Meri Muhabat by Mahra Shah NovelR50543 Last updated: 24 February 2026
Rate this Novel
Meri Muhabat (Episode 01)Meri Muhabat (Episode 02)Meri Muhabat (Episode 03)Meri Muhabat (Episode 04)Meri Muhabat Episode 05Meri Muhabat (Episode 07)Meri Muhabat (Episode 06)Meri Muhabat (Episode 08)Meri Muhabat (Episode 09)Meri Muhabat (Episode 10)Meri Muhabat (Episode 11)Meri Muhabat (Episode 12)Meri Muhabat (Episode 13)Meri Muhabat (Episode 14)Meri Muhabat (Episode 15)Meri Muhabat (Episode 16)Meri Muhabat (Episode 17)Meri Muhabat (Episode 18)Meri Muhabat (Last Episode)
Meri Muhabat by Mahra Shah
سب نے اپنے assignment کل جما کروادی تھی آج ہادی اور حاشر کو دینی تھی۔۔۔ جو ہادی نے رات بہت محنت کر کے بنائی تھی ۔۔سر کے آتے سب کھڑے ہوگے ۔۔
گوڈ مارننگ سر سب ساتھ بولے ۔۔ہادی assignment سر نے کہا ہادی نے لیکے سر کے سامنے رکھی پھر حاشر نے رکھی سر نے دونو کو ایک نظر دیکھ کے assignment کھولی جیسے سر پڑھتا گیا اسکا غصے سے چہرہ سرخ ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔
۔ہادیییییی سر زور سے چلائے۔۔ہادی جلدی سے سیٹ سے اٹھا اسکو سمجھ نہیں آیا سر نے اسکو اس طرح کیوں بلایا ۔۔
یہ کیا بتمیزی ہے ہادی اگر پڑھ نے کا شوق نہیں تو گھر بیٹھ جاؤ ایسا گھٹیا مذاق کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔۔سر بہت شدید غصے میں تھے اب ۔۔ہادی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ سمجھنے کی کوششی کر رہا تھا اسنے کون سے مذاق کیا ہے سر سے ۔۔
لیکن سر میں نے کیا کیا ہے ۔۔ہادی کو سمجھ نہیں آرہی تھی سر کیا بول رہے ہے ۔۔
حاشر ادھر آؤ پڑھو اسے ۔۔سر نے حاشر کو بلا یا ۔۔حاشر نے ایک نظر ہادی کو دیکھ کے فائل کھولی اور اسکے چہرے کا رنگ بدل تا گیا اسکو ہنسی بھی آرہی تھ شرمندگی بھی ہوئی ۔۔کیوں کے اس میں سر کے بارے میں لکھا تھا ۔۔حاشر سر نے غصے سے بولے ۔۔ہادی نے لکھا ہے ۔۔
سر نومان بہت کھڑوس ہے سب کا جینا حرام کر رکھا ہے جب دیکھو انکو assignment چاہئے تھوڑا سا بھی انکو رحم نہیں آتا ہم پے سارے رات محنت کرتے ہے اور تھوڑا سے بھی اچھے مارکس نہیں دیتے اور بھی بہت سی سر کی تعریف لکھی تھی لیکن سر سے اور برداشت نہیں ہوا تو دونوں کی بہت بیعزتی کر کے کلاس سے نکال دیا اور سر نے سزا میں انکی دو دن کے لئے کلاس بند کردی مطلب نکال دیا انکو ۔۔ہادی کو بہت غصہ آیا وہ سوچ رہا تھا کس نے کیا ہوگا ایسا گھٹیا مزاق ۔۔۔
دونو کلاس سے باہر بیٹھے تھے حاشر غصے سے ہادی کو گھور رہا تھا ۔۔کیا ہے کیوں گھور رہے ہو ۔۔ہادی غصے سے بولا۔۔یہ تو مجھے تم سے پوچھنا چائیے کیا تھا یا سب اتنے تعریف لکھنے کی کیا ضرورت تھی سر کی ۔۔حاشر نے طنز یہ کہا ۔۔
یار مجھے خود سمجھ نہیں آرہی یہ سب کس نے کیا اور کیوں کب کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے ۔۔ہادی غصے سے پاگل ہو رہا تھا اپنے بالوں میں ہاتھ ڈال کے جیسے پاگل لگ رہا تھا حاشر کو اب اسکی حالت دیکھ کے اب رحم آیا۔۔اچھا چھوڑو گھر چلتے ہے ویسے بھی دو دن چھٹی ہے سمجھو ۔۔نہیں میں چھوڑو گا نہیں جس نے بھی کیا ہے ۔۔
