Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pakeeza Mohabbat (Episode 05)

Pakeeza Mohabbat by Noor Fatima

آج حمنہ ادیبہ سے سبق پڑھ رہی تھی کہ اتنے میں حنین کمرے میں آ گیا۔

”ادیبہ آپی! آپ کے لئے چاکلیٹس….“ وہ آگے کچھ کہتا اس سے پہلے اس کی نگاہ حمنہ کے چہرے پر گٸ۔ حمنہ نے فوراً اپنا رخ دوسری طرف کر لیا۔

”حنین میں آپ سے تھوڑی دیر بعد بات کرتی ہوں, ابھی میری دوست ہیں یہاں۔“ ادیبہ نے کہا۔

”ٹھیک ہے آپی۔“حنین کہہ کر چلا گیا۔

”یہ تو وہی لڑکی ہے جو یونی میں ملی تھی۔ یہ ادیبہ آپی سے دین سیکھ رہی ہیں۔“ حنین حیران تھا اس نے حمنہ کو دیکھتے ہی پہچان لیا تھا۔

”سوری حمنہ میرے بھائی کو پتہ نہیں تھا کہ آپ میرے کمرے میں ہیں۔“ ادیبہ نے حمنہ سے کہا۔

”کوئی بات نہیں ادیبہ آپی۔“

حمنہ کو ٹینشن ہو رہی تھی کہیں حنین نے اسے دیکھ نہ لیا ہو۔

”اچھا حمنہ آپ سے ایک گزارش تھی۔“

”جی کہیں ادیبہ آپی۔“

”حمنہ میرے ماموں کے بیٹے کا ولیمہ ہے لاہور میں۔ امی کہہ رہیں تھی کہ ماموں نے کہا ہے ادیبہ کو لازمی لانا۔ حیا کے امتحان شروع ہوگئے ہیں۔ تو کیا آپ میرے ساتھ چلیں گی؟ مجھے اکیلے جاتے ہوئے عجیب لگ رہا ہے۔ میں حیا کے بغیر کبھی کہیں نہیں گئی۔“

”ٹھیک ہے ادیبہ آپی, میں اپنے ابو سے ایک بار اجازت لے لوں، اگر وہ اجازت دے دیتے ہیں تو میں آپ کو بتا دوں گی۔“

”جزاک اللہ! حمنہ“

”آمین۔“

________________________

”کیا ہوا روحان؟ تو اتنا اداس چہرہ لے کر کیوں بیٹھا ہے؟“ ازلان روحان سے ملنے آیا تھا۔ وہ اداس لگ رہا تھا۔

”یار مجھے سکون کیوں نہیں مل رہا؟ میں کچھ بھی کروں مجھے سکون نہیں مل رہا۔ میں کیا کروں؟“ اس کے چہرے پر تکلیف کے اثرات صاف نمایاں ہو رہے تھے۔

”تو اُٹھ میرے ساتھ چل۔“ ازلان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔

”مگر کہاں؟“ روحان حیران تھا۔

”تو اٹھ تو سہی, میرے ساتھ چل۔“

ازلان اسے مسجد میں لے کر گیا اور اسے وضو کرنے کو کہا۔ وضو کرنے کے بعد دونوں نے نماز پڑھی۔ روحان کو نماز میں بہت سکون مل رہا تھا۔ نماز پڑھنے کے بعد وہ وہیں بیٹھ گیا۔

”اب بتا سکون ملا یا نہیں؟“ ازلان نے اس سے پوچھا۔

”قسم سے یار! یہاں اتنا سکون مل رہا ہے۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ مسجد میں اتنا سکون ملتا ہے۔“ روحان نے ازلان کی طرف دیکھ کر کہا۔

”تجھے پتہ ہے, اللہ تعالی نے قرآن پاک میں فرمایا ہے:

“الا بذکر اللہ تطمئن القلوب”

جس کا مطلب ہے: “سن لو! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو سکون ملتا ہے۔”…..“

”تو صحیح کہہ رہا ہے یار مجھے سچ میں بہت سکون ملا یہاں آکر۔“

_________________________

حمنہ اپنے ابو سے مل کر دعا لیتی ہوئی اور ملازمہ کو دواٸ کی تاکید کرتی ہوئی گاڑی میں بیٹھ گئی اُسے ادیبہ کے ساتھ لاہور جانا تھا۔ وہ ادیبہ کے کمرے میں گئی اور ادیبہ کو سلام کیا۔

”السلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔“

”وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته۔“

”کیسی طبیعت ہے آپ کی ادیبہ آپی؟“

”جی الحمدللہ! بالکل ٹھیک۔ آپ سنائیں۔“

”میں بھی ایک دم فائن۔“

”جزاک اللہ ساتھ چلنے کے لیے۔“

”آمین۔ کوئی بات نہیں ادیبہ آپی۔“

”ادیبہ آپی آپ تیار ہو؟“ حنین کمرے میں آیا۔ حمنہ نے حنین کو دیکھ کر رُخ پھیر لیا۔

”حنین ہم تیار ہیں۔ کب نکلنا ہے؟“ ادیبہ نے کہا۔

”میں, امی ابو اور دیگر رشتہ داروں کو بھجوا دوں ایئرپورٹ پھر ہم ساتھ نکلیں گے۔“

”ٹھیک ہے۔“ حنین نیچے آیا اور سب کو ایئرپورٹ کے لیے روانہ کردیا۔ پھر اپنے کمرے میں آکر سب چیزیں دیکھنے لگا۔ ویسے تو سارا سامان تیار تھا۔ اس نے اپنے بیگ میں ادیبہ کے لیے چاکلیٹس رکھیں اور پھر بیگس اٹھا کر باہر نکل گیا۔

”ادیبہ آپی چلیں؟“

”چلو۔۔۔۔۔“ ادیبہ اور حمنہ دونوں نے حجاب درست کیا اور گاڑی میں بیٹھ گئیں۔

ازلان کے ساتھ روحان بھی انہیں ائرپورٹ ڈراپ کرنے آیا تھا۔

”ارے روحان بھائی۔ اسلام علیکم۔“ حنین نے روحان کو دیکھا تو سلام کیا۔

”وعلیکم السلام۔ سوچا آپ لوگ جا رہے ہیں تو میں بھی آ جاؤں۔“

”بہت اچھا کیا آپ نے یہاں آکر میں نے تو آپ کو اور ازلان بھائی کو کہا تھا چلنے کو مگر آپ دونوں کے اگزامز سٹارٹ ہو گئے ہیں۔“

”بس یار کیا کر سکتے ہیں۔ تم لوگ وہاں سے آٶ گے تو پھر ملاقات ہوگی۔“

سلام دعا کے بعد روحان ازلان کے ساتھ چلا گیا۔ وہ صرف ادیبہ کو دیکھنے کی نیت سے آیا تھا۔ ادیبہ کو دیکھ کر اسے بے حد سکون ملا تھا۔

”خود کو باوضو کیا تیرے تصور سے بھی پہلے،

میں نے اس درجے تک تیری محبت کو پاکیزہ رکھا۔“

_________________________

سفر کا اختتام ہو چکا تھا کل ولیمہ تھا تو سب گھر پہنچ کر آرام کی نیت سے اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے۔ حمنہ سو چکی تھی۔ اور ادیبہ ابھی لیٹی ہی تھی کہ دروازہ ناک ہوا۔ ادیبہ نے حمنہ کی بلینکٹ صحیح کی اور دروازہ کھولا حنین اور فاطمہ بیگم اندر آئے۔ حنین بیڈ پر بیٹھ گیا فاطمہ بیگم ادیبہ کو اپنے ساتھ لے کر چلیں گٸ۔ انہیں کچھ دعائیں وغیرہ پوچھنی تھی۔ حنین ادیبہ کیلیے چاکلیٹس لایا تھا اس نے وہ چاکلیٹس بیڈ پر رکھ دیں پھر اسے احساس ہوا کہ کمرے میں حمنہ بھی ہے وہ جانے کی نیت سے اٹھا ہی تھا کہ اسے نیند میں بولتی حمنہ کی آواز سنائی دی۔ جس کی وجہ سے اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ اپنے کمرے میں آ کر بھی وہ مسکرا رہا تھا۔ حمنہ کی بڑبڑاہٹ سے خود بخود اس کے لب مسکرا رہے تھے۔ اسکے الفاظ ہی اتنے پیارے تھے۔ ”دین حنین کے لیے نہیں, دین اللہ پاک کے لیے سیکھنا ہے۔ وہ میرا ہو نہ ہو میں بس اللہ پاک کی ہو جاؤں۔ مگر اس کا ڈمپل۔“ حمنہ نیند میں بھی پریشان سی تھی۔

”تو محترمہ نے اپنے سوالات کے جوابات خود ہی دے دیے۔ میں بھی پریشان تھا کہ یہ ڈون جیسی لڑکی کو کیا شوق چڑھا ہے دین سیکھنے کا۔“ وہ سوچتے سوچتے تھوڑی دیر بعد سو گیا۔

_________________________

روحان بیڈ پر بیٹھے ہوئے اپنا مستقبل سوچ رہا تھا۔

”ادیبہ کیا تم مجھے مل سکتی ہو؟“ خود بخود اس کے دل میں خیال آیا۔ اس نے خیال کو جھٹکا اور سگریٹ لے کر بالکونی میں آگیا۔ اس نے سگریٹ جلائی اور آسمان کو دیکھنے لگا۔

”یوں جو تکتہ ہے آسمان کو تو,

کوٸ شخص رہتا ہے آسمان میں کیا۔

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا,

ایک ہی شخص ہے جہان میں کیا۔“

اس کو وہ دن یاد آنے لگا جب وہ اس کھڑکی پر چڑھا تھا۔

ازلان نے اس کے ہاتھ سے سگریٹ لی۔ وہ سوچوں میں اتنا مگن تھا اسے خیال ہی نہیں رہا کہ اس کی انگلیاں جل گئی ہیں۔

”عشق کی وہ مثال ہے جیسے,

کوئی سگریٹ تم نے سلگائی

اور وہ ٹھیک سے سلگ نا سکی..

اس کا ہر کَش تمھیں ایزا دے گا,

مگر بجھانے کو دل نہیں کرے گا!“

”کیا ہوا یار جب سگریٹ پینی ہی نہیں تھی تو جلائی کیوں؟“ روحان نے اپنی انگلیاں دیکھیں اور پھر ازلان کی طرف دیکھنے لگا۔

”کیا ہوا یار یہ کیا حال بنا رکھا ہے تو نے؟ کوئی پرابلم ہے تو بتا نا یار۔“ ازلان نے اسکی آنکھوں میں نمی دیکھ لی تھی۔

”ازلان….“

”ہاں یار بول۔“ ازلان نے فکرمندی سے کہا۔

”ازلان! ادیبہ…..“ اس سے آگے روحان سے بولا نہیں گیا۔

ازلان اسے لیکر کمرے میں آیا اور بیڈ پر بٹھایا۔

”ازلان مجھے وہ چاہیے۔“ ازلان کو وہ ایک چھوٹا بچہ لگ رہا تھا جو کسی چیز کیلیے ضد کر رہا تھا۔

”دیکھ روحان اسکو پانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے۔“ ازلان نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔

”بتا یار کیا طریقہ ہے؟ میں اس کو پانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔“

”اگر تو اس کو پانا چاہتا ہے تو تجھے خود کو بدلنا پڑے گا۔ وہ کتنی نیک ہے اور تو خود کو دیکھ۔ اس کے گھر والے کبھی اپنی بیٹی تجھے نہیں دیں گے۔ جب تک تو خود کو بدل نہیں لیتا۔“ ازلان نے اس کے ہاتھ پر دوا لگاتے ہوئے کہا۔

”ازلان میں نے بہت کوشش کی ہے مگر میں اس کو بھول نہیں پا رہا۔ میں آنکھیں بند کرتا ہوں تو وہ یاد آنے لگتی ہے۔“ روحان نے بے بسی سے کہا۔

”ٹھیک ہے یار پھر جیسے میں کہتا ہوں ویسا کر۔ کل ہم دونوں ملتے ہیں پھر بات ہوتی ہے۔ وہ تیری ہی ہے تو فکر مت کر“۔ ازلان اسے تسلی دیتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔

”لوگ ان کے حسن پر مرتے ہیں,

ہمارا دل ان کے حجاب پر آیا ہے۔“

_________________________

ولیمہ بالکل گھر کے قریب ہی ایک کشادہ گارڈن میں تھا۔ جو انتہائی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ انٹری کرتے وقت پھول نظر آتے تھے۔ ادیبہ اور حمنہ نقاب کیے ایک طرف بیٹھی تھیں۔

”حمنہ سچ میں اگر آپ نہیں آتیں تو میں نے اکیلے بور ہو جانا تھا۔“

”اوہ ہو! اب تو ہم غالباً دوست ہیں تو میں اپنی دوست کے لئے اتنا تو کر ہی سکتی ہوں۔“

اب میز پر کھانا شروع ہوچکا تھا۔ انہوں نے حجاب کی مدد سے بڑی آسانی سے کھانا کھا لیا تھا۔ ابھی وہ دلہن کو دیکھنے جا رہی تھیں کہ ادیبہ کی مامی ادیبہ سے ملنے آئیں۔

”ادیبہ بیٹا اپنا چہرہ تو دکھاؤ, شادی میں کیا پردہ کرنا۔“

”ہاں بیٹا پردہ تو آنکھوں کا ہوتا ہے۔“ برابر میں کھڑی ایک عورت نے مداخلت کی۔

حنین انکی بات سن چکا تھا۔ وہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ حمنہ بول پڑی۔

”آپ کو ہمارا چہرہ دیکھنا ہے تو آپ گھر تشریف لائیں ہم ضرور آپ کو چہرہ دکھائیں گے۔“ وہ دونوں مسکرا دیں۔

”ٹھیک ہے بیٹا ہم گھر پر دیکھ لیں گے۔“ دلہن سے مل کر وو دونوں چلی گئیں۔

ابھی وہ دونوں کمرے میں تھیں اور کچھ باتیں کر رہی تھیں کہ دروازہ ناک ہوا۔

”کون؟“ ادیبہ نے پوچھا۔

”آپی میں ہوں حنین۔“ حمنہ نے سنتے ہی دوبٹہ ٹھیک کیا اور کھڑکی کی طرف رُخ کر لیا۔

”آجاٶ حنین۔“ ادیبہ نے کہا۔

حنین اندر آیا اس نے محسوس کیا کہ جو لڑکی اس کو دیکھتے ہی ہمیشہ اسے گھورتی رہتی تھی ,آج اسے دیکھ کر کھڑکی کی طرف رُخ کرکے کھڑی ہے۔ اسے خوشی ہوئی کہ حمنہ نے خوفِ خدا کی وجہ سے اس کی طرف نہیں دیکھا۔

(یہ بات ناممکن نہیں ہے کہ کوئی بگڑا ہوا ہے تو وہ سدھر نہیں سکتا۔ ایک سچی طلب اور صرف ایک قدم بڑھانا ہوتا ہے۔ پھر اللہ پاک خود ہی مدد کرتے ہیں۔)

”کہاں کھو گئے حنین۔“ ادیبہ نے اسے کہا۔

”کچھ نہیں آپی۔ میں چاکلیٹس لایا تھا آپ کے لئے۔“

”جزاک اللہ بہت بہت۔ تم یہاں بھی میرے لیے چاکلیٹس لائے۔“

”جی آپی اور یہ آپ کی دوست کے لیے۔“ حنین نے ایک اور پیکٹ دیا اور چلا گیا۔ ادیبہ نے اس کے جاتے ہی دروازہ بند کیا۔

اب دونوں سونے کی تیاری کرنے لگیں۔

”یہ لیں چاکلیٹس حنین دے کر گیا ہے۔“ ادیبہ نے اسے چاکلیٹس دی۔

”جی شکریہ۔“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *