Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Muhabat (Episode 17)

Meri Muhabat by Mahra Shah

حیا پلیز پہلے میری پوری بات سن لو پھر غصہ کرنا ۔۔۔احمد اسے ایک ریسٹورینٹ میں لے کر آیا تھا وہ سکون سے بیٹھ کے بات کرنا چاہتا تھا اسے حیا کے چہرے کو دیکھ کے لگ رہا تھا وہ بہت غصے میں ہے بس لوگوں کی وجہ سے خاموش ہے ۔۔۔

اگر بات غصے والی ہے تو میں غصہ ہی کروں گی نہ اور پلیز جلدی سے کہیں مجھے دیر ہو رہی ہے ۔۔۔۔حیا نے غصے سے کہا اسے پہلے ہی بہت غصہ آرہا تھا احمد کی حرکت پر جو اسے وہاں سے لیکے آیا تھا ۔۔

نہیں تمہیں کوئی دیر نہیں ہو رہی میری بات ختم ہوتے ہی میں تمہیں گھر چھوڑ دونگا ۔۔۔احمد اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا ۔۔۔

میں آپکی ذمداری نہیں ہوں میں خود بھی جا سکتی ہوں ۔۔۔حیا کو اسکی باتیں غصہ دلا رہی تھی آج اسنے سوچا تھا وہ اسے اب معاف کر دیگی اسکی ماں کی باتوں نے اس پر اثر کیا تھا پر احمد کی اس حرکت نے اسے پھر سے غصہ دلا دیا تھا ۔۔۔

حیا میں تمہیں اپنے ذمداری بنانا چاہتا ہوں ۔۔۔احمد نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا اور اسکے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیے احمد کی اس حرکت نے اسکی دل کی دھڑکن ہی تیز کردی کچھ بولا ہی نہیں جا رہا تھا اس سے اپنے ہاتھ پیچھے کرنے کی کوشش کی پر اسکی گرفت مضبوط تھی ۔۔۔

میں جانتا ہوں یہ سب بہت مشکل ہے تمہارے لئے حیا میرا یقین کرو میں اپنے غلطی پر بہت شرمندہ ہوں میں تم سے معافی بھی مانگتا ہوں مجھے اس وقت بہت غصہ آگیا تھا پر مجھے ایسے تم پر گولی نہیں چلانی چائیے تھی اور جب میں نے تمہیں دوبارہ دیکھا اس دن تمہيں بابا کی وجہ سے سوری کرنے آیا تھا پر جب میں نے تمہاری آنکھوں میں دیکھا نا تو مجھے کچھ یاد نہیں رہا مجھے تمہاری ان خوبصورت آنکھوں سے محبت ہوگئی تھی حیا میں نہیں جانتا کب کیسے پر مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے تم میری زندگی بن گئی ہو تم میری محبت ہو حیا میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا حیا پلیز مجھے معاف کردو ایک موقع دے دو مجھے امید کرتا ہوں تمہارے ہر دکھ پریشانی کو ختم کر دوں گا میں اپنے امی ابو کو تمہارے گھر بھیجنا چاہتا ہوں تم ہے عزت سے اپنے گھر سے رخصت کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔احمد کے ہر لفظ میں حیا کے لئے محبت تھی ۔۔۔حیا سن ہوکے کب سے اسکی باتوں کی سحر میں تھی اسے اپنا آپ بہت خوش نصیب لگ رہا تھا وہ سمجھ رہی تھی اسکی ہر بات میں سچائی ہے حیا کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ اسکو کیا جواب دے محبت تو وہ بھی کرنے لگی تھی پر وہ خود سے ماننے کو تیار نہیں تھی ۔۔۔۔

مم۔۔مجھے ۔۔ گگ۔۔گھر۔۔جج۔۔جانا۔۔شرم گھبراہٹ میں اس سے کچھ بولا نہیں جا رہا تھا سر جھکا ہوا تھا وہ اپنے ساتھ اسکے خوبصورت ہاتھوں میں دیکھ رہی تھی اسکی دھڑکن تیز رفتار سے چل رہی تھی ۔۔۔

ٹھیک ہے گھر جاکے آرام سے سوچ کر جواب دینا پر مجھے ہاں میں ہی جواب چاہئیے ورنہ مجھے تمہیں اٹھانے میں دیر نہیں لگے گی ۔۔۔۔احمد اسکا جھکا سرخ چہرہ دیکھ کر مسکرایا اور آرام سے اسکے ہاتھوں کو چھوڑ دیا ۔۔۔۔

اا۔آپ مم۔۔مجھے دھمکی دے رہے ہیں ۔۔۔اسکی دھمکی پر حیا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔۔۔

نہیں پیار سے کہہ رہا ہوں ۔۔۔

نہیں آپ مجھے دھمکی دے رہے ہیں ۔۔۔حیا کو غصہ آگیا تھا اسکی باتوں پر ۔۔۔

اچھا چلو پھر اسے دھمکی ہی سمجھو ۔۔اگر ہاں میں جواب آتا ہے تو عزت سے لیکے جاؤنگا ورنہ اٹھا کر کیوں کے رہ تو میں سکتا نہیں تمہارے بنا پھر یہی کرنا پڑے گا میری جان ۔۔۔احمد جھک کر شرارت سے کہا ۔۔۔

احمد کی باتیں آج اسے کچھ بولنے نہیں دے رہی تھی اس کا چہرہ شرم سے سرخ ہو رہا تھا ۔۔

اچھا غصہ گھر جا کر کرنا ابھی کچھ کھا لو ۔۔احمد نے دو كافی منگوائی تھی جانتا تھا وہ کچھ کھاۓ گی نہیں ۔۔۔

چلو ایک بات کلیئر کرتے ہیں ۔۔۔

کون سے بات ۔۔؟؟

تم مجھے اب مرچ والی چائے نہیں پلاؤ گی ۔۔۔

میں آپکو ساری زندگی یہی پلاؤں گی۔۔۔حیا جزبات میں کچھ زیادہ ہی بول گئی ۔۔

ہاہاہا ۔۔تو تم راضی ہو پھر کل ہی نکاح کروا دیتے ہے ۔۔۔احمد اسکے جلدی میں بولنے سے ایک زور دار قہقہہ لگایا ۔۔۔حیا شرمندگی سے سر جھکا گئی ۔۔اور غصے سے اٹھ کر باہر چلی گئی احمد بھی جلدی سے اسکے پیچھے گیا ۔۔۔

حیا کہاں جا رہی ہوں ۔۔۔احمد جلدی سے اسکے پیچھے گیا جو روڈ پر جا رہی تھی ۔۔

جہنم میں جا رہی ہوں ۔۔حیا رک کر غصے سے بولی اور واپس جانے لگی تھی کے احمد نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔۔۔

چپ کر کے چلو میرے ساتھ اب اگر کچھ بولا تو اٹھا کر لے کے جاؤ گا اور یہ کام میں اچھے سے کر سکتا ہوں تم جانتی ہو ۔۔۔احمد نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا حیا کو بارش والی رات یاد آگئی اور خاموشی سے گاڑی میں جاکے بیٹھ گئی اسکے بیٹھنے کے بعد احمد بھی مسکرا کر گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔۔

____________________________

یہ کیا کہہ رہے ہو ہادی پری کس کے ساتھ چلی گئی ہے وہ تو کالج گئی تھی نہ ۔۔۔مشال پریشانی سے بولی ہادی نے گھر آکر گارڈ والی بات بتائی پری کسی کے ساتھ چلی گئی ہے سب پریشان بیٹھے تھے ۔۔۔

ہمیں پولیس میں رپورٹ دینی چاہئیے ۔۔۔۔حارث صاحب نے کہا ۔۔

مجھے نہیں لگتا گارڈ نے کہا پری اسکے ساتھ خود گئی ہے وہ پہلے بھی آیا تھا ملنے تو مطلب پری کڈنیپ نہیں ہوئی ہے ۔۔۔ہادی کو پولیس والی بات سہی نہیں لگی ۔۔۔۔

آپو آگئی ۔۔احد پری کو دیکھ کر بولا ۔۔

پری اذان کے ساتھ اندر آرہی تھی آج وہ بہت شرمندہ تھی سب نے پری کو دیکھ کے سکون کی سانس لی سب پری کے پاس گئے ملنے پر ہادی اپنے جگہ پر ہی تھا اسکو پری پر غصہ تھا وہ کیسے کسی کے ساتھ بھی جا سکتی ہے۔۔۔۔۔

پری بیٹا تم ٹھیک ہو نہ اور کہاں تھی تم کس کا ساتھ تھی تم رو کیوں رہی ہوں ۔۔۔مشال نے بیٹی سے پوچھا پری ماں کے گلے لگ کر رو رہی تھی ۔۔

اذان کیا ہوا ہے پری رو کیوں رہی ہے ۔۔۔حارث صاحب نے اذان سے پوچھا

نانا جان امی آرام سے بیٹھ جاۓ میں سب بتاتا ہوں ۔۔۔اذان نے سب کو بیٹھا کر بات شروع کی ۔۔۔

_________________

سعد مجھے ڈر لگ رہا ہے تم مجھے واپس گھر چھوڑ دو پلیز ہم پھر کبھی چلیں گے تمہارے گھر ۔۔۔پری کو اب خوف آرہا تھا پتا نہیں کیا ہونے والا تھا ۔۔

کچھ نہیں ہوتا پری ہم اپنے گھر جا رہے ہیں وہ تمہارا اپنا گھر ہیں ۔۔۔سعد پری سے بولا۔۔

آج ٹریفک بہت ہے اس لئے ہمیں دیر ہو رہی ہے تم گھبراؤ مت میں تمہیں چھوڑ دونگا ۔۔۔

پری یہاں پر وہ کس کے ساتھ ہے ۔۔۔اذان تھوڑا دور اس گاڑی میں پری کو دیکھ کر بولا اسکو حیرت ہوئی پری کسی لڑکے کے ساتھ گاڑی میں کہاں جا رہی ہے وہ جانتا تھا پری ایسی نہیں ہیں پھر کیا بات ہے انکی گاڑی آگے گئی تو اذان نے بھی اپنے گاڑی انکے پیچھے کی اور تب ہے اسے میسج آیا ہادی کا پری نہیں مل رہی اذان کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا وہ اب انکا پیچھا کر رہا تھا ۔۔۔

______________

السلام علیکم ۔۔۔پری سعد کی امی سے مل کر اسکے ابو کو سلام کیا ۔۔۔

وعلیکم اسلام بیٹا کیسی ہوں گھر میں سب کیسے ہیں ۔۔۔۔سعد کے بابا رفیق صاحب بہت اچھے سے ملے پری سے ۔۔۔

پھر تھوڑی دیر بیٹھنے کا بعد پری سعد سے پھر بولی اسکو گھر چھوڑ دے سعد نے پھر سے بہانا کیا ۔۔۔پری کو اب سعد پر غصہ آرہا تھا گھر والوں کا الگ ڈر تھا ۔۔

اب میں چلتی ہوں مجھے بہت دیر ہو رہی ہے گھر میں سب پریشان ہو رہے ہونگے ۔۔۔پری اٹھ کر جانے لگی تھی کے سعد اسکا ہاتھ پکڑ کر روکا ۔۔۔

مس پری آپ اتنے جلدی نہیں جا سکتی ۔۔۔سعد کمینگی سے ہنس کر کہا ۔۔

کّک۔۔کیا ۔۔مم ۔۔مطلب ۔۔مم۔مجھے ۔گھر جانا ہے ۔۔پری کو اب اپنی بیوقوفی پر غصہ آرہا تھا ۔۔

ارے بیٹا ڈرو مت سعد تمہیں گھر چھوڑ آئے گا اس سے پہلے تمہیں اس پیپرز پر سائن کرنا ہوگا ۔۔۔

کّک ۔۔کون سے پیپرز ۔۔۔پری کو اب ان سے خوف آرہا تھا ۔۔

دیکھو پری تمہارے باپ نے جو جائیداد تم دونوں کے نام کی ہے ہم چاہتے ہیں وہ تم میرے بیٹے کے نام کردو ویسے تمہارے نانا کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہے اور تم لوگ یہاں رہتے نہیں تو وہ سارا بزنس میں نے سنبھالا ہے اور اسکا آدھا حصہ میں تم لوگوں کو نہیں دے سکتا اس لئے چپ کر کے سائن کرو اور یہاں سے جاؤ ۔۔۔

پری تو اپنے چاچا کو دیکھتی رہ گئی وہ کیسے لالچی لوگ تھے ۔۔۔

میں ایسا کچھ نہیں کرونگی اس میں میرے بھائی کا حصہ ہے جو بابا چھوڑکے گئے تھے ۔۔۔پری غصے سے بول کے آگے بڑھی سعد اسکو پکڑتا ہوا لیکے جا رہا تھا روم میں ۔۔۔

چچ۔۔چھوڑو مجھے کوئی ہے پلیز چھوڑو مجھے جانے دو ۔۔۔پری خود کو چھڑواتی ہوئی بولی وہ بھی اسکو پکڑ کے اندر لیکے جا رہا تھا کے کسی نے کھینچ کے ایک مکا مارا سعد کے منہ پے وہ سیدھا زمین پر گرا ۔۔۔پری نے دیکھا تو سامنے اذان تھا وہ بھاگتی ہوئی اسکے گلے لگی ۔۔

آ اذان ۔ بب۔۔بھائی یہ لوگ بہت برے ہیں ۔۔۔پری اذان کو روتے ہوئے سب بتا رہی تھی کیسے سعد اسکو ملا اور کس طرح وہ اسے یہاں لے آیا ۔۔۔

مجھے شرم آرہی ہے آپکو اپنا چاچا بولتے ہوئے اچھا ہوا ہم لوگ ساتھ نہیں رہتے ورنہ پتا نہیں کون سے گھٹیا چال چلتے ۔۔۔تم سب کو میں بعد میں دیکھ لونگا ۔۔۔اذان غصے سے بول کر پری کو لیکے وہاں سے نکل گیا ۔۔۔

_________________

رفیق اتنا گھٹیا نکلے گا میں نے کبھی سوچا نہیں ۔۔حارث صاحب غصے سے بولے ۔۔۔

اذان تم میرے ساتھ آؤ مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے ۔۔

جی نانا جان ۔۔

پری بیٹا تم ٹھیک ہو نہ اس کمینے نے کچھ کیا تو نہیں نہ تمہارے ساتھ ۔۔مشال پری کے آنسو صاف کرتی ہوئی بولی ۔۔

نن ۔نہیں ۔۔بب ۔بھائی آگئے تھے سہی ٹائیم پر ۔۔

آپو آپکو ہم سب کو بتا دینا چاہیے تھا وہ سعد کمینہ آپ سے ملتا ہے ۔۔۔احد غصے سے کہہ کر اٹھ کر چلا گیا ہادی نے کب سے خود پر ضبط کیا ہوا تھاوہ بھی غصے سے باہر چلا گیا پری نے نظر اٹھا کر دیکھا پر اسنے دیکھا تک نہیں نہ ہی کچھ پوچھا ۔۔۔پری سمجھ گئی ہادی ناراض ہو گیا ہے اب اسے اور بھی رونا آرہا تھا ۔۔۔

حدیثہ پری کو روم میں لےجاؤ اسے آرام کی ضرورت ہے ۔۔۔۔حدیثہ کی ماں نے کہا ۔۔

اللّه پاک کا شکر کرو ہماری پری سہی سلامت ہے

مشال خود کو سنبھالو سب ٹھیک ہو جاۓ گا ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *