Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pakeeza Mohabbat (Episode 02)

Pakeeza Mohabbat by Noor Fatima

اگلے دن حیا یونی گئی تو اس کا چہرہ اترا ہوا تھا, وہ اپنے ڈیپارٹمنٹ میں جا رہی تھی کہ سامنے سے ازلان اور R.K آ رہے تھے۔

”ہائے حیا!“۔ دونوں نے حیا کو دیکھ کر کہا۔

مگر نہ ہی تو حیا رکی اور نہ ہی ان کی بات کا جواب دیا۔ بلکہ ایک سائیڈ سے گزر گئی۔

”کیا ہوا ہے حیا؟“ وہ دونوں اس کے پیچھے آۓ۔

”یار تم کل بھی بغیر جواب دیے ہی چلی گئی تھی“۔

”پلیز تنگ نہیں کرو مجھے“۔ حیا نے غصے سے کہا۔

”مگر حیا ہوا کیا ہے بتاؤ تو سہی۔“ ازلان نے فکر مندی سے پوچھا ,کیونکہ پہلے کبھی بھی حیا نے ان سے اس طرح سے بات نہیں کی تھی۔

”کچھ نہیں ہوا۔“ حیا نے مختصر سا جواب دیا اور اپنے ڈپارٹمنٹ میں چلی گئی۔

وہ دونوں اس کے پیچھے ڈیپارٹمنٹ میں گئے اور اس کے برابر والی سیٹ پر بیٹھ گئے۔

”اچھا حیا سنو, کل وہ تمہارے ساتھ آنٹی کون تھی؟؟“ روحان نے سوال کیا۔

(روحان ادیبہ کو آنٹی سمجھ رہا تھا ,کیونکہ اس نے حجاب اوڑھ رکھا تھا, جس کی وجہ سے وہ اپنی عمر سے زیادہ لگتی تھی۔)

”آنٹی نہیں تھی, وہ میری آپی تھیں۔“ ادیبہ نے غصے سے کہا۔

”اچھا وہی جس کا تم بتا رہی تھیں۔“ روحان نے کہا۔

”ہاں وہی, اب جاؤ یہاں سے تنگ مت کرو مجھے ۔“

”اچھا تو وہ تمہاری آپی تھیں, ہمیں لگا کہ کوئی آنٹی وغیرہ تھی۔“ روحان نے ازلان کے ہاتھ پر تالی مار کر ہنستے ہوئے کہا جس کی وجہ سے حیا غصہ ہو گئی۔

”خبردار! جو تم نے میری آپی کے بارے میں کچھ اُلٹا سیدھا کہا تو; میں نے اس لیے نہیں بتایا تھا تمہیں کہ تم ان کا مذاق اڑاتے پھرو۔“ مزاق اپنی جگہ, مگر کوئی اس کی آپی کے بارے میں ایسا کچھ کہے, حیا بالکل برداشت نہیں کرتی تھی۔

”سوری یار ہم تو بس ایسے ہی مذاق کر رہے تھے۔“ ”ویسے یار تمہارا موڈ کیوں آف ہے؟؟؟“ ازلان نے پوچھا کیونکہ صبح سے حیا کا چہرہ اترا ہوا تھا۔

”بس ایسے ہی۔“ حیا نے مختصر سا جواب دیا۔

اب وہ کیا بتاتی کہ اسے گھر پر اپنی آپی سے ڈانٹ لگی ہے۔

___________________________

” ہاۓ دادی ! یہ امی کہاں چلی گئی, کتنی بار کہا ہے مجھے سکوٹی دلا دیں ,میں سنبھال کر چلاؤں گی, پتہ نہیں کوئی میری بات کیوں نہیں سنتا اس گھر میں۔“ ادیبہ غصّہ سے چلّائے جا رہی تھی۔

”بیٹا یہ ہائے کیا ہوتا ہے, جب آپس میں ملتے ہیں تو السلام علیکم کہتے ہیں, ہیلو ہاۓ کرنا یہ ہم مسلمانوں کا رواج نہیں ہے۔“ دادی نے ادیبہ کو سمجھایا۔

آُففف ٹھیک ہے, السلام علیکم دادی, اب آپ بتانا پسند کریں گی کہ امی کہاں ہیں۔“ ادیبہ نے دادی سے بدتمیزی سے بات کی۔

”وہ سامنے والے کمرے میں ہیں, کوئی عالمہ صاحبہ آئی ہیں ان سے کچھ مسائل وغیرہ پوچھ رہی ہیں۔“

”ٹھیک ہے دادی تھینک یو سو مچ۔“

ادیبہ کمرے میں جا ہی رہی تھی کہ اندر سے آتی آوازوں نے اسے روک لیا۔

”آج ہماری نا شکری ختم نہیں ہوتی ہم اللہ سے گلہ شکوہ کرتے نہیں تھکتے ,ہم کہتے ہیں یا اللہ آپ نے فلاں کو وہ چیز دے دی, فلاں کو وہ دے دیا ,ہم نے کیا کیا تھا جو ہمیں نہیں دیا, اگر انسان غور کرے نا کہ اللہ نے اسے کتنی نعمتوں سے نوازا ہے تو انسان اللہ کا شکر ادا کرتے کرتے نہ تھکے۔

صرف اپنے جسم میں دیکھ لیں, اللہ نے ہمیں کتنی نعمتوں سے نوازا ہے, اللہ نے ہمیں آنکھیں دیں,

(آنکھیں نہیں ہوتی تو ہم کیسے دیکھتے).

سننے کے لیے کان دیے,

(کان نہیں ہوتے تو سنتے کیسے).

سونگھنے کے لیے ناک دی,

(ناک نہیں ہوتی تو کسی بھی چیز کی خوشبو یا بدبو کیسے سونگھتے,اور سب سے بڑی بات سانس کیسے لیتے).

چکھنے اور بولنے کے لئے زبان دی۔ اور بھی نہ جانے کتنی نعمتوں سے نوازا ہے۔

سوچیے ہمارے ہاتھ پاؤں نہیں ہوتے تو ہم کیا کرتے۔

اللہ تعالی قرآن پاک میں فرماتے ہیں:

‘تم میری نعمتوں کو اگر گننے بیٹھو تو گن نہیں پاؤ گے۔’

اور ہم کیا کرتے ہیں بس ناشکری کرتے ہیں۔ کبھی بھی اپنے سے بڑے کو (یعنی مالدار کو) نہ دیکھو (اللہ نے اسے یہ دیا ہے اور مجھے کچھ نہیں دیا, ہمیشہ اپنے سے چھوٹے کو (یعنی اپنے سے کمتر کو) دیکھو کہ اللہ نے اسے یہ نہیں دیا مجھے دیا ہے, تو ہم خود بخود ہی اللہ کا شکر ادا کرنے لگ جائیں, مگر ہم تو ہمیشہ اپنے سے بڑوں کو ہی دیکھتے ہیں اور اللہ سے گلہ شکوہ کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ صرف ایک بار سوچو کہ دنیا میں کتنے لوگ نابینا (جنکو نظر نہیں آتا) ہوتے ہیں ,بہرے ہوتے ہیں, گونگے ہوتے ہیں, اگر اللہ ہمیں اُُُن جیسا بنا دیتا تو۔“

باہر کھڑی ادیبہ کے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے عالمہ صاحبہ کی بات سن کر۔ اس نے اپنے کمرے میں جاکر وضو کرنا چاہا مگر اس کے ہاتھ پر نیل پالش لگی ہوئی تھی اس نے نیل پالش صاف کی اور خود سے وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی بھی ایسی غلیظ چیز نہیں لگائے گی جس سے وضو نہیں ہوتا۔

وہ وضو کر کے قرآن پاک لے کر بیٹھ گٸ اور سورة انفطار کا ترجمہ پڑھنے لگی۔ جس کے بارے میں عالمہ صاحبہ بتا رہی تھیں۔

“اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم”

میں پناہ مانگتی ہوں شیطان مردود سے

“بسم اللہ الرحمٰن الرحیم”

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

آیة نمبر ١: جب آسمان پھٹ پڑے گا۔

آیة نمبر ٢: اور جب تارے ٹوٹ پڑیں گے۔

آیة نمبر ٣: اور جب سمندر بہا دیے جائیں گے۔

آیة نمبر ٤: اور جب قبریں کُریدی جائیں گی۔

آیة نمبر ٥: ہر جان جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا۔

آیة نمبر ٦: اے انسان! تجھے کس چیز نے دھوکے میں رکھا اپنے رب کریم سے۔

آیة نمبر ٧: جس نے تجھے پیدا کیا, پھر ٹھیک بنایا اور پھر ہموار فرمایا۔

آیة نمبر٨: جس صورت میں چاہا ترکیب دے دیا۔

آیة نمبر٩: کچھ نہیں بلکہ تم لوگ تو اس انصاف کے دن کو جھٹلاتے ہو۔

آیة نمبر١٠: اور بے شک تم پر کچھ محافظ (فرشتے) ہیں۔

آیة نمبر١١: تمہارے اعمال لکھنے والے۔

آیة نمبر١٢: وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو۔

آیة نمبر١٣: بے شک نیک لوگ جنت میں ہوں گے۔

آیة نمبر١٤: اور بے شک گنہگار لوگ جہنم میں ہوں گے۔

آیة نمبر١٥: قیامت کے دن اس میں ڈالے جائیں گے۔

آیة نمبر١٦: اور آپ کیا جانیں کیسا ہے قیامت کا دن۔

آیة نمبر١٧: اور پھر سے آپ کیا جانیں کیسا ہے قیامت کا دن۔

آیة نمبر١٨: جس دن کوئی جان کسی جان کے کچھ کام نہ آئے گی, اور سارا حکم اُس دن اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔

(سورہ انفطار)

ادیبہ کی آنکھوں سے مسلسل آنسو جاری تھے وہ بار بار اُس آیت کا ترجمہ دہرانے لگی ۔”اے انسان تجھے تیرے رب کریم سے کس چیز نے دھوکے میں رکھا۔”

”یا اللہ پاک مجھے معاف کر دیں۔“ ادیبہ رو رو کر اپنی بخشش کی دعائیں مانگ رہی تھی۔

” بے شک گناہگار لوگ جہنم میں ہوں گے۔” اس کے کانوں میں یہ آیت بار بار گونج رہی تھی۔ اس کا جسم کانپنے لگ گیا تھا۔

”یا اللہ میں نے آج تک کتنے گناہ کیے ہیں امی کہتی تھیں, نماز پڑھو تو مجھے اتنا غصہ آتا تھا, نماز کا نام سنتے ہی چڑ لگ جاتی تھی ,مگر میں آپ سے پرومس کرتی ہوں اللہ پاک آئندہ کبھی نماز نہیں چھوڑوں گی۔

قرآن پاک بھی شاید میں نے بچپن میں آخری بار کھولا تھا, اس کے بعد آج اتنے سالوں بعد کھولا ہے, کبھی آپ کا پاک کلام نہیں پڑھا مگر میں آپ سے پرومس کرتی ہوں آئندہ سے روزانہ قرآن پاک کی تلاوت کروں گی۔

اور نا صرف تلاوت کروں گی بلکہ اسے سمجھوں گی بھی کہ میرے رب نے اس میں کیا لکھا ہے۔

بس آپ ایک بار مجھے معاف کر دو نا۔ آپ نے خود ہی تو فرمایا ہے: آپ ہم سے ستّر ماٶں سے زیادہ پیار کرتے ہو تو مجھے بھی معاف کر دو نا پلیز۔

امی کہتی تھی ادیبہ چادر اوڑھ کر گھر سے باہر نکلو اور میں ہمیشہ اتنے ٹائٹ کپڑے پہن کر گھر سے باہر نکلتی ہوں کہ ہر کوٸ مجھے ہی دیکھتا رہتا ہے, مجھے معاف کردیں اللہ تعالی آئندہ سے چادر اوڑھ کر گھر سے باہر نکلوں گی۔“

ادیبہ اپنے گناہ یاد کر رہی تھی اور ساتھ میں توبہ بھی کیے جا رہی تھی۔

اللہ تعالی تو خود فرماتے ہیں: اے میرے بندے اگر تم دن میں ستر دفعہ بھی گناہ کر لو اور مجھ سے ایک بار سچے دل سے توبہ کرو تو میں تمہاری توبہ ضرور قبول کروں گا۔

ادیبہ جاۓ نماز پر بیٹھی ہوئی اپنا ماضی یاد کر رہی تھی کہ وہ پہلے کیسی تھی اور اب دین کی محبت نے اسے کیسا بنا دیا۔

وہ لڑکی جو شادی وغیرہ میں بال کھول کر, تیار ہو کر جاتی تھی تاکہ سب کی نظریں اُسکی طرف اُٹھیں اب وہ اپنا چہرہ بھی کسی غیر محرم کو دیکھانے سے کتراتی ہے۔

ادیبہ کو بے اختیار وہ آیت یاد آئی۔

“اور اللہ جس کو چاہے ہدایت دے اور جس کو چاہے گمراہ کرے”

ادیبہ نے سجدہ کرکے اپنے رب کا شکر ادا کیا جس نے اسے گمراہی کے راستے سے نکال کر ہدایت کے راستے کے لئے چُنا۔

____________________________

حنین اپنے ڈیپارٹمنٹ میں جا رہا تھا کہ اچانک اس کی ٹکر ایک لڑکی سے ہوئی۔

(حنین ہمیشہ نظریں جھکا کر چلتا تھا۔ وہ دوسرے لڑکوں کی طرح لڑکیوں کو گھورتا نہیں تھا اور یہ بھی ادیبہ کی ہی تربیت کا نتیجہ تھا۔)

”اوۓ اندھے ہو کیا؟ تم دیکھ کر نہیں چل سکتے ,آنکھیں ہیں یا بٹن۔“ سامنے کھڑی حمنہ حنین پر برس پڑی۔

”سو سوری مجھے نظر نہیں آیا۔“ حنین نے معذرت کی۔

”نظر نہیں آیا ,یہ دو عدد آنکھیں کس لیے رکھی ہوٸ ہیں, ان کا استعمال بھی کر لیا کرو۔“ حمنہ یہ کہہ کر چلی گئی۔

حنین نے ایک نظر اس کو دیکھا اور چلا گیا۔

”یار ویسے لڑکا بڑا ہی کمال کا ہے۔“حمنہ نے اپنی دوست سارہ سے کہا۔

(حمنہ جان بوجھ کر حنین سے ٹکرائی تھی۔)

”یار یہ بہت شریف لڑکا ہے۔ اس کے گھر کا ماحول بہت دینی ہے ,اس کی بڑی بہن نے عالمہ کا کورس بھی کر رکھا ہے۔“ سارہ حمنہ کو بتا رہی تھی۔ ”تو میں کیا کروں, اور تجھے کیسے پتہ اسکے بارے میں اتنا کچھ؟“

”یار میرے ابو اسکے ابو کے دوست ہیں,اسکا نام حنین رضا ہے,ہمارا آنا جانا لگا رہتا ہے۔“

”ہمم اس کو دیکھ کر لگتا بھی ہے, یہ سیدھا بندہ ہے۔“

”اچھا چل اب کلاس شروع ہونے والی ہے۔“سارہ نے کہا۔

اور پھر وہ دونوں اپنے ڈیپارٹمنٹ میں چلی گئیں۔

_________________________

”کیا ہوا ادیبہ, اتنی دیر سے اٹھی ہو خیریت تو ہے نہ ۔“ ادیبہ کی عادت تھی وہ صبح جلدی اٹھتی تھی مگر آج دیر سے اٹھی تھی۔

”جی امی ,سب ٹھیک ہے بس تھوڑا سا سر میں درد ہو رہا تھا اس لئے دیر ہو گئی اٹھنے میں ۔“

ادیبہ کی آنکھیں لال ہو رہی تھی کیونکہ پوری رات اس کو نیند نہیں آئی تھی ماضی کی یادوں نے اسے سونے نہیں دیا تھا۔

بیٹھو میں ناشتہ لگاتی ہوں فاطمہ بیگم اس کو کہہ کر کچن میں چلی گئی ادیبہ اپنی دادی کے پاس بیٹھ گئی ۔ ”دادی جان آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ ادیبہ نے دادی کے پاس بیٹھتے ہوۓ پوچھا ”میں تو اللہ کے کرم سے ٹھیک ہوں بیٹا۔“

اتنے میں فاطمہ بیگم ناشتہ لے آئیں۔

”امی بیٹھیں مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔“

”ہاں میرا بچہ بولو کیا بات کرنی ہے۔“

”امی آپ نے حیا کو بہت ڈھیل دے رکھی ہے, آپ کو پتہ ہے, اس نے لڑکوں سے دوستی کی ہوئی ہے یونی میں۔ اسکو یونی پڑھنے بھیجا ہے یا لڑکوں سے دوستی کرنے کیلیے۔“

”ہاں بیٹا مجھے پتا ہے, آج کل تو یہ عام بات ہے, تم اتنا غصہ کیوں کر رہی ہو۔“

”امی ہمارے اسلام میں کہیں بھی نہیں ہے کہ لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے سے دوستی کریں۔“

”مگر بیٹا آج کل کے دور میں تو سب ایک دوسرے سے دوستی کرتے ہیں اس میں اتنی کوئی بڑی بات تھوڑی ہے۔“

”امی آپ سمجھ نہیں رہیں۔“ ادیبہ آگے کچھ کہتی اتنے میں سلیمان صاحب وہاں آ گئے۔

”السلام علیکم بیٹا۔“ انہوں نے آتے ہی سلام کیا۔

”وعلیکم سلام ابو۔“ ادیبہ نے بات بیچ میں چھوڑ کر سلام کا جواب دیا۔

”بیٹا طبیعت ٹھیک ہے آپ کی, آج اتنی دیر سے اُٹھی ہو۔“ سلیمان صاحب نے ادیبہ کے برابر بیٹھے ہوئے کہا۔

”جی ابو اللہ کا شکر ہے۔ بس سر میں تھوڑا سا درد ہو رہا تھا اب ٹھیک ہے۔“ ادیبہ نے مسکرا کر جواب دیا۔

__________________________

اگلے دن حمنہ نے حنین کو دیکھا تو بس اس کو دیکھتی ہی رہ گئی۔

”اُفف یار, یہ نظریں جھکا کر چلتا ہوا کتنا پیارا لگتا ہے۔“ حمنہ سارہ سے کہ رہی تھی۔

”چل آجا اس کے پیچھے چلتے ہیں۔“

”تو جا مجھے کوئی شوق نہیں ہے بےعزتی کروانے کا۔“

”مر تُو تو, میں جاتی ہوں۔“

حمنہ حنین کے پیچھے چلی گٸ۔

حنین کسی کو کال ملا رہا تھا۔ پیچھے سے کسی کی باریک نسوانی آواز آئی۔

”اسلام علیکم۔“

وہ مڑا اور ایک نظر اُس کو دیکھا۔ اور سوچنے لگ گیا کہ اس کو کہاں دیکھا ہے۔ ”ہاں یہ تو وہی ہے جو کل ٹکرائی تھی۔“ حنین نے سوچا۔

”وعلیکم السلام۔“ حنین نے جواب دے کر دوسری طرف رخ کر لیا۔

”کیسے ہیں آپ؟“ حمنہ نے اُس سے بات کرنا چاہتی تھی۔

”ٹھیک۔“ حنین نے ایک لفظی جواب کے بعد کال پر بات کرنا شروع کر دی۔

(انداز صاف ایسا تھا کہ اب آپ جا سکتی ہیں۔)

”السلام علیکم ادیبہ آپی, میں نے کارڈس کی پک سینڈ کر دی ہے آپ کے نمبر پر آپ امی سے پوچھ لیجئے گا۔ اوکے میری پیاری آپی, اللہ حافظ۔“

”مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے کیا؟“ حمنہ نے حنین سے کہا۔

”جی نہیں ,آپ کیوں پریشان ہو رہی ہیں اور جہاں تک میرا خیال پڑتا ہے میں نے آپ کو پہلی یا دوسری مرتبہ دیکھا ہے تو پھر, اور پلیز اس طرح کسی غیر لڑکوں سے بات کرنا اچھی لڑکیوں کو زیب نہیں دیتا۔“ حنین کے لہجے میں بلا کی سنجیدگی تھی, وہ کہہ کر رکا نہیں بلکہ چلا گیا۔

”کیا ہوا حمنہ۔۔۔ چلو چلیں مجھے پتہ تھا وہ یہی بولیں گے, میں نے تمہیں بتایا بھی تھا کہ دینی گھر سے ان کا تعلق ہے ,وہ غیر لڑکیوں سے فالتو بات نہیں کرتے۔“ سارہ نے حمنہ کے پاس آکر کہا۔

”سارہ ادیبہ کون ہے؟“ حمنہ کو حنین کے چہرے کی چمک یاد آئی جو ادیبہ سے بات کرتے وقت اس کے چہرے پر تھی۔

”ادیبہ ان کی بڑی بہن ہے جن کا میں نے تمہیں بتایا تھا کہ انہوں نے عالمہ کا کورس کیا ہوا ہے۔ حنین رضا ان کا بہت احترام کرتے ہیں ان ہی کی وجہ سے یہ کافی سدھرے ہوئے ہیں۔“

”سارہ مجھے ملنا ہے ادیبہ آپی سے۔“

”یار تجھے کیا ہوا ہے؟ آجا کینٹین چل کر بات کرتے ہیں۔“

”ایک حنین بھائی ہیں جو اپنی ادیبہ آپی کے دیوانے ہیں اور ایک میری دوست ہے جو اُن کی دیوانی ہے۔“ سارہ دل میں سوچ کر رہ گئی۔

”سنو حمنہ صرف ایک طریقہ ہے حنین بھائی کو پانے کا۔“

”ہاں بتا نا یار۔“

”میں تجھے ملواؤنگی ادیبہ آپی سے مگر تجھے خود کو بدلنا پڑے گا ,میرا مطلب ایسے کپڑے پہن کر تو وہاں نہیں جائے گی ان سے ملنے۔“ سارہ نے اس کے کپڑوں کو دیکھ کر کہا۔

”اچھا ٹھیک ہے میں کوئی عبایا وغیرہ پہن لوں گی۔“

”ادیبہ آپی کی چھوٹی بہن حیا آپی یہاں پڑھتی ہیں۔ آجا اُن سے بات کرتے ہیں وہ ملوا دیں گی ہمیں ادیبہ آپی سے۔“

وہ دونوں حیا کے ڈیپارٹمنٹ گئی اور حیا کو ڈھونڈنے لگیں۔ اُنھیں حیا ایک سیٹ پر بیٹھی ہوئی نظر آئی, تو دونوں اس کے پاس چلی گئیں۔

”اسلام علیکم حیا آپی۔“ سارہ نے سلام کیا۔

”وعلیکم السلام ,سارہ کیسی ہو؟“

”الحمد لله میں بالکل ٹھیک ہوں, آپ کیسی ہیں؟“ سائرہ نے کہا۔

”میں بھی اللہ کا شکر ہے ٹھیک ہوں۔“

”حیا آپی ہمیں آپ سے کچھ کام تھا۔“

”ہمم بولو کیا کام تھا؟“

”وہ دراصل یہ میری دوست حمنہ ہے اسے ادیبہ آپی سے ملنا ہے, اسکو دین سیکھنے کا بہت شوق ہے۔ آپ پلیز ادیبہ آپی سے پوچھ کر بتا دیں کہ کیا وہ اسے دین سکھا دیں گی۔“

(حمنہ سارہ کو گھور کر رہ گئی کیونکہ اسے دین سیکھنے کا کوئی شوق نہیں تھا۔)

”جی کیوں نہیں, میں آج ہی ادیبہ آپی سے پوچھ لوں گی اور آپ کو کل بتا دوں گی۔“

”شکریہ آپی۔الله حافظ“

”الله حافظ!“

اور وہ دونوں وہاں سے چلی گئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *