اس کی واپسی تھی۔ وہ واپس آیا تو بالکل بدل چکا تھا۔ اب وہ پہلے والا R.K نہیں تھا، بلکہ “حافظ محمد روحان خان” بن چکا تھا۔ اس نے ان دو سالوں میں نہ صرف قرآنِ پاک کو حفظ کیا بلکہ اسکو سمجھا اور اس کی تفسیر بھی پڑھی۔ اس نے اور بھی بہت سی دینی کتابیں پڑھیں۔ وہ جسکو ایک وقت کی نماز پڑھنا مشکل لگتا تھا اب وہ پانچ وقت کی نماز کا پابند بن گیا تھا۔

________________________

”روحان یار تُو تو بہت بدل گیا ہے۔ پہلے والا R.K تو لگ ہی نہیں رہا۔“ ازلان روحان کے گلے لگتا ہوا بولا۔

”بس یار اللہ کا کرم ہے سب۔ اور تجھے مبارک ہو بیٹی کا باپ بن گیا۔“ روحان نے اسے مبارکباد دی۔

”اوۓ میری بیٹی ایک سال کی ہوگئی ہے, تو اب مبارکباد دے رہا ہے۔“

”میں تو اب مل رہا ہوں نا۔“ روحان نے بیڈ سے عروبہ کو اٹھایا۔

(عروبہ کی آنکھیں حیا جیسی تھی۔ مگر اس کا چہرہ بالکل ادیبہ میں ملتا تھا۔)

روحان نے جیسے ہی اس کو گود میں لیا, تو حیران ہو گیا۔ اسے ایک دم ادیبہ کا چہرہ یاد آیا۔

”یار اس کا چہرہ کس میں ملتا ہے؟“

روحان نے ازلان سے سوال کیا۔

”حیا تو کہتی ہے اس کا چہرہ ادیبہ میں ملتا ہے۔“ ادیبہ کا نام سنتے ہی روحان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔ ازلان نے بھی اسکے چہرے کی مسکراہٹ کو نوٹ کیا تھا۔

”ویسے اس کا نام کیا ہے؟“ روحان نے اس کے دونوں گال چومتے ہوئے کہا۔

اس کا نام عروبہ فاطمہ ہے۔“

”ماشاءاللہ یہ تو بہت ہی پیارا نام ہے عروبہ۔“

”تجھے پتہ ہے کہ یہ نام کس نے رکھا ہے؟“ ازلان نے چہرے پر شرارت لئے پوچھا۔

”یقیناً اس کی ماں نے رکھا ہو گا۔“ روحان نے جواب دیا۔

”نہیں تو اس کی ماں نے تو نہیں رکھا۔“ ازلان نے کہا۔

”پھر کس نے رکھا ہے؟“

”سوچ سوچ کون روک سکتا ہے۔“ ازلان اس کو تنگ کر رہا تھا۔

”یار! اب بتا بھی دے کس نے رکھا ہے؟“ روحان تنگ آگیا تھا۔

”اس کا نام رکھا ہے میری ہونے والی بھابھی نے۔“ ازلان نے شرارتی مسکراہٹ لیے کہا۔

”ہیں؟ ہونے والی بھابھی؟ تیرا تو کوئی بھائی نہیں ہے, پھر بھابھی کہاں سے آگئی؟“ روحان حیران تھا۔

”ابے کمینے تو میرا بھائی نہیں ہے کیا؟“ ازلان نے اس کی کمر پر ایک تھپڑ رسید کیا۔

”ہاں ہوں تو سہی مگر یہ بھابھی کہاں سے آگئی؟“

”ابے یار اس کا نام ادیبہ نے رکھا ہے۔“ ادیبہ کا نام سنتے ہی روحان ایک دم خوش ہو گیا۔

”سچییییی! اس کا نام ادیبہ نے رکھا ہے؟“ روحان کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔

”ہاں! تو اس میں اتنا حیران ہونے والی کیا بات ہے؟“

”میں کہاں حیران ہو رہا ہوں؟ بس ایسے ہی پوچھ لیا۔“ روحان کے چہرے سے مسکراہٹ جا ہی نہیں رہی تھی۔

”اسلام علیکم روحان!“ پیچھے سے حیا کی آواز آئی۔

روحان مڑا اور سلام کا جواب دیا۔

”وعلیکم السلام! کیسی ہو حیا؟“

”میں ایک دم ٹھیک ہوں اللہ کا شکر ہے۔ تم سناؤ بڑے ٹائم بعد نظر آئے ہو۔ اور اتنی تبدیلی کی کیا وجہ ہے؟“ حیا نے شرارتاً کہا۔

”میں الحمدللہ بلکل ٹھیک ہوں۔ اور یہ تبدیلی تو تمہاری بہن کی وجہ سے آئی ہے۔“ آخری جملہ اس نے آہستہ آواز میں کہا۔ جو صرف پاس کھڑا ازلان ہی سن سکا۔

”کیا کہا؟؟؟“ حیا نے حیرانی سے پوچھا۔

”نہیں کچھ نہیں۔ تم بتاؤ یہ کمینہ تنگ تو نہیں کرتا؟“

“ابے اوۓ تو کیوں پوچھ رہا ہے؟ تو اسکا بڑا بھائی ہے؟“

”ارے میں نےتو ایسے ہی پوچھ لیا۔“

وہ تینوں دوست تھوڑی دیر بیٹھے ایسے ہی باتیں کرتے رہے پھر روحان اپنے گھر کو روانہ ہو گیا۔

________________________

”مام مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔“ روحان صوفیہ بیگم کے کمرے میں آیا اور کہنے لگا۔

”ہاں بولو۔“ صوفیہ بیگم نے مصروف انداز میں کہا۔

”میں چاہتا ہوں آپ میرا رشتہ لے کر جائیں سلیمان رضا صاحب کے گھر ,ان کی بڑی بیٹی ادیبہ کے لئے۔“ روحان نے ساری بات صاف لفظوں میں کردی۔

”تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے۔“ صوفیہ بیگم حیران تھیں۔ کیونکہ وہ اتنی بڑی بات اتنی آسانی سے کہہ رہا تھا۔

”میرا دماغ بالکل ٹھیک ہے۔ مجھے بھی اپنا فیوچر پلان کرنا ہے اور ویسے بھی میں نے ڈیڈ کا آفس بھی جوائن کر لیا ہے۔ اور اب میں بالکل اسٹیبل ہوں۔“

”تو کیا مطلب ہے ایسے ہی منہ اٹھا کر کسی کے بھی گھر چلی جاؤں۔“

”مام میں اسے پسند کرتا ہوں اور آپ میرا رشتہ لے کر جائیں گی دیٹس اِٹ۔ اگر آپ نہیں گئی تو میں خود ہی کر لوں گا۔“ روحان نے دھمکی دی۔

“یہ دھمکی کسی اور کو جا کر دینا۔” صوفیہ بیگم نے غصے سے کہا۔

”تو کیا آپ نے شادی نہیں کروانی میری؟ اب تو میری عمر بھی اچھی خاصی ہو گئی ہے۔“

”مجھے نہیں پتا ,جاؤ جا کر اپنے باپ سے بات کرو, میرا دماغ خراب مت کرو۔“

”ٹھیک ہے۔“ روحان زور سے دروازہ بند کر کے چلا گیا۔

”ڈیڈ۔“روحان کمرے سے نکلا تو سامنے احمد رضا بیٹھے نظر آئے۔

”ہاں بولو۔“

”ڈیڈ اب تو میں سیٹل ہو گیا ہوں آپ کا آفس بھی جوائن کر لیا ہے۔ مجھے اب نکاح کرنا ہے۔“

”کس سے کرنا ہے؟“

”سلیمان رضا صاحب کی بیٹی ادیبہ سے۔“

”کون سلیمان رضا؟“ احمد رضا نے سوال کیا۔

”وہ جن کی بیٹی حیا کا نکاح ازلان سے ہوا ہے۔ میں اس کی بڑی بہن ادیبہ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔“

”ٹھیک ہے۔ میں بات کرتا ہوں تمہاری ماں سے۔“ انہوں نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا۔

”تھینکس ڈیڈ۔“ روحان کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *