Pakeeza Mohabbat by Noor Fatima NovelR50576 Pakeeza Mohabbat (Episode 09)
Rate this Novel
Pakeeza Mohabbat (Episode 09)
Pakeeza Mohabbat by Noor Fatima
آج ادیبہ کی رخصتی تھی۔ بالکل سادگی سے رخصتی ہوئی تھی۔ ادیبہ نے فضول رسومات کرنے سے منع کیا تھا۔
ابھی وہ روحان کے کمرے میں بیٹھی تھی۔
”آہ!!! کبھی سوچا نہیں تھا کہ یہ دن بھی دیکھنے کو ملے گا۔ آج میں اپنے دشمن کے گھر میں بیٹھی ہوئی ہوں, اسی کے بیٹے کی بیوی بن کر۔ روحان تمہیں مجھ سے کبھی کچھ بھی نہیں ملے گا, سوائے دکھ اور تکلیف کے۔“ ادیبہ اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی اٹھی اور برائیڈل ڈریس چینج کرنے کے بعد بیڈ پر لیٹ گئی۔ وہ بہت تھک گئی تھی۔ اسی لیے لیٹتے ہی سو گئی۔
روحان کمرے میں آیا تو ادیبہ سوئی ہوئی ملی۔
”محترمہ میرے آنے کا تو انتظار کر لیتی, بڑی نیند آ رہی تھی۔“ روحان نے ایک نظر اس کو دیکھا اور چینج کرنے چلا گیا۔
چینج کرنے کے بعد تھوڑی دیر ادیبہ کے پاس بیٹھا رہا پھر بیڈ کے دوسری سائیڈ پر لیٹ گیا۔
”اللہ پاک آپ کو میری کونسی نیکی پسند آ گئی تھی جو آپ نے اتنی پاکیزہ لڑکی کو میرا نصیب بنا دیا۔“ روحان دل میں اللہ پاک سے مخاطب ہوا اور کچھ دیر بعد وہ بھی نیند کی وادیوں میں چلا گیا۔
________________________
کچھ دنوں سے روحان نوٹ کر رہا تھا کہ ادیبہ اس سے کھنچی کھنچی رہتی ہے۔ کسی بات کا ڈھنگ سے جواب نہیں دیتی تھی۔ روحان کے آفس سے آنے سے پہلے ہی سو جاتی تھی۔ خود سے کبھی بھی روحان کو مخاطب نہیں کرتی تھی۔ آج اس نے سوچا کے وہ ادیبہ سے اس بارے میں بات کرے گا۔ اسی لیے وہ آفس سے جلدی گھر آ گیا تھا۔ ادیبہ کوئی کتاب لے کر بیڈ پر بیٹھی تھی۔ اس کی عادت تھی فارغ وقت میں کتابیں لے کر بیٹھ جاتی تھی۔
”السلام علیکم۔“ روحان نے کمرے میں آتے ہی سلام کیا۔
”وعلیکم السلام! خیریت آج آپ جلدی آ گئے؟“ ادیبہ نے روحان کو کہا جو اس وقت اس کے آگے بیڈ پر لیٹ گیا تھا۔
”کیوں میرا جلدی آنا اچھا نہیں لگا؟“ روحان نے اپنے سر کے نیچے ہاتھ رکھا اور تھوڑا اونچا ہو کر بولا۔
”نہیں میں تو ایسے ہی پوچھ رہی تھی۔ مجھے کیا آپ جب بھی آئیں۔“ ادیبہ کہہ کر بیڈ سے اٹھنے لگی۔
”رکو مجھے کچھ بات کرنی ہے۔“ روحان نے اسکو اٹھتے دیکھا تو اسکا ہاتھ پکڑ کر کہا۔ جسے ادیبہ نے فوراً چھڑوا لیا اور روحان نے یہ بات نوٹ بھی کی تھی۔
”کیا بات کرنی ہے؟“ روحان سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
”کیا یہ شادی تمہاری رضامندی سے نہیں ہوئی؟“ ادیبہ حیران ہو کر روحان کو دیکھنے لگی۔
”کیا ہوا میں نے کوئی مشکل سوال پوچھ لیا کیا؟“
”ظاہر ہے میری رضامندی سے ہوئی ہے۔“ ادیبہ نے نظریں چرا کر کہا۔
”تو پھر مجھ سے تم ایسا بیہیوئیر(behaviour) کیوں رکھتی ہو؟“ روحان نے ادیبہ سے شکوہ کیا۔
”میں کیسا بیہیوئیر(behaviour) رکھتی ہوں؟“
”تمہیں اچھے سے معلوم ہوگا کہ تم میرے ساتھ کیسا رویہ رکھتی ہو۔“ ادیبہ وہاں سے اٹھنے لگی تو روحان نے اس کے دونوں بازو تھام لیے اور اس کو کھڑے ہونے سے روکا۔
”چھوڑیں مجھے۔“ ادیبہ نے خود کو چھڑوانا چاہا مگر ناکام رہی۔
”پہلے میری بات کا جواب دو۔ کیوں مجھ سے بھاگتی رہتی ہو؟ میں کوئی زبردستی تو تمہیں تمہارے گھر سے نہیں اٹھا لایا نا؟ پھر کیوں ایسا کرتی ہو میرے ساتھ؟“ ادیبہ کے بازوٶں پر روحان کی گرفت سخت ہوگئی تھی۔ ادیبہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
”ادیبہ جواب دو۔“ اب کی بار روحان کی آواز میں تھوڑی سختی شامل تھی۔
”کیونکہ نفرت کرتی ہوں میں تم سے, تمہارے باپ سے, تمہاری ماں سے, تمہاری ہر چیز سے۔“ ادیبہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔
روحان کو ادیبہ کی باتیں سن کر دھچکا لگا تھا۔ ادیبہ کے بازو پر اب اس کی گرفت ہلکی ہو گئی تھی۔
”سن لیا جواب۔ اب چھوڑو مجھے۔“ ادیبہ نے اس کا ہاتھ ہٹایا اور اٹھنے لگی۔ تو روحان نے دوبارہ اس کے بازو پکڑ لئے۔
”کیوں نفرت کرتی ہو مجھ سے اور میرے ماں باپ سے؟ کیا بگاڑا ہے ہم نے تمہارا؟“
”جا کر اپنے باپ سے پوچھو۔ جس نے میری زندگی تباہ کردی۔ مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا۔“ ادیبہ کو ایک بار پھر ماضی کی یاد نے بکھیر دیا تھا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
روحان نے ادیبہ کے بازو چھوڑ دیے اور اس کے آنسو صاف کرنے لگا۔
”ادیبہ یہاں دیکھو میری طرف۔ پلیز رونا بند کرو اور مجھے بتاؤ کیا کِِیا ہے میرے باپ نے تمہارے ساتھ؟ بتاؤ مجھے۔“ روحان کو یقین تھا کہ ادیبہ کبھی جھوٹ نہیں بولے گی۔
”بتا کر بھی کیا فائدہ آپ نے تو اپنے باپ کی ہی سائیڈ لینی ہے نا۔ آپ کیوں میری بات کا یقین کرو گے؟“ روحان نے اسے آگے کر کے اپنے سینے سے لگا لیا اور اس کے بال سہلانے لگا۔
”دیکھو ادیبہ! میں تم سے بے انتہا محبت کرتا ہوں۔ میں دین کی طرف راغب ہوا تو صرف تمہاری وجہ سے میری محبت کوئی دو کوڑی کی محبت نہیں ہے۔ مجھے محبت سے پہلے تم پر یقین ہے۔ آنکھیں بند کر کے تم پر یقین کرتا ہوں۔ اور رہی بات میرے ماں باپ کی تو آج ایک سچ میں بھی تمہیں بتاتا چلوں کہ احمد رضا جسے تم میرا باپ سمجھتی ہو۔ یہ میرا سگا باپ نہیں ہے۔ میرے ابو کا تو ٩ سال پہلے ہی انتقال ہو چکا ہے۔ میرے ابو کے انتقال کے بعد میری ماں نے احمد رضا سے شادی کرلی تھی۔ میں اس شادی پر خوش نہیں تھا۔ احمد رضا کوئی اچھا انسان نہیں تھا۔ وہ ڈرگس کی اسمگلنگ کرتا تھا۔ مگر میری ماں کون سا میری بات کبھی سنتی تھی۔ خیر! ان کی شادی ہوگئی۔
ایک میرے ابو تھے جو مجھ سے محبت کرتے تھے ان کے جانے کے بعد نہ کبھی میرے سوتیلے باپ نے مجھ سے محبت کی نہ کبھی میری سگی ماں نے۔ شاید اسی لیے میں اتنا بگڑا ہوا ہوں کیونکہ مجھے کبھی کسی نے محبت نہیں کی۔ مجھے کبھی کسی نے کچھ بھی کرنے سے نہیں روکا۔ مگر ادیبہ تمہیں پتہ ہے میں نے جب تمہیں پردے میں دیکھا تھا۔ تو میں سوچتا تھا کہ آج کے دور میں بھی ایسی لڑکیاں ہوتی ہیں جو خود کو اتنا کور کرکے رکھتی ہیں۔ بار بار میرا دل مجھے تمھیں دیکھنے پر اُکسا رہا تھا کہ ایک بار تمہیں دیکھ لوں تم کیسی دکھتی ہو۔ پھر ایک مرتبہ میں رات کے وقت چھپ کر تمہارے کمرے کی کھڑکی میں آیا تھا۔ تم اس وقت نماز پڑھ رہی تھی۔“
روحان نے آخری بات ڈرتے ہوۓ بتائی۔ ادیبہ حیران تھی کہ روحان کب آیا اسکی کھڑکی میں اسے تو پتہ بھی نہیں چلا۔ ادیبہ نے سر اٹھا کر روحان کو دیکھا۔
”آپ نے مجھے دیکھا بھی تھا؟“
”بس تھوڑا سا دیکھا تھا مگر سچی، میں وہاں سے چلا گیا تھا اس کے بعد کبھی نہیں دیکھا۔“ روحان نے اسے پھر سے خود کے سینے سے لگا لیا۔
”تمہیں پتا ہے جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا نا تو اسی وقت میرے دل سے بے اختیار دعا نکلی تھی کہ اللہ پاک اسکو میرا مقدر بنا دیں اور شاید اللہ پاک نے مجھ جیسے ناچیز کی دعا قبول کرلی اور آج تم مجھے مل گئیں ادیبہ۔ اب دیکھو میں نے تمہیں سب کچھ بتا دیا اب تم بتاؤ کیا کِیا ہے احمد رضا نے تمہارے ساتھ؟”
”روحان….“
”بولو میری جان! مجھے بتاؤ گی نہیں تو مجھے کیسے پتہ چلے گا؟“
” ر..رو..روحان۔“ ادیبہ پھر سے رونے لگی۔
”ادیبہ پلیز میری جان رو نہیں۔ تم تو بہت بہادر ہو نا۔ چلو بتاؤ مجھے کیا ہوا؟“ روحان نے اس کے آنسو صاف کیے۔
”روحان آٹھ سال پہلے کی بات ہے میرے یونی کے پیپرز چل رہے تھے۔ میں ان کی تیاری کر رہی تھی۔ باقی سب گھر والے ماموں کی بیٹی کی شادی میں گئے ہوئے تھے۔ اچانک میرا فون بجنے لگا میں نے کال ریسیو کی ہاسپیٹل سے کال تھی۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے بھائی کو کسی نے گولیاں مار دیں آپ پلیز جلدی ہاسپیٹل آئیں۔ انہوں نے ایڈریس وغیرہ بھی بتایا تھا۔ میں بہت گھبرا گئی تھی۔ میں نے ابو کو کال کی تو وہ نہیں اٹھا رہے تھے۔ پھر حنین کو کی تو اس نے بھی کال نہیں اٹھائی۔ تو میں اکیلی چلی گئی مجھے میرے بھائی کی فکر تھی۔“
”حنین کے علاوہ بھی تمہارا کوئی بھائی ہے؟“ روحان نے اس کی بات بیچ میں کاٹی۔
”ہاں مجھ سے بڑے میرے ایک اور بھائی تھے۔ ہم چاروں بہن بھائیوں میں سب سے بڑے روحیل بھائی تھے۔“
”پھر آگے کیا ہوا؟“
”میں ہاسپٹل پہنچی تو بھیا آئی سی یو میں تھے۔ ان کی حالت بہت زیادہ سیریس تھی۔ ڈاکٹر مجھے ان سے ملنے کی اجازت ہی نہیں دے رہے تھے۔ مگر میں ضد کر کے اندر چلی گئی۔ بھیا تھوڑا بہت ہوش میں تھے۔ میں نے انہیں آواز دی تو انھوں نے آنکھیں کھولیں اور مجھے دیکھنے لگے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کس نے کیا ہے بھیا؟ تو بھیا نے مجھے بتایا کہ: “
”یہ احمد رضا نے کیا ہے۔ اس نے میرے دوست کے باپ کا قتل کیا تھا میں نے اسے جیل میں ڈلوا دیا تو اس نے اپنے آدمیوں کے ذریعے مجھ پر فائرنگ کروادی اور خود بیل کے ذریعے رہا ہو گیا۔ ادیبہ تم میرا ایک کام کرو گی؟“ بھیا نے مجھ سے التجاء کی۔
”جی بھیا بولیں آپ۔“
”ادیبہ احمد رضا کو اب تم سزا دلواٶ گی۔ مجھے یقین ہے میری ادیبہ اس گنہگار کو ضرور سزا دلواۓ گی۔“ آخری بات بھیا نے اٹکتے ہوۓ بولی اور اسکے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کرلیں۔
”تم نے اپنے بھائی کا کیا نام بتایا تھا؟“ روحان نے ادیبہ کو سیدھا کرتے ہوئے کہا۔
”روحیل نام تھا میرے بھیا کا۔“
روحیل پولیس آفیسر تھا؟“ روحان نے سوال کیا۔
”ہاں بھیا پولیس آفیسر تھے۔ مگر آپ کو کیسے پتہ؟“
”ایک منٹ ادیبہ۔“ روحان نے اپنا فون اٹھایا اور گیلیری میں سے ایک پک نکال کر ادیبہ کو دکھائی۔
”کیا یہ ہے تمہارا بھائی؟“
”ہاں یہ میرے بھیا ہیں مگر ان کی پک آپ کے پاس کیا کر رہی ہے۔“
”کیونکہ روحیل میرا دوست تھا۔“
”آپ بھیا کے دوست ہیں؟“ ادیبہ کو یقین نہیں آرہا تھا۔
” ہاں روحیل میرا دوست تھا۔ میرے ابو کے قتل کا کیس بھی اس کے پاس تھا۔ اس کا مطلب روحیل نے میرے ابو کے قاتل کو ڈھونڈ لیا تھا۔ وہ مجھے بتاتا اس سے پہلے احمد رضا نے اس کو مروا دیا۔“ روحان کی آنکھیں ضبط سے لال ہو گئیں تھیں۔
”تم فکر نا کرو ادیبہ اس احمد رضا کو میں سزا دلواٶں گا۔ بس ایک بار کوئی ٹھوس ثبوت میرے ہاتھ لگ جاۓ, پھر یہ دوبارہ جیل سے رہا نہیں ہو پائے گا۔“
”تھینک یو سو مچ روحان۔“ ادیبہ کہہ کر اس کے گلے لگ گئی۔
