Pakeeza Mohabbat by Noor Fatima NovelR50576 Pakeeza Mohabbat (Episode 08)
Rate this Novel
Pakeeza Mohabbat (Episode 08)
Pakeeza Mohabbat by Noor Fatima
”حیا بات سنو۔“ ازلان نے حیا کو مخاطب کیا۔
”ہمم بولو۔“ حیا عروبہ کے کپڑے تبدیل کروا رہی تھی۔
”تم لوگوں نے ادیبہ کی شادی کے بارے میں کیا سوچا ہے؟ اس کی عمر ہو گئی ہے۔ ابھی تک شادی نہیں کی۔“
”ازلان! آپی کے لیے بہت سے رشتے آتے ہیں, مگر وہ کسی کے لیے بھی ہاں نہیں کرتی۔ وہ کہتی ہے مجھے ابھی شادی نہیں کرنی۔“
”ابھی نہیں کرنی تو پھر کب کرنی ہے؟ اتنی عمر تو گئی ہے اس کی۔ اب تو اس کے چھوٹے بہن بھائیوں کی بھی ہو گئی ہے۔ تو پھر وہ کیوں نہیں کرتی ہے؟“
”بس کیا کریں ازلان۔ ہم نے بہت سمجھایا آپی کو مگر آپی مانتی ہی نہیں ہیں۔“
”تم ایک بار اپنی امی سے بات کرو ان کے لیے کہ انہیں سمجھائیں۔“
”ٹھیک ہے میں امی کو کہتی ہوں۔ تمہاری نظر میں کوئی لڑکا ہے, جو آپی کے لئے پرفیکٹ ہو؟“ حیا نے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔
”ہاں ہے تو سہی۔“
”کون؟“
”روحان کیسا رھے گا ادیبہ کے لیے؟“
”اپنا R.K؟“ حیا نے حیرانی سے پوچھا۔
”ہاں اپنا R.K۔ تمہیں پتہ ہے وہ ادیبہ سے محبت کرتا ہے۔ اس نے قرآن پاک حفظ کیا, دینی تعلیمات حاصل کیں, صرف اور صرف ادیبہ کے لئے۔“
”کیااااا؟؟ وہ آپی کو پسند کرتا ہے؟“حیا ازلان کی بات سن کر حیران ہو گئی۔
”ہاں وہ ادیبہ کو پسند کرتا ہے اس نے خود مجھ سے یہ بات کہی تھی۔ یار تم آنٹی سے بات کرو نہ کہ وہ ادیبہ کو منا لیں نکاح کے لیے۔“
”ٹھیک ہی ازلان! میں بات کرتی ہوں امی سے, مگر یہ مشکل کام ہے مجھے نہیں لگتا کہ آپی مانیں گی۔“
”مشکل تو ہے پر تم ٹرائے تو کرو۔ ہم اپنے R.K کیلیے اتنا تو کر ہی سکتے ہیں نا۔“
”ٹھیک ہے۔ میں کرتی ہوں امی سے بات۔“
________________________
”ادیبہ میرا بچہ یہاں آٶ۔ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔“ فاطمہ بیگم نے کچن میں کام کرتی ہوئی ادیبہ کو اپنے پاس بلایا۔
”جی امی بولیں۔“ ادیبہ نے مسکرا کر کہا۔
”بیٹا ازلان کے دوست کی امی آج آپ کو دیکھنے کے لیے آرہی ہیں۔“
”مگر کیوں امی؟“ ادیبہ حیران تھی۔
”بیٹا وہ اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر آرہی ہیں آپ کے لئے۔“
”مگر امی۔“ ادیبہ بولنے لگی مگر فاطمہ بیگم نے اس کی بات کاٹی۔
”کوئی اگر مگر نہیں۔ اتنی عمر ہوگئی ہے اب بھی شادی نہیں کرنی۔ لوگ باتیں بناتے ہیں چھوٹی بیٹی کو رخصت کر دیا اور بڑی گھر میں بیٹھی ہے۔“
”امی پلیز مجھے نہیں کرنی شادی۔“ ادیبہ روہانسی ہو گئی۔
”بیٹا میری آخری خواہش سمجھ کر شادی کر لو۔ میں چاہتی ہوں میرے مرنے سے پہلے اپنی بیٹی کو اس کے گھر بھیج دوں۔“
”امی آپ ایسی باتیں کیوں کر رہی ہیں؟“
”تم مجھے مجبور کر رہی ہو ایسی باتیں کرنے پر اور ویسے بھی بہت اچھا رشتہ ہے لڑکا بھی حافظِ قرآن ہے۔ اب تم جاؤ جاکر تیار ہو کر آٶ, وہ آتی ہی ہوں گی۔“
”ٹھیک ہے امی۔“ ادیبہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔
________________________
احمد رضا خان اور انکی اہلیہ سلیمان صاحب کے گھر بیٹھے تھے۔ روحان نے جانے سے منع کر دیا تھا۔
”کہاں ہیں آپ کی بیٹی ادیبہ؟“ صوفیہ بیگم نے کہا۔
”حیا بیٹا جاٶ ادیبہ کو بلاکر لاؤ۔“
”جی امی۔“
”السلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔“ ادیبہ نے کمرے میں آتے ہی سلام کیا۔
”وعلیکم السلام۔“ سب نے جواب دیا۔
ادیبہ اپنی امی کے پاس صوفے پر بیٹھ گئی۔ ادیبہ کی نظر جیسے ہی سامنے بیٹھے احمد رضا پر گئی تو حیران رہ گئی۔
اسے نہیں پتا تھا کہ احمد رضا, جو کہ اس کا دشمن ہے اس کے بیٹے کا رشتہ آیا ہے۔
وہ وہاں پر خاموش رہی۔ تھوڑی بہت باتیں کرنے کے بعد وہ وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔
”فاطمہ! رشتہ تو پکا ہو ہی گیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں آپ اپنی بیٹی ہمارے بیٹے کے نکاح میں دے دیں۔ رخصتی بے شک بعد میں کرلیجئے گا۔“
(یہ بھی روحان کا ہی کہنا تھا کہ رشتہ پکا ہو جاۓ تو فوراً نکاح ہو جاۓ۔ اسکی ضد کے آگے صوفیہ بیگم کچھ نہیں کہہ پائیں۔)
”ٹھیک ہے ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے, میں ادیبہ کو بلاتی ہوں۔“ فاطمہ بیگم اٹھ کر ادیبہ کے کمرے میں آگئیں۔
”ادیبہ بیٹا! وہ لوگ چاہتے ہیں کہ تمھارا اور انکے بیٹے روحان کا نکاح کر دیا جاۓ۔ رشتہ تو پکا ہو ہی گیا ہے رخصتی بعد میں کروا لیں گے۔“
”مگر امی اتنی جلدی, ہم تو ان لوگوں کو جانتے بھی نہیں ہیں۔“ ادیبہ انھیں سچ نہیں بتانا چاہتی تھی۔ اگر سچ بتا دیتی تو اس کی امی سچ کو برداشت نہیں کر پاتیں۔
”امی پلیز مجھے ابھی نہیں کرنا نکاح۔“ ادیبہ کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں۔
”ادیبہ بیٹا آپ ہی تو کہتی ہو منگنی کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔ نکاح ہونے پر سنت ادا ہو جاتی ہے۔“ فاطمہ بیگم نے اسے اسکی بات یاد کروائی جو اس نے حیا کے نکاح کے وقت کہی تھی۔
”جی امی میں نے ہی کہا تھا مگر….“ ادیبہ کی بات فاطمہ بیگم نے کاٹ دی۔
”اگر مگر کچھ نہیں۔ اپنے باپ کی عزت کا کچھ تو خیال رکھو۔ میں ان کو کہہ کر آئی ہوں آپ اپنے بیٹے کو بلا لیں۔ میں ادیبہ کو لاتی ہوں۔ وہ کیا سوچیں گی؟“ اتنے میں صبیحہ بیگم بھی کمرے میں آگئیں۔
”کیا ہوا ادیبہ بیٹا ابھی تک آئی نہیں۔“
”دادی جان! آپ کہیں نا امی سے مجھے نہیں کرنا نکاح۔“ ادیبہ نے دادی جان سے التجاء کی۔
”ادیبہ بیٹا کب تک ماں باپ کے گھر بیٹھی رہے گی۔ لڑکیوں کو تو ایک دن رخصت ہوکر جانا پڑتا ہے۔“
”مگر دادی جان یہ پتا نہیں کیسے لوگ ہیں۔ ہم تو جانتے بھی نہیں ہیں۔“
”بیٹا لڑکا ازلان کا دوست ہے۔ ازلان بتا رہا تھا بہت سلجھا ہوا نیک لڑکا ہے۔ ماشاءاللہ حافظِ قرآن بھی ہے اور کیا چاہیے۔“ دادی جان نے سمجھانا چاہا۔
”ٹھیک ہے امی, دادی جان آپ چلیں میں آتی ہوں تیار ہو کر۔“ ادیبہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
آخر کار ادیبہ سلیمان رضا, ادیبہ روحان خان بن گئی۔
روحان تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا۔ سب اسکو اور ادیبہ کو مبارکباد دے رہے تھے۔
ادیبہ, حیا ,فاطمہ بیگم ,صوفیہ بیگم اور دادی جان لاٶنچ میں تھیں اور باقی کے مرد حضرات ڈرائنگ روم میں تھے۔
روحان نے ابھی تک ادیبہ کو نہیں دیکھا تھا۔
ادیبہ کے سر میں درد ہو رہا تھا اسی لیے وہ اپنے کمرے میں آگئی۔ اس نے پین کلر لی اور سو گئی۔
کچھ دیر بعد روحان ادیبہ کے روم میں آیا اور دروازہ بند کر کے ادیبہ کے سرہانے بیٹھ گیا۔
وہ یک ٹک ادیبہ کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
”کتنی پاکیزہ ہے یہ۔ کتنا نور ہے اس کے چہرے پر۔“ وہ دل میں سوچ رہا تھا۔
کچھ دیر وہ اسے دیکھتا رہا۔ پھر جھک کر اس کی پیشانی پر بوسہ دے کر وہاں سے چلا گیا۔
ادیبہ کی آنکھ کھلی تو رات کے دو بج رہے تھے۔ وہ اٹھی اور وضو کرکے تہجد کی نماز پڑھنے لگی۔ نماز پڑھ کر دعا مانگنے کیلیے ہاتھ اٹھاۓ۔
”اللہ پاک کیوں؟؟؟؟ میں جس انسان سے نفرت کرتی ہوں آپ نے اسی کی بہو کیوں بنا دیا؟؟؟؟“ وہ رو رو کر اللہ پاک سے شکوہ کر رہی تھی۔
”آپ کے ہر فیصلے میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے۔ آپ نے یقیناً میرے لیے بھی کوئی بھلائی رکھی ہوگی۔ آپ تو ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتے ہیں نا مجھ سے۔ پھر کیسے مجھے تکلیف دے سکتے ہیں آپ۔“
دعا مانگ کر وہ یکدم پرسکون ہو گئی تھی۔
وہ جب بھی تکلیف میں ہوتی تو اللہ پاک کو اپنی تکلیف بتاتی تھی۔
کبھی بات بھی نہ کرنا,
کبھی گفتگو مسلسل۔
کبھی رب کو یاد کرنا,
تسبیح نماز پل پل۔
کبھی ایک سجدہ مشکل,
اور دنیا میں گم مسلسل۔
________________________
ایک ماہ بعد…..
اس ایک مہینے میں روحان نے اپنے باپ کا سارا بزنس اچھے سے ہینڈل کر لیا تھا۔
آج اس کا ادیبہ سے ملنے کا بہت دل کر رہا تھا۔ تو وہ آفس سے جلدی کام سمیٹ کر سلیمان رضا کے گھر پہنچ گیا۔
”السلام علیکم انکل۔“ دروازے پر ہی اسے سلیمان صاحب مل گئے تھے۔
”وعلیکم السلام کیسے ہو بیٹا۔ آٶ اندر۔ بڑے وقت کے بعد نظر آۓ ہو آج تو۔“
”ارے انکل وہ آفس کا کچھ زیادہ کام تھا نا بس اسی لئے ٹائم ہی نہیں ملا۔“
”السلام علیکم آنٹی!“ وہ اندر آیا تو فاطمہ بیگم کو دیکھ کر سلام کیا۔
”وعلیکم السلام بیٹا! کیسے ہو؟“ انھوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
”اللہ کا شکر ہے آنٹی میں بالکل ٹھیک ہوں۔ آپ کی طبیعت کیسی ہے؟“ روحان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”بس اللہ کا کرم ہے بیٹا۔ آٶ بیٹا بیٹھو۔“ انہوں نے روحان کو بیٹھنے کا کہا۔
”نہیں آنٹی مجھے لیٹ ہو رہا ہے پھر کسی ٹائم۔ وہ تو میں گزر رہا تھا یہاں سے تو سوچا آپ لوگوں سے حال احوال پوچھ لوں۔“
”اچھا اپنی بیوی سے تو مل لو۔ وہ اوپر اپنے کمرے میں ہے۔“
”ٹھیک ہے آنٹی۔“
روحان نے ادیبہ کا روم ناک کیا۔ اندر سے کوئی آواز نہیں آئی تو وہ دروازہ کھول کر اندر چلا گیا۔ اندر ادیبہ نماز پڑھ رہی تھی۔ اس نے دروازہ بند کیا اور بیڈ پر بیٹھ کر اس کے نماز سے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگا۔
ادیبہ نے سلام پھیرا پھر دعا مانگنے لگی۔ دعا مانگنے کے بعد اس نے جاۓ نماز اٹھائی اور پلٹی تو اس کے قدم وہیں جم گئے۔ روحان بھی اس کو دیکھ کر کھڑا ہو گیا۔
”السلام علیکم۔“ روحان نے سلام کا آغاز کیا۔
”و..وعلیکم السلام۔“ادیبہ روحان کو دیکھ کر گھبرا گئی تھی۔
روحان نے آج پہلی بار ادیبہ کی آواز سنی تھی۔
”کیسی ہیں آپ“
”م.میں ٹھیک ہوں۔“
”آ..آپ بیٹھیں۔“ سامنے کھڑا ہوا انسان R.K نہیں تھا بلکہ حافظ محمد روحان خان تھا۔ جس سے چاہ کر بھی ادیبہ بدتمیزی سے بات نہیں کر پا رہی تھی۔
”میں کیوں اس انسان سے اتنا آرام سے بات کر رہی ہوں۔ جس کے باپ نے میرا سب کچھ اجاڑ دیا۔“ ادیبہ نے دل میں سوچا۔
”ادیبہ مجھے لیٹ ہو رہا ہے۔ میں چلتا ہوں۔ آپ اپنا خیال رکھیے گا۔“ وہ آگے بڑھا اور ادیبہ کی پیشانی پر بوسہ دیا۔
”اللہ حافظ!“ ادیبہ گھبرا گئی۔ اس نے آگے سے کچھ نہیں کہا۔
