Meri Muhabat by Mahra Shah NovelR50543 Meri Muhabat (Episode 03)
Rate this Novel
Meri Muhabat (Episode 03)
Meri Muhabat by Mahra Shah
وہ تینو اس وقت ہادی کے روم کے باہر تھے ۔۔احد بولا ۔۔آپو یار بہت ڈر لگ رہا ہے بھائی مار دینگے یہ کام نہیں ہوگا دوسرا کچھ کرتے ہے پلیز ۔۔احد کے پسینہ نکل رہے تھے ۔۔
مجھے بھی ڈر لگ رہا ہے چلتے ہے واپس ۔۔حدیثہ تو بھاگنے کے لئے تیار تھی ۔۔
چپ دونوں اب اگر آواز آئی نہ تو میں تم دونوں کی جان لیلو گی ۔۔پری نے دونوں کو آنکھیں دکھائی ۔۔پری نے اب احد کو آگے کیا ۔۔
جا میرا شیر اب اپنے بہن اور آپنا بدلا لینے کا وقت آگیا ہے ۔۔آپو بھائی اٹھ گئے تو ۔۔احد کو اپنے موت دکھائی دے رہی تھی ہادی کے ہاتھوں سے ۔۔
یار پری ہم کچھ اور نہیں کر سکتے کیا ۔۔حدیثہ ڈر کر بولی۔۔
اوکے اب تم دونوں میرے پاس مت آنا جاؤ اپنے روم میں ۔۔پری نے غصے سے دونوں کو کہا ۔۔اچھا نہ آپو ناراض تو نہ ہو جاتا ہوں ۔۔احد اب ہمت کرکے اندر گیا جہاں ہادی الٹا سو رہاتھا ۔۔احد آرام سے اسکے اسٹڈی ٹیبل کی طرف گیا اسکو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑھی سامنے ہی اسکی assignment پڑی تھی احد نے آرام سے اٹھا لی۔۔
۔ٹوٹوٹو ۔۔
اچانک سے ہادی کا فون بج گیا ۔۔مر گیا میں اب میری مر نے کی وجہ پری آپو آپ ہونگی ۔۔احد خود سے بڑبڑایا اور جلدی سے بیڈ کے نیچے چھپ گیا ۔۔
ہادی بہت گہری نیند میں تھا فون کی آواز پے ایک آنکھ کھول کے فون اٹھا کہ سامنے دیکھا تو حاشر کی کال تھی۔۔۔
۔آبے یار اسکو کون سی موت پڑ گئی رات کو اس وقت کال کر رہا ہے ۔۔ہادی نیند میں ہی تھا ابھی خود سے بڑبڑایا ۔پھر فون اٹھایا کان سے لگا کے پوچھا ۔۔
بول رات کو تین بجے کون سے کام تھا جو کال کرنا ضروری تھا تجھے ۔۔ہادی غصے سے بولا اسکی نیند جو خراب کر رہا تھا ۔۔اچھا یار سن تو لے مجھے بس یہ پوچھنا تھا تونے assignment
كمپلیٹ کرلی ہے نہ یار تو جانتا ہیں میں تیرے ہے سہارے بیٹھا ہوں ۔۔حاشر بولا ۔۔
بس بیٹا تم لوگ کچھ نہ کرنا میرے ہے پیچھے مر نہ میرے ہی کام سے اپنے کام کرنا اور سن کرلی میں نے ابھی تھک کے ہی سویا ہوں لیکن تم لوگ سکون سے سونے نہیں دیتے ۔۔ہادی نے غصے سے کال کاٹ دی اور پھر سے اوندهے منہ ہوکے سو گیا ۔۔۔۔
احد نے دیکھا ہادی اب سکون سے سو رہا ہے جلدی سے بھاگ گیا ۔۔
افف دیر کیوں کی ۔۔احد کے باہر آتے ہی پری جلدی سے بولی ۔۔
آپو مرتے مرتے بچا ہوں بھائی اٹھ گیا تھا میں انکے سونے کے انتظار میں بیڈ کے نیچے چھپ گیا ۔۔اچھا بس اب بچ گئے نہ ۔۔پری چڑ گئی تھی ۔۔
بھائی نے دیکھا تو نہیں نہ ۔۔حدیثہ پریشانی سے بولی ۔۔
دونوں چپ اب پری جلدی سے روم میں گئی پیچھے وہ دونوں بھی گئے ۔۔پری نے تھوڑی دیر بیٹھ کر اس میں کچھ لکھ کے واپس احد کو بھیج کے واپس رکھوادی ۔۔اب ان تینوں کو کل کا انتظار تھا ۔۔کیا ہونے والا تھا ہادی کے ساتھ ۔۔اور ہادی کیا کرنے والا تھا پھر انکے ساتھ ان سب سے بےخبر سب سکون سے سو رہے تھے ۔۔۔
______________________________________________
گڈ مارننگ۔۔ سب ناشتہ کر رہے تھے ساتھ میں ۔۔ہادی جلدی سے تیار سے ہوکے نیچے آیا اسکو جلدی جانا تھا آج اس لئے جلدی سے ناشتہ کرنے لگا ۔۔
آرام سے کھاؤ ہادی بیٹا ۔۔ماں نے کہا ۔۔نہیں ماما جلدی جانا ہے آج اور تم لوگ چاچو کے ساتھ جاؤ میں لیٹ ہو رہا ہوں ۔۔
۔اوکے ۔تینوں ساتھ بولے ہادی کے ساتھ سب نے حیران ہوکے ان تینو شیطانوں کو دیکھا ۔۔سب کے اس طرح دیکھنے سے تینوں گھبرا گے ۔۔
مطلب بھائی کو جلدی جانا ہے ہم آرام سے چاچو کے ساتھ چلے جاۓ گے ۔۔احد نے جلدی سے کہا اسکی تو ویسے ہی سانس روکی ہوئی تھی ۔۔پھر ناشتہ کے بعد ہادی تو چلا گیا تھا پیچھے وہ تینوں احمد کے ساتھ گئے ۔۔اذان اپنے دوستوں کے ساتھ گھومنے گیا ہوا تھا اس لئے وہ یہاں نہیں تھا ۔۔
_______________________________
احمد کب سے تینوں کو دیکھ رہا تھا جو آرام سے کچھ باتیں کر رہے تھے احد بھی بار بار پیچھے دیکھ کے کچھ بول رہا تھا آنکھوں سے ۔۔
کیا ہو رہا یہ سب ۔۔احمد کی رعب دار آواز آئی گاڑی میں ۔۔کچھ نہیں مامو وہ تو بس ایسی ہے۔۔پری نے مسکرا کر کہا ۔۔
۔سچ سچ بتاؤ کیا کیا ہے تم لوگوں نے ہادی کے ساتھ ۔۔احمد نے تینوں کو گھورا ۔۔
قسم سے چاچو میں نے کچھ نہیں کیا یہ سب انکا پلین تھا ۔۔احد نے جلدی سے سب کچھ بول دیا ۔۔پری حدیثہ نے احد کو خونخوار نظروں سے گھورا ۔۔
اسکو گھور نہ بند کرو سب سچ بتاؤ ورنہ بعد میں مت آنا میرے پاس ۔۔پھر تینوں نے جلدی سے کل سے رات تک سب بتا دیا ۔۔پھر احمد نے تینوں کی بہت اچھے سے کلاس لئ اور انکو کالج چھوڑ دیا ۔۔۔
پری ڈوکٹری پڑھ رہی تھی اسکو ڈاکٹر بننے کا بہت شوک تھا ۔۔
______________________________
سب نے اپنے assignment کل جما کروادی تھی آج ہادی اور حاشر کو دینی تھی۔۔۔ جو ہادی نے رات بہت محنت کر کے بنائی تھی ۔۔سر کے آتے سب کھڑے ہوگے ۔۔
گوڈ مارننگ سر سب ساتھ بولے ۔۔ہادی assignment سر نے کہا ہادی نے لیکے سر کے سامنے رکھی پھر حاشر نے رکھی سر نے دونو کو ایک نظر دیکھ کے assignment کھولی جیسے سر پڑھتا گیا اسکا غصے سے چہرہ سرخ ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔
۔ہادیییییی سر زور سے چلائے۔۔ہادی جلدی سے سیٹ سے اٹھا اسکو سمجھ نہیں آیا سر نے اسکو اس طرح کیوں بلایا ۔۔
یہ کیا بتمیزی ہے ہادی اگر پڑھ نے کا شوق نہیں تو گھر بیٹھ جاؤ ایسا گھٹیا مذاق کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔۔سر بہت شدید غصے میں تھے اب ۔۔ہادی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ سمجھنے کی کوششی کر رہا تھا اسنے کون سے مذاق کیا ہے سر سے ۔۔
لیکن سر میں نے کیا کیا ہے ۔۔ہادی کو سمجھ نہیں آرہی تھی سر کیا بول رہے ہے ۔۔
حاشر ادھر آؤ پڑھو اسے ۔۔سر نے حاشر کو بلا یا ۔۔حاشر نے ایک نظر ہادی کو دیکھ کے فائل کھولی اور اسکے چہرے کا رنگ بدل تا گیا اسکو ہنسی بھی آرہی تھ شرمندگی بھی ہوئی ۔۔کیوں کے اس میں سر کے بارے میں لکھا تھا ۔۔حاشر سر نے غصے سے بولے ۔۔ہادی نے لکھا ہے ۔۔
سر نومان بہت کھڑوس ہے سب کا جینا حرام کر رکھا ہے جب دیکھو انکو assignment چاہئے تھوڑا سا بھی انکو رحم نہیں آتا ہم پے سارے رات محنت کرتے ہے اور تھوڑا سے بھی اچھے مارکس نہیں دیتے اور بھی بہت سی سر کی تعریف لکھی تھی لیکن سر سے اور برداشت نہیں ہوا تو دونوں کی بہت بیعزتی کر کے کلاس سے نکال دیا اور سر نے سزا میں انکی دو دن کے لئے کلاس بند کردی مطلب نکال دیا انکو ۔۔ہادی کو بہت غصہ آیا وہ سوچ رہا تھا کس نے کیا ہوگا ایسا گھٹیا مزاق ۔۔۔
دونو کلاس سے باہر بیٹھے تھے حاشر غصے سے ہادی کو گھور رہا تھا ۔۔کیا ہے کیوں گھور رہے ہو ۔۔ہادی غصے سے بولا۔۔یہ تو مجھے تم سے پوچھنا چائیے کیا تھا یا سب اتنے تعریف لکھنے کی کیا ضرورت تھی سر کی ۔۔حاشر نے طنز یہ کہا ۔۔
یار مجھے خود سمجھ نہیں آرہی یہ سب کس نے کیا اور کیوں کب کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے ۔۔ہادی غصے سے پاگل ہو رہا تھا اپنے بالوں میں ہاتھ ڈال کے جیسے پاگل لگ رہا تھا حاشر کو اب اسکی حالت دیکھ کے اب رحم آیا۔۔اچھا چھوڑو گھر چلتے ہے ویسے بھی دو دن چھٹی ہے سمجھو ۔۔نہیں میں چھوڑو گا نہیں جس نے بھی کیا ہے ۔۔
_____________________________
آپو مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔احد ڈر خوف سے بولا اسکو ہادی کے غصے سے اب خوف آرہا تھا ہادی جو گھر آتے ہے غصے سے روم میں بیٹھا تھا ڈر تو حدیثہ پری کو بھی لگ رہا تھا لیکن پری اب سکون میں تھی بدلہ جو پورا ہوا تھا اسکا۔۔۔
افف کیوں ڈر رہے ہو بس جو ہونا تھا وہ ہو گیا چھوڑو ڈر کو سکون سے بیٹھ جاؤ آج میں تو بہت سکون سے سو جاؤ گی میرا بدلہ پورا ہو گیا ۔۔پری خوشی سے بول رہی تھی ۔۔۔
ہا ہادی بب بھائی۔۔احد ہادی کو دیکھ کے خوف سے بولا جو پری کے پیچھے تھا یقینن اسنے سب سن لیا تھا جو اسکا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا ۔۔حدیثہ کی بھی احد کی طرح حالت تھی ۔۔۔۔
افف احد اس کاکروچ کا نام مت لو ابھی مجھے سکون سے انجونے کرنے دو نہ۔۔۔۔
تم ہے تو میں انجونے کرواتا ہوں ۔۔ہادی غصے سے آگے آیا ۔۔پری کرنٹ کھا کر اٹھی سامنے ہادی شدید غصے میں اسکی طرف آرہا تھا وہ ابھی بھاگنے کا سوچ رہی تھی لیکن ہادی سپیڈ سے آگے آیا اور اسکو سمجھنے کا موقع دیے بغیر اسکا بازو پکڑ کر اوپر چھت کی طرف چلا گیا ۔۔پیچھے حدیثہ احد پریشانی سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گے ان میں اتنی ہمت نہیں تھی انکے پیچھے جاتے ۔۔۔
_______________________________
بہت شوق ہے نہ تمہے مجھے سے بدلہ لینے کا میں بتاتا ہوں۔۔
ہا ہا ہادی مم میری بب بات ۔۔پری کو اب ہادی کے غصے سے خوف آرہا تھا اسے کچھ بولا نہیں جا رہا تھا۔۔
چپ بس بہت بول لیا ۔۔۔ہادی بہت خطرناک تیور سے اسکو دیکھ کے اوپر روم میں بند کردیا ۔۔
ہادی نہیں پلیز سوری مجھے نکالو یہاں بہت اندھیرا ہے ۔۔پری خوف ڈر سے بول رہی تھی اور دروازہ بجا رہی تھی لیکن ہادی آج شدید غصے میں تھا اسکی ایک نہیں سنی اور نیچے اپنے روم میں چلا گیا ۔۔اوپر روم۔میں پری کی خوف ڈر سے حالت خراب ہوتی رہی ۔۔
