Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pakeeza Mohabbat (Episode 04)

Pakeeza Mohabbat by Noor Fatima

”اسلام علیکم یارا۔“

ازلان نے روحان کے روم میں آتے ہی سلام کیا۔

”وعلیکم السلام۔“

”کیا ہوا محمد روحان ابن احمد رضا خان۔“

روحان جو اس وقت بہت پریشان تھا مگر ازلان کی بات سن کر اس کی ہنسی چھوٹ گئی۔

”کیا بات ہے آخر کس غم نے تمہیں گھیرا ہے

بکھری ہوئی زلفیں ہیں اترا ہوا چہرہ ہے۔“

”یار میری بات سن۔“ روحان نے ازلان کی طرف دیکھ کر کہا۔

”ہاں بول۔“ ازلان اب سنجیدہ ہو گیا تھا۔

”یار مجھے اس کو دیکھنا ہے۔“

”کس کو؟“ ازلان نے چونک کر کہا کیونکہ اس نے بات ہی ایسی کہی تھی۔

”ادیبہ سلیمان کو۔“ اس نے آہستہ آواز میں ادیبہ کا نام لیا۔

”تو پاگل ہوگیا ہے, وہ پردہ کرتی ہے۔“

”یار میں تھوڑی کچھ کہہ رہا ہوں صرف دیکھنا ہے اسے اور کچھ نہیں۔“

”تجھے جو کرنا ہے کر, مگر میں اس غلط کام میں تیرا ساتھ نہیں دونگا, وہ باپردہ لڑکی ہے ایسی لڑکیوں کی طرف نگاہ اٹھتی نہیں ہے خود ہی جھک جاتی ہے۔“ ازلان کے لہجے میں احترام تھا۔ روحان کو بھی شاید اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا۔

”واقعی یار! تو صحیح کہ رہا ہے۔ سوری میں نہیں دیکھوں گا ,بس ایسے ہی میں نے سوچا ایسی لڑکیاں کیسی دکھتی ہیں جو خود کو چھپا کر رکھتی ہیں“۔

_________________________

”ادیبہ آپی اللہ تعالی سے دعا کیسے مانگی جائے؟“ حمنہ نے ادیبہ سے پوچھا۔

”دیکھو حمنہ دعا مانگنے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی الفاظ کو رٹ لیا جائے بلکہ دعا تو دل کی آواز کو کہتے ہیں۔ ہاں مگر میں آپ کو ایک طریقہ بتاتی ہوں جس سے اکثر دعائیں قبول ہو جاتی ہے۔

دیکھو اگر کوئی فقیر ہمارے پاس آتا ہے تو ہمیں ہمارے پیاروں کا واسطہ دےکر کچھ مانگتا ہے۔ کبھی کہتا ہے تجھے تیرے ماں باپ کا واسطہ یا تجھے تیرے بچوں کا واسطہ, تو ہم اسے کچھ پیسے وغیرہ دے دیتے ہیں, اسی طرح ہم بھی غریب بن کر اللہ پاک کی بارگاہ میں آتے ہیں۔

(اللہ پاک تو ویسے بھی اولاد اور ماں باپ سے پاک ہیں۔) جب اللہ پاک کو انکے پیارے نبی حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم کا واسطہ دے کر کچھ مانگا جاۓ تو یقیناً دعا قبول ہو جاتی ہے اور یہی بہتر طریقہ ہے دعا مانگنے کا۔“

”جزاك الله ادیبہ آپی, میں آئندہ سے ایسے ہی دعا مانگا کروں گی۔ ادیبہ آپی آپ سے ایک سوال اور پوچھنا تھا۔“

”جی پوچھیں حمنہ۔“

”آپی کیا پردہ کرنا ضروری ہے؟ میرا مطلب اگر نہ کریں تو کوئی حرج تو نہیں۔“

حمنہ دو دن پردہ کرنے سے تنگ آگئی تھی اسے گھٹن ہوتی تھی پردہ سے تو اس نے سوچا ادیبہ آپی سے پوچھ لوں اگر پردہ کرنا ضروری نہیں ہے تو چھوڑدوں گی۔

”میں آپکو قرآن پاک کی آیت سناتی ہوں اس سے آپکو پردہ کی اہمیت کے بارے میں پتہ چل جاۓ گا۔

اللہ پاک قرآن کریم میں فرماتے ہیں:

“اے نبی (صلى الله عليه واله وسلم)! آپ اپنی بیویوں, بیٹیوں اور تمام مسلم عورتوں سے فرما دیجئے کہ اپنی چادروں کو اپنے (منہ کے) اوپر ڈال لیا کریں۔ اس طریقے میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی تو ان کو ستایا نہیں جائے گا اور اللہ تو بخشنے والے مہربان ہیں۔“

(سورة الاحزاب آیت نمبر 59)

ایک اور آیت میں فرمایا کہ:

” اے نبی (صلى الله عليه واله وسلم)! آپ فرما دیجیے مومن مردوں سے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنے ستر کی حفاظت کریں یہ ان کے لئے پاکیزہ رہنے کا طریقہ ہے اور وہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں اللہ پاک کو ان کی خبر ہوتی ہے۔ اور آپ مومن عورتوں سے (بھی) کہہ دیجئے کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنے ستر کی حفاظت کریں اور اپنے حسن کو کسی پر ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود ظاہر ہو جائے (یعنی ستر کے علاوہ) اور اپنی چادر کو اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں اوراپنی سجاوٹ کو کسی پر ظاہر نہ کریں,……………….“

(سورة النور آیت نمبر 30-31)

اس آیت میں مردوں کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں بلاوجہ غیر محرم عورتوں کو نہ دیکھیں ۔

اور عورتوں کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ بلاوجہ غیر مردوں کو نہ دیکھیں۔اور یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ اپنی سجاوٹ کو غیر مردوں سے چھپا کر رکھیں۔

اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ عورت اپنے حسن کو چھپا کر رکھے, مگر آج کے دور میں عورتیں اپنے حسن کو نمایاں کرتی پھرتی ہیں۔ آپ خود سوچیں جب ایک لڑکی پردہ کر کے گھر سے نکلے گی تو کوئی بھی غیر مرد اسکی طرف دیکھنے کی زحمت نہیں کرے گا۔ اب یہی لڑکی تیار ہوکر, فیشن کر کے گھر سے نکلے گی تو غیر مرد کی نگاہ خود بخود اس پر جائے گی۔ پھر یہی عورتیں کہتی پھرتی ہیں کہ آج کل کے مردوں میں کوئی شرم نام کی چیز نہیں ہے ہر وقت لڑکیوں کو ہی تاڑتے رہتے ہیں۔ اگر یہ عورتیں خود کو چھپا کر رکھیں, اللہ پاک کے حکم کے مطابق پردہ کر کے گھر سے نکلیں گی تو کسی کی کیا مجال کہ انکو دیکھے۔

آج کے دور میں پردہ تو بالکل ختم ہوگیا ہے۔ اگر کسی کو کہہ بھی دیتے ہیں کہ پردہ کرو تو کہتی ہیں کہ پردہ آنکھوں کا ہونا چاہیے۔ اگر ان سے کہا جائے کہ بھئی آنکھوں کا پردہ ہونا چاہیے تھا تو ازواج ِمطہراتؓ جیسی پاکیزہ عورتیں کیوں پردہ کرتی تھیں کیا ان کی آنکھوں میں حیا نہیں تھی؟ وہ صحابہ کرامؓ جیسے پاک مردوں سے پردہ کرتی تھیں۔ کیا صحابہ کرامؓ کی آنکھوں میں حیا نہیں تھی؟ وہ پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں سے پردہ کرتی تھیں۔ تو آج کے دور کے مرد و عورت تو ان جیسے پاک نہیں ہیں پھر انکو پردہ کرنا کتنا ضروری ہوگا۔

ان آیات سے آپ کو اندازہ تو ہو ہی گیا ہوگا کہ پردہ کرنا کتنا ضروری ہے۔“

”شکریہ ادیبہ آپی آپنے مجھے اتنے اچھے سے پردے کے احکام بتاۓ۔ میں ان آیات پر ضرور عمل کروں گی اور ان شاء اللہ کبھی بھی پردہ نہیں چھوڑونگی۔“ حمنہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔ وہ سوچتی تھی کہ پردہ کرنا کیا ضروری ہے بلاوجہ بس حجاب پہننا پڑتا ہے۔ آج اسے احساس ہوگیا تھا کہ پردہ کرنا کیوں ضروری ہے۔

”‏فیشن چاہے جتنا بھی خوبصورت لگے مگر وہ پردے اور شرم و حیا سے زیادہ خوبصورت نہیں ہوتا..“

”حمنہ آپ نے کبھی قرآن پاک کو پڑھا ہے۔“ ادیبہ نے اس سے عام سا سوال پوچھا۔

”جی بہت بار مکمل پڑھا ہے۔“ حمنہ حیران تھی کہ یہ کیسا سوال ہے۔

”کیا آپ نے کبھی قرآن پاک پڑھتے ہوۓ سوچا ہے کہ اس میں کیا لکھا ہے؟“

(ہمیں عربی پڑھ کر تو کچھ سمجھ نہیں آتا بس ایسے ہی پڑھتے رہتے ہیں۔)

”نہیں میں نے کبھی نہیں سوچا کہ اس میں کیا لکھا ہے مگر آپ مجھے میرے سارے سوالوں کے جواب قرآنی آیات سے دیتی ہیں تو مجھے دلچسپی ہوگئی ہے کہ میں اسکا ترجمہ پڑھوں تاکہ مجھے پتہ چلے کہ اس میں کیا لکھا ہے۔“

”ہمم آپ ایک بار ضرور قرآن پاک کا ترجمہ پڑھیں۔ ظاہر ہے اللہ پاک نے بلاوجہ تو قرآن پاک نازل نہیں کیا نا کہ ہم بس عربی پڑھیں اور ہمارے پلے کچھ پڑے ہی نہیں۔ ہم عربی نہیں عجمی ہیں اسی لیے ہمیں قرآن پاک سمجھ نہیں آتا۔ ہمیں اس کا ترجمہ پڑھنا پڑتا ہے۔ یہ میں آپ کو ایک کتاب دیتی ہوں۔ آپ اس کو ضرور پڑھیں۔ اس میں قرآن پاک کا ترجمہ بہت آسان لفظوں میں لکھا ہے آپ کو سمجھنے میں مشکل بھی نہیں ہوگی۔ ان شاء اللہ آپ کو آپ کے سارے سوالوں کے جواب اس میں ضرور مل جائیں گے ,اگر کوئی چیز سمجھ نہیں آۓ تو مجھ سے پوچھ لیجئے گا۔“ ادیبہ نے اسے کتاب دیتے ہوئے کہا۔

”جزاک اللہ ادیبہ آپی! میں ضرور پڑھوں گی۔“ حمنہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔

”قصہ یہ پڑھا ہے پرانی کتاب میں!!

حُسن محفوظ رہتا ہے ہمیشہ حجاب میں۔“

_________________________

”امی مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔“ فاطمہ بیگم کچن میں کام کررہی تھیں اتنے میں ادیبہ آئی اور کہنے لگی۔

”ہاں بیٹا بولو کیا بات کرنی ہے؟“

”امی میں سوچ رہی تھی کہ حیا اور ازلان کا رشتہ تو پکا ہو ہی گیا ہے تو آپ ان کا نکاح کروا دیں۔“

”مگر بیٹا حیا کے اگزامز تو ہونے دو۔“

”امی میں کونسا رخصتی کروانے کا بول رہی ہوں صرف نکاح کا ہی تو بولا ہے ایک بار نکاح ہو جاۓ گا تو سنت بھی ادا ہو جاۓ گی اور حیا کا ازلان خان سے بات کرنا بھی گناہ نہیں ہوگا اور ویسے بھی ہمارے اسلام میں منگنی کا کوئی رواج نہیں ہے۔“ ادیبہ نے فاطمہ بیگم کو سمجھانا چاہا۔

”ٹھیک ہے بیٹا میں تمہارے ابو سے بات کرتی ہوں۔“ ”شکریہ امی۔“ ادیبہ نے مسکراتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔

فاطمہ بیگم نے سلیمان صاحب اور زاہدہ بیگم سے بات کی تو وہ بھی خوشی خوشی راضی ہوگئے اور ان دونوں کا نکاح ہو گیا۔

_________________________

حمنہ ادیبہ کے روم میں جا رہی تھی کہ تب ہی سامنے سے حنین سیڑھیوں سے اتر کر آرہا تھا۔

”اسلام علیکم۔“ حمنہ نے اسے دیکھ کر کہا۔

”وعلیکم السلام۔“ حنین اسے پہچان گیا تھا کہ ادیبہ کی دوست ہے۔ حنین نے ہلکا سا مسکرا کر اسے جانے کی جگہ دی۔

”کیا مسکراتا ہے, اُففف اس کا ڈمپل……“ حمنہ سوچتی ہوئی آگے کی طرف بڑھ گئی۔

”السلام عليكم ورحمة الله وبركاته“ اس نے ادیبہ کے کمرے میں آتے ہی سلام کیا۔

”وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔“

”ادیبہ آپی یہ آپ کے لیے۔“

حمنہ نے خوبصورت سا ڈریس ادیبہ کو دیا۔

”اس کی کیا ضرورت تھی حمنہ۔ آپ بلاوجہ ہی پریشان ہوئی۔“

”اسمیں پریشانی والی کیا بات, آپ نے ہی تو کل حدیث پاک سنائی تھی کہ تحفہ دینے سے محبت بڑھتی ہے, بس اسی لیے۔“

”اچھا جزاك اللہ“ ادیبہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔

”اِٹس اوکے۔“ حمنہ نے کہا۔

”حمنہ “جزاك الله” کا مطلب ہوتا ہے اللہ آپ کو اس کا اچھا بدلہ دے اس کے جواب میں آمین کہتے ہیں۔“

”اوہ سوری مجھے پتا نہیں تھا, آمین۔“ حمنہ نے کہا۔

”اُفف ادیبہ آپی کی مسکراہٹ بالکل حنین کے جیسی ہے۔ مگر حنین کا ڈمپل…“ حمنہ دل میں سوچے جا رہی تھی اور مسکرا رہی تھی۔

”کیا ہوا؟“ ادیبہ نے اس کو اکیلے مسکراتے ہوئے دیکھ کر پوچھا۔

”جی وہ ڈمپل۔“ حمنہ کے منہ سے بے اختیار نکل گیا۔ ”کیا!!!“ ادیبہ سمجھ نہیں پائی۔

”وہ میں کہہ رہی تھی آپ مسکراتے ہوئے بہت پیاری لگتی ہیں۔“ حمنہ اپنے بے اختیار ہو جانے پر کنفیوزڈ ہو گئی تھی۔

”ہمم حنین بھی مجھے یہی کہتا ہے کہ میں مسکراتے ہوۓ پیاری لگتی ہوں۔“

”جی آپ سچ میں بہت پیاری لگتی ہیں۔“ حمنہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔

”شکریہ حمنہ۔“

ادیبہ آج اُسے روزے کی فضیلت بتا رہی تھی۔ ساتھ ساتھ بہت سے واقعات بھی سنا رہی تھی۔

”ادیبہ آپی سچ بتاؤں اتنی اچھی باتیں سن کر میرا یہاں سے جانے کو دل نہیں کرتا۔“

”تو آپ یہیں آجائیں مستقل۔“ ادیبہ نے محبّت سے کہا۔

”ارے میں بھی تو یہی چاہتی ہوں۔“ حمنہ نے دل میں سوچا۔

”ایسا ممکن کہاں؟“

”آپ کا جب دل کیا کرے آپ آ جایا کریں۔“

”شکریہ ,اچھا اب میں چلتی ہوں۔ اللہ حافظ۔“

”اللہ حافظ۔“

وہ سیڑھیاں اُتر رہی تھی۔ اسکی آنکھیں حنین کو ڈھونڈ رہی تھیں۔

(حالانکہ اس نے ابھی پڑھا تھا کہ غیر محرم کو پہلی نظر دیکھنا معاف ہے مگر بار بار نہیں۔)

اس نے نگاہ نیچے کر لی۔ دل میں بار بار یہی خیال آ رہا تھا کہ اتنی محنت کے بعد بھی حنین نے ریجیکٹ کر دیا تو۔ یہ سوچ کر اسکی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

حمنہ نگاہ نیچی کیے ہوۓ جا رہی تھی سامنے سے حنین چوکیدار سے بات کرتا ہوا پلٹا تو حمنہ سے ٹکرا گیا۔

”اوہ آئی ایم سو سوری۔“ حنین ایک دم گھبرا گیا۔

حمنہ نے نگاہیں اُوپر کیں اور کچھ بولے بغیر ہی آگے بڑھ گئی۔

”سنیئے۔“ حنین اس کے پیچھے گیا۔

”کیا ہوا زیادہ لگ گیا کیا؟ آپ رو رہی ہیں۔“ حنین نے اس کے آنسو دیکھ لیے تھے۔

”جی نہیں لگی۔“ اتنا کہہ کر وہ رکی نہیں, چلی گئی۔ ادھر حنین پریشان تھا کہ وہ کیوں رو رہی تھی۔

_________________________

”چلو بیٹا آج شاپنگ پر چلیں۔“ فاطمہ بیگم نے ادیبہ سے کہا ,جو ان کے پیر دبا رہی تھی۔

”امی اس وقت بہت دھوپ ہے شام میں چلیں؟“ اس نے اجازت طلب انداز میں کہا۔

”ٹھیک ہے بیٹا پھر شام میں چلیں گے۔“

ادیبہ کی عادت تھی جب فارغ ہو جاتی تو اپنی امی کے پاس آجاتی۔ کبھی ان کے پیر دباتی تو کبھی سر دبا دیتی تھی۔ وہ فارغ وقت میں موبائل استعمال نہیں کرتی تھی بلکہ اپنی امی کی خدمت کرتی تھی۔ وہ رشتوں کو موبائل پر ترجیح نہیں دیتی تھی۔

_________________________

ادیبہ ,حیا اور فاطمہ بیگم شاپنگ کرنے آئیں تھیں۔ مال پہنچ کر انہوں نے ادیبہ کیلیے عبایا لیا اور اس کے منع کرنے کے باوجود کچھ جیولری وغیرہ بھی لیں۔ کچھ دیر شاپنگ کرنے کے بعد ادیبہ کو چکر آنے لگے تو وہ سائیڈ بینچ پر بیٹھ گئی اور درود شریف کا ورد کرنے لگی۔

سامنے روحان اور ازلان بھی شاپنگ کر رہے تھے۔ انہوں نے حیا اور فاطمہ بیگم کو دیکھا تو سلام کرنے کے لئے آگے بڑھے۔ اچانک روحان کی نظر ادیبہ پر گئی اس نے مکمل نقاب کیا ہوا تھا۔

”یہ ادیبہ سلیمان ہے؟“ اس نے خود سے سوال کیا۔

”ہاں یہی ہے وہ جو اُس دن حیا کے ساتھ تھی۔“ اس نے خود کو اس کے پاس جانے سے باز رکھنا چاہا مگر اس کی آواز سننے کی نیت سے اس کے پاس چلا گیا۔ ازلان فاطمہ بیگم اور حیا سے باتیں کر رہا تھا۔

”السلام علیکم ادیبہ جی۔“ اس نے ادیبہ کے پاس جاتے ہی سلام کیا۔ ادیبہ نے اپنے قریب انجان آواز سنی تو ڈر گئی۔ نظر اٹھانا بھی چاہا تو نہیں اٹھا پائی۔ اس نے دل میں سلام کا جواب دیا۔

”آپ تو کافی دیندار ہیں, تو سلام کا جواب دینا ہر مسلمان پر واجب ہے یہ بھی پتہ ہوگا۔“

”سلام کا جواب غیر محرم کو تیز آواز میں دینا ضروری نہیں ہے۔“ روحان کو پیچھے سے حیا کی آواز آئی تو وہ مڑا۔

”حیا تم, میں تو ویسے ہی سلام کرنے آیا تھا۔“ روحان حیا کے آنے پر گھبرا گیا تھا۔

”چلو روحان چلیں۔ اچھا آنٹی ہم چلتے ہیں پھر ملاقات ہوگی۔“ ازلان اُسے لے کر مال سے نکل گیا۔

”روحان تو کیا کر رہا تھا۔ تجھے کتنی مرتبہ کہا ہے ادیبہ سے دور رہا کر۔“ ازلان نے غصے سے کہا۔

”یار میں نے تو بس سلام ہی کیا تھا اس میں اتنی بڑی کیا بات تھی؟“ وہ اپنی غلطی ماننے کو تیار ہی نہیں تھا۔

”دوسری ہزار لڑکیاں ہیں تو ان سے بات کرلیا کر۔ کیوں اس پارسا عورت کے پیچھے پڑا ہے۔ اچھا تو ایک بات بتا تو نے اس کی طرف دیکھا؟“ ازلان نے موضوع سے ہٹ کر بات کی۔

”نہیں یار اچھا نہیں لگ رہا تھا مجھے۔“

”اچھا نہیں لگ رہا تھا وہ بات الگ ہے مگر روحان جب تک ایک عورت خود نہ چاہے تب تک مرد اپنی حدود پار نہیں کر سکتا اور دوسری بات وہ اتنی پاکیزہ ہے, اس نے خود کو اچھے سے کور کر رکھا ہے۔ اس کی طرف نگاہ نہیں اٹھتی بلکہ جھک جاتی ہے۔“

”واقعی یار تو صحیح کہہ رہا ہے مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔“ وہ واقعی شرمندہ ہو گیا تھا۔

_________________________

روحان گھر پر آیا تھا تب سے بے سکون تھا۔ اس کا دل بار بار اسے ادیبہ کو دیکھنے پر اُکسا رہا تھا۔ وہ باہر بالکونی میں گیا اور سگریٹ پینے لگا کہ شاید اس کو سکون مل جائے۔

”وہ لڑکی کیوں میرے ذہن پر سوار ہو گئی ہے۔“ وہ سگریٹ کے کش لگاتا ہوا خود سے سوال کر رہا تھا۔

”ایسا بھی کیا ہے اس میں جو وہ خود کو اتنا کور کرکے رکھتی ہے۔“ روحان کو ابھی تک یہ بات ٹھٹھک رہی تھی کہ کوئی اس زمانے میں بھی اتنا باپردہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ وہ جس سوسائیٹی میں پلا بڑھا تھا وہاں کی لڑکیاں بہت زیادہ موڈرن تھیں۔ اسی لیے ادیبہ کا پردے میں رہنا اسے عجیب لگ رہا تھا۔ اب اس کا صبر جواب دے گیا تھا۔ وہ کمرے میں آیا, اپنی جیکٹ اور موبائل اٹھایا اور گھر سے باہر نکل گیا۔ رات کے دو بج رہے تھے وہ سلیمان رضا ہاؤس کے باہر کھڑا تھا۔ چوکیدار سویا ہوا تھا۔ اس نے اس بات کا فائدہ اٹھا کر دیوار سے چھلانگ لگائی اور جس کھڑکی سے اسے ادیبہ نظر آئی تھی اس کے نیچے جا کر کھڑا ہو گیا۔

”یہ تو اوپر ہے, اب کیسے چڑھوں؟“ وہ دل میں سوچ رہا تھا کہ اسے سائیڈ میں ایک پائپ نظر آیا جو کہ دیوار کے ساتھ لگا ہوا تھا وہ پائپ کی مدد سے کھڑکی تک پہنچ گیا۔ کھڑکی نیم واں (آدھی کھلی ہوئی) تھی۔ روحان نے اندر جھانکا۔ ادیبہ تہجد کی نماز پڑھ رہی تھی۔ ادیبہ کی پِیٹھ اس کی طرف تھی۔

”یار ذرا سا پلٹ جاٶ دیکھ لوں تھوڑا سا۔“ اسے ڈر تھا کہ کہیں کوئی آ نہ جائے۔

ادیبہ نے جیسے ہی سلام پھیرا تو روحان کو اس کا آدھا چہرہ نظر آیا وہ حیران ہو گیا تھا اس کا چہرہ دیکھ کر۔ اتنا حسین چہرہ,اتنی خوبصورت آنکھیں جن میں الگ ہی چمک تھی۔ شفاف اور گورا رنگ, گلابی ہلتے ہوئے ہونٹ, اس کے چہرے پر نور ہی نور تھا۔

”‏کیا حُسن تھا کہ آنکھ سے دیکھا ہزار بار,

پھر بھی نظر کو حسرت دیدار رہ گئی۔ “

روحان اس کو دیکھتا ہوا کہیں کھو سا گیا تھا۔

”یا اللہ پاک اسے میرا بنا دو۔“ اس کے لب سے بے اختیار دعا نکلی تھی اور اب اسے احساس ہوا تھا کہ اس نے کتنا بڑا گناہ کیا ہے۔

”یا اللہ! میں نے کتنا بڑا گناہ کر دیا اس کو دیکھ کر۔ آئی ایم سوری اللہ تعالیٰ۔“ دل ہی دل میں وہ اللہ پاک سے مخاطب ہوا اور وہاں سے نیچے چھلانگ لگا دی اور اپنے گھر آ گیا۔ رات بھر وہ سو نہیں سکا۔ اس نے بیڈ کراٶن سے ٹیک لگایا اور آنکھیں بند کیں تو وہ پاکیزہ چہرہ اس کی آنکھوں میں آ گیا۔

“نہ جانے کیا کشش ہے اس کی مدہوش آنکھوں میں

نظر انداز جتنا بھر کروں, نظر اُس پر ہی رہتی ہے۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *